جبیرہ پر گفتگو

back

 

 

جب گفتگو کا موقعہ آیا تو میں نے اپنے والد محترم  سے عرض کی کہ آپ نے کل مجھ سے جبیرہ کے بارے میں تذکرہ کیا تھا لہٰذا آج کی بات چیت جبیرہ کے بارے میں ہونا چاہیے۔

والد: بالکل صحیح ہے جب آپ زخم یا پھوڑے یا ٹوٹے ہوئے عضوپرکوئی چیزباندھیں تو اس کو فقہی اصطلاح میں جبیرہ کہتے ہیں ۔

سوال:     میں زخم ، اورٹوٹے ہوئے عضو کو سمجھ گیا لیکن قرح کیا چیز ہے؟

 جواب:     قروح وہ پھوڑے اورپھنسیاں ہیں کہ جو بدن میں نکلتی ہیں ۔

سوال:     جبیرہ کی موجود گی میں کس طرح غسل یا وضو یا تیمم کروں گا؟

جواب:      اگر آپ جبیرہ کو بغیر کسی ضررونقصان کے ہٹا سکتے ہوں تو ہٹالیں اور غسل کرلیں،یا اس کے نیچے سے مسح کرلیں،اس جہت سے کہ جو آپ پر واجب ہے اس کے اعتبار سے انجام دیں یعنی غسل واجب ہے تو غسل کرلیں،وضویا تیمم واجب ہے تو اس پر ہاتھ پھیر لیں۔

سوال:     اگر اس جبیرہ کا ہٹانا ضرروحرج کی بناپر ممکن نہ ہوتو ؟

جواب:      جبیرہ کے اطراف کا حصہ جتناآپ دھوسکتےہیں دھولیں اور پھر جبیرہ پر ہاتھ پھیرلیں، کیونکہ یہ عوض ہے اس چیز کا جو جبیرہ نے ڈھانپ رکھاہے۔

(۱)   جبیرہ کا وہ ظاہری حصہ جس پر آپ نے اپنا تری والا ہاتھ پھیراوہ پاک ہو، اورجو نجاست جبیرہ کے اندر زخم کی بناپر لگی ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

(۲)   جبیرہ غصبی نہ ہو۔

(۳)   جبیرہ کے زخم کا حجم ٹوٹے ہوئے عضو کی مقدار کے مطابق (جو عام طریقہ سے ہوتا ہے) ہونا چاہیے ۔

سوال:     اگر جبیرہ کا حجم زخم کے حجم سے بڑا ہوتو؟

جواب:      اس زیادہ مقدار کو ہٹا کر اس کے نیچے والے حصہ کو دھولیں یا اس پر ہاتھ پھیرلیں جیسا کہ اس کا موردہو ویسا ہی انجام دیں۔

سوال:     اگر جبیرہ ہٹانا ممکن نہ ہویا پھر زخم والی جگہ سے اس کا ہٹانا نقصان دہ ہوتو اس وقت کیا کیا جائے ؟

جواب:      آپ نہ ہٹائیں اور جبیرہ پر ہاتھ پھیرتے وقت وضو کرلیں۔  

سوال:     اگر اس جبیرہ کا ہٹانا (کہ جس کی مقدارزائد ہے)سالم جگہ کے لیے نقصان دہ ہو اور زخم والی جگہ کو ضرر ہوتو اس وقت کیا کیا جائے؟

جواب:      اگرجبیرہ تیمم والے اعضاء پر نہ ہوتو تیمم کے بدلے وضو کرلیںاوراگر اعضائے تیمم پر جبیرہ ہو تو وضو اورتیمم دونوں کرلیں ۔

سوال:     اگر جبیرہ میرے تمام چہرے یا پورے ہاتھ یا پیر پر ہو تو میں کس طرح وضو کروں؟

جواب:      جبیرہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وضو کرلیں۔

سوال:     اور اگر جبیرہ تمام اعضا یا اکثر اعضا پر ہوتو؟

جواب:      آپ جبیرہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وضو اور تیمم دونوں کو جمع کرلیں یعنی دونوں کو انجام دیں۔

سوال:     اگر میرے چہرے یا ہاتھ پر ایسا زخم یا پھوڑا، جو کھلا ہوا، باندھا نہ گیا ہو اور ڈاکڑ نے اس پر پانی کا استعمال منع کردیا ہوتو پھر میں کس طرح وضو کروں؟

جواب:      اس کے اطراف کو دھوئیں اور زخم والی جگہ کو نہ دھوئیں۔

سوال:     مثلاً میرے چہرے یا ہاتھ کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا اور وہ کھلا ہوا ہو اور  پانی کا استعمال اس کو ضرر بھی دیتا ہو، اور اس جگہ زخم بھی نہیں ہے تو میں کس طرح وضو کروں؟

جواب:      آپ و ضو کے بدلے تیمم کریں۔

سوال:     اورا گرکھلا ہوا زخم مسح کرنے کی جگہ مثلاً سریا پاؤں میں ہو، اور پانی بھی ا س کو ضرر پہنچاتا ہو میں کس طرح وضو میں مسح کروں۔؟

جواب:      آپ تیمم کریں۔

سوال:     اگر میں غسل کرنا چاہوں اور میرے جسم کے کسی حصہ میں زخم یا پھوڑا ہو اور وہ زخم یا پھوڑا کھلا ہوا ہو تو کیا کروں؟

جواب:      پھوڑے پھنسی کی جگہ کو چھوڑ کر باقی حصہ کو دھوئیں یا پھر تیمم کرلیں اس بارے میں آپ کو اختیار ہے۔

سوال:     اور اگر میرے جسم کا کوئی حصہ ٹوٹا ہوا ہو تو میں غسل کس طرح کروں؟

جواب:      غسل کے بدلے تیمم کریں۔

تمام شد  جلد اول

 

index