next

غسل پر گفتگو

back

 

 

میرے بابا نے کہا کہ ہم آج غسل کے سلسلہ میں گفتگو کریں گے اور میں نے اس گفتگو کے آخر میں جو کچھ سیکھا، اس پر میں بہت خوش ہوا جو کچھ میں نے حاصل کیا اس پر میں پھولے نہ سمایا تھا پس میں اس پانی کے ذریعہ اپنے جسم کی گندگی کو پاک وصاف کرتاہوں نیز یہ کہ میرا پانی سے محبت کرنا اور اس سے عشق ولگاؤ ایک علیحدہ مزے کی بات ہے کیونکہ پانی سے میرا عشق دائمی  ہے اور میں بچپنے سے اسے عزیز رکھتا ہوں۔

میں اپنی مہربان ماں کے ساتھ پانی سے کھیلتا، اور جب مجھے موقع ملتا میں غوطہ خوری کرتا اور کبھی اسے اپنے چہرے پر چھڑک کرخوشی محسوس کرتا اور اس سے کھیل کر اپنے دل کو بہلاتا اور میں نے ارادہ کررکھا تھا کہ مجھے فرصت کی گھڑیاں نصیب ہوںگی تو میں تیرنا ضرور سیکھوں گا۔جیسا کہ میرے والد نے فرمایا کہ پیرا کی سیکھنا مستحب ہے، میں پانی کی چاہٹ کا بہت پیاسہ تھا جب بھی مجھے پانی کے ساتھ کھیلنے سے روکا جاتا تو پانی بن مچھلی کی طرح ہوجاتا اور اس کو اپنے سینے پر جھڑک کر اس سے حرارت قلبی محسوس کرتا۔

ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ پانی سے مجھے محبت ہے، اور میں اس کا عاشق ہوں، جب سے مجھ پریہ منکشف ہوا ہے کہ پانی پاک کرنے والا اور صاف کرنے والا ہے اور یہ پڑھا

النظا فۃ من الایمان

نظافت ایمان کا حصہ ہے تو  میں اس وقت سے اپنے جسم کو اس سے دھوتا ہوں اور اس سے غسل کرتاہوں۔

آج میرے والد نے مجھے بتایا کہ میں کس طرح غسل کروں،

میرے والد نے فرمایا کہ غسل کی دوقسمیں ہیں:

ارتماسی اور ترتیبی

سوال:     ارتماسی کسے کہتے ہیں؟

جواب:      آپ کے جسم کا پانی میں ایک مرتبہ ڈوب جانا، یہ غسل ارتماسی کہلاتا ہے اس کے یہ ظاہری معنی ہیں اس کا مفہوم بعد میں وضاحت کے ساتھ بیان کروںگا۔

سوال:     غسل ترتیبی کسے کہتے ہیں؟

جواب:      پہلے آپ اپنے سر اور گردن اور جو چیز اس سروگردن سے متصل ہے اس کو دھوئیں، اور کان کے دھونے کو نہ بھولنا دونوں کا ظاہری حصہ دھونا ضروری ہے، اندرونی حصہ دھونا ضروری نہیں ہے۔

پھر آپ اپنے جسم کے دائیں حصہ کو دھوئیں اور کچھ اس حصہ کو بھی دھولیں جو گردن سے متصل ہے اور کچھ بائیں حصہ کو بھی دھولیں پھر آپ اپنے بائیں اور کچھ اس حصہ کو جو گردن سے ملا  ہوا ہے اور کچھ دائیں حصہ کو د ھو لیں سراور گردن کے دھونے کے بعد بدن کا ایک ہی مرتبہ دھونا جائز ہے۔

سوال:     کیا غسل کے لیے کچھ اور شرائط بھی ہیں؟

جواب:      جو شرائط وضو میں ہیں وہ غسل میں بھی ہیں(۱)نیت (۲)پانی کا پاک ہونا۔(۳)پانی کا مباح ہونا (۴)پانی کا مطلق (خالص) ہونا(۵)اور بدن کا نجاست سے پاک ہونا (۶)اعضائے غسل میں ترتیب کا ہونا اگر غسل کرنے والا اپنا غسل خود کرسکتا ہوتو غسل خود کرنا اور پانی کا استعمال شرعی طور پر مضر نہ ہو مثلاً مرض کا ہونا وضو کی گفتگو میں ملاحظہ کیجئے۔

لیکن غسل اوروضوسے دوچیزوں میں اختلاف فرق ہے، آپ ان دو چیزوں پر غور کریں؟

سوال:     وہ دو چیزیں کیا ہیں؟

جواب:       غسل میں یہ شرط نہیں ہے کہ ہر عضو کو وضو کی طرح اوپر سے نیچے کی طرف دھویاجائے۔

وضو کی طرح غسل میں موالات شرط نہیں ہے پس آپ سر اور گردن دھونے کے بعد اپنے باقی جسم کو کچھ دیر بعددھوسکتے ہیں، چاہے آپ کا سر خشک ہی کیوں نہ ہوجائے،جیسا کہ آپ وضو میں اپنے چہرہ کو دھو ئیں گے تو جب تم بھنووں کے بالوں پر پہنچیں گے توصرف ان کا اوپر والا حصہ دھوئیں اور جب آپ اپنے سرکا مسح کریں تو صرف بالوں کے اوپر والے حصہ پر مسح کریں جلد تک پانی کا پہنچنا ضروری نہیں ہے لیکن غسل میں واجب ہے کہ پانی کو سرکی کھال تک پہنچایا جائے اسی طرح دونوں بھنوؤں،مونچھ اور ڈاڑھی کے بالوں میں بھی یہی حکم ہے۔

سوال:     اس کے بعد کیا حکم ہے؟

جواب:      غسل جنابت کے بعد وضو کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال:     اس کے معنی یہ ہیں کہ جب میں نماز کے لیے غسل کرو ں توپھر مجھے غسل کے بعد وضو کی ضرورت نہیں ہے؟

جواب:      ہاں غسل کے بعد فوراً بغیر وضو کے نماز پڑھ لو اسی طرح اگر آپ پر چندغسل واجب ہوگئے ہیں جیسے غسل جنابت اور غسل جمعہ تو جائز ہے کہ ایک غسل کو باقی غسلوں کے قصد سے کرلو اور اگر غسل جنابت کی خصوصاً نیت کرلی تو پھر دوسرے غسل کرنے کی ضروت نہیں ہے ہاں اگر آپ نے غسل جمعہ کی خصوصاًنیت کی ہے، تو یہ غسل آپ کو دوسرے غسل کرنے سے مستغنی نہیں کر سکتا۔

سوال:     کسی عورت کو غسل جنابت، غسل حیض اور غسل جمعہ کی ضرورت پڑجائے تو وہ کیا کرے  ؟

جواب:      وہ تمام غسلوں کی نیت سے ایک غسل کرسکتی ہے، یا وہ غسل جنایت کی نیت کرے، تو پھر دوسرے غسل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، سوائے غسل جمعہ کے جیسا کہ آپ کو اس سے پہلے والے سوال وجواب میں بتا دیا گیا ہے۔

میرے والد نے مزید فرمایا : میں آپ کو کچھ چیزیں بتاتا ہوں کہ جن کا غسل کرنے میں لحاظ کرنا ضروی ہے:

آپ کو غسل سے پہلے یہ یقین ہوجانا چاہیے کہ جو جسم پر منی کا اثر تھا وہ ختم ہوگیا ہے یعنی جسم پر منی کی جو نجاست تھی پہلے اس کو دور کرکے جسم کو پاک کرنے کے بعد یقین ہوجائے کہ اب منی کا کوئی اثر باقی نہیں رہا، پھر اس کے بعد غسل کی نیت  کرکے غسل کو پورا کریں۔

(۲)   غسل کرنے سے پہلے پیشاب کیا جائے تاکہ پیشاب کے ساتھ باقی رہنے والی منی نکل جائے۔

(۳)   جو چیزیں بدن تک پانی پہنچنے سے مانع ہوتی ہیں، ان کو دور کیا جائے جیسے چکنائی اور اگر اس کے دور کرنے سے معذور ہویا اس کو دور کرنا آپ پر مشکل ہو تو غسل کے بدلے تیمم کرلیں اور اگر وہ مانع، تیمم کے اعضا میں ہوتو پھر غسل اور تیمم دونوں کرلیں۔

(۴)   اگر غسل کے بعد کسی عضو کے صحیح دھونے میں آپ کو شک ہو جائے کہ فلاں عضو کو صحیح دھویا تھا یا نہیں تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور دوبارہ غسل کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

اور اگر آپ کو تمام سراور گردن کے دھونے میں شک ہو جائے اور آپ بھی بقیہ جسم کو دھونے میں مشغول ہیں تو آپ پر دوبارہ لوٹنا لازم ہے تاکہ جو مشکوک مقدار ہے اس کو دھوکر تدارک کرلیں۔

سوال:     غسل جنابت، حیض، نفاس، استحاضہ، میت اور مس میت، یہ تمام کے تمام واجب غسل ہیں جیسا کہ اس سے پہلے آپ نے بیان فرمایا، لیکن میں نے غسل کی بحث میں ایک غسل کو سنا، جس کا آپ نے نام غسل جمعہ بتایا کیا اور بھی ایسے غسل ہیں کہ جن کا تذکرہ آپ نے مجھ سے نہ کیا ہو؟

جواب:      ہاں اور بھی دوسرے بہت سے غسل ہیں، لیکن وہ سب مستحب ہیں، واجب نہیں ہیں ان میں سے کچھ کی تفصیل اس طرح ہے۔

(الف) غسل جمعہ جو کہ سنت موکدہ ہے اور اس کا وقت صبح سے لے کر مغرب تک ہے اور زوال سے پہلے انجام دینا افضل ہے۔

(ب)   غسل احرام ہے۔

(ج  )       غسل عیدین (عیدالفطر اور عیدالاضحی) اور ان دنوں کا وقت صبح سے لے کر مغرب تک ہے اور نماز عید سے پہلے ان کا بجالانا افضل ہے۔

(د)    ۸۔۹/ذی الحجہ اور ۹ ذی الحجہ کے دن غسل زوال کے وقت بجالانا افضل ہے۔

(ھ)   ماہ رمضان کی پہلی، سترہویں، انیسویں، اکیسویں، اور چوبیسویں رات کا غسل افضل ہے

(و)    استخارہ کا غسل ۔

(ز)    نماز استقاء کا غسل۔

(ح)   مکہ میں داخل ہونے کا غسل ۔

(ط)   زیارت کعبہ شریف کا غسل۔

(ی)  مسجد نبوی  میں داخل ہونے کا غسل ۔

یہ وہ غسل ہیں کہ جن کے بعد وضو کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کے علاوہ اور بھی بہت سے غسل ہیں کہ جن کی اس مختصر کتاب میں گنجائش نہیں  ہے بعض غسل ایسے ہیں کہ جن میں وضو کی ضرورت ہے اور یا وہ ہیں کہ جن کا استجاب کسی معتبر دلیل سے ثابت نہیں ہے اور ہم صرف ان کو رجاء مطلوبیت کی بجالاتے ہیں۔

سوال:     میرا ایک آخری سوال باقی رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ اگر میں جنابت کے بعد پیشاب کا استبراء نہ کروں اور پیشاب ہی نہ کروں، اور غسل کرکے تمام چیزوں کو انجام دے لوں اس کے بعد منی خارج ہوجائے اگر چہ ایک ہی قطرہ کیوں نہ ہو اس کا کیا حکم ہے۔؟

جواب:      آپ کے اوپر دوبارہ غسل واجب ہے چاہے وہ منی بغیر شہوت اور بغیر تحریک کے نکلے۔

اس طرح آپ کے اوپر دوبارہ غسل اس وقت واجب ہے جب کہ آپ کو معلوم ہو کہ یہ نکلنے والی چیز منی ہے اگرچہ وہ پہلی صورت (جو بیان ہوئی اس کے)بغیر نکلے۔

 

index