next

نجاست پر گفتگو

back

 میرے والدمحترم نے جب اس موضوع پر گفتگو کی تو ان کی آنکھوں میں عزم راسخ کی ایک جھلک نظر آرہی تھی۔

کہنے لگے کہ پہلے میں آپ کے سامنے ایک قاعدہ کلیہ بیان کرتاہوں، کہ جو تمہاری زندگی میں ایک خاص اثر رکھتا ہے۔اور وہ یہ ہے کل شئی طاہر پاک ہے۔ کل شئی ہر چیز یعنی دریا بارش درخت جنگل، راستے  ،عمارتیں ، گھر سامان ، ہتھیار ، لباس اور آپ کے مسلمان بھائی وغیرہ وغیرہ ۔کل شئی طاھرا الا ہر چیز پاک ہے مگر ۔

سوال:     یہ مگر کیا ہے؟

جواب:      مگروہ چیزیں جو طبیعتا، ذاتا اور فطرتا نجس ہوں۔

سوال:     وہ کون سی چیزیں ہیں جو طبیعتاٌ وذاتا نجس ہیں؟

جواب:      وہ ہیں دس چیزیں جن کی ترتیب درج ذیل ہے:

۱۔۲۔  انسان اور ہر اس جانور کا پیشاب وپاخانہ کہ جس کا گوشت کھانا حرام ہو،اور ہر وہ جانور جو خون جہندہ رکھتا ہو، جیسے بلی وخون ۔

سوال:     خون جہندہ کیا ہے ؟

جواب:      یہ ایک اصطلاح ہے آپ کو اس بحث میں اصطلاح سے باربار سابقہ پڑے گا، لہٰذا بہتر ہے کہ اس کی وضاحت کردی جائے۔

ہم جو کہتے ہیں کہ یہ حیوان خون جہندہ نہیں رکھتا یعنی ذبح کے وقت اس کا خون ست، آہستہ اور نیچے کی طرف بہتا ہے۔  کیونکہ اس میں رگ جہندہ کا وجود نہیں ہے جیسے مچھلی وغیرہ ۔

ہر اس حیوان کا مردار کہ جس کا خون اچھل کر نکلتا ہو اگرچہ اس کا گوشت حلال ہی کیوں نہ ہو، اسی طرح اس کے وہ اجزا جو اس کی زندگی میں اس سے جدا ہوگئے ہوں ۔

سوال:     مردار سے کیا مراد ہے؟

جواب:      ہر وہ چیز جو اسلامی طریقہ کے بغیر ذبح کئے ہوئے مرجائے۔

مثلاً ایسا حیوان جو کسی بیماری کے سبب مرجائے، یا کسی حادثہ کی بناپر مر جائے یا ذبح تو کیا جائے مگر شرعی طریقہ سے نہ ہو، تو یہ سب مردار کہلاتے ہیں۔

سوال:     اگر انسان مرجائے تو مگر کیا اس کا بدن نجس ہے ؟

جواب:      ہاں اس کا بدن نجس ہے شہید اور جس کو زندگی ہی میں غسل دے دیا جائے، تاکہ اس کے اوپر حد کا اجراء ہو، یا اس سے قصاص لیا جائے ایسا بدن نجس نہیں ہے۔

سوال:     کیا ان دونوں کے علاوہ انسان کا مردار نجس ہے؟

جواب:       نہیں بلکہ مسلمان کی میت کو تین غسل دئیے جانے کے بعد وہ پاک ہے کہ جس کی شرح آنے والی گفتگو میں بیان کی جائے گی۔

۴۔منی

انسان اور ہر خون جہندہ رکھنے والے حیوان کی منی نجس ہے اگرچہ وہ حیوان حلال گوشت ہی کیوں نہ ہو۔

۵۔خون

 انسان اور ہر خون جہندہ رکھنے والے حیوان کے جسم سے نکلنے والا خون نجس ہے اور اس حیوان کا خون پاک ہے جو خون جہندہ نہیں رکھتا، جیسے مچھلی کا خون ۔

۶۔کتا

خشکی میں رہنے والا کتا اس کے بدن کے تمام اجزاء چاہے زندہ ہوں یا مردہ ۔

۷۔سور

خشکی میں رہنے والا سور اس کے بدن کے تمام زندہ یا مردہ اجزاء نجس ہیں۔ وہ کتے اور سور جودریا میں رہتے ہیں۔یہ دونوں پاک ہیں۔

۸۔شراب

شراب(اور جو اس سے ملحق ہے) مثلاً فقاع وغیرہ نجس ہے۔

۹۔            کافر کافر زندہ ہویا مردہ نجس ہے عیسائی، یہودی اور مجوسی( آتش پرست)کے علاوہ۔

 

۱۰۔ نجاست کھانے والے حیوان کا پسینہ

یہی دس چیزیں ہیں جو ذاتاًاور طبیعتاً نجس ہیں۔ اور جو گیلی اور مرطوب چیز  ان سے مس ہوتی ہے وہ نجس ہوجاتی ہے۔

سوال:     اگر ان دونوں کے درمیان رطوبت ونمی نہ ہوتو؟

جواب:      اگر رطوبت یا گیلاپن نہیں ہے تو پھرنجس نہیں ہوگی، اس لیے کہ سوکھے پن میں یا ہلکی سی ترواٹ میں نجاست میں کبھی منتقل نہیں ہوتی ۔

سوال:     جن حیوانات کا گوشت حلال ہے جیسے، گائے، بھیڑ، مرغ، اور مختلف پرندے وغیرہ کیا یہ پاک ہیں یا نجس؟

جواب:      پاک ہیں ۔

سوال:     چمگادڑ کے فضلات (پیشاب وپاخانہ)؟

جواب:      پاک ہیں۔

سوال:     مردار کے بال، اون، ناخن، سینگ، ہڈیاں، دانت، چونچ اور پنچے وغیرہ پاک ہیں یا نجس؟

جواب:      تمام پاک ہیں۔

سوال:     ہم نے کھانے کے لیے گوشت خرایدا ہے۔لیکن اس پر خون ہے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:       یہ خون پاک ہے اور ہر وہ خون جو ذبیحہ میں باقی رہ جائے شرعی طریقہ سے ذبح کرنے کے بعد ، تو یہ پاک ہے، نجس نہیں ہے۔

سوال:     جنگلی اور گھریلو چوہوں کا فضلہ کیا حکم رکھتا ہے ؟

جواب:      نجس ہے۔ ان چوہوں میں ایسی شریاں(رگ جہندہ) موجود ہے کہ ذبح کے وقت جس کا خون اچھل کر نکلتا ہے۔

میرے والد محترم میری طرف بغور دیکھتے ہوئے فرمانے لگے:

میں نے اس بحث کو ایک ایسے قاعدہ کلیہ کے ساتھ شروع کیا کہ جوآپ کی زندگی میں ایک بڑا اثر رکھتا ہے اب میں کچھ دوسرے کلیات وقواعد کے ساتھ اس بحث کو ختم کرتا ہوں کہ جو زندگی میں بڑے موثرثابت ہوں گے ۔

پہلاقاعدہ

کل شئی کان طاھرا فیما مضی ثم تشک

سوال:     ہر وہ چیز کہ جو پہلے پاک تھی لیکن پھر مشکوک ہوجائے کیا وہ نجس ہے یا اپنی سابقہ طہارت پر باقی ہے؟

جواب:      وہ پاک ہے۔

والد محترم ۔ذرامثال دے کرواضح کریں؟

مثال کے طور پر آپ کے سونے کا بستر پہلے پاک تھا، اب شک ہوگیا کہ کیا یہ کسی نجاست سے نجس ہوگیا یا اپنی پہلی والی طہارت پر باقی ہے؟توکہاجائے گا تمہارا سونے کا بسترپاک ہے۔

دوسرا قاعدہ

کل شئی کان نجسا فیما مضی ثم تشک

سوال:     ہر وہ چیز جو پہلے نجس تھی پھر مشکوک ہوگئی، کیا وہ اس کے بعد طاہر ہے یا اپنی پہلی والی نجاست پر باقی ہے۔کیا وہ نجس ہے؟

جواب:      آپ کا ہاتھ نجس ہوا اس سے پہلے آپ کو یقین تھا کہ ہاتھ نجس ہے اور اس کے بعد آپ نے شک کیا کہ آیا یہ پچھلی نجاست سے پاک ہوا یا پاک نہیں ہوا تو آپ کہیں کہ میرا ہاتھ نجس ہے۔

تیسرا قاعدہ

کل شئی لا تعلم حالتہاالسابقہ

سوال:     ہر وہ شئے جس کے متعلق آپ اس کی پچھلی حالت کو نہیں جانتے کہ وہ نجس ہے یا پاک تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:       ایک پیالہ میں ایک سیال چیز موجود ہے اس کی حالت سابقہ سے آپ جاہل ہیں آپ نہیں جانتے کہ وہ پہلے نجس تھی یا پاک تو کہا جائے گا۔

ھذا السائل طاہر یہ سیال پاک ہے۔

چوتھا قاعدہ

کل شیئی تشک اصابتہ نجاسۃ فتنجس بھااواخطاتۃ فلم تصبہ

ہر وہ چیز جس کے متعلق شک کیا جائے کہ کیا نجاست اس تک پہنچی ہے یا خطا کرگئی ہے تو یہ پاک ہے اس وقت آپ پر اس کے بارے میں تحقیق وتفتیش کرنا واجب نہیں ہے،تاکہ آپ کو اس کی طہارت کا یقین ہوجائے بلکہ کہا جائے گاھوطاھر وہ پاک ہے۔ تحقیق کی کوئی ضرورت نہیں یہاں تک کہ اگر آپ کے لیے تحقیق کرنا آسان بھی ہو ،تب بھی تحقیق وجستجو کرنا لازم نہیں ہے۔

سوال:     آپ ذرا مثال دے کر واضح کیجئے؟

جواب :    آپ کا کپڑا پاک تھا اور آپ کو پہلے یقین تھا اب آپ کو شک ہوگیا کہ کیا پیشاب کی چھینٹ اس پر پڑی ہے یا نہیں یا اپنی گزشتہ طہارت پر باقی ہے؟ اب ایسے وقت میں آپ پر کپڑے کے بارے میں تحقیق کرنا واجب نہیں ، چاہے تحقیق وتفتیش کرنا آپ کے لیے آسان ہی کیوں نہ ہو، بلکہ ایسے وقت کہا جائے گاثوبی طاہر میرا کپڑا پاک ہے۔

 

index