next

عرض مؤلف

back

 

کسی انسان کیلئے یہ ممکن نھیں ھے۔ ( خواہ اسکا احاطہ علمی کتنا زیادہ ھی کیوں نہ ھو اور اسکی فکر کتنی ھی بلند کیوں نہ ھو ) کہ وہ حضرت امیر المؤمنین صلوات الله و سلامہ علیہ کی زندگی کے تمام ابعاد پر واضح اور روشن گفتگو کر سکے یا کوئی رائے قائم کرسکے کیونکہ یہاں تو گھرائی ھی گھرائی ھے ، ان کا تعلق مثل و معنویات سے ھے ۔ یہ کیسے ممکن ھے !؟ کسی کی عقل یہاں تک پھنچ ھی نھیں پائی کہ وہ ان کی اصالت کو درک کر سکے جہاں فقط گھرائی اور عمق ھے ۔ اس سمندر میں موجیں غرق ھو جایا کرتی ھیں اور وہاں تک عقل کی پرواز نھیں ھو تی۔

جب ھم نے تسلیم کر لیا کہ ھم انھیں درک کرنے سے قاصر ھیں ۔ لہٰذا ھمارے موضوع کے لئے دو باتیں ھی کافی ھیں۔ ھم انھی پر اکتفاء کرتے ھیں۔ان میں سے ایک حضرت رسول خدا (ص)کے عَلَم والی حدیث ھے جیسے تمام کتب احادیث نے بیان کیا ھے جس میں حضرت نے فرمایا:

          < لَا عْطِیَنَّ الرَّایَةَ غَداً لِرَجُلٍ یُحِبُّ الله َ وَ رَسُولَہ ویُحِبُّہُ الله ُ وَ رَسُولُہُ کَرَّارٌ غَیْرُ فَرَّارٍ لَا یَرْجَعُ حَتّٰی یَفْتَحَ الله ُ عَلٰی یَدِیہِ۔>

      کل میں علم ایک مرد کو دوں گاجو الله اور اسکے رسول سے محبت کرتا ھے اور الله اور اسکا رسول اس سے محبت کرتے ھیں وہ کرّار ھے فرار نھیں ھے۔اور وہ اس وقت تک وآپس نہ لوٹے گا جب تک الله اسکے ہاتھوں فتح نہ دیدے۔[1]

      گویا خیبر کے دن ھر صحابی کی خواھش تھی کہ وھی لفظ رجل ( مرد ) کا مصداق قرار پائے ۔ ابھی صبح صادق ھوئی ھی تھی کہ حضرت رسول خدا (ص)نے پکار کر فرمایا ۔ علی علیہ السلام کو میرے پاس لاؤ ۔ آپ سے کھاگیا یا رسول الله (ص)وہ آشوب چشم میں مبتلا ھیں۔ لیکن کسی کو بھیج کر بلوایا گیا جب وہ تشریف لائے تو آشوب چشم کی وجہ سے انھیں دیکھائی نھیں دے رھاتھا۔ اسوقت حضرت رسول خدا(ص)نے آپ کی آنکھوں پراپنا لعاب دھن لگایا اور رب العزّت سے شفاٴ یابی کی دعا کی ۔ اس سے بڑھکر اور کیا علامت ھوسکتی ھے جو نھی دعائیہ یہ کلمات آسمان کی طرف روانہ ھوئے تو آپ کی تکریم اور عظمت کی خاطر اسے صحّت و عافیت نصیب ھوئی ۔ یہ اس پر الله کی نعمتوں کے نزول کا مقدمہ ھے کہ متقابلاً ایک دوسرے کی نصرت کی جارھی ھے ۔ یعنی اس مرد کی خاطر اب حروف پر نقطے لگائے جا رھے ھیں جیسے الله سے محبت ھے اور وہ الله کا مرید ھے۔

 دوسرے سورہ مائدہ میں خداوند متعال کی یہ تین آیات ھیں۔

<  یَا اَیُّھَا الّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیِنِہِ فَسَوْفَ یَاٴتِی اللهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّھُمْ و یُحِبُّونَہ اَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤمِنینَ اَعِزَّةٍ عَلَیِ الکَافِرِینَ یُجَاہِدونَ فِی سَبِیل اللهِ وَلاَ یَخَافُونَ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ۔ ذَلِکَ فَضْلُ اللهِ یُؤتِیْہِ مَن یَّشَاء ُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ۔ اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللهُ وَ رَسُولُہُ وَ الَّذِینَ

 اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیمُونَ الصَّلوٰةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکاةَ وَہُمْ رَاکِعُونَ وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللهَ وَ رَسُولَہ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا فَاِنَّ حِزْبَ اللهِ ہُمُ الْغَالِبُونَ۔>[2]

 اے ایمان والو!  تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پلٹ جائے گا تو عنقریب خدا ایک قوم کو لے آئے گا جو اسکی محبوب ھوگی اوروہ اس سے محبت کرنے والی ھوگی۔ مؤمنین کے سامنے خاکسار اور کفار کے سامنے صاحب عزت ھوگی اور راہ خدا میں جہاد کرنے والی اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے والی ھوگی۔ یہ خدا کا فضل ھے وہ جسے چاھتا ھے عطا کرتا ھے اور وہ صاحب وسعت اور علیم ھے ۔ پس تمہارا ولی صرف الله ھے اور اس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ھیںاور حالت رکوع میں زکوة دیتے ھیں ۔ اور جو بھی الله ، رسول اور صاحبان ایمان کو اپنا ولی بنائے گا۔ تو الله ھی کی جماعت غالب آنے والی ھے۔

جیسا کہ صاحب مجمع البیان نے بھی ذکر کیا ھے کہ مندرجہ بالا آیات کریمہ حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع) کی شان میں اسوقت نازل ھوئیں جب آپ نے ناکثین ، قاسطین اور مارقین سے جنگ کی ۔ سب محدثین ، نے اس حدیث کوجناب عمار ، حدیفة ، ابن عباس سے بیان کیا ھے۔نیز یہ حدیث حضرت امام زین العابدین اور حضرت امام محمد باقر علیھما السلام سے بھی مروی ھے ۔ اوریہاں اس بات کی تائید اس سے بھی ھوتی ھے کہ حضرت رسول خدا(ص) نے آیت میں مذکور صفات کے ساتھ اسوقت حضرت علی علیہ السلام کو متصف فرمایا تھا جب آپ نے لوگوں کی کئی مرتبہ بزدلی دیکھنے کے بعد فتح خیبر کا علم حضرت علی علیہ السلام کے حوالے فرمایا تھا ۔ [3]

حقیقتاً مذکورہ آیات میں بیان ھونے والی صفات فقط حضرت امیر المؤمنین پرصادق ھوتی ھیں۔ وہ علی علیہ السلام جسے الله تبارک و تعالیٰ نے مساکین اور اھل دین کی محبت سے نوازا تھا۔

 جب معاویہ نے ضرار بن ضمرہ کو حضرت علی علیہ السلام کے اوصاف بیان کرنے کو کھاتھا تو ضرار اوصاف بیان کرتے ھوئے کھتے ھیں وہ ھمارے درمیان اس طرح زندگی کرتے تھے گویا وہ ھم میں سے ایک ھوں ۔ جب ھم ان کے پاس جاتے وہ عطا کرتے ، جب سوال کرتے وہ جواب دیتے ۔ وہ ھم جیسے پست لوگوں کو شفت سے اپنے پاس بیٹھاتے ھیں۔ ھم ان کی ھیبت کی وجہ سے بات تک نھیں کرسکتے ۔ اور انکی عظمت کی وجہ سے آنکھیں اوپر نہ اٹھا سکتے۔ وہ اھل دین کی تعظیم فرماتے اور مساکین سے محبت کرتے تھے۔

جہاں تک آپ کے کافروں اور مشرکوں پرسخت ھونے ، الله کی راہ میں جہاد کر نے اور ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے کا تعلق ھے تو یہ فقط حضرت علی علیہ السلام کی خصوصیت ھے کہ آپ ھی میں یہ سب (نہ جدا ھونے والی) نشانیاں پائی جاتی تھیں ۔ آپ سختی میں بھی معروف تھے اور نرمی میں بھی ۔ خدا کی خاطر سخت بھی تھے اور نرم بھی ۔یہاں تک کہ آپ کے قریبی اور دور والے سب لوگوں نے الله اور رسول کی خاطر آپ کی ان صفات کو ملاحظہ کیا اور انھیں پتہ چل گیاکہ یقینا اس میں کوئی بڑا راز پوشیدہ ھے۔

یہاں تک کہ بعض اوقات حضرت رسول خدا (ص)اسلام اور مسلمانوں کی خاطر قریش کو جھڑک دیا کرتے جیسا کہ سھیل بن عمر ایک گروہ کے ساتھ حضرت رسول خدا کے پاس آکر کھنے لگا۔ اے محمد (ص)ھمارے غلام آپ کے ساتھ آملے ھیں ، انھیں وآپس پلٹا دیں۔

 حضرت نے فرمایا تھا اے قریشی گروہ !۔ اب ایسا نہ ھوگا الله عنقریب تم  میںایسے شخص کو بھیجے گا جو قرآن کی تاٴویل پر تمہارے ساتھ اس طرح جنگ کرے گا جیسے میں قرآن کی تنزیل پر تم سے جنگ کیا کرتا تھا۔ آپ کے کسی صحابی نے کھایارسول الله وہ کون ھے ؟ کیا ابوبکر ھیں؟ فرمایا نھیں ۔ مگر وہ جو حجرے میں جوتا گانٹھ رھاھے ۔ اس وقت حضرت علی علیہ السلام ، حضرت رسول خدا (ص)کا جوتا گانٹھ رھے تھے۔[4]یہ الله کا فضل ھے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاھتا ھے ، عطا کرتا ھے۔

جہاں تک دوسری آیت < اِنَّماَ وَلِیُّکُمُ اللهُ وَ رسُولُہ وَ الَّذِین آمَنُوا الّذِینَ یُقیمُونَ الصَّلوٰة ویُؤتُون الزَّکَاةَ وَہُمْ راکعونَ>

( پس تمھارا ولی الله ھے اور اس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ھیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ھیں ۔) کا تعلق ھے اس پر دونوں فرقوں کا اجماع ھے کہ جب حضرت علی علیہ السلام نے نماز میں صدقہ کے طور پر انگوٹھی دی تھی تو اس وقت آپ(ع) کی شان میں یہ آیت نازل ھوئی۔ الله تبارک و تعالیٰ نے حروف حصر میں سے قوی ترین حرف ( اِنَّمَا) کے ساتھ ولایت کی حصر فرمائی ھے ، یعنی  ولایت فقط خدا ، رسول اور امیرالمؤمنین کے لئے ھے۔الله تبارک و تعالی نے تیسری آیت میں اس طرح ارشاد فرمایا:

<وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللهَ وَ رَسُولَہ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا فَاِنَّ حِزْبَ اللهِ ہُمُ الْغَالِبُونَ۔>[5]

جو الله ، رسول اور صاحبان ایمان کو اپنا ولی بنائے تو بے شک الله کا گروہ ھی غالب آنے والاھے۔

توالی کے معنی ولی بنانا ھے تو اب اس آیت کا یہ معنی ھوگا جو الله تعالی ، اسکے رسول اور امیر المؤمنین کو اپنی زندگی اور مرنے کے بعداپنا ولی قرار دیتا ھے ۔ اور ان کے ذریعے دین حاصل کرتا ھے اور ان سے محبت اور مودت کرتا ھے اور ان کی اطاعت کرتا ھے تو وھی غالب ، فلاح یافتہ اور کامیاب ھے ۔ یعنی جزاء کے طور پر یہ صفات ،غلبہ ، کامیابی اور فلاح ) اسے نصیب ھوتی ھیں اور یہ الله تعالیٰ کے بندوں سے کیئے گئے وعدہ کا نتیجہ ھے ۔اور ایسا کرنے والے کو دنیا و آخرت کی سعادت نصیب ھوتی ھے۔

قارئین کرام  !  ایک بات باقی بچ گئی ھے جو نھی اس کاوقت آیا تو ھم اسے واضح کرتے رھے ھیں اور اسکی صراحت  یُّحِبُّھُمْ و یُحِبُّونَہ کے ذریعے  ھوجاتی ھے ۔

 اللہ تبارک و تعالیٰ کی ان کے ساتھ محبت کا لازمہ یہ ھے کہ یہ لوگ ھرظلم سے بری ھیں اور ھر رجس و پلیدی سے پاک و طاھر ھیں ۔ کیونکہ ظلم اور پلیدی ان امور سے ھیں جو محبوب خدا واقع نھیں ھو سکتے ۔ الله تبارک و تعالیٰ کا فروں ، ظالموں، مفسدوں ،حد سے بڑھے ھوؤں ، تکبر کرنے والوں اور اسراف کرنے والوں سے کبھی محبت نھیں کرتا۔

بالکل اسکے بر عکس الله تعالی احسان کرنے والوں ، صابروں ، متقیوں ، توبہ کرنے والوں، پاک رھنے والوں ، توکل کرنے والوں ، الله کی راہ میں جہاد کرنے والوں سے محبت کرتا ھے ۔ اھل قبلہ میں سے کسی کو شک و تردید نھیں ھے حتی کہ اھل قبلہ کے علاوہ دوسرے لوگوںکو بھی کسی قسم کا ریب و شک نھیں ھے کہ حضرت علی علیہ السلام ھی ان محبوب صفات کی حقیقی مثال ھیں بلکہ آپ مجسم صفات ھیں۔ اور یہ صفات آپ کی شخصےت اور جسم کا حصّہ ھیں ۔

 کسی شاعر نے کیا خوب کھاھے:

جُمِعَت فِی صِفَاتِکَ الاٴضداد            

                             ولذا عزّت لک الانداد

فَاتِک نَاسِک حَلِیم شُجَاع          

                             حَاکِم  زَاہِد  فَقِیر جَواد

شَیم مَا جَمعن فِی بَشَر قط             

                             وَلَا حَازَ مِثلھُنَّ العباد

خُلُقٌ یُخْجِلُ النَسیم مِن اللطف      

                             وَباٴ س یَذُوب مِنہ الجَماد

آپ میں وہ صفات جمع ھیں جو ایک دوسرے کی ضد ھیں۔ آپکی شان و شوکت کی کوئی نظیر و مثال نھیں ھے۔ آپ بیباک بھی ھیں عابد بھی ۔ حلیم بھی ھیں اور شجاع بھی ، حاکم بھی ھیں اور زاھد بھی اور فقرو سخاوت بھی آپ کا خاصہ ھے یہ بلند صفات آپ کے علاوہ کسی انسان میں جمع نھیں ھو سکتیں اور آپ جیسی صفات کسی انسان کو نصیب نہ ھوئیں ۔ آپ اتنے خلیق ھیں کہ نسیم صبح بھی آپ پر ھونے والے لطف سے شرمندگی محسوس کرتی ھے اور آپ میں اتنی شدت ھے کہ جس سے جمادات پانی ھو جاتے ھیں۔

اور جہاں تک (الله تعالی کیلئے) مبغوضہ صفات کا تعلق ھے تو نفسِ علی علیہ السلام میں ان کی کوئی گنجائش نھیں ھے ۔ آپ کو ان صفات سے شدید نفرت تھی ۔ کیونکہ آپ کی پوری زندگی فقط تقرب خدا میں گزری ھے اور آپ نے ساری زندگی خالق بزرگوار کی خاطر گزار دی ھے۔ لہٰذا اس کا مولا(خدا) جس سے محبت کرتا ھے یہ(علی  (ع)) بھی اسی سے محبت کرتے ھیں اور اسکا مولیٰ جس سے غضبناک ھوتا ھے اس سے یہ بھی غضبناک ھوتے ھیں۔

اے  یا علی  (ع) آپ تو ربّ العالمین کے حبیب ھیں ۔ الله تبارک و تعالیٰ نے آپ کے لئے لطف ، جمال اور فضل کی صفات کا جامع اور عمدہ کلمہ  (یُحِبُّھُمْ) استعمال کیا ھے ۔

کیا ھم محبوب خدا کو اپنا ولی نہ سمجھیں !؟

 جب کہ ھمارے لئے کوئی شک و تردید نھیں ھے کہ اور ثابت ا ور واضح ھے کہ آپ ولی خدا اور حبیب خدا ھیں توکیا اب بھی ھمارے لئے جائز ھو سکتا ھے کہ ھم آپ کے علاوہ کسی او رکو اپنا ولی قرار دیں ۔ جبکہ الله تبارک و تعالیٰ فرما رھاھے۔

وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللهَ وَ رَسُولَہ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا فَاِنَّ حِزْبَ اللهِ ہُمُ الْغَالِبُونَ۔>

جو الله ، رسول اور صاحبان ایمان کو اپنا ولی بنائے تو بے شک الله کا گروہ ھی غالب آنے والاھے۔  

والسلام

مؤلف:  شیخ ضیاء جواھری

 

 



[1] البدایة و النھایة ابن کثیر دمشقی ج ۴ ، ص ۲۱۳ ، دلائل بیھقی جلد ۴ ص ۲۱۰ ، ۲۱۲ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص۷ ۳ اور اس نے کھاھے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ھے اور ذھبی نے اسے بیان کیا اور اس کی موافقت کی ھے ۔نیز مسلم نے اسحاق بن ابراھیم سے اور انھوں نے ابی عامر سے اسکو ۳۲ کتاب الجہاد باب غزوة ذی قرد، ص ۱۴۳۹ پر ذکر کیا ھے۔

[2] سورہ مائدہ آیت نمبر ۵۴، ۵۵ ، ۵۶۔

[3] علامہ طباطبائی کی تفسیر المیزان جلد ۶ ص ۳۹۸ ۔ ۳۹۹(مندرجہ بالا آیات کی تفسیر

[4] سید طباطبائی کی تفسیر المیزان جلد ۶ ص ۳۹۸ ، ص ۳۹۹ ۔ تفسیر سورہ مائدہ۔،

[5] سورہ مائدہ آیت ۵۶۔

index