دوسری جزل گفتگو

back

بہت سے ایسے سوالات ہیں جو عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں اور خاص طور پر جوانوں کے ذہنوں میں گردش کرتے رہتے ہیں ، اور میں نے گذشتہ گفتگو میں بعض سوالات بیان کیئے ہیں۔ میں نے عمدناً اس گفتگو کی طرف رخ کیا ہے اس امید کے ساتھ کی  ایک مخصوص اور مستقل گفتگو ان سوالات کے متعلق ہو اور میری یہ امید پوری ہوگئی کیونکہ ہماری گذشتہ گفتگو اتنی طویل ہو گئی تھی کہ جس کی بنا پر اس گفتگو کا مخصوص جلسہ رکھا گیا ہے جو مقبول بلکہ قابل تحسین تھا ۔ میں نے اس جلسہ کی خواہش کی تھی اور میرے والد صاحب نے میری خواہش کو قبول کیا ۔ میں نے اپنے دل میں سو نچا کہ آج کی گفتگو کا آ غاز میں بعض طالب علموں کی تکلیف کے بارے میں کروں گا کہ جن کی پڑھائی میں کچھ چیزیں ایسی نما یا ں ہو تی ہیں کہ جنکے بارے میں،میں پسند کرتا ہوں کہ شریعت اسلامی کے نقطہ نظر کو جان لوں۔

سوال:   بعض فز کس کے طالب علم مالش کرنے کے طریقہ کو سیکھتے ہیں کہ جس کی بنا پربیمار عورت کے جسم کو مس کرنا ضروری ہے اور اس پر ایسی مشق کی جاتی ہے کہ جو مریضہ کی حالت کے مناسب ہے، اور اگر طالب علم اس کو ترک کردے تو امتحان میں نا کام ہوجائے گا تو کیا ایسی صورت میں اس کا علم سیکھنا اور اس میں مہارت حاصل کرنا جا ئز ہے ؟

جواب:   طالب علم کے لئے اس وقت یہ علم حاصل کر نا جائز ہے جبکہ اس کو معلوم ہو یا وہ مطمئن ہو ۔ بعض محترم نفسوں کی حفاظت اس علم میں مہارت حاصل کرنے پر موقوف ہو۔اگر چہ مستقبل ہی میں کیوں نہ ہو جبکہ یہ عمل اس میں جنسی رجحان پیدا کرنے کا با عث نہ بنے۔

سوال:   کلیات طب میں طالب علم پر ضروری ہے کہ وہ عورت اور مرد کے بارے میں تحقیق کرے اور کبھی وہ اپنی اس تحقیق کے سلسلہ میں مرد یا عورت کے عضو تناسل کا معا ئنہ کرتا ہے  یا ان کے پا خا نہ کے مقام کا معا ئنہ کرتا ہے پس کیا طا لب علم اور ڈاکٹر کے لئے یہ تحقیق جائز ہے ؟جبکہ اس پر محترم نفوس کی حفاظت موقو ف ہوچاہے مستقبل میں ہی کیوں نہ ہو؟

جواب:   طالب علم اور طبیب دونو ں کے لئے جائز ہے جبکہ نفس محترمہ کی حفاظت اس پر موقوف ہو چاہے مستقبل ہی میں کیوں نہ ہو۔

سوال:    ہسپتالوں میں نبض کی نگرانی اور خون کا دباؤ دیکھنے اور زخموں کے لیپ وغیرہ کے لئے نرسیں رکھی جاتی ہیں؟

(۱)     بیمار مرد پر کیا ضروری ہے کہ وہ نرس کو اپنا بدن چھونے نہ دے ؟

جواب:   اگر وہ مذکورہ کا مو ں کو انجام دینے کیلئے کسی مرد کمپوڈر کو بلاسکتا ہوتو بلائے ،یا نرس کے ہاتھ پر دستانے پہننے کو کہے یا کوئی ایسی چیز رکھے جو مانع ہو مثلا رومال ،تاکہ وہ اس کام کے درمیان بغیر جسم کے چھو ئے حائل ہوجائے۔

(۲)   کبھی مریض کی ضرورت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جب کمپوڈر نہ ہو تو نرس اسے خود ہاتھ لگائے یا اس کا بلانا مشکل ہو یا نرس مریض پر کمپوڈر سے زیادہ مہربا ن ہو تی ہے؟

سوال:   جب تحقیق یا علاج کی ضرورت اس بات پر موقو ف ہو کہ نرس اس کو چھوئے تو یہ جائز ہے جیسا کہ سوال میں فرض کیا گیا ہے ، البتہ بمقدار ضرورت ہونا چاہئے۔

(۳)   کبھی شرمگاہ کے مقام پر زخم ہوتا ہے اور وہاں پٹی باندھنے کی ضرورت ہوتی ہے تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب: مریض کو چاہیے کہ وہ کمپوڈر کو طلب کرے چاہے مرد ہو یا عورت ،ہاتھوں پر دستانے پہنے یا کوئی چیز ایسی رکھے کہ جو کمپوڈر کے ہاتھ اور شرمگاہ کے درمیان حائل ہو اور شرمگا ہ کو چھوا نہ جاسکے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر پٹی باندھنے کی ضرورت کے بغیر بھی یہ جائز ہے۔

 سوال: اگر ہم لمس (چھونے )کو تمام مذکورہ حالات میں نظر سے بدل دیں تو نظر کا کیا حکم ہے؟

جواب:   نا محرم کی نظر کا حکم وہی ہے جو لمس (چھونے ) کا حکم ہے پس اس نظر میں وہ تفصیل ہے جو بیان ہو چکی ہے۔

سوال:   مذ کورہ حالات میں عورت مریض ہو اور تیمار داری کرنے والا مرد ہو تو کیا ایسی صورت میں وہی حکم ہے جو گزر چکا ہے؟

جواب:   ہاں (با لکل وہی)

سوال:   بعض بے دین شوہر اپنی بیویوں سے نماز کے ترک کرنے ، بے پردگی یا مہما نوں کے لئے شراب، بیئر پیش کرنے پر یا قمار بازی میں ان کے ساتھ کھیلنے یا آنے والو ں سے مصا فحہ کرنے کو کہتے ہیں اور اگر وہ اس سے منع کریں تو وہ لوگ اپنی بیویوں کو مجبور کرتے ہیں ،تو کیا زوجہ کو اس کا حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے شرعی واجبات کی حفاظت کی بنا پر اس کے ساتھ رہنا ترک کردے؟

جواب:   ہاں ، زوجہ کو اس کا حق ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق اس کے ساتھ رہنا ترک کردے اور اسی کے ساتھ شوہر پر اس کا کامل نفقہ دینا واجب ہے۔

سوال:    وہ عورت جو شرعی پردہ کی پابند ہے اور اس کا شوہر پردہ کرنے سے اس کو روکتا ہے اور وہ بے پردگی اور طلاق کے درمیان اس کو اختیار دیتا ہے (تو عورت کیا کرے بے پردہ ہوجائے یا طلاق لے لے)؟

جواب:   اس کو پردہ نہ چھوڑ نا چاہیے اگر چہ طلاق ہی کیوں نہ ہوجائے۔

سوال:  لیکن بعض عورتوں کے لئے طلاق لینا مشکل تنگی اور شدید مشقت کا باعث ہوتا ہے؟

جواب:  مشکل اور مشقت کو برداشت کرے اور ان کو خداوند عالم کا یہ قول یاد دلاؤ :   من یتق اللہ یجعل لہ مخرجا و یر زقہ من حیث لا یحتسب۔

اور جو اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالی اس کے لئے بچاؤ کی راہ پیدا کرے گا اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو

سوال:  حمل سے مانع چیزوں کا استعمال ان دنوں عام ہے ۔ پس اگر دواؤں وغیرہ کے استعمال سے ضرر ونقصان ہو اور امر ایسی چیز وں پر موقوف ہو جائے کہ جس میں طبیب یا طبیبہ کے ذریعے موضع(حمل ) کا کھولنا لازم ہوجائے تو کیا ایسی صورت میں عورت کے لئے یہ جائز ہے ،یہ جانتے ہوئے کہ حمل اس کے لئے نقصان ومشقت کا سبب ہے؟

جواب:   اگر یہ چیز واضح ہو کہ حمل کو روکنے والی تمام چیزیں اور وہ تدبیریں کہ جو مانع حمل ہیں ایسی نقصان دہ ہیں کہ جن کو عادتاً برداشت نہیں کیا جا سکتا اور نیز یہ کہ اگر نسل بڑھانے کے اعضاء کا کھولنا اس امر پر مبنی ہو تو پھر اس عورت پر واجب ہے کہ وہ طبیبہ (ڈاکٹر نی) کی طرف رجوع کرےاگر اس کا امکان نہ ہو تو پھر ڈاکٹر کی طرف رجوع کرے۔

سوال:   کیا کسی عورت کو کسی دوسری عورت کی ناف اور گھٹنے کے درمیان کا حصہ شرم گاہ کے علاوہ دیکھنا جائز ہے؟

جواب:   اگر جنسی رجحان نہ ہو تو دیکھنا جا ئزہے۔

سوال:   بعض عورتیں ،افزائش نسل نہیں چاہتیں اور ان کے شوہر چاہتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:   وہ کس طرح افزائش نسل سے مانع ہوتی ہیں؟

سوال:   دوا کے استعمال سے یا انجکشن کے ذریعے یا رحم کو جما ع کے بعد دھوکر؟

جواب:   یہ تمام چیزیں جائز ہیں بشر طیکہ یہ کسی بڑے نقصان سے دو چار نہ ہوں۔

سوال:   عورت کا لوپ لگوانا کیسا ہے؟

جواب:   اگر عورت جانتی ہو کہ لوپ لگوانا اس بات کا سبب بنے گا کہ مرد کے نطفہ سے اس کے بیضے تر ہونے کے بعد تلف ہوجا ئیں گے تو پھر اس کا استعمال عورت کے لئے جائز نہیں ہے۔

سوال:    اور منی کا عزل کرنا کیسا ہے؟ اگر عورتیں جما ع کے دوران مہبل میں منی ٹپکانے سے مانع ہوں تو؟

جواب:   ان کو اس کا کوئی حق نہیں ہے۔

سوال :  کیا شوہر کے لیئے جائز ہے کہ وہ زوجہ کو اولاد پیدا نہ کرنے پر مجبور کرے جبکہ وہ چاہتی ہو؟

جواب:   شوہر اس کو اس بات پر کس طرح مجبور کریگا ۔

سوال:    وہ گولی کھا نے یا انجکشن لگوانے یا لوپ کے لگوانے پر مجبور کرے گا؟

جواب:   اس کو یہ حق نہیں ہے۔

سوال:   کیا شوہر کے لیے جائز ہے کہ وہ جماع کے وقت مانع حمل چیزوں کو استعمال کرے؟

جواب:   ہاں ،لیکن اس چیز پر عورت کی موافقت ضروری ہے۔

سوال:    اگر دوران جماع وہ عورت کی شرمگاہ میں منی نہ ٹپکائے(یعنی عزل کردے)تو کیا حکم ہے؟

جواب:   اس کو اس کا حق ہے۔

سوال:   کیا طبی دوائیں کھا کر عورتیں اپنی مہواری کو روک سکتی ہیں؟

جواب:   ان کے لئے ان چیزوں کا استعمال جائز ہے۔

سوال:   حمل کے شرو ع کے دنوں میں جنین کا ساقط کرنا آسان ہے کیا ماں کو اس کا ساقط کرنے کا حق ہے؟

جواب:   ہر گز نہیں ،اس کے لیئے جائز نہیں ہے مگر یہ کہ جنین کا اس کے رحم میں رہنا نقصان دہ ہو یا اس کا باقی رہنا اتنے بڑے نقصان کا باعث ہو کہ وہ عادتاً اس کو برداشت نہ کرسکتی ہو تو جائز ہے۔

سوال:   عورتوں کا عورتوں سے عام راستوں ،ائیر پورٹ یا بازاروں اور تفریح کی جگہوں پر ملنا ،گلے لگانا کیسا ہے؟

جواب:   عورتوں کا عورتوں کو گلے لگانا جائز ہے بشرطیکہ حرام فعل پر تمام نہ ہو ۔

سوال:    آج کل عام طور پر عورتیں سڑکوں پر نکلتی ہیں اگر ان کی وہ جگہیں بے پردہ ہوں کہ جن کا پردہ کرنا واجب ہے کیا ان کی طرف بغیر شہوت یا بغیر جنسی لذت کے دیکھنا جائز ہے؟

جواب:   ہاں ، اگر ان کو بے پردگی سے منع کیا جائے اور وہ نہ رکیں تو ان کی طرف دیکھنا جائز ہے۔

سوال:     اس زمانے میں رائج ہے کہ عورتیں زینت کے لئے آ  نکھوں میں سرمہ اور پیشانی پر ٹیکہ لگا کر انگوٹھی ،ہار چوڑی پہن کر بازار وں اور شاہرا ہوں پر لوگوں کے سامنے نکلتی ہیں؟

جواب:    جائز نہیں ہے البتہ آ  نکھوں میں سرمہ اور انگوٹھی پہننا جائز ہے بشرطیکہ فعل حرام میں پڑنے سے محفوظ رہیں اور نا محرم مردوں کو دکھانے کا مقصد نہ ہو۔

سوال:    اب  ذرا پردہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں میں چاہتا ہوں کہ میں آ پ سے ایک ایسی عورت کے بارے میں سوال کروں کہ جو اپنے پاؤں کو کھلا رکھ کر نا محرم کے سامنے نکلتی ہے؟

جواب:    یہ جائز نہیں ہے۔

سوال:    دوسری عورت نماز پڑھنے کی حالت میں اسی طرح اپنے پاؤں کو کھلا رکھتی ہے؟

جواب:    جائز ہے اور پاؤں کا نماز کی حالت میں کھلا رکھنا جائز ہے۔

سوال:    عورت کا کرایہ کی گاڑی میں سوار ہونا کیسا ہے جبکہ اس کے اور ڈرائیور کے علاوہ کوئی تیسرا شخص نہ ہو؟

جواب:   کیا یہ جنسی رجحان کو بڑھا تا ہے یا حرام فعل میں مبتلا کردیتا ہے؟

سوال:    ایسا نہیں ہے بلکہ میں نے ان دنوں ڈرائیوروں کی عادت کے مطابق سوال کیا ہے؟

جواب:   جب تک وہ اپنے نفس پر کنٹرول رکھے اور فعل حرام میں مبتلا نہ ہو تو اس کے ساتھ اس کا سوار ہو نا جائز ہے۔

سوال:   کسی مرد کا عمداً اور ارادتاً اپنی زوجہ کے علاوہ کسی غیر کے ساتھ جنسی فعل کو انجام دینے کے بارے میں فکر کرنا کیسا ہے؟

جواب:   اس کا سوچنا حرام نہیں ہے ،جب تک کہ وہ فعل حرام کی طرف منتہی نہ ہو ۔

سوال: آ پ نے گز شتہ بحث میں مجھ سے فر مایا تھا کہ پوشیدہ عادت کو انجام دینا حرام ہے تو کیا مرد اور عورت اس حکم میں برابر ہیں ؟

جواب:   ہاں جس طرح مرد کو اپنے عضو تنا سل سے کھیلنا یہاں تک کہ انزال ہو جائے حرام ہے اسی طرح عورت کوبھی اپنے عضو تناسل سے کھیلنا حرام ہے یہا ں تک کہ اس کو انزال ہوجائے ۔

سوال:    مرض کی حالت میں ڈاکٹر تحقیق کرنے کے لئے اس سے منی چاہتا ہے اور مریض کے پاس منی نکال نے کا کوئی شرعی طریقہ نہیں ہے اور اس کا نکالنا ضروری ہے کیونکہ ڈاکٹر کی مانگ ہے۔

جواب:   جب مر یض مجبور ہوجائے تو پھر اس کے لئے جائز ہے۔

سوال:    جب کوئی شخص چاہے کہ وہ اپنی آ ز مائش کرائے کہ وہ بچے پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے یا نہیں، لہذا ڈاکٹر نے اس سے منی کو مانگا ہے تاکہ وہ تحقیق کرے ؟

جواب:    جب تک وہ اس پر مجبور نہ ہو جائے اس وقت تک منی کا نکا لنا جائز نہیں ہے۔

سوال:    اس آ خری زمانہ میں جدید عملی مشینری کے ذریعہ (بطن مادر میں ) جنین کی حالت کو بیان کرنا ممکن ہے ۔کہ اگر جنین کی حالت  پیدائشی اعتبار سے بہت خراب ہو اور علمی اعتبار سے یہ ثابت ہوجائے کہ جنین کی پیدائشی صورت حال خراب ہے یا وہ کئی بلاؤں یا کسی ایک بڑی بلا میں مبتلا ء ہے تو کیا اس کا ساقط کرنا جا ئز ہے؟

جواب:    صرف جنین کی صورت حال کا خراب ہو نا اس کے اسقاط کے جا ئز ہونے کا سبب نہیں بنتا۔ ہاں اگر اس کا باقی رہنا رحم مادر میں ماں کے لئے ضرر اور ایسی مشقت کا سبب بنے کہ جو عادتاً محا ل ہو تو اس کا اسقاط جائز ہے اور یہ چیز بھی روح داخل ہونے سے پہلے جا ئز ہے اور روح کے بعد اس کا اسقاط کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہے ۔

سوال:   تلقیح (منی کا پیوند لگانا ) اس زمانہ میں حمل اور پیدائش مصنوعی طریقہ سے کی جا تی ہے اور وہ مختلف اقسام پر ہے میں چاہتا ہوں کہ اس کی آ پ کو نشاندہی کراکر اسلامی اور شرعی نظریہ کو اس بارے میں معلوم کروں ۔

جواب:  کہئے۔

ٖٖسوال:  کیا شوہر کی منی لے کر اس کو اس کی زوجہ کے رحم میں انجکشن  یا دوسرے طریقوں سے ڈالا جا سکتا ہے؟

جواب:   اس حد تک جائز ہے۔

سوال:   کیا شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کی منی کسی دوسری عورت کے رحم میں ڈالنا جائز ہے؟

جواب:   جائز نہیں ہے۔

سوال:   کیا مرد کی منی لے کر اور زوجہ کا بیضہ لے کر ان دونو ں کا آزمائش طبی ٹیوب میں ملاکر پھر اس بیضہ کو عورت کے رحم میں ڈال سکتے ہیں یانہیں ؟

جواب:    یہ بھی ایک حد تک جائز ہے۔

سوال:    شوہر کی منی لے کر اور کسی دوسری ایسی عورت کا بیضہ لے کر کہ اس کی بیوی نہ ہو اس کو ملاکر پھر بیوی کے رحم میں منتقل کرسکتے ہیں؟

جواب:    یہ بھی کسی حد تک جائز ہے۔

سوال:    اس حالت میں بچہ کس سے ملحق کیا جائے گا ؟بیضہ والی عورت یا اس رحم والی عورت سے کہ جس میں نطفہ کامل ہوا ہے میری مراد یہ ہے کہ کون اس کی نسبتی ماں ہے؟

جواب:   اس مسئلہ میں دواحتمال ہیں ،ان دونو کے درمیان احتیاط ضروری ہے۔

سوال:  کسی عورت کا بیضہ لے کر اور کسی دوسرے ایسے مرد کی منی لے کر کہ جو اس کا شوہر نہ ہو دونوں کو ملاکر پھر اس عورت کے رحم میں پلٹا سکتے ہیں ؟

جواب:   اس سے اجتناب لازمی ہے۔

سوال:   پھر دوبا رہ طالب علموں کے مسائل کی طرف پلٹتا ہوں ۔میرا سوال ا سکو ل کے طالب علم کو مارنے کے بارے میں ہے کیا طالب علم کے ولی سے اجازت لینا واجب ہے مراد اس کا مارنا ہے؟

جواب:   شاگردوں کا مارنا جب کہ وہ دوسروں کو ستائیں یا وہ کسی حرام کام کے مرتکب ہو ں تو مارنا جائز ہے اور ولی کی اجا زت صرف تین چھڑیوں تک ہے (اس سے زیادہ نہیں )اور لازم ہے کہ چھڑی اتنی ہلکی ہو کہ جس سے بدن سرخ نہ ہو ورنہ دیت دینا واجب ہو گی۔

سوال:   کیا اسکول کے امتحانات میں نقل کر نا جائز ہے جبکہ کچھ ٹیچر حضرات اس پر طلاب کی مدد کرتے ہیں؟

جواب:   یہ جائز نہیں ہے۔

سوال:   فن وہنر کے کالجوں میں بعض طلبہ کو روح والی مخلوقات کی مجسمہ سازی سیکھائی جاتی ہے اگر وہ اسکے بنا نے میں شرکت نہیں کریں گے تو وہ کامیابی سے محروم اور کالج سے نکال دیئے جائیں گے پس ایسی صورت میں کیا ان کے لیے جائز ہے؟

جواب:   ان کے ترک کرنے کی بنا پر کامیابی سے محرومی اس بات کا تنہا تقاضا نہیں کرتی کہ ا س فعل کا انجام دینا جائز ہو جائے (شرعا ممنوع ہے) ۔

سوال:  گیند،اور گیند کی تمام شکلوں اور اقسام کا کھیلنا ہر جیت کے ساتھ بغیر کسی شرط کے جائز ہے یا نہیں ؟

جواب:   ہاں جائز ہے۔

سوال:  کشتی لڑنا اور مکہ بازی بغیر شرط کے جائز ہے؟

جواب:   دونو ں جائز ہیں بشرطیکہ ان دونوں سے بدن کو نقصان نہ پہنچے۔

سوال:   مردوں کو جو اہم مسا ئل ہیں (ڈا ڑھی کا منڈوانا ہے)بعض لوگ اپنی ڈاڑھیوں کو منڈواتے ہیں اور صرف ٹھڈی کے اوپر بال رکھتے ہیں کیا یہ شرعا کافی ہے؟

 جواب:   کافی نہیں ہے۔

سوال:   جب ڈاڑھی کو آج استرے سے مونڈاجائے تو کیا دوسرے روز اس جگہ بال اگنے سے پہلے استرا پھیرنا جائز ہے؟

جواب:   یہ جائز نہیں ہے۔

سوال:   مجھے معاف کیجئے گا کہ میں اس سوال کی طرف منتقل ہو رہا ہوں  جس کا تعلق باپ اور اولاد کے درمیان ہے آپ سے معذرت کے بعد سوال کرتا ہوں ان حدود کے بارے میں کہ جو والدین کے احکام کو بجالانے کے سلسلہ میں واجب ہیں؟

جواب :   اسلام اولاد پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کو واجب قرار دیتا ہے۔

سوال:   خوب کیا اطاعت والدین ہر چیز حتی روز مرہ کی زندگی میں بھی واجب ہے مثلا والد اپنے بچہ کو حکم دے یہ پھل کھاؤ یا دس بجے سوجاؤ ۔اور اسی طرح کے دوسرے امور؟

جواب:   ہاں یہ چیز بچہ کے لئے اچھی ہے۔

سوال:   جبکہ والدین اپنی اولاد کو کسی معین چیز سے منع کریں اس احتمال کے ساتھ کہ اس چیز کا نقصان اس کی اولاد کو ہوگا جبکہ اس کی اولاد کا اعتقاد یہ ہو کہ وہ چیزاس کے لئے مضر نہیں ہے تو کیا حکم ہے؟

جواب:   ایسی حا لت میں والد کی مخالفت جائز نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے اس کی مخالفت کرنا اس کی اذیت کا باعث ہو۔

سوال:    جب کہ والد اپنے لڑکے سے کہے میں جانتا ہوں کہ یہ سفر تم کو کوئی نقصان نہ پہنچائے گا لیکن تمہاری دوری مجھے اذیت پہنچائے گی لہٰذا تم کو سفر کرنے سے منع کرتا ہوں ؟

جواب:   قبل اس کے کہ تمہارے سوال کا جواب دوں اس سوال کے بارے میں تم سے پوچھتا ہوں اگر لڑکا باپ کی اطا عت کرتے ہوئے سفر نہ کرے تو کیا سفر کا نہ کرنا لڑکے کو نقصان دہ ہے؟

سوال:    ہر گز نہیں بچہ کا سفر نہ کرناکسی نقصان کا باعث نہیں ہے لیکن وہ اپنے شوق اور گھومنے پھرنے سے جو تحقیق حاصل ہوتی ہے اس سے محروم ہوجائے گا ۔

جواب:   اس بنا پر اس کا سفر کرنا جائز نہیں ہے جبکہ اس سے اسکے والد کو تکلیف پہنچتی ہو ۔

سوال:   اب میں جوانو ں کے اکثر شوقین کھیل کے موضوع کی طرف آتا ہوں اور وہ بغیر شرط کے شطرنج اور جوئے کا کھیلنا ہے؟

جواب:   دونوں کا کھیلنا جائز نہیں ہے۔

سوال     بہت سے لوگ شطرنج اور جوئے کے علاوہ دوسری چیزوں سے کھیلتے ہیں ایسی چیزیں کہ جو قمار میں شمار ہوتی ہیں لیکن صرف تفریح کے لئے کھیلتے ہیں بغیر شرط کے؟

جواب:   جتنی بھی چیزیں قمار میں شمار ہوتی ہیں ان کا کھیلنا حرام ہے چاہے بغیر شرط ہی کے کیوں نہ ہو۔

سوال:   بعض الکٹر ونیک کھیل جو ایسی چیزوں کے ذریعہ جس کا نام (اٹاری) ہے دور سے ٹیوی پر دیکھا جاتا ہے اور ان سے الکٹر ونیک طاقت کے ذریعہ کھیلا جاتا ہے اور وہ صرف تفریح ہے بغیر کسی شرط کے؟

جواب:   وہ تمام چیزیں جوٹی وی پر قمار کے آ لات کے ذریعہ دیکھی جاتی ہیں تو اٹاری چیزوں کے ذریعہ ان سے کھیلنا جائز نہیں ہے اور اگر وہ قمار والے آ لات نہیں ہیں تو جائز ہے ۔

سوال    قمار کے آ لات سے اب میں رقص (ناچ) کی طرف آ  تا ہوں ۔ پس میرا سوال بیوی کے ناچ کے بارے میں ہے کہ جو اپنے شوہر کے سامنے ناچتی ہے تاکہ اس کی محبت اور اس کا رجحان اس کی طرف بڑھے؟

جواب:   یہ اس کے لئے جائز ہے۔

سوال:   اگر کوئی عورت دوسرے کے سامنے نا چے تو ؟

جواب:   جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر کے علا وہ دوسرے مردوں کے سامنے ناچے بلکہ اس کا عورتوں کے سامنے بھی رقص کرنا جائز نہیں ہے۔

سوال:  کسی مرد کا مردوں کے سامنے یا ایسی عورتوں کے سامنے رقص کرنا کہ جو اس کی بیوی نہیں کیسا ہے؟

جواب:   اس کا رقص کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔

سوال:   شادی یا دوسری تفریحی محفلوں میں مرد وں یا عورتوں کا تا لیاں بجانا کیسا ہے؟

جواب:   ان کے لئے جائز ہے بشر طیکہ کسی دوسرے حرام فعل کے مرتکب نہ ہوں ۔

سوال:   اب میراسوال دینی غنا کے سننے کے جواز میں ہے؟

 جواب  تمہاری مراد وہ دینی کلمات ہیں کہ جو اہل لہووطرب کے مشہور لحنوں سے ادا ہو تے ہیں ؟

سوال:   ہاں ۔

جواب:   ان کا سننا حرام ہے اور اسی طرح ہر وہ کلام جو لہو میں مبتلا کرنے والا نہیں ہے اور ان کے لحنو ں سے ادا ہوتا ہے چاہے دعا ہو یا کوئی اور ذکر ہو(یا ان دونوں کے علاوہ اور کچھ ہو)

سوال:   اور لہوی کلام جوان کے لحنوں سے ادا ہوتا ہے؟

جواب:    یہی تو غنا ہے جو مشہور ہے اور اس کی حر مت میں کوئی شک نہیں ہے

سوال :   مو سیقی کا اطلاق ہمارے اس زمانہ میں کس چیز پر ہوتا ہے ؟

جواب:   وہ دو قسموں پر ہو تا ہے ایک تو لھو وطرب کی محفلو ں سے مناسبت رکھتی ہے پس اس کا سننا حرام ہے اور اس کے علاوہ جو ہے اس کا سننا جائز ہے۔

سوال:   بعض موسیقی کی قسمیں ایسی ہیں کہ جو تلاوت کلام پاک سے پہلے یا اذان کہنے سے پہلے یا کبھی دینی پر وگرام سے پہلے یا جو دینی پروگرام سے ملحق ہیں اس سے پہلے بجائی جاتی ہیں کیا ان کا سنا جائز ہے

جواب:   یہ مو سیقی کی دو سری قسم سے مربوط ہے جوحلال ہے ۔

سوال:   وہ موسیقی کہ جو خبروں کے بیا ن کر نے سے پہلے نشر کی جاتی ہے

جواب:   یہ بھی جائز ہے

سوال:   بعض گھڑیوں میں معین وقت الارم بتانے کے لئے موسیقی فٹ کر دی جاتی ہے تاکہ جب چاہیں ان کومعین وقت پر لگادیں لہٰذا ان کا بیچنا اور ان کا خرید نا اور ان کی موسیقیو ں کو سننا جائز ہے یا نہیں؟

جواب :   جائز ہے

سوال:   کلاسکی موسیقی وہ ہے کہ جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ا عصاب کو تحریک میں لانے اور ان کو متا ثرکرنے کے لئے استعمال ہو تی ہے اور وہ کبھی روح امراض کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہے کیا اس کا سننا جائز ہے ؟

جواب:   ہاں ہر وہ موسیقی کہ جو لھو و طر ب کے ما نند نہیں اس کا سننا جائز ہے

سوال:   وہ تصویر ی مو سیقی کہ جو ٹیلی ویزن کی فیلموں میں دکھائی جاتی ہے اور ان سے غرض دیکھنے والے کا متا ثر کرنا ہو تا ہے جو فلم سے متعلق ہے پس جب کہ فلم کا دیکھنے والا اس موسیقی سے مرعوب ہو اور وہ موسیقی دیکھنے والوں پر اثر انداز ہو تو کیا حکم ہے ؟

جواب:   یہ بھی اکثر حلال قسم سے تعلق رکھتی ہے ۔

سوال:   غزل ترانے کبھی موسیقی کے ذریعہ نشر کئے جاتے ہیں ان کا سننا کیسا ہے

جواب:   ان پر مذکو رہ قاعد ہ کے مطابق عمل کیا جائے( یعنی یہ حلال موسیقی کی قسم ہے)

سوال:   مجھے معاف کیجئے دو سوال کرتا ہوں

جواب:    کیجئے۔

سوال :   کیا بعض حا لات میں عورت کے لئے جائز ہے کہ وہ نا محر م مر دوں کے لئے اپنے کو معطر کرے؟

جواب:   اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے بلکہ جب نا محرم مرد سے فتنہ کا اندیشیہ ہو یا اس کا جھکاؤ کا سبب ہو تو جائز نہیں ہے۔

سوال:   کسی عزیز کی وفات پر اس کے سوگ میں عورتیں کالے کپڑے پہنتی ہیں اور کبھی اپنے چہروں اور سینوں وغیرہ پر ہاتھ مارتی ہیں کیا ان کے لئے یہ جائز ہے۔

جواب:   ہاں جائز ہے ۔

 

index