next

نویں فصل

back

 

 

حضرت علی (ع) کاسیاسی دور، خلفاء سے تعلق، دین کی خدمت

اور اتحاد بین المسلمین

 

حضرت علی علیہ السلام کا سیاسی دور

 

اھلبیت علیھم السلام نے اسلام کی شناخت اور اس کی بقاء اور حفاظت کے سلسلے میں نمایاں کردار ادا کیا ھے اور اسی سے ان کی پہچان ھوتی ھے انھوں نے مسلمانوں کو اسلام کی عزت و عظمت کی طرف دعوت دی اور انھیں اتحاد کا درس دیا،ان کے درمیان اخوت اور برادری کا سلسلہ قائم کیا ان لوگوں کو الفت محبت کا راستہ بتایا اور انھیں بغض وحسد سے دور رھنے کی ھدایت کی۔

 حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا گزشتہ خلفاء کے ساتھ رویہّ فراموش نھیں کرنا چاہئے جبکہ انھوں نے حضرت کے ساتھ زیادتی کی آپ کے حق کو غصب کیا آپ کی منصوص خلافت کو انھوں نے چھپایا اور انھوں نے حسد کی وجہ سے اس نص کو ظاھر نہ ھونے دیا۔

 لیکن جب خلافت آپ تک پھنچی تو اس وقت جتنے صحابی بچ گئے تھے انھوں نے مشھور و معروف رحبہ والے دن غدیر کی نص پر گواھی دی آپ نے جو کچھ مسلمانوں اور اسلام پر گزشتہ خلافتوں کے دوران ھوا، مصلحت کی وجہ سے اس کی طرف اشارہ تک نہ کیا اور اس عھد کے متعلق اس طرح فرمایا:

فخشیت اِن لم اٴنصر اِلاسلام واٴھلہ اٴن اٴریٰ فیہ ثلما اٴوھدما ۔

مجھے ڈر ھے کہ اگر اسلام اورمسلمانوں کی مدد نہ کی گئی تو میں دیکھ رھاھوں کہ اسلام کو تھوڑا تھوڑا کرکے کاٹ دیا جائے گا یا اسلام کی عمارت کو آھستہ آھستہ گرا دی جائے گی۔[1]

ان تمام حالات میں حضرت علی علیہ السلام نے جو مثال پیش کی ھے اس کی نظیر نھیں ملتی جب کہ ان لوگوں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائی اور چچا زاد کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کسی پر پوشیدہ نھیں ھے۔ آپ نے ذاتی اورشخصی مفاد سے بلندھوکر اسلامی مصالح کے تحت اھل اسلام کی خدمت کی اور اس وجہ سے کوئی ایسا قدم نھیں اٹھایا جو خلفاء کی بادشاھت کی شان وشوکت پر اثر انداز ھو یا ان کی سلطنت کے ضعف کا سبب بنے یا ان کی ھیبت کے کم ھونے کا سبب ھو ۔

آپ اپنے دل پر پتھر رکھ کر گھر میں خاموشی سے بیٹھ گئے ۔ لوگ آپ کے پاس حاضر ھوتے اور آپ کو ھر چیز کا عارف جانتے ،حضرت عمر ابن خطاب کئی مرتبہ یہ کھنے پر مجبور ھوگیا :

لاکنتُ لمعضلة لیس لھا اٴبوالحسن ۔

میرے لئے کوئی ایسی مشکل نھیں جس کو حل کرنے کے لئے ابوالحسن موجود نہ ھوں۔

 اسی طرح خلیفہ ثانی نے متعدد بار کھا:   لولا علي لھلَکَ عُمر ۔

اگر علی نہ ھوتے تو عمر ھلاک ھو جاتا ۔[2]

ابو سفیان کی منافقت

جب سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکر کی بیعت کی جارھی تھی۔ اس وقت ابوسفیان صنحر بن حرب کھتا ھے۔ میں نے وہاں ایسا غبار دیکھا جو خون بہانے کے بغیر نھیں چھٹ سکتا تھا اس نے مدینہ کی تنگ گلیوں میں چکر لگاتے ھوئے در جہ ذیل چند اشعار کھے :

    بني ہاشم لا تُطمعو االناس فیکم

                             ولا سیما تیم ابن مرہ او عدي

فما الاٴمر اِلاّفیکم واِلیکم

                             ولیس لھا اِلا اَبوحسن علي

اے بنی ہاشم ! لوگ تم میں رغبت نھیں رکھتے اور خصوصا تیم بن مرہ اور عدی قبیلہ میں بھی وہ رغبت نھیں رکھتے جبکہ امر خلافت کے فقط آپ ھی سزا وار ھیں اور یہ آپ کو ھی ملنا چاہئے اور ابولحسن علی (ع)کے علاوہ کوئی اس کا حق دار نھیں ھے ۔

پھر حضرت علی علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کیا:

ابسط یدک اٴُبایعک فواللہ لئن شئت لاٴملاٴنّھا علیہ خیلاً ورجلاً فابیٰ اٴمیر الموٴمنین۔

آپ اپنے ہاتھ پھیلایئے تا کہ میں آپ کی بیعت کروں خدا کی قسم اگر آپ چاھیں تو میں گھوڑوں اور انسانوں سے میدان( جنگ )بھر دوں ۔لیکن حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ۔ [3]

شیخ مفیداپنی کتاب ارشاد میں ( اس واقعہ کے ذیل میں) بیان کرتے ھیں :

حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے ابو سفیان سے کھا:

تم یہاں سے چلے جاوٴخدا کی قسم جو تیری خواھش ھے میں اس طرح کبھی بھی نہ کروں گا کیونکہ تم تو ھمیشہ سے اسلام اور اھل اسلام کو دھوکا دیتے رھے ھو۔[4]

فضل بن عباس کا انداز

جب سقیفہ میں حضرت ابوبکر کی بیعت ھونے لگی تو انصار حضرت ابوبکر کو چھوڑ کر ایک طرف ھوگئے تو قریش غضبناک ھوئے اور انھوں نے ابوبکر کی خلافت کو بچانے کے لئے خطبے دینے شروع کیے عمر ابن عاص کو قوم قریش نے کھاکہ اٹھو اور خطبہ دو وہ کھڑا ھوا اور اس نے انصار کے بارے میں گفتگو شروع کردی۔

اس وقت فضل بن عباس کھڑے ھوئے اور انھوں نے عمر وبن عاص کو جواب دینا شروع کر دیا پھر وہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس حاضر ھوئے اور حضرت علی علیہ السلام کو اس کے متعلق بتایا اور کچھ اشعار پڑھے۔ حضرت علی علیہ السلام غصے کی حالت میں مسجد کی طرف روانہ ھوئے اوروہاں پھنچ کر انھوں نے انصار کو نصیحت کی اور عمر بن عاص کی گفتگو کا جواب دیا۔

 جب انصار کو اس بات کا پتہ چل گیا تو وہ کھنے لگے کہ حضرت علی علیہ السلام کی گفتگو سے بھتر ھمارے پاس کوئی بات نھیں ھے (یعنی ھمارے ما فی الضمیر کو انھوں نے ھم سے بھتر انداز میں بیان کیا ھے) پھر یہ لوگ حضرت حسان بن ثابت کی خدمت میں پھنچے اور کھنے لگے کہ آپ فضل کو جواب دیں توحسان بن ثابت نے کہا:  اس نے جو کچھ پیش کیا ھے وہ بکواس ھے ۔لہٰذا تم فقط حضرت علی (ع) کو اپناؤ، اور یہ اشعار کھے:

جزیٰ اللہ خیراً والجزاءُ بکفّہ۔

                             اٴبا حسن عنا ومن کُاٴ بي حسن۔

سبقت قریشاً بالذي اٴنتَ اٴھلُہ۔

                             فصدرک مشروح و قلُبک مُمتحن۔

تمنت رجال من قریش اٴعزةً۔

                             مکانک ھیھات الُھزال من السَمَنِ ۔

اللہ کی جزا پوری پوری اور مکمل جزا ھے اوروہ یہ ھے کہ ابولحسن ھم سے ھیں اور تم بتاؤ کوئی ابولحسن جیسا ھو سکتا ھے آپ اس خاندان سے ھیں جس کو قریش پر برتری نصیب ھوئی آپ کا سینہ کشادہ ھے اورآپ کا دل ھر چیز کو جانچ لیتا ھے قریشی اسی کی تمنا کرتے رھتے ھیں کہ ھمیں بھی آپ جیسی عزت نصےب ھو۔اور پھر فرمایا:

حفظت رسول اللہ فےنا وعھدہِ

                             اِلیکَ و مَن اٴولیٰ بہ منک مَن ومِن

الستَ اٴخاہُ في الاخا ووصیہِ۔

                             واٴعلم فھرٍ بالکتابِ وبالسننِ۔

رسول خدا نے آپ کو برگزیدہ اور عھد کا پورا کرنے والا پایا اور فرمایا کہ تیرے اور میرے علاوہ کون  بھترھے ؟ اور میرا وصی کون ھو سکتا ھے؟ کیا تم ھی اخوت والے دن میرے بھائی نہ تھے؟(بےشک)تم ھی کتاب و سنت کو زیادہ جاننے والے ھو۔[5]

خلفاء کو نصیحتیں

حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے سے پھلے خلفاء کو جو نصیحتیں کی تھیں تاریخ نے انھیں اپنے دامن میں محفوظ رکھا ھے اور آپ کے ٹھوس اور پرخلوص مشوروں کوتاریخ نے بیان کیا ھے ۔ ھم ان میں سے چند نصےحتوں کوسپرد قرطاس کرتے ھیں۔

حضرت ابوبکر

جب حضرت ابوبکر نے رومیوں کے ساتھ جنگ کرنے کا ارادہ کرلیا تو اصحاب رسول سے مشورہ کیا بعض نے جنگ کرنے کا اور بعض نے جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیا آخر میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں مشورہ کے لئے حاضر ھوئے تو آپ نے فرمایا:

 جنگ کے لئے نکلو،اگر تم نے میرے مشورے کے مطابق عمل کیا تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی ۔حضرت ابوبکر نے کھا:آپ نے بھت اچھی بشارت دی ھے اور خطبہ دینے کے لئے کھڑے ھوئے اور حکم دیا کہ روم کی طرف نکلنے کے لئے تیار ھوجاؤ۔[6]

حضرت عمر

حضرت عمر ابن خطاب کے عھد خلافت کے بارے میں ،کسی ایک مؤرخ نے بھی یہ بیان نھیں کیا حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اس کی خلافت کے مقابل آئے ھوں۔

 بلکہ آپ نے بھی دوسرے لوگوں کی طرح خاموشی اختیار کرلی اورآپ نہ تو جانے والوں کا اور نہ آنے والوں کا ذکر کرتے بلکہ اچھائیوں کا تذکر ے رھتے۔آپ اپنی نیک اور مبارک زبان سے ھمیشہ اچھی گفتگو کرتے رھتے اور انھیں مسلسل نصیحتیں کرتے رھتے تھے ۔

اسلام کی مشکل کشائی اور مصلحت کے لئے آپ نے اپنے اوپر پڑنے والی تمام مشکلات کو برداشت کرلیا اور حاکم اور حکومت کو اسی زاویے (مصلحت اسلام)سے ھی دیکھا کرتے یہاں تک کہ اسلام بڑی سرعت کے ساتھ سرزمین حجاز سے نکل کربھت دور پھنچ گیا ۔لیکن فاتح حکام کے پاؤں غفلت کی بنا پر لڑکھڑا گئے جس سے خلافت کمزور پڑنے لگی ۔حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے کئی مرتبہ یہ ارشادفرمایا :

واللہ لاسالِمَنَّ ما سلمت امور المسلمین ولم یکن بھا جورٌ اِلا عليَّ خاصة ۔

خدا کی قسم میں مسلمانوں کے امور کے سلسلے میں ھمےشہ ان کے ساتھ ھم آھنگ رھاجبکہ فقط میرے لئے ھی ظلم و جورروا رکھا گیا۔[7]

حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنی عمومی زندگی کو وسعت دے رکھی تھی آپ نے لوگوں کے حقوق بھترین انداز میں ادا کئے۔آپ نے لوگوں کو تعلیم دینے ،فقہ سمجھانے اور ان کے درمیان قضاوت کرنے کا سلسلہ حضرت ابوبکر کے دور حکومت میں بھی وسیع پیمانے پر جاری رکھا۔

تاریخ گواہ ھے کہ حضرت عمر ابن خطاب بھی آپ کے فیصلوں کا احترام کرتے تھے اور آپ کے ھی مشوروں کو اھمیت دیتے اور تسلیم کرتے تھے یہاں تک کہ شریعت اسلامی کے علاوہ عمومی مسائل میں بھی آپ ھی کی رائے قابل توجہ ھوا کرتی تھی اور حضرت عمر یہ کھتے ھوئے نظر آتے ھیں :

لا اٴبقاني اللّہ لمعضلةٍ لیس لھا اٴبواٴلحسن۔

اللہ تعالی مجھے کسی ایسی مشکل میں زندہ نہ رکھے جس کو حل کرنے کے لئے ابولحسن (ع) نہ ھوں۔

تاریخ ھجری کا آغاز

آج تک جاری رھنے والی مشھور معروف تاریخ ھجری کو شروع کرنے کےلئے حضرت عمر نے پروگرام بنایااوراصحاب کو جمع کیا تاکہ ان سے اس موضوع پر رائے لی جاسکے لیکن ان کی آراء میں بھت زیادہ اختلاف پیدا ھوگیا۔اگر حضرت علی (ع) اس وقت اپنی محکم اور پختہ رائے کیساتھ آگے نہ بڑھتے تو یہ اختلاف شدید تر ھو جاتا ،حضرت عمر آپ کی طرف متوجہ ھوئے اور آپ سے رائے طلب کی چنا نچہ آپ نے فرمایا ھمیں چاہئے کہ ھم لوگ حضرت رسول(ص)کی مکہ سے مدینہ کی طرف ھجرت کرنے والے دن سے اپنی تاریخ کا آغاز کریں حضرت عمر ابن خطاب نے اس (عمدہ اور محکم )رائے پر تعجب کیا اور اسے قبول کر کے کھنے لگے:

لا زلت موفقاً یااٴباالحسن

اے ابولحسن ھمیشہ آپ ھی کی رائے تسلیم کی جاتی ھے۔[8]

حضرت علی کی مدح عمر کی زبان سے:

ا بن ابی الحدید،حسین بن محمد سبتی سے روایت بیان کرتے ھیںکہ ایک دن حضرت عمر انتہائی پریشان تھے پریشانی میں کبھی بھی اٹھتے اور کبھی بیٹھتے اور پھر جھوم کر کھتے کہ اے حاضرین محترم! آپ کی اس امر کے بارے میں کیا رائے ھے ؟انھوں نے کھااے امیر آپ ھی تو جزع و فزع کرنے والے ھیں ۔یہ سن کر حضرت عمر غضبناک ھوئے اور قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت کی :

<یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِیدًا ۔>

اے ایمان لانے والو!اللہ سے ڈرواور محکم بات کیا کرو۔[9]

 پھر کھامیں اور آپ سب لوگ یہ بات اچھی طرح جانتے ھیں کہ اللہ تعالی کے اس فرمان کا مصداق کون ھے ؟ان لوگوں نے کھا: گویا آپ کی مراد اس سے علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) ھیں؟

حضرت عمر نے کہا:  یقینا وھی اس کے مصداق ھیں اور میں اس سے کبھی رو گردانی نھیں کر سکتا اور یہ بڑے عالی ظرف انسان ھیں اورکوئی بھی ان کی مثل نھیں ھے ان لوگوں نے کھا:اے امیرپھر تو آپ انھیں ضرور یہاں دعوت دیں اور بلائیں ۔ حضرت عمر نے کھاکتنے افسوس کی بات ھے کیا ان کے علاوہ کوئی بنی ہاشم کا چشم و چراغ ھے جو نبی(ص) کے علم کا وارث ھو اور اس کا گوشت، رسول کا گوشت ھو۔

لہٰذا ھم خود ان کے پاس چلتے ھیں اور انھیں یہاں بلانے کی ضرورت نھیں۔ راوی کھتا ھے کہ ھم لوگ ان کی طرف چل پڑے جب ان کے پاس پھنچے تو ھم نے دیکھا کہ وہ ایک چار دیواری کے اندر چادر اوڑھ کر تشریف فرما ھیں اور قرآن مجید کی اس آیت مجیدہ کی آیت اٴَیَحْسَبُ الانْسَانَ اَنْ یُتْرِکَ سَدیٰ[10] (کیا انسان گمان کرتا ھے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا۔)سے لے کر آخر سورہ تک تلاوت فرما رھے ھیں۔

اوران کے رخساروں پر آنسو جاری تھے اور ان کے اس گریہ نے لوگوں کو بھت متاثر کیا اور لوگ بھی حضرت کے ساتھ مل کر گریہ کرتے رھے ،جب وہ خاموش ھوئے تو یہ سب لوگ بھی خاموش ھوگئے ۔حضرت عمر نے اس واقعہ کے متعلق آپ سے دریافت کیا توآپ نے اس کا جواب عنایت فرمایا ،حضرت عمر کھنے لگے: خدا کی قسم ھم نے تو آپ کے حق کو مدنظر رکھا لیکن آپ کی قوم نے آپ کو حق دینے انکار کردیا حضرت نے فرمایا:

اے ابوحفص !آپ فورا یہاں سے تشریف لے جائیں کیونکہ ان یومَ الفصل کانَ میقاتاً۔[11]

حضرت عمر نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھا اور بڑی تیزی کے ساتھ وہاں سے نکل گئے اور یوں لگتا تھا کہ گویا وہ سراب کو دیکھ رہاتھا [12]

بیت المقدس کی فتح اور آپ کا مشورہ

حضرت علی علیہ السلام کے مشوروں میں سے ایک مشورہ یہ تھا کہ جب خلیفہ ثانی نے بیت المقدس کی کے فتح مسئلہ میں لوگوں سے مشورہ مانگا جب کہ ابوعبیدہ نے خط کے ذرےعہ اس کی توجہ اس طرف مبذول کی تھی لہٰذا حضرت عثمان بن عفان نے اس سلسلے میں یہ مشورہ دیا کہ کہ ھمیں انکی طرف نھیں نکلنا چاھےے کیونکہ ھم انھیں حقےر جانتے ھیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس سلسلے میں یہ مشورہ دیا کہ ھمیں ان کی طرف جانا چاھےے کیونکہ اگر وہ مسلمانوں کا محاصرہ کر لیں تو یہ ھر مسلمان کی ذلت اور رسوائی کا سبب بن جائے گا۔ چنانچہ جب خلیفہ وہاں سے اٹھا تو اس نے وھی کیا جو حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا تھا اور جو کچھ حضرت عثمان نے کھاتھا اس نے نہ مانااور ایک بڑے لشکر کے ساتھ ان لوگوں پر حملہ کر دیا، اس طرح انھوں نے بیت المقدس کو فتح کر لیا اس دوران حضرت علی علیہ السلام مدینہ کے امور کی نگرانی کرتے رھے ۔[13]

واقعہ نہاوند میں جب باب ،سند ،خراسان اور حلوان کے ایک لاکھ پچاس ہزار گھوڑے سوار مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے جمع ھوگئے توجب خلیفہ ثانی کویہ معلوم ھوا تو اس نے لوگوں کو مشورہ کے لئے جمع کیا لیکن خود اس نے ان کی طرف جانے کا ارادہ کر لیا، طلحہ بن عبےداللہ نے بھی یھی نظریہ دیا اور کھاکہ ھمارا کام تو آپ کی اطاعت اور پیروی کرنا ھے جو آپ کی مرضی ھے وھی رائے میری بھی ھے،حضرت عثمان اس سلسلے میں یو ں ھمکلام ھوئے میرا خیال یہ کہ آپ اھل شام کو خط میں لکھیں کہ وہ شام سے نکلیں اور اھل یمن یمن سے چلیںاور تم کوفہ اور اور بصرہ والوں کو لیکر نکلوںتا کہ تمام مسلمان تمام مشرکین کے سامنے صف آرا ھوجائیں ۔

چنا نچہ حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

 اگر تمام شامی شام سے نکل پڑےں تو روم والے ان کے بچوں پر حملہ کر دیں گے اسی طرح اگر تمام ےمنی ےمن سے نکل پڑےں تو حبشہ والے ان کی اولادپر حملہ کر دیں گے اور اگر تم یہاں سے نکل پڑے تو گرد ونواح کے تمام عرب تم پر ٹوٹ پڑےں گے۔ لہٰذا میری رائے یہ ھے کہ تم بصرہ والوں کوخط لکھو، کہ وہ تےن گروہ میں تقسیم ھوجائیں ایک گروہ مستورات اور بچوں کے پاس رھے اور دوسرا گروہ اھل عھد کے ساتھ اور تےسرا گروہ اپنے کوفی بھائیوں کی مدد کے لئے نکلے اور وہاں پھےل جائے کیونکہ عجمی کل تمھیں دیکھیں گے تو وہ لوگ کھیں گے کہ یھی عربوں کا امیر المومنین اور ان کی اصل ھے لہٰذا تیرے خلاف ان کے دل زیادہ سخت ھوجائیں گے حضرت عمر نے کھایھی وہ رائے ھے جسے میں پسند کرتا ھوں اور چاھتاھوں کہ اس کے مطابق عمل کروں۔ [14]

دور عثمان

خلیفہ سوم کے زمانے میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے بھت زحمتےں اٹھائےں جب شوریٰ قائم ھوئی تو حضرت نے فرمایا:

واللہ لاسالِمَنَّ ما سلمت امور المسلمین ولم یکن بھا جورٌ اِلا عليَّ خاصة۔

خدا کی قسم میں مسلمانوں کے امور کے سلسلے میں ھمےشہ ان کے ساتھ ھم آھنگ رھاجبکہ فقط میرے لئے ھی ظلم و جورروا رکھا گیا۔

 ان تمام مشکلات کے باوجود حضرت علی علیہ السلام خلیفہ ثالث کے ساتھ ھمیشہ اخلاص کے ساتھ پیش آتے تھے اسی طرح وہ مشکلات جو انھیں اپنی ظاھری خلافت کے دوران پیش آئےں ان کے متعلق آپ(ع) نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم میں عثمان کو دشمنوں سے دور کرتا ھوں لیکن مجھے خوف تھا کہ اس کے باوجود گنھگار میں ھی ٹھھرایا جاؤں گا ۔[15]

      ابن قتےبہ اپنی کتاب امامت وسیاست میں کھتے ھیں کہ جب عثمان کے خلاف بغاوت بڑھتی چلی گئی تو حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کسی وادی میں چلے گئے اور وہاں مقےم ھوگئے۔

 حضرت علی علیہ السلام کے چلے جانے کے بعد عثمان کے خلاف بغاوت مزید بڑھ گئی جب کہ طلحہ اور زبیرکو یہ امید تھی کہ وہ لوگوں کے دلوں کو عثمان کی طرف مائل کر لیں گے اور بغاوت پر غلبہ حاصل کر لیں گے، انھوں حضرت علی علیہ السلام کی عدم موجودگی کو غنیمت سمجھا لیکن جب بغاوت حد سے بڑھ گئی تو عثمان نے حضرت علی علیہ السلا م کو اس طرح خط لکھا:

 معاملہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ھے اور میرے خلاف ایک طوفان ا مڈ آیا ھے، لوگ میری توھین کر رھے ھیں اور وہ میرا خون بہانے اور میرے قتل کے درپہ ھیں اور میں اس مصیبت کو اپنے سر سے دور نھیں کر سکتا، اور پھریہ شعر کہا:

فان کنت ماکولافکن خیر اکل           ولا فارکنی ولما افرق

 اگر آپ پر بھروسہ کیا جائے تو آپ بھترین  بھروسہ والے ھیں میری مدد کو آئےے مجھ سے اتنا دور کیوں ھیں ؟[16]

ابن اثیر اپنی کتاب کامل میں کھتے ھیں کہ حضرت علی علیہ السلام جب وآپس لوٹ آئے تو اس وقت لوگ عثمان کی طرف رجوع کر چکے تھے آپ نے ان سے فرمایا:تم لوگوں سے ایسی گفتگو کرو جسے وہ تم سے سنیں اور تم پر گواہ قرار پائےں اور جو کچھ تمہارے دل میں ھے اللہ اس پر گواہ ھے۔

 اس وقت تک امن امان قائم نھیں ھوگا جب تک کوفہ اور بصرہ سے دوسرے سوار نہ آجائیں، عثمان نے کھااے علی ان کی طرف سوار بھےجئے اگر آپ نے اےسانہ کیا تو مجھے معلوم ھورھاھے کہ وہ ھم سے قطع رحم کرےں گے اور آپ کے حق کو تسلیم نھیں کرےں گے حضرت عثمان باھر آئے انھوں نے خطبہ دیا اور لوگوں کے سامنے توبہ کی اور کھامیں پھلا شخص ھو ں جو پناہ چاھتا ھوں جو کچھ میں نے کیا ھے اس پر میں اللہ سے معافی چاھتا ھوں۔

خدا کی قسم حق کو اس کے عبد کے سپرد کر دیتا ھوں جو ھمیشہ ثابت قدم رھاھے تم اس کی پیروی کرنا اور خدا تک پھنچنے کا وھی بھترین  ذرےعہ اور راستہ ھے اس سلسلے میں تم پر کوئی بات مخفی نھیں ھے۔

 لوگ روتے ھوئے متفرق ھو گئے اور خلیفہ بھی رو پڑے ،جب عثمان اپنے گھر آئے تو وہاں مروان سعید اور بنی امیہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص موجود تھا(یعنی حضرت عثمان کے خطبہ کے دوران یہ لوگ وہاں موجود نھیں تھے) حضرت عثمان ان کے درمیان آکر بےٹھ گئے تو مروان نے کہا: اے امیر الموٴمنین کیا میں آپ سے کچھ کھوں یا خاموش رھوں؟

عثمان کی بیوی نائلہ بنت فرا  فصہ نے کھاتم خاموش رھو، یھی وہ لوگ ھیں جنھوں نے اسے قتل کیا اور موت کی نیند سلا دیا انھوں نے ایسی گفتگو کی جس پر نزاع نھیں ھونا چاھیے تھا۔

 مروان نے نائلہ سے کھاتو اس وقت نھیں تھی جب یہ سب کچھ ھوا خدا کی قسم تیرا باپ وضو خانہ میں مارا گیا، نائلہ نے کھااسے تو صحیح طور پر وضو کرنا بھی نھیں آتا تھا !مروان ٹھھر جا اور باپ  کا تذکرہ چھوڑ دے ۔خدا کی قسم چچا کو اس بات سے غم و الم پھنچنے گا اگر خوف نہ ھوتا تو میں ضرور اس کے متعلق تجھ کو بتاتی اور ثابت کرتی کہ یہ بات صداقت پر مبنی ھے ۔

مروان نے پھر کہا:اے امیر المومنین میں بات کروں یا چپ رھوں ۔ خلیفہ نے کھاکھو کیا کھنا چاھتے ھو، مروان نے کھامیرے ماں باپ آپ پر قربان ھوں خدا کی قسم میں آپ کی اس قسم کی گفتگو کو پسند کرتا ھوں لیکن آپ کو روک دیا گیا اور آپ پھلے شخص ھیں جو اس پر راضی ھو گئے البتہ آپ کو جو کھنا چاھیے تھا وہ آپ نے نھیں کھااور انھوں نے معاملے کی سنگین خلاف ورزی کی جبکہ ناچیز و ذلیل حصہ دیا گیا۔ خدا کی قسم گناہ پر استغفار کرنا بھتر ھے ،اس توبہ سے جس کے بعد خوف ھراس چھاجائے اگر تم چاھتے توتوبہ کے ذریعے قریب ھو جاتے اور خطا کا اقرار نہ کرتے اس وقت دروازے پر لوگ پہاڑ کی طرح ڈٹے ھوئے تھے۔ عثمان نے کھاان کے پاس جاؤ اور ان سے کھو کہ مجھے تم سے گفتگو کرتے ھوئے شرم آتی ھے مروان باھر گیا اس نے لوگوںسے کھاتمہارا یہاں جمع ھونا تمہاری شان کے خلاف ھے گویا تم مال غنیمت لوٹنے آئے ھو ؟  کیا تم اس ارادے سے آئے ھو کہ جو کچھ ھمارے قبضہ میں ھے اس کو زبردستی ھم سے چھین لو، تو خدا کی قسم ھم نے تمہارے خلاف قدم اٹھالیا تو مشکل ھوجائیگی۔ لہٰذا تم اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ خدا کی قسم ھمارے ہاتھوں میں جو کچھ ھے ھم اس کی بدولت تم سے مغلوب نھیں ھوںگے، چنا نچہ سب لوگ واپس لوٹ گئے اور کچھ لوگ حضرت علی کے پاس آئے اور انھیں اس واقعہ کی اطلاع دی۔

حضرت علی علیہ السلام عبدالرحمن بن اسود بن عبد یغوث کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ کیا تم بھی عثمان کا خطبہ سننے والوں میں موجود تھے؟اس نے کھاجی ہاں ۔حضرت نے فرمایا: جو کچھ مروان نے لوگوں سے گفتگو کی ھے اس میں بھی تم موجود تھے ؟اس نے کھاجی ہاں ۔

اس وقت حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:اے اللہ کے بندو!اے مسلمانو!اگر میں اپنے گھر میں رھوں تو تم کھتے ھو کہ میں نے رشتہ داروں کو چھوڑ دیا ھے اور اگر میں کوئی بات بتاتا ھوں تو اس کو نظر انداز کر کے جس طرح مروان چاھتا ھے ویسا ھی کرتے ھیں اس نے تو اپنے ھی بازار سے گناھوں کا جتنا بار اٹھانا تھا اٹھالیا ھے۔

 حضرت علی غضبناک حالت میں وہاں سے اٹھے اور عثمان کے پاس جاکر فرمایا :جہاں تک مروان کا تعلق ھے وہ تجھ سے اس وقت تک راضی نہ ھو گا جب تک تو اپنے دین اور عقل میں تحریف نہ کر لے اس کی مثال اس سرکش اونٹ جیسی ھے جدھر اس کا منہ ھوتا ھے ادھر ھی چل دیتا ھے ۔خدا کی قسم مروان اپنے دین اور اپنے نفس میں صاحب رائے نھیں ھے اور اللہ کی قسم میں لوگوں کو تجھ پر حملہ کرتے ھوئے دیکھ رھاھوں لیکن اس وقت تجھ سے کچھ نہ ھو سکے گا اور آج کے بعد میں یہاں نھیں آؤں گا یہ تیرا اپنا ھی تجھ پر عتاب ھے ،اس سے تیری عزت وشرف جاتا رھے گا اور تیری رائے مغلوب ھو جائے گی ۔

جب حضرت علی علیہ السلام نصیحت کر کے وہاں سے نکلے تو اس وقت اس کی بیوی نائلہ آئی اور کھنے لگی ۔میں نے تیرے متعلق حضرت علی کی گفتگو کو سن لیاھے یہ سمجھ لے کہ یہ تمہارے دشمن نھیں ھیں لیکن تم نے فقط مروان کی اطاعت کی ھے وھی تمہارا دشمن ھے جس طرح اس نے چاھاھے دشمنی کی ھے، حضرت عثمان کھتے ھیں میں کیا کروں ؟وہ کھتی ھے!اللہ سے ڈرو اور مروان کی پیروی ترک کردو، اگر تم مروان کی اطاعت کرتے رھے تو وہ تمھیں قتل کرا دے گا ،دوسرے لوگوں کے نزدیک مروان کی کوئی قدر منزلت نھیں ھے اسی وجہ سے تجھے لوگوں نے چھوڑدیا ھے تم حضرت علی کو بھیجو تاکہ وہ اصلاح کریں یہ آپ کے قرابت دار ھیں اور وہ اس کا انکا ر بھی نہ کریں گے ۔

چنا نچہ حضرت عثمان نے حضرت علی (علیہ السلام)کی طرف پیغام بھیجا لیکن حضرت نہ آئے اور فرمایا میں جانتا ھوں کہ اسے میری ضرورت نھیں ھے ۔

مروان تک نائلہ کی بات پھنچ گئی اور وہ عثمان کے پاس بیٹھ کر نائلہ سے کھنے لگا۔ اے فرافصہ کی بیٹی! یہ سن کر حضرت عثمان نے کھاکہ اے مروان چپ ھوجاؤتمہارا منہ کالا ھو جائے خدا کی قسم اس نے تو مجھے نصیحت کی ھے اور اس سلسلے میں اس کا مجھ پر زیادہ حق ھے یہ سن کر مروان خاموش ھوگیا ۔

اس کے بعد حضرت عثمان رات کی تاریکی میں حضرت علی کے گھر آئے  اور ان سے کھا: میں نے غیر ضروری امور انجام دئیے ھیں اور اس کا میں ھی ذمہ دار ھوں حضرت علی (علیہ السلام)نے اس سے کھاتم حضرت رسول اعظم کے منبر پر گفتگو کرنے کے بعد آج اس چیز کا اظہار کر رھے ھو تم گفتگو کرنے کے بعد گھر میں چلے جاتے ھو ،اور مروان تمہارے دروازے پر آکر لوگوں کو اذیت پھنچاتا۔ حضرت عثمان باھر آئے جبکہ وہ کہہ رھے تھے کہ اے مروان تم نے مجھے دھوکہ دیا اور لوگوں کو میرے خلاف ھوا دی ھے حضرت علی (علیہ السلام)نے فرمایا اکثر لوگ تمہاری حمایت کرتے ھیں لیکن جب بھی تجھے میں نے کوئی مسئلہ بتایا تو تم کو مروان نے اس کی خلاف ورزی کرنے کو کھااور تم نے مروان کی بات مان لی اور میری بات کو ٹال دیا۔[17]

خلیفہ ثالث کے حق میں حضرت علی علیہ السلام کا رویّہ

جب حضرت علی علیہ السلام خیبر سے واپس لوٹ رھے تھے تو آپ نے دیکھا کہ لوگ طلحہ کے پاس جمع ھیں ان میں اس کا کافی اثر رسوخ تھا جب حضرت علی (علیہ السلام)وہاں تشریف لائے تو ان کے پاس حضرت عثمان بھی آگیا تو اس نے کہا:

اما بعد!  مجھ پر اسلام کا حق ھے بھائیوں اور رشتہ داروں کا حق ھے۔ اگر ان حقوق کا پاس ولحاظ نہ ھوتا تو ھم جاھلیت کی طرف لوٹ جاتے اور بنی عبد مناف کے لئے یہ مناسب نھیںھے کہ وہ اپنے بنی تمیم بھائیوں کے ساتھ لڑیں ۔( یہ اطلاع طلحہ نے انھیں دی تھی)

 اس وقت حضرت علی نے اس سے کہا: تیری یہ خبر درست نھیں ھے پھر حضرت علی (ع)مسجد کی طرف روانہ ھوئے، وہاں انھوں نے اسامہ کو دیکھا جو لوگوں سے دور ایک طرف بیٹھا تھا ۔ اس کو اپنے ھمراہ لیااور طلحہ کے گھر آئے، حضرت نے کہا:  اے طلحہ !وہ معاملہ کیا ھے جو واقع ھوا ھے اس نے کھااے ابوالحسن یہ حزام طبین کے بعد کا واقعہ ھے، حضرت علی علیہ السلام وہاں سے بیت المال کی طرف روانہ ھوئے اور وہاں پھنچ کر فرمایا:اس کا دروازہ کھولو لیکن چابیاں نہ ملیں تو انھوں نے اس کا دروازہ توڑدیا اور لوگوں میں مال تقسیم کر دیا لوگ طلحہ کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے یہاں تک کہ طلحہ اکیلا رہ گیا ۔ یہ خبر سن کر عثمان بھت خوش ھوئے اس کے بعد طلحہ عثمان کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے امیرالمومنین !میں نے ایک کام کا ارادہ کیا ھے لیکن اس کے اور میرے درمیان اللہ حائل ھے۔ عثمان نے کھاخدا کی قسم تم توبہ کرکے نھیں آئے بلکہ مغلوب ھو کر آئے ھو، اے طلحہ اللہ تیرا محاسبہ کرنے کے لئے کافی ھے۔[18]

      جب حضرت عثمان کا محاصرہ کیا گیا اور اس پر پانی بند کر دیا گیا اس وقت حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے طلحہ سے کہا: میں ان کے پاس پانی و غذا لے کر جانا چاھتا ھوں، حضرت نے اس پر شدید غصہ کیا یہاں تک کہ حضرت عثمان کے پاس پانی وغذالے گئے۔[19]

حضرت کا خلیفہ ثالث کے ساتھ ایک عمدہ رویہّ یہ تھا کہ آپ نے اپنے بچوں حسن (علیہ السلام)اورحسین(علیہ السلام)کو حضرت عثمان کے دفاع کے لئے بھیجا ۔اور وہ اس کے دروازے پر کھڑے ھو گئے اور اس کے دشمنوں میں سے کسی کی طاقت نہ ھوئی کہ اس کو اذیت دیں یہ اصحاب سیرت اور تاریخ میں مشھور و معروف واقعہ ھے۔

جب حضرت عثمان کا قتل ھوا تو مدینہ اور مدینہ سے باھر مختلف مقامات میں اس پر خوشی کا اظہار کیاگیا بالخصوص وہ لوگ اس پر زیادہ خوش تھے جو عوام کو اس کے خلاف اکسانے میں پیش پیش تھے جیسے طلحہ ،زبیر ،سعد بن ابی وقاص،عائشہ اور معاویہ کیونکہ اس سلسلہ میں ان لوگوں کے ذاتی مقاصد تھے۔

 وہ لوگ عثمان کی ان باتوں سے ناراض تھے کہ اس نے مروان بن حکم اور بنی امیہ کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط کر دیا ھے اور مختلف شھروں میں حکومتی عھدے اپنے قریبی رشتہ داروں کو دے دئےے چنا نچہ اکثر لوگوں نے اس کے قتل پر خوشی کا اظہار کیا اگرچہ اس سلسلہ میں ان کے نظریات اور خواھشات جدا جدا تھے ۔لیکن جہاں تک حضرت علی علیہ السلام کا تعلق ھے تو انھوں نے اس  پیچیدہ معاملے کو سنبھالنے کی ھر ممکن کوشش کی اور یہ ان کے لئے امتحان کا وقت تھا لیکن معاملات بھت بگڑ چکے تھے۔

 آپ کئی مرتبہ خلیفہ کے پاس تشریف لائے اور انھیں نصیحتیں کیں کہ وہ اعتدال پر رھیں اور حکمت سے کام لیں خلیفہ کو نصیحت کی کہ عدل سے کام لیں مظلوموں کے ساتھ انصاف کریں تاکہ امت کی اصلاح ھو سکے اور وہ اپنے مقصد میںکامیاب ھو جائیںاور ان کے امور کو غیروں کے حوالے نہ کیا جائے، حکومتی اداروں میں دین کو پائیدار بنایا جائے اور شرعی حدود کے مطابق عمل کو جاری رکھا جائے اور غریبوں فقیروں پر خصوصی توجہ دی جائے۔

 لیکن حضرت علی (علیہ السلام)خلیفہ کے رویہّ کو بدلنے پر قادر نھیں تھے لہٰذا اس وجہ سے آپ اپنے گھر میں خاموشی سے بیٹھ گئے اور اپنا دروازہ بند کر لیا اور ظالم اور مظلوم کے درمیان قضاء کے فیصلے کا انتظار کرنے لگے۔

 کلمات قصار میں آپ کا یہ رویہّ پوری کتاب لکھنے کی نسبت زیادہ واضح نظر آتا ھے۔ حضرت نے فرمایاکہ میں نے اس بات کو جامع شکل میں بیان کیا ھے کہ بے شک تم متاثر ھوئے لیکن یہ تاثر مفید نھیں رہا، تم روئے اور گڑگڑائے لیکن کوئی فائدہ نھیں ھوا البتہ متاثر اور گڑگڑانے والے کے بارے میں خدا بھتر جانتا ھے۔[20]

  

 


 

[1] عقاید امامیہ شیخ محمد رضا مظفر ص ۱۱۵،۱۱۶۔

[2] عقاید امامیہ ص۱۱۶۔

[3] امام شرف الدین موسوی کی کتاب الفصول المھمہ ص ۵۵،۵۶۔

[4] الارشاد ج۱ ص۱۹۰۔

[5] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۲۸۔

[6] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۳۲۔۱۳۳۔

[7] سیرت ائمہ اثنی عشر ج۱ ص۳۳۳۔۳۳۴۔

[8] سیرت ائمہ اثنی عشر ج۱ ص۳۳۴۔

[9] سورہ احزاب:۷۰۔

[10] سورہ قیامة آیت ۳۶۔

[11] سورہ نباء:۱۷          

[12] شرح نھج البلاغہ ج ۱۲۔ص۷۹۔۸۰۔

[13] البدایہ والنھایہ ابن کثیر  ج۷ ص۵۳۔

[14] ابن اثیر کی تاریخ کامل ج ۲ص۱۷۹،۱۸۱ سے اختصار کے ساتھ 

[15] سیرت آئمہ اثنی عشری ج ۱ ص۳۸۶۔

[16] امامت و سیاست ج۱ ص۳۷۔

 [17] ابن اثیر کی کامل فی التاریخ ج۲۔ص۲۸۴۔۲۸۶۔

[18] ابن اثیر کی کامل فی التاریخ۲ ص۲۸۶۔

[19] کامل فی التاریخ ابن اثیر ج۲ ص۲۸۶۔

[20] سیرت ائمہ اثنی عشر ج۱ ص ۳۸۹۔

index