next

موت پر گفتگو

back

 

جس وقت میرے والد محترم نے موت کے بار ے میں گفتگو کرنی شروع کی ، اس وقت میں بہت زیادہ خوف زدہ ہوا، کہ میں اپنی اس پریشانی اور اضطرابی کیفیت کو آپ سے مخفی ومستورنہیں رکھ سکتا

حواس باختگی، سخت پریشانی اور بے قراری میرے والد کے چہرہ سے ظاہر ہورہی تھی جب کہ وہ موت کے سلسلہ میں مسلسل گفتگو کررہے تھے، ان کی آواز آہستہ آہستہ اور اس کے اتار چڑھاؤ میں جو شکستگی تھی وہ ان کی باطنی حالت کو آشکار کررہی تھی،اور اسی طرح میں آپ سے اپنی اس حالت کو نہیں چھپا سکتا، جب کہ میرے والد موت کا نام لیتے (ایسا نام کہ جو خوف دلانے والا مرعوب کرنے والا ہے)تو فوری طورپر میں اپنے اندر ایک غیر فطری خوف محسوس کرتا، اور جب ان کی باتوں کی طرف دھیان دیتا تو میرے چہرہ اور رخساورں کا رنگ بدل جاتا، جس کی بناپر میری پیشانی اور ناک کے اوپر گرم پسینے کی بوندیں نظر آتیں تھیں۔

اور جب میرے والد کی آواز ہلکی گلو گیرہوگئی کہ جس کو وہ چھپانہ سکے اور وہ برابر موت اور میت کی تفاصیل کو بیان کررہے تھے تو خوف ووحشت بڑھی جاتی تھی، یہاں تک کہ میں بے قرارہوجاتا۔

پھریہ حزن وملال اور بڑھ گیا اور جب میرا یہ حزن وملال ظاہر ہوگیا تو میرا دل تنگ ہوگیا اور جب میرے والد نے میرے چہرے اور آنکھوں پر غم واندوہ کو ملاحظہ کیا تو مجھ سے فرمانے لگے کہ:

سوال:     کیا آپ خائف ہیں؟

جواب:      کیسے خائف نہ ہوں!

سوال:     آپ موت سے زیادہ ڈرتے ہیں یا میت سے؟

جواب:      میں موت سے زیادہ میت سے ڈرتا تھا، لہٰذا میں نے کہا میت سے، ایسا خوف ورعب میرے اوپرطاری تھا کہ جس کا میں اعتراف کر رہاتھا، میں نے اپنی عمر میں کسی کو حالت احتضار میں یا مرتے ہوئے دیکھا نہ تھا بلکہ اس سے پہلے کوئی ایسا واقعہ سنا تک نہ تھا، میرے لیے مناسب تھا کہ میرے سامنے کوئی حالت احتضار میں ہوتا یا کوئی مرتا اس وقت یہ قصہ موت، میں سنتا تو بہتر تھا۔

ایک روز میں نے ایک جنازہ دیکھا جس کولوگ اٹھائے ہوئے لے جارہے تھا اس کو دیکھ کر میری حالت مغموم ومحزون اورپریشان ہوگئی ،یہاں تاکہ میں نے اپنی نظر اس جنازہ کی طرف سے موڑ لی، تاکہ ذہن کے سوچنے سمجھنے کا نظام منقطع نہ ہوجائے۔

ہاں میں میت سے ڈرتا ہوں میں نے دوبارہ دہرایا ۔

سوال:      کیا آپ موت اور موت کے بعد ڈرنے سے زیادہ میت سے ڈرتے ہیں؟

میرے والد نے مزیدفرمایا کیا آپ اس کی موت سے ڈرتے ہیں جو کچھ دیر پہلے زندہ تھا آپ کی طرح کھاتاپیتا اور روتا، ہنستا، اپنے آپ کو پاک وصاف رکھتااور سوتا تھا ۔

پھرموت کی غشی کا اس پر حملہ ہوا، کہ جیسے ہر ذی روح پر اس کا حملہ ہوتا ہے آپ واقعیت کوکیوں نہیں لیتے، آپ کو میت سے زیادہ موت سے ڈرنا چاہیے، کیاآپ نے اپنے نفس سے سوال نہیں کیا کہ پچھلی امتیں اور ان کی نسلیں کہاں گئیں، آج ان کے ٹھکانے ان کی قبریں ہوگئیں اور ان کے اموال وراثت میں تقسیم ہوگئے، ان کے آثار باقی نہ رہے، وہ اپنے رونے والوں کے پاس نہیں آتے، اور جو ان کو بلاتاہے جواب نہیں دیتے۔

 كَمْ تَرَكُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ . وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ . وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ . كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ

کتنے باغات اور چشمے اور کھیتیاں اور اچھے اچھے مکان اور نعمتیں جن کا وہ لطف اٹھایا کرتے تھے، چھوڑگئے، ایساہی ہوا کرتا ہے اور ہم نے ان چیزوں کا وارث دوسرے لوگوں کو بنادیا(سورہ دخان۲۵ تا۲۸)پھر جو آپ کو جانتا تھا وہ کہاں گیا اور کیوں گیا؟

جواب:      آپ کے پچھلے آباء واجداد کہاں گئے ،فلاں ۔۔۔کہاں ۔۔۔فلاں ۔۔۔کہاں فلاں۔۔۔ کہاں؟وہ زمین کے اوپر سے زمین کے نیچے چلے گئے، وسعت سے تنگی میں، وطن سے غربت میں ، اور روشنی سے تاریکی میں چلے گئے۔

پھر میرے والد نے چند مصرعے پڑھے۔

کلنا فی غفلۃ والموت یغدوویروح

ہم سب کے سب غفلت میں ہیں اور موت صبح وشام ہمارے پیچھے ہے

نح علی نفسک یا مسکین ان کنت تنوح

اگر تم اپنے نفس پر نوحہ کرسکتے ہو تو نوحہ کرو

لست بالباقی ولو عمرت ما عمر نوح

تم باقی نہیں رہوگے اگرچہ عمر نوحؑ کو حاصل کرو

اس کے بعد میرے والد کے لب پر مکمل خاموشی چھاگئی اور چند منٹ اسی میں گزر گئے ،جیسےکہ وہ اپنے ذہن میں کسی صورت کی ترتیب دے رہے ہوں ،یا کسی بکھری ہوئی شئے کو جمع کررہے ہوں، یہاں تک کہ ان کی آوارنے اس سکوت کو یہ کہتے ہوئے توڑا۔

اے اباالحسن علیہ السلام ! خدا آپ پر رحم کرے کہ آپ نے ا پنی موت سے کچھ دیر پہلے کتنا اچھا فرمایا تھا:

کل تک میں تمارا ساتھی تھا، اور آج تمہارے لیے عبرت ہوں، اور کل میں تم سے جدا ہوجاؤں گا، میرا رخصت ہونا تمہارے لیے نصیحت ہے،میرا ورود مخفی ہے،میرے اطراف سکون ہے، پس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے فصیح وبلیغ گفتار سے اور سنی ہوئی بات سے زیادہ موعظہ ہوں

اے آقا!ایک روز آپ نے فرمایا تھا:

 واعلمواانہ لیس لھذا الجلد الرقیق صبر علی النار (الخ)

جان لوکہ یہ نازک جلد آگ کو برداشت نہیں کرسکتی،پس تم اپنے نفسوں پر رحم کرو،اس لیے کہ تم نے مصائب دنیا میں ان سے تجربہ حاصل کرلیا ہےیعنی جب یہ نفوس دنیا کے مصائب نہیں برداشت کرسکتے تو آخرت کے عذاب کو کس طرح برداشت کریں گے۔

کیا تم نے کسی محزون۔۔۔ کو دیکھا ہے جب وہ مصیبت زدہ ہو اور کسی گرے ہوئے کو جب کہ وہ زخمی ہو اور بخاروالے کو جب کہ اس کا بدن جل رہاہو، پس کیا حال ہوگا اس شخص کا جو جہنم کے دوطبقوں کے درمیان ہوگا۔؟

تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب آگ کا مالک آگ پر غضبناک ہوتا ہے تو وہ اپنے غضب کی بناپر،اور جب بجھنے لگتی ہے تو وہ اپنے مالک کی مہیب دار آواز پر پھر بھڑک جاتی ہے۔

اب آپ کے لیے مناسب ہے کہ آپ موت اور موت کے بعد جو سختی ہے اس سے ڈریں۔

یوم ترونھا تذھل کل مرضعۃ عما ارضعت وتضع کل ذات حمل حملھا وتری الناس سکاری وماھم بسکاری ولکن عذاب اللہ شدید؟؟؟

جس دن تم اس (قیامت ) کو دیکھو گے دودھ پلانے والی اس سے غافل ہوجائے گی کہ جسے دودھ پلایا کرتی تھی اور ہر حمل والی اپنا حمل گرادے گی اور تم لوگوں کونشے کی حالت میں دیکھوگے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوںگے بلکہ خداکا عذاب ہی سخت ہوگا۔ (سورہ حج ۲)

پھر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے۔

یوم تجد کل نفس ما عملت من خیر محضر وما عملت من سوء تود لو ان بینھا وبینہ امدا بعیدا ویحذرکم اللہ نفسہ واللہ رؤف بالعباد

اس روز ہر نفس اپنی نیکی اور بدی کو کہ جس کو وہ کرچکاہے،موجود پائے گا اور یہ خواہش کرے گا کہ کاش خود اس کے اور اس دن کے مابین ایک مدت طویل حائل ہوتی، اور اللہ تعالی ٰتم کو اپنے سے ڈراتا ہے اور اللہ تمام بندوں پر مہربان ہے۔،،(آل عمران:۳۰)

اور موت واحتضار صرف یاد دھانی کراتی ہے اس کی کہ جس کی طرف تم کو جانا ہے خائف اور مرعوب نہیں کرتی ۔

میرے والد بزرگوار موت کے بارے میں کہہ کرخاموش ہوگئے، اس وقت میں اپنی عبرت دلانے والی چیزوں کو مترتب کرنے اور ان میں نئے سرے سے غور وفکر کرنے میں نظر ثانی کررہاتھا یہاں تک کہ میرے اس غورو فکر کو میرے والد نے یہ تاکید کرتے ہوئے منقطع کیا :

جب تم کبھی کسی مسلمان کو احتضار کی حالت میں دیکھو تو اپنے ڈر کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس کا چہرہ قبلہ رخ کردو۔

سوال:     کس طرح اس کو قبلہ رخ کروں؟

جواب:      اس کو چت لٹا کر اس کے پیروں کے تلوؤں کو قبلہ رخ کردوں؟

سوال: اس کے معنی یہ ہیں کہ میں اس کے پیروں کوقبلہ کی طرف دراز کروں؟

جواب:      ہاں اچھے طریقہ سے، چاہے یہ محتضر مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہویا بڑا، اور مستحب ہے کہ اسکو کلمہشھادتین کی تلقین کی جائے اور اسے نبی  ﷺ اور آئمہ علیہم السلام کا اقرار کرایا جائےاوراس کے نزدیک سورہ (الصافات) کی تلاوت کی جائے تاکہ اس پر نزع کا عالم آسان ہو ،اور محتضر کے پاس مجنب وحائض کارہنا مکروہ ہے، اور حالت نزع میں اس کو چھونا مکروہ ہے۔

سوال:     اور جب وہ مرجائے تو؟

جواب:      مستحب ہے کہ اس کی آنکھوں اور منہ کو بند کیا جائے اور اس کے دونوں ہاتھوں کو اس کے دونوں پہلوؤں اور پیروں کو سیدھا کیا جائے،اس کو کسی کپڑے سے ڈھا نپ دیا جائے اور اس کے نزدیک قرآن کی تلاوت کی جائے،جہاں اس کی میت رکھی ہوءی ہے ،اگررات ہے تو چراغ جلا یا جائے، اس کی موت کی مومنین کو خبردی جائے، تاکہ وہ اس کے جنازے میں شرکت کریں،اس کے دفن میں جلدی کی جائے، مگریہ کہ اس کی موت مشتبہ ہویا اس میں کسی قسم کا شک ہوتو جلدی نہ کی جائے۔

سوال:      اگر اس کی موت مشتبہ ہوتو؟

جواب:      اس صورت میں تاخیر کرنا واجب ہے یہاں تک کہ اس کی موت کا یقین ہوجائے، جب تم کو یقین ہوجائے تو پھر اس کو غسل دینا واجب ہے، چاہے مرد ہویا عورت ،بڑا ہو یا چھوٹا۔

سوال:     اور اگر جنین ساقط ہوجائے تو؟

جواب:      جنین ساقط ہوجائے تو اگر تو وہ چار مہینے تمام کرچکا ہے(بلکہ اگرچار ماہ تمام نہ بھی کئے ہوں اور خلقت کامل ہوچکی ہو) لیکن اس پر نماز کا پڑھنا نہ واجب ہے اور نہ ہی مستحب ہے۔

سوال:     بتائیے میت کو غسل کون دے گا؟

جواب:      مرد کومرد غسل دے، اور عورت کو عورت غسل دے مگریہ کہ میاں اور بیوی کے لیے جائز ہے کہ وہ ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں، اسی طرح وہ بچہ جو سن تمیز کو پہنچ گیا ہے(چاہے لڑکا ہویالڑکی)ان کو بھی مرد یا عور ت کوئی بھی غسل دے سکتا ہے اسی طرح محرم اور اس کے لیے بھی جائز ہے کہ وہ اپنے غیر ہم جنس محرم کو غسل دے سکتا ہے، جب کہ ہم جنس نہ پایا جاتاہو۔

سوال:     میت کو غسل کتنے اور کس طرح دیئے جائیں گے؟

جواب:      تین غسل دیئے جائیں گے۔

اول   بیری کے پانی سے ۔

دوم   کافورکے پانی سے ۔    

سوم       خالص پانی سے

اس بنا پر غسل ترتیبی دے، اس طرح کہ پہلے سراور گردن دھوئے، پھر جسم کا داہنا حصہ، پھر جسم کابایاں حصہ دھوے۔

اور غسل میں جو پانی استعمال ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ پاک ہو،نجس نہ ہو، مباح ہو، غصبی نہ ہو، مطلق ہو، مضاف نہ ہو اور بیری اور کافور بھی مباح ہوں۔

سوال:     کیا میت کا لباس اثنائے غسل اتارا جائے گایا نہیں ؟

جواب:      لباس پر غسل دےسکتے ہیں مگر افضلیت اسی میں  ہے کہ کپڑوں کو اتار لیا جائے۔

سوال:     اور پانی مطلق کس طرح رہ سکتا ہے جب کہ کافور اور بیری کا ملانا اس میں واجب ہے۔؟

جواب:      بیری اور کافور کو اس قدر ملائے کہ پانی مضاف نہ ہو۔

سوال:  اگر میت کا جسم اثنائے غسل باہر کی نجاست سے یا خود میت کی نجاست سے نجس ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:      بدن کا جو حصہ نجس ہوا ہے اس کا پاک کرنا واجب ہے اور غسل کا دوبارہ دینا واجب نہیں ہے۔

سوال:     میت کو غسل کے بعد کیا کیا جائے؟

جواب:      اس کو حنوط کرنا اور کفن دینا واجب ہے۔

سوال:     یہ حنوط کیا ہے؟

جواب: میت کے سجدے والے ساتوں اعضاء پر پساہواتازہ خوشبودار کافور ملنا ضروری ہے ۔وہ کافور مباح ہو، غصبی نہ ہو، پاک ہو، نجس نہ ہو، اگرچہ وہ کافور میت کے بدن کو نجس کرنے کا سبب بھی نہ بنے اور بہتر ہے کہ پیشانی سے ملناشروع کیا جائے اور ہاتھ کی ہتھیلی پر ختم کیا جائے۔

سوال:     اوربقیہ دوسرے سجدے کی جگہوں کا کیا حکم ہے؟

جواب:      دوسری جگہوں میں ترتیب شرط نہیں ہے۔

سوال:     بتائیے میت کو کفن کس طرح دیا جائے؟          

جواب:      میت کو تین پارچوں میں کفن دینا واجب ہے۔

(۱)لنگی،واجب ہے کہ وہ ناف اور گھٹنوں کے درمیان کے حصہ کو چھپالے۔

(۲)قمیض،واجب ہے کہ وہ قمیض کاندھوں کے اوپر سے آدھی پنڈلیوں تک پہنچے۔

(۳)چادر،واجب ہے کہ چادر تمام بدن کو چھپالے،لمبائی میں اس کی مقدار اتنی ہوکہ دونوں طرف سے اسے گرہ لگانی ممکن ہو۔

 سوال:    چوڑائی میں کتنی ہونی چاہئے؟

جواب:      اس کی چوڑائی اتنی ہو کہ اس کا ایک کنارہ دوسرے کنارہ پر پہنچ جائے۔

سوال:     کیا اس کفن کے لیے اوربھی کچھ شرائط ہیں؟  

جواب:      ہاں! شرط ہے کہ یہ تمام کفن میت کا بدن چھپالے اور وہ غصبی نہ ہو، اور خالص ریشم کا نہ ہو اور نہ سونے کے تاورں سے بنا ہوا ہو، اور نہ اس حیوان کے اجزاء کا بنا ہو جس کا گوشت نہ کھایا جاتاہو، اور نہ وہ کفن نجس ہو، مگر مجبوری کے عالم میں کوئی حرج نہیں، پس ان مذکورہ بالا چیزوںسے مجبوری کی حالت کفن دینا جائز ہے فقط شرط یہ ہے کہ غصبی نہ ہو۔

سوال:     اگر ان تین کپڑوں کاملنا مشکل ہوتو؟         

جواب:      جتنا ممکن ہوسکے اتنا دے۔

سوال:     میت کو غسل ، کفن اور حنوط دینے  کے بعد کیا کرنا چاہیے؟

جواب:      اس کے بعد میت پر نماز کا پڑھنا واجب ہے، اگرچہ وہ بچہ ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ چھ سال کے بچہ کی میت پر نماز پڑھنا واجب ہے۔

سوال:     نماز میت کس طرح پڑھی جائے گی؟ 

جواب:      میت کی نماز، نمازیو میہ سے مختلف ہے، اس میں پانچ تکبیریں ہیں، نہ اس میں کسی سورہ کی قرات ہے، نہ رکوع ہے، نہ سجدے ہیں، نہ تشہد وسلام ہے، بلکہ پہلی چار تکبیروں میں سے کسی ایک کے بعد میت کے لیے دعا کی جائے گی اور باقی میں پیغمبر اسلام حضرت محمد  ﷺکے اوپر صلوات، مومنین کے لیے دعا اور خدا کی تمجیدو تمحید کرنے کے درمیان اختیار ہے۔

سوال:     آپ اختصار کے ساتھ ان کو بیان کیجئے؟

جواب:      پہلے تکبیر کہو اور اس کے بعد، شھادتین پڑھو، دوسری تکبیر کہو، اور اسکے بعد نبی  ﷺپر درود بھیجو، پھر تیسری تکبیر کہو اور مومنین کے لیے دعا کرو، پھر چوتھی تکبیر کہو، میت کے لیے دعا کرو، پھر پانچویں تکبیر کہہ کر نماز کو ختم کردو۔

سوال:     کیا نماز میت، میں کچھ چیزیں شرط ہیں؟   

جواب:      ہاں چند چیزیں شرط ہیں۔

(۱)   نیت میت کو اس طرح معین کرے کہ ابہام ختم ہوجائے۔

(۲)   قیام ،جب کہ اس پر قدرت رکھتا ہو۔

(۳)   نمازمیت غسل،کفن اور حنوط کے بعد پڑھی جائے۔

(۴)   حالت اختیار میں مصلی کا رخ قلبہ کی طرف ہو۔ 

(۵)   نماز پڑھنے والے کے آگے میت ہونی چاہیے۔

(۶)   میت کا سر مصلی کے داہنی طرف اور اس کے پیرمصلی کے بائیں طرف ہونے چاہیں۔

(۷)   نماز میت کے وقت میت کو چت لٹایا جانا چاہیے ۔

(۸)   مصلی اور میت کے درمیا ن کوئی چیز مثل پردہ یا دیوار وغیرہ حائل نہ ہونی چا ہئےلیکن       آ گ میت تابوت میں ہویا کوئی دوسری میت حائل ہوتو کوئی اشکال نہیں ہے۔

(۹)   میت اور مصلی کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے بہت زیادہ اونچائی پر ہو اور اگر نماز باجماعت پڑھی جارہی ہے اور صفوں کی بناپر دوری واقع ہو جائے تو اس دوری میں کوئی حرج نہیں ہے یا چند جنازوں کی بناپر دوری ہوجائے، جبکہ ان سب پر ایک ہی دفعہ نماز پڑھی جار ہی ہو۔

(۱۰)  میت کے ولی (مثلاً باپ یا بیٹے) سے نماز پڑھنے کی اجازت لی جائے۔

(۱۱)  تکبیرات، دعائیں اور اذکارپے درپے ہونے چاہیں،یعنی درمیان میں زیادہ فاصلہ نہ ہو۔

سوال:     آپ نے نماز جنازہ پڑھنے والے کی طہارت کو وضو یا غسل یا تیمم کے ساتھ مشروط قرار کیوں نہیں دیا؟

جواب:      اس لیے کہ نماز میت میں طہارت واجب نہیں ہے۔

سوال:     نماز میت تمام ہوجانے کے بعد کیا کرنا چاہیے؟

جواب:      میت کو دفن کرنا واجب ہے، اور اس کے لیے زمین میں اس کا پوشیدہ ہوجانا جب کہ دوامر متحقق ہوجائیں کافی ہے وہ یہ ہیں۔

(۱)   اگر حیوانات اس جگہ پائے جاتے ہوں تو وہ حیوانات سے محفوظ رہے۔

(۲)   اس کی بو لوگوں کو نہ آئے یعنی اگر اس جگہ پر کوئی موجود ہو اور اس کو اس کی بوسے اذیت پہنچتی ہو۔

اور میت کو قبر میں داہنی کروٹ اس طرح لٹایا جائے کہ اس کے بدن کے سامنے کا حصہ قبلہ کی طرف ہو۔

سوال:     کیا دفن کی جگہ کے لیے کچھ اور بھی شرائط ہیں؟

جواب:      جی ہاں ہم ان کوبیان کرتے ہیں۔

(۱)   قبر کی جگہ مباح ہو،غصبی نہ ہو اور کسی خاص چیز کے لیے وقف نہ ہو، جیسے مساجد، جیسے مدارس، امام باڑے وغیرہ جب کہ وقف کی جگہ کو نقصان ہو یا وقف کے لیے باعث زحمت ہو بلکہ اگر نقصان  اور زحمت نہ بھی ہو تو بھی دفن نہ کیا جائے۔

(۲)   جہاں ہر مسلمان میت کو دفن کیا جائے وہ ایسی جگہ نہ ہو کہ جس سے میت کی بے حرمتی ہو، جیسے پیشاب، پاخانہ اور کوڑا کرکٹ کی جگہیں۔

(۳)   کفار کی قبروں میں دفن نہ کیا جائے۔

سوال:     آپ دفن کے بعد کے احکام بیان کریں؟

جواب:      نبی پاک  ﷺ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: میت پر سخت نہ ہوگی پہلی رات سے زیادہ

فار حمو اموتاکم بالصدقۃ

اپنے میتوں پر صدقہ دے کر رحم کرو،،پس اگر تم یہ نہیں کرسکتے تو اس کے لیے دورکعت نماز پڑھو، پہلی رکعت میں الحمد کے بعد آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد دس مرتبہ سورہ قدر پڑھواور نماز کے بعد کہو۔

اللھم صل علی محمد وال محمد وابعث ثوابھا الی قبر فلان

فلاں کی جگہ میت کانام لیں۔

سوال:     آپ نے گذشتہ گفتگو میں غسل کے بارے میں مجھے بتایا تھا کیا اس کانام غسل مس میت ہے؟

جواب:      ہاں! یہ غسل اس وقت واجب ہوتا ہے جب میت کے بدن کو ٹھنڈا ہونے کے بعداور غسل سے پہلے کوئی چھولے یہ میت چاہے مسلمان کی ہویا کافر کی۔

سوال:     کیا تری ہونے کے کی صورت میں یہ غسل واجب ہوتا ہے اگر میت خشک ہو اور چھونے والا بھی خشک ہوتو پھر اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:      تری ہویا نہ ہو، چاہے یہ چھونا مجبوری کے عالم میں ہویا اختیاری صورت میں غسل واجب ہوجاتاہے۔

سوال:     جو میت کو چھولے اس پر کیا چیز مترتب ہوتی ہے؟

جواب:      اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ۔

(۱)   غسل واجب کرے اس چیز کے لیے کہ جس کی صحت کے لیے طہارت شرط ہے مثلاً نماز،  پس جس وقت کوئی نماز پڑھنا چاہے تو پہلے اس پر یہ غسل کرنا واجب ہے۔

(۲)   قرآن مجید کے حروف کا چھونا اور ہر اس چیز کا چھونا جو محدث پر حرام ہے۔

میرے والد تھوڑارک کر پھر کہنے لگے ۔

(جب شوہر فوت ہوجائے تو اس کی زوجہ پر اس کی عدت رکھنا واجب ہے چاہے اس زوجہ کے ساتھ اس کے شوہر نے ہم بستری نہ کی ہو جو عورت حاملہ نہیں ہے اس کی عدت کے دن چار مہینہ دس دن ہیں،عدت کے لیے لازم ہے کہ عورت بالغہ اور عاقلہ ہو عدت کی مدت میں وہ جسم کی زینت اور لباس کی زینت نہ کرے، اس طرح کہ اس پر رنگین کپڑوں کا پہننا حرام ہے،جیسے سرخ کپڑے، اور اسی طرح زیور کا پہننا، سرمہ لکانا، خوشبوکا استعمال کرنا، خضاب اور سرخی کا لگانا اس پر حرام ہے، ہاں عدہ والی عورت جسم کی صفائی، کپڑوں کی صفائی، ناخن کاٹنا، حمام جانا اور گھر سے باہر جانا، خصوصاًکسی کے ادائے حق کے لیے یا اپنی ضرورت کے تحت باہر جانے کا حق رکھتی ہے۔

سوال:     اور جو عورت حاملہ ہے اس کے عدہ کا کیا حکم ہے؟

جواب:      جب حاملہ عورت کا شوہر مرجائے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے عدہ کی مدت وضع حمل اور بچہ کی پیدائش تک ہے، اگر چارماہ دس دن گزرنے سے پہلے اس کے یہاں ولادت ہوجائے، تو وہ صبر کرے، کہ چار ماہ دس دن پورے گزر جائیں اور اگرچار ماہ دس دن گزرنے کے بعد ولادت ہوتو اس کے عدہ کی مدت تمام ہوگئی ہے۔

index