next

دسویں فصل

back

 

حضرت علی (ع) اور خلافت

خطبہ شقشقیہ میں حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے بیعت کے حوالے سے اپنے ساتھ مسلمانوں کے رویہّ کو بیان کرتے ھوئے ارشاد فرماتے ھیں:

 اس وقت مجھے لوگوں کے ھجوم نے دھشت زدہ کردیا جو میری طرف بجوّکے ایال کی طرح لگاتار بڑھ رھاتھا۔ یہاں تک کہ عالم یہ ھوا کہ حسن(علیہ السلام)اور حسین (علیہ السلام) کچلے جارھے تھے۔ اور میری ردا کے دونوں کنارے پھٹ گئے تھے۔ وہ سب میرے گرد بکریوں کے گلے کی طرح گھیرا ڈالے ھوئے تھے لیکن اس کے باوجود جب میں امور خلافت کو لے کر اٹھا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ ڈالی اور دوسرا دین سے نکل گیا اورتیسرے گروہ نے فسق اختیار کیا گویا انھوں نے اللہ کا یہ ارشاد سنا ھی نہ تھا۔

< تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِینَ لاَیُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الْاٴَرْضِ وَلاَفَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ >[1]

یہ آخرت کا گھر ھم نے ان لوگوں کے لئے قرار دیا ھے جو دنیامیں نہ (بے جا)بلندی چاھتے ھیں نہ فساد پھیلاتے ھیںاور اچھا انجام پرھیز گاروں کے لئے ھے۔

      پھر آپ خلافت کے متعلق اپنے نظریہ کو بیان کرتے ھوئے اسے قبول کرنے کی وجہ بیان فرماتے ھیں ۔

      دیکھو!   اس ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزیں پیدا کیں ،اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ھو گئی ھوتی اور وہ عھد نہ ھوتا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ھے کہ وہ ظالم کی شکم پری اورمظلوم کی گرسنگی پر سکون وقرار سے نہ بیٹھیں تو میں خلافت کی باگ ڈور اسی کے کندھے پر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اسی پیالے سے سیراب کرتا جس پیالے سے اس کے اول کو سیراب کیا تھا اور تم اپنی دنیا کو میری نظروں میں کسی چھینک سے بھی زیادہ ناقابل اعتناء پاتے۔[2]

ثابت بن قیس بن شماس انصاری کھتا ھے جب کہ ثابت، انصار میں پھلے شخص تھے جو بیعت کے بعد حضرت علی علیہ السلام سے گفتگو کر رھے تھے ۔

خدا کی قسم!  اے امیرالمومنین اگر وہ آپ سے ولایت میں پھلے تھے تو وہ دین میں آپ سے مقدم نہ تھے اگر وہ کل آپ سے پھلے حکومت کر گئے ھیں تو آج آپ کے پاس امر خلافت ھے ان لوگوں پر آپ کی منزلت بھی مخفی نہ تھی اور آپ کی عزت سے جاھل نہ تھے وہ جو چیزیں نھیں جانتے تھے ان میں آپ ھی کے محتاج رھتے تھے لیکن آپ کے علم کے ھوتے ھوئے (ھم)کسی کے محتاج نھیں ھیں۔[3]

 صعصہ ابن صوحان کھتے ھیں:

یا امیر المومنین (ع)! خد ا کی قسم خلافت آپ کو زیب دیتی ھے اور آپ ھی اس خلافت کے مستحق و سزا وار ھیں،خلافت کو آپ نے سر بلندی عطا کی نہ کہ خلافت نے آپ کو بلند کیا، خلافت تو آپ کی محتاج ھے۔[4]

خزیمہ بن ثابت انصاری ذوالشہادتین فرماتے ھیں :

یا امیرالمومنین!  ھم آپ کے علاوہ کسی کو خلافت کے لائق نھیں سمجھتے ،اور ھم فقط آپ کی ذات کی طرف ھی لوٹ سکتے ھیں یقینا آپ ھی کو صدق دل سے تسلیم کرتے ھیں کیونکہ آپ لوگوں میں سب سے پھلے ایمان لانے والے ھیں ،سب سے زیادہ علم رکھنے والے ھیں اور آپ کی ذات کے علاوہ رسول اللہ (ص)کا جانشین مومنین کے لئے کوئی نھیں ھے اور ان میں آپ جیسا کوئی نھیں ھے ۔[5]

پھر مالک بن حارث ابن اشتر کھڑے ھوتے ھیں اور کھتے ھیں :

اے لوگو!    یہ وصیوں کے وصی ھیں ،انبیا ء کے علم کے وارث ھیں ،عظیم مرتبہ والے ھیں اور سب سے بڑے سخی ھیں ،اللہ کی کتاب نے جس کے ایمان کی گواھی دی اور اللہ کے رسول نے آپ کی جنت رضوان کی گواھی دی ،وہ کون ھے جس میں اس قدر کامل فضائل ھوں جوکہ بلا شک و تردید سابق الایمان ھیں اور گذشتہ و آئندہ میں سب سے زیادہ عالم اور فاضل ھیں۔[6]

ابو ثور کھتے ھیں جب حضرت علی علیہ السلام کی بیعت ھو رھی تھی آپ اپنی جگہ سے اٹھے تو لوگ آپ کے اردگرد جمع ھو گئے اورآپ کی بیعت کرنے لگے ۔اورحضرت بنی مازن کے صحن میں آگئے اور ایک کھجور کے درخت کے پاس ٹےک لگا کر کھڑے ھوگئے لیکن لوگ میرے اور ان کے درمیان حائل ھو گئے ۔

 میں نے لوگوںکی طرف دیکھا کہ وہ کھنیوں تک اپنے ہاتھ آگے بڑھا کر آپ کے ہاتھوں پر بےعت کر رھے ھیں،مختلف ہاتھ نظر آرھے تھے، پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے۔

 سب سے پھلے جس شخص نے منبر پر چڑھ کر آپ کی بیعت کی، وہ طلحہ تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر بیعت کی اس کی انگلیاں شل تھیں اس وقت حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا وہ بیعت نہ کرے جو بعد میں اس کو توڑ دے ،پھر زبیر آیا اس نے آپ کی بیعت کی اور پھر سعد اور دیگر اصحاب رسول نے بیعت کی۔[7]

انساب الاشراف میں بلاذری کھتے ھیں کہ حضرت علی (علیہ السلام ) نے اس امر کو ضروری سمجھا جب آپ دوگروھوں کے درمیان اصلاح کرانے میں مایوس ھوگئے ، اورجب عثمان قتل کر دیے گئے۔

 لوگ اس معاملے میں پریشان تھے اور چاھتے تھے کہ حتمی طور پر ان کا کوئی امام ھو جس کے زیر سایہ یہ جمع ھوں سب لوگ حضرت علی (علیہ السلام)کے پاس آئے اور وہ یہ کہہ رھے تھے۔ ھمارے امیر حضرت علی ابن ابی طالب (ع)ھیں اور آپ کے گھر میں داخل ھوگئے اور کھنے لگے، اپنے ہاتھ بڑھائیے تاکہ ھم آپ کی بیعت کریں۔

آپ نے فرمایا :  تم میں کوئی ایسا شخص نھیں ھے! ہاں البتہ اس خلافت کے حق دار اھل بدر ھیں، کسی بدر والے کو راضی کر لو کہ وہ تمہارا خلیفہ بن جائے جب کوئی اھل بدر نہ مل سکا تو حضرت علی (علیہ السلام)کے پاس آئے اور کھنے لگے۔ اے ابوالحسن! اس خلافت کاھمیں آپ سے زیادہ کوئی حق دار نظر نھیں آتا۔[8]

ابن اثیر اپنی کامل میں کھتے ھیں کہ جب حضرت عثمان قتل کر دئے گئے تو حضرت رسول اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے مہاجراور انصاری صحابہ کرام جمع ھو گئے ان میں طلحہ اور زبیر بھی تھے۔

 یہ لوگ حضرت علی(علیہ السلام)کے پاس آئے اور ان سے عرض کی کہ لوگوں کے لئے امام کا ھونا ضروری ھے۔

حضرت نے فرمایا :مجھے کوئی حاجت نھیں ھے لہٰذا اپنی خلافت کے لئے اس کو منتخب کر لو جو اس پر راضی ھو ۔

وہ کھنے لگے ھم آپ کے علاوہ کسی کو پسند نھیں کرتے اور یھی جملہ انھوں نے کئی مرتبہ دھرایا اور حضرت سے کھنے لگے: ھم آپ کے علاوہ کسی کو خلافت کا حق دار نھیں جانتے کیونکہ آپ سے پھلے ایمان لانے والا کوئی نھیں ھے اور حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے قرابت داروں میں بھی آپ سے زیادہ قربت رکھنے والا کوئی نھیں ھے ۔

لیکن حضرت نے فرمایا:ایسا نہ کرو ،میں امیر بننے کے بجائے وزیر و وصی رسول بننے کو زیادہ پسند کرتا ھوں ۔وہ کھنے لگے خدا کی قسم ھم کبھی بھی ایسا نھیں کر سکتے یہاں تک کہ آپ کی بیعت نہ کر لیں ۔

حضرت نے فرمایا : چلو پھر مسجد میں چلتے ھیں میری بیعت نہ تو مخفی ھو سکتی ھے اور نہ مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ پر ھو سکتی ھے ۔

حضرت مسجد میں گئے لوگ آپ کی بیعت کرنے لگے لوگوں میں سب سے پھلے  جس نے بیعت کی وہ طلحہ بن عبداللہ تھا، حبیب بن ذؤیب نے اس کی طرف دےکھا اور کہا: اِنّا للّٰہ واِنّا اِلیہ راجعون سب سے پھلے جس نے آپ کی بیعت کی اس کا ہاتھ شل (سوکھا ھوا)ھے لہٰذا یہ خلافت بخوبی تمام نہ ھو گی یعنی میں نے اس کی بیعت کو بد شگونی کی علامت سمجھا ،اس کے بعد زبیر نے بیعت کی۔[9]

حضرت امیرالمومنین علی (علیہ السلام)نے اپنی خلافت میں فتنہ کو ختم کرنے کے لئے سب سے پھلا قدم یہ اٹھایا کہ آپ نے عثمان کے مقرر کئے ھوئے گورنروں کو معزول کردیا۔

یعقوبی اپنی تاریخ میں کھتے ھیں کہ ابو موسیٰ اشعری کے علاوہ حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عثمان کے تمام والیوں کو معزول کر دیا ،اورقثم بن عباس کو مکہ کا عبداللہ بن عباس کو یمن کا قیس بن سعد بن عبادہ کو مصرکا اور عثمان بن حنیف انصاری کو بصرہ کا والی بنایا۔[10]

بزرگ اور بااثر لوگوں کے ھوتے ھوئے حضرت عثمان نے اپنے قریبی رشتہ داروں اور اپنے بھائیوں کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط کردیا تھا لیکن حضرت علی علیہ السلام نے اپنی خلافت میں عدل و انصاف پر مبنی سیاست اورحضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے مطابق عمل کیا آپ نے اپنی خلافت کو سیرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق چلایا۔

 آپ نے بعض ایسے لوگوں کو خلافت سے معزول کیا جنھیںگذشتہ خلفاء نے بیس سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ سے حکومت دے رکھی تھی اور وہ اس پر پوری طرح قابض ھوچکے تھے، یہ موثق بات ھے کہ حضرت عمر بھی بیت المال کو مساوی تقسیم نہ کرتے تھے بلکہ وہ لوگوں کے اقدار اور سبقت اسلام کا لحاظ کرتے تھے اور ان کااس طرح تقسیم کرنا اسلامی اصول کے تحت نہ تھا بلکہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے ھوتا تھا اوراسی طرح عثمان بن عفان نے اچھے اچھے لوگوں کو چھوڑدیا اور زمین میں فساد کرنے والوں کو والی بنا دیا اور اس طرح ان میں جاھلیت کا زمانہ پلٹ آیا ،اور اموی روح اسلام پر قابض ھو گئی۔ جو لوگوں کوبغیر حساب و کتاب کے دیتا تھا ۔ چنانچہ حضرت علی (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا :

 اے لوگو!میں تم میں سے ھی ایک شخص ھوں۔ میراحصہ تمہارے برابر ھے اور جو تمھیں مشکلات ھیں ۔وہ مجھے بھی ھیں میں تم کو تمہارے نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے راستہ پر چلانے والا ھوں اور تمہارے درمیان اس چیز کو نافذ کروںگا جس کا مجھے حکم دیا گیا ھے ۔[11]

سیاست کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کے عدل و انصاف کی وجہ سے تمام مومن اور مستضعف راضی تھے لیکن بعض خود غرض لوگ جنھوں نے دنیا کو ھی سب کچھ سمجھ رکھاتھا وہ آپ سے ناراض ھو گئے لیکن حضرت علی (علیہ السلام)نے سیاست میں قدم رکھتے ھی اپنے نظریہ کا اعلان کر تے ھوئے ارشاد فرماتے ھیں:    

خبردار ھر وہ زمین کا ٹکڑا جسے عثمان بن عفان نے بخش دیا اور ھر وہ مال جو مال خدا تھا اور لوگوں میں بانٹ دیا گیا وہ اللہ کے گھر دوبارہ لوٹا دیا جائے گا کیونکہ حق کسی چیز سے باطل نھیں ھوسکتا اور اگر ایسا مال عورتوں کے مھر اور کنیزوں کے خریدداری پر بھی صرف کیا گیا ھو اور شھروں میں پھیلا دیا گیا ھو تو میں اس کو بھی وآپس پلٹا لوں گا کیونکہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے میں وسعت ھے اور جسے عدل کی صورت میں تنگی محسوس ھو اسے ظلم کی صورت میں اور زیادہ تنگی محسوس ھو گی۔

 اے لوگو!  تم میں سے کوئی شخص بھی یہ نہ کھے کہ وہ دنیا پر مر مٹے، انھوں نے زحمتیں اٹھائیں، دریاؤں میں راستے بنائے، گھوڑوں پر سوار ھوئے اور انھوں نے وظائف لئے لیکن جب ان سے یہ سب چیزیں روک لی گئیں اور انھیں ان کاموں سے دور کر دیا گیا جو وہ کرتے تھے تو وہ یہ نہ کھیںکہ ابن ابی طالب نے ھمارے حقوق ھم پر حرام کر دئے ھیں۔

آگاہ ھو جاؤکہ حضرت رسول اعظم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب میں سے مہاجر ھو یا انصار اس کی فضیلت اس کے صحابی ھو نے پر موقوف نھیں ھے کیونکہ فضل تو اللہ کے پاس ھے اور اس کا ثواب اور اجر دینا بھی اللہ پر ھے ۔آگاہ ھو جاؤکہ جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کی پےروی کرے گا تو گویا اس نے ھمارے دین کی تصدیق کی ھے اور وہ ھمارے دین میں داخل ھوا ھے اور اس نے ھمارے قبلہ کو قبول کیا ھے پس تم اسلام کے حقوق اور حدود کا خیال رکھو ۔

تم اللہ کے بندے ھو اور یہ مال اللہ کا مال ھے اور یہ تم سب کے درمیان  مساوی طور پرتقسیم کیا جائے گا یہ مال حاصل کرنے میں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نھیں ھے ۔[12]

عھد علی (ع)میں سیاسی اورمعاشرتی حالات

۱۔ بعض اصحاب کی بےعت شکنی،

اکثر انصار نے آپ(ع) کی بےعت کی مگر (اس وقت )چند لوگوں نے آپ(ع) کی بےعت نہ کی ان میں حسان بن ثابت، کعب بن مالک ،مسلمہ بن مخلد ،ابوسعید حذری ،محمد بن مسلمہ نعمان بن بشےر ،زید بن ثابت، رافع بن خدےج ،فضالہ بن عبےد ، کعب بن عجرة، یہ لوگ عثمانی تھے۔

 جہاں تک احسان کاتعلق ھے تو یہ ایک شاعر تھا جو کچھ وہ کھتا ھے اس کی کوئی پروانھیں کرتا تھا اور زید بن ثابت کو عثمان نے اپنے دیوان اور بیت المال کا والی بنارکھاتھا جب عثمان کا محاصرہ ھوا تو اس نے کہا:آے گروہ انصار دوبارہ اللہ کے انصار بنو، اس سے ابوایوب انصاری نے کھاوہ تمہاری اس لئے مدد نھیں کرتے کہ تم میں اکثر غلام ھیں۔

کعب بن مالک کوعثمان نے صدقہ وصول کرنے پر مقرر کیا تھا اور جب ان سے یہ عھدہ واپس لیا تو اس نے عثمان کو چھوڑ دیا، اسی طرح عبداللہ بن سلام ، صھیب بن سنان ،مسلمہ بن سلمہ بن وقش، اسامہ بن زید ،قدامہ بن مظعون اور مغیرہ بن شعبہ نے بھی آپ کی بےعت نہ کی ۔[13]

یعقوبی کھتے ھیں تےن افراد کے علاوہ قریش کے تمام لوگوں نے آپ کی بےعت کی ،یعنی مروان بن حکم ،سعید بن عاص اور ولید بن عقبہ یہ اپنی قوم کے سردار تھے چنانچہ انھوں نے کہا:

ھم نے آپ کو اس لئے اکےلا چھوڑ دیا ھے چونکہ آپ نے ابی صبرا کو جنگ بدر میں اور جہاں تک سعید کا تعلق ھے اس کے باپ کو بھی آپ نے جنگ بدر میں قتل کیا تھا اور اس کا باپ قریش کا نور تھا اور جہاں تک مروان کا تعلق ھے اس کے باپ کو بھی آپ نے برا بھلا کھا،جب و ہ عثمان کے پاس چلاگیا تھا ۔

ان لوگوں نے کہاکہ ھم اس بناء پرآپ کی بےعت کرےں گے جو کچھ ھم پہ گزرا ھے آپ اس کا جبران کرےں گے اور جو مال ھمارے پاس ھے ،وہ ھمارے پاس رھنے دیا جائے اور ھمارے بزرگوں کے قاتلوں کوقتل کیاجاناچاہئے، اس پر حضرت علی علیہ السلام غضبناک ھوئے اور فرمایا:

تم نے جو کچھ ذکر کیا ھے اور خاص طور پر مجھے چھوڑ دیا ھے ،تو کیا حق ےھی ھے!کہ جو کچھ تم پر گزرا ھے میں اس کا جبران کروں، تو یہ ممکن نھیں ھے کیونکہ جو کچھ ھوا وہ خدا کے لئے ھوا اور رھایہ کہ جو کچھ تمہارے پاس ھے وہ میں بخش دوں، تو کیا اس میں خدا اور مسلمانوں کا حق نھیں ھے؟

بھرحال عدالت میں ھی تمہارے لئے آسانی ھے اور جہاں تک عثمان کے قاتلوں کو قتل کرنے کا مسئلہ ھے ان کا قتل کرنا جس طرح آج مجھ پر ضروری ھے کل بھی ضروری ھوگا۔

 لیکن تم لوگوں نے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی(ص) کی سنت کوچھوڑ دیا تو جس پر حق مشکل دکھائی دے تو باطل اس کے لئے مزید مشکل بن کر سوار ھو گا، اگر تم چاھو تو اپنے حامیوں کے ساتھ جاکرملحق ھو جاؤ۔

اس کے بعدمروان کھتا ھے کہ ھم آپ کی بےعت کرتے ھیں اور آپ کے ساتھ ھیں جو آپ کا نظریہ ھے وھی ھمارا بھی ھے ۔[14]

ابن کثیر اپنی سند کے ساتھ کھتے ھیں کہ مروان بن حکم ،ولید بن عقبہ اور کچھ دوسرے لوگ شام کی طرف بھاگ گئے اسی طرح واحدی کھتے ھیں کہ لوگوں نے مدینہ میں حضرت علی علیہ السلام کی بےعت کی اور سات افراد نے بےعت نھیں کی انمیں ابن عمر ،سعد بن ابی وقاص وغیرہ شامل ھیں ۔[15]

۲۔سیاسی حیلوں اور کچلنے والی د شمنی کا ظھور،

یعقوبی اپنی تاریخ میں بیان کرتے ھیں کہ حضرت عائشہ حضرت عثمان کے قتل سے پھلے مکہ سے چلی گئیں تھیںچنا نچہ جب حج کر کے واپس آرھی تھیں توواپسی میں ابن ام کلاب سے ملاقات ھوئی اس سے پو چھا عثمان کا کیا ھوا اس نے کھاکہ وہ قتل ھوگیا ھے اس نے کھاکہ یہ سن کر عائشہ نے کھایہ تو غضب ھو گیا۔

کچھ دیر کے بعد کسی دوسرے سے ملاقات ھوئی اس سے پو چھا افراد کس کی بےعت کررھے ھیں اس نے کہاکہ طلحہ کی۔

حضرت عائشہ کھتی ھیں اس دو انگلیوں والے کی اور پھر راستے میں کسی دوسرے سے ملاقات ھوئی تواس سے بھی پوچھتی ھیں لوگ کیا کررھے ھیں وہ شخص کھتا ھے کہ حضرت علی علیہ السلام کی بےعت کررھے ھیں۔

حضرت عائشہ کھتی ھیں کہ خدا کی قسم میں اس کی بےعت نہ ھونے دونگی، اور پھر مکہ میں واپس لوٹ آئیں کچھ دن قیام کیا ادھر چند روز بعد پھر طلحہ اور زبیر حضرت علی علیہ السلام کے پاس آئے اوردونوں نے کھاکہ ھم عمرہ کرنا چاھتے ھیں لہٰذاآپ ھمیںاجازت دے دیں ۔

ان میں سے بعض لوگوں نے کھاکہ حضرت علی( علیہ السلام )نے ان دونوں سے یا بعض اصحاب سے فرمایا: خدا کی قسم انھوں نے عمرہ کا ارادہ نھیں کیا تھا۔بلکہ ان دونوں نے تباھی وبربادی کاارادہ کیا تھا اوروہ مکہ میں حضرت عائشہ کے ساتھ جاملے اور اسے میرے خلاف خروج اوورقیام کے لئے مجبور کیا۔[16]

جب حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب( علیہ السلام )کو معلوم ھواکہ طلحہ اور زبیر صرف اس وجہ سے مخالفت کر رھے ھیں کہ ھم مسلمانوں کے درمیان بیت المال کی تقسیم برابر اور عدل کے ساتھ کرتے ھیں ، تو ارشاد فرمایا:

 جہاں تک بیت المال کاتعلق ھے تو،اس کے بارے میں کسی کا کسی پر کوئی اثر نھیں ھے اللہ تعالی نے اس کی تقسیم کو پورا پورا کر دیا ھے پس یہ اللہ کا مال ھے اور تم اللہ کے مسلمان بندہ ھو اور یہ اللہ کی کتاب ھے اس کا ھم نے اقرار کیا ھے اور اسے تسلیم کیا ھے اورھمارے نبی کا زمانہ ھم پر واضح ھے اور جو شخص اس پر راضی نھیں ھے وہ جوچاھے کرے ،اللہ کی اطاعت میں عمل کرنے والے کے لئے کسی قسم کی کوئی وحشت نھیں ھے ۔

 پھر آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے آپ(ع) نے دو رکعت نماز پڑھی اور پھر عمار بن یاسر اور عبدالرحمن بن حسل کو طلحہ اور زبیر کے پاس بھےجا اور ان سے کھاتمہاراحصہ تھوڑا ھے اور تمہاری امیدیں زیادہ ھیں میں تمہارے لئے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ھوں۔

مجھے معلوم ھوا ھے کہ تم کھتے ھو کہ میں نے تمہارا کچھ ضروری حق ادانھیں کیاھے ،تو وہ کھنے لگے معاذاللہ ،پھر فرمایا کہ کیا اس مال سے میں اپنے لئے بھی کچھ رکھتا ھوں ؟انھوں نے کھامعاذ الله ایسا نھیں ھے، پھر فرمایا :کیا کسی مسلمان کا کوئی ایسا حکم یا حق ھے جسے میں نے ادا نہ کیاھو یا کم دیاھو ؟

کھنے لگے معاذاللہ ایسا بھی نھیں ھے، حضرت نے فرمایا: پھر کیا وجہ ھے کہ تم لوگ اسے پسند نھیں کرتے اور میرے خلاف غلط پروپیگنڈہ کر رھے ھو اس پر وہ کھنے لگے کہ آپ عمر ابن خطاب کی تقسیم کے خلاف لوگوں میں مال تقسیم کرتے ھیں آپ نے ھمارا حصہ عام لوگوں کے برابرکر دیا ھے ۔

تب حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

جہاں تک مساوی تقسیم کا تعلق ھے تو مساوی ھی رھے گی کیونکہ مجھے اور تمھیں معلوم ھے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا ھی کیا کرتے  تھے اور اللہ کی کتاب بھی اس پر شاھد ھے ۔

اورجہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ھے کہ ھمیں مال اضافی دیا جائے اور جو ھماری تلوارےں اور تیروں کی وجہ سے ھمیں حاصل ھوا ھے اس میں ھم اور دوسرے لوگ برابر کے شرےک نھیں ھیں بلکہ وہ لوگ جو سابق الاسلام ھیںاور انھوں نے اپنی تلواروں اور تیروں کے ساتھ اسلام کی نصرت کی ھے انھیں اس میں مقدم کیاجائے۔

لیکن اس سلسلہ میں پیغمبر اکر(ص)م کسی کو فضیلت نھیں دیتے تھے اور ان کے سابق الاسلام ھونے کا بھی کوئی اثر نہ تھا اللہ تعالی سابق اور مجاھد کو قیامت کے دن ان کے اعمال کی جزا دے گا۔

 خدا کی قسم! میرے نزدیک تم دونوں اوردوسرے لوگوں کے لئے اس مساوی تقسیم کے علاوہ کچھ نھیں ھے پھر دعائیہ کلمات فرمائے اللہ تعالی اس شخص پر رحم کرے جو حق کی رعاےت اوراس کی مدد کرتا ھے اور جب ظلم کو دےکھتا ھے تو اسے دور کرتا ھے۔[17]

 اس زمانہ میں جو مشکلات اور مسائل سامنے آئے ان میں سے ایک یہ ھے کہ بصرہ کے رافضی بھی مروان بن حکم کی قیادت میں جنگ جمل کافتنہ ختم ھونے کے بعد معاویہ سے جاملے اور عمر بن عاص کا گروہ بھی معاویہ سے جاملا ۔

یعقوبی اپنی تاریخ میں کھتے ھیں کہ معاویہ نے عمر ابن عاص کے پاس خط لکھا :

اما بعد: جب کہ حضرت علی علیہ السلام، طلحہ اور زبیر اور حضرت عائشہ کے معاملے (کی خبر )تم تک پھنچ چکی ھے اورمروان نے بصرہ کے رافضیوں کو ان سے علیحدہ کر کے ھمارے پاس بھیج دیا ھے اور ھمارے پاس حضرت علی علیہ السلام کی بےعت کے لئے جرےد بن عبداللہ آیا ھے، تمہارے بارے میں میرا بھی یھی خیال ھے کہ تم بھی جلد میرے پاس پھنچ جاؤ۔[18]

      ۳۔حضرت امیرالمؤمنین (ع)کی بےعت سے معاویہ کا انکار

حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے معاویہ کو ایک خط لکھا جس میں آپ نے اسے بےعت کرنے کی دعوت دی اور اھم امور کی خبر دیتے ھوئے ارشاد فرمایا :

امابعد ! تمہارامدینہ میں آکر میری بےعت کرناضروری ھے اور تم (ابھی تک ) شام میں ھی ھو جب کہ ان تمام لوگوں نے میری بےعت کر لی ھے جنھوں نے ابو بکر، عمر اور عثمان کی بےعت کی تھی اورحاضر و غائب تمام لوگوں نے بیعت کرلی ھے اور کسی نے بھی انکار نھیں کیا ھے اور مہاجرین وانصار کی شوریٰ ھے جس نے اتفاق کے ساتھ مجھے اپنا امام تسلیم کرلیا ھے۔اور میری خلافت میں اللہ کی رضا بھی ھے اور جوشخص اس امر کی مخالفت کرے گا تو وہ غیر سمجھا جائے گا اوراسے ان لوگوں کی طرف لوٹایا جائے گا جو غیر ھیں۔

 اور جواللہ کی ولایت اور مومنین کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستہ کا اتباع کرےگا تو اسے قتل کر دیا جائے گا اور جس نے اس ولایت کو تسلیم نہ کیا وہ واصل جھنم کیا جائے گا اورجھنم بھت براٹھکانا ھے ۔

طلحہ اور زبیر نے میری بےعت توڑدی ھے اور دونوں دھوکا کرنے کے بعد تیرے پاس آگئے ھیں ،جب کہ حق آگیا ھے اور باطل بھاگ گیا ھے اور اللہ کا امر ظاھر ھوگیا ھے جب کہ یہ لوگ اسے پسند نھیں کرتے۔

جس طرح دوسرے مسلمانوں نے بیعت کی ھے تم بھی اسی طرح بیعت کرو کیونکہ تمہارے لئے یھی بھتر ھے اور اسی میں تمہاری عافےت ھے اور تو کسی مصیبت میںگرفتار نھیں ھو گا اور اگر تو نے اس سے انکار کیا توتجھے سرکوب کرنے کیلئے مجھے الله کی مدد کافی ھے اورمجھ تک تیرے بارے میں عثمان کے قتل کے متعلق بھت سی باتیں پھنچی ھیں لہٰذا اس میں تیری بھلائی ھے کہ اس بےعت میں داخل ھوجا جس میں دوسرے مسلمان داخل ھوئے ھیں پھر ان کا محاکمہ کرنا میرے ذمہ ھوگا اورمیرا کام تمھیں اللہ کی کتاب کے مطابق دعوت دینا ھے اور جو باتیں تم اپنے خیال میں تصور کرتے ھو وہ صرف فریب بازی اور دھوکا دھڑی پر مبنی ھیں ۔

مجھے اپنی زندگی کی قسم اگرتم حقےقت کو عقل کی نگاھوں سے غور وخوض کرو اور اپنی خواھشات کو دور کرو تومجھے عثمان کے خون سے بری پاوٴ گے اور تمھیں یہ بھی معلوم ھو جائے گاکہ تم جس گروہ سے تعلق رکھتے ھو اس کا خلافت اور شوری میں کوئی حصہ اور مقام نھیں ھے  میں نے تمہاری طرف جرےد بن عبداللہ کو بھیجا ھے وہ اھل ایمان اور اھل ھجرت سے ھے پس تم بےعت کرو طاقت ا ور قوت فقط اللہ کے لئے ھے۔             والسلام [19]

جب جرےر معاویہ کے پاس پھنچے تو اس نے عمر بن عاص سے مشورہ طلب کیا، عمرو نے اسے خط لکھا اور اس میں یہ مشورہ دیا کہ حضرت عثمان کے خون کے انتقام کے معاملہ پر ڈتے رھو اور بہانہ بنا کر اھل شام کوجنگ کے لئے آمادہ کرلو۔

اس لئے معاویہ نے جامع دمشق میں عثمان کا خون آلود کرتہ اور اسکی بیوی نائلہ کی انگلیوں کے خون سے آلودہ قمیص کولٹکادیا اور اھل شام سے عھد لیا کہ وہ اس وقت تک آرام سے نھیں بےٹھیں گے اور اپنی عورتوںکے قریب نہ جائیں گے جب تک عثمان کے خون کا بدلہ نہ لے لیں اس کے بعدمعاویہ نے جرےد کے ہاتھ حضرت علی علیہ السلام کے خط کا جواب اس طرح لکھا۔

امابعد :اگرچہ قوم نے آپ کی بےعت کر لی ھے اور آپ حضرت عثمان کے خون سے بری ھیں اور آپ بھی حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کی طرح ھیں لیکن آپ نے مہاجرین وانصار کو عثمان کے حوالہ سے دھوکا دیا ھے یہاں تک کہ ان کے جاھلوں نے آپ کی بےعت کر لی اور کمزور لوگوںنے آپ کی تقویت کی جب کہ اھل شام آپ سے جنگ کرنا چاھتے ھیں مگر یہ کہ آپ عثمان کے قاتلوں کو ھمارے حوالے کر دیں۔

یھی آپ کیلئے بھترھوگا مسلمانوں کے درمیان امر شوریٰ قرار دیں اور شوریٰ بھی اھل شام کے افراد پر مشتمل ھو نہ کہ اھل حجازکے افراد پر ،البتہ آپ کے  قریش میں سب سے پھلے اسلام لانے اور حضرت رسول الله(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) قرابت جیسی فضیلتوں کا میں منکر نھیں ھوں ۔[20]

       اس و قت حضرت علی علیہ السلام نے معاویہ کے خط کا جواب دیتے ھوئے ارشادفرمایا :

اما بعد:مجھے ایسے شخص کا خط ملا جو ایسی بصارت نھیں رکھتا ھے جس سے وہ ھدایت حاصل کرے اسے سعادت اور ھدایت کی طرف بلانے کا کوئی فائدہ نھیں۔ وہ اپنی خواھشات پر سوار ھے وہ یہ تصور کرتا ھے کہ میں نے اسے عثمان کے سلسلہ میں دھوکا دیاھے مجھے اپنی زندگی کی قسم میںخود مہاجرین و انصار میں سے ھی ایک فرد ھوں۔میں نے بھی کیا جو انھوں نے کیا،اور جیسا کہ انھوں نے کھامیں نے وھی کیا لہٰذا میں کسی دوسری قوم کے ساتھ نھیں ھوں۔

 جہاں تک تمہارا یہ کھنا ھے کہ اھل شام کی شوریٰ قائم کی جائے تو بتاؤ شام میں کون ھے جو خلافت کی صلاحیت رکھتا ھو تم جس کا بھی نام لوگے بتاؤ تو مہاجرین اور انصار اس کی تکذےب کرےں گے اور جہاں تک تو نے میرے سوابق اور فضائل کا اعتراف کیا ھے تو اسمیں تو ناتواں و عاجز ھے کیونکہ اگر تو ان کوختم کرنے پر قادر ھوتا تو یقینا ختم کرنے کی لاحاصل کوشش کرتا ۔

 پھر آپ نے اصبغ بن نباتہ تمیمی کے ہاتھ خط روانہ کیااور خودلشکر کی طرف نکل آئے اور اصبغ شام کی طرف روانہ ھو گیا اصبغ کھتا ھے کہ میں جب معاویہ کے پاس پھنچا تو عمر ا بن عاص معاویہ کے دائےں طرف اور ذوالکلا ع و حو شب اس کی بائےں طرف اور ان کے ساتھ اس کا بھائی عقبہ اور ابن عامر، ولید بن عتبہ ،عبد الرحمن بن خالد بن ولید ،شرحبیل بن ا لسمط اور ابو ھرےرہ بیٹھے ھوئے تھے جب کہ اس کے سامنے ابو داؤد ،نعمان بن بشےر ابو امامہ باھلی بےٹھے تھے میں ان کے پاس گیا اور انھیں حضرت علی (ع)کاخط دیا اس نے خط کو پڑھااور کھنے لگاکہ:

اےسا لگتا ھے کہ علی( علیہ السلام) عثمان کے قاتل ھمارے حوالے نھیں کرنا چاھتے اصبع کھتا ھے کہ میں نے کھاکہ اے معاویہ تمھیںعثمان کے قاتلوں کی ضرورت نھیں بلکہ تم کو تو صرف حکومت اور سلطنت کی ضرورت ھے اگر تجھے عثمان کے قاتلوں سے کوئی سروکار ھوتا تو تم علی( علیہ السلام) کی مدد کرتے لیکن تم نے اس مسئلہ کو نظر انداز کردیا ھے اور اس مسئلہ سے انتہائی دور ھو گئے ھو یہ دنیا حاصل کرنے کا ایک بہانہ ھے یہ سن کر معاویہ غضبناک ھوگیا اورمیں نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ھوئے ابو ھریرہ سے کہا:

 اے ابو ھرےرہ تم تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ھو مجھے اس رب کی قسم جس کے علا وہ کوئی معبود نھیں ھے میںتجھے رسول خداکا واسطہ دے کر پوچھتا ھوں کہ تو بتا کیا تم نے بھی غدیر خم پر حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علی علیہ السلام کے حق میں یہ کھتے سنا ھے جس کا میں مولا ھوں اس کا علی مولا ھے ۔

ابو ھرےرہ کھتا ھے کیوں نھیں خدا کی قسم میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کلمات فرماتے ھوئے سنا ھے، میں نے کھااے ابو ھرےرہ کیوںتو اس کے دشمن کو والی سمجھ رھاھے اور حضرت کے دشمن کی محبت میں سرمست ھے ابوھرےرہ نے سرد آہ لی اور کہا:

 اِنّا للّٰہ واِنّا اِلیہِ راجعون۔

 یہ سننا تھاکہ معاویہ کا چھرہ متغیر ھوا اور کھنے لگا تم نے یہ کیا گفتگو شروع کر رکھی ھے تم اھل شام کو عثمان کے خون کا مطالبہ کرنے میںدھوکہ نھیں دے سکتے   کیونکہ وہ مظلومےت کے ساتھ محترم شھر اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے حرم میں اپنی بیوی کے سامنے مارا گیا۔ یہ وھی لوگ ھیں جنھوں نے اس کو دھوکہ دے کر قتل کر دیا اور آج وہ اس کے مدد گار اور دست وبازوبنے بےٹھے ھیں حضرت عثمان کی طرح کسی کا خون نھیں بہایا گیا ۔

ذوالکلا ع ،حوشب اور معاویہ بن خدےج کھتے ھیں کہ اے معاویہ ھم تیری مدد کریں گے یہاں تک کہ تیری مراد بر آئے یاکسی ایک کو قتل کر دیا جائے اس وقت اصبغ کھڑے ھو کر کچھ اشعارپڑھتے ھیں جن کو سن کر معاویہ نے کھاکہ تم قاصد بن کر آئے ھو یا ھماری عیب جوئی کرنے آئے ھو؟یہ سن کو اصبغ عراق کی طرف روانہ ھوگئے[21]

۴۔ حصول دنیا کےلئے کھلم کھلا دشمنی اور زمانہ جاھلیت کے رسم و رواج۔

اس زمانے میں حصول دنیا کے لئے کھلم کھلا دشمنی ، زمانہ جاھلیت کی طرف پلٹا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے دوری اوراحکام اسلام سے انحراف عام ھو گیا تھا اور ھماری بات پر زید بن عوام کی لوٹ گھسوٹ شاھد ھے جس کا تذکرہ بخاری کی جلد۵صفحہ ۲۱ کتاب جہاد کے باب برکة الغازی فی مالہ پر کیا ھے۔

جناب زیدکے مدینے میں گیارہ اور بصرہ میں دو گھر تھے جبکہ مصر اور کوفہ میں ایک ایک گھر تھا اس کی چار بیویاں تھیں اور ھر بیوی کی جائیداد ۷۷ لاکھ کے لگ بھگ تھی بخاری کھتے ھیں اس کا تمام مال ۵کروڑ اور دو لاکھ پر مشتمل تھا۔[22]

 جہاں تک طلحہ بن عبداللہ التیمی کاتعلق ھے تواس نے کوفہ میں ایک ایسا گھر بنایا ھوا تھا جولوگوں میں دارطلحتےن کے نام سے معروف تھا اور اس کا عراق میں روزانہ ایک ہزار دینا ریا اس سے کھیں زیادہ کا غلے کا کاروبار تھا۔

اور اس سے بھی کھیں زیادہ مال ناحےةالسراة میں تھا اور اس کا مدینہ میں ایک بھت بڑا گھر تھا جسے اس نے چونے اینٹوں اور کاشی سے بنوایا تھا ابراھیم بن محمد کھتے ھیںکہ جو طلحہ نے جو مال چھوڑاتھا اس کی قیمت تقریبا ۳۰ لاکھ درھم بنتے ھیں ابن جوزی کھتے ھیں کہ طلحہ نے بے ایمانی سے تےن سو سونے کے لادے ھوئے اونٹ ھتھیا لئے تھے  ۔[23]

 جہاں تک عبد الرحمن بن عوف زھری کا تعلق ھے اس کے متعلق ابن سعد کھتے ھیں کہ عبد الرحمن اپنے بعد ایک ہزار اونٹ تےن ہزار بھےڑےں اور سو گھوڑے چھوڑ ے جو بقیع میں چرتے تھے اور وہ زر اعت کرتا تھا اور اس نے سونے کے کاروبار میں کافی دھوکا دھڑی کی تھی اور اس کی موجودگی میںیہ کام انجام پایاجب کہ لوگوں میں یہ بات ظاھر ھے۔[24]

ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی (انھیں مثالوں کی روشنی میں) دےکھ لیں چنا نچہ ان جیسے لوگوں کے لئے حضرت علی علیہ السلام نے اپنی خلافت کے ابتدائی دنوں میں ارشاد فرمایا:

خبر دار : جس دنیامیں تم نے آنکھیں کھولی ھیں اس میں تمہاری خواھشےں اور تمنائیں بھی ھیں کبھی تم اسمیں ناراض اور کبھی راضی رھو گے یہ دنیا تمہارا کوئی گھر  نھیں جس کے لئے تمھیں پیدا کیا گیاھے کھیں یہ تمھیں دھوکہ نہ دے دے اس لئے میں تمھیں اس سے آگاہ کرتا ھوں ۔[25]

ابن ابی الحدید بیان کرتے ھیں کہ جب حضرت عمر نے خلافت کی باگ ڈور سنبھال لی تو اس نے مال فئی میں بعض لوگوں کو دوسروں پر فضیلت دی اور جس طرح پھلے مال تقسیم کیا جاتا تھا اس روش کو بھلادیااسطرح عمر کی خلافت (کی مدت) میں اضافہ ھو گیا کیونکہ اس نے لوگوں کے دلوں کو مال ودولت کی وجہ سے جیت لیا تھا اور جن لوگوںکے حقوق کم کئے گئے تھے انھوں نے صبرکرلیا اوروہ قناعت کے عادی بن گئے اورحکمرانوںنے یہ خیال تک نہ رکھاکہ یہ سلسلہ کب تک جاری رھے گا۔

یااس میں کبھی کوئی تبدیلی بھی واقع ھوگی ۔جب حضرت عثمان خلیفہ بنے تو انھوں نے حضرت عمر کے طریقہ کارکو جاری رکھا اور اپنے باوثوق ساتھیوں کو پھلے سے بھی زیادہ مال غنیمت دیا۔

 لیکن جب حضرت علی علیہ السلام مسند خلافت پر جلو ہ فگن ھوئے توانھوں اس معاملے کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے مطابق چلا یا حالانکہ پھلے دونوں خلفاء کے زمانے میں (۲۲سال تک) حضرت رسول  خدا(ص)کی سیرت اورر وش کے خلاف عمل ھوتا رھالیکن جب حضرت علی (ع) سیرت کے مطابق عمل شروع ھو اتو یہ ان لوگوں کو برا لگا ،اسی وجہ سے انھوںنے کینہ و حسدکی بنا پر آپ کی مخالفت کی اور جو ان کے جی میں آیا وہ  انھوں نے کھا۔[26]

آپ ملاحظہ کرےں گے کہ کس طرح زمانہ جاھلیت کے کےنے ظاھر ھو گئے اور دوبارہ نئے انداز میں حق کے ساتھ برسر پیکارھوگئے ابن ابی الحدید حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خلافت میں بعض سرداروں کی مخالفت کو بیان کرتے ھوئے کھتے ھیں کہ صبح کی نماز کے بعدلوگ مسجدمیں تھے کہ طلحہ اور زبیرحضرت علی علیہ السلام کے نزدیک سے اٹھ کر دوسری جگہ جا بیٹھے اس کے بعد مروان ، سعید اور عبد اللہ بن زبیر بھی ان دونوں کے پاس جا بےٹھے پھر قریش کا ایک گروہ آیا اور وہ بھی ان کے ساتھ بےٹھ گیا۔

 یہ لوگ راز داری میں کافی دےر باتیں کرتے رھے اس کے بعد ولید بن عقبہ بن ابی معےط وہاںسے اٹھا اور حضرت علی علیہ السلام کے پاس آیااور کھنے لگا اے ابو لحسن :آپ نے ےقےنا ھم سب پر ظلم کیا تھا جنگ بدر میں آپ نے میرے باپ کوقتل اور میرے بھائی کوذلیل و رسواکیا ھے۔

جہاں تک سعید کا تعلق ھے تو آپ نے اس کے باپ کوجنگ بدر میں قتل کر دیا تھا حالانکہ کہ وہ قریش کا سردار تھا اور جہاں تک مروان کی بات ھے تو اس کا باپ جب عثمان کے پاس آیا تھا تو آپ نے اس کے باپ کی بے عزتی کی تھی۔

جب کہ ھم بنی عبد مناف آپ کے بھائی بند کھلاتے ھیں۔  آج ھم نے آپ کی بےعت کی ھے تا کہ آپ بھی عثمان کی طرح ھمیں مال ودولت سے نوازتے رھیں اورعثمان کے قاتلوں کو قتل کرےں اور اگر آپ نے ھمیںسب کو برابر سمجھا تو ھم آپ کاساتھ چھوڑ دیں گے اور شام میں جا کرآپ کے مخالفوں میں شامل ھو جائیں گے۔

اس وقت حضرت علی (ع)نے ارشاد فرما یا :

تم لوگوں نے جس ظلم کا تذکرہ کیا ھے در حقیقت خود تم لوگوںنے ظلم کیا ھے میں نے نھیں کیا اور جہاں تک اس بات کا تعلق ھے کہ پھلے کی طرح جو کچھ مال ومتاع تمھیں ملتا تھا میں بھی اسی طرح تمھیں دے دیتاھوں تو سن لو میرے لئے ضروری نھیں ھے کہ میں اللہ کے حق کو تم اور تم جیسے دوسرے لوگوں پر ضائع کردوں اور جہاں تک عثمان کے قاتلوں کا تعلق ھے تو جس طرح ان کو کیفر کردار تک پھنچانا آج مجھ پرضروری ھے اسی طرح کل بھی مجھ پرلازم تھا۔

اب تم مجھے ڈراتے ھو کہ میں تم پر احسان کروں اور میں تمھیں گرفتارھونے کا خوف دلاتا ھوں۔چنا نچہ ولید وہاں سے اٹھ کر اپنے ساتھیوں کے پاس چلاگیا اور ان سے بات چیت کرنے  میں مشغول ھو گیاپھر یہ لوگ حضرت علی (ع) کی عداوت اور دشمنی کی قسم کھا کروہاں سے اٹھ کھڑے ھوئے ۔[27]

اگر ھم ان کے زمانہ جاھلیت کی طرف پلٹنے کے تمام شواھد پیش کرنا چاھیں تو یہ کتاب اس کی اجازت نھیںدیتی البتہ اس قسم کے بھت سے شواھد (تاریخ  میں)موجود ھیں۔

 ان میں ایک واضح ترےن شاھد یہ ھے کہ ان لوگوں نے غلاموں غلام زادوں، فاسقوں فاجروں حضرت رسول خدا (ص)کے دشمنوں اوراپنی حکومت میں بڑے بڑے عھدے دیئے اورانھیںگورنر تک بنایا۔

 اسلام کے دشمنوں اور اسلام کو دھوکا دینے والوں کوان کی داستانےں تاریخ اور سیرت کی کتب میں مشھور ومعروف ھیں ۔

 ان میں ایک شاھد یہ ھے کہ اپنے عھدیداروںکے ساتھ خلیفہ ثالث تشریف فرما تھے اس واقعہ کو ابوھلال عسکری نے اپنی کتاب اوائل میں اس طرح بیان کیا ھے کہ معاویہ عثمان کی خلافت کے آخری ایام میں مدینہ آیا عثمان بعض لوگوں کے درمیان بےٹھے ھوئے تھے اور پیش آنے والے اھم مسائل کے بارے میں گفتگو کرتے ھوئے کہہ رھے تھے۔کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافر کی توبہ قبول فرماتے تھے لہٰذا میں بھی اپنے چچا کو دوبارہ واپس بلاتا ھوں کیونکہ اس نے توبہ کر لی ھے اور اس کی توبہ قبول کر لی گئی ھے اگرحضرت ابو بکر اورحضرت عمر کی بھی اس کے ساتھ وہ رشتہ داری ھوتی جو میرے ساتھ ھے وہ بھی اسے ضرورپناہ دیتے ۔

جہاں تک مجھ پر یہ اشکال کیا جاتا ھے کہ میں خدا کے مال سے لوگوں کو نوازتا ھوں تو یہ اس لئے ھے کہ میں خلیفہ ھوں اور اس مال کے متعلق وھی حکم دیتا ھوں جس میں امت کی مصلحت دےکھتا ھوں اگر اےسا نہ ھو تو پھر خلیفہ کس چیز کا ھوا۔معاویہ نے اس کی بات کاٹی اور اس کے سامنے جو مسلمان موجود تھے انھیں مخاطب کر کے کھنے لگا (ھماری شاھد مثال بھی یھی ھے )   

اے مہاجرین! آپ جانتے ھیں کہ اسلام سے پھلے یہ اپنی قوم کا سردار تھا تمام امور اسی کے سپرد تھے یہاں تک کہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ھوئے تو اس نے اسلام قبول کیا ۔بڑے بڑے لوگ اس کی رائے کے سامنے کمزور پڑ جاتے تھے اور تم پربھی سبقت کی وجہ سے ھی مقدم ھے نہ کسی اور وجہ سے۔

 لیکن آج یہ کھاجاتا ھے کہ فلاں قبیلہ فلاں خاندان جب کہ اس سے پھلے یہ چیزےں نہ تھیں اور جن امور میں تمہاری استقامت ھے اسی میں تم دوام پیدا کرو اور اگر تم نے ھمارے اس شےخ کو چھوڑا تو منہ کے بل گرو گے اور یہ تمہارے اختیار میں ھے اگر اےسا ھوا تو تمہارااس جگہ ثابت قدم رھنا اور ھجرت کرنا تمھیں کوئی فائدہ نھیں دے گا ۔

حضرت علی علیہ السلام نے اس سے کھاکہ اے کثیف عورت کے فرزند!

ان تمام باتوں کا تم سے کیا تعلق ھے تو معاویہ کھتا ھے اے ابولحسن میری ماں کا اس طرح تذکرہ نہ کرو کیونکہ وہ عورتوں میں اس قدر خسےس نہ تھی اگر آپ کے علاوہ کوئی اور اس طرح کھتا تومیں جواب دیتا۔ حضرت علی(علیہ السلام) غصے کی حالت میںوہاں سے اٹھ کر باھر جانے لگے تو عثمان نے کہابےٹھ جائےے آپ نے فرمایا کہ میں نھیں بےٹھوں گا ،عثمان کھنے لگا میں آپ کو قسم دیتا ھوں کہ بیٹھ جائیں ۔

حضرت نے انکار کیا اور چلے گئے [28]

  


 

[1] سورہ  قصص آیت۸۲۔

[2] شرح نھج البلاغہ ج۱ص۲۰۰۔۲۰۲۔

[3] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۷۹۔

[4] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۷۹۔

[5] تاریخ یعقوبی ج۲ص۱۷۹۔

[6] تاریخ یعقوبی ج۲ص۱۷۹۔

[7] امامہ و سیاسة،ابن قتیبہ ج۱ ص۴۷۔

[8] سیرت ائمہ اثنی عشر ج۱ ص۳۹۱۔

[9] الکامل فی التاریخ ج۲ ص۳۰۲۔

[10] تاریخ یعقوبی ج۲ص۱۷۹۔

[11] سیرت ائمہ اثنی عشر ج۱ ص۳۹۳۔۳۹۴۔

[12] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۶۹۔اور ج ۷ ص۳۷۔

[13] الکامل فی التاریخ ابن اثیر ج۲ص۳۵۳ ۔

[14] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۷۸،۱۷۹۔

[15] لبدایہ والنھایہ ج ۷ص۲۱۴۔

[16] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۸۰۔

 [17] شرح نھج البلاغہ ج۷ص۴۰،۴۲۔

[18] تاریخ یقعوبی :ج۲ص ۱۸۴۔

[19] سبط جوزی کی تذکرہ الخواص ۔صفحہ۸۱۔

[20] تذکرةالخواص۔ ص۸۱ ،۸۲۔

[21] تذکرةالخواص ص۸۴۔

[22] لغدیر ۔ ج ۸ ۔ ص ۲۸۲۔

[23] ا  لغدیر۔ ج ۸ ص۔۲۸۳۔

[24] الغدیر ج۸ ص۲۸۴

[25] شرح نھج البلاغہ ج۷ ص۴۰

[26] شرح نھج البلاغہ ج۷ ص ۴۲ ،۴۳۔

[27] شرح نھج البلاغہ ج۷ ص۳۸،۳۹۔

 [28] شرح نھج البلاغہ ج۱ص۳۳۹۔

 

index