next

عرض مترجم

back

 

خدائی مخلوق کے شاہکارحضرت انسان نے جب اس دنیا میں قدم رکھا تو اسی وقت سے اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا هوا کہ اس کی خلقت کیسے اور کیوںهوئی اور اس زندگی کے بعد اس کی بازگشت کھاں ھے؟ !  انھیں تمام سوالات کے پیش نظر اس نے ماوراء طبیعت کا پتہ لگانا چاھا اس کی فطرت نے مدد کی اور خدا شناسی کے راستوں کو ھموار کیایھاں تک کہ اس نے یقین کرلیا کہ اس کا وجود بغیر بنانے والے کے نھیں پیدا هوا، کوئی ایسی طاقت ھے جس نے اسے خلق کیا ھے، اور وہ ذات ھے خداوندعالم کی۔  

تاریخ بشریت اس بات کی گواہ ھے کہ ھر زمانہ میں انسان خدا کی الوھیت کا عقیدہ رکھتا تھا، یہ اور بات ھے کہ بعض زمانہ میں اور بعض محدود مقامات پر خدا کے وجود کا انکار کردیا گیا جیسا کہ آج بھی بہت سے لوگ اپنی فطرت کا گلا گھونٹتے هوئے خدا کے وجود کا انکار کرتے ھیں اورکہتے ھیں کہ یہ دنیا مادّہ کی مخلوق ھے، لیکن آج جبکہ سائنس ترقی کررھا ھے تو وجود خدا کے دلائل مزید واضح وروشن هوتے جارھے ھیں اور خود سائنس اس بات کی ردّ کرتا ھے کہ مادہ کسی چیز کا خالق هو۔

بھر حال یہ بات مسلم ھے کہ خدا ھی انسان کا خالق ھے، وھی عالمین کا ربّ حقیقی ھے، تب ھی اس نے انسان کی دوسری ضروریات کی طرح ہدایت کا انتظام بھی فرمایااور ھر زمانہ میں انبیاء بھیجے، اور جیسے جیسے انسانی معاشرہ نے ترقی کی اسی لحاظ سے انبیاء علیھم السلام کو بھیجا گیا یھاں تک کہ سر زمین مکہ پر ھمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمآخری نبی بنا کر بھیجے گئے، اور آپ نے اسلام کی تبلیغ اس طرح فرمائی کہ خدا کو <الیوم اکملت لکم دینکم ۔۔۔>کی سند دینا پڑی، لیکن جب یہ آخری نبی بھی اس دنیا سے جانے لگا تو چونکہ نبوت کا سلسلہ بند هوچکا تھا، ہدایت کے بغیر انسان کفر وضلالت کے دلدل میں پھنس جاتا، مگراللہ نے اپنے محبوب رسول کے ھاتھوں غدیر خم میں امامت وولایت کا سلسلہ قائم اور حضرت علی علیہ السلام کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ معین فرمادیا، اور اسی امامت کی وجہ سے ڈوبتی هوئی کشتی اسلام نہ جانے کتنی بارساحل پر لگی، اور آج بھی اسی امامت کے ذریعہ انسانیت ہدایت سے فیضیاب هورھی ھے اور ایک دن وہ آئے گا جب اسی امامت کے ذریعہ؛ ظلم وجورسے بھری دنیا عدل وانصاف سے بھرجائے گی، تب اس کے بعد دنیا کا خاتمہ هوگا، اس دنیاوی زندگی کے بعد ایک روز حساب وکتاب کے لئے رکھا گیا ھے، کیونکہ ھر صاحب عقل نیک کام کو اچھا اور برے کام کا برا سمجھتا ھے، نیز نیک کام پر مستحق مدح وثواب اور برے کام پر مستحق ذم وعذاب پر انسانی عقل شھادت دیتی ھے، اور اسی عذاب وثواب کے دن کو قیامت کھا جاتا ھے، جس دن خدا عدل وانصاف کے ساتھ جزا یا سزا دے گا۔

انھیں تمام باتوںکی تفصیل پر مشتمل ھے عالیجناب علامہ شیخ محمد حسن آل یاسین صاحب کی یہ کتاب اصول دین ،جس میں موصوف نے عمدہ انداز، بہترین استدلال، مستحکم بیان اور جدید طرز پر اپنے قلم کے جوھر دکھائے ھیں،اور خدا شناسی، عدل الٰھی ، نبوت،امامت،مہدویت اور قیامت کے بارے میں مفصل استدلال اور برھان قائم کئے ھیں،نیز اس سلسلہ میں بہت سے اعتراضات اور شبھات کے جوابات بھی دئے، واقعاً کتاب ہذاایک جامع اور بہترین کتاب ھے۔

موٴسسہ امام علی علیہ السلام کے مدیر اعلیٰ حجة الاسلام والمسلمین شیخ جواھری صاحب نے اس عظیم کتاب کے ترجمہ کی ذمہ داری اس بندہ ناچیز کو عنایت فرمائی، حقیر کو اپنی ناتوانی کے ساتھ قلم کی ناتوانی کا بھی اقرار ھے جس کے پیش نظرحقیر کے لئے اس عظیم ذمہ داری کا نبھانا لمحہ فکریہ تھا، لیکن خدا کے لطف و کرم اوراس کی توفیق کے سھارے کمر ھمت باندھ کرترجمہ شروع کردیا۔ کسی موٴلف کی بات کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا اور اس کی روانگی اور سلاست کو باقی رکھنا واقعاکارے دارد ۔ علامہ موصوف نے اپنی کتاب میں مختلف استدلال کے اندر عربی اصطلاحات کے علاوہ سانئس کی اصطلاحات بھی کافی استعمال کی ھیں جن کی اردوکے ساتھ انگلش تلفظ کو حتی الامکان تلاش کرکے لکھ دیا گیا ھے ،اور باب توحید کے علاوہ دوسرے تمام ابواب میں اکثر آیات کا حوالہ تحقیق کرکے رقم کر دیا ھے، لیکن کھاں تک کامیاب هوا هوں اس کا فیصلہ آپ حضرات فرمائیں گے۔

آخر میں ان دوستوں اور احباب کو بھی فراموش نھیں کیا جاسکتا جنھوں نے کتاب کی تصحیح، کمپوزنگ، اور پروف ریڈنگ وغیرہ میں ھر ممکن تعاون کیا ، خداوندعالم ھم سب سے اس ناچیز خدمت کو قبول فرمائے اور مزید توفیقات میں اضافہ فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔ والسلام

 

اقبال حیدر حیدری ۔ حوزہ علمیہ، قم، ایران

۱۸/ ذی الحجہ  ۱۴۲۴ھ

IHH2001@YAHOO.COM

 index