next

پھلی فصل

back

 

 

محل ولادت ، امتیازات اورخصوصیات

 

محل ولادت اور کرامات جلی

      امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام مکہ مکرمہ میں بروز جمعہ ، تیرہ رجب سن تیس  عام الفےل کوخانہٴ کعبہ میں پےدا ھوئے۔ آپ سے پھلے اور آپ کے بعد کوئی شخص بھی بیت اللہ میں پیدا نھیں ھوا۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے آپ کی عظمت وجلالت اور منزلت کا خصوصی مقام ھے۔[1]

صاحبب بحار نے یزید بن قعنب کی روایت بیان کی ھے ، جس میںوہ کھتے ھیں کہ میں، عباس بن عبد المطلب اور عبدالعزیٰ کے ایک گروہ کے ساتھ خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھا ھوا تھا ۔وہاں حضرت امیر المومنین کی والدہ ماجدہ جناب فاطمہ بنت اسد تشریف لائیں۔( آپ کے دن پورے ھوچکے تھے) جب آپ کو درد زہ شروع ھوا توآپ نے خدا کی بارگاہ میں عرض کیا:

رب انی مؤمنة بک و بما جاء من عندک من  رسل و کتب وانی مصدقة بکلام جدی ابراھےم الخلےل فبحق الذی بنی ھذا البیت وبحق المولود الذی فی بطنی لماےسَّرت علیَّ ولادتی۔

بارالھا!  میں تجھ پر ایمان رکھتی ھوںاور تو نے جو رسول (علےھم السلام ) بھیجے اور جو کتابیں نازل کی ھیںان پر ایمان رکھتی ھوں ، میں اس گھر کی بنیاد رکھنے والے اپنے جد امجد حضرت ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام کے کلام کی تصدیق کرتی ھوں اور اپنے شکم میں موجودبچہ کا واسطہ دے کر کھتی ھوں مجھ پر اس کی ولادت کو آسان فرما۔

یزید کھتا ھے کہ ھم نے دیکھا کہ دیوار کعبہ شق ھوئی اور جناب فاطمہ بیت اللہ میں داخل ھو گئیںاور ھماری نظروں سے اوجھل ھو گئیں، دیوار کا شگاف آپس میں مل گیا۔ ھم نے کوشش کی کہ دروازے پر لگا تالا کھولیں لیکن وہ نہ کھل سکا تو ھم نے سوچا کہ یقینا خدا کا یھی حکم ھے ۔

تین ر روز بعد فاطمہ(ع) باھر تشریف لائیں تو آپ نے حضرت امیر المومنین کو اٹھایا ھوا ھے، آپ فرماتی ھیں: جب میں بیت اللہ سے باھر نکلنے لگی تو ہاتف غیبی کی جانب سے یہ آواز بلند ھوئی اے فاطمہ(ع) اس کا نام علی (ع) رکھنا ۔  [2]

حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی والدہ فاطمہ بنت اسد فرماتی ھیں:

 خداوندعالم نے مجھے پھلی تمام خواتین پر فضیلت عطا فرمائی کیونکہ آسیہ بنت مزاحم، اللہ تعالی کی عبادت چھپ کر وہاں کیا کرتیں تھیںجہاں اللہ تعالی اضطراری حالت کے علاوہ عبادت کو پسند نھیں کرتا اور مریم بنت عمران کھجور کی شاخوں کو اپنے ہاتھوں سے نیچے کرتیںتا کہ اس سے خشک کھجوریں تناول کر سکیں جبکہ میں بیت اللہ میں جنت کے پھل تناول کرتی رھی اور جب میں نے بیت اللہ سے باھر نکلنے کا ارادہ کیا تو ہاتف غیبی کی آواز آئی ۔

 اے فاطمہ اسکا نام علی(ع) رکھنا کیونکہ یہ علی(ع) ھے اور اللہ علی الاعلیٰ ھے مزید فرمایا اسکا نام میرے نام سے نکلا ھے میں نے اسے اپنا ادب عطا کیا ھے اور اپنے پوشیدہ علوم سے آگاہ کیا ھے یھی میرے گھر میں موجود  بتوں کو توڑے گا ،اس کی محبت اور اطاعت کرنے والا خوش بخت ھے اوراس سے بغض رکھنے اور نافرمانی کرنیوالے کے لئے لعنت اور بدبختی ھے[3]

سید حمیری ،حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی ولادت کا تذکرہ کرتے ھوئے کھتے ھیں۔

          ولدتہ فی حرمِ إلا لہ و اٴمنہ

                                                          والبیت حیث فنائہ والمسجدُ

          بیضاء طاھرة الثیاب کریمة

                                                          طابت وطاب ولےدھا والمولدُ

          فی لےلة غابت نحوس نجومھا

                                                وبدت مع القمر المنےر الاسعدُ

          ما لُفَّ فی خرق القوابل مثلہ

                                                الا ابن آمنة النبی محمد   [4]

صرف اس خاتون نے حرم الٰھی اور جائے امن میںاسے پےدا کیا اور بیت اللہ اور مسجد اس کے آنگن کی حیثیت رکھتا ھے۔وہ چمکدار لباس، پاکےزگی سے مزّےن اور شرافت والی ھے۔ یہ ایک ایسی رات تھی جب نحس ستارے چھپ گئے اور قمر منےر کے ساتھ یہ نےک اور سعید ستارہ نمودار ھوا، وہ پاک ھے اس کا مولود بھی پاک ھے اور اس کی جائے ولادت بھی پاک ھے اس  جیسے (نجیب) کو قنداق نھیں کیا جا سکتا مگر آمنہ کے لال نبی احمد(ص)کے ہاتھ سے۔

حضر ت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ بنت اسد علیھاالسلام سے فرمایا:

 اس کو میرے بستر کے قریب رھنے دیا کرو ۔اکثرحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کی تربیت کے فرائض انجام دیتے ، نھلانے کے وقت ان کو نھلاتے، بھوک کے وقت دودھ پلاتے، نیند کے وقت جھولا جھلاتے اور بیداری کے وقت ان کو لوریاں سناتے تھے ۔اپنے سینے اور کندھوں پر سوار کرکے فرمایا کرتے تھے۔ یہ میرا بھائی ،ولی ،مددگار، وصی، خزانہ اور قلعہ ھے۔[5]

مستدرک میں حاکم کھتے ھیں کہ اس سلسلے میں تواتر کے ساتھ روایات موجود ھیں کہ جناب فاطمہ بنت اسد نے حضرت امیر المومین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کوخانہ کعبہ میںجنا۔[6]

کتاب نور الابصار میں اس طرح ذکر ھوا ھے :  حضرت علی علیہ السلام مکہ میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ھوئے ۔ایک قول کے مطابق آپ کی ولادت ۱۳ رجب ،۳۰ عام الفیل، بروز جمعہ ھوئی یعنی ھجرت سے ۲۳ سال پھلے اور بعض مؤرخےن کے مطابق ۲۵ سال پھلے یعنی بعثت سے ۱۲ سال پھلے اوربعض کھتے ھیں کہ بعثت سے ۱۰ سال پھلے پیدا ھوئے اور آپ سے پھلے کوئی بھی بیت اللہ میں پیدا نھیں ھوا ۔[7]

امتیازات اور خصائص

اسم گرامی :

اخطب خوارزم کھتے ھیں کہ آپ کا مشھور نام (حضرت )علی (ع) ھے اور آپ کے ناموں میں اسد اور حیدر کا بھی ذکر ھوا ھے کیونکہ حضرت علی علیہ السلام خود فرماتے ھیں ۔

          سمتنی امی حیدرہ

      میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ھے۔

       اور اشعار میں بھی اس کا ذکر ھے:

اسد ا لا لہ و سےفہ و قنا تہ                    کا لظفر یوم صیالہ و الناب

جا ء النداء من السماء و سےفہ                بدم الکماة یلجُ فی التسکاب

لاسےف الا ذوالفقار و لافتیً                     الا علیٌّ ھازم الا حزاب

یہ اللہ کاشےر ھے اوراس کی تلوار اور نےزہ جنگ کے دن کامیابی ھے ،آسمان سے صدا آئی کہ اس کی اس تلوار مسلح بہادروں کے خون کے ساتھ سمندر میں تیرتی ھے ،جو تلوار خون کی ندیاں بھادےتی ھے اور کشتوں کے پشتے لگا دےتی ھے۔ وہ ندا یہ تھی کہ ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نھیں ھے اورحضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی بہادر نھیں ھے جو جنگ میں جتھوںکو شکست دینے والے ھیں۔[8]

      کنیت:

حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی جو کنیتیں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ھیں وہ یہ ھیں۔

          ابوالحسن،ابوالحسین،ابوالسبطین،ابوالریحانتین  وابوتراب [9]

   حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ھیں ۔حسن (ع)اور حسین (ع)  نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات میں کبھی مجھے یا اباہ(اے ابا جان) کہہ کے نھیں پکارا بلکہ وہ ھمیشہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یااباہ کھتے تھے جبکہ حسن (ع) مجھے یا اباالحسین، اور حسین(ع)مجھے یاا باالحسن کہہ کر پکا رتے تھے۔[10]

      لقب :

حضرت کے القاب مندرجہ ذیل ھیں:

امیر الموٴمنین، یعسوب الدین والمسلمین، مبیرالشرک والمشرکین ،قاتل الناکثین والقاسطین  والمارقین  مولی الموٴمنین شبیہ ھارون  المرتضی نفس الرسول، اٴخوہ رسول زوج البتول، سیف الله المسلول، اٴبوالسبطین اٴمیر البررہ،  قاتل الفجرہ، قسیم الجنة والنار ، صاحب اللواء، سید العرب والعجم، وخاصف النعل کاشف الکرب ، الصدّیق الاٴکبر، ابوالریحا نتین ، ذوالقرنین ، الھادی ، الفاروق، الواعی، الشاھد، وباب المدینة  وبیضة البلد، الولي ، والوصي ، وقاضی دین الرسول، و منجز وعدہ۔[11]

      نسب شریف:

 حضرت علی علیہ السلام کے والدحضرت ابو طالب ھیں( جنکانام عبد مناف بن قصیٰ ھے) آپ عبدالمطلب (جن کا نام شےبہ ھے) بن ہاشم(عمرو)بن عبد مناف بن قصیٰ کے فرزند ھیں۔ حضرت علی علیہ السلام کا نام سب سے پھلے آپ (ع) کی والدہ نے اپنے والد اسد بن ہاشم کے نام پر حیدر رکھا تھا، اسد اور حیدر کے ایک ھی معنی ھیں پھر آپ کے والد نے آپ(ع) کانام علی رکھا۔

حضرت ابوطالب(ع) کی والدہ کا نسب یہ ھے۔ فاطمہ بنت عمروبن عائد بن عمران بن محزوم۔ آپ حضرت رسول اکرم (ص)کے والد حضرت عبداللہ کی بھی مادر گرامی ھیں۔

 حضرت علی علیہ السلام کی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف بن قصیٰ ھیں آپ ھی پھلی ہاشمیہ ھیں جن سے ایک ہاشمی پیداھوا۔

حضرت علی علیہ السلام اپنے بھائیوں میںسب سے چھوٹے تھے۔ جعفرآپ سے ۱۰سال بڑے تھے ، عقیل ،جعفرسے ۱۰ سال بڑے تھے اور طالب ، عقیل سے ۱۰ سال بڑے تھے، فاطمہ بنت اسد کی والدہ فاطمہ بنت ھرم بن رواحہ بن حجربن عبد بن معیص بن عامر بن لویٰ تھیں۔[12]

خوارزمی نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے نسب کے متعلق یہ اشعار کھے ھیں:

نسب المطھرّبین اٴنساب الوری            کالشمس بین کواکب  الاٴنساب

والشمس ان طلعت فما من کوکب      الا تغیّب  فی نقاب حجاب

اس پاک و پا کیزہ ھستی کانسب تمام نسبوں میں ایسے ھے جیسے خورشید ستاروںکے درمیان طلوع ھوتا ھے تو تمام ستارے غائب ھو جاتے ھیں۔ مگر یہ کہ سورج تارےکی کے پردے میں چلا جائے.[13]

حلیہ:

حضرت علی علیہ السلام کاقد میانہ تھا،آپ کی آنکھیں سیاہ اور بڑی تھیں آپ (ع) کا چھرہ چودھویں کے چاند کی مانند خوبصورت تھا ،پےٹ مناسب حد تک بڑا، سےنے پر بال اور دوسرے اعضاء مضبوط اور مناسب تھے،آپ کی گردن چاندی کی صراحی کی مانند تھی اور آپ کے بال خفےف تھے۔آپ کی ناک لمبی اور خوبصورت تھی آپ کے جوڑ  شےر کی طرح مضبوط تھے اور جس پر بھت سے لوگ مل کر نہ قابو کر سکتے ھوں اسے آپ تنھااپنے قبضہ میں کر لیتے اور وہ سانس تک نہ لے سکتا۔[14]


 

[1] ارشاد شیخ مفید ۺ،ج ۱ ص ۵۔

[2] بحار ج ۳۵ ص ۸۔

[3] کشف الغمہ ج ۱ ص ۶۰۔

[4] منتھی الامال ج۱  ص۲۸۳۔

[5] کشف الغمہ ج ۱ ص ۶۰۔ 

[6] مستدرک الصحیحین ج ۳ ص ۴۸۳۔ 

[7] نور الابصار ص ۱۹۔

[8] مناقب خوارزمی ص۳۷،۳۸      

[9] الحاج علی محمد علی دخیل کی کتاب آئمتنا ج۱ ص ۳۱۔خوارزمی نے مناقب میں آپ کی کنیت میں ابو محمد کا اضافہ کیا ھے۔   

[10] مناقب خوارزمی ص۴۰۔

[11] مناقب خوازمی ص ۴۰ ۔

[12] شرح نھج البلاغہ ج ۱ ص ۱۱۔۱۴          

[13] مناقب خوارزمی ص ۴۸ ۔ 

[14] نصر بن مزاحم کی کتاب، واقعہ صفین ،ص۲۳۳۔

 

index