next

استحاضہ پر گفتگو

back

 

آج میرے والدبزرگورارتشریف لائے اپنی مخصوص جگہ پر اور انہوں نے گفتگو کے شروع میں استحاضہ کا نام لیا ۔

جیسے ہی استحاضہ کا لفظ میرے سامنے آیا، فوراً میرے ذہن میں یہ بات آئی،کہ استحاضئہ کا لفظ بھی) حیض کا طرح ہے یا اسی محورکا ہے اور جیسے ہی یہ بات میرے ذہن میں آئی ویسے ہی ایک بجلی سی میرے دماغ میں کوندی اور ایک عورت کی ہئیت تشکیل پائی گئی۔

سوال:     قبلہ والد صاحب : کیا استحاضہ بھی عورتوں کی خصوصیات میں سے ہے؟

جواب:      فرمانے لگے ہاں:

سوال:     کیا یہ بھی خونی چیز ہے؟

جواب:       فرمایا، ہاں، لیکن ،

سوال:     لیکن کیا؟

جواب:      لیکن نہ یہ حیض ، نہ نفاس، نہ زخم،  نہ پھوڑا اور نہ ہی ازالہ بکارت کا خون ہے۔

سوال:     میں نے کہا کہ اس کے معنی یہ ہوئے کہ جو خون نہ حیض ہو، نہ نفاس ہو، نہ پھوڑے اور زخم کا ہو، نہ ازالہ بکارت کا ہوتو پھروہ خون استحاضہ ہے۔

جواب :     فرمایاہاں،

سوال:     میں نے کہا یہی چند خون ہیں ؟

جواب:      فرمایا: ان میں بغض خون عورتوں کی جوانی اور خوبی کی علامت ہیں، کیا تم کو نہیں معلوم کہ جس وقت وہ بوڑھی ہوجاتی ہیں تو ان کا خون بند ہوجاتا ہے اور بچوں کی پیدائش بھی بند ہوجاتی ہے۔

سوال:      میں نے کہا، زخم پھوڑے یا نفاس کے خون تو عادتا مشہور ہیں، لیکن کس طرح معلوم ہوکہ یہ خون استحاضہ ہے اور خون حیض نہیں ہے؟

فرمانے لگے کہ آپ کو خون حیض کی علامات معلوم ہیں؟

میں نے کہا ہاں وہ سرخ یا کالا، سوزش اور حرارت کے ساتھ نکلتا ہے۔

جواب:      فرمایا کہ اکثر جو علامات خون استحاضہ کی ہیں، وہ خون حیض کی علامتوں کے بالکل خلاف ہیں پس خون استحاضہ اکثر پیلے رنگ کا پتلا اور سوزش وجلن کے بغیر نکلتا ہے۔

سوال:     میں نے کہا اگر کوئی عورت خون دیکھے اور یہ اتفاق اس کی شادی کے روز ہوتووہ کس طرح تشخیص کرے گی کہ وہ خون اس کی ازالہ بکارت کا نہیں ہے بلکہ خون استحاضہ ہے ؟

جواب:      فرمایا : خون بکارت روئی کے اطراف میں ہوتا ہے اور وہ مثل ہلال کے طوق دار ہوتا ہے، اس کے برخلاف خون استحاضہ سے روئی بھر جاتی ہے اور کبھی اتنا زیادہ ہوجاتاہے کہ خون روئی سے نکل کر پٹی تک پہنچ جاتاہے۔

سوال:     ہاں اور کبھی روئی کو پورا لپیٹ میں نہیں لیتا پس خون استحاضہ کی تین قسمیں ہیں۔

استحاضہ کثیرہ وہ ہے کہ جو خون روئی سے نکل کر پٹی تک پہنچ جائے اور استحاضہ متوسطہ وہ ہے جو خون روئی میں نفوذ کرجائے، لیکن وہ وہیں ٹھہرجائے اور اس پٹی تک نہ پہنچے کہ جس کو عموماً عورتیں خون سے محفوظ رہنے کے لیے باندھ لیتی ہیں۔

استحاضہ قلیلہ وہ ہے کہ جو خون روئی کو رنگین کردے اور کم ہونے کی بناپر خون اس میں نہ پہنچے۔

ان سب کا حکم کیا ہے؟

جواب:      استحاضہ کثیرہ میں واجب ہے کہ عورت تین غسل کرے، نماز صبح کے لیے، نمازظہر کے لیے، جب کہ دونوں کو ایک ساتھ پڑھے اوراسی طرح نماز مغرب وعشاء کے لیے جب کہ دونوں کو ایک ساتھ پڑھے ۔

سوال:      اور اگر دونوں نمازوں کو الگ الگ پڑھے؟

جواب:      تو پھر ہر نماز کے لیے غسل کرے۔

سوال:     کیا تمام حالات میں اس کا یہی حکم ہے؟

جواب:      نہیں، بلکہ یہ حکم اس وقت ہے جب خون بند نہ ہو، اور اگر خون اتنی دیر کے لیے بند ہوجائے کہ جس میں غسل کرکے ایک نماز یا زیادہ نمازیں دوسری مرتبہ خون آنے سے پہلے پہلے بجالائے، تو ایسی عورت کو چاہیے کہ جب بھی خون نکلے تو دوبارہ غسل کرے، پس اگر اس نے غسل کیا اور نماز ظہر پڑھ لی، پھر نماز عصر پڑھنے سے پہلے روئی پر خون دکھائی دیا یا نماز کے درمیان خون روئی پر ظاہر ہوا تو عورت پر نماز پڑھنے کے لئے غسل کرنا واجب ہے لیکن اگر دوخونوں کے درمیان اتنا وقت ہے کہ جس میں دو نماز یا کچھ نمازیں بجالا سکتی ہے تو دوبارہ غسل کے بغیر نماز پڑھ سکتی ہے ۔

سوال:     یہ تو استحاضہ کثیرہ کا حکم تھا اور استحاضہ متوسطہ میں اس عورت پر واجب ہے کہ ہر نماز کے لیے وضوے کرے، اور ہر روز ایک مرتبہ وضو سے پہلے غسل کرے۔ہربانی کرکے مجھے مشال سے سمجھائیے؟

جواب:      نماز صبح سے پہلے عورت کو معلوم ہوجائے کہ وہ مستحاضہ ہے، تو وہ اپنا امتحان کرلے، پس اگر وہ استحاضہ متوسطہ ہے تو غسل کرے، پھر نماز صبح کے واسطے وضو کرے، اور یہ غسل اس روز کی تمام نمازوں کے لیے کافی ہے، مگر ہر نماز کے لیے وضو کرے پس اگر دوسرے روز نکلے تو غسل کرے،پھر وضو کرے اور یہ حکم اس وقت تک رہے گا، جب تک یہ حالت باقی رہے گی نہ کم ہوگا نہ زیادہ استحاضہ قلیلہ میں  عورت پر واجب ہے کہ وہ ہرنماز کے لیے خواہ واجب ہویا مستحب، وضو کرے۔

سوال:     کیا استحاضہ ایک قسم سے دوسری قسم کی طرف تبدیل ہوجاتاہے؟

جواب:      ہاں: کبھی قلیلہ کثیرہ میں بدل جاتاہے، اور کبھی کثیرہ قلیلہ میں اور اسی طرح متوسطہ کبھی قلیلہ میں اور کبھی کثیر ہ میں،اور کبھی یہ دونوں متوسطہ میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔

سوال:     عورت کس طرح پہچانے گی کہ اس کا استحاضہ بدل گیا ہے۔؟

جواب:      عورت  پر ضروی ہے کہ وہ اپنی آزمائش نماز سے پہلے کرے ،تاکہ اس کو صحیح معلوم ہوجائے: پھر ا پنی آزمائش کے نتیجے کے مطابق عمل کرے۔پس جب اس پر ظاہر ہوجائے کہ وہ استحاضہ قلیلہ ہے تو وہ احکام استحاضہ قلیلہ پر عمل کرے گی اور اگر اس پر ظاہر ہوجائے کہ وہ استحاضہ متوسطہ ہے تو وہ اس کے احکام پر عمل کرے گی اس طرح اگر معلوم ہوجائے کہ استحاضہ کثیرہ ہے تو وہ اس پر عمل کرے گی۔

سوال:     آپ بتائیں کہ خون سے بھری ہوئی روئی، کمربند اور پٹی کا کیا حکم ہے؟

جواب:      بہتر ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے ان کو بدلے، اور ان کو پاک کرے، جب کہ وہ استحاضہ قلیلہ یا متوسطہ ہو لیکن اگر وہ استحاضہ کثیرہ ہوتو اس پر لازم ہے کہ وہ امکان بھر ان چیزوں کو انجام دئے اور اگر خون کا روکنا اس کو ضررنہ پہنچائے تو وہ غسل کرنے کے بعد سے لے کر نماز کے بعد تک اپنے خون کو نکلنے سے روکے مثلاًروئی وغیرہ شرمگاہ کے اندر رکھ لے تاکہ خون باہر نہ نکل سکے ۔

سوال:     کیا اس عورت پر غسل وطہارت انجام دینے کے بعد نماز کا فوری بجالانا ضروری ہے؟

جواب:      ہاں ،

سوال:     استحاضہ کے احکام کون کون سے ہیں؟

جواب:      (اول)۔استحاضہ پر واجب ہے کہ وہ خون بند ہوجانے کے بعد نماز کے لیے وضو کرے گی، اگر اس کا استحاضہ قلیلہ ہے یا متوسطہ ہے، اور اگر کثیرہ ہے تو پھر وہ غسل کرے گی۔

(دوئم) تینوں قسموں میں (قلیلہ، متوسطہ اور کثیرہ) اس پر طہارت سے پہلے قرآن کے حروف کا چھونا حرام ہے اور طہارت کے بعد سے پہلے اس کا چھونا جائز ہے۔

(سوئم )مستحاضہ کو حالت استحاضہ میں طلاق دینا صحیح ہے۔

(چہارم) چو چیزیں حالت حیض میں حرام ہیں وہ استحاضہ میں حرام نہیں ہیں، جیسے عورت سے مقاربت ،مساجد میں داخل ہونا اور ان میں ٹھہرنا اور ان میں کوئی چیز رکھنا اور آیات سجدہ کی تلاوت کرنا۔

(پنجم)  استحاضہ قلیلہ اور متوسطہ میں عورت کا روزہ رکھنا صحیح ہے،ا گر چہ اس نے اپنے وضو یا غسل کو (جو نماز کے لیے اس پر واجب تھا)انجام نہ دیا ہو، لیکن استحاضہ کثیرہ میں فقہاء کرام میں سے کچھ فقہا ء اس کے قائل ہیں کہ اس کا روزہ اس وقت صحیح ہے کہ جب وہ گذشتہ رات میں جو غسل واجب تھا اور جو غسل دن میں واجب تھے بجالائے، لیکن اصح (قول کی بناپر) اس کے روزہ کی صحت ان غسلوں پر موقوف نہیں ہے۔

(ششم) مستحاضہ کثیرہ پر غسلوں کے ساتھ وضو کرنا واجب نہیں ہے، اور مستحاضہ متوسطہ پر غسل واجب کے بعد وضو کرنا بھی واجب ہے۔

 

index