next

پہلی جزل گفتگو

back

 

جیسے ہی میرے والد صاحب میرے پاس سے تشریف لے گئے تو میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے متعلق غورو خوض کرنے لگا تاکہ فقہ کی اس بحث کو کہ جو ایک مستقل موضوع پر مبنی ہے ختم کرکے اس کے بعد آنے والی خاص گفتگو کے لیے آ مادہ ہوجاؤں ۔ ایسی گفتگو کہ جس کے لئے میں سو الا ت اور موضوعات کو معین کروں گا جیسا کہ میں نے اپنے والد سے وعدہ کیا تھا ۔ اور مقرر ہ وقت کے آنے سے پہلے ہی میں نے آنے والی گفتگو کے سلسلے میں چند سوالات کے مجموعہ کا پہلا حصہ تیار کرلیا ۔ اس کے بعد میں کئی گھنٹے تک ان سوالات کے بارے میں سونچتا رہا ۔

 

اور جب گفتگو کا وقت آیا تو میرے والد صاحب تشریف لائے، سلام اور خدا کی حمد وثناء کے بعد اس عام گفتگو کو شرو ع کیا میں نے سوالات کئے اور والد صاحب نے ان کا جواب دیا ۔ اور میرا پہلا سوال ان قدرتی کھالوں کے بارے میں تھا کہ جو غیر اسلامی ممالک (جیسے یورپ وغیرہ ) میں بنتی اور وہاں سے ہمارے ملک میں وارد ہوتی ہیں ۔

سوال:    میں نے اپنے  والد صاحب سے عرض کیا کہ ایک شخص اصلی کھال کا غیر اسلامی ملک میں بنا ہوا گھڑی کا پٹا باندھتا ہے اور پہننے والا نہیں جانتا کہ یہ ایسے حیوان کی کھال کا ہے جس کو اسلامی طریقہ سے ذبح کیا ہے یانہیں ؟ یااسی طرح کمر کا پٹا ہے تو کیا ایسی صورت میں نماز کے وقت ان دونوں کو اتار دیاجائے یانہیں ؟

جواب:   جب تک یہ احتمال قوی ہے کہ یہ گوشت کھانے والے حیوان کی کھال کا ہے اور اس کو اسلامی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہے تو اس میں نماز پڑھنا صحیح ہے۔

سوال:   پیسوں کی وہ تھیلی جو چمڑے کی بنی ہوئی ہے اور نماز کی حالت میں وہ جیب میں ہے اگر اس کی کھال گھڑی کے ذکر شدہ پٹے کی طرح ہوتو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:   اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔

سوال:   فرض کیجئے کہ کسی کو اس بات کا اطمینان ہو کہ یہ گھڑی یا کمر کا پٹا ایسے حیو ان کی کھال کا بنا ہوا ہے کہ جو اسلامی طریقہ سے ذبح نہیں کیا گیا لیکن بھول کر اسکے ساتھ نماز پڑھنی شرو ع کردے ، پھر نماز کے دوران اسے یاد آجائے اور وہ  پھر اپنی گھڑی اور کمر کا پٹہ اتار دے تو کیا حکم ہے؟

جواب:   نماز ایسی حالت میں درست ہے ،لیکن اگر یہ ا نسان ،لا پرواہی یا ایسی چیز کو اہمیت نہ دینے کی بنا پر ہوتو نماز کا دوبارہ پڑھنا لازمی ہے۔

سوال:  کپڑے دھونے کی برقی مشین جو پانی بند ہوجا نے کے بعد کپڑوں کو خشک کرتی ہے اور اس کا خشک کرنا اس کے گھومنے کی قوت کی بنا پر ہے نہ نچوڑ نے کی بنا پر توکیا یہ کپڑوں کو پاک کرنے کیلئے کافی ہے؟

جواب:   ہاں پاک کرنے کے لیے کافی ہے۔

سوال:  کتنی مرتبہ ایسا ہواہے کہ بعض اشخاص کےساتھ میں نے مصافحہ کیا اور ان کا ہاتھ گیلا تھا لیکن میں نہیں جانتا کہ یہ مصافحہ کرنے والا مسلمان ہے یا کافر کہ جو طہارت کے حکم میں نہیں ہے تو کیا میرے اوپر واجب ہے کہ اس سے سوال کروں تا کہ مجھے یقین ہوجائے؟

جواب:    ہر گز! تم پر اس سے پوچھنا واجب نہیں ہے ممکن ہے کہ تم کہہ سکتے ہو کہ یہ میرا ہاتھ پاک ہاتھ سے مس ہوا ہے۔

سوال:   یونیورسٹی کا طالب علم یا تاجر یا سیاح یادوسرے لوگ جو غیر اسلامی ممالک مثلاً یورپ وغیرہ کا سفر کرتے ہیں تو ان کی روز مرہ کی زندگی میں وہاں کے رہنے والے یہودیوں اور عیسایئوں کے ساتھ ہوٹل میں حجامت بناتے وقت ، دواخانہ وغیرہ میں اس سے ملتے وقت سرایت کرنے والی رطوبت سے نہیں بچا جاسکتا تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟

جواب:   جب تک تم کو ان کی ظاہری نجاست کا قطعی علم نہ ہوجائے اس وقت تک تم ان کے جسموں کو پاک سمجھو۔

سوال:   اگر میں کسی ایسے گھر میں رہنے لگوں کہ جس میں پہلے ایسے لوگ رہتے تھے کہ جن کی طہا رت کا حکم نہیں لگایا جاسکتا تو کیا مجھے یہ حق ہے کہ میں وہاں کی ہر چیز پر طہا رت کا حکم لگاؤں؟

جواب:   ہاں ! تم ہر چیز پر طہا رت کا حکم لگا سکتے ہو جب تک تم کو ان کی نجاست کا علم یا اطمینان نہ ہوجائے۔

سوال:   چھوڑیئے! نماز کی طرف پلٹتے ہیں اور ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کرتا ہوں کہ جو نماز پڑھتا ہے روزہ رکھتا ہے لیکن وہ اکثر غسل کرنے میں غلطی کرتا ہے اب اس کو پورا پورا یقین ہو گیا ہے کہ اس کے کچھ غسل باطل تھے جو اس نے پہلے کئے تھے ، لیکن وہ ان کی تعداد کو نہیں جانتا کہ باطل غسل کتنے ہیں اسی بناء پر وہ نہیں جانتا کہ ایسی کتنی نمازیں اور کتنے روزے ہیں جو اس نے باطل غسل کے بعد انجام دیئے ہیں؟

جواب:    اس کے روزے صحیح ہیں اگر چہ اس کا غسل باطل ہے لیکن اس پر واجب ہے کہ وہ نماز وں کی قضا کرے جو باطل غسلوں کے ساتھ پڑھی ہیں اگر وہ ان کی تعداد میں کم اور زیادہ ہونے میں متر ددہواس کے لئے جائز ہے کہ وہ کم عدد پر بنا رکھے۔

سوال:  کبھی ایسا ہوہے تا کہ میں نماز پڑھنے کا ارادہ کرتا ہوں اور میری جیب میں کچھ سفید کاغذ بھی ہوتے ہیں تو کیا میں ان پر سجدہ کر سکتاہوں ؟

جواب:   ہاں تم ان پر سجدہ کر سکتے ہو اگر وہ پاک ہوں اورلکڑی یا اسکے مشابہ چیز سے بنے ہوں ۔ جس پر سجدہ کرنا جائز ہے اور اسی طرح اس کاغذ پر بھی تم سجدہ کرسکتے ہو جوروئی اور کتان سے بنا ہواہو۔

سوال:   کیا سیمنٹ پر سجدہ کرنا جائز ہے؟

جواب:    ہاں سیمنٹ پر سجدہ کرنا جائز ہے۔

سوال:    اگر میں گراموفون ،ٹیپ ریکاڈر ،ریڈیویا ٹیلی ویزن سے قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت سنوں کہ جس پر سجدہ واجب ہے تو کیا مجھ پر سجدہ کرنا واجب ہے؟

جواب:    ہر گز نہیں !تمہارے اوپر سجدہ کرنا واجب نہیں ہے ۔مگر یہ کہ تم کسی شخص کو پڑھتے ہوئے سنو نہ کہ ٹیپ ریکاڈر وغیرہ سے۔

سوال:   اگر کوئی عورت نمازپڑھ رہی ہو اور اس کے سر کے کچھ بال اس کے مقنعہ یا چادر سے باہر نکلے ہوں اور اس کو نہ جانتی ہو تو کیا مجھ پر نماز کے درمیان یا نماز کے بعد اس کو بتانا واجب ہے؟

جواب:    ہر گز نہیں ۔ تمہارے اوپر اس کا بتانا واجب نہیں ہے اور اگر وہ عورت اس چیز کو نہ جانے اور نماز کو تمام کردے اس کی نماز صحیح ہے اور اگر وہ دوران نماز اس چیز کو جان لے اور ان کو چھپانے میں جلدی کرے تو بھی اس کی نماز صحیح ہے۔

سوال:   ایک شخص نماز صبح سے چند منٹ پہلے بیدار ہوتا ہے تو کیا اس کا دوبارہ سونا جائز ہے جبکہ اس کو یہ معلوم ہو یا اس  احتمال قوی ہو کہ وہ سورج نکلنے سے پہلے بیدار نہیں ہوگا ؟

جواب:   جبکہ یہ چیز اس کی سستی یا نمازکو معمو لی چیز سمجھنے پر موقوف ہو تو پھر اس کا سونا جائز نہیں ہے۔

سوال:   طالب علم ، مزدور، ملازم پڑھنے کے لئے یا اپنے کام پر اپنے شہر سے( ۲۲ )کلو میٹر دور جاتا ہے اور پھر اپنے شہر لوٹ آ   تا ہے اور یہ اس کا سفر اکثر ایک سال یا زیادہ عرصہ تک جاری رہتا ہے تو اس کی نماز اور روزوں کا کیا حکم ہے؟

جواب:    وہ اپنی نماز تمام پڑھے گا اور روزےہ رکھے گا۔

سوال:    اگر ایک سال کے دوران ہر ہفتہ تین یا چار مرتبہ کوئی سفر کرے (نہ اس حیثیت سے کہ سفر اس کا پیشہ ہے) بلکہ اپنی دوسری ضروریات کی غرض سے مثلا سیر وتفریح کے لئے یا بیمار ی کے معالجہ کے لئے یا قبور ائمہ علیہم السلام کی زیارت کے لیے یا کسی دوسری چیز کے لئے سفر کرے تو اس کی نماز کاکیا حکم ہے؟

جواب:    وہ اپنی پوری نمازپڑھے اورروزہ رکھے گا کیونکہ وہ عام لوگوں کے نزدیک اس کے بعد کثیر ا لسفر شمار کیا جائے گا اور اگر چہ وہ ہفتہ میں دو مرتبہ سفر کرے اور پانچ دن اپنے وطن رہے تو پھر نماز قصر اور تمام (یعنی نماز پوری پڑھے اور قصر بھی پڑھے ) کو جمع کرے اور ماہ رمضان میں روزوں کو رکھے اور بعد میں ان کی قضا بھی کرے۔

سوال:   ہماری گفتگو سفر کے سلسلہ میں ہے تو معاف کیجئے میں آپ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کرتا ہوں کہ جو ماہ رمضان میں زوال کے بعد سفر کرے اور وہ روزہ دار ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب:   اس دن کا روزہ رکھے اور اس کی قضاء لازم نہیں ہے۔

سوال:   اور اگر وہ زوال سے پہلے سفر کرے اور اس کی نیت رات ہی سے کرلے تو کیا حکم ہے؟

جواب:   اس دن کا روزہ اس پر واجب نہیں ہے۔ وہ حد ترخص پر پہنچنے کے بعد افطا ر کرے اور اس کے بعد میں قضا بجالائے۔

سوال:   اور اگر وہ زوال سے پہلے سفر کرے اور اس کی نیت سفر رات سے نہ ہو؟

جواب:   اس کاحکم بھی  پہلے حکم کی طرح ہے۔

سوال:   ماہ رمضان میں مسافر زوال کے بعد اپنے وطن یا اپنے رہنے کی جگہ پہنچے تو کیا ایسی صورت میں اس باقی دن میں اس پر امساک (روزہ باطل کرنے والی چیزوں سے پرہیز) ضروری ہے؟

جواب:   اس پر امساک واجب نہیں ہے اگر چہ مناسب یہی ہے کہ وہ بقیہ دن امساک کرے۔

سوال:   اور اگر وہ زوال سے پہلے آجائے اور اس نے اپنے اس سفر میں روزہ افطار کرلیا تو ؟

جواب:   اس کا حکم پہلے حکم کی طرح ہے ۔

سوال:   اور اگر وہ زوال سے پہلے اپنے وطن یا رہنے کی جگہ پہنچ جائے اور اس نے سفر میں افطار بھی نہیں کیا ؟

جواب:   اس پر روزہ کی نیت واجب ہے بقیہ دن وہ مفطرات روزہ سے اجتناب کرے۔

سوال:   ایک شخص نے چند سال ماہ رمضان میں روزے رکھے اور وہ غسل جنابت کے واجب ہونے کو جہالت کی بنا پر نہیں جانتا تھا اس بنا پر اس نے غسل نہیں کیا تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:    اس کا روزہ صحیح ہے اور اس پر کفارہ واجب نہیں ہے۔

سوال:   بعض حسا سیت کے مریض (مثلاًسینہ کی حسا سیت ،دمہ کی بیماری )ایک ایسی چیز کرتے ہیں کہ جو سانس لے نے میں مدد دیتی ہے ۔اس کو ہم سانس لینے کی مشین کہتے ہیں ۔ وہ ا سکودھن میں سانس کی تنگی کے وقت رکھتے ہیں اور اس سے گیس کے مانند ایک چیز نکلتی ہے تو اس کا استعمال روزہ میں جائز ہے؟

جواب:    ہاں ،روزہ کی حالت میں اس کا استعمال جائز ہے اور اس کا روزہ صحیح ہے۔

سوال:    آ یا ماہ رمضان میں دن کے وقت بے روزہ دار لوگوں کو کھانا کھلانا جائز ہے؟چاہے یہ کھا نا ہوٹل میں یا گھر میں کھلا یا جائے ان بے روزہ دار لوگوں میں معذور بھی اور غیر معذور بھی ہوں اس کھانا کھلا نے میں اس مقدس مہینہ کی بے حرمتی بھی نہ ہوتی ہو؟

جواب:   معذورین کے لئے کھانا کھلانا جائز ہے(ان کے علاوہ کسی کو کھانا کھلا نا جائز نہیں )

سوال:   اگر منجمین کی طرف سے چاند ثابت ہونے کا اعلان ہوجائے اور نجومی حساب کے صحیح ہونے کا مجھے شخصاً اطمینان حاصل ہو تو کیا چاند کی پہلی تاریخ کے ثابت ہونے میں ،میں اپنے اطمینان پر اعتماد کرتے ہوئے روزہ ر کھ سکتا ہوں اور کیا اسی طرح عید مان کر روزہ توڑ سکتا ہوں ؟

جواب:   چاند کی پہلی تاریخ ثابت ہونے میں اطمینان کا کوئی دخل نہیں ہے ۔اور اسی طرح اطمینان کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے  کہ چاند دیکھنے کے قابل ہوبلکہ ضروری ہے کہ چاند کو تم خو دیکھو ۔ یاتمہارے علاوہ جو دوسرے لوگ ہیں وہ دیکھیں ،ہاں اگر کسی دوسرے شہر میں رؤیت ہلال ہوگئی ہو اور تمہارا شہر اس کے افق میں متحد ہو اس طرح کی بادل ، غبار، پہاڑوغیرہ کے مانند کوئی چیز ،دیکھنے سے مانع ہو تو پھر تمہارے شہر میں بھی اس کی رؤیت لازمی ہے۔(لہذا چاند ثابت ہوجائے گا)

سوال:  گلو کوز جس میں پانی ،شکر اور کچھ دوائیں ملی ہوتی ہیں ۔ جو مریض کو انجیکشن کے ذریعے خون میں مرض کی بنا پر غذا کے طور پر چڑھائی جاتی ہے کیا روزہ دار کا اس سے بچنا واجب ہے؟

جواب:   بچنا واجب نہیں ہے اگر چہ مناسب یہی ہے کہ اس کو نہ چڑھا یا جائے۔

سوال:   اب حج کی طرف چلتے ہیں ، میں آپ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کرتا ہوں کہ جو کسی سال مادی ومالی اعتبار سے مستطیع ہوگیا ۔مگر سفر میں رکاوٹ پیدا ہوگئی اور وہ اس سال ویزہ حاصل نہ کرسکا حج کے موسم کے بعد حج کے لئے جو مخصوص مال تھا وہ ضروریات زندگی پر خرچ کرنے کے لئے مجبور ہوگیا اس کے بعد وہ اتنی مقدار میں مال کے حاصل کرنے پر مستطیع نہ ہو سکا کہ جتنا حج کے لئے ضروری ہے؟

جواب:   اگر آنے والے سالوں میں وہ مستطیع  ہوگیا تو اس پر حج واجب ہے اور اگر مستطیع نہ ہوا تو حج اس پر واجب نہیں ہے۔

 سوال:   آپ نے حج کی بحث میں مجھ سے فرمایا کہ میں نے رمی ۔ جمرة عقبہ کیا تو آپ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کنکر یاں کس سمت سے ان شیاطین کو ماریں ؟

جواب:   میں نے ان کے سامنے سے یہ کنکریاں ماریں اس لئے کہ ان کے پیچھے سے مارنا جائز نہیں ہے۔

سوال:   آپ نے فرمایا تھا کہ آپ نے اس میقات سے اپنا احرام باندھا تھا کہ جس کا نام جحفہ تھا،جدہ ہوائی جہاز سے پہنچنے کے بعد ، پس اگر کوئی شخص جہالت کی بنا پر جدہ سے احرام ، باندھ لے اور جحفہ سے نہ باندھے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:   احرام باندھنے کی نذر جدہ سے کی ہوتو پھر احرام باندھنا وہاں سے صحیح ہے۔

سوال:   آپ نے فرمایا تھا کہ طواف اور سعی کے بعد آپ نے خود تقصیر کی (بال کاٹے )اگر آپ اپنے بال کاٹنے سے پہلے کسی دوسرے بھائی کے بال کاٹیں تو کیا حکم ہے؟ 

جواب:   اپنے بال کاٹنے سے پہلے کسی دوسرے کے بال کاٹنا صحیح ہے۔

سوال:   اگر مجھ پر اس سال حج واجب ہوجائے اور اس میں یونیورسٹی یا کالج کا ایک طالب علم ہوں ۔اگر حج کا وقت اور سالانہ امتحان ایک ہی وقت میں جمع ہوجائیں اور ایسی صورت میں حج کے لئے میرا سفر کرنا ایک سال کی پڑھائی کا نقصان ، اور اس میں مادی اور معنوی شدید نقصان ہے؟

جواب:   اگر تمہارا سفر تمہارے لئے شدید حرج کا باعث ہو جیسا کہ تم نے کہا تو اس سال حج کا ترک کرنا تمہارے لیے جائز ہے۔

سوال:   مجھے معاف کیجئے گا بعض موضو عات کو چھو ڑتے ہوئے خاص طور سے تجارت کے بارے میں سوال کررہاہوں ، اور ہم اس موضوع کو حکومتی بینکوں کے ساتھ تجارت کے معاملہ سے شر وع کرتے ہیں۔ کیونکہ بعض لوگ اپنے اموال کو تجارت کی غرض سے ان کے سپرد کرتے ہیں تاکہ ان میں اضافہ ہوجائے؟

جواب:   میرے والد صاحب نے فرمایا ٹہرو میں پہلے تم سے ایک سوال کرتا ہوں ، کہ کیا یہ بینک اسلامی ممالک یا غیر اسلامی ممالک کی حکومتوں کے ہیں ؟ اور کیا جو مال ان کے سپرد کیا جاتا ہے وہ اس شرط کےساتھ کہ وہ اس پر فائددیں گےیانہیں ؟

سوال:   ان تمام میں کیا فرق ہے؟

جواب:   غیر اسلامی ممالک کے بینکوں میں مال سپرد کرنا ہر حال میں جائز ہے اور اگر چہ فائدہ حاصل کرنے کی شرط ہی کیوں نہ ہو۔اور اگر یہ بینک اسلامی ممالک میں ہیں تو اگر فائدہ کے حصول کی شرط پر مال ان کے سپرد کیا جائے تو یہ حرام ہے اور اگر اس شرط کے بغیر ہوتو صحیح ہے لیکن اس مال میں تصرف جائز نہیں کہ جو سود سے حاصل کیا گیا ہو البتہ حاکم شرع یا اس کے وکیل سے رجوع کرنے کے بعد تصرف کرسکتے ہیں۔

سوال:   اصل مال اور بینک نے جو مال کی سپردگی پر فائدہ دیا ہے ان دونوں کے درمیان کیا کوئی فرق ہے؟

جواب:  نہیں دونوں میں کوئی فرق نہیں حکومت اسلامی کی بینک سے جو چیز لی گئی ہے اس میں تصرف اسی وقت جائز ہے جبکہ اس کی اجازت حاکم شرع یا اس کا وکیل دے

سوال:  آپ نے مجھ سے فرمایاکہ اسلامی مما لک کے بینکوں میں فائدے کے حاصل ہونے کی شرط پر مال کا سپر د کرنا جا ئز نہیں تو آپ کا اس شرط سے کیا مقصد ہے؟ گویا آپ کا مقصد ہے کہ سپر د کرنے والا اپنے آپ کو اس کا پابند بنا ئے کہ اگر بینک نے اس کو کوئی فائدہ نہ دیا تو اسے کوئی مطالبہ نہ کرے گا ؟

جواب:   نہ اس شرط کے معنی ٰ یہ نہیں ہے ، بلکہ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ بینک کو مال حوالہ کرنا اس بات پر موقوف نہ ہو کہ بینک پر اس کی اضافہ رقم دینا لازمی ہو ۔۔

البتہ فائدہ کا مطالبہ کرنا شرط نہ لگانے کے ساتھ ویسے ہی مربوط ہے جیسا کہ فائدہ کا مطالبہ نہ کرنا شرط لگانے کے ساتھ مربوط ہے اور یہ دونو ں ایک دوسرے سے الگ ہیں

 سوال : جبکہ میں جانتا ہوں کہ مجھے بینک نفع دیگا اگر چہ اس نفع کی شر ط بھی نہ لگائی جائے تو کیا اس صورت میں میرے لئے جائز ہے کہ میں اپنی رقم فکس ڈیپوزٹ کرالوں ؟  ّ

جواب:  ہا ں تمھارے لئے جائز ہے کہ جب تک تم اس پر فائدہ کی شرط نہ لگاؤ ۔

سوال:   بعض لوگ بینک سے قرض لیتے ہیں اور بینک ان پر فائدہ لینے کی شرط لگاتا ہے تاکہ ان کو قرض دے اور کبھی یہ قرض رھن  (گروی)کے ساتھ دیا جا تا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب:   بینک سے قرضہ لینا جائز نہیں ہے جبکہ وہ قرض دینے پرمعین فائدہ کی شرط لگائے ، کیوں کہ وہ سود ہے اب چاہے یہ قر ض رہن (گروی کے ساتھ ہو یا بغیر رہن کے ساتھ ہو لیکن بینک سے مال لینا جائز ہے ۔ جبکہ قرض لینے کا قصد نہ ہو پھر اس میں حاکم شرع یا اس کے وکیل سے اس میں تصرف کرنے کی اجازت حاصل کرلے اور اس صورت میں ان کے لئے کوئی حرج نہیں کہ ان کو اس کا علم ہو کہ بینک ان سے زبردستی فائدہ وصول کر لے گا پس اگر بینک ان سے طلب کرے تو پھر ان کو جائز ہے کہ وہ اضافہ رقم کو دیدیں کیوںکہ وہ لوگ بینک کو دینے کی ہمت نہیں رکھتے ۔

سوال:  اگر کسی شخص کے پاس رہنے کے لئے گھر نہیں ہے تو کیا یہ شخص حکو متی بینک سے قرض لیکر اپنے لئے گھر بنا سکتا ہے ؟

جواب:  فائدہ کی شرط کے ساتھ بینک سے قرض لینا چاہے جو غر ض بھی ہو صحیح نہین ہے لیکن بینک سے مال حا صل کرنا جبکہ قرض کی نیت نہ ہو جائز ہے اور اس میں تصر ف کر نا حاکم شرع  یا اس کے وکیل سے اجازت لیکر جائز ہے یہ میں تم کو پہلے بتا چکا ہوں اب پھر دو با رہ بتا نا چاہتا ہوں کہ اسلا می ممالک میں حکومتی بینکو ں سے مال حاصل کرنا جائز نہیں ہے پس اگر تم نے اپنے جاری شدہ حساب سے اپنے مال کو نکال لیا تو اس میں تم حاکم شرع کی اجازت سے تصرف کرو اور اگر تم نے بینک کو چیک دیکر مال کو اپنے قبضہ میں کر لیا تو حاکم شرع یا اس کے وکیل سے اجازت لیکر اس میں تصرف کرو اسی طرح دوسری چیزوں  میں بھی(جو بینک سے فائدہ کے سلسلہ میں مربوط ہیں حاکم شرع سے یا اس کے وکیل سے اجازت لیکر تصرف جائز ہے

سوال:   کیا بینک میں لین دین کا کھاتا کھول سکتے ہیں اس بارے میں مجھے بتائیے۔؟

جواب:    ہاں !ہاں بینکوں میں لین دین کا کھاتا کھو ل سکتے ہیں اور اسی طرح بینک چاہے پرائیویٹ ہو یا حکومتی ہو اس کو کھاتہ دار سے فائدہ لینا جائز ہے چاہے بینک فائدہ اپنی خدمات کی وجہ سے لے یا قرض کی ادائیگی کے سلسلہ میں فائدہ لے ، یا جو املاک کے کاغذات و اسناد جو بینک کو حفاظت  کے لئے دیئے ہیں ان کی حفاظت کے سلسلہ میں بینک فائدہ لے یا اس مبلغ پر فائدہ لے کہ جو بینک اپنے مال خاص سے اس کو دیا ہے وہ مال کے لوٹانے کی غرض سے فائدہ لے نہ کہ کھاتے دار کے حساب کی وجہ سے

سوال:   بینک اگر مالی ضمانت یا مالی عہد و پیمان کر لے گویا کسی معا ملہ کے مقابلہ میں بینک ضامن ہوا، اب وہ ضما نت چاہے قانونی ہو یا غیر قانونی تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب:   جائز ہے یہاں تک کہ اگر بینک اس معاملہ کی ضمانت یا عہد و پیمان پر اجرت بھی لے تو بھی جا ئز ہے ۔

سوال:    شیئروں (تجارتی حصوں ) کا شرکت میں خرید نا اور بیچنامثلا ایک دوسرے کے حصے خرید نا یا فقط اپنے لئے حصوں کا خرید نا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:   (تجارتی حصوں ) شیئروں کا خریدنا اور بیچنا شرکت میں جائز ہے ،شرط یہ ہے کہ اس شرکت کے معاملات حرام نہ ہوں ۔ مثلا شرکت کے معاملات شراب کی تجارت یا سودی معا ملات پر مبنی نہ ہوں۔

سوال:  کبھی یہ کمپنیاں ان شیئرو ں کو بینک کے ذریعہ بیچنے میں مدد لیتی ہیں جن شیئروں کے وہ مالک ہیں ، پس بینک بیچ میں آ    کرمعینہ اجرت بھی لیتا ہے؟

  جواب:   اس کا یہ اجرت لینا صحیح ہے اور یہ معاملہ جائز ہے۔

سوال:   کیا اسناد (تجارت واملاک) کا بیچنا جائزہے؟

جواب:   اسناد (تجارت واملاک ) کا بیچنا صحیح نہیں ہے اور نہ بینک کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ ان کی خرید فروخت کے درمیان آئے اور یہ بات فطری ہے کہ اس وقت بینک کا اس پر اجرت لینا صحیح نہیں ہے۔

سوال:  کیا داخلی یا خارجی عملیات کو تحویل دے سکتے ہیں ؟

جواب:   ذرا ٹھیک  سے اپنے سوال کو بیان کیجئے یا اس کی مثال دیجئے تا کہ تمہارے مطلب کا  میں جواب دے سکوں ؟

سوال:  کھا تہ دار جب اپنے حساب میں سے کچھ رقم اپنے وکیل کے حو ا  لہ کرے جبکہ کھا تہ دار کا حساب و کتاب بینک میں ہو تو بینک اپنے کھا تہ دار کے لئے ایک (مخصوص) چیک جاری کرتا ہے ،پھر اس کو جاری کرنے کی بنا پر ایک معین اجرت بھی لیتا ہے؟

جواب: اس کو یہ اجرت لینے کا حق ہے۔

سوال:  ایک شخص نے کچھ نقد رقم کسی شہر میں بینک کے حوالے کی تا کہ وہ اس رقم کو یا اس کے معادل دوسری رقم وغیرہ کو ملک کے اندر کسی بھی جگہ یا ملک سے باہر بینک سے حاصل کرے پھر بینک اس کا م کے کرنے کے لئے معین اجرت لیتا ہے؟

جواب:   اس کو یہ اجرت لینے کا حق ہے۔

سوال:   بینک دوسرے کے تجارتی معاملات کو نقد مالی اضافہ کے ساتھ اپنے اختیار میں لیتا ہے؟

جواب:   اس کو اس کا حق ہے۔

سوال:   ایک شخص کے ذمہ کسی دوسرے شخص کا قرض ہے اور قرض دار سے قرض کی قانونی رسید لیتا ہے ،پھر وہ چا ہتا ہے کہ اپنے اس قرض کو کہ جس کی مدت باقی ہے کسی دوسرے شخص کے ہاتھ فوری کم قیمت پر بیچ دے تو کیا وہ کرسکتا ہے؟

جواب:   ہاں، وہ یہ کرسکتا ہے اس کو اس کا حق حاصل ہے ۔

سوال:   نقدی رقم کے حوالہ جات دینا ، میرا مقصد اس سے یہ ہے کہ  قرض دار اپنے قرض ادا کرنے کا اختیار بینک کو دے دے یا بینک اپنے قرض کو ملک سے باہر کسی بھی شعبہ کے حوالہ کردے یا کسی دوسرے بینک کے حوالہ کردے؟

جواب:   دونوں حوالہ صحیح ہیں ، اور شرعی ہیں اور بینک کو اس کام کے کرنے کی اجرت لینے کا حق حاصل ہے۔

سوال:   لوگوں کا موت کے خطرے یا دوسرے حادثات یا اموال کے نقصانات پر مثلاہوائی جہازوں ،موٹر گاڑیوں اور کشتیوں کے نقصانات یا جلنے یا ڈوب جانے وغیرہ پر بیمہ کر نا صحیح ہے یا نہیں ؟

جواب:   ان تمام چیزوں کا بیمہ کر نا صحیح ہے اور دونوں جانب پر پابندی کرنا لازمی ہے۔

سوال:   بینک میں حساب و کتاب اور اس کے ساتھ معاملہ کرنے کے ضمن میں میں آپ سے سونے کی ایک مثقال سے بنی ہوئی چیز کو ایک مثقال کی بنی ہوئی کسی دوسری چیز سے بیچنے کے بارے میں سوال کرتا ہوں اس کے ساتھ اس بنی ہوئی چیز کے بنا نے کی اجرت بھی لی جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب:   یہ چیز تم پر حرام ہے ، اور جائز نہیں ہے ۔ اگر چہ بہت سے سناروں کے ہاں یہ چیز ان دنوں رائج ہے ،اور میں تم کو پہلے اس سوال کے بارے میں جواب دے چکا ہوں اور پھر تاکید کر تا ہوں کہ حرام ہے اور جائز نہیں ۔

سوال:   بعض شادی کے سفید سونے کے زیورات ہوتے ہیں کیا مردوں کے لئے ان کا پہننا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب:   تمہاری مراد سونے کی زنجیر ہے؟

سوال:   ہاں !

جواب:   زنجیراگر سونے کے علاوہ کسی اور چیز کی بنی ہوئی ہو تو مرد کے لیے پہننا جائز ہے ۔ کیونکہ ان پر جو ممنوع ہے وہ سونے کے تمام گیریٹ کی بنی ہوئی چیزیں ہیں نہ کہ دوسری دھاتوں کی۔

سوال:   کیا حیوا ن اور انسان کے مجسمہ بنانا جائز ہیں؟

جواب:   نہیں جائز نہیں ہے۔

سوال:   کیا انسان یا حیوان کے مجسمہ کے علاوہ تصویر بنانا جائز ہے؟

جواب:   جائز ہے۔

سوال:   کیا انسان اور حیوان کے مجسمہ کی تما ثیل (فوٹو) بیچنا اور خرید نا جائزہے اور زینت کیلئے رکھنا جائز ہے؟

جواب:   جائز ہے۔

سوال:  بعض لباس جو پتلے اور نرم ہوتے ہیں انکو (الباعۃ) کہا جاتا ہے جو خالص ریشم کے ہوتے ہیں اور میں نہیں جانتا کہ وہ اصلی ریشم کے ہیں یا نہیں کیا مجھ پر واجب ہے کہ اس کی تحقیق کروں تاکہ مجھے یقین ہوجائے؟

جواب:   تم پر اس کی تحقیق کر نا واجب نہیں ہے کہ تم کو اس کایقین ہو جائے ان لباسوں کا پہننا تمہارے لیے جائز ہے۔

سوال:   بانسری اور غنا کے خاص آ لات اور اس طرح دوسرے حرام لہوکے آ لات کا بیچنا حرام ہے لیکن یہاں دوسرے آ لات لہوبچوں کے  کھیلنے کے لیے بنا ئے جاتے ہیں ۔اور ان کی غرض بچوں کو بہلاناہے ۔کیا ان کا بیچنا اور خریدنا جائز ہے؟

جواب:    جائز ہے جب تک ان کا حرام آ لات میں شمار نہ ہو۔

سوال:  کبھی زمین کا مالک اور ٹھیکیدار اس بات پر متفق ہو تے ہیں کہ ٹھیکہ دار مالک کو اس معین رقم کے مقابلہ میں گھر بنا کردے اور ٹھیکہ دار پر یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ وہ ایک سال کی مدت میں گھر بنا کر تیار کردے ۔ پس اگر ٹھیکہ دار نے اس مدت میں گھر بنا کر نہ دیاتو گھر کے مالک کوایک معین رقم گھا ٹے کے طور پر دینی پڑے گی اور کبھی ٹھیکہ دار گھر کے مالک پر شرط لگاتا ہے کہ وہ ایک سال کی مدت میں گھر بنا کر تیار کردے گا مگر شرط یہ ہے کہ گھر کامالک اس کام کی مدت میں گھر بنا نے کے سامان کو مہیا کرنے میں تاخیر نہ کرے ۔اور جب اس کی طرف سے شرط میں تاخیر ہوتو پھر ٹھیکہ دار اس سے معین مالی نقصان لے گا۔

پس جب سال تمام ہو جائے اور گھر نہ بن سکے اور تاخیر کا سبب گھر کے مالک کی وجہ سے ہو تو کبھی ماہانہ خسارت مالی ٹھیکہ دار لیتا ہے اور کبھی یہ خسارے ایک ہی مرتبہ لے لیتا ہے اب چاہے یہ تاخیر لمبی مدّت کی ہو یا کم مدّت کی پس کیا ان دو صورتوں میں یہ جانتے ہوئے کہ یہ دونوں شرطیں عقد لازم کی بنا پر باندھی گئی ہیں تو کیا اضا فہ لینا جائز ہے ؟

جواب:   دونوں صورتوں میں اضا فی رقم لینا جائز ہے ۔

سوال:  کمپنیوں ، کار خانہ جات ، چھاپہ خانوں اور صنعتی اداروں کے لئے قانوناً او رعرفاً مالی اجا زت ہے جب تک کہ وہ اجازت حکومت کی طرف سے لغو قرار نہ پائے کیا ایسی صورت میں اس کی مالیت کو بیچا جا سکتا ہے ؟کیا اس کو خریدا جاسکتا ہے ؟ اور ایک شخص کی ملکیت سے دوسرے شخص کی ملکیت میں منتقل ہو سکتی ہے ؟ اور یہ چیز شرعاًٹھیک ہے ؟

جواب:   ہاں! خصو صاً ان چیزوں کا کہ جن کی شارع نے اجازت دی ہو ۔

سوال:   بعض چھاپہ خانے اپنی چھاپی ہوئی کتاب پر تجارتی حیثیت سے مؤلف کتا ب یا ناشر کتا ب کی اجازت کے بغیر یہ عبارت لکھتے ہیں حقوق طبع بحق مؤلف یا ناشر محفو ظ ہیں )کیا یہ درست ہے ؟

جواب:   اس مذکورہ تحریر کا کوئی اثر نہیں ۔ مگر یہ کہ مؤلفین و ناشر ین اور ان کے حقوق قانون کی روشنی میں اور حاکم شرع کی طرف سے ثابت ہوں ۔

سوال:    حیوانات کو سجانا اور ان کی منظر عام پر نمائش کرنا اور زینت کے لئے جلوس میں شرکت کرنا کیسا ہے ؟

جواب:    جائز ہے ۔

سوال:   کیا خون کا بیچنا اور اس کا خرید نا علاج کیلئے جائز ہے ؟

جواب:    جائز ہے ۔

  سوال:   جس حیوا ن کا گوشت کھایا نہ جاتا ہو اس کا گوشت اس شخص کے ہاتھ بیچنا جس کا مذہب اس کے گوشت کو کھانا جائز سمجھتا ہو کیسا ہے ؟کیا صحیح  اور جائز ہے ؟

جواب:   جائز ہے ۔

سوال:   آپ نے گذشتہ بحث میں مجھ سے فرمایا تھا کہ ! جس دستر خوان پر شراب پی جاتی ہو تو اس پر بیٹھنا حرام ہے ۔اس بنا پر کیا مجھے حق ہے کہ میں ایسے شخص کی ملازمت کروں کہ جہا ں شراب اور ( بئیر )  و مردار بیچا جاتا ہے اور اس کے ساتھ دوسری اشیاء بھی بیچی ہوئی  رقم جمع ہے، اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب:   اگر تم نے اس کے یہاں صرف حلال چیزوں کو بیچنے کا طے کیا ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اور وہ اجرت جو تم کو اس سے ملتی ہے اس وقت تک تمھارے لئے لینا حلال ہے جب تک کہ تم کو اسکا حرام چیز میں شامل ہو جا نامعلوم نہ ہوجائے ۔ (جب تم کو یہ یقین ہو جائے کہ یہ اجرت اسی میں سے دی جا رہی ہے جو حرام مخلوط ہے تو پھر اسکا لینا جائز نہیں ہے ۔

سوال:  کیا میں ایسے ہوٹل میں کام کرسکتا ہو ں کہ جہاں صرف میرا کام یہ ہو کہ مجھے وہ گوشت پکانا ہو کہ جس کا شرعی تزکیہ نہ کیا گیا ہو ، جب کہ میں اس معاملہ کے لئے ہو ٹل میں نہیں آ یا ہوں بلکہ میرا کام پکانے میں محدود ہے ( اور بس ) ؟

جواب:   تمہارے لئے یہ جائز ہے ۔

سوال:   اب جبکہ میں کھانے پینے کے مسئلوں پر آ    گیا ہوں تو میرا پہلا سوال اس مرغ کے گوشت کی خرید و فروخت کے بارے میں ہے کہ جو اسلامی مما لک سے آ   تا ہے اور اس پر یہ جملہ لکھا ہوا ہوتا ہے کہ یہ اسلامی طریقہ پر ذبح کیا گیا ہے ؟

جواب:   تمہارے لئے اس کا کھانا پینا اور خرید و فروخت کرنا جائز ہے ، جب تک کہ تم کو اس کے تذکیہ نہ ہو نے کا یقین نہ ہو جائے یہ جملہ لکھا ہو یا نہ لکھا ہو ۔

سوال:   جو غیر اسلامی ممالک سے وارد ہوتا ہے اور اس پر یہ جملہ لکھا ہو ا ہو کہ یہ اسلامی طریقہ پر ذبح کیا گیا ہے ؟

جواب:   اس کا کھانا تمہا رے لئے جائز نہیں ہے جب تک کہ تمہیں اسلامی طریقہ پر ذبح کر نے کا اطمینان نہ ہو جائے اور یہ ذبح حقیقی ہو نہ کہ زبانی ۔

سوال:   وہ پنیر جو غیراسلامی ممالک سے آ تی ہے جبکہ میں اس کے بننے اور اس کی بستہ بندی کے طریقہ سے واقف نہ ہو ں تو کیا میر ے لئے اس کا کھانا جائز ہے ؟

جواب:   اس کا کھانا جائز ہے ۔

سوال:   بہت سی مچھلیاں ایسی ہیں کہ جن کے جسم پر (فلس ) نہیں ہوتا تو کیا ان کا کھانا جائز ہے ؟

جواب:   ہاں ان کا کھانا جائز ہے ، چاہے اس کے جسم پر ایک ہی چھلکا کیوں نہ ہو ۔

  سوال:   معلب نام کی مچھلی جو یورپ اور امریکہ کے بعض ممالک سے آ تی ہے کیا اس کا کھانا ہمارے لئے جائز ہے  ؟جبکہ ہم کو اس کے تذکیہ کا علم  دو جہت سے نہ ہو ۔

پہلی جہت:

یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ اس پر فلس ہے لیکن مچھلی کے نام سے جو غلاف پر لکھا ہے اس سے ثابت ہے کہ یہ وہی مچھلی ہے کہ جس پر فلس ہو تا ہے ۔اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ صادر کرنے والے ممالک معلب نامی مچھلیوں کی اس قسم کو اس کے بیان کئے ہوئے صفات کے مطابق جو غلاف کے اندر ہے ٹھوس قوانین کے ساتھ بستہ بندی کرتے ہیں،

دوسری جہت :

یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ اس کو پانی کے اندر مرا ہو ا پکڑا ہے یا پانی کے باہر زندہ پکڑا ہے ۔اگر پانی کے اندر مری ہوئی ہے تو جال کے اندر یا اس روکاوٹ کے اندر جو مچھلی پکڑنے کے لئے کھڑی کر تے ہیں۔ لیکن مشہور یہ ہے کہ انھیں جدید قسم کی کشتیوں سے شکار کیا جاتا ہے کہ جو مچھلی پکڑنے کے واسطے بنائی گئی ہیں اور ان سے زندہ مچھلی پانی سے باہر نکالی جاتی ہے بہت کم ایسی مچھلیاں پانی سے باہر نکالی جاتی ہیں بہت کم ایسی مچھلیاں ہیں جو مر کر مخلوط ہو جاتی ہیں ؟

جواب :   اگر تم کو معلوم ہو کہ یہ مذکی ہے چاہے یہ دونو ں صورتیں آ پ کے پیش نظر ہوں ، کھانا جائز ہے  ورنہ نہیں ۔

سوال:   یہاں کچھ مسلمانوں کے بازار میں ہوٹل ہیں جو گوشت کو بیچتے ہیں ؟

جواب:    ان کے پکائے ہوئے گوشت کا کھانا جائز ہے

سوال:   کیا ہوٹل کے مالک سے معلوم کئے بغیر ؟

جواب:    ہاں, ہو ٹلوں کے مالکوں سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جیسا کہ ہو ٹل میں جو کام کر نے والے ہو تے ہیں ان کی دیانت معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

سوال:   جو (بئیر ) الکحل سے خالی ہو کیا اس کا پینا جائز ہے ؟ کیا وہ پاک ہے ؟

جواب:    شاید تمہاری مراد وہ شراب ہے کہ جو (جو ) کے خمیر سے نکالی جاتی ہے اور جس سے عادتاًنشہ ہوتا ہے ، اس کو (فقاع ) کہتے ہیں اور وہ حرام ہے ،۔ اسی طرح وہ نجس بھی ہے ۔

سوال:   کیا دوا کے پینے سے پہلے تحقیق و یقین کرنا ضروری ہے کہ وہ اپنے مرکبات میں حرام چیزوں سے محفوظ ہے ؟

جواب:   ہر گز نہیں تحقیق اور یقین کرنا واجب نہیں ہے۔

سوال:   اکثر دوا اور طاہر چیزوں میں الکحل ملی ہوئی ہوتی ہے تو کیا ان کا کھانا میرے لئے جائز ہے اور کیا وہ نجس ہیں؟

جواب :   وہ نجس نہیں ہیں اور تمہارے لئے ان کا کھا نا جائز ہے۔

سوال:   ابھی کئی مختلف اور نئے موضوعات کے بارے میں سوالات ہیں ؟

جواب:جو چاہو پوچھو۔

سوال:   پہلے میں شروع اسی سوال سے کرتا ہوں کہ کیا کوئی زندہ انسان کسی دوسرے زندہ انسان کو ثوابا اپنی آ  نکھ یا گردہ دے سکتا ہے ۔ کیا اس کے لئے یہ کام جائز ہے؟۔

جواب :   آ  نکھ کا دینا ثواباً جائز نہیں ہے۔ لیکن گردہ کا ثوا باً دینا اس وقت جائز ہے جبکہ اس کے پاس دوسرا گردہ سالم ہو۔

سوال:   بعض اشخاص وصیت کرتے ہیں کہ انکی موت کے بعد ان کے جسم کے بعض عضوکاٹ دئیے جایئں تا کہ وہ کسی ضرورت مند انسان کے جسم میں جوڑ دئیے جائیں ،تو کیا اس وقت ان اعضاء کا قطع کرنا صحیح ہے؟

جواب:   ہر گز نہیں ،(صحیح نہیں ہے ) جبکہ وصیت کرنے والا مسلمان ہو ،مگر یہ کہ کسی مسلمان کی حیات کا دارو مدار اسی عضوکے لگا نے پر ہوتو ایسی صورت میں جائز ہے ،اگر چہ اس کے مالک نے وصیت بھی نہ کی ہو لیکن دیت کا ٹنے و الے پر لاگو ہوگی مگر یہ کہ کاٹنے کی وصیت کی ہو تو پھر دیت ثابت نہیں ہوگی۔

سوال :  کبھی عورت کے جسم کے اندر بچہ دانی کی رگوں کو باندھ دیا جاتا ہے جبکہ حمل اس کی صحت کے لئے خطرہ ہو اسی کے ساتھ آ پریشن کے ذریعہ اس کے کھولنے کا امکان بھی ہے؟

جواب:   یہ جائز ہے اگر چہ وہ کھولی بھی نہ جا سکتی ہو۔

سوال:    بعض کمپنیاں مریض پر اپنی دوا کا تجربہ کرتی ہیں اور اس کو اس کی اطلاع نہیں دیتیں تا کہ وہ دیکھیں کہ یہ دوا مؤثر اور شفا بخش ہے یا نہیں ؟

جواب:    یہ فعل صحیح نہیں ہے۔

سوال:    عام آپریشن یا مردہ جسم کا آپریشن درست ہے یا نہیں جبکہ اس کا سبب معقول ہو جیسے جرم پتہ لگانا یا(ڈاکٹری) کی تعلیم یا اس سے مشابہ دوسری چیزوں کے لئے ہو؟

جواب:   مسلمان میت کی چیر پھاڑ کرنا ان اسباب کے لئے جائز نہیں ہے لیکن اس کا فر کی میت جس کا خون اس کی زندگی میں محفوظ نہ ہو (غیرمحقوق الدم)اس کی چیر پھاڑکرنا جائز ہے ۔اور اسی طرح وہ کافر جس کا خون اس کی زندگی میں(محقوق ا لدم) مشکوک ہو جبکہ کوئی شرعی (دلیل)اس پر قائم نہ ہو تو اس کی چیر پھاڑ جائز ہے۔

سوال:  بہت سے طبی بیانات اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ کیونکہ تمباکو نوشی قلبی امراض اور خونی رگوں اور شر یانوں کے امراض کاباعث ہوتی ہے اور وہ سانس کی تنگی کو بڑھاتی ہے ، بلڈ پریشر ،کینسر اور سینہ کے درد کا سبب بنتی ہے ،اس کے علاوہ گھر اور معاشرہ پر اس کے دوسرے نقصانات مر تب ہوتے ہیں ۔کیا جو شخص تمبا کو نوش نہیں ہے وہ اس کو شروع کر سکتا ہے ؟ اور کیا جو عادی ہے اسے جاری رکھ سکتا ہے ؟ پھر کیا حاملہ عورت کیلئے تمباکو نوشی جائز ہے۔ جب کہ اطباء  (ڈاکٹروں )کا کہنا ہے کہ ماں کی تمباکو نوشی سے جنین متاثر ہوتا ہے؟

جواب:  تمباکو نوشی چاہے مرد کرے یا عورت جب اس سے بہت بڑا نقصان جنین کو پہنچے تو وہ حرام ہے۔چاہے اس کا عادی ہو یا اس کی ابتداء کرے ،اگر تمباکو نوشی ترک کرنا اس کی صحت کو بڑا نقصان پہنچاتا ہو، یا اس کا ترک نہ کرنا اس کی صحت کو نقصان نہ پہنچا تا ہو تو اس میں یہ دیکھا جائے گا کہ کو نسا ضررزیادہ ہے اس کو ترک کرنے کا یا اس کو جاری رکھنے کا (جو بھی ہو ویسا عمل کرے)۔

سوال:   بچے کی ولادت کی منا سبت سے کچھ ہدیہ دئیے جاتے ہیں اور وہ ہدیہ سونے چاندی کی بنی ہوئی چیزوں یا کھا نے یا نقد رقم پر مشتمل ہو تے ہیں ،کیا یہ ہدیہ پیدا ہو نے والے بچے کے ہیں یا اس کے والدین کے؟ 

  جواب:   ہد یئے مختلف ہو تے ہیں ان میں یہ دیکھا جائے گا کہ جو نئے بچے کے لئے ہیں جیسے سونے چاندی کی بنی ہوئی چیز یں اس کی ولادت کی منا سبت سے ہوں تو وہ اس کے ہیں اور انہیں میں سے کچھ ایسے ہدیے ہوتے ہیں کہ جو مو لودکے علاوہ دوسرے لوگوں کے لئے ہوتے ہیں جیسے کھانے پینے کی چیزیں وغیرہ پس وہ اس کے والدین کے لئے ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ وہ نقد رقم جو مو لود کے تکیہ کے نیچے رکھی جاتی ہے یا اس کے کپڑوں میں چھپائی جاتی ہے تو وہ پہلی قسم میں شمار ہوتی ہے اور وہ خود مولودکی (ملکیت)ہوگی۔

سوال:   کیا والدین کا اپنے نابالغ بچے کے مال میں تصرف کرنا جائز ہے؟

جواب:   باپ کے لئے یہ تصرف کرنا جائز ہے جبکہ اس کا تصرف کرنا بچے کیلئے باعث فساد نہ ہو ،لیکن ماں کا اس میں تصرف کر نا بغیر اس کے با پ د ادا کی اجازت کے جائز نہیں ہے ۔ اگر ان دو نوں میں سے کوئی ایک ماں کو اجازت دے دے اور بچے کے لئے اس کا تصرف فاسد نہ ہو تو جائز ہے ۔ لیکن اگر ماں کا تصرف بچے کے لئے نقصان دہ ہو تو پھر باپ، دادا کا اجازت دینا صحیح نہیں ہے۔ بلکہ ان پر واجب ہے کہ وہ دونوں اس کے مال کی حفاظت کریں یہاں تک کہ وہ بڑا ہوجا ئے۔

سوال:   سفید جادو جو نیک امور میں استعمال کیا جاتا ہے  اس کے بر خلاف کالا جادو جوبرے کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے تو کیا اس سفید جادو سے استفادہ کیا جاسکتا ہے؟

جواب:   تمام قسم کے جادو اور ان کی شکلیں اور ان کی اقسام حرام ہیں ۔(یہاں تک کہ یہ کام میں لایا جانے والا سفید جادو کالے جادو کے باطل کرنے میں بھی حرام ہے)مگر یہ کہ اہم مصلحت اس پر موقوف ہو، جیسے نفس محترم کی حفاظت ،(تو کوئی حرج نہیں ہے)۔

سوال :   ارواح کا حاضر کرنا تا کہ ان کے صاحب اور مالک کے بارے میں یا بر زخ و غیرہ کے امور کے بارے میں سوال کیا جائے؟

جواب :   ان ارواح کا حاضر کرنا کہ جن کا نفس محترم ہے ان کے حاضر کرنے کی بنا پر ضرور نقصان پہنچتا ہے۔حرام ہے لیکن محترم نفس کے علاوہ دوسری ارواح کا حاضر کرنا حرام نہیں ہے۔

سوال:    ان میں سے بعض تسخیر ملا ئکہ کا دعویٰ کرتے ہیں ؟

جواب:   اس دعوے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

سوال:    وہ تصویریں جو نبی اور آئمہ اطہار علیھم السلام کی طرف منسوب ہیں کیا ان کا گھر میں لٹکانا حرام ہے ؟اور کیا اعتقاد رکھنا کہ ان کی صورتیں ہیں ؟

جواب :   ان کا لٹکانا جائز ہے ،لیکن اعتقاد کی یہ صورتیں ان کے مطابق ہیں تو یہ اعتقاد یقیناًغلط ہے۔

سوال :   بعض فلم بنا نے والے نبی (یا ائمہ اطہار علیہم السلام ) کی تاریخی فلم بنا تے ہیں؟

(۱)    کسی نبی کی شبیہ بننا اور لوگوں کے سامنے نبی بنکر ظاہر ہونا اسی طرح ائمہ علیہم السلام کی شبیہ بننا کیا جا ئز ہے؟

(۲)    اگر جواب جائز ہو تو کیا یہ شرط ہے کہ شبیہ بننے والا مومن ہو؟

جواب:   ان شخصیات علیھم السلام کی شبیہ بننا جائز ہے بشرط کہ انکے مقدس مقام اور ان کی تصویروں کی ہتک نہ ہو چاہے مستقبل میں کیوں نہ ہو اور بننے والا جو ان کے دور کی خصوصیات کو بتا تاہے بعض صفات اس میں موجود ہونی چا ہئے ۔

سوال:   لوگ رسالوں ،جرید وں اور بعض محترم کتابوں کو کوڑے کرکٹ کی جگہ میں پھینک دیتے ہیں جبکہ ان میں بعض قرآنی آیات یا اللہ تعالیٰ کے نام ہوتے ہیں ؟

جواب:   یہ جائز نہیں ہے اگر وہ نجس ہو جائیں تو ان جگہوں سے اٹھانا اور ان کا پاک کرنا واجب ہے۔

سوال:    بد قسمتی سے مناظرہ کرتے وقت بعض اشخاص ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ جن کے معنی اللہ تعالی کے انکار کرنے پر مشتمل ہوتے ہیں اسی طرح معصومین علیھم السلام کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ جو ان کی شان کے مطابق نہیں ہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اس میں وہ سنجیدہ نہیں ہیں ۔کیا اس بنا پر ان کے اوپر حد کا جاری ہو نا واجب ہے ؟

جواب:   جو کچھ وہ کہتے ہیں اگر اس میں وہ سنجیدہ اور باارادہ نہیں ہیں تو ان پر شرعی حد جاری نہیں ہو گی البتہ وہ تعزیر کے مستحق ہیں ۔

سوال:   اور اگر وہ خدا وند جل شانہ کو برا بھلا کہنے میں سنجیدہ اور قصد وار اوہ بھی رکھتے ہوں یا نبی یاائمہ علیہم السلام کو برا بھلا کہتے ہو ں یا دین کے با رے میں یا مذہب کے سلسلہ میں الٹی سیدھی باتیں کہتے ہو ں اور اس کا قصد بھی اور اس پر اصرار بھی کرتے ہوں تو کیا حکم ہے؟

جواب:   ان کا حکم قتل ہے۔

سوال:   متفرق سوالات ادھر ادھر کے رہ گئے ہیں ؟اور میں آپ سے بحث طویل ہو جانے کی بنا پر معافی چاہتا ہوں ۔ کیا عورت کا نا محرم مرد کے پاس ڈرائیوری سیکھنا جائز ہے جبکہ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ عورت اس کے ساتھ اکیلی ہو اور عورت اس نامحرم کے ساتھ ان جگہوں پر جائے جو مشق کرنے کیلئے بہترین ہوں اور جگہیں بھیڑ بھاڑ سے عادتاً خالی ہوں؟

جواب:   اس شرط کے ساتھ جائز ہے جبکہ وہ حرام میں پڑنے سے محفوظ رہے۔

سوال:   کیا عورت کو بغیر پردہ کے اپنی صورت کا فوٹو کھچوانا جائز ہے ،مثلا پاسپورٹ وغیرہ کیلئے ؟

جواب:   اگر وہ پاسپورٹ یا کسی اور ضروری کا غذ پر لگوانے کیلئے مجبور ہوتو اس کا فوٹو کچھوانا جائز ہے لیکن فوٹو کھینچنے والا شوہر ہو یا کوئی محرم مرداور اگر ضرور ت پیش آجائے تو پھر نا محرم فوٹو گر افرسے بھی جائز ہے۔

سوال:   کیا گردن کے بل حیوان کو ذبح کر سکتے ہیں؟

جواب:    جائز ہے۔

سوال:   کیا میت کی قبر کھودنا جائز ہے ؟جبکہ اس سے میت کی بے حرمتی لازم نہ آ تی ہو؟

جواب:    جائز نہیں ہے مگر چند خاص جگہوں پر جن کی فقہ کی کتابوں میں تفصیل موجود ہے۔

سوال:    فلم میں پردہ دار عورتوں کو دکھایا جاتا ہے کہ جو نامحرم مرد کے سامنے آ    کر اس کو غسل دیتی اور سجاتی اور منا تی ہیں؟

جواب:    یہ اس وقت جائز ہے جبکہ غسل دیتے اور سجاتے منا تے ہوئے ان عورتوں کو نہ پہچانے اور ان کی صورت ہیجان اور کسی فتنہ کا با عث نہ ہو۔

سوال:    میں نے کچھ مال راستہ  میں کسی جگہ مثلا بازار میں یا ائیر پورٹ یا ریلوے اسٹیشن یا بس اڈے یا بندر گاہ پر پایا ،اور مجھے اس بات پر بھرو سہ ہے کہ میں اپنے  ا مکان کی حد تک اس کا مالک کا پتہ نہیں لگا سکتا اس کا کیا حکم ہے؟

جواب :   اس کی طرف سے اس کا نائب بن کر صدقہ دے دینا چا ہئے۔

سوال:    اور اگر کوئی بچہ کچھ رقم پالے اور وہ رقم بڑی ہو اور سکۂ رائج الوقت ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب:   جب اس کے ساتھ معین صفات میں سے کوئی ایسی صفات نہ ہو کہ جس کے وسیلہ سے اس کے مالک تک پہنچا جا سکتا ہو تو بچہ کے ولی کے لئے جائز ہے کہ وہ اس کو لے کر بچہ کی ملکیت کے لیے محفوظ کرلے اور اگر کوئی صفت ایسی پائی جائےکہ جس سے مالک کا پتہ لگا یا جا سکے تو پھر اس کا اعلان ونشر کرنا واجب ہے جیسا کہ میں نے پچھلی گفتگو میں تم سے بیان کیا۔

سوال :   اب میں اپنے عقائد کے بارے میں آپ سے سوال کرتا ہوں ۔میں معصومین علیہم السلام سے طلب رزق اور بچہ کی ولادت یا جان کی حفاظت یا شفاء مرض کے بارے میں سوال کرتا ہوں؟

جواب:   پہلے میں تم سے سوال کرتا ہوں۔

سوال:   آیا تمہاری یہ طلب ان سے اس بنا پر ہے کہ وہ خالق ہیں یا رازق ہیں یا حفاظت کرنے والے ہیں ؟

میں نے کہا نہیں ! بلکہ وہ اللہ جل سبحا نہ کی طرف سے وسیلہ ہیں اور قضائے حاجت کی اس سے سفارش کرنے والے ہیں اس لئے کہ وہ کوئی کام انجام نہیں دیتے مگر اسی کے حکم سے ۔والد صاحب نے فرمایا اگر تمہاری مراد یہ ہے کہ وہ اللہ سے سوال کرتے ہیں وہ پیدا کرے ،وہ رزق دے یا وہ حفاظت کرے کیونکہ وہ ایسے شفیع ہیں کہ ان کے سوال یا دعا رد نہیں ہوتی اور ان کی منزلت خدا کے نزدیک عظیم ہے اور ہمارے اوپر ان کی ولایت ہے؟

میں نے کہا ہاں ۔۔ہاں۔۔ میرا مقصد یہی ہے۔

والد صاحب نے فرمایا یہ جائز ہے ،خدا وند عالم کا قول ہے :

وابتغوا الیہ الوسیلہ

اسی کی طرف وسیلہ اختیار کرو،اور وہی تمہاراوسیلہ اللہ کی طرف ہیں اور یہ جائز ہے۔

 

index