back

تیمم پر گفتگو

next

جب میرے والد محترم نے فرمایا کہ آج تیمم کے سلسلہ میں گفتگو ہوگی، تومیں نے محسوس کیا کہ یہ لفظ تیمم میرے لیے کوئی انوکھی چیز نہیں ہے بلکہ میں اس سے مانوس ہوں، مگر میں اس کا وقت اور سبب نہیں جانتا تھا کہ تیمم کب اور کس وقت واجب ہوتاہے اور اس کا وقت اور اس کا راز کیا ہے؟

آج جب اس سلسلہ میں گفتگو ہوئی، تو مجھے اس کی صحیح علت معلوم ہوئی میں نے تیمم کے لفظ کو پہلے سنااور پڑھا تھا اور قرآن مجید میں تلاوت بھی کیا تھا یا مشہور قاریوں میں سے کسی قاری کو تلاوت کرتے ہوئے بھی سنا تھا میرے والد نے پہلے سے مجھے قرآن مجید پڑھنے کی عادت ڈالی تھی کہ جتنا مجھ سے ہوسکے اس کی قرات کروں لہٰذامیری تقریباً ہر روز یہ عادت اور روش ہوگئی کہ میں اس کا تلاوت کرکے اپنے ذہن قلب جگراور حافظہ کو معطر کرتا رہوں۔

قرآن کو پڑھ کراس میں تدبر کرتا ہوں اور اپنی رغبت وچاہت کو اس کی ہدایت کے مطابق انجام دیتا ہوں اور اپنی  انفرادی زندگی اور معاشرے میں اپنے خاندان والوں، اپنے دوستوں ، بھائیوں اور عزیزوں کے ساتھ اپنے روابط کو قرآن کی نہج کے مطابق انجام دیتا ہوں۔

لیکن میری رغبت اور الفت اس لفظ سے ظاہرہوجانے کے بعد بھی میں اس آیت کریمہ کو جس میں لفظ تیمم موجود ہے، نکال نہ سکا اور نہ اس سورہ کانام یاد آیا جس میں یہ آیت تیمم موجود ہے۔اس لئے میں نے آج کی بحث کے شروع میں اپنے والد سے یہ سوال کیا :

سوال:  ابا جان :جس سورہ میں یہ آیت تیمم موجود ہے مجھے یاد نہیں آرہی ہے؟

جواب:      وہ سورہ نساء ہے خداوند عالم نے ارشاد فرمایا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وان کنتم مرضی اوعلی سفر او جاء احد منکم من الغائط اولا مستم النساء فلم تجدوا ماء فتیممو؟مموا صعیدا طیبا فامسحوا بوجوھکم وایدیکم ان اللہ کان عفوا غفورا

اور جب کوئی بیمار ہو، یا حالت سفر میں ہو، یا کوئی رفع حاجت کرکے آئے یا عورتوں سے مقاربت کی ہو،اور پھر پانی نہ ملے، تو پا ک مٹی سے تیمم کرکے اپنے  چہرہ اور ہاتھوں کا مسح کرلو،بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور معاف کرنے والاہے

میں نے آیت کریمہ کا ذکر کیا جیسا کہ آپ نے سنا، اب تیمم کب، کس پر، اور کس طرح کریں ان میں سے سب کو الگ الگ بیان کریںگے۔

سوال:     ابا جان !تیمم کب کیا جاتاہے۔؟

جواب:      تیمم غسل یا وضو کا بدل ہے اور جن جگہوں میں دونوں کا بدل ہے وہ جگہیں یہ ہیں۔

(۱)   اتنا پانی موجود نہ ہو جس سے غسل یا وضوکرسکو تو اگرغسل کی حاجت ہو اور پانی بھی اتنانہیں ہو تو آپ غسل کے بدلے تیمم کر لیں اوراگرآپ نے وضو کرناتھا لیکن پانی وضو کے لیے بھی کافی نہیں ہے تو وضو کے بدلے تیمم کرلیں۔

(۲)   پانی موجود ہے لیکن اس تک پہنچنا آپ کے لیے آسان نہیں، اس عاجزی کی بناپر جو آپ کے گردقدرتی طور پر جمع ہوگئی ہیں مثلاًاللہ نے اس کے حصول پر قدرت نہیں دی یعنی پانی کے حاصل کرنے کے لئے اتنی طاقت نہیں ہے جس سے پانی حاصل ہوسکے مثلاً پانی گہرے کنویں میں یا اتنی دور ہے کہ چلنے ،جانے اورآنے میں بہت مشقت ہوتی ہو، یا پانی کا حاصل کرناکسی حرام کام کے ارتکاب پر موقوف ہو، جیسے اس غصبی برتن کا استعمال کرنا کہ جس میں وہ مباح پانی موجودہویا پھرپانی حاصل کرنے پر جان ومال اور ناموس کا خطرہ ہو۔

(۳)اپنی پیاس یا کسی ایسے شخص جس کی حفاطت اس سے مربوط ہو پیاس کا خطرہ ہو، بلکہ کسی اہم حیوان کاپیاس کی وجہ سے تلف ہو جانے کا خطرہ ہو اور آپ کے پاس اتنا پانی ہو کہ جو پیاس بجھانے اور وضوکرنے کے لئے کافی نہ ہو، تو پھر آپ تیمم کرلیں۔

(۴)   نماز کا وقت اتنا مختصر ہوکہ آپ وضویا غسل کے ساتھ نماز کو اس کے پورے وقت میں ادا نہیں کرسکتے تو پھر تیمم کرلیں۔

(۵)   جب وضو اور غسل کرنے کے لیے پانی کے حصول یا پانی کے استعمال میں ایسی مشقت وحرج ہو کہ جس کا تحمل کرنا مشکل ہو،جیسے پانی کا حاصل کرنا ذلت ورسوائی پر موقوف ہو، یا پانی اتنا متغیر ہو جس کی بنا پر آپ کی طبیعت اس سے کراہت کررہی ہو،تو آپ اس پانی کے استعمال میں دشواری محسوس کریں گے تو پھرایسی صورت حال میں تیمم کرلیں۔

(۶)   جب آپ کسی ایسے واجب فعل کے انجام دینے پر مکلف ہوں کہ جس میں پانی کا استعمال ہی ضروری ہو، جیسے مسجد سے نجاست کا دور کرنا اور پانی بھی کم ہوتو مسجد کو پاک کرنا ضروری ہے اور نماز کے لیے تیمم کرنا چاہیے۔

(۷)   جب غسل یا وضو میں پانی کے استعمال سے آپ کی جان کو ضرر پہنچنے کا خطرہ ہو یعنی پانی کے استعمال سے کوئی مرض پیدا ہوجائے یا آپ کی بیماری طولانی ، یا زیادہ ہوجائے یا آپ کا علاج مشکل ہو جائے اور بیماری ایسی بھی نہیں ہے کہ جس پر وضو جبیرہ یا غسل جبیرہ کیا جائے تو ایسی صور ت میں تیمم کرناضروری ہے۔

سوال:     یہ جبیرہ کیا ہے ؟

جواب:      آنے والی گفتگومیں اس کے بارے میں مفصل بات ہوگی ۔

سوال:     مجھے معلو م ہوگیا کہ تیمم کا کرنا کب لازم ہوتاہے، لیکن آپ مجھے یہ بتائیے کہ تیمم کس چیز پر ہوتا ہے؟

جواب:      تیمم زمین ، مٹی، ریت، پتھر، کنکری یا ان کے مشابہہ چیزوں پر ہوتا ہے، اس شرط کے ساتھ کہ یہ تمام چیزیں پاک ہوں اور غصی نہ ہوں۔

سوال:     میں کس طرح تیمم کروں؟

جواب:      میں آپ کے سامنے تیمم کرتا ہوں ، تاکہ آپ سیکھ لیں میرے والد نے میرے سامنے تیمم کرنا شروع کیا، پہلے ہاتھ سے انگوٹھی کو اتار کر دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو ایک ساتھ زمین پر مارا،پھر دونوں ہاتھوں کو ملاکر پیشانی اوراس کے دونوں طرف جس جگہ سے سر کے بال اگتے ہیں ابرؤں اور ناک کے اوپر والے حصہ تک کھینچااس کے بعد اپنی ناک کے اوپر سے ہاتھوں کو ہٹا کر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائیں ہاتھ کی پوری پشت پر کلائی سے انگلیوں کے سرے تک کھینچا۔

سوال:     کیا اتنی جلدی اور اتنی آسانی کے ساتھ تیمم تمام ہوجاتاہے؟

جواب:      ہاں، صرف تیمم ہی سہل اور آسان نہیں ہے بلکہ خداوند متعال کا ارشاد پاک ہے۔

یرید اللہ بکم الیسرولایرید بکم العسر

یعنی خدا وند متعال آپ کے لیے آسانیاں چاہتا ہے نہ کہ سختیاں

سوال:     کیا تیمم کی کجھ اور بھی شرائط ہیں؟

جواب:      ہاں، اور بھی شرائط ہیں۔

 (۱)  ایسا کوئی عذر لاحق ہوکہ جس کی بناپر آپ غسل یا وضو نہیں کرسکتے،جیسا کہ گزشتہ بیان میں بتایا جاچکا ہے۔

(۲)   تیمم کی نیت قربتہ الی اللہ ہونی جاہیے۔

(۳)   جس چیز پر تیمم کیاجارہا ہے وہ پاک ہو،غصبی نہ ہو،کوئی ایسی چیز اس میں ملی ہوئی نہ ہوکہ جس پر تیمم کرنا صحیح نہ ہو۔

(۴)   لہٰذا جس چیز پر تیمم کیا جارہا ہے، اس کا کچھ اثر آپ کے ہاتھوں پر باقی رہے، الہٰذا ایسے پتھرپر کہ جس پر غبارنہ ہو تیمم کرنا صحیح نہیں ہے۔

(۵)   پیشانی پر ہاتھوں کواوپر سے نیچے کی طرف کھینچنا چا ہئے۔

(۶)   جب آپ تیمم ،نماز یا کسی ایسے دوسرے واجب کے لیے کررہے ہیں کہ جس کا وقت معین ہے، تویہ تیمم اسی وقت صحیح ہے، جب کہ وقت ختم ہونے  سے پہلے عذر کے ختم ہوجانے کی امید نہ ہو۔

(۷)   آپ حتی الامکان تیمم خود کریں۔

(۸)   افعال تیمم پے درپے ہوں، ان کے درمیان عرفاًفاصلہ نہ ہو۔

(۹)   تیمم کرتے وقت آپ کے ہاتھوں اور پیشانی کے درمیان کوئی چیز حائل اور مانع نہ ہو مثلاًانگوٹھی وغیرہ۔

(۱۰)  تیمم میں پہلے پیشانی پر مسح کریں،پھربائیں ہاتھ کی پشت سے پہلے دائیں ہاتھ کی پشت پر مسح کریں۔

سوال:     بیماری کی وجہ سے غسل یا وضو کے لیے پانی کے استعمال سے معذوری کی بناپر میں نے تیمم کرکے نمازپڑھ لی پھرمیں ڈاکڑکے پاس  گیا اس نے پانی کے استعمال کی اجازت دے دی اور ابھی نماز کا وقت باقی تھا تو میرے لیے کیا حکم ہے؟

جواب:      آپ کی نماز صحیح ہے اس کا دوبارہ پڑھنا آپ پر واجب نہیں ہے جب کہ آپ کا تیمم شرعی طریقہ سے درست ہوکیونکہ آپ نے جو تیمم کیا وہ وقت کے اندر عذر کے ختم ہونے کی ناامیدی کی بناپرکیا تھا۔

سوال:     ڈاکڑ نے بیماری کے دنوں میں مجھے پانی کے استعمال سے منع کیا میں نے تیمم کرکے نماز پڑھ لی،پھر اس نے مجھ کو پانی کے استعمال کی صحیح وسالم ہونے کے بعد اجازت دے دی پس کیا میں اپنی ان نمازوں کا دوبارہ اعادہ کروںگا جن کو میں نے پچھلے دنوں تیمم سے پڑھا ہے۔

جواب:      ہرگز نہیں،آپ پر ان کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہے۔

سوال:     نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد میں نے تیمم کرکے نماز پڑھ لی،اب دوسری نماز کا وقت آ      گیا، اور میرا عذر ختم نہیں ہوا، کیا میں دوسری مرتبہ اس نماز کے لیے تیمم کروں؟

جواب:      نہیں جب تک عذر باقی ہے، دوسرے تیمم کی ضرورت نہیں ہے، اور آپ پر زوال عذر کا انتظار بھی لازم نہیں ہے، کیونکہ آپ تیمم کے بعد ان چیزوں سے محفوظ ہیں۔

سوال:     میں نے غسل جنابت کے بدلے تیمم کرلیا کیا پھر نماز کے لیے وضو کروںگا؟

جواب:      ہرگز نہیں،اس تیمم کے بعد آپ کو غسل اور وضو کی حاجت نہیں ہے۔

سوال:     میں نے غسل کے بدلے تیمم کرلیا، پھر میں بیت الخلاء گیا، یا سوگیا،کیا اس صورت میں ،میں دوسری مرتبہ وضو کے بدلے یا غسل کے بدلے تیمم کروں گا۔؟

جواب:      اگر آپ وضو کرسکتے ہیں تو وضو کرلیں ، ورنہ وضو کے بدلے تیمم کریں۔

سوال:     جب میں بائیں ہاتھ کے تیمم میں مشغول ہوں، اس وقت پیشانی کے تیمم یا دائیں ہاتھ کے تیمم میں شک کروں تو اس کا کیا حکم ہے۔؟

جواب:      اس صورت میں اپنے شک کی پروانہ کریں۔

سوال:     اور اگر ان دونوں پیشانی یا اپنے ہاتھ کے تیمم کے سلسلہ میں تیمم کرنے  کے بعد شک کروں تو پھر؟

جواب:      اسی طرح اپنے شک کو کوئی اہمیت نہ دیں ۔

 

index