next

دوسری نمازوں کے بارے میں گفتگو

back

 

دوسری نمازوں کی گفتگو کا وقت آنے سے پہلے میں ان چیزوں کے بارے میں نظر ثانی کرنے لگا کہ جو پہلی نماز کی گفتگو میں زیر بحث آئی تھیں تاکہ اپنے حافظہ کا امتحان لوں کہ کتنا مجھے یاد ہے تاکہ اس چیز کے بارے میں اپنے والد سے معلوم کروں کہ جس کو میرے ذہن نے یاد نہیں رکھایا جس کو سمجھا نہیں ہے اور ابھی ہماری نماز کی بحث بھی جاری ہے۔

میرے والد جب تشریف لائے تو انہوں نے مجھ سے ایک ایسا سوال کرنے سے پہل کی کہ میں اس کا جواب نہ دے سکا میں نے ان سے عرض کیا کہ:

سوال:        کیا نماز عشاء کو میں دورکعت پڑھ سکتا ہوں؟

جواب:        ہرگز نہیں کیا میں نے تم سے نہیں کہا کہ وہ چار رکعتی نماز ہے لیکن میں نے آپ کو دورکعت پڑھتے دیکھا ہے؟

والد کیا ہم سفر میں تھے؟۔

جی ہاں۔

والدیہ صحیح ہے پس چار رکعتی نمازنماز ظہر عصر عشاء سفر میں دو رکعت ہوجاتی ہیں جب کہ نیچے بیان کی ہوئیں ان میں قصر کی شرطیں پائی جائیں۔

 ۱     جب کسی شخص کے سفر کا قصد اپنے رہنے کی جگہ تقریباً(کلو میڑ) یا زیادہ ہو،چاہے یہ دوری فقط جانے کے لئے ہو یا آنے جانے کے لئے ہو۔

سوال:        مجھے وضاحت کے ساتھ بتائیے؟

جواب:        جب مسافر کسی ایسے شہر کا سفر کرے جو تمہارے وطن سے(۴۴ کلو میڑ) یا زیادہ دور ہوتو اس پر اپنی نماز میں قصر واجب ہے،اس طرح کہ وہ چار رکعت والی نماز کو فقط دورکعت  پڑھے اور اسی طرح کوئی مسافر کسی ایسے شہر کا سفر کرے کہ جس کی مسافت اس کے وطن کی جگہ سے (۲۲کلو میڑ) ہو اور اسی روز اس کی واپسی کا بھی ارادہ ہو تو اپنی نماز کو قصر کرے گا۔

سوال:        کس جگہ سے سفر کی ابتداء کا حساب کیا جائیگا؟

جواب:        سفر کی ابتداء کا حساب شہر کے آخری مکان سے کیا جاتاہے۔

۲      مسافر اپنے سفر کے ارادہ پر باقی رہے،اگر درمیان سفر اپنی رائے بدل دے تو پھر نماز پوری پڑھے گا مگریہ کہ اس کا ارادہ اپنے وطن کی طرف لوٹنے کا ہو اور اس کا یہ طے کیا ہوا راستہ آنے جانے کو ملا کر قصر کی مسافت کی مقدار تک پہنچ گیا ہو تو پھر اس پر نماز کا قصر پڑھنا واجب ہے۔

۳      مسافر کا سفر جائز ہو پس اگر اس کا سفر حرام (کام کے لئے) ہو جیسا کہ بعض حالات میں زوجہ کا بغیر شوہر کی اجازت کے سفر کرنا یا اپنے سفر میں حرام کام کا ارادہ ہو مثلاًچوری کا،تو ایسی حالت میں وہ پوری نماز پڑھے اور اسی سے ملحق اگر کوئی تفریح کے قصد سے شکار کو جائے تو بھی نماز پوری پڑھے۔

۴      مسافر اپنے وطن سے نہ گزرے یا وہاں اثنائے سفر قیام نہ کرے یا جس شہر کی طرف سفر ہے اس میں دس (۱۰) روز رہنے کی نیت نہ کی ہو،یا کسی شہر میں ایسا متردد نہ ہو کہ یہاں سے کب جائیگا اور اس طرح اس کو تیس(۳۰) روز تردد میں گزر گئے ہوں تو ایسی صورت میں اول سفر سے تیس (۳۰) دن تک نماز قصر پڑھے گا،پوری نہیں۔

سوال:        اور جب اپنے وطن یا اپنے ٹھہرنے کی جگہ سے اثنائے سفر گزرے اور وہاں اترے یا جس شہر کی طرف سفر کیا ہے وہاں دس دن یا زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ ہو یا ایسی جگہ گیا ہو جہاں سے وہ واپس لوٹنے میں متردد ہو اور اس طرح اس کو وہاں تیس (۳۰) دن گزر گئے ہوں تووہ ان جگہوں پر کون سی نماز پڑھے گا؟

جواب:        ان جگہوں پر وہ پوری نماز پڑھے گا مگر جو شخص سفر سے واپسی میں متردد ہو (تووہ تیس(۳۰) دن تک قصر نماز پڑھے گا )تیس (۳۰) دن بعد پوری نماز پڑھے گا ۔

۵      کسی کا سفرکرنا پیشہ نہ ہو جیسے ڈرائیور۔ملاح۔ چرواہ یا وہ بار بار کسی دوسرے کام کے لئے  سفر کرے۔

سوال:        اس کے معنی یہ ہوئے کہ ڈرائیور اثنائے سفر پوری نماز  پڑھے گا؟

جواب:        ہاں جس کا پیشہ ڈرائیوری ہوتو اگر وہ (۴۴کلومیڑیا زیادہ) مسافت طے کرے تو وہ اپنے کام(ڈرائیوری )کے دوران پوری نماز پڑھے گا۔

سوال:        تاجر،طالب علم،ملازم جب کسی شہر میں مقیم ہوں اور کسی دوسرے شہر میں یونیور سٹی۔دفتر یا مرکز تجارت ہو اور وہ ان کے رہنے کی جگہ سے ۲۲ کلومیڑدور ہو اور وہ وہاں پہنچنے کے لئے ہر روزیا ہر دوسرے روز سفر کرتے ہوں (تو کیا حکم ہے)؟

جواب:        تو وہ نماز کو پوری پڑھیں گے قصر نہیں پڑھیں گے۔

۶      جن کا کوئی رہنے کا ٹھکانہ نہ ہو،بلکہ ان کا گھران کے ساتھ ہو اور ان کا کوئی وطن نہ  ہو،جیسے سیاح کہ جو ایک شہر سے دوسرے شہر میں داخل ہوتے ہیں اور کہیں بھی ان کے رہنے کا ٹھکانہ نہیں ہوتا تو وہ نماز پوری پڑھے گا۔

سوال:        مسافر قصر کی ابتداء کہاں سے کرے گا؟

جواب:        جب شہر والوں کی نظروں سے وہ پوشیدہ اور ان سے دور ہوجائے تو اس پر (اپنی نماز کا) قصر کرنا واجب ہے۔اور اس کی اکثر علامت یہ ہے کہ وہ مسافر شہر کے رہنے والوں میں سے کسی کو نہ دیکھے اس وقت اپنی نماز کی قصر کرے۔

سوال:        آپ نے مجھ سے فرمایا کہ مسافر جب اپنے وطن سے گزرے یا وہاں ٹھہرے تو وہ نماز کو پوری پڑھے گا آپ کا اس کے وطن سے کیا مقصد ہے؟

جواب:        میرا یہاں وطن سے مقصدیہ ہے۔

الف۔   وہ اصلی ٹھکانہ جس کی طرف اس کو منسوب کیا جاتاہے اور اس کے والدین کے رہنے کی جگہ ہو اورعموماًاس کی زندگی کا مرکز ہے۔

ب۔     وہ جگہ کہ جس کو انسان  اپنا ٹھکانہ اور مسکن بنا لیتا ہے اس طرح کہ اپنی بقیہ عمر کو وہیں گزارے۔

ج۔        ایسی جگہ جہاں اتنی طویل مدت تک رہے کہ جب تک وہ وہاں ہے اس کو مسافر نہ کہا جاسکے۔

سوال:        اس کے معنی یہ ہوئے؟

۱      جب مسافر اپنے وطن سے گزرے اور وہاں ٹھہرے۔

۲      جہاں کا انسان نے سفر کیا ہے وہاں وہ دس روز یا زیادہ برابر ٹھہرے۔

۳      اور جب کسی ایسے شہر کا سفر جہاں تیس(۳۰) روز تک ایسا متردد رہے کہ نہ جانے کہ کب وہ اپنے وطن کو واپس ہوگا تو ایسے مسافر(جو اوپر بیان ہوئے ہیں) اپنی نماز پوری پڑھیں گے اور قصر نہیں کریں گے؟

جواب:        جی ہاں ۔

سوال:        اور جب کسی مسافر کو اوپر تینوں چیزوں میں سے کوئی چیز پیش نہ آئے تو؟

جواب:         تو وہ نماز قصر پرھے گا پس ہر وہ مسافر کہ جو(۴۴کلو میڑ) یا زیادہ کا سفر کرے تو وہ نماز قصر پڑھے گا مگریہ کہ اپنے وطن سے گزرے اور اس میں ٹھہرے یا کہیں دس روز کی نیت کرلی ہوتو،والد ہاں ۔۔ہاں۔

سوال:        اور جب نماز کا وقت آجائے اور کوئی مسافر ہوتو اگر وہ اثنائے سفر نماز نہ پڑھے بلکہ وہ اپنے وطن لوٹ جائے تو (کیا حکم ہے؟)

جواب:        وہ نماز پوری پڑھے گاکیونکہ وہ نماز اپنے وطن میں پڑھ رہاہے۔

سوال:        اور جب نماز کا وقت آجائے اور کوئی اپنے وطن میں ہو اور نماز نہ پڑھے پھر وہ۴۴ کلو میڑ یا زیادہ کا سفر کرے؟

جواب:        تووہ نماز کو قصر پڑھے کیونکہ وہ نماز کو سفر کی حالت میں پڑھ رہا ہے۔

سوال:        میں بعض دفعہ لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ اکھٹی نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں ایک ساتھ رکوع،ایک ساتھ سجدے اور ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟

جواب:        وہ لوگ نماز یومیہ کو جماعت سے پڑھتے ہیں فرادی نہیں ۔

سوال:        ہم نماز جماعت کو کس طرح پڑھ سکتے ہیں؟

جواب:        جب دو یا دو سے زیادہ اشخاص جمع ہوجائیں تو ان میں سے ایک جو امام جماعت کے شرائط رکھتا ہے اس کو جائز ہے کہ وہ سب کے آگے کھڑے ہو کر باقی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ان لوگوں کو اس عمل سے زیادہ اجر ملتا ہے۔

سوال:        کیا نماز جماعت مستحب ہے؟

ج      ہاں اس کا عظیم ثواب ہے،خاص کر کسی عالم کے پیچھے اور جتنے لوگ نماز جماعت میں زیادہ ہوں گے اتنی ہی اس کی فضیلت بھی بڑھے گی۔

سوال:        امام جماعت کے کیا شرائط ہیں کہ جن کو آپ نے اپنی گفتگو میں اشارةبیان کیا؟

جواب:        امام جماعت کے شرائط میں ہے کہ وہ ،بالغ ہو ،عاقل ہو، مجنون نہ ہو،مومن ہو،عادل ہو،اپنے خدا کی معصیت (گناہ) نہ کرتا ہو قرائت صحیح ہو،حلال ہو،جب مامون مرد ہوں تو امام بھی مرد ہو(عورت نہ ہو)

سوال:        ہم کس طرح پہچانیں کہ یہ مرد مومن ہے،عادل ہے تاکہ ہم اس کے پیچھے نماز پڑھ سکیں؟

جواب:         اس کے ظاہری حال کا بہتر ہونا کافی ہے۔

سوال:        کیا جماعت میں امام جماعت کے دوسرے شرائط بھی ہیں۔؟

جواب:         ہاں (امام جماعت کے بارے میں اعتبار کیا گیا ہے کہ وہ ایسا نہ ہوکہ جس پر شرعی حد جاری کی گئی ہو) اور اگر ماموم کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہےہیں تو امام کی نماز بھی قیام کی حالت میں ہونی چاہیے امام وماموم کے قبلہ میں احتلاف نہ ہو ایسا نہ ہوکہ امام کا اعتقاد قبلہ کےمتعلق کسی طرف ہو اور ماموم کا اعتقاد دوسری طرف ہو، ماموم کی نظر میں امام کی نماز صحیح ہو،پس اگر امام پانی کی نجاست کو نہ جانتے ہوئے نجس پانی سے وضو کرے اور ماموم کو پانی کی نجاست کا علم ہو تو پھر ایسی صورت میں ماموم کے لئے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ۔

سوال:        میں جماعت کے ساتھ کس طرح نماز پڑھو؟

جواب:        پہلے کسی ایسے شخص کو کہ جس میں امام جماعت کے شرائط جمع ہوں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے،شخص معین کرو اگر تم تنہا ہو تو امام کے داہنی طرف ذرا پیچھے ہٹ کر کھڑے ہو یا اگر تم دویا دو سے زیادہ ہوتو پھر امام کے پیچھے کھڑے ہو تمہارے اورامام کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو جیسے دیوار وغیرہ تمہارے  کھڑے ہونے کی جگہ سے امام کے کھڑے ہونے کی جگہ زیادہ بلند نہ ہونی چاہیے تمہارے اور امام کے درمیان یا جو مصلی تمہارے پہلو میں کھڑا ہے یا وہ جو تمہارے آگے کھڑا ہے کہ جس کا رابطہ امام سے ہے اس کے او ر تمہارے درمیان زیادہ فاصلہ نہ ہونا چاہئے ۔

سوال:        پس اس بناپر نمازیوں کے درمیان ایک میڑسے زیادہ فاصلہ نہ ہونا چاہیے؟

جواب:        (ہاں! تقریبا) اور نمازی کا اپنے برابر والے نمازی سےمتصل ہونا چاہیے ایک سمت ہی سے کافی ہے اور یہ اتصال چاہے آگے سے ہو یا داہنی طرف سے ہویا بائیں طرف سے ہو کافی ہے۔

سوال:        اس کے بعد کیا ہونا چا ہئے؟

جواب:        جب امام جماعت تکبیر کہے تو اس کے بعد اس کے پیچھے کھڑے ہونے والے تکبیر کہیں جب امام سورہ الحمد اور اس کے بعد سورہ پڑھے تو مامومین کو ان (سوروں) کی تلاوت نہ کرنی چاہیے کیونکہ امام کی تلاوت ان کی طرف سے کفایت کرے گی پس جب وہ رکوع کرے تو وہ بھی رکوع کریں اور جب و ہ  سجدہ میں جائے تو اس کے بعد وہ سجدہ میں جائیں اور جب وہ تشھد پڑھے تو یہ تشھد پڑھیں اور اس کے سلام کے بعد یہ سلام کہیں۔

سوال:        اور کیا میں رکوع و سجدہ اور تشہد میں ذکر پڑھوں اور کیا تیسری اور چوتھی رکعتوں میں تسبیحات اربعہ پڑھوں یا خاموش رہوں اور کچھ نہ پڑھوں؟

جواب:        بلکہ تم اسی طرح (ان کو) پڑھو کہ جس طرح تم فرادی نماز پڑھتے وقت پڑھتے ہو،لہٰذا  تم رکوع ،سجود اور تشہد میں (اس کا مخصوص) ذکر پڑھو اور تیسری اور چوتھی میں جیسا کہ میں نے بتایا تسبیحات اربعہ کی تکرار کرو فقط سور تین(الحمدو سورہ) پڑھنا تم پر (واجب) نہیں ہے،پھر(ان کے علاوہ سب کی متابعت تم پر (ضروری ) ہے۔

سوال:        آپ کا کیا مقصد ہے؟

جواب:        تم پر امام جماعت کی اتباع ہر ہر قدم پر ضروری ہے یعنی جب وہ رکوع کرے تو تم بھی اس کے ساتھ رکوع کرو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی اس کے ساتھ سجدہ کرو اور جب وہ سجدے سے سر اٹھائے تو تم اپنے سر کو اٹھاؤ اور اسی طرح (ہر فعل کو انجام دو)افعال نماز میں اس سے پہل نہ کرو۔

سوال:        اور امام جماعت سے کب ملحق ہونا چاہیے؟

جواب:        امام جماعت کے حالت قیام میں تکبیر کہنے کے بعد یا جب وہ حالت رکوع میں ہو تو اس سے ملحق ہونا چاہیے۔

سوال:        میں امام جماعت کے ساتھ اس وقت ملحق ہوں کہ جب وہ دونوں سورتوں کی تلاوت کررہا ہو تو مجھ پر دونوں سوروں کا پڑھنا ضروری نہیں ہے جیسا کہ آپ نے بیان فرمایامگر جب وہ رکوع میں ہوتو میں کس طرح اس سے ملحق ہوں؟

جواب:         تم تکبیر کہہ کرفوراً رکوع میں چلے جاؤ یہاں تک کہ امام جماعت اپنے رکوع کو ختم کرکے کھڑا ہوجائے تو تم بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ۔

سوال:        اور ان دونوں سوروں کے پڑھنے کا کیا ہوگا( وہ تو میں نے پڑھا ہی نہیں ؟

جواب:        جب تم رکوع میں اس سے ملحق ہوگئے تو ان دونوں سوروں کی قرائت تم سے ساقط ہے۔

سوال:        اور جب وہ تیسری یاچوتھی رکعت میں ہو تو تسبیحات اربعہ پڑھ رہا ہو اس وقت اس سے ملحق ہوں تو؟

جواب :          تم تکبیر کہو پھردونوں سوروں کی آہستہ تلاوت کرو ۔

سوال:        اور جب دونوں سوروں کے پڑھنے کا وقت وسیع نہ ہو؟

جواب:        تو تم فقط سورہ حمد کو پڑھو۔

سوال:        مجھے نماز ظہر پڑھنا ہے اور میں امام جماعت سے ملحق ہوجاؤں حالانکہ امام جماعت عصر کی نماز پڑھ رہاہے( تو میرے لئے  کیا حکم ہے۔؟

جواب:         ہاں تم ملحق ہوسکتے ہو،تمہاری نماز اور امام جماعت کی نماز میں جہرو اخفات یا قصر وتمام یا قضاو اداء کی حیثیت سے اختلاف ہوسکتا ہے۔

سوال:        کیا عورتوں کے لئے مردوں کی طرح جماعت ہے؟

جواب:         ہاں عورت ایسے مرد کے پیچھے نماز پڑھ سکتی ہے جس میں امام جماعت کے شرائط پائے جاتے ہوں جیسا کہ اس کے لئے عورت کے پیچھے نماز پڑھنا بھی جائزہے،لیکن اگر عورت امام ہو(تواس پر واجب ہے وہ عورتوں کی صف میں کھڑی ہو ان سے آگے کھڑی نہ ہو) اور پھر اسی طرح نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھائے جیسا کہ مردامام جماعت پڑھاتا ہے،لیکن اگر عورتیں مردوں کے ساتھ نمازپڑھ رہی ہوں تو ان پر واجب ہے کہ وہ مردوں کے پیچھے نماز پڑھیں،یا ان کے ساتھ ایک صف میں اگر نماز پڑھیں تو بیچ میں کوئی چیزحا ئل ہونی چاہیے اگر چہ دیوار ہی کیوں نہ ہو۔

سوال:        یہ نماز جماعت تھی اس کے علاوہ میں نے ایک نماز کا نام سنا کہ اس کا نام نماز جمعہ ہے پس کیا یہ نماز اس کے علاوہ ہے۔؟

جواب:        ہاں وہ دورکعت نماز صبح کی طرح ہے مگر یہ کہ نماز صبح سے ان دو خطبوں کی بناپرممتاز ہوجاتی ہے کہ جو نماز جمعہ سے پہلے پڑھے جاتے ہیں اس طرح کہ امام کھڑا ہو اور ان دونوں خطبوں میں ایسی چیز بیان کرے جس میں خدا کی رضایت اور لوگوں کا نفع ہو۔

اور کم سے کم پہلے خطبہ میں واجب ہے کہ اللہ تعالی کی حمد وثنا کرے( عربی زبان میں) اور لوگوں کو تقوے کی نصیحت کرے،اورقرآن کریم کا ایک چھوٹا سا سورہ پڑھے پھر تھوڑا بیٹھ کر دوسری مرتبہ دوسرے خطبے کے لئے کھڑا ہو پس اللہ کی حمدوثنا اور محمد و آل محمد پر اور مسلمانوں کے ائمہ علیہم السلام  پر صلوات بھیجے اور سب سے زیادہ بہتر وافضل مومنین ومومنات کے لئے استغفار کرنا ہے۔

سوال:        کیا یہاں اس کے واجب ہونے میں کچھ  شرائط بھی ہیں؟

جواب:        ہاں اس کے واجب ہونے کے چندشرائط ہیں کہ نماز ظہر کا وقت داخل ہوجائے،پانچ لوگوں کا جمع ہونا،کہ ان میں ایک امام جمعہ ہو،اور امام جمعہ میں وہ تمام شرائط پائی جائیں کہ جو امام جماعت کے بارے میں بیان کی گئی ہیں اور جب کسی شہر میں نماز جمعہ قائم ہواپنے تمام شرائط کے ساتھ پس اگر امام معصوم یا جس کو اس نے مقرر کیا ہے نماز جمعہ کا اقامہ کرے تو اس شہر کے تمام رہنے والوں پر نماز جمعہ میں شرکت کرنا واجب ہے،سوائے ان لوگوں کے جن کو بارش نے یاشدید موسم سرمایا ان دونوں کے علاوہ کسی اور چیز نے شرکت کرنے سے مجبور کردیا ہو،جو مرض وبینائی سے سالم ہوں سوائے بوڑھے اور مسافر کے اورنماز جمعہ میں تقریبا (۱۱کلو میڑ) کے فاصلہ تک شرکت کرنا( ضروری ہے)

سوال:         اور اگر امام یا جس کو امام نے مقرر کیا ہو اس کے علاوہ کوئی نماز جمعہ کو قائم کرے تو پھر اس میں شرکت کرنا واجب نہیں ہے اور نماز ظہر کا بجالانا جائزہے،اور اگر کوئی مصلی نماز جمعہ کو جو اس کے تمام شرائط کے ساتھ قائم ہوئی ہے پڑھ لے تو وہ نماز ظہر سے کفایت کرے گی اور وہ نماز ظہر کو ساقط کردے گی۔

اب دو چیزیں باقی رہ گئی ہیں جن کی طرف اشارہ کرتا ہوں ۔

۱      نماز جمعہ کا پڑھنا واجب تخییری ہے پس مکلف نماز جمعہ اور نماز ظہر کے پڑھنے میں مخیر ہے( چاہے نماز جمعہ پڑھے یا نماز طہر) مگر نماز جمعہ کا پڑھناافضل ہے ۔

۲:     نماز جمعہ کے درمیان تقریباً ساڑھے پانچ کلومیڑ کا فاصلہ معتبر ہے۔

سوال:        چاہتا ہوں آپ سے ایک سوال کروں مگر کیا کروں حیامانع ہے ۔

جواب:         جو کچھ چاہو تم سوال کرو دین میں کسی چیز کی شرم نہیں ۔

سوال:        اگر میں نے نماز پنجگانہ میں کسی نماز کو نیند کی بناپر کبھی غفلت کی بنا پر چشم پوشی اور لاپرواہی اور کبھی جہالت کے سبب نہ پڑھی ہویا اگر پڑھی ہے تو نماز باطل اور فاسد پڑھی اور نماز کا وقت بھی نکل چکا (تو اب کیا کروں ؟)

جواب:         ان کی قضا تم پر واجب ہے اگر وہ مثل صبح ومغرب اور عشاء کے جہری ہے تو ان کی قضا بھی جہری ہے اور اگر وہ  مثل ظہر و عصر کے اخفاتی ہوں تو ان کی قضا بھی آہستہ آواز سے ہوگی اور اگر وہ قصر ہیں تو ان کی قضا بھی قصراور اگروہ تمام ہیں تو ان کی قضا بھی تمام ہوگی ۔

سوال:        اور کیا میں نماز ظہر کی قضا زوال کے وقت پڑھ سکتا ہوں اور نماز عشاء کے وقت میں اس طرح نماز عشاء کی قضا  ادا کرسکتا ہوں؟

 جواب:         ہرگز نہیں بلکہ تم جس وقت چاہو اپنی کسی بھی نماز کی قضا ادا کرسکتے ہو چاہے رات ہو یا دن اور تم صبح نماز کی قضا شام  کے وقت بھی ادا کرسکتے ہو،اسی طرح دوسری نمازوں کی بھی قضاء ادا کرسکتے ہو۔

سوال:        اور جب مجھے معلوم نہ ہوکہ میری کون سی نماز  قضا ہے تو میں کس نماز کی قضا ادا کرو؟

جواب:        جس نماز کے قضا ہونے کا یقین ہو ،اور جس کو تم نے اس کے وقت میں نہ پڑھی ہو، اس کی قضا کرو لیکن جس نماز کے قضا ہونے  کے بارے میں تم کو شک ہے تو اس کی قضاتم پر واجب نہیں ہے۔

سوال:        ذرامجھے مثال سے واضح کیجئے؟

جواب:         مثلاً تم کو یقین ہے کہ تم نے ایک مہینہ تک نماز صبح نہیں پڑھی تو ایک مہینہ کی نماز صبح کی قضا تم پر واجب ہے لیکن جس کے بارے میں شک ہے کہ وہ قضا ہوئی یا نہیں تو اس کی قضا تم پر واجب نہیں ہے۔

دوسری مثال جب تم کو معلوم ہوکہ ایک زمانہ تک تم نے نماز صبح نہیں پڑھی،اب تمہارے دل میں دواحتمال پیدا ہوتے ہیں کہ تم نے آیا ایک مہینہ نماز قضا کی ہے یا ایک مہینہ دس دن کی قضا ہوئی ہے ایسی صورت میں ایک مہینہ کی نماز کی قضا تمہارے لئے ضروری ہے اس سے زیادہ نہیں ۔

سوال:        کیا جو ہماری نماز قضا ہوئی ہے اس کا ادا کرنافوراً بغیر تاخیر کے واجب ہے؟

جواب:        بغیر تساہلی اور تسامح کے تاخیر جائز ہے میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تمہاری نماز جس دن فوت ہوئی ہے اسی دن اس کی قضا ادا کرو مثلا تمہاری کسی دن صبح کو آنکھ نہ کھلے اور نماز صبح قضا ہوجائے تو اسی دن نماز صبح کی قضا ادا کرلو تاکہ وہ زیادہ نہ ہوجائیں تو تم پر ان کی قضا کا ادا کرنا مشکل ہوجائے گا۔

میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں قضا کے سلسلہ میں تساہلی اور تسامح سے خدا تم کو توفیق عنایت کرے کہ تم اپنی نمازوں کو ان کے معین وقت میں ادا کرو۔

سوال:        ذرا ٹھہرئیے نماز کی پہلی والی گفتگو میں آپ نے مجھے نماز واجب کی تعداد میں بتایا تھا کہ نماز مرنے والے کے بڑے بیٹے پر ادا کرنا واجب ہے جب کہ باپ نے ان کی قضا ادا نہ کی ہواور وہ مرجائے؟

جواب:        ہاں( نماز واجب کی قضا بڑے بیٹے پر واجب ہے ، جب کہ والد کی نماز کسی عذر کی بنا پر قضا ہوگئی ہو اور اس نے اس قضا کے بجالانے پر قدرت رکھتے ہوئے بھی قضا کو ادا نہ کیا ہو اور وہ مر جائے اور اس کا بڑا بیٹا اس کی موت کے وقت قاصر نہ ہو اور وہ ممنوع الارث بھی نہ ہو تو اس کو چا ہئے کہ وہ کسی کو اپنی نیابت میں اپنے والد کی قضا نماز ادا کرنے پر بحیثیت اجارہ معین کرے ۔

سوال:        آپ نے مجھ سے نماز آیات کے بارے میں ذکر کیا تھا؟

جواب:        نماز آیات سوائے حیض ونفاس والی عورتوں کے تمام مکلفین پر چاند گہن سورج گہن چاہے ذرا سا ہی کیوں نہ ہو(زلزلہ کے وقت) واجب ہے اور ہروحشت ناک آسمانی حادثہ کے وقت جیسے بجلی کی کڑک وگرج،سرخ وسیاہ آندھی وغیرہ کے وقت اور اسی طرح وحشت ناک زمینی حادثات کے وقت جیسے زمین کا ایسا پھٹ جانا اور دھنس جانا کہ جس میں عام لوگ خوف زدہ ہوجائیں نماز آیات کو فرادا پڑھا جاتا ہے اور چاند گہن اور سورج گہن میں جماعت سے بھی پڑھا جاتاہے۔

سوال:        نماز آیات کب ادا کی جاتی ہے۔؟

جواب:        سورج گہن اور چاند گہن میں شروع گہن سے ختم گہن تک۔

سوال:        زلزلوں میں وبجلی کی کڑک وگرج میں اور ہر آسمانی یا  زمینی وحشت ناک حادثات کے وقت(کلاصۃاً)نماز آیا ت کب پڑھی جائے؟

جواب:        ان میں نماز کا وقت کوئی معین نہیں بلکہ جیسے ہی حادثات رونما ہوں ویسے ہی نماز کو بجالایا جائے مگر یہ کہ حادثہ کا وقت وسیع ہوتو اس کی نماز کو اتنے وقت میں بجالایا جائے کہ اس حادثہ کا زمانہ ختم نہ ہواہو۔

سوال:      نماز آیات کو کس طرح پڑھوں؟

وہ دورکعت ہے اورہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں ۔

سوال:        وہ کس طرح؟

جواب:        پہلے تکبیر کہو پھر سورہ فاتحہ کی تلاوت کرو اس کے بعد کسی دوسرے سورہ کو کامل پڑھو، پھر رکوع کرو جب تم اپنا سررکوع سے اٹھاؤ تو پھر  سورہ الحمد اور ایک کامل سورہ پڑھو پھر رکوع کرو اسی طرح پانچ رکوع کرو۔

جب تم اپنا سر رکوع سے بلند کرو تو سجدے کے لئے  جھک جاؤ اور دوسجدوں کو اسی طرح کرو کہ جس طرح تم ہمیشہ نماز میں سجدے کرتے ہو۔

پھر تم دوسری رکعت کے لئے  کھڑے ہو جاؤ اور اس رکعت میں بھی اسی طرح انجام دو جو اس سے پہلے والی رکعت میں انجام دیا ہے (یعنی پانچ رکوع اور پانچ مرتبہ دونوں سوروں کا پڑھنا) پھر تشہدو سلام کے بعد نماز کو تمام کرو،یہ ہے وضاحت اس نماز کی کہ جس میں دس رکوع ہیں،لیکن وہ دورکعت پر مشتمل نماز ہے اور اس کے علاوہ اس نماز کی دوسری بھی صورت ہے مگر اختصار کی بنا پر اس کو بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

سوال:        جب سورج گہن یا چاند گہن لگ جائے اور اس کا علم نہ ہو یہاں تک کہ وہ بالکل ختم ہوجائے تو اس کاکیا حکم ہے؟

جواب:        جب سورج گہن یا چاند گہن پورا ہو اس طرح کہ وہ گہن تمام سورج اور چاند کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو تم  پراس کی قضا واجب ہے اور اگرپورانہ ہو صرف تھوڑا سا گہن ہو تو تم پر قضا واجب نہیں ہے۔

سوال:         اور کیا نماز آیات زلزلہ  وبجلی کی کڑک وچمک میں ہے؟

جواب:        جب  ان دونوں کے حادثہ کا تھوڑا زمانہ گزرجائے اور تم نے کسی بھی سبب نماز نہیں پڑھی تو پھر ان کی قضا ساقط ہے ۔

سوال:        اگر زمین کے کسی بھی حصہ میں سورج یا چاند گہن ہو تو کیا مجھ پر نماز آیات کا پڑھنا واجب ہے؟

جواب:        ہرگز نہیں بلکہ اس چاند یا سورج گرہن کی نماز تم پر واجب ہے جو تمہارے شہر میں ہوا ہو یا جو تمہارے شہر سے کوئی ایساشہر ملا ہوا ہو کہ جس کے حادثات اور واقعات مشترک ہوں اور دنیا کے کسی بھی حصہ میں سورج گہن یا چاند گہن لگا ہو اور وہ تم سے دور ہوتو اس وقت تمہارے اوپرنماز آیات واجب نہیں ہے۔

سوال:        آپ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ نمازیں واجب ہیں اور مستحب؟لیکن آپ نے مستحب نمازوں کے بارے میں کچھ نہ فرمایا؟

جواب:             وہ بہت ہیں ان کو بیان کرنے کی یہاں ضرورت نہیں ہے ۔اس لئےان میں سے کچھ کو میں مختصر طور پر بیان کرتا ہوں۔

۱      نماز شب (اور اس کا آخری حصہ تہائی رات میں ادا کرنا افضل ہے،اور جتنا نماز صبح سے وقت قریب ہوگا اتنا ہی افضل ہے) آٹھ رکعتیں ہیں ہر دورکعت کے بعد نمازپڑھنے والا سلام پھیرے ، نماز صبح کی طرح،جب یہ آٹھ رکعت ختم ہوجائیں تو پھر دورکعت نماز شفع پڑھے پھرنماز وتر پڑھے جو ایک رکعت ہے پس یہ تمام کی تمام گیارہ رکعت ہیں ۔

سوال:         مجھے بتائیے کہ نماز وتر کس طرح پڑھی جاتی ہے جب کہ وہ ایک رکعت ہے؟۔

جواب:        پہلے تکبیر کہو پھر الحمد پڑھو اور مستحب ہے کہ اس کے بعد سورہ توحید پڑھو تین مرتبہ،اور سورہ ناس اور سورہ فلق پڑھو پھر ہاتھوں کو بلند کرکے جو چاہو دعا پڑھو۔

تم پر مستحب ہے کہ اللہ کے خوف سے گریہ کرو اور چالیس مومنین کا نام لے کر ان کے واسطے مغفرت طلب کرو اور ستر مرتبہ پڑھو۔

(استغفراللہ واتوب الیہ) اور سات مرتبہ (ھذا مقام العاذ بک من النار) پڑھو اور تین سو مرتیہ( العفوء)کہو اور جب تم اس سے فارغ ہوجاؤتو رکوع کرو اور پھر تشہد وسلام کے بعد نماز تمام کرو۔

اور تم نماز شفع اور  وتر پر ہی صرف اکتفاء کرسکتے ہو بلکہ تنہا اور خاص طورسے وتر پر بھی اکتفاء کرسکتے ہو جب کہ وقت تنگ ہو۔

سوال:        نماز شب کی فضیلت کیا ہے؟

جواب:        نماز شب کی بہت بڑی فضیلت ہے امام صادق علیہ السلام سے روایت بیان کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا :نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی وصیت میں جو علی علیہ السلام  سے کی ہے (تین مرتبہ فرمایا) علیک بصلواة اللیل (علیک بصلواة اللیل) (علیک بصلواة اللیل)؟

یعنی تم نماز شب پڑھا کرو۔

اور اسی طرح نبی ﷺسے مروی ہے کہ صلاة رکعتین فی جوف اللیل الی من الدنیا وما فیہا۔رات کی تاریکی میں دو رکعت نماز پڑھنا مجھے دنیا اور جو اس میں ہے اس سے زیادہ پسند ہے، اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا او راس نے  کسی حاجت کے بارے میں آپ سے شکایت کی او راپنی شکایت میں اپنی بھوک کا بھی اضافہ کیا تو آپ نے اس سے فرمایا: (اے شخص تو نماز شب پڑھتا ہے) تو اس نے کہا ہاں، تو آپ نے اس کے دوست کی طرف متوجہ ہوکر اور فرمایا  وہ شخص جھوٹا ہےجو کہتا ہے کہ رات کو نمازشب  پڑھتا ہے اور دن کو بھوکا رہے خداوند عالم نے اس شخص کےروزی کی ضمانت لی ہے جو رات کو نماز شب پڑھتا ہے)۔

۲      نماز وحشت یا دفن کی رات کی نماز او راس کے ادا کرنے کا وقت دفن کی پہلی رات ہے، رات کے کسی بھی حصہ میں اس کو پڑھئے اور وہ دو رکعت ہے، رکعت اول الحمد کے بعد آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد دس مرتبہ سورہٴ انا انزلناہ اور تشہد و سلام کے بعد کہو۔

اللہم صل علی محمد و آل محمد و ابعث ثوابہا الی قبر فلان۔

اور فلاں کی جگہ میت کا نام لو، اور ایک دوسری صورت بھی اس نماز کی ہے، فقہ کی کتابوں میں دیکھو اگر مزید جاننا چاہتے ہو تو۔

۳۔ نماز غفیلہ او ر وہ دو رکعت ہے مغرب و عشاء کے درمیان پہلی رکعت میں الحمد کے بعد یہ آیہ کریمہ پڑھو۔

(و ذالنون اذذھب مغاضبافظن ان لن نقدر علیہ فنادی فی الظلمات ان لا لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین، فاستجبنا لہ و نجیناہ من الغم و کذالک ننجی المومنین)

اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد اس آیہ کریمہ کی تلاوت کرو۔

(و عندہ مفاتح الغیب لا یعلمہا الا ھو و یعلم ما فی البر والبحر و ما تسقط من ورقة الا یعلمہا ولا حبة فی ظلمات الارض و لا رطب ولا یابس الا فی کتاب مبین)

پھر دعا کے لئے  ہاتھوں کو بلند کرو اور کہو۔

اللھم انت ولی نعمتی والقادر علی طلبتی تعلم حاجتی فاسالک بحق محمد وآلہ علیہ وعلیھم السلام لما قضیتھالی۔

اپنی حاجب طلب کرو انشاء اللہ پوری ہوگی۔

۴۔ ہر مہینہ کے پہلے دن کی نماز اور وہ دو رکعت ہے۔ پہل رکعت میں الحمد کے بعد سورۂ توحید تین مرتبہ اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد سورۂ قدر تین مرتبہ، پھر تم صدقہ دو جو بھی تم کو میسر ہو او راس مہینہ کی سلامتی کو خرید لو اور اس کے بعد قرآن کی کچھ مخصوص آیتوں کا پڑھنا مستحب ہے۔

۵۔حضرت علی علیہ السلام  کی نماز،اور وہ چار رکعت ہے دو دو رکعت کر کے صبح کی طرح پڑھو، ہر رکعت میں سورۂ الحمد کے بعدپچاس (۵۰)مرتبہ(قل ھو اللہ احد) پڑھو،توپھر اس کے اور خدا کے درمیان کوئی گناہ نہ رہے گا۔

۶۔ امرمشکل کی آسانی کے لئے نماز، اور وہ دو رکعت ہے امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جب کوئی کام مشکل ہوجائے تو دو رکعت نماز پڑھو، پہلی رکعت میں الحمد اور قل ہو اللہ احد اور (انا فتحنا) کو (ولینصرک اللہ نصرا عزیرا) تک اور دوسری رکعت میں الحمد اور قل ہو اللہ احد اور (الم نشرح لک صدرک) پڑھو۔

 

 

index