next

تقلیدپر گفتگو

back

 

میرے والد فرمانے لگے کہ اب ہم تقلید پر گفتگو شروع کرتے ہیں لیکن بحث شرو ع کرنے سے پہلے میں آپ کے لیے تقلید کے معنی بیان کرتا ہوں۔

تقلید

فکرو نظر کے بغیرکسی مسئلہ میں کسی مجہتد کی طرف رجوع کرنا تاکہ اگر وہ کسی چیز کو انجام دینے کی رائے دے تو اس کو کیا جائے، اورجس چیز سے بچنے کی رائے دے اس سے بچا جائے پس گویا کہ آپ کا عمل اس کی گردن میں مشل ہار کے ڈالاگیا ہے اعتبار سے کہ وہ خدا کے سامنےآ پ  کے عمل کا جواب دہ ہوگا۔

سوال:     ہم کیوں کر کسی کی تقلید کریں؟

جواب:      گزشتہ بحث میں آپ کو معلوم ہوگیا کہ شارع مقدس نے آپ کو حکم دیا ہے اور منع کیا ہے واجبات کا انجام دینا آپ کے لیے لازمی ہے اور محرمات سے منع کیا ہے، جن سے بچنا آپ کے لیے ضروری ہے۔لیکن کس چیز کا آپ کو امر کیا اور کس چیز سے آپ کو روکا؟ بعض اوامر آپ کے لئے شریعت میں ایسے واضح ہیں کہ آپ ان کو اکثر اپنی ضروریات اوراجتماعی زندگی کے درمیان سےمشخص کرسکتے ہیں۔اور بعض نواہی بھی) اس طرح واضح ہیں کہ آپ ان کو زندگی اور اپنے ماحول کے درمیان تمیز دے سکتے ہیں اور اسی طرح زیادہ سے زیادہ واجبات ومحرمات آپ پر اور آپ جیسوں پر مجہول اور نامعلوم رہتے ہیں میرے والد نے مزید فرمایا :

آپ جانتے ہیں کہ شریعت اسلامیہ نے آپ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو جمع کرلیا ہے ہر چیز کے لیے ایک حکم وضع کیا ہے پس آپ حکم شرعی کو کس طرح پہچانیں گے کیونکہ آپ اپنی زندگی کے مختلف دور سے گزررہے ہیں۔کس طرح معلوم ہوگا کہ یہ فعل شارع مقدس کے نزدیک حلال ہے۔۔ اس کو انجام دو اور یہ عمل شارع مقدس کے نزدیک حرام ہے اس سے دوری اختیار کرو۔

ذرا سوچیں؟ کیا آپ اپنی تمام ضروریات زندگی میں شرعی دلیلوں کی طرف رجوع کرسکتے ہیں تاکہ آپ ان سے اپنا شرعی حکم استنباط کرسکیں؟

ایسا کیوں نہیں ؟

اے فرزند: آپ کے زمانہ اور شریعت اسلامیہ کے آنے کے زمانہ میں بہت زیادہ فاصلہ ہے اور اس فاصلہ کی بناپر شریعت کی اکثر نصوص ضائع وبرباد ہو گئی ہیں۔

لغت اور تعبیر کے طریقہ وروش میں تبدیلی واقع ہوگئی ہے اور جھوٹی احادیث گڑھنے والوں نے اپنی بہت سی جعلی احادیث کو ہماری معتبر احادیث میں ملا دیا ہے جس کی بناپر حکم شرعی معلوم کرنے میں مشکل واقع ہوگئی ہے۔

پھر روایات کے نقل کرنے والوں کے لیے (اعتماد واطمینان ) احادیث کے جمع کرنے والوں  کی راہ میں ایک بڑی مشکل تھی۔

فرض کریں کہ آپ راویوں کی ان احادیث کو جنہیں انہوں نے نقل کیا ہے اور محفوظ کیا ہے، ان کی صداقت ووثاقت سے آپ مطلع ہوسکتے ہیں اور پھر وہ مفردات احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔۔۔ان کی دلالت انہیں معنی پر ہے کہ جن کو آپ نے مراد لیا ہے اور آپ اس کو اچھی طرح ثابت کرسکتے ہیں لیکن کیا آپ ایسا وسیع، اور عمیق علم رکھتے ہیں کہ جو ایک طویل مقدمہ کو چاہتا ہے۔۔اور ایک گہرا فکر وتدبر چاہتا ہے، تاکہ اس کے بعد جس کو آپ جاننا چاہتے ہیں یا جس کے بارے میں بحث کرنا چاہتے ہیں وہ آپ کو حاصل ہوجائے ۔

سوال:     پھر میں کیسے عمل کروں؟

جواب:      آپ اس عمل میں اس کے ماہرین (یعنی فقہاء) کی طرف رجوع کریں۔

اور ان سے اپنے احکام کو معلوم کریں، ان کی تقلید کریں، یہ چیز صرف فقہ ہی میں نہیں ہے بلکہ ہر علم میں یہ بات ہے، سائنس میں جو بھی نئے واقعات رونما ہوتے ہیں ان کے امتیاز کا سرچشمہ اس علم کا اسپیشلسٹ ہونا ہے ۔

اس حیثیت سے کہ ہر علم میں اس کا ایک ماہر اور استاد ہوتا ہے جب بھی کسی عمل میں اس کی حیثیت کے مطابق  کو ئی  حاجت درپیش ہو تو اس کے ماہرین کی طرف رجوع کیا جائے۔

میرے والد نے بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

ہم اس سلسلہ میں علم طب کی مثال پیش کریں گے، جب بھی آپ مریض ہوں گے خدا صحیح وسالم رکھے، تو آپ کیا کریں گے؟

میں طبیب کے پاس جاؤں گا اور اس سے اپنی  حالت کو بیان کروں گا تاکہ وہ مرض کی تشخیص کرنے کے بعد میرے لیے مناسب دوا تجویز کرے۔

میرا سوال یہ ہے کہ آپ خود کیوں نہیں اپنے مرض کی تشخیص کرتے؟

اور اپنے لیے دوا تجویز کرتے؟

میں کوئی طبیب تو نہیں ہوں۔

بس اسی طرح علم فقہ کا بھی یہی حال ہے آپ ایک ایسے فقیہ کی طرف رجوع کرنے کے متحاج ہیں کہ جو خدا کے اوا مرو نواہی پہچاننے میں ماہر ہے آپ کا اپنی مشکل شرعیہ کا اس کے سامنے بیان کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ کو اپنی بیماری کی حالت کو بیان کرنے کے لیے ایک ماہر طبیب کی ضرورت پیش ہوتی ہے۔بس جس طرح آپ طبیب کے مخصوص فن میں اس کی تقلید کے محتاج ہیں اسی طرح آپ فقیہ کےمخصوص فن میں اس کی نقلید کے محتاج ہیں ۔

جیسا کہ آپ ایک طبیب فاضل کے بارے میں جستجو کرتے ہیں کہ اپنے فن میں ماہر ہو، خصوصاً جب کہ مرض خطر ناک ہو پس آپ پر لازم ہے کہ ایک عظیم الشان فقیہ کے بارے میں جستجو کریں کہ جو اپنے فن میں ماہر ہو تاکہ اس کی تقلید کریں اور اس سے اپنا حکم شرعی حاصل کریں اور آپ زندگی کے ہر پہلو میں اس سے وابستہ ہیں تاکہ حکم شرعی آپ پر واضح ہوتارہے ۔

سوال:     میں کیسے پہچانوں کہ یہ شخص فقیہ ہے؟یا فقہاء میں اعلم اور افضل ہے؟

جواب:      میرے والد نے جواب دیتے ہوئے فرمایا :

دیکھو: میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔آپ کیسے پہنچانیں گے کہ یہ طبیب فاضل ہے یا اطباء میں اپنے مخصوص فن میں افضل ہے؟ تاکہ آپ اس کی طرف رجوع کرسکیں؟ اور اپنا جسم اس کے سپرد کرسکیں اور وہ جیسا مناسب سمجھے ویسا علاج کرے؟

میں نے والد کی خدمت میں عرض کیا:

 اس سلسلہ میں جو لوگ علم طب سے وابستہ ہیں یا جو اس کو جانتے ہیں، جواس میں تجربہ کار ہیں۔ ۔۔ ان سے معلوم کروں گا یا لوگوں میں جس کی شہرت زیادہ ہوگی اور اس علمی میدان میں جو بھی زیادہ شہرت رکھتا ہوگا اس کے ذریعہ اس کو پہچانوں گا۔

پس اس قاعدہ کے تحت آپ اس فقیہ اعلم کو بھی پہچان لیں گے۔

آپ کسی ایسے شخص سے سوال کریں جو واجبات کو لازمی طور پر انجام دیتا ہو اور محرمات کو ترک کرتا ہو جو قابل اطمینان ہوکہ جس میں علمی سطح پر اشخاص میں تمیز پیدا کرنے کی قدرت، معرفت اور عدالت زیادہ پائی جاتی ہو۔

یا جو لوگوں کے درمیان مشہور ہوکر یہ فقیہ ہے یا تمام فقہا ءمیں اس کی اعلمیت زیادہ مشہور ہو اس طرح جو چیز آپ کو اس کی شہرت، اس کی فقاہت اور اس کی اعلمیت کے بارے میں وثوق ویقین پیدا کرتی ہے۔

اور کیا جس کی تقلید ہم پر واجب ہے اس کی شخصیت کے معلوم ہو جانے کے بعد فقاہت کی شرط کے علاوہ کوئی اور شرط بھی ہے؟

آپ جس کے مقلد ہیں اس کو مرد، بالغ، عاقل، مومن ، عادل ،حی (زندہ) اور حلال زادہ ہونا چاہئے یعنی اس کی ولادت شرعی قانون وقواعد کے مطابق انجام پائی ہو اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس میں خطاء ونسیان اور غفلت زیادہ پائی جائے گی۔

بہت بہتر میں نے فقہاء اور تقلید کو اجمالی طور پر پہچان لیا ہے اب میرے اوپر کیا واجب ہے؟

آپ کے زمانہ کے فقہا میں جوا علم (سب سے زیادہ جاننے والا) ہو، اس کی تقلید کریں، اور مختلف چیزوں کے بارے میں جو بھی فتویٰ دے اس پر عمل کریں مشلاً آپ کے وضو کے احکام، غسل، تیمم، نماز روزہ، حج، خمس، زکوٰة وغیرہ ہیں جو بھی فتویٰ دے اس پر عمل کریں اسی طرح اپنے معالات مثلاً آپ کی خرید وفروخت،حوالہ،شادی بیاہ کھیتی باڑی اجارہ رہن،وصیت،ہبہ،وقف وغیرہ کے احکام میں اس کی تقلید کریں۔

میں اپنے والد کے ساتھ ان چیزوں میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور خدا، انبیاء کرام اور رسل پر ایمان وغیرہ کو بھی شامل کررہاتھا۔

ہرگز نہیں ۔۔۔اللہ پر اور اس کی توحید اور ہمارے نبی محمد  ﷺکی نبوت اور بارہ اماموں کی امامت اور قیامت پر ایمان، ان امور میں تقلید جائز نہیں ہے بلکہ واجب ہے کہ ہر مسلمان کا عقیدہ اصول دین میں ایسا یقینی ہوکہ جس میں کوئی شک وشبہ نہ ہو، اللہ پر قطعی ایمان ہو اور اس پر اپنی جدوجہد، کوشش اور فکری طاقت کے ذریعہ بحث ہو کہ جو اللہ نے بخشی ہے اور جس سے مکمل قناعت اور محکم یقین حاصل ہوتا ہے۔

سوال:     بہت خوب، کیا میرے لیے مناسب نہیں ہے کہ میں کسی فقیہ اعلم کی موجودگی میں کسی بھی فقیہ کی تقلید کروں؟

جواب:      ہاں ممکن ہے کہ اس شرط کے ساتھ کہ ان مسائل میں جن کی آپ کو ضرورت پڑتی ہے آپ کے مجہتد کے فتوؤں اور اعلم کے فتوؤں کے درمیان اختلاف کو آپ نہ جانتے ہوں۔

سوال:     اگر میں کسی اعلم کی تقلید کروں لیکن جس مسئلہ کی مجھے ضرورت ہے اس میں اس کافتوی نہیں ہے یا اس کا فتوی ہومگر میں نے اس کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کی ہو؟

جواب:      آپ اس مسئلہ میں کسی ایسے اعلم کی تقلید کریں کہ جو اس آپ کے اعلم کے بعد اعلم ہو یعنی علم میں اس کے بعد اعلم ہو۔

سوال:     اور جب باقی فقہاء علم میں برابر ہوں تو اس وقت میں کیا کروں؟

جواب:      پھر آپ اس کی طرف رجوع کریں جو دوسروں سے زیادہ متقی ہو جس رائے کے مطابق وہ فتویٰ صادر کرتا ہو، اس کی وہ رائے محکم اور ٹھوس ہو۔

سوال:     اور اگر ان میں بعض، بعض سے زیادہ متقی نہ ہوں تو؟

جواب: ممکن ہے کہ آپ کا عمل کسی کے بھی فتوی کے مطابق درست ہومگر بعض حالات میں آپ احتیاط پر عمل کریں اور کوئی حرج نہیں ہے کہ آپ کو اس احتیاط کے بارے میں کچھ بتادوں۔

بہت بہتر ،جب کہ میں طبیب کی طرف رجوع کرتاہوں تو اس کی رائے کو میں اپنی صحت کے ذریعہ پہچان لیتا ہوں اگر میری صحت نے مجھے اجازت دی تو میں اس کی طرف رجوع کروں گا۔

سوال:  آپ بتائیں کہ میں مسائل شریعت میں اپنے مجہتد کے فتوؤں کو کس طرح سمجھ سکتا ہوں؟ وہ کون سی اصل ہے کہ میں اس کے فتوؤں کو اس کے مطابق پرکھ سکوں؟ کیا میں ہر مسئلہ میں اسی مجتہد سے رجوع کرسکتاہوں ؟

جواب:       ہاں اگر آپ خود اس کے فتوؤں کو اسی سے معلوم کرسکتے ہیں تو اسی سے معلوم کریں یا پھر کسی ایسے شخص سے معلوم کریں جو اس کے فتوؤں کو نقل کرنے میں موثق ہو، امین ہو اور پوری معرفت رکھتا ہویا پھر  اس کی فقہی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے جیسے رسالہ عملیہ جب کہ اس کی صحت کا اطمینان بھی ہو، کہتے ہیں بہت اچھا ہے۔

اب میں اپنے مجہتد کے فتوے بیان کرنے میں آپ سے مدد چاہتا ہوں کیونکہ آپ ثقہ اور امین ہیں۔

میرے والد باوقار انداز میں مسکرائے اور انہوں نے اس جلسہ میں آنکھوں کے اشارہ سے سوال کیا۔

میں نے  عرض کیا کہ اس بحث کو نماز سے شروع کریں۔

فرمانے لگے کہ ٹھیک ہے اس جلسہ کو نماز سے شروع کریں گے اور پھر فرمانے لگے کہ  اگر انسان کی طہارت کسی بھی چیز سے ختم ہوجائے تو نماز طہارت چاہتی ہے۔

سوال:     وہ کون سی چیز ہے کہ جن سے انسان کی طہارت ختم ہوجاتی ہے؟

جواب:      انسان کی طہارت چند چیزوں سے ختم ہوجاتی ہے:

(۱)   وہ مادی امور کہ جو حو اس کے عمل انجام دینے کی بناپر واقع ہوتے ہیں، جیسے، نجاسات۔  

(۲)   وہ معنوی امور کہ جن کو حو اس ادراک نہیں کرسکتے، اگر ان کے اسباب میں سے کوئی ایک سبب ( حدث)صادر ہوجائے جیسےغسل جنابت یا حیض یا نفاس، یا استحاضہ یا مس میت، یا نیند، یا پیشاب کا نکلنا، یا پاخانہ، تاریخ کا خارج ہونا، ان سے وضویا غسل یا ان دونوں کا بدل، تیمم ٹوٹ جاتاہے۔

اور بحث کا پیکر ہم سے چاہتا ہے کہ نماز تک پہنچنے کے لیے ہم اپنی گفتگو کا آغاز نجاسات سے کریں پس پہلے آپ کو وہ (نجاسات) معلوم ہوجائیں پھر اس کے بعد جو ان کے مطہرات ہیں وہ معلوم ہوں تاکہ ہمارے جسم کی طہارت ہر اس چیز سے کہ جس سے جسم کی طہارت وپاکیزگی مخدوش ہوجاتی ہے محفوظ ہوجائے۔

پھر ہم گقتگو کریں گے اس حدث کے بارے میں کہ جس کے صادر ہونے سے وضو واجب ہوتا ہے یا تیمم چاہے وہ حدث پیشاب یا پاخانہ، یاریح یا نیند یا استحاضہ قلیلہ ہو یا ان کے علاوہ کوئی اور(حدث صادر) ہو۔

اور پھر حدث بمالو (حدث )کے اطراف وجوانب سے بحث کی جائے گی کہ اگر حدث صادر ہوجائے تو غسل کرنا واجب ہوگا یا اس کے بدلے تیمم واجب ہوگا،چاہے یہ حدث جنابت ہویا حیض یا استحاضہ یا نفاس یا مس میت ہو۔

ہر وہ چیز کہ جو نماز کے ذریعہ تقرب خدا کو روکتی ہے اور اس کے سامنے آتی ہے، اپنے راستہ سے اس کو رفع کرتے ہیں اس کے بعد خدا کے سامنے آتی ہے، اپنے راستہ سے اس کو رفع کرتے ہیں اس کے بعد خدا کے سامنے کھڑے ہونے کی لذت کے ساتھ تکبیر کہتے ہوئے،کلمہ پڑتھے ہوئے حمد کرتے ہوئے اور اس کی واحدانیت اور نعمتوں کا اقرار کرتے ہوئے شوق وشغف سے اس کاذکر اور اس سے دعا کرتے ہیں اس امید پر کہ وہ ہمیں ان لوگوں کے ساتھ قراردے کہ جنہوں نے اس کی ملاقات کے شوق سے پودے اپنے سینوں کے چمن میں لگادیئے ہیں اور اس کی  محبت کو اپنے دلوں میں پیوست کرلیا ہے۔

نماز کے بعد اپنی گفتگو میں ان چیزوں کو شامل کریں گے جو نماز کی طرح طہارت چاہتی ہیں مثلاً روزہ، حج وغیرہ۔

 سوال:    کیا ہم (اس کے بعد) پہلے نجاسات کو شروع کریں گے؟

جواب: ہاں ہم کل پہلے نجاسات کا ذکر کریں گے۔

 

index