back

وضو پر گفتگو

next

 

 

آج میرے والد نے کہا کہ میں آپ سے وضو کے بارے میں گفتگو کروں گا اس کے بعد غسل اور تیمم کے سلسلہ میں گفتگو کروں گا میں نے اپنے  دل میں کہا کہ باب اول میں مجھ کو اس پہلے مطہر کے بارے میں بتایا جائےگا، جس سے جسم کی طہارت حدیث کے ذریعہ زائل ہوجاتی ہے۔

اورآپ کو مختصر طور پر اس حدث کے بارے میں بتایا گیا ہے جس کی بناپر جسم کی وہ طہارت ختم ہوجاتی ہے کہ جو اس کو پہلے حاصل تھی ۔

اور جب مجھے یہ یاد دھانی کرائی گئی تو اس وقت میں نے طے کیا کہ اس سوال کو اپنے والد کے سامنے بیان کروں وہ ابھی میرے سامنے تشریف فرما ہیں ۔

سوال:     ہم وضو کیوں کریں؟

جواب:      اس لئے کہ ہم نماز پڑھیں مثلاًیہ کہ ہم بیت اللہ الحرام کے حج اور عمرہ میں طواف کریں۔

کہ ہمارے لیے قرآن کے حروف اللہ کے ناموں اور اس کی خاص صفات مثلاً خالق ورحمن کا چھونا جائز ہوجائے۔

سوال:     ہم طبعی  طور پر پانی سے وضو کرتے ہیں۔لیکن کیا اس پانی کی بھی کچھ شرائط ہیں۔

جواب:      ہاں: اس پانی کی بھی کچھ شرائط ہیں۔

(۱)   وہ پانی پاک ہو، اور آپ کے تمام اعضائے وضو بھی پاک ہوں، اور تطہیر کے لیے کافی ہے کہ پانی اس طرح ڈالا جائے کہ وہ تمام اعضائے وضوتک پہنچ جائے۔

(۲)   پانی مباح ہو(غصبی نہ ہو) اور اسی طرح وہ جگہ بھی جہاں بیٹھ کروضو ہورہا ہے مباح ہو اور ضروری ہے کہ وضو کی جگہ مباح ہونے کی شرط کو جان لیا جائے کہ جب وضو کی جگہ کا انحصار غصبی جگہ میں ہو یعنی غصبی جگہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ وضو ممکن نہیں )تو پھر وضو ساقط ہے۔

اور آپ پر تیمم کرنا واجب ہے، لیکن اگر آپ نے حکم کی مخالفت کی اور اس غصبی جگہ میں وضو کرلیا تو وضو صحیح ہے لیکن آپ گنہگار ہوں گے۔

(۳)   پانی مطلق ہو،مضاف نہ ہو جیسے جاری پانی، یا برتن کا پانی جس کو آپ پیتے ہیں، انار کا پانی نہ ہو،

سوال:     میں کس طرح وضو کروں؟

جواب:      قربۃًالی اللہ وضو کی نیت کے بعدشروع کریں۔

پہلے: اپنے چہرہ کو لمبائی میں پیشانی سے اوپر بالوں کے اگنے کی جگہ سے ٹھوڑی تک اور چوڑائی میں جتنا حصہ انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کے درمیان آجائے دھولیں۔پس آپ اپنی پوری ہتھیلی کھولیں اور اس کو اپنے چہرہ پر رکھیں ، آپ چہرے کے جتنے حصہ کو آپ کی ہتھیلی انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کے درمیان لےلے اتنے حصہ کا دھونا چوڑائی میں واجب ہے۔

اس کا لحاظ کرتے ہوئے کہ چہرہ کو اوپر سے نیچے کی طرف دھویا جائے گا، یاد رہے کہ گھنے اور زیادہ بالوں میں (بالوں کی جڑوں تک) پانی پہنچانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

دوسرے: آپ اپنے ہاتھوں کو کہنی سے لے کر انگلیوں کے سرورں تک دھوئیں پہلے دایاں ہاتھ پھر بایاں ہاتھ،اوپر سے نیچے کی طرف انگلیوں کے سرے تک۔

سوال:     کہنی کسے کہتے ہیں؟

جواب:      ہاتھ اور بازو کی دونوں ہڈیوں کے جوڑکو کہنی کہتے ہیں۔

تیسرے: دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے سرکے آگے والے حصے کا مسح کریں اور مسح اوپر سے نیچے کی طرف کیا جائے اور سر کے آگے کے بالوں پر مسح کرنا کافی ہے، کھال پر مسح کرنا واجب نہیں ہے۔

چوتھے:دونوں پاؤں کا مسح ہے کہ انگلیوں کے سرے سے پاؤں کے ابھرے ہوئے حصہ تک، پہلے داہنے پاؤں  کا مسح داہنے ہاتھ کی تری سے، پھر بائیں پاؤں کا مسح بائیں ہاتھ کی تری سے کیا جائے گااور نئے پانی سے مسح کرنا جائز نہیں ہے، جس طرح کہ بائیں پاؤں کا مسح دائیں پاؤں سے پہلے کرنا جائز نہیں ہے۔

نیچے دئیے گئے بیان کی روشنی میں ملاحظہ کر یں:

الف ۔ترتیب

چہرے کے دائیں ہاتھ کے دھونے سے پہلے دھوئیں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ سے پہلے دھوئیں اور کا مسح سے پہلے کریں۔

ب۔ موالات

اس سے مرادافعال وضو کو ایک دوسرے کے بعد بجالانا ہے، اگر حالات ایسے پیدا ہوجائیں کہ جس سے افعال وضو کے درمیان فاصلہ واقع ہوجائے، مثلاًپانی ختم ہوجائے،یا بھول جائے، تو ایسی صورت میں جس عضو کو دھورہا ہے، یا مسح کررہا ہے اس سے پہلے والے اعضاء کہ جن کو دھوچکا ہے، یا مسح کرچکا ہے خشک نہ ہوئے ہوں تو یہ کافی ہے(وضو ایسی  صورت میں صحیح ہے) اور اگر تمام اعضا ء خشک ہوچکے ہوں تو وضو باطل ہے یہاں یہ اشارہ کرنا مناسب ہے کہ اگرہوا کی گرمی یا حرارت جسمانی کی بناپراعضاء خشک ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے جب کہ اعضاء وضو کو دھونے میں عرفاًفاصلہ نہ ہوا ہو تو وضو صحیح ہے۔

جواب:      امکان کی صورت میں اپنا وضو خود کریں کسی سے مدد وغیرہ نہ لیں۔

سوال:     اگر میں اپنا وضو خود نہ کرسکوں تو؟

جواب:      اگر آپ وضو کرنے پر قدرت نہیں رکھتے توپھر آپ کسی دوسرے سے مددلے سکتے ہیں، اس طرح کہ وہ آپ کے ہاتھ کو بلند کرکے اس کے ذریعہ آپ کا چہرہ دھوئے، پھر آپ کے ہاتھوں کو دھوئے، پھر آپ کے دائیں ہاتھ سے آپ کے سر کا مسح کرائے، پھر دونوں پاؤں کا مسح، دونوں تری والے ہاتھوں سے کرائے۔

(د)۔وضو کا پانی  جلدتک پہنچنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو، جیسے رنگ یا انگوٹھی وغیرہ ۔

  (ھ)۔کوئی ایسا سبب پیش نہ آئے جو پانی کے استعمال کے لیے مانع ہو، جیسے کوئی مرض، اگر کوئی اور مانع درپیش ہوتو پھر آپ پر وضو کے بدلے تیمم واجب ہے۔

سوال:     اگر میں نے پہلے وضو کیا اور اس کے بعد کسی نماز کا وقت آجائے تو کیا میں دوبارہ وضو کروں؟

جواب:      جب تک آپ کا وضو ٹوٹ نہ جائے اس وقت تک آپ پر وضو کرنا واجب نہیں ہے۔

سوال:     میرا وضو کیسے اور کس طرح ٹوٹے گا؟

جواب:      وضو کو توڑنے والی سات چیزیں ہیں:

پیشاب، پاخانہ، نیند اور ہر وہ چیز جو عقل کو زائل کردیتی ہے۔مثلاً بیہوشی، نشہ، استحاضۂ قلیلہ، اور متوسطہ وغیرہ (استحاضہ وجنابت کی گفتگو میں ملاحظہ کیجئے)

پھر میرے والد کی آنکھوں میں ایک چمک سی پیدا ہوئی، میں نے محسوس کیا کہ ان کے ذہن میں کوئی قاعدہ یا چند قواعد جمع ہوگئے ہیں، پس جو میں نے محسوس کیا تھا وہ صحیح تھا۔

اس وقت میرے والد نے فرمایا کہ میں وضو کے بارے میں اپنی گفتگو کو چند عام قواعد پر ختم کروں گا جو آپ کے لیے مفید ہوںگے۔

پہلا قاعدہ

کسی نے وضو کیا پھر اس کے بعد شک ہوا کہ کیا اس کا وضو (ان سات وضو توڑنے والی چیزوں میں سے) کسی چیز سے ٹوٹ گیا ہے یا وہ اپنے وضو (طہارت) پر باقی ہے پس وہ اپنے وضو اور اپنی طہارت پر باقی ہے

سوال:     مثلاً:

جواب:      صبح کو آپ نے وضو کیا، آپ کو اس وقت یقین تھا اور پھر نماز ظہر کا وقت ہوا تو آپ نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا آپ کو شک ہوا کہ کیا کوئی ایسی چیز واقع ہوئی ہے جس سے آپ کا وضوٹوٹ گیا ہو یا کوئی چیز واقع نہیں ہوئی، پس آپ اپنی طہارت پر باقی ہیں اس وقت آپ یوں سمجھیں کہ میں باوضو ہوں اور آپ نماز پڑھ لیں ۔

دوسرا قاعدہ

کسی نے وضو کیا یا وضونہیں کیا اور نواقص وضو میں سے کوئی نقص عارض ہوجائے اور وضو ٹوٹ جائے اس کے بعد شک ہوکہ دوبارہ وضو کیا ہے یا نہیں ؟ تو وضو نہیں ہے اسے نماز کے لیے وضو کرنا چاہیے۔

سوال:     مثال سے بتائیے؟

جواب:      صبح کو آپ سو کراٹھے، اور جس وقت نماز ظہر کا وقت آیا، آپ نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا، فوراً   آپ کو شک ہواکہ میں نے صبح نیند سے اٹھ کر وضو کیا تھا یا نہیں، اس وقت آپ سمجھیں کہ میں بے وضو ہوں پس آپ وضو کریں اور نماز پڑھیں۔

تیسرا قاعدہ

کسی نے وضو کیا اور وضو سے فارغ ہونے کے بعدصحت وضو میں شک کرتاہے کہ اس کا وضو صحیح ہوا ہے یا نہیں تو اس کا وضو صحیح ہے۔

سوال:     مثال دیجئے؟

جواب:      مثلاً آپ نے وضو کیا، پھر اس کے بعد شک کیا کہ میں اپنا چہرہ دھویا ہے یا نہیں، یا میں نے چہرہ کو صحیح دھویا یا نہیں، اس وقت آپ سمجھیں کہ آپ کا وضو صحیح ہے۔

سوال:     اور اگر میں بائیں پاؤں کے مسح میں شک کروں تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:      آپ مسح کو دوبارہ کریں لیکن اگر آپ کسی دوسرے عمل میں داخل ہوگئے ہیں مثلاً آپ نے نماز شروع کردی یا موالات کے بارے میں آپ کو شک ہوا، پس آپ اس صورت میں اپنے شک کی پرو انہ کریں۔

 

index