next

طہارت پر گفتگو

back

 

قبل اس کے کہ میرے والد بزرگوار ہماری اس علمی وفقہی گفتگو کے جلسہ میں تشریف لاتے، میں ایک گہری سوچ میں ڈوبا ہواتھا اور ان معلومات کے بارے میں غور وفکر کررہاتھا کہ جو کل نجاست پر ہوئی تھیں ۔ اور اس بات کا منتظر تھا کہ آج کے جلسہ میں اشیاء کی پہلی طہارت اور ان کی پاکیزگی کس طرح واپس ہوگی۔؟ جب کہ نجاست ان کو لگی ہےجیسے ہی میرے والد تشریف لائے میں نے ان سے عرض  کیا۔

سوال:      آپ نے کل مجھ سے فرمایا تھا کہ جب پاک چیزیں نجاست سے ملتی ہیں تو ان کی طہارت ختم ہوجاتی ہے۔ آپ بتلائیے کہ ان کی طہارت دوبارہ کیسے ممکن ہے؟

جواب:      نجس چیزوں کی طہارت پانی سے ممکن ہے، پانی کے ذریعہ نجس چیزوں کی کثافت وگندگی کو دور کیا جاتاہے۔لہٰذا ہماری آج کی گفتگو پانی سے شروع ہوگی۔

(۱)۔۔۔ پہلا مطہرپانی ہے۔

میرے والد نے مزید فرمایا:

پانی مطلق ہے اور مضاف ہے۔

سوال:     مطلق پانی کون سا ہوتا ہے؟

جواب:      مطلق( خالص) وہ پانی ہے جس کو انسان پیتے ہیں، اور حیوانات پیتے ہیں اور اس کے ذریعہ کھیتوں کو سینچاجاتاہے۔۔۔ سمندر کا پانی دریاؤں اور نہروں کا پانی ،کنوؤں، تالابوں اور بارشوں کا پانی۔۔۔ اور ان نلوں کا پانی جن کے پائیوں کو ہم پانی لانے کے لیے بڑے برے ٹینکوں سے جوڑکر شہروں اور دیہاتوں میں لاتے ہیں اگر پانی میں تھوڑی سی مٹی اور ریت بھی ملی ہو تو پھربھی وہ پانی مطلق یعنی خالص رہتا ہے، جیسے ندی اور نہروں کا پانی وغیرہ۔

سوال:     مضاف پانی کسے کہتے ہیں؟     

جواب:      مضاف پانی بولتے وقت جب کسی دوسرے لفظ کا پانی کی طرف اضافہ کرتے ہیں تو آسانی سے سمجھ میں آجاتاہے جیسے کہا جائے۔گلاب کا پانی انار کا پانی، انگور کا پانی، گاجر اور تربوز کا پانی اور دوسری چیزوں سے نچوڑا ہوا پانی اور جیسا کہ آپ نے مثالوں کو ملاحظہ فرمایا کہ یہاں ہماری مراد پانی نہیں ہے، جس سے ہم رفع حدث کرتے ہیں اور اس کو پیتے ہیں جب کہ اس انار یا انگور وغیرہ کے پانی سے ہم رفع حدث نہیں کرسکتے ہیں۔

پھر مطلق پانی کی دوقسمیں ہیں:

(۱)محفوظ (۲)  غیر محفوظ

سوال:     محفوظ پانی سے آپ کی مراد کیا ہے؟

 جواب:     محفوظ پانی وہ ہے جو نجاسات کے گرنے سے اس وقت تک نجس نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا رنگ، بویا مزہ بدلے۔۔۔ اور غیر محفوظ پانی وہ ہے کہ جو نجاست کے گرتے ہی نجس ہوجائے اگرچہ تینوں صفتوں (بو، رنگ یا مزہ) میں سے کوئی صفت بھی نہ بدلے ۔

سوال:     ابا حضوریہ بتائیے پانی کون کون سے ہیں:

جواب محفوظ پانی کی چند اقسام ہیں جو بیان کی جاتی ہیں:

۱۔       کثیرپانی

کثیرپانی وہ ہے جو ایک کرکی مقدار کے برابر ہو یعنی جو۳۶ بالشت مکعب مربع گڑھا ہو اور اس میں پانی بھرا ہو اس کو کرکہتے ہیں جیسے ان پائیوں کا پانی جو شہر کی بڑی بڑی ٹنکیوں سے ہمارے گھروں میں پہنچتا ہے یا وہ پانی جو موٹر وغیرہ سے کھینچاجاتاہے ان ٹینکوں کا پانی جو ہمارے گھروں کی چھتوں پر بنے ہوتے ہیں ۔جب کہ ان ٹنکیوں میں پانی پائپ کے ذریعہ آتارہے اور منقطع بھی نہ ہو ۔

۲۔کنویں کا پانی۔

۳۔جاری پانی ۔

جیسے نہروں ،ندیوں اور چشموں کا پانی وغیرہ

۴۔ بارش کا پانی

بارش جب کہ موسلادھار ہورہی ہو۔ یہ پانی محفوظ کہلاتے ہیں۔

سوال:     غیر محفوظ پانی کو ن کون سے ہیں؟

جواب:      وہ چھوٹے حوضوں، گڑھوں، یا برتنوں وغیرہ کا ٹھہرا ہوا پانی (کنویں کے علاوہ) کہ جس کی مقدار ایک کرسے کم ہو، اسے اصطلاح میں آپ قلیل کہتے ہیں یعنی کم پانی آپ پہلے جان چکے ہیں کہ یہ تمام پانی نجاست کے گرتے ہی نجس ہوجاتے ہیں۔

سوال:     محترم والد صاحب یہ بتائیے کہ مضاف پانی کا کیا حکم ہے؟

جواب:      مضاف پانی کا حکم قلیل پانی کے حکم میں ہے یعنی نجاست کے گرتے ہی وہ نجس ہوجاتاہے۔ چاہے مقدار میں وہ زیادہ ہو یا کم جیسے چائے کہ یہ دوسرے،مضاف پانی کی طرح ہے جیسے دوھ تیل دواؤں کا محلول وغیرہ یہ نجاست کے گرتے ہی نجس ہوجاتے ہیں۔

پھر والد صاحب نے یہ کہتے ہوئے اضافہ فرمایا:

ہر قلیل پانی جب وہ کثیر پانی سے متصل ہوجائےگا تو وہ کثیر ہوجائے گا اور اسی کے ساتھ محفوظ ہوجائے گا جب تک کہ کثیر سے جدانہ ہو، پس چھوٹی ٹنکیوں کا پانی آرہا ہوتو وہ کثیر کے حکم میں ہے،اور وہ دیگ کہ جو غسل خانہ میں رکھی ہو اور اس میں نلوں سے پانی آرہا ہو کثیر کے حکم میں ہے یہ تمام پانی اس وقت تک کثیر ہیں جب تک کہ کرسے متصل ہوں۔

سوال:     خوب : اگر ٹنکی کے رکے ہوئے پانی میں خون کے چند قطرات گرجائیں اور ٹنکی کا پانی کر۔۔۔ بھرا ہوا ہوتو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:      پانی نجس نہیں ہوگا۔ ہاں اگر کرپانی کارنگ خون کی وجہ سے بدل جائے تو پھر نجس ہوجائے گا۔

سوال:     اگر چھوٹے برتن میں گرجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:      برتن نجس ہوجائے گا۔

سوال:     اگر ہم جاری پانی کو اس پر کھول دیں اور پانی اپنی صفات کی طرف پلٹ جائے تو اس کا کیا حکم ہے۔؟

جواب:      برتن کا پانی پاک ہوجائے گا، لیکن اگر جاری پانی کوبند کردیا جائے اور دوسری مرتبہ اس کار نگ بدل جائے تو پھر وہ نجس ہوجائے گا جیسا کہ عنقریب آپ کو بتلایا جائے گا کہ برتن نجس ہوجائے تو جب تک اس کو تین مرتبہ نہ دھویا جائے پاک نہیں ہوگا۔

سوال:      اگر لوٹے کا پانی کسی نجاست پر پڑے تو کیا لوٹے کا پانی نجس ہوجائے گا۔؟

جواب:       ہرگز نہیں، اس لیے کہ نجاست اس پانی کو طول میں اثر نہیں کرتی ہے، جو لوٹے سے گررہا ہے پس نہ طول میں پانی نجس ہوتا ہے اور نہ لوٹے کا پانی نجس ہوتا ہے۔

سوال:     بارش کا پانی کس طرح نجس چیزوں کو پاک کرتاہے؟

جواب:       جب بارش ان پر قطرے قطرے گرے، چاہے زمین نجس ہو یا کپڑا اور فرش نجس ہو، ان چیزوں میں بارش جذب ہو جانے کے بعد ۔یا برتن نجس ہو یا اسکے مشابہ کوئی بھی چیز ہو، بشرطیکہ بارش کا ان پر برسنا عرف عام میں صادق آئے، نہ کہ بارش کے چند قطرے ان پر گرجائیں تو ایسی صورت میں ان پر برسنا صادق نہیں آئے گا۔

سوال:     جن چیزوں پر فقط ایک مرتبہ بارش برسے تو کیا وہ چیزیں پاک ہوجائیں گی؟

جواب:      ہاں پاک ہوجائیں گی البتہ پیشاب سے نجس ہونے والے بدن اور کپڑے کو دودفعہ دھونا شرط ہے۔

سوال :    کیا بارش سے نجس پانی بھی پا ک ہو جانا ہے؟

جواب:      ہاں جب وہ بارش کے پاک پانی میں مل جائے۔

سوال:     نجس اشیاء کو قلیل ہو یا کثیر پانی سے کیسے پاک کیا جاتاہے؟

جواب:      ہم ہر نجس چیز کو پاک کرتے ہیں، تو پانی سے ایک مرتبہ دھوتے ہیں چاہے وہ پانی قلیل ہو یا کثیر، لیکن قلیل پانی سے دھونے میں ضروری ہے کہ نجس چیز سے پاک کرنے والا پانی جدا ہوجائے یعنی اس کو نچوڑدیا جائے۔

سوال:     کیا اس طریقہ سے تمام نجس اشیاء پاک ہوجاتی ہیں ؟

جواب:      ہاں سوائے چند چیزوں کے جو بیان کی جائیں گی۔

۱۔     وہ برتن جو شراب سے نجس ہوگئے ہیں جیسے گلاس اور کٹورے وغیررہ تو ان کو ہم تین مرتبہ دھوئیں گے۔

۲۔     وہ برتن کہ جس میں چوہا گر کرمرجائے یا سور اس کو چاٹ لے تو ہم اس کو سات مرتبہ دھوئیں گے ۔

۳۔     وہ چیزیں جو دودھ پینے والے ایسے بچے کے پیشاب سے نجس ہوگئی ہوں کہ جو ابھی غذا نہیں کھاتا، اور اسی طرح دووھ پیتی بچی کے پیشاب سے نجس ہوگئی ہوں تو ان پر اتنا پانی ڈال دیا جائے گا کہ جس سے وہ تر ہوجائے۔ اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں ہے۔اور اگر کپڑا وغیرہ نجس ہوجائے تو نچوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

(۴)   وہ برتن کہ جن کو کتا اپنی زبان سے چاٹ لے، اس میں سے کچھ کھا لے یاپی لے، تو پہلے مٹی سے اس کو مانجھا جائے گا، پھر دو مرتبہ پانی سے دھویا جائے گا اور اگر ان میں اس کا تھوک گرجائے یا وہ خودان سے مس ہوجائے تو پہلے اس کو مٹی سے مانجھے پھر پانی سے تین مرتبہ دھویا جائے گا۔

سوال:     کتے کے ولوغ سے کیا مراد ہے؟

جواب:      کتے کا اپنی زبان سے برتن کو چاٹنا۔

۵۔     وہ لباس جو پیشاب سے نجس ہوجاتے ہیں، ان کو جاری پانی میں ایک مرتبہ دھویا جائے گا، یا ان کو کرپانی میں یا قلیل پانی میں دومرتبہ دھویا جائے گا اور درمیان میں نچوڑا جائے گا لیکن جو لباس پیشاب کے علاو ہ کسی اور چیز سے نجس ہوتے ہیں ان کو قلیل پانی میں  ایک مرتبہ دھوکر نچوڑا جائے گا یا کثیر پانی میں بغیر نچوڑے ایک مرتبہ دھویا جائے گا۔

۶۔     وہ بدن جو پیشاب سے نجس ہوجائے ، اس کو اسی طرح پاک کیا جائے گا۔

جیسا کہ نجس لباس میں بتایا گیا ہے، اور اگر اس کو قلیل پانی سے دھویا جائے تو ضروری ہے کہ اس سے جدا ہونے والا پانی عمومی طور پر تمام انداز میں جدا ہوجائے۔

۷۔     اگر برتن کا اندرونی حصہ شراب کے علاوہ کسی اور چیز سے نجس ہوجائے یا کتا اس میں سے کچھ کھاپی لے، یا چاٹ لے، یا اپنا تھوک (یعنی منہ کا پانی)اس میں ڈال دے، یا اپنے بدن کا کوئی حصہ اس سے مس کر دے، یا چوہا اس میں گرکر مرجائے، یا سور اس میں سے کچھ کھاپی لے پس ہم اس کو  قلیل پانی سے تین مرتبہ پاک کریں گے، یا کثیر پانی یا جاری پانی یا بارش کے پانی سے بھی تین مرتبہ پاک کریں گے،

سوال:     اگر برتن کا ظاہری حصہ نجس ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:      تو اسے قلیل پانی سے ایک مرتبہ دھویا جائے۔

سوال:     اگر میرا ہاتھ نجس ہوجائے اور میرے پاس قلیل پانی ہو تو میں اپنے ہاتھ کو کس طرح پاک کروں؟

جواب:      اگر آپ کا ہاتھ پیشاب سے نجس نہیں ہوا، تو اس پر ایک مرتبہ پانی اس طرح ڈالو کہ وہ پانی ہاتھ سے جدا ہوجائے تو آپ کا ہاتھ پاک ہوجائے گا۔

(۲)(دوسرا مطہر) سورج

سوال:     بتائیے سورج کس کس چیزکو پاک کرتاہے؟

جواب:      زمین کو پاک کرتا ہے اور جو اس پر گھر اور چاردیواری بنی ہوتی ہیں اور اسی سے ملحق بورئیے اور چٹائیاں وغیرہ ان میں جوتا گے ہیں وہ اس حکم میں نہیں ہیں دروازے، لکڑیاں، میخیں، درخت اور اس کے پتے، گھاس، پھل (پکنے سے پہلے) اوران کے علاوہ جو بھی زمین میں لگے ہوئے ہیں اسی حکم سے ملحق ہیں۔

سوال:      سورج کس طرح زمین اور گھر کو پاک کرتاہے۔؟

جواب:       سورج ان پر اس طرح چمکے کہ اس کہ اس کی شعاعوں سے وہ خشک ہوجائیں اور اس کے ساتھ زمین ومکان کی عین نجاست بھی زائل ہوجائے۔

سوال:     اگر زمین خشک ہو اور ہم اس کو سورج سے پاک کرنا چاہیں تو کس طرح پاک کریں گے؟

جواب:       ہم اس پر پانی ڈال دیں گے، اور اس کے بعد سورج کی شعائیں اس کو خشک کردیں گی، تو وہ پاک ہوجائے گی۔

سوال:     جب زمین پیشاب سے نجس ہوجائے اور سورج اس پر چمک کراس کو خشک کردے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:      زمین پاک ہوجائے گی بشرطیکہ اس پر پیشاب کا رنگ باقی نہ رہے۔

سوال:     کنکری۔ خاک ۔ کیچڑ اور پتھر وغیرہ جو زمین کے جزو شمار ہوتے ہیں،اگر پیشاب سے نجس ہوجائیں اور سورج ان کو خشک کردے پھر اس کا کیاحکم ہے؟

جواب:      اگر اس طرح ہے تو پاک ہوجائیں گے۔

سوال:     وہ بانس جو زمین اورگھروں میں گڑے ہوتے ہیں اگر وہ نجس ہوجائیںتو ان کا کیا حکم ہے؟

جواب:      ان کا حکم زمین والا حکم نہیں ہے، پس سورج ان کو پاک نہیں کرے گا۔

(۳)تیسرا مطہر

انسان کے جسم کے اندرونی حصہ سے اور حیوان کے جسم سےعین نجاست کا زائل ہوجانا۔

سوال:     محترم ابا جان، اس بارے میں ذرا مجھے مشال دے کر سمجھائیے۔

 جواب:     منہ کے اندر سے خون کا ختم ہوجانا، یا ناک کے اندر سے یا کان کے اندر سے عین نجاست کازائل ہوجانا پس خون کے رک جانے کے بعد منہ، ناک کان اور آنکھ وغیرہ پاک ہوجاتی ہے، پانی سے پاک کرنے کی ضرورت نہیں ۔

حیوان کا جسم بھی پاک ہوجائے گا پس جیسے مرغی کی چونچ سے لگا ہوا خون ناپید ہوجائے تو اس کی چونچ پاک ہوجائے گی اور اسی طرح جیسے ہی بلی کے منہ سے خون صاف ہوجائے اس کامنہ پاک ہوجائےگا۔

سوال:     اور اگر ٹیکے کی سوئی کو انسان یا کسی حیوان کے جسم میں داخل کیا جائے اور وہ جسم کے اندر خون سے بھرجائے تو کیا وہ نجس ہوجائے گی؟

جواب:      ہرگز نہیں،جس سوئی کو جسم کے اندر سے نکالا جائے اور وہ خون کی نجاست سے لت پت نہ ہوتو نجس نہیں ہوگی کیونکہ جسم کے اندر نجاست سے ٹکرانا نجاست کو متحقق نہیں کرتا۔

(۴)  (چوتھا مطہر) زمین

ہروہ چیز جس پر زمین کا اطلاق ہووہ مطہر (پاک کرنے والی) ہے جیسے پتھر، ریت، مٹی وغیرہ اور جو ایٹ یا سیمنٹ کا فرش ہو، یا تار کول وغیرہ یہ مطہرات میں نہیں ہیں اور زمین میں یہ شرط ہے کہ وہ خشک ہو اور پاک ہو۔

سوال:     کس طرح سمجھا جائے کہ زمین پاک ہے؟

جواب:       جب تک اس کے نجس ہونے کا علم نہ ہو وہ پاک ہے اور اس صورت میں وہ مطہر بھی ہے۔

سوال:      زمین کن کن چیزوں کو پاک کرتی ہے؟

جواب:      پاؤں کے تلوے، جوتے کے تلوے،، زمین پر چلنے یا اس پررگڑنے سے اس شرط کے ساتھ کہ چلنے یا رگڑنے کے سبب پاؤں یا جوتے کے تلوے سے نجاست زائل ہوجائے جب کہ یہ نجاست جوتے پاؤں کے تلوے میں نجس زمین سے لگی ہو یعنی زمین ہی سے ان پر نجاست لگی ہو، اگر اس کے علاوہ کسی اور چیزسے یہ دونوں نجس ہوئے ہوں تو پھر ایسی صورت میں زمین ان کو پاک نہیں کرے گی ۔

(۵)(پانچواں مطہر) تبعیت

سوال:     آپ تبیعت پر کوئی مشال بیان کیجئے؟

جواب:      وہ کافر جو نجاست کے حکم میں ہے، یعنی نجس ہے، اگر وہ اسلام لے آئے تو وہ پاک ہوجائے گا اور اس کی تبعیت میں اس کا چھوٹا بچہ کہ جو اپنے باپ کی بناپر تبعاً نجس تھا پاک ہوجائے گا۔ اسی طرح کافر دادا، دادی، ماں اگر اسلام لے آئیں تو ان کی تبعیت میں ان کا وہ چھوٹا بچہ بھی پاک ہوجائے گاجو تبعاً ان کی نجاست کی بناپر نجس تھا یہ حکم اس وقت ہے جب یہ چھوٹا بچہ ان لوگوں کی کفالت میں ہوکہ جو اسلام لا رہے ہیں یہ حکم اس کافر کے لیے نہیں ہے کہ جو اسی کارشتہ دار ہو اور اسی طرح اگر شراب سرکہ ہوجائے اور اس کی تبعیت میں وہ برتن پاک ہوجائے گا جس میں  شراب پڑی ہوئی تھی اور اگر میت کو تین غسل دے دیئے جائیں تو وہ پاک ہوجائے گی اور اس کی تبعیت میں غسل دینے والے کا ہاتھ اور وہ تختہ کہ جس پر اس کو غسل دیا گیا ہے اور وہ کپڑے کہ جس میں اس کو غسل دیا گیا ہے پاک ہوجائیںگے۔ اور نجس کپڑا جس کو قلیل پانی سے پاک کیا گیا ہے، پاک ہوجائے گا اور اس کی تبعیت میں دھونے والے کا ہاتھ بھی پاک ہوجائے۔

(۶)(چھٹا مطہر) اسلام

سوال:     اسلام کسی طرح پاک کرے گااور کس کو پاک کرے گا؟

جواب:      اسلام نجس کافر کو پاک کردے گا، پس وہ پاک ہوجائے گا اور اس کی تبعیت میں اس کے بال، ناخن اور جسم کے اعضاء جو اس کے کفر کی بنا پر نجس تھے وہ بھی پاک ہوجائیں گے۔

(۷)(ساتواں مطہر) بالغ مسلمان یا ممیز بچہ کا غائب ہونا۔

سوال:     مسلمان کی غیبت سے کیا مراد ہے؟

جواب:      وہ آپ سے جدا ہوجائے اور آپ اس کو نہ دیکھ سکیں ۔

سوال:     اور جب وہ غائب ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:      جب وہ غائب ہوجائے تو وہ پاک ہے اور اسکے ساتھ اس کی چیزیں اور اس کا ضروری سامان جیسے کپڑے، فرش، برتن، وغیرہ جن کی طہارت کااحتمال ہو وہ پاک ہیں۔

سوال:      ابا جان وضاحت کے لیے مثال دیجئے؟

جواب:       مثلاًآپ کے بھائی کا کپڑا نجس تھا اور وہ اس کو جانتا تھا یا وہ نہیں جانتا تھا مگر آپ جانتے تھے کہ اس کاکپڑا نجس ہے، چاہے وہ احکام شرعیہ کا پابند تھایا پابند نہ تھا پھر آپ کا بھائی غائب ہوگیا اور کچھ دیر بعد دوبارہ واپس آگیا اب آپ کو اس کے کپڑے کے پاک ہونے کا احتمال ہے تو کہا جائے گا کہ اس کا کپڑا پاک ہے۔

(۸)(اٹھواں مطہر) انتقال

انسان کا خون جب مچھر، پسو اور جوں وغیرہ کی غذا ہوجائے، یہ ایسے حشرات میں سے ہیں جن کا عرف عام میں کوئی خو ن و غیرہ شمار نہیں کیا جاتا۔جب یہ حیوان خون کو پیتا ہے تو اس کے پیٹ میں چلاجاتاہے، پھر آپ نے اس کو مار دیا پس اس کا خون آپ کے کپڑوں یا آپ کے جسم کو رنگین کردیتا ہے، وہ خون طاہر ہے۔

(۹)(نواں مطہر) استحالہ

سوال:           استحالہ سے کیا مراد ہے؟

جواب:      کسی چیز کا کسی دوسری چیز میں بدل جانے کانام استحالہ ہے فقط اس کے نام یا صفت میں تبدیلی نہ ہو یا فقط اس کے اجزاء متفرق نہ ہوں بلکہ کامل طریقہ سے وہ وہ کسی دوسری چیز میں تبدیل ہوجائے اور اب اس پر دوسری چیز کانام صادق آئے تو اس استحالہ کہتے ہیں۔

سوال:     مہربانی کر کے اس کی مثال بیان کریں؟

جواب:      نجس لکڑی مثلاً جب جل جائے اور راکھ ہوجائے تو اب یہ رکھ پاک ہے اور اسی طرح حیوان کے فضلات جب آگ میں جلانے کے لیے استعمال کئے جائیں اور چولہے میں راکھ ہوجائیں تو اب یہ راکھ پاک ہے اور اس طرح بہت سی مثالیں ہیں۔

(۱۰)دسواں مطہر

جو حیوان شرعی طریقہ سے ذبح کیا جائے اور اس کا خون طبعی مقدار کے مطابق نکل جائے، اب جو خون اس کے اندر باقی رہ گیا ہے اس پر ہم طہارت کا حکم لگائیں گے۔

(۱۱)(گیارہواں مطہر) انقلاب

شراب کا سرکہ میں بدل جانا،سرکہ جب تک اپنی خلقت کے درمیان شراب تھا تو اس وقت تک نجس تھا لیکن جیسے ہی شراب سرکہ میں بدل گئی وہ پاک ہوگئی۔

(۱۲)(بارہواں مطہر) نجاست کھانے والے حیوان کا استبراء۔

حلال گوشت حیوان کو انسان کے فضلہ کھانے کی عادت ہوجائے تو اس کاگوشت کھانا اور اس کا دودھ پینا حرام ہوجائے گا اور اسی طرح اس کا پیشاب،فضلہ، پسینہ اور اس کا جسم نجس ہوجائے گا۔

سوال:     پس نجاست خوار حیوان کا استبرا کس طرح کیا جائے گا؟

جواب:      اس کو نجاست کھانے سے اتنی مدت تک روکا جائے کہ پھر نجاست خور حیوان نہ کہا جائے بلکہ اس کو حیوان کہنا صحیح ہو۔

سوال:     بتائیے ؟ اس وقت اس کا کیا حکم ہوگا؟

جواب:      استبراء کے بعد اس کا گوشت، دودھ اور جو چیزیں اوپر بیان ہوئی ہیں یہ سب پاک سمجھی جائیں  گی۔

 

index