سبط ابن جوزی اہل سنت کے ایک بہت ہی مشہور ومعروف عالم تھے ،اس نے بہت ہی اہم کتابیں بھی لکھی ہیں یہ بغداد کی مسجدوں میں وعظ کیا کرتے تھے اور لوگوں کی تبلیغ کرتے تھے ۱۲ رمضان المبارک ۵۹۸ ھ کو ان کی وفات ہوئی۔[1]
حضرت علی علیہ السلام کی مشہور فضیلتوں میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ اکثر بھرے مجمع میں ” سلونی قبل ان تفقدونی“کہا کرتے تھے۔اس طرح کی باتیں آپ اور دوسرے معصوم ائمہ علیہم السلام سے مخصوص ہیں ان کے علاوہ جس نے بھی اس کا دعویٰ کیا وہ ذلیل ہوا،اب آپ ایک باہمت عورت کا سبط ابن جوزی کے ساتھ مناظرہ ملاحظہ فرمائیں:
سبط ابن جوزی نے بھی ایک دن منبر پر جانے کے بعد دعوائے سلونی کرتے ہوئے اعلان کردیا کہ اے لوگو! تمہیں جو کچھ بھی پوچھنا ہے پوچھ قبل اس کے میں تمہارے درمیان نہ رہوں، منبر کے نیچے بہت سے شیعہ سنی مرد اور عورت بیٹھے ہوئے تھے۔یہ سنتے ہی ان میں سے ایک عورت کھڑی ہوئی اور اس نے سبط ابن جوزی سے اس طرح سوال کیا۔
تم مجھے یہ بتاوٴکہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ جب عثمان کو قتل کر دیا گیا تو ان کا جنازہ تین دن تک پڑا رہا اور کوئی بھی انھیں دفن کرنے نہ آیا؟
سبط: ”ہاں ایسا ہی ہے ۔“
عورت: ”کیا یہ بھی صحیح ہے کہ جب جناب سلمان علیہ الرحمة نے مدائن میں وفات پائی تو حضرت علی علیہ السلام مدینہ (یا کوفہ) سے مدائن گئے اور آپ نے ان کی تجہیز وتکفین میں شرکت کی اور ان کی نماز جناز ہ پڑھائی ؟“
سبط: ”ہاں صحیح ہے“۔
”لیکن علی علیہ السلام عثمان کی وفات کے بعد ان کے جنازے پر کیوں نہیں گئے جب کہ وہ خود مدینہ میں موجود تھے اس طرح دوہی صورت رہ جاتی ہے یا توحضرت علی علیہ السلام نے غلطی کی کہ ایک مومن کی لاش تین دن تک پڑی رہی اور آپ گھر ہی میں بیٹھے رہے یا پھر عثمان غیر مومن تھے جس کی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام نے ان کی تجہیز وتکفین میں کسی طرح کا کوئی حصہ نہیں لیا اور اپنے عمل کو اپنے لئے درست سمجھا۔”یہاں تک کہ انھیں تین روز بعد مخفی طور پر قبرستان بقیع کے پیچھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کیاگیا جیسا کہ طبری نے اپنی تاریخ میں یہ ذکر کیا ہے (ج۹،ص۱۴۳۔)
ابن جوزی اس عورت کے اس سوال کے آگے بے بس ہو گیا کیونکہ اس نے دیکھا کہ اگر دونوں میں سے کسی ایک کو بھی خطا کار ٹھہرا ئے گا تو یہ بات خلاف عقیدہ ہوجائے گی کیونکہ اس کے نزدیک دونوں خلیفہ حق پر تھے لہٰذا اس نے اس عورت کو مخاطب کر تے ہوئے کہا:
اے عورت !وائے ہوتجھ پر،اگر تو اپنے شوہر کی اجازت سے گھر کے باہر آئی کہ نامحرموں کے درمیان مناظرہ کررہی ہے، تو خدا تیرے شوہر پر لعنت کرے اور اگر بغیر اجاز ت آئی ہے تو خدا تجھ پر لعنت کرے“۔
”آیا عایشہ جنگ جمل میں مولائے کائنا ت علی ابن ابی طالب سے لڑنے اپنے شوہر رسول اکرم کی اجازت سے آئیں تھیں یا بغیر اجازت کے ؟“
یہ سوال سن کر سبط ابن جوزی کے رہے سہے ہوش بھی جاتے رہے اور وہ بوکھلا گیا کیونکہ اگر وہ یہ کہے کہ عائشہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر ہی آئی تھیں تو عائشہ خطاکار ہوں گی اور اگر یہ کہے کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت سے باہر آئیں تھیں تو علی علیہ السلام خطاکار ٹھہرتے تھے، یہ دونوں صورت حال اس کے اس عقیدہ کے خلاف تھیں، لہٰذا وہ نہایت بے بسی کے عالم میں منبر سے اتر ا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔[2]
بہلول بن عمرو کوفی امام جعفر صادق اور امام موسیٰ کاظم علیہما السلام کے زمانہ کے ایک زبردست عالم تھے انھوں نے ہارون کے سامنے پیش کئے جانے والے عہدہ قضاوت سے جان چھڑانے کے لئے خود کو دیوانہ بنا لیا تھا ، وہ مناظر ہ میں بڑی مہارت رکھتے تھے اور مخالف کے الٹے سیدھے اعتراضوں کا بڑا عمدہ جواب دیاکرتے تھے، انھوں نے سن رکھا تھا کہ ابو حنیفہ نے اپنے ایک درس میں کہا کہ جعفر بن محمد (امام صادق علیہ السلام )نے تین باتیں کہیں ہیں، لیکن میں ان میں سے کسی بھی بات کو قابل قبول نہیں سمجھتا اوروہ تین باتیں یہ ہیں:
۱۔ شیطان جہنم کی آگ میں جلایا جائے گا۔ان کی یہ بات صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ خود آگ ہے لہٰذاآگ اسے کیسے جلا سکتی ہے؟
۲۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا دکھائی نہیں دیتا۔جب کہ جو چیز بھی موجود ہے اسے دکھائی دینا چاہئے۔
۳۔ بندے جو کام انجام دیتے ہیں وہ اپنے اختیار وارادے سے انجام دیتے ہیں ان کی یہ بات بھی سراسر ان احادیث و روایات کے مخالف ہے جو اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ بندوں کے تمام کام خدا کی طرف منسوب ہیں اور اس کے حکم کے بغیر کوئی کام انجام نہیںپایا۔
ایک دن ابوحنیفہ بہلول کو نظر آگئے انھوں نے زمین سے ایک ڈھیلااٹھایا اور ان کی پیشانی پر مار دیا ابو حنیفہ نے ہارون سے بہلول کی شکایت کی اور ہارون نے بہلول کو بلوالیا اور ان کی سرزنش کرنے لگا تو آپ نے ابو حنیفہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا:
۱۔ تمہیں جو درد ہو رہا ہے دکھاوٴ ورنہ اس عقیدہ کو غلط کہو جو تم یہ کہتے ہو کہ ہر موجود چیز کا دکھائی دینا ضروری ہے۔
۲۔ اسی طرح تمہارا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئی چیز اپنی ہم جنس شئے کو نقصان نہیں پہنچاتی تو پھر تمہیں کیوں درد ہو رہا ہے جب کہ تم خود مٹی سے بنے ہوئے ہو(اور ڈھیلا بھی مٹی کا تھا)؟
۳۔ تم تو یہ کہتے ہو کہ بندوں کے سارے کام خدا کی طرف منسوب ہوتے ہیں تو پھر مجھ سے کیوں شکوہ کرتے ہو کیونکہ یہ ڈھیلا تو خدا نے مارا ہے۔
یہ سن کر ابو حنیفہ خاموشی سے اس بزم سے نکل گئے وہ سمجھ گئے کہ بہلول نے یہ ڈھیلا میرے اس عقیدہ کی وجہ سے مارا تھا۔[3]
ایک دن ہارون رشید کے درباری وزیر نے بہلول سے کہا: ”تم بڑے خوش نصیب ہو تمہیں خلیفہ نے سوروں اوربھیڑیوں کا سر پرست بنا دیا ہے“۔
بہلول نے بڑی بے باکی سے کہا: ”اب جب تو اس بات سے آگاہ ہوگیا ہے توآج سے تیرے اوپر میری اطاعت لازم ہوگئی ہے“۔بہلول کا یہ جواب سن کر وہ شرمندگی سے خاموش ہو گیا، اور وہاں پر موجود لوگ یہ سن کر ہنسنے لگے۔[4]
ایک دن اہل سنت کے ایک بزرگ عالم اور مذہب جبر کے استاد ضرار بن ضبی ہارون رشید کے وزیر یحییٰ بن خالد کے پاس آکر کہنے لگا “میں بحث و مناظرہ کرنا چاہتا ہوں تم کوئی ایسا آدمی لے آوٴ جو مجھ سے بحث کر سکے۔“
یحییٰ: ”تم کسی شیعہ عالم سے بحث کروگے؟
ضرار: ”ہاں میں ہر ایک سے مناظرہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔“
یحییٰ نے ہشام بن حکم (امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد رشید)کو یہ پیغام بھیجا ،جناب ہشام مناظرہ کے لئے آگئے اور مناظرہ اس طرح شروع ہوا:
ہشام: ”امامت کے سلسلہ میں انسان کی ظاہری صلاحتیں معیار ہیں یا باطنی صلاحیتیں؟“
ضرار: ”ہم تو ظاہری پر ہی حکم لگاتے ہیں کیونکہ کسی کے باطن کو صرف ”وحی“کے ذریعہ ہی سمجھا جاسکتا ہے۔“
ہشام: ”تو نے سچ کہا۔اب یہ بتاوٴ کہ ابو بکر اور حضرت علی علیہ السلام میں ظاہری اور باطنی اعتبار سے کون رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے زیادہ ساتھ رہا ،کس نے اسلا م کا زیادہ دفاع کیا اور بڑی بہادری سے اسلام کی راہ میں جہاد کیا،اسلام کے دشمنوں کو نیست ونابود کیا اور ان دونوں میں کون ہے جس کا تمام اسلامی فتوحات میں سب سے زیادہ اہم کرداررہا؟“
ضرار: ”علی علیہ السلام نے بہت جہادکیا اور اسلام کی بڑی خدمت کی لیکن ابو بکر معنوی لحاظ سے ان سے بلند تھے ۔“
ہشام: ”یہ تو باطن کی باتیں کیوں کرنے لگا جبکہ ابھی تونے یہ کہا کہ باطن کی باتیں صرف وحی کے ذریعہ معلوم ہو سکتی ہیں اور ہم نے یہ طے کیا تھا کہ ہم صرف ظاہر کی باتیں کریں گے اور تونے اس اقرار سے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اسلامی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اس بات کا بھی اعتراف کر لیاکہ وہ اور دوسرے لوگوں کے مقابل خلافت کے زیادہ حقدار تھے۔“
ضرار: ”ہاں ظاہر اً تو یہی بات صحیح ہے ۔“
ہشام: ”اگر کسی کا نیک ظاہر ،نیک باطن جیسا ہو تو کیا یہ چیز اس کے افضل اور برتر ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی ۔“
ضرار: ”یقیناً یہ چیز انسان کے افضل وبرتر ہونے کی دلیل ہوگی۔“
ہشام: ”کیا تمہیں اس حدیث کے بارے میں معلوم ہے کہ جس کو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں ارشاد فرمائی اور جسے تمام اسلامی فرقوں نے قبول کیا ہے:
”انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ الا لا نبی بعدی“۔
”اے علی ! تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“
ضرار: ”میں اس حدیث کو قبول کرتا ہوں ۔“(اس بات کی طرف توجہ رہے کہ ضرار نے کہا تھا کہ کسی کا باطن صرف وحی کے ذریعہ پہچانا جا سکتا ہے اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی تمام باتیں وحی الٰہی سے ہوا کرتی تھیں)۔
ہشام: ”کیا یہ صحیح ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی اس طرح کی تعریف اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت علی علیہ السلام باطنی طور پر بھی ایسی ہی صلاحیتیوں کے مالک تھے؟ ورنہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی تعریف غلط ہو جائے گی۔“
ضرار: ”ہاں یہ اس بات کی دلیل ہے۔یقینا ً حضرت علی علیہ السلام باطنی طور پر بھی ویسی ہی صلاحیتوں کے مالک رہے ہوں گے تب ہی تو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے ان کی تعریف کی ۔“
ہشام: ”بس اب اس طرح خود تمہارے قول سے حضرت علی علیہ السلام کی امامت ثابت ہو گئی کیونکہ تم نے خود ہی کہا ہے کہ باطن کی اطلاع وحی کے ذریعہ ممکن ہے اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے آپ کی تعریف کی ہے اور وہ بغیر وحی کے کسی کی تعریف نہیں کرسکتے لہٰذا حضرت علی علیہ السلام دوسرے تمام لوگوں کے مقابل زیادہ خلافت کے حقدار ہوئے۔[5]
امام جعفر صادق علیہ السلام اور ابو حنیفہ کا زمانہ تھا ایک دن مسجد کو فہ میں ابو حنیفہ درس دے رہاتھااس وقت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک شاگرد ”فضال بن حسن “اپنے ایک د وست کے ساتھ ٹہلتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔انھوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ابو حنیفہ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ انھیں درس دے رہے ہیں، فضال نے اپنے دوست سے کہا: ”میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جاوٴں گا جب تک ابو حنیفہ کو مذہب تشیع کی طرف راغب نہ کر لوں۔“
فضال اپنے اس دوست کے ساتھ اس جگہ پہنچے جہاں ابو حنیفہ بیٹھے درس دے رہے تھے، یہ بھی ان کے شاگرد وں کے پاس بیٹھ گئے۔تھوڑی دیرکے بعد فضال نے مناظرہ کے طور پر اس سے چند سوالات کئے۔
فضال: ”اے رہبر !میرا ایک بھائی ہے[6] جو مجھ سے بڑا ہے مگر وہ شیعہ ہے۔حضرت ابوبکر کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے میں جو بھی دلیل لے آتا ہوں وہ رد کردیتا ہے لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے چند ایسے دلائل بتادیں جن کے ذریعہ میں اس پر حضرت ابوبکر ،عمراور عثمان کی فضیلت ثابت کر کے اسے اس بات کا قائل کر دوں کہ یہ تینوں حضرت علی سے افضل وبر تر تھے ۔“
ابو حنیفہ: ”تم اپنے بھائی سے کہنا کہ وہ آخر کیوں حضرت علی کو حضرت ابو بکر ،عمر اور عثمان پر فضیلت دیتا ہے جب کہ یہ تینوں حضرات ہر جگہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی خدمت میں رہتے تھے اور آنحضرت ،حضرت علی علیہ السلام کو جنگ میں بھیج دیتے تھے یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ان تینوں کو زیادہ چاہتے تھے اسی لئے ان کی جانوں کی حفاظت کے لئے انھیں جنگ میں نہ بھیج کر حضرت علی علیہ السلام کو بھیج دیا کرتے تھے ۔“
فضال: ”اتفاق سے یہی بات میں نے اپنے بھائی سے کہی تھی تو اس نے جواب دیا کہ قرآن کے لحاظ سے حضرت علی علیہ السلام چونکہ جہاد میں شرکت کرتے تھے اس لئے وہ ان تینوں سے افضل ہوئے کیونکہ قرآن مجید میں خدا کاخود فرمان ہے:
” وَفَضَّلَ اللهُ الْمُجَاہِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ اٴَجْرًا عَظِیمًا “[7]
”خدا وند عالم نے مجاہدوں کو بیٹھنے والوں پر اجر عظیم کے ذریعہ فضیلت بخشی ہے“۔
ابو حنیفہ: ”اچھا ٹھیک ہے تم اپنے بھائی سے یہ کہو کہ وہ کیسے حضرت علی کو حضرت ابو بکر و عمر سے افضل وبرتر سمجھتا ہے جب کہ یہ دونوں آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کے پہلو میںدفن ہیںاورحضرت علی علیہ السلام کا مرقد رسول سے بہت دور ہے ۔رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے پہلو میں دفن ہونا ایک بہت بڑا افتخار ہے یہی بات ان کے افضل اور بر تر ہونے کے لئے کافی ہے ۔“
فضال: ”اتفاق سے میں نے بھی اپنے بھائی سے یہی دلیل بیان کی تھی مگر اس نے اس کے جواب میں کہا کہ خدا وند عالم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:
”لاَتَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلاَّ اٴَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ“[8]
”رسول کے گھر میں بغیر ان کی اجازت کے داخل نہ ہو“۔
یہ بات واضح ہے کہ رسو ل خدا کا گھر خود ان کی ملکیت تھا اس طرح وہ قبر بھی خود رسول خدا کی ملکیت تھی اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے انھیںا س طرح کی کوئی اجازت نہیں دی تھی اور نہ ان کے ورثاء نے اس طرح کی کوئی اجازت دی۔“
ابو حنیفہ: ”اپنی بھائی سے کہو کہ عائشہ اور حفصہ دونوں کا مہر رسول پر باقی تھا، ان دونوں نے اس کی جگہ رسو ل خدا کے گھر کا وہ حصہ اپنے باپ کو بخش دیا۔
فضال: ”اتفاق سے یہ دلیل بھی میں نے اپنے بھائی سے بیان کی تھی تو اس نے جواب میں کہا کہ خداوند عالم قرآن میں ارشاد فرما تا ہے۔
” یَااٴَیُّہَا النَّبِیُّ إِنَّا اٴَحْلَلْنَا لَکَ اٴَزْوَاجَکَ اللاَّتِی آتَیْتَ اٴُجُورَہُنّ“[9]
”اے نبی!ہم نے تمہارے لئے تمہاری ان ازواج کو حلال کیا ہے جن کی اجرتیں (مہر)تم نے ادا کر دی“۔
اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے اپنی زندگی میں ہی ان کا مہر ادا کر دیا تھا“۔
ابو حنیفہ: ”اپنے بھائی سے کہو کہ عائشہ حفصہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے بیویاں تھیں انھوں نے ارث کے طور پر ملنے والی جگہ اپنے باپ کو بخش دی لہٰذا وہ وہاں دفن ہوئے“۔
فضال: ”اتفاق سے میں نے بھی یہ دلیل بیان کی تھی مگر میرے بھائی نے کہا کہ تم اہل سنت تو اس بات کا عقیدہ رکھتے ہو کہ پیغمبر وفات کے بعد کوئی چیز بطور وراثت نہیں چھوڑتا اور اسی بنا پر رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی بیٹی جناب فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کو تم لوگوں نے فدک سے بھی محروم کردیا اور اس کے علاوہ اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ خداکے نبی وفات کے وقت ارث چھوڑتے ہیں تب یہ تو سبھی کو معلوم ہے کہ جب رسول صلی الله علیه و آله وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت آپ کی نو بیویاں تھیں۔[10] اور وہ بھی ارث کی حقدار تھیں اب وراثت کے قانون کے لحاظ سے گھرکا آٹھواں کاحصہ ان تمام بیویوں کا حق بنتا تھا اب اگر اس حصہ کو نو بیویو ں کے درمیان تقسیم کیا جائے تو ہر بیوی کے حصے میں ایک بالشت زمین سے زیادہ نہیں کچھ نہیں آئے گا ایک آدمی کی قد وقامت کی بات ہی نہیں“۔
ابو حنیفہ یہ بات سن کر حیران ہو گئے اور غصہ میں آکر اپنے شاگردوں سے کہنے لگے:
”اسے باہر نکالو یہ خود رافضی ہے اس کا کوئی بھائی نہیں ہے“۔[11]
عبد الملک ( اموی سلسلہ کا پانچواں خلیفہ)کی طرف سے تاریخ کا بد ترین مجرم حجاج بن یوسف ثقفی عراق کا گورنر مقررکیا گیا تھا۔اس نے جناب کمیل ،قنبر ،سعید بن جبیرکو قتل کیا تھا کیونکہ وہ حضرت علی علیہ السلام سے بہت بغض رکھتا تھا۔
اتفاق سے ایک دن ایک نہایت شجاع و دلیر عورت جسے حلیمہ سعدیہ کی بیٹی کہا جاتا تھا اور جس کانام حرہ تھا حجاج کے دربار میں آئی یہ حضرت علی علیہ السلام کی چاہنے والی تھی۔
حجاج اور حرہ کے درمیان ایک نہایت پر معنی اور زبردست مناظر ہ ہوا جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:
حجاج: ”حرہ کیا تم حلیمہ سعدیہ کی بیٹی ہو؟
حرہ: ”یہ بے ایمان شخص کی ذہانت ہے (یہ اس بات کی طر ف اشارہ تھا کہ میں حرہ ہوں مگر تونے بے ایما ن ہوتے ہوئے مجھے پہچان کر اپنی ذہانت کا ثبوت دیا ہے )؟
حجاج: ”تجھے خدا نے یہاں لا کر میرے چنگل میں پھنسادیا ہے میں نے سنا ہے کہ تو علی کو ابوبکر و عمر وعثمان سے افضل سمجھتی ہے ؟“
حرہ: ”تجھ سے اس سلسلہ میں جھوٹ کہا گیا ہے کیونکہ ان تینوں کی کیا بات میں حضرت علی علیہ السلام کو جناب آدم،جناب نوح،جناب ابراہیم ،جناب موسیٰ ،جناب عیسیٰ ،جناب داوٴد ،جناب سلیمان علیہم السلام سے افضل سمجھتی ہوں“۔
حجاج: ”تیرا برا ہو، تو علی کو تمام صحابہ سے بر تر جانتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انھیں آٹھ پیغمبروں سے جن میں سے بعض اولوالعزم بھی ہیں افضل وبرتر جانتی ہے اگر تونے اپنے اس دعویٰ کو دلیل سے ثابت نہ کیا تو میں تیری گردن اڑاد وں گا۔“
حرہ: ”یہ میں نہیں کہتی کہ میں علی علیہ السلام کو ان پیغمبروں سے افضل وبر تر جانتی ہوں بلکہ خداوند متعال نے خود انھیں ان تمام پر برتری عطا کی ہے قرآن مجید جناب آدم علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:
”وَعَصیٰ آدمُ رَبَّہُ فَغَویٰ“[12]
”اور آدم اپنے رب کی نافرمانی کا نتیجہ میں اس کی جزا سے محروم ہو گئے“۔
لیکن خدا وند متعال علی علیہ السلام ،ان کی زوجہ اور ان کے بیٹوں کے بارے میں فرماتا ہے۔
”وَکَانَ سَعْیُکُمْ مَشْکُورًا“[13]
”اور تمہاری سعی و کوشش مشکور ہے“۔
حجاج: ”شاباش لیکن یہ بتا کہ تونے حضرت علی علیہ السلام کو نوح و لوط علیہما السلام پر کس دلیل کے ذریعہ فضیلت دی “۔
حرہ: ”خداوند متعال انھیں ان لوگوں سے افضل و بر تر جانتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے:
”ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً لِلَّذِینَ کَفَرُوا اِمْرَاٴَةَ نُوحٍ وَاِمْرَاٴَةَ لُوطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتَاہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنْ اللهِ شَیْئًا وَقِیلَ ادْخُلاَالنَّارَ مَعَ الدَّاخِلِینَ “[14]
”خدانے کافر ہونے والے لوگوں کو نوح و لوط کی بیویوں کی مثالیں دی ہیں۔یہ دونوں ہمارے صالح بندوں کے تحت تھیں مگر ان دونوں نے ان کے ساتھ خیانت کی لہٰذا ان کا ان دونوں سے تعلق انھیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکا اور ان سے کہا گیا کہ جہنم میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جاوٴ“۔
لیکن علی علیہ السلام کی زوجہ ،پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی بیٹی جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا ہیں جن کی خوشنودی خدا کی خوشنودی ہے اور جن کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہے۔
حجاج: شاباش حرہ! لیکن یہ بتا تو کس دلیل کی بنا پر ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام پر حضرت علی علیہ السلام کو فضیلت دیتی ہے؟
حرہ: ”خدا وند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا:
”رَبِّ اٴَرِنِی کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتَی قَالَ اٴَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَی وَلَکِنْ لِیَطْمَئِن قَلْبِي“[15]
”ابراہیم نے کہا پالنے والے! تو مجھے یہ دکھا دے کہ تو کیسے مردوں کو زندہ کرتا ہے تو خدا نے کہا کیا تمہارا اس پر ایمان نہیں ہے تو انھوں نے کہا کیوں نہیں مگر میں اطمینان قلب چاہتا ہوں“۔
لیکن میرے مولا علی علیہ السلام ا س حد تک یقین کے درجہ پر فائز تھے کہ آپ نے فرمایا:
”لوکشف الغطا ء ماازددت یقینا“۔
”اگر تمام پردے میرے سامنے سے ہٹا دئے جائیں تو بھی میرے یقین میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔“
اور اس طرح نہ پہلے کسی نے کہا تھا اور نہ اب کوئی ایسا کہہ سکتا ہے ۔“
حجاج: ”شاباش لیکن تو کس دلیل سے حضرت علی کو جناب موسیٰ کلیم اللہ پر فضیلت دیتے ہے؟“۔
حرہ: ”خداوند عالم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:
”فَخَرَجَ مِنْہَا خَائِفًا یَتَرَقَّبُ“ [16]
”وہ وہاں سے ڈرتے ہوئے (کسی بھی حادثہ کی)تو قع میں (مصر)سے باہر نکلے“۔
لیکن حضرت علی علیہ السلام کسی سے نہیں ڈرے، شب ہجرت رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے بستر پر آرام سے سوئے اور خدا نے ان کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی:
”وَ مِنْ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی نَفْسَہُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللهِ “[17]
”اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنے نفس کو اللہ کی رضا کے لئے بیچ دیتے ہیں“۔
حجاج: ”شاباش لیکن اب یہ بتا کہ داوٴد علیہ السلام پر علی کو کس دلیل سے فضیلت حاصل ہے ؟“
حرہ: ”خداوند متعال جناب دادوٴ علیہ السلام کے سلسلہ میں فرماتا ہے:
” یَادَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیفَةً فِی الْاٴَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَتَتَّبِعْ الْہَوَی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ “[18]
”اے دادوٴ! ہم نے تمہیں زمین پر خلیفہ بنا یا ہے لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق سے فیصلے کرو اور اپنی خواہشات کو پیروی نہ کرو کہ اس طرح تم راہ خدا سے بھٹک جاوٴ گے“۔
حجاج: ”جناب داوٴد کی قضاوت کس سلسلے میں تھی؟”
حرہ: ”دو آدمیوں کے بارے میں کہ ان میں سے ایک بھیڑ وں کا مالک تھا اور دوسرا کسان، اس بھیڑ کے مالک کی بھیڑوں نے اس کے کھیت میں جاکر اس میں کھیتی چرلی، اور اس کی زراعت کو تباہ و برباد کردیا، یہ دونوں آدمی فیصلہ کے لئے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس آئے اور اپنی شکایت سنائی، حضرت داؤد نے فرمایا: بھیڑکے مالک کو اپنی تمام بھیڑوں کو بیچ کر اس کا پیسہ کسان کو دے دینا چاہئے تاکہ وہ ان پیسوں سے کھیتی کرے اور اس کا کھیت پہلے کی طرح ہو جائے لیکن جناب سلیمان نے اپنے والد سے کہا۔”آپ کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ بھیڑوں کا مالک کسان کو دودھ اور اون دےدے تاکہ اس کے ذریعہ اس کے نقصان کی تلافی ہوجائے“۔
اس سلسلہ میں خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے: ”ففہمنا سلیمان“ [19]
” ہم نے حکم (حقیقی) سلیمان کو سمجھا دیا“۔
لیکن حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
”سلونی قبل ان تفقدونی“۔
”مجھ سے سوال کرلو قبل اس کے کہ تم مجھے کھو دو“۔
جنگ خیبر کی فتح کے دن جب حضرت رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی خد مت میں تشریف لے آئے تو آنحضرت نے لوگوں کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا:
”اٴفضلکم و اٴعلمکم و اٴقضاکم علي“۔
”تم میں سے افضل اور سب اچھا فیصلہ کرنے والے علی ہیں“۔
حجاج: ”شاباش لیکن اب یہ بتاوٴ کہ کس دلیل سے علی جناب سلیمان علیہ السلام سے افضل ہیں‘۔
(۱)حرہ: ”قرآن میں جنا ب سلیمان کا یہ قول نقل ہوا ہے:
” رَبِّ اغْفِرْ لِی وَہَبْ لِی مُلْکاً لاَیَنْبَغِی لِاٴَحَدٍ مِنْ بَعْدِی“[20]
” پالنے والے! مجھے بخش دے اور مجھے ایسا ملک عطا کردے جو میرے بعد کسی کے لئے شائستہ نہ ہو“۔
لیکن میرے مولا علی علیہ السلام نے دنیا کو تین طلاق دی ہے جس کے بعد آیت نازل ہوئی:
” تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِینَ لاَیُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الْاٴَرْضِ وَلاَفَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ “ [21]
”وہ آخرت کا مقام ان لوگوں کے لئے ہم قرار دیتے ہیں جو زمین پر بلندی اور فساد کو دوست نہیں رکھتے اور عاقبت تو متقین کے لئے ہے“۔
حجاج: ”شاباش اے حرہ اب یہ بتا کہ تو کیوں حضرت علی کو جنا ب عیسیٰ علیہ السلام سے افضل و برتر جانتی ہے؟“
حرہ: ”خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا:
” وَإِذْ قَالَ اللهُ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ اٴَاٴَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِی وَاٴُمِّی إِلَہَیْنِ مِنْ دُونِ اللهِ قَالَ سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِی اٴَنْ اٴَقُولَ مَا لَیْسَ لِی بِحَقٍّ إِنْ کُنتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَلاَاٴَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِکَ إِنَّکَ اٴَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ # مَا قُلْتُ لَہُمْ إِلاَّ مَا اٴَمَرْتَنِی بِہِ“[22]
”اور جب (روز قیامت) خدا کہے گا: اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو خدا قرار دو، تو وہ کہیں گے تو پاک وپاکیزہ ہے میں کیسے ایسی بات کہہ سکتا ہوں جس کا مجھے حق نہیں اگر میں نے کہا ہوتا تو تو ضرور جان لیتا تو جانتا ہے میرے نفس میں کیا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ تیرے نفس میں کیا ہے تو عالم الغیب ہے میں نے ان سے صرف وہی کیا ہے جو تونے مجھے حکم دیا تھا“۔
اسی طرح جناب عیسی ٰ کی عباد ت کرنے والوں کا فیصلہ قیامت کے دن کے لئے ٹال دیا گیا مگر نصیروں نے حضرت علی علیہ السلام کی عبادت شروع کر دی تو آپ نے انھیں فوراً قتل کردیا اور ان کے عذاب و فیصلہ کو قیامت کے لئے نہیں چھوڑا ۔“
حجاج: ”اے حرہ! تو قابل تعریف ہے تو نے اپنے جواب میں نہایت اچھے دلائل پیش کئے اگر تو آج اپنے تمام دعووٴں میں سچی ثابت نہ ہوتی تو میں تیری گردن اڑادیتا ۔“
اس کے بعد حجاج نے حرہ کو انعام دیکر باعزت رخصت کردیا۔[23]
ابو الہذیل اہل سنت کا ایک بہت ہی مشہور ومعروف عراقی عالم کہتا ہے کہ میں ایک سفر کے دوران جب شہر ”رقہ“(شام کا ایک شہر)میں وارد ہوا تو وہاں میں نے سنا کہ ایک دیوانہ بہت ہی خوش گفتار شخص ”معبدز کی“ میں رہتا ہے۔[24]
میں جب اس کے دیدار کے لئے معبد گیا تو میں نے وہاں ایک نہایت خوبصورت اور چھی قدو قامت کا ایک بوڑھا شخص بوریہ پر بیٹھا ہوا دیکھا جو اپنے بالوں اور ڈاڑھی میں کنگھی کر رہا تھا میں نے داخل ہوتے ہی اسے سلام کیا اس نے سلام کا جواب دیا اس کے بعد ہمارے درمیان اس طرح گفتگو ہوئی۔
گمنام شخص: ”تم کہاں سے تعلق رکھتے ہو؟
ابو الہذیل: ”عراق کا رہنے والا ہوں۔“
گمنام شخص: ”اچھا یعنی تم بہت ماہر ہو اور زندگی کے آداب واطوار سے بخوبی آشنا ہو ااچھا یہ بتاوٴ کہ تم عراق کے کس علاقہ سے تعلق رکھتے ہو؟“۔
ابو الہذیل: ”بصرہ سے“۔
گمنام شخص: ”بس علم وعمل سے آشنا ہو، تمہار نام کیا ہے ؟“
ابو الہذیل: ”مجھے ابو الہذیل علاف کہتے ہیں“۔
گمنام شخص: ”وہی جو بہت ہی مشہور کلامی ہے ؟“
ابو الہذیل: ”ہاں“۔
یہ سن کر اس نے ایک فرش کی طرف اشارہ کیا اور تھوڑی دیر بات چیت کرنے کے بعد اس نے مجھ سے سوال کیا: ”امامت کے بارے میں تیرا کیا نظریہ ہے؟“
ابو الہذیل: ”تیری مراد کون سی امامت ہے؟“
گمنام شخص: ”میری مرا د یہ ہے کہ تونے رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی رحلت کے بعد ان کے جانشین کے طور پر کسے دوسرے لوگوں پر ترجیح دیتے ہوئے خلیفہ تسلیم کیا ہے ؟“
ابو الہذیل: ”اسی کو جسے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ترجیح دی“۔
گمنام شخص: ”وہ کون ہے ؟“
ابو الہذیل: ”وہ ابو بکر ہیں“۔
گمنام شخص: ”تم نے انھیں کیوں مقدم جانا؟“
ابو الہذیل: ”کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایاہے: ” لوگوں میں سب سے اچھے شخص کو مقدم رکھو اور اسے اپنا رہبر سمجھو“۔تمام لوگ ابو بکر کو مقدم سمجھنے کے لئے راضی ہوئے ہیں“۔
گمنام شخص: ”اے ابو الہذیل ! یہاں تونے خطا کی ہے۔کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایاہے: ”اپنے میں سب سے اچھے شخص کو مقدم رکھو اور اسی کو اپنا رہبر جانو“، میرا اعتراض یہ ہے کہ خود ابو بکر نے منبر سے کہا: ”ولیتکم و لست بخیرکم،میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں“۔اگر لوگ ابو بکر کے جھوٹ کو بہتر سمجھتے ہیں اور انھیں اپنا رہبر بناتے ہیں تو گویا سب کے سب رسول اسلام کے قول کے مخالفت کر رہے ہیں اور اگر خود ابو بکر جھوٹ کہتے ہیں کہ ”میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں“، تو جھوٹ بولنے والے کے لئے مناسب نہیں کہ وہ منبر رسول پر جائے اور تم نے جو یہ کہا تھا کہ ابو بکر کی رہبری پر سب راضی تھے تو یہ اس وقت درست ہوگا جب انصار ومہاجرین نے ایک دوسرے سے یہ نہ کہا ہوتا کہ “ایک امیر ہمارے قبیلے سے ایک تمہارے قبیلے سے“ لیکن مہاجرین کے درمیان زبیر نے کہا کہ میں علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کے ہا تھ پر بیعت نہیں کروں گا ان کی تلوار کو توڑ دیا گیا اور ابو سفیان نے حضرت علی علیہ السلام کے پا س آکر کہا ”اگر آپ علیہ السلام چاہیں تو مدینے کی گلیوں کو پیادہ اور سوار فوجیوں سے بھر دوں“۔جناب سلمان نے بھی باہر آکر کہا ”انھوں نے کیا اور نہیں بھی کیا انھیں معلوم ہی نہیں کہ کیا کیا“۔ ابوبکر کی بیعت کے سلسلہ میں خلاف اصول کام ہوا ،اسی طرح جناب مقداد اور ابوذر نے بھی اعتراض کیا ان سب سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ سب لوگ ابو بکر کی خلافت سے راضی نہیں تھے۔
اے ابو الہذیل! میں تجھ سے چند سوالات کرنا چاہتاہوں تو مجھے اس کا جواب دے“۔
۱۔مجھے بتا کیا یہ درست نہیں ہے کہ ابو بکر نے بالائے منبر یہ اعلان کیا:
”ان لي شیطاناً یعترینی، فاذا رائیتمونی مغبضاً فاحذرونی“۔
”میرے لئے ایک شیطان ہے جو مجھے بہکادیا کرتا ہے لہٰذا میں غصہ میں رہا کروں تو مجھ سے دور ہو جایا کرو“۔
وہ در اصل یہ کہنا چاہتے تھے کہ” میں پاگل ہوں“۔لہٰذا تم لوگوںنے آخر کیوں ایسے شخص کو اپنا رہبر معین کر لیا؟“
۲۔تویہ بتا کہ جو شخص اس بات کا معتقد ہو کہ رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم نے کسی کواپنا جانشین نہیں بنا یا مگر ابو بکر نے عمر کو اپنا جانشین معین کیا جب کہ اس کے بعد عمر نے اپنا جانشین کسی کو نہیں بنایا کیا اس کے اعتقاد میں ایک طرح کا تناقض نہیں پایا جاتا۔تیرے پاس اس کا کیا جواب ہے؟
۳۔مجھے یہ بتا جب عمر نے اپنی خلافت کے بعد ایک شوریٰ تشکیل دی تو یہ کیوں کہا کہ یہ چھ کے چھ جنتی ہیں اور اگر ان میں سے دوافراد چار کی مخالفت کریں تو انھیں قتل کر دو اور اگر تین تین افراد آپس میں ایک دوسرے کی مخالفت کریں تو جس طرف عبد الرحمن بن عوف رہے اس گروہ کو قتل کردینا۔ ذرا یہ بتا کہ یہ کس طرح صحیح ہوگا اور کہاں کی دیانت داری ہوگی کہ اہل بہشت کو قتل کرنے کا حکم صادر کیا جائے ؟
۴۔تو یہ بھی بتا دے کہ ابن عباس اور عمر کی ملاقات اور ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کو تو کس کے عقیدہ کے مطابق سمجھتا ہے ؟
جب عمر بن خطاب زخمی ہونے کی وجہ سے بستر پر تھے اور عبد اللہ ابن عباس ان کے گھر گئے تو دیکھا کہ وہ بستر پر تڑپ رہے ہیں ، ابن عباس نے پوچھا:کیوں تڑپ رہے ہو؟تو عمر نے کہا“۔میں اپنی تکلیف کی وجہ سے نہیں تڑپ رہا ہوں بلکہ اس لئے تڑپ رہا ہوں کہ میرے بعد رہبری نہ جانے کس کے ہاتھوں میں ہوگی۔ اس کے بعد ابن عباس اور عمر کے درمیان اس طرح گفتگو ہوئی۔
ابن عباس: ”طلحہ بن عبید اللہ کو لوگوں کا رہبر بنا دو“۔
عمر: ”وہ سخت مزاج ہے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے بارے میں ایسا ہی فرمایا کرتے تھے ،میں اس طرح کے تند خو شخص کے ہاتھ میں رہبری کی مہار نہیں دینا چاہتا“۔
ابن عباس: زبیر بن عوام کو رہبر بنا دو“۔
عمر: وہ کنجوس آدمی ہے میں نے خود اسے دیکھا ہے وہ اپنی بیوی کی مزدوری جو اس کے اُون بننے کی تھی اس کے بارے میں بڑی سختی سے پیش آتا تھا، میں کنجوس کے ہاتھ میں رہبری نہیں دے سکتا“۔
ابن عباس: ”سعد وقاص کو رہبر بنادو“۔
عمر: ”وہ تیر و تلوار اور گھوڑوں سے کام رکھتا ہے، ایسے افراد رہبری کے لئے مناسب نہیں ہوتے“۔
ابن عباس: ”عبد الرحمن بن عوف کو کیوں نہیں رہبر بنا دیتے ؟“
عمر: ”وہ اپنے گھر کو تو چلا نہیں سکتا“۔
ابن عباس: ”اپنے بیٹے عبد اللہ کو بنا دو“۔
عمر: ”نہیں خدا کی قسم نہیں۔جو شخص اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا اس کے حوالہ میں یہ رہبری نہیں کر سکتا“۔
ابن عباس: ”عثما ن کو رہبر بنا دو“۔
عمر: ”خدا کی قسم (تین بار کہا)اگر میں عثمان کو رہبر بنا دوں گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے ”طائفہ معیط“(بنی امیہ کی ایک شق )کو مسلمانوں کی گردن پر سوار کر دیا جس سے مجھے یہ بھی خطرہ ہے کہ لوگ کہیں عثمان کو قتل کر ڈالیں“۔
ابن عباس کہتے ہیں: ”اس کے بعد میں خاموش ہو گیا اور چونکہ حضرت علی علیہ السلام اور عمر کے درمیان عداوت تھی اس لئے میں نے ان کا نام نہیں لیا لیکن عمر نے خود مجھ سے کہا: ”اے ابن عباس ! اپنے دوست کانام لو“۔
میں نے کہا: ”تو علی کو خلیفہ بنادو“۔
عمر: نے کہا: خدا کی قسم! میں صرف اس وجہ سے پریشان ہوں کہ میں نے حق کو حقدار سے چھین لیا ہے۔
”و الله لئن ولیتہ لیحملنہم علی المحجة العظمیٰ، و ان یطیعوا یدخلہم الجنة“۔
خدا کی قسم! اگر میں علی علیہ السلام کو لوگوں کا رہبر بنا دوں تو وہ یقینا لوگوں کو شاہراہ حق وہدایت تک پہنچا دیں گے ، اور اگر لوگ ان کی پیروی کریں گے تو وہ انھیں جنت میں داخل کردیں گے“۔
عمر نے یہ سب کچھ کہا ، مگر پھر بھی اپنے بعد خلافت کے مسئلہ کو چھ نفری شوریٰ کے حوالہ کر دیا۔
ابو الہذیل کہتا ہے: ”جب وہ گمنام شخص یہاں تک پہنچا تو اس کی حالت غیر ہونے لگی اور وہ ہوش و حواس سے بیگانہ نظر آنے لگا، (تقیہ کی وجہ سے خود کو دیوانہ بنالیا)، اس کا پورا واقعہ میں نے ساتویں اموی خلیفہ مامون سے بیان کیا ، اس نے اس شخص کو بلوا کر اس کا علاج کر ایا اور اسے اپنا ندیم خاص قرار دیا ، اور وہ اس کی منطقی بات کی وجہ سے شیعہ ہو گیا۔[25]
اہل سنت کے عظیم علماء کے لئے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں مامون (عباسی دور کا ساتواں خلیفہ) صدر کی حیثیت سے بیٹھا ہوا تھا اس بزم میں ایک بہت ہی طویل مناظرہ ہوا جس کا ایک حصہ ہم پیش کرتے ہیں۔
اہل سنت کے ایک عالم نے کہا: ”روایت میں ملتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابو بکر اور عمر کی شان میں فرمایا:
”ابوبکر و عمر سید ا کھول اہل الجنة“۔
”ابو بکر اور عمر جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔
مامون نے کہا: ”یہ حدیث غلط ہے۔کیونکہ جنت میں بوڑھوں کا وجود ہی نہیں ہے کیونکہ روایت میں ملتا ہے کہ ایک دن ایک بوڑھی عورت رسول اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گے“۔بوڑھی عورت گریہ وزاری کرنے لگی تو آپ نے فرمایا: ”خداوند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:
” إِنَّا اٴَنشَاٴْنَاہُنَّ إِنشَاءً فَجَعَلْنَاہُنَّ اٴَبْکَارًا عُرُبًا اٴَتْرَابًا“[26]
”بے شک ہم نے انھیں بہترین طریقہ سے خلق کیا اور ان سب کو باکرہ قرا ردیا وہ ایسی بیویاں ہوں گی جو اپنے شوہروں سے محبت کرتی ہوں گی خوش گفتار اور ان کی ہم سن سال ہوں گی“۔
اگر تمہارے مطابق ابوبکر و عمر جوان ہوں گے تو جنت میں جائیں گے۔تو کس طرح تم کہتے ہوکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”ان الحسن والحسین سیدا شباب اہل الجنة من الاولین والاخرین وابوھما خیر منھما“۔[27]
”حسن اور حسین علیہما السلام جنت کے اول وآخر کے جوانوں کے سردار ہیں اور ان کے والد علی بن ابی طالب علیہما السلام کا مقام ان سے بالاو بر تر ہے“۔
قاسم بن عیسیٰ عجلی جو”ابو دلف“کے نام سے مشہور تھا یہ نہایت باہمت ،سخی ،کشادہ قلب،عظیم شاعر،اپنے خاندان کا سربراہ اور محب علی ابن ابی طالب علیہما السلام تھا۔اس کی وفات ۲۲۰ ھ ق کوہوئی۔
ابو دلف کا ایک بیٹا تھا جس کانام ”دلف“تھا یہ بیٹا بالکل اپنے باپ کے بر عکس بہت ہی بد بخت اور بد زبان تھا۔
ایک روز اس کے بیٹے دلف نے اپنے دوستوں کے درمیان علی علیہ السلام کی محبت و عداوت کے سلسلہ میں بحث چھیڑ دی یہ بحث یہاں تک پہنچی کہ اس کے ایک دوست نے کہا کہ پیغمبر اسلام سے روایت ہے:
”یا علی لا یحبک الا موٴمن تقی ولا یبغضک الاولدُ زنیَّةٍ اٴوحیضة“
”اے علی علیہ السلام ! تم سے صرف متقی مومن محبت کرتا ہے اور تم سے وہی دشمنی و عداوت رکھتا ہے جو زنا زادہ ہو یا جس کا نطفہ حالت حیض میں منعقد ہوا ہو“۔
دلف،جو ان تما چیزوں کا منکر تھا اس نے دوست سے کہا میرے باپ ابو دلف کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے ؟آیا کوئی شخص اس بات کی جرائت کر سکتا ہے کہ ان کی بیوی سے زنا کرے“۔
اس کے دوستوں نے کہا: ”نہیں ہر گز نہیں۔ابو دلف کے بارے میں ایسا سوچنا بھی غلط ہے“۔
دلف نے کہا: ”خدا کی قسم میں علی علیہ السلام سے شدید دشمنی رکھتا ہوں (جب کہ میں نہ ولد الزنا ہوں اور نہ ولد حیض)
اسی وقت ابو دلف گھر سے باہر نکل رہا تھا ان کی نظر اپنے بیٹے پر پڑی اور دیکھا کہ وہ چند لوگوں سے گفتگو میں مصروف ہے جب ابو دلف موضوع بحث سے آگا ہ ہو ا تو اس نے کہا۔”خدا کی قسم !دلف زنا زادہ بھی ہے اور ولد حیض بھی۔کیونکہ میں ایک روز بخار میں مبتلا تھا اور اپنے بھائی کے گھر جا کر سو گیا تھا دیکھا کہ ایک کنیز گھر میں وارد ہوئی نفس امارہ مجھے اس کی طرف کھینچ کر لے گیا تو اس نے کہا:
”میں اس وقت حالت حیض میں ہوں“۔
میں نے جماع کے لئے اس کو مجبور کیا نتیجہ میں وہ حاملہ ہو گئی جس سے دلف پیدا ہوا، اس طرح یہ ولد الزنابھی ہے اور ولد حیض بھی۔[28]
تمام دوستوں نے یہ سمجھ لیا کہ علی علیہ السلام کی دشمنی دلف کے نطفہ کے وقت سے شروع ہوئی جو آج جڑ پکڑ گئی، جب بنیا د ہی غلط تھی تو عمارت کیوں نہ غلط ہوتی۔
معاویہ نے پیسہ کے ذریعہ کچھ جھوٹے صحابہ اور تابعین کو خرید رکھا تھا تاکہ وہ علی علیہ السلام کے خلاف حدیث گڑھیں ان اصحاب میں سے ابو ہریرہ ،عمر وعاص،مغیرہ بن شعبہ ، اور تابعین سے عروہ بن زبیر وغیرہ شامل تھے۔
ابو ہریرہ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد کوفہ آیا اور عجیب مکرو فریب سے اس نے علی علیہ السلام کے بارے میں نامناسب باتیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منسوب کردیں۔
راتوں میں وہ” با ب الکندہ “مسجد کوفہ کے پاس آکر بیٹھ جا تا تھااور لوگوں کو اپنے مکر و فریب سے منحرف کرتا رہتا تھا۔
ایک روز ایک غیور اور دانشور جوان نے اس کے اس حیلہ میں شرکت کی ،تھوڑی دیر تک وہ ابو ہریرہ کی بیہودہ باتیں سنتا رہا اس کے بعد اس نے اس سے مخاطب ہو کر کہا:“تجھے خدا کی قسم، کیا تونے پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کوحضرت علی علیہ السلام کے بارے میں یہ دعا کرتے ہوئے نہیں سنا ہے:
”اللھم وال من والاہ وعاد من عاداہ“۔
خدا یا !”تو اسے دوست رکھ جو علی علیہ السلام کو دوست رکھتا ہو اور اسے دشمن رکھ جو علی علیہ السلام کو دشمن رکھتا ہو“۔
ابو ہریرہ نے جب یہ دیکھا کہ وہ اس واضح حدیث کی تردید نہیں کر سکتا ، تو کہا: ”اللھم نعم“ خدا یا!میں تجھے شاہد وناظر جانتا ہوں ،میں نے یہ سنا ہے۔ غیور نوجوان نے کہا: ”میں خدا کو گواہ بناتا ہوں کہ تو دشمن علی کو دوست رکھتا ہے اور دوست علی کو دشمن رکھتا ہے ،اور رسول خد ا صلی الله علیه و آله وسلم کی لعنت کا مستحق ہے“، اس کے بعد یہ نواجوا ن بڑی متانت سے وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔[29]
ایک دوست کاکہنا ہے کہ میں سعودی عرب میں تھا وہاں کی ایک مسجد میں ایک ادھیڑ عمر کا شخص میرے پاس آیاجس کو دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ یہ شام کا رہنے والا ہے اور اس نے بھی مجھے جان لیا کہ میں شیعہ اثنا عشری ہوں۔
چند سوال و جواب کے بعد اس نے کہا: ”تم شیعہ لوگ نماز کے آخر میں تین مرتبہ کیوں ”خان الامین ،خان الامین ،خان الامین “(جبرئیل نے خیانت کی) کہتے ہو؟“
یہ بات سن کر میں پریشان ہو گیا اور میں نے اس سے کہا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دو اور تم یہ اچھی طرح دیکھو کہ میںکس طرح نماز پڑھتا ہوں۔
اس نے کہا: ”ٹھیک ہے تم نماز پڑھو، میں کھڑا ہوں۔میں دو رکعت نماز آخر ی تین مستحبی تکبیروں کے ساتھ بجالایا ،اس کے بعد اس کا نظریہ معلوم کیا تو اس نے کہا: ”تم نے تو ایک ایرانی اور عجم ہوتے ہوئے بھی ہم عربوں سے اچھی نماز پڑھی ہے لیکن ”خان الامین ،خان الامین ،خان الامین“ کیوں نہیں کیا ؟“
میں نے کہا: ”یہ چیزیں اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے تم جیسے سادہ لوگوں کے دلوں میں ڈالی گئی ہیں اور یہ تہمت ہمارے دشمنوں کی طرف سے لگائی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ اختلاف رہے“۔
وضاحت کے طور پر: ”خان الامین “سے ان کا مطلب یہ ہے کہ العیاذ باللہ شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ فرشتہ وحی جبرئیل امین کو علی علیہ السلام کے پاس قرآن لانا چاہتے تھا لیکن انھوں نے دھوکہ دیا اور آتے آتے راستہ بدل دیا اور قرآن پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی خدمت اقدس میں لے آئے اور قرآن آپ کے حوالہ کر دیا۔اسی وجہ سے شیعہ حضرات نماز کے بعد تین مرتبہ ”خان الامین“ (جبرئیل نے خیانت کی )کہتے ہیں۔
کتنی بے انصافی ہے ؟!ارے کون شیعہ ہے جو اس طرح کا عقیدہ رکھتا ہے ؟سچ مچ اگر دنیا کے مسلمان شیعوں کو (جو مسلمانوں کا ایک اٹوٹ حصہ ہے)اس عقیدہ سے پہچاننے لگیں تو کیا وہ کافر کہنے کا حق نہیں رکھتے ہیں ؟![30]
اسی طرح کی دوسری تہمت یہ ہے کہ ہمارے استاد کہتے ہیں کہ حجاز کے ایک درباری ملانے اپنے خطبہ میں اس طرح کہا:
”اگرشیعہ اتحاد کی دعوت دیں تو ان کے قریب نہ جانا وہ ہم سے کسی بھی چیز میں ایک نظریہ نہیں رکھتے،نہ توحید کے بارے میں، نہ صفات خدا، نہ قرآن کے بارے میں اور نہ دوسرے امور میں وہ ہمارے اور عالم اسلام کے لئے بہت ہی خطرناک ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔اس نے یہاں تک کہا کہ شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ خدا نہ عالم ہے نہ سمیع ہے نہ بصیر بلکہ یہ تمام صفات وہ اپنے امام سے منسوب کرتے ہیں اور جو قرآن ہمارے پاس ہے وہ لوگ اسے قبول نہیں کرتے ۔۔۔اس سے زیادہ تعجب خیز بات تو یہ تھی کہ اس ملا نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تمام باتیں اس نے شیعی کتب سے کہی ہیں !!
اس زر خرید ملا ّسے کہنا چاہئے “اگر تو غرض پر ست نہیں ہے تو ذرا انصاف سے فیصلے کر۔شیعوں کی حقیقی کتابیں ہر جگہ دستیاب ہیں اور شیعوں کا قرآن بھی لاکھوں لوگوں کے پاس موجود ہے اور تفاسیر علماء شیعہ بھی لوگوں کے ہے
تمہارے لئے مناسب ہے کہ ایران کا ایک سفر کر و اورشیعوں کے حوزہائے علمیہ کو قریب سے دیکھ لو تب تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ تمہاری بیہودہ تہمتیں کتنی بے بنیاد ہیں۔
ایک عالم دین فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں تھا، مسجد نبی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمقبر منورکے پاس کھڑاہوا تھاکہ ناگاہ ایک ایرانی شیعہ آیا اور مرقد رسول اکرم کے درو دیوار کا بوسہ دینے لگا۔
مسجد کا امام جماعت جو ایک وہابی عالم تھا اس نے ایرانی کو بوسہ دیتے دیکھ کر چلانا شروع کیا ”کیوں ان بے شعور پتھر اور کھڑکی کا بوسہ دیتا ہے اور شرک کا مرتکب ہو تا ہے، یہ دیوار پتھر کی اور کھڑکی لوہے کی ہے، کیوں بے شعور پتھر اور کھڑکی کا بوسہ لیتا ہے؟“[31]
اس وہابی اما م جماعت کی چیخ سن کر ایرانی شیعہ کے لئے میرے دل میں محبت پیدا ہوئی میں نے امام جماعت کے سامنے جاکر اس سے کہا: ”درو دیوار کا بوسہ دینا اس بات کی علامت ہے کہ ہم رسول اکرم سے محبت کرتے ہیں جس طرح ایک باپ اپنے چھوٹے بچہ کو محبت کی وجہ سے اس کا بوسہ دیتا ہے (اس کا م میں کسی بھی طرح کا کوئی شرک نہیں ہے)
اس نے کہا: ”نہ یہ شرک ہے“۔
میں نے اس سے کہا: ”آیا قرآن میں سورہ یوسف کی ۹۶ ویں آیت پڑھی ہے جس میں خداوند عالم فرماتا ہے:
” فَلَمَّا اٴَنْ جَاءَ الْبَشِیرُ اٴَلْقَاہُ عَلَی وَجْہِہِ فَارْتَدَّ بَصِیرًا“
”پس جب بشیر (یوسف کی زندگی کی بشارت لے کر یعقوب کے پاس)آیا اور اس (قمیص)کوان کے چہرے پر ڈال دیا گیا تو ان کی آنکھوں کی بینائی لوٹ آئی“۔
تم سے میرا سوال یہ ہے کہ یہ پیرا ہن تو ایک کپڑا تھا اس کپڑے نے کس طرح جنا ب یعقوب علیہ السلام کی بینائی عطا کی، آیا اس کے علاوہ کوئی اوربات ہے کہ یہ کپڑا جنا ب یوسف علیہ السلام کے پاس رہنے سے ان خصوصیتوں کا مالک ہو گیا تھا؟
وہابی امام جماعت میرے اس سوال کے جواب میں بے بس ہو گیا اور کوئی جواب نہ دے سکا۔
سورہ یوسف کی ۹۴ ویں آیت میں بھی آیا ہے۔
جس وقت قافلہ سر زمین مصر سے جدا ہوا (اور کنعان کی طرف روانہ ہوا)تو یعقوب علیہ السلام (کنعان مصر سے تقریباً۸۰ فرسخ پر واقع ہے )نے کہا: ”انی لاجد ریح یوسف“ میں بوئے یوسف سونگھ رہا ہوں“۔
پتہ چلا اولیا علیہم السلام معنوی طاقت کے مالک ہوتے ہیں اور ان کی اس نامرئی طاقت سے بہرہ مند ہونا نہ صرف یہ کہ شرک نہیں بلکہ عین توحید ہے کیونکہ ایسے آثار ان کے پاک اور منزہ عقیدہ توحید سے ہی وجود میں آئے ہیں۔
وضاحت: قبور اولیاعلیہم السلام پر ہم دل کی گہرائی سے ان سے اپنا رشتہ جوڑتے ہیں اور انھیں ہم خانہ خدا کے دروازے قرار دیتے ہیں کیونکہ ہماری زبان اس چیز کی صلاحیت نہیں رکھتی کہ بغیر کسی وسیلہ کے خدا سے رابطہ پیدا کر سکیں۔
اس لئے ہم انھیں اپنے اورخدا کے درمیان واسطہ قرا ردیتے ہیں۔
جیسا کہ سورہ یوسف کی آیت ۹۷ میں آیا ہے:
” قَالُوا یَااٴَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ“
” انھوں نے (یعنی برادران یوسف نے)کہا اے بابا! آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں بے شک ہم گنہگار تھے“۔
اس طرح اولیاء علیہم السلام سے توسل کرنا جائز ہے اور جو لوگ اسے توحید کے خلاف جانتے ہیں وہ یا تو قرآن کی تعلیمات سے آگاہ نہیں ہیں یا انھوں نے اپنے آنکھوں پر تعصب کی عینک چڑھا رکھی ہے۔
ہم سورہ مائدہ کی ۲۵ ویں آیت میں پڑھتے ہیں:
” یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَابْتَغُوا إِلَیْہِ الْوَسِیلَةَ “
”اے ایمان لانے والو! اللہ سے ڈروا اور اس کے لئے وسیلہ تلاش کرو“۔
اس آیت میں وسیلہ سے مراد صرف انجام واجبات اور ترک محرمات نہیں ہے بلکہ مستحبات منجملہ اولیاء خداعلیہم السلام سے توسل کرنا بھی وسیلہ شمار ہوگا۔
روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ منصور دوانقی (عباسی سلسلہ کا دوسرا خلیفہ )نے مفتی اعظم(مالک بن انس مذہب مالکی کے بانی )سے پوچھا ”حرم پیغمبر میں آیا روبہ قبلہ کھڑے ہوکر دعا مانگو ں یا روبہ پیغمبر ؟
مالک نے جواب میں کہا:
”لم تصرف وجھک عنہ وھو وسیلتک و وسیلة اٴبیک آدم علیہ السلام یوم القیامة بل استقبلہ واستشفع بہ فیشفعک اللہ ،قال اللہ تعالیٰ ،ولوانھم اذ ظلموا انفسھم۔۔۔ “
”تو کیوں اپنا چہرہ ادھر سے گھمانا چاہتا ہے جب کہ وہ تیرے وسیلہ ہیںقیامت تک کے لئے تیرے باپ آدم علیہ السلام کے وسیلہ ہیں بلکہ ان کی طرف رخ کر کے دعا مانگ اور ان سے شفاعت طلب کر تو اللہ تیری شفاعت کرے گا“۔
خدا وند عالم نے ارشاد فرمایا ہے:
”وَلَوْ اٴَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَہُمْ جَائُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِیمًا“[32]
”اور اگر وہ ظلم کرنے کے بعد تمہارے پاس آتے اور اللہ سے مغفرت کرتے اور رسول اکرم بھی ان کے لئے مغفرت کرتے تو وہ یقینا خدا کو تواب ورحیم پاتے“۔[33]
شیعہ اور سنی روایتوں میں نقل ہوا ہے کہ تو بہ کے وقت حضرت آدم علیہ السلام نے خانہ خدا میں پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کو واسطہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا:
”اللھم اسئلک بحق محمد الاغفرت لی“۔[34]
”خدا یا ! تجھے محمد کے حق کا واسطہ دے کر سوال کرتاہوں کہ تو مجھے بخش دے“۔
اس بات کی تائید میں کہ اولیائے خدا علیہم السلام کی قبروں کا بوسہ دینا شرک نہیں ہے ،مندرجہ ذیل اہل سنت کی تین احادیث پر توجہ فرمائیں:
۱۔ایک شخص نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت اقدس میں آکر پوچھا: ”اے رسول خدا میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جنت کے دروازے اور حورالعین کی پیشانی کا بوسہ دوں، اب میں کیا کروں ؟
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”ماں کا پیر اور باپ کی پیشانی کا بوسہ دو(یعنی اگر ایسا کروگے تو اپنی آرزو حورعین کی پیشانی کا بوسہ دینا اور جنت کے دروازے کا بوسہ دینے تک پہنچ سکتے ہو)
اس نے پوچھا: ”اگر ماں باپ مر گئے ہوں تو کیا کروں ؟“
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ‘”ان کی قبروں کا بوسہ دو“۔[35]
۲۔جس وقت جنا ب ابراہیم علیہ السلام، اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے دیدار کے لئے شام سے مکہ آئے تو دیکھا اسماعیل علیہ السلام گھر پر نہیں ہیں ابراہیم علیہ السلام واپس چلے گئے جب اسماعیل علیہ السلام اپنے سفر سے واپس آئے تو ان کی زوجہ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کی آمد کی اطلاع دی اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کے قدم کی جگہ کو معلوم کر کے احترام کے طور پر قدم کے نشان کا بوسہ دیا۔[36]
۳۔سفیان ثوری ( اہل سنت کا صوفی)نے امام جعفرصادق علیہ السلام کے پاس آکر عرض کیا: ”کیوں لوگ کعبہ کے پردے کا دامن پکڑتے ہیں جب کہ وہ پردہ بالکل پرانا ہو چکا ہے جو کسی طرح کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ہے ؟“
امام جعفر صادق علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ”یہ اس کام کے مانند ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے بارے میں گناہ کا مرتکب ہوا ہو(مثلاً اس کا حق ضائع کر دیا ہو ) اور اس کے دامن سے چپکے ،لپٹے اور اس کے اطراف اس امید سے گھومے کہ اس کا گناہ معاف کردے گا“۔[37]
آیت اللہ العظمیٰ عبد اللہ شیرازی(علیہ الرحمة ) کتاب ”الاحتجاجات العشرة“ میں فرماتے ہیں: ”ایک روز میں مدینہ میں قبر رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے پاس گیا تو دیکھا کہ حوزہ علمیہ قم کا ایک طالب علم ضریح پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی طرف بڑھا اور اس نے جب دیکھا کہ شرطی (امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے کارکن جو ضریح مقدس کا بوسہ دینے والوں کو روکتے ہیں )اس سے غافل ہے تو اس نے قریب پہنچ کر ضریح مقدس کا کئی بار بوسہ لیا۔
شرطی نے جب دیکھا تو بہت ناراض ہوا اور مجھے دیکھ کر میرے پاس آکر اس نے بڑے احترام سے کہا: ”اے آقا! اپنے چاہنے والوں کو ضریح چومنے سے منع کیوں نہیں کرتے یہ درو دیوار کو جو بوسہ دیتے ہیں یہ لوہے کے علاوہ کچھ بھی نہیں جسے استامبول سے لایا گیا ہے انھیں چومنے سے منع کریں کیونکہ یہ تمام شرک ہے“۔
میں نے کہا: ”تم حجر اسود کو بوسہ دیتے ہو؟“
شرطی نے کہا: ”ہاں“۔
میں نے کہا: ”پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی قبر پر بھی پتھر ہے اگر اس پتھر کا چومنا شرک ہے تو حجر اسود کا بھی چومنا شرک ہے“۔
اس نے کہا: ”حجر اسود کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چوما ہے“۔
میں نے کہا: ”اگر کسی چیز کا ”تیمناً و تبرکاً“ چومنا شرک ہے تو پیغمبر اور غیر پیغمبر میں کوئی فرق نہیں ہے“۔
اس نے کہا: ” پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے اس لئے چوما کہ وہ جنت سے آیا ہے“۔
میں نے کہا: ”ہاں حجر اسود جنت سے لایا گیا ہے اس لئے وہ محترم ومقدس ہو گیا ہے اور اسے پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے چوما ہے اور حکم دیا ہے کہ اسے چوما جائے کیونکہ بہشت کا ایک حصہ ہے“۔
اس نے کہا: ہاں ”یہی وجہ ہے“۔
میں نے کہا: ”بہشت اور اجزاء بہشت کا مقدس اور محترم ہونا وجود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ہے“۔
اس نے کہا: ”ہاں“۔
میں نے کہا: ”جب بہشت اور اجزاء بہشت، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وجود کی وجہ سے مقدس اور محترم ہو جاتے ہیں اور ان کا بوسہ دینا ”تیمناً و تبرکا ً“جائز ہوجاتا ہے تو یہ لوہا(جو قبر پیغمبر اکرم کے اطراف میں لگا ہوا ہے)اگر چہ استامبول سے آیا ہے لیکن قبر پیغمبر میں لگنے کی وجہ سے مقدس اور محترم ہو گیا ہے اس وجہ سے ان کا بھی چومنا جائز ہے“۔
توضیح کے لئے بات آگے بڑھاوٴں۔ قرآن کی جلدچمڑے سے بنائی جاتی ہے۔کیا یہ چمڑا صحرا اور دریا کی گھاس کھانے والے حیوانوں سے نہیں لیاجاتا ہے جس کا نہ پہلے احترام کر ناضروری تھا اور نہ نجس کرنا حرام تھا لیکن اسی چمڑے سے جلد قرآن بننے سے وہ محترم ہو جاتا ہے اور اس کی توہین کرنا حرام ہے اور ہم اسے بوسہ دیتے ہیں جس طرح صدر اسلام سے اب تک مسلمانوں کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ جلد قرآن کا چومناجیسے ایک باپ اپنے بیٹے کا بوسہ لیتا ہے،آج تک کسی نہیں کہا کہ یہ شر ک اور حرام ہے، اسی طرح ضریح پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم اور تمام ائمہ علیہم السلام کی ضریحوں کا بوسہ دینا نہ شرک ہے نہ بت پرستی۔
موٴلف کا قول: لیلیٰ ومجنوں کی تاریخ حیات میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ لیلیٰ کے محلہ کا ایک کتا مجنوں کے محلہ تک پہنچ گیا مجنوں نے جب اسے دیکھا تو اسے اپنی آغوش میں لے کر بوسہ دینے لگا ، ایک شخص نے اس سے کہا: ”لیس علی المجنون حرج“مجنوں کے لئے یہ کوئی حرج نہیں ہے یعنی تم دیوانہ ہو اس لئے کتے کا بوسہ دینے پر میں کوئی اعتراض نہیں کروں گا۔
مجنوں نے جواب میں کہا: ”لیس علی الاعمیٰ حرج“اندھے کے لئے کوئی بات نہیں ہے ، یعنی تم اندھے ہو اور تم ہمارے اس بوسہ لینے کو درک نہیں کر سکتے ہو“۔
یہ قطعہ بھی مجنوں کے لئے منسوب ہے:
اٴمر علی الدیار دیار لیلی اُقبل ذالجدارو ذالجدار
وما حب الدیار شغفن قلبي ولکن حب من سکن الدیار
”میں لیلیٰ کے گھر کی طرف سے گزرتا ہوں تو اس کے درودیوار کو چومتا ہوں۔ اس گھر کی محبت نے مجھے پاگل نہیں کیا بلکہ اس کی محبت نے مجھے دیوانہ بنا دیا جو اس گھر میں رہتا ہے“۔[38]
تاریخ شیعہ کے ایک جید اور زبردست متکلم جنا ب میثم تمار کے پوتے جن کا نام علی ابن اسماعیل بن شعیب بن میثم تھا لیکن انھیں علی بن میثم کے نام سے یاد کرتے ہیں وہ امام رضا علیہ السلام کے صحابیوں میں سے تھے اوراپنے مخالف سے بحث ومناظرہ کرنے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔
ہم یہاں پر نمونہ کے طور پر ان کے چند مناظرے تحریر کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
ایک روز آپ نے ایک عیسائی سے اس طرح مناظرہ کیا:
علی بن میثم: ” تم لوگوں نے اپنی گردن میںصلیب کی شکل کیوں لٹکا رکھی ہے “؟
عیسائی: ”کیونکہ یہ شکل اس چیز سے شباہت رکھتی ہے جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لٹکا کر پھانسی دی گئی تھی“۔
علی بن میثم: ”کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود اس طرح کی چیز کا اپنی گردن میں لٹکا نا پسند کریں گے ؟“
عیسائی: ”ہر گز نہیں“۔
علی بن میثم: ”کیوں؟“۔
عیسائی: ”کیونکہ وہ جس چیز پر قتل کئے گئے ہیں اس کو ہر گز نہیں پسند کریں گے“۔
علی بن میثم: ”مجھے یہ بتاوٴ کہ کیا جناب عیسیٰ علیہ السلام اپنے کاموں کے لئے گدھے پر سوار ہوتے تھے ؟“۔
عیسائی: ”ہاں“۔
علی بن میثم: ”کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ا س چیز کو پسند کرتے کہ وہ گدھا باقی رہے اور ان کی ضرورت کے وقت انھیں ان کی منزل مقصود تک لے جائے؟“
عیسائی: ”ہاں“۔
علی بن میثم: ”تم نے اس چیز کو تر ک کر دیا جسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام چاہتے تھے کہ باقی رہے اور جس چیز کو وہ پسند نہیں کرتے تھے تم لوگوں نے اسے باقی رکھا ہے اور اسے اپنی گردن میں لٹکا رکھا ہے جب کہ تمہارے نظریہ کے مطابق تو تمہارے لئے بہتر یہ تھا کہ گدھے کی شکل کی کوئی چیز گردن میں لٹکاتے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسے باقی رکھنا چاہتے تھے، تم صلیب کو دور پھینکو ورنہ اس سے تمہاری جہل و نادانی ثابت ہوگی“۔[39]
ایک روز علی بن اسماعیل مامون کے وزیرحسن بن سہل کے پا س گئے تو دیکھا ایک ہواو ہوس پرست منکر خدا لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا ہے اور وزیر مامون اس کا بہت احترام کر رہا ہے اور دیگر تما م بڑے بڑے اور عظیم دانشور حضرات اس کے پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ منکر خدا بڑی گستاخی کے ساتھ اپنے مذہب کی حقانیت کے بارے میں باتیں کر رہا ہے۔
علی بن میثم یہ دیکھ کر ٹھہر گئے اور اپنے مناظرہ کی شروعات کی۔
علی بن میثم نے حسن بن سہل سے اس طرح کہا: ”اے وزیر! آج میں نے تمہارے گھر کے باہر ایک بہت ہی عجیب چیز دیکھی ہے ؟
وزیر: ”کیا دیکھا ؟“
علی بن میثم : ”دیکھا کہ ایک کشتی بغیر کسی ناخدا اور رسی کے ادھر سے ادھر چل رہی ہے“۔
اس وقت وہ منکر خدا جو وہاں بیٹھا ہوا تھا اس نے وزیر سے کہا: ”یہ (علی بن میثم)دیوانہ ہے کیونکہ عجیب الٹی سیدھی بات کرتا ہے“۔
علی بن میثم: ”نہیں صحیح بات کر رہاہوں میں دیوانہ کیوں ہونے لگا؟“
منکر خدا: ”لکڑی سے بنی کشتی بغیر ناخدا کے کیسے ادھر سے ادھر جائے گی؟“
علی بن میثم: ”یہ میری بات تعجب آور ہے یا تمہاری کہ یہ عالم ہستی جو عقل وجان رکھتی ہے یہ مختلف گھاس اور دیگر نباتات جو زمین سے اگتے ہیں، یہ باران رحمت جو زمین پر نازل ہوتی ہے تیرے عقیدہ کے مطابق بغیر کسی خالق و مدبر کے ہے جب کہ تو ایک چھوٹی سی چیز کے لئے کہتا ہے کہ بغیر کسی ناخدا اور راہنما کے ادھر سے ادھر نہیں چل سکتی؟“
یہ منکر خدا علی بن میثم کا جواب دینے سے بے بس ہو گیا اور سمجھ گیا کہ یہ کشتی والی مثال صرف مجھے شکست دینے کے لئے دی گئی تھی۔[40]
ایک روز علی بن میثم نے ابو الہذیل سے پوچھا: ”کیا یہ صحیح ہے کہ ابلیس نوع انسان کو ہر نیکی سے روکتا ہے اور ہر بدی کا حکم دیتا ہے ؟“
ابو الہذیل: ”ہاں یہ صحیح ہے“۔
علی بن میثم: ”چونکہ نیک کام کو نہیں پہچانتا لہٰذا اس کے انجام دینے سے لوگوں کو منع کرتا ہے یا برائی کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس کو نہیں جانتا“۔
ابو الہذیل: ”نہیں بلکہ وہ جانتا ہے“۔
علی بن میثم: ”یعنی یہ ثابت ہے کہ ابلیس ہر نیکی اور ہر بدی کو جانتا ہے“۔
ابو الہذیل: ”ہاں“۔
علی بن میثم: ”مجھے یہ بتاوٴ کہ رسو ل خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد تمہارا امام کون تھا؟کیا وہ تمام نیکی اور بدی کو جانتا تھا یا نہیں؟“
ابو الہذیل: ”نہیں تمام نیکی اور بدی کو نہیں جانتا تھا“۔
علی بن میثم: ”بس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابلیس تمہارے امام سے زیادہ عقلمند اور عالم ہے“۔
ابو الہذیل اس بات کو جواب دینے سے قاصر رہا اور وہ بری طرح پھنس گیا۔[41]
ایک روز ابو الہذیل نے علی بن میثم سے پوچھا کہ رسول صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد علی علیہ السلام کی امامت اور حضرت ابو بکر سے افضل ہونے پر کیا دلیل ہے؟
علی بن میثم: ”رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی رحلت کے بعد تمام مسلمانوں کی یہ متفقہ رائے تھی کہ علی علیہ السلام ایک کامل مومن اور عالم ہیں جب کہ اس وقت ابو بکر کے سلسلہ میں اس طرح کا اجماع نہیں تھا“۔
ابو الہذیل: ”استغفر اللہ ، خدا معاف کرے کس شخص نے رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی رحلت کے بعد ابو بکر کے علم وایمان پر اجما ع نہیں کیا تھا؟!“
علی بن میثم: ”میں اور مجھ سے پہلے والے اور حالیہ زمانے میں میرے ساتھی“۔
ابو الہذیل: ”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم اورتمہارے ہمنواگمراہی کی زندگی گزار رہے ہیں“!۔
علی بن میثم: ”اس طرح کا جواب گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے علاوہ کچھ نہیں یعنی تو منطقی جواب نہ دے کر برا بھلا کہہ رہا ہے اور مجھے گمراہ جانتا ہے، تیرا بھی جواب گالی گلوچ ہی ہے“[42]
(کیونکہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے تو بہتر ہے)۔
عمر بن عبد العزیز (اموی سلسلہ کا آٹھواں خلیفہ )کے دور خلافت میں ایک سنی نے اس طرح قسم کھائی :
”ان علیا ًخیر ھذہ الامة والاامراتی طالق ثلاثا“۔
یقینا علی علیہ السلام اس امت کی بہترین فرد ہیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو میری بیوی کوتین طلاق ہو۔
وہ شخص اس بات کا معتقد تھا کہ حضرت رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص علی ابن ابی طالب علیہماالسلام ہیں بس اس وجہ سے اس کی طلاق باطل ہے۔
اہل سنت حضرات کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر ایک نشست میں تین مرتبہ طلاق طلاق کہہ دیا جائے تو طلاق صحیح ہے اس شخص کی بیوی کا باپ اس طلاق کو صحیح جانتا تھا کیونکہ اس کے عقیدہ کے مطابق رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی رحلت کے بعد علی علیہ السلام تمام مسلمانوں سے افضل وبرتر نہیں تھے۔
اس عورت کے شوہر اور اس کے باپ میں بحث ہو گئی۔
شوہر کہتا تھا: ”یہ عورت میری بیوی ہے اور طلاق باطل ہے کیونکہ شرط طلاق علی علیہ السلام کا تمام امت میں برتر نہ ہونا ہے جب کہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ علی علیہ السلام تمام لوگوں سے افضل و برتر ہیں تو طلاق کہاں واقع ہوئی ؟“
باپ کہتا تھا: ”طلاق واقع ہوگئی کیونکہ علی علیہ السلام تما م لوگوں سے افضل و برتر نہیں ہیں نتیجہ میں یہ عورت اپنے شوہر پر حرام ہے“۔
یہ بحث آگے بڑھ گئی اور کچھ لوگ باپ کے طرفدار ہوگئے اور کچھ شوہر کے اور یہ مسئلہ ایک مشکل بن گیا۔
میمون بن مہران نے اس واقعہ کو عمر بن عبد العزیز کے پاس لکھ بھیجا تاکہ وہ اسے حل کرے۔یہ مسئلہ ایک مشکل بن گیا۔
عمر بن عبد العزیزنے ایک نشست بلوائی جس میں بنی ہاشم ،بنی امیہ اور قریش کے چند بزرگوں کو شرکت کی دعوت دی اور ان سے کہا کہ اس مسئلہ کا حل پیش کریں۔
اس جلسہ میں بات چیت تو بہت زیادہ ہوئی، بنی امیہ اس کا جوا ب دینے سے بے بس تھے، اس لئے انھوں نے سکوت اختیار کیا۔
آخر میں بنی ہاشم کے ایک شخص نے کہا:
”طلاق صحیح نہیں ہے کیونکہ علی علیہ السلام تمام امت میں سب سے افضل و برتر ہیں۔اور طلاق کی شرط عدم برتری ہے لہٰذ ا طلاق واقع نہیں ہوئی“۔
اس شخص نے اپنے دعویٰ کے ثبوت کے لئے عمر بن عبد العزیزی سے کہا:تجھے خدا کی قسم ہے کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم جناب فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے بیمار پڑنے پر ان کی عیادت کے لئے گئے تھے اور اس وقت علی علیہ السلام کی زوجیت میں تھیں۔
آپ نے فرمایا: ”بیٹی کیا کھانا چاہتی ہو؟“
جنا ب فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا نے عرض کیا: ”بابا انگور کھا نے کو دل چاہتا ہے“۔
حالانکہ یہ انگور کا موسم نہیں تھا اور حضرت علی علیہ السلام بھی سفر پر تھے مگر رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے یوں دعا کی:
”اللھم آتنا بہ مع اٴفضل اٴمتی عندک منزلة“۔
”پالنے والے ! انگو ر کو میرے پاس اس شخص کے ذریعہ پہنچا جس کی منزلت تیرے نزدیک سب سے زیادہ ہو“۔
ناگاہ علی علیہ السلام نے دق الباب کیا اوراپنے ہاتھوں میں عبا سے ڈھکی ٹوکری کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے۔
پیغمبر خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا: ”علی علیہ السلام یہ کیا ہے ؟“
علی علیہ السلام نے کہا: ”یہ انگور ہے جس کی فاطمہ الزہرا سلا م اللہ علیہا نے خواہش کی ہے“۔
پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر ،اللہ اکبر،خدایا تو نے جس طرح علی کو اس امت کا بہترین شخص قرا دے کر مجھے خوش کیا اسی طرح ان انگور کو میری بیٹی فاطمہ کے شفا قرار دے“۔
اس کے بعد آپ نے انگور کو فاطمہ سلام اللہ علیہا کے پاس رکھ دئے اور فرمایا: ”بیٹی اسے بسم اللہ کہہ کر کھاوٴ“۔
ابھی رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر سے باہر نہیں نکلے تھے کہ آپ صحت یاب ہوگئیں۔
عمر بن عبد العزیز نے ہاشم مرد سے کہا: ”سچ کہا اور اچھی طرح بیان کیا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس حدیث کو میں نے سنا ہے اور کئی جگہ دیکھا ہے اور میں اس کو ماتنا ہوں“۔
اس کے بعد عبد العزیز نے اس عورت کے شوہر سے کہا: ”عورت کا ہاتھ پکڑ اور اپنے گھر لے جا،یہ تیری بیوی ہے اگر اس کا باپ روکے تو مار مار کر اس کا چہرہ بگاڑدے“۔[43]
اس طرح اس اہم جلسہ میں عمر بن عبد العزیز (اموی دور کے آٹھویں خلیفہ ) نے قانونی طور پر تمام امت پر امام علی علیہ السلام کی برتری کا اعلان کر ادیا جس کی وجہ سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ وہ عورت اس اہل سنت شخص کی زوجیت میں باقی ہے۔
دسویں اور گیارہویں صدی ہجری کے عالم تشیع کے ایک بہت ہی جلیل القدر عالم دین محمد بن حسین بن عبد الصمد گزرے ہیں جنھیں لوگ ”شیخ بہائی“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
شیخ بہائی نے ۱۰۳۱ ھ قمری میں اس دنیا کو خیر آباد کہا، آپ کی قبر امام رضا علیہ السلام کے مرقد مقدس کے جوا ر میں واقع ہے۔
ایک سفر کے دوران آپ کی ملاقات ایک شافعی مذہب عالم دین سے ہوئی ، آپ نے بھی اس کے سامنے اپنے آپ کو شافعی ظاہر کیا۔جب اس شافعی کو یہ معلوم ہوا کہ شیخ بہائی شافعی مسلک ہیں اور مرکز تشیع (ایران) سے آئے ہیں تو اس نے شیخ بہائی سے کہا:
”یہ شیعہ حضرات اپنی باتوں کے اثبات کے لئے کوئی دلیل و شاہد بھی رکھتے ہیں؟
شیخ بہائی نے کہا: ”میرا کبھی کبھی ان سے سامنا ہوا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ وہ اپنے مطلب و مقصد کے ثبوت میں بہت ہی محکم دلائل رکھتے ہیں“۔
شافعی عالم نے کہا: ”اگر ممکن ہوتو ان میں سے کوئی دلیل نقل کرو“۔
شیخ بہائی نے کہا: ”مثلاًوہ کہتے ہیں کہ صحیح بخاری میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایاہے:
”فاطمة بضعة منی من آذاہا فقد آذانی و من اغضبہا فقد اغضبنی“
”فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا“۔[44]
اور اس کے چار ہی ورق کے بعد یہ لکھا ہے:
”وخرجت فاطمة من الدنیا و ھی غاضبة علیھما“۔[45]
”فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا اس دنیا سے عمر و ابوبکر سے ناراض رخصت ہوئیں“۔
ان دونوں روایتوں کو جمع کرنے کے بعد اہل سنت کے مطابق ان کا کیا جواب ہو سکتا ہے ؟“
شافعی مذہب فکر میں ڈوب گیا، کیونکہ ان روایتوں پر غور کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ دونوں عادل نہیں تھے اور رہبری کی لیاقت نہیں رکھتے تھے )اور تھوڑے تامل کے بعد ان سے کہنے لگا: ”کبھی کبھی شیعہ جھوٹ بھی بول لیتے ہیں ہوسکتا ہے یہ بھی جھوٹ ہو مجھے کچھ وقت دو تاکہ میں صحیح بخاری کا مطالعہ کرو ں اور اس روایت کے صدق وکذب کا پتہ لگاوٴں اور سچ ہونے کی صورت میں اس کا جواب بھی معلوم کرلوں“۔
شیخ بہائی کہتے ہیں:
”دوسرے دن جب میں نے اس شافعی کو دیکھا تو میں نے اس سے کہا: ”تمہاری تحقیق کہا ں تک پہنچی ؟“
اس نے کہا: ”وہی ہو جو میں کہتا تھا کہ شیعہ جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ میں نے ان دونوں روایتوں کو صحیح بخاری میں دیکھالیکن شیعہ کہتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان چار ورق کا فاصلہ ہے لیکن میں نے جب گنا تو پانچ ورق کا فاصلہ پایا“!![46]
کتنا بہترین جواب ہے ؟! کتنی بڑی حماقت ہے ! صحیح بخاری میں ان دونوں روایتوںکا موجود ہونا مقصود ہے خواہ وہ پانچ ورق کے فاصلہ پر ہو یا پچاس ورق کے فاصلہ پر ؟!
آٹھویں صدی ہجری کے اوائل میں شاہ خدا بندہ ،ایل خانیان کا گیارہواں بادشاہ سنی المذہب تھا مگر ۷۰۹ ہجری میں علامہ حلی (شیعوں کے بزرگ دینی مرجع متوفی ۲۶ ۷ ھ) کی زبردست مناظروں کی وجہ سے وہ شیعہ ہوگیا تھا اس نے مذہب جعفری کا قانونی طور پر اعلان کر دیا اور پورے ایران میں اسی وجہ سے شیعہ مذہب رائج ہوا۔
ایک دن اس کے پاس اہل تسنن کے بڑے بڑے علماء بیٹھے ہوئے تھے، علامہ حلی بھی شاہ کی دعوت پر وہاں موجود تھے اس بزم میں شیعہ و سنی کے درمیان مختلف مناظرے ہوئے ان میں ایک مناظرہ یہ بھی تھا:
اہل سنت کے ایک عظیم عالم دین سید موصلی نے علامہ حلی سے کہا: ”پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے علاوہ دوسرے لوگوں (یعنی ائمہ علیہم السلام ) پر صلوات بھیجنے کا کیا جواز ہے ؟“
علامہ حلی نے یہ آیت پڑھ دی:
” وَبَشِّرْ الصَّابِرِینَ الَّذِینَ إِذَا اٴَصَابَتْہُمْ مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔ اٴُوْلَئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّہِمْ وَرَحْمَةٌ“ [47]
”اور ان صابروں کو بشارت دیں جن کے اوپر جب کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم خدا کے لئے ہیں اور اسی کی طرف واپس پلٹ کے جائیں گے ان لوگوں پر ان کے پروردگار کی طرف سے صلوات ورحمت ہو“۔
سید موصلی نے بڑی اعتنائی سے کہا: ”پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے علاوہ اور کن لوگوں (ائمہ معصومین علیہم السلام ) اور کس پر ایسی مصیبت نازل ہوئی کہ وہ صلوات کے مستحق ہوجائیں؟“
علامہ حلی نے فوراً کہا: ”سب سے بڑی مصیبت تو یہ ہے ان کی نسل میں ایک تیرے جیسا آدمی بھی ہے جو منافقوں کو آل رسول پر ترجیح دیتا ہے! “
علامہ کی اس حاضر جوابی پر سارا مجمع ہنس پڑا۔[48]
ایک شیعہ عالم دین سعودی حکومت کے مرکز امر با لمعروف اور نہی عن منکر میںپہنچ گئے وہاں انھوں نے اس کے سر پرست سے کچھ گفتگو کی جو ایک مناظرہ کی شکل اختیار کر گئی ہم اسے یہاں نقل کر رہے ہیں:
سرپرست: ”رسو ل اکرم صلی الله علیه و آله وسلم دنیا سے چلے گئے اور جو مرجاتا ہے وہ کسی کو نقصان یا فائدہ نہیں پہنچا سکتا تو تم لوگ قبر رسول سے کیا چاہتے ہو۔؟“
شیعہ عالم دین: ”رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم اگر چہ اس دنیا کو چھوڑ چکے ہیں مگر در حقیقت وہ زندہ ہیں کیونکہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
” وَلَاتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اٴَمْوَاتًا بَلْ اٴَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ“[49]
”اور اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والوں کو تم ہرگز مردہ نہ سمجھنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کی طرف سے رزق پاتے ہیں“۔
نیز بہت سی روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا زندگی میں احترام کرنا واجب تھا اسی طرح مرنے کے بعد بھی احترام کرنا چاہئے“۔
سرپرست: ”اس آیت میں جو زندگی مراد لی گئی ہے کیا وہ ہماری اس زندگی سے مختلف اور اس کے علاوہ کوئی اور زندگی ہے ؟“
شیعہ عالم: ”اس میں کیا حرج ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم رحلت کے بعد ایک دوسری زندگی کے مالک ہوں اور ہماری باتیں سنیں اور اسی عالم میں خدا کے حکم سے ہم پر لطف کریں ہماری مشکلات حل کریں؟ میں تم سے پوچھتا ہوں ”جب تمہارا باپ مر جاتا ہے تو کیا تم اس کی قبر پر نہیں جاتے اور اس کے لئے خداسے مغفرت کی دعا نہیں کرتے ؟“
سرپرست: ”کیوں نہیں ہم جاتے ہیں“۔
شیعہ عالم: میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں نہیں تھا کہ اس طرح ان کی زیارت سے مشرف ہو جاتا لہٰذا اب ان کی قبر کی زیارت کے لئے آیا ہوں“۔
اس سے واضح الفاظ میں یوںکہا جائے:پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جسم اطہر کی وجہ سے قبر کے اطراف کا حصہ یقینا مبارک ہو گیا ہے اگر ہم اس قبر مقدس کی خاک کا بوسہ لیتے ہیں یا اسے تبرک سمجھتے ہیں تو یہ بالکل اس کے مانند ہے کہ جیسے ایک شاگرد یا بیٹا اپنے استاد یا باپ کی محبت کی وجہ سے اس کے پیر کی خاک اٹھا کر اپنی آنکھوں سے لگاتا ہے۔
مولف کا قول: مجھے وہ زمانہ یاد ہے جب امام خمینی کو ملک بدر کیا گیا تھا تو اس وقت میرے ایک نہایت بزرگ استاد نے کہا تھا: ”میں چاہتاہوں کہ اپنے عمامہ کے تحت الحنک کو امام خمینی کے نعلین سے مس کروں اور اس خاک آلود تحت الحنک کے ساتھ نما ز پڑھوں“۔
اس طرح کی باتیں در اصل شدید محبت اور تعلق کی عکاسی کرتی ہیں ان میں کسی طرح کے کسی شرک کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا قرآن کریم نے اولیائے خداسے توسل کرنا جائز قرار دیتے ہوئے اسے بخشش و مغفرت کا ذریعہ قرار دیا ہے جیسا کہ سورہ ٴ نساء کی ۶۴ ویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں۔
”وَلَوْ اٴَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَہُمْ جَائُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا“
” اور جب انھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا تو اگر تمہارے پاس آکر اللہ سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لئے استغفار کرتے تو وہ اللہ کو تو اب ورحیم پاتے“۔
علامہ امینی شیعوں کے عظیم عالم دین کتاب ”الغدیر “کے مولفنے اپنے ایک سفر کے دوران ایک جلسہ میں شر کت کی تو وہاں ایک سنی عالم دین نے آپ سے کہا: ”تم شیعہ حضرات علی کے سلسلہ میں غلو کرتے ہو اور انھیں حد سے زیادہ بڑھاتے ہو مثلاً”ید اللہ، عین اللہ “جیسے القاب سے یاد کرتے ہو، صحابہ کی اس حد تک توصیف کرنا غلط ہے“۔
علامہ امینی نے برجستہ جواب دیا:
”اگر عمر بن خطاب نے علی علیہ السلام کو ان القاب سے یاد کیا ہو تو اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ؟“
اس نے کہا: ”حضرت عمر کی بات ہمارے لئے حجت ہے“۔
علامہ امینی نے اسی بزم میں اہل سنت کی ایک کتاب منگوائی وہ کتاب لائی گئی علامہ نے چند ورق پلٹنے کے بعد اس صفحہ کو کھو ل دیا جہا ں یہ عبارت نقل ہوئی تھی:
”ایک شخص خانہ کعبہ کے طواف میں مشغول تھا اسی وقت اس نے ایک نامحرم پر غلط نظر ڈالی تو امام علی علیہ السلام نے وہیں اس کے چہرہ پر ایک طمانچہ مارا وہ اپنے چہرہ پر ہاتھ رکھے عمر ابن خطاب کے پاس شکایت کرنے آیااورپورا واقعہ بیان کیا۔
عمر نے اس کے جوا ب میں کہا:
”قد رآی عینُ الله و ضرب یدُ الله“۔
”بے شک خدا کی آنکھ نے دیکھا اور خدا کے ہاتھ نے مارا“۔
سوال کرنے والے نے جب اس حدیث کو دیکھا تو قانع ہو گیا۔
اس طرح کے الفاظ و القاب در اصل احترام و تعظیم کی خاطر ہوا کرتے ہیں مثلاً”روح اللہ“ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لقب ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اللہ کے روح بھی ہوتی ہے بلکہ یہ ان کی عظمت و بلندی کے بیان کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔
ایک مرجع تقلید کہتے ہیں کہ میں ایک روز مسجد نبوی میں نماز صبح انجام دینے کے بعد روضہ مقدس میں بیٹھا ہوا تھا اور قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول تھا۔اسی دوران میں نے دیکھا کہ ایک شیعہ آیا اور روضہ کے بائیں طرف کھڑا ہوکر نماز پڑھنے میں مشغول ہوگیا اس کے قریب ہی دوآدمی مصری روضہ کے ستون سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے جب انھوں نے اس شیعہ کو نماز کے دوران اپنی جیب سے سجدگاہ نکالتے دیکھاتو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ”اس عجمی کو دیکھو یہ پتھر پر سجدہ کرنا چاہتا ہے“۔
شیعہ مرد رکوع میں گیا، رکوع کے بعد سجدہ کرنے کے لئے ایک پتھر پر اپنی پیشانی رکھ دی یہ منظر دیکھ کر ان میں سے ایک دوڑتا ہوا اس کی طرف جانے لگا لیکن قبل اس کے وہ وہاں تک پہنچتا میں نے اس کا ہا تھ پکڑ کر کہا: ”تم کیوں ایک مسلمان کی نماز باطل کرنا چاہتے ہو جو اس مقدس جگہ پر نماز ادا کررہا ہے“۔
اس نے کہا: ”وہ پتھر پر سجدہ کرنا چاہتا ہے“۔
میں نے کہا: ”پتھر پر سجدہ کرنے میں کیا اشکال ہے میں بھی پتھر پر سجدہ کرتا ہوں“۔
اس نے کہا: ”کیوں اور کس لئے“۔
میں نے کہا: ”وہ شیعہ ہے اور مذہب جعفری کا پیرو ہے میں بھی مذہب جعفری کا معتقد ہوں کیا جعفر بن محمد امام جعفر صادق علیہ السلام کو پہنچانتے ہو؟“
اس نے کہا: ”ہاں“
میں نے کہا: ”کیا وہ اہل بیت رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم میں سے ہیں ؟“
اس نے کہا: ”ہاں“۔
میں نے کہا: ”وہ ہمارے مذہب کے پیشوا ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ فرش اور قالین پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے بلکہ ایسی چیز پر سجدہ کرنا چاہئے جو زمین کے اجز امیں سے ہو“۔
اس سنی شخص نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہا: ”دین ایک ہے نماز بھی ایک ہے“۔
میں نے کہا: ”ہاں دین ایک ہے نماز ایک ہے تو اہل سنت بھی نماز میں قیام کے وقت مختلف طریقوں سے نماز کیوں ادا کرتے ہیں تمہارے مذہب میں کچھ لوگ ہاتھ کھول کر نماز پڑھتے ہیں اور کچھ ہاتھ باندھ کر نماز ادا کرتے ہیں دین ایک ہے اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے ایک ہی طریقہ سے نماز ادا کی تھی پھر یہ اختلاف کیوں؟تم کہوگے کہ ابو حنیفہ یا شافعی یا مالک یا احمد بن حنبل نے اس طرح کہا ہے ۔(ہاتھ کے اشارے سے بتایا )
اس نے کہا: ”ہاں ان لوگوں نے اسی طرح کہا ہے“۔
میں نے کہا: ”جعفر بن محمد امام جعفر صادق علیہ السلام ہمارے مذہب کے پیشوا ہیں جن کے لئے تم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ خاندان رسالت سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے اسی طرح نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے۔
اس بات پر بھی توجہ رہے کہ ”اہل البیت ادری بما فی البیت“ گھر والے گھر کی باتیں دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں۔”لہٰذا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے اہل بیت احکام الٰہی سے دوسروں کے مقابل زیادہ آگاہ ہیں امام جعفر صادق علیہ السلام کا علم بہر حال ابو حنیفہ سے کئی گنا زیادہ ہے ان کا قول ہے کہ ”زمین کے اجزاء پر سجدہ کرنا چاہئے لہٰذا اون اور روئی پر سجدہ کرنا درست نہیں ہے ہمارے اور تمہارے درمیان اختلاف کی نوعیت بالکل وہی ہے جو خود تمہارے مذہب میں پائے جانے والے مختلف مسالک میں ہاتھ باندھنے اور کھولنے کے سلسلے میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف فروع دین کا اختلاف ہے نہ کہ اصول دین کا اور فروع دین کا اختلاف کسی بھی طرح سے شرک سے تعلق نہیں رکھتا۔
جب میری بات یہاں تک پہنچ گئی تو وہاں بیٹھے ہوئے تمام اہل سنت حضرات نے میری بات کی تصدیق کی اور تب میں نے غصہ میں اس سے (جو شیعہ کی سجدہ گاہ چھیننے کے لئے دوڑا تھا)کہا:
کیا تجھے رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم سے شرم نہیں آتی کہ ایک شخص ان کی قبر کے سامنے نماز پڑھتا ہے اور تو اس کی نماز باطل کررہا ہے جب کہ وہ خود اپنے مذہب کے مطابق نماز پڑھ رہا ہے اور یہ شخص اس مذہب سے تعلق رکھتا ہے جو مذہب یہ صاحب قبر لے کر آیا ہے ؟
”الذین اذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا“
وہ (اہل بیت)جن سے (خدا نے) ہر برائی کو دور رکھا اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھا جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے“۔
تمام حاضرین نے اس کی لعنت و ملامت کی اور اس سے کہا: ”جب وہ اپنے مذہب کے مطابق نماز پڑھ رہا ہے تو اس سے کیوں لڑائی جھگڑا کرتا ہے “، اور اس نے اس کے بعد سب لوگوں نے مجھ سے معافی مانگی۔[50]
واقعی وہابیوں اور سنیوں کے علماء کا کام کتنا حیر ت انگیز ہے کہ وہ عوام کو فریب دیتے ہیں اور انھیں یہ بات ذہن نشین کراتے ہیں کہ خاک شفاء پتھر یا لکڑی پر سجدہ کرنا حرام اور شرک ہے میں ان سے پوچھتا ہوں سجدہ خاک شفا،لکڑی پتھر یا فرش اور ٹاٹ پر کرنے میں کیا فرق پایا جاتا ہے ؟تم ٹاٹ اور چٹائی پر سجدہ کرتے ہو اسے شرک نہیں قراردیتے ہو لیکن شیعہ حضرات اگرپتھر اور خاک شفا پر سجدہ کریں تو یہ شرک ہے ؟
کیا جو شخص فرش اور چٹائی پر سجدہ کرتا ہے تو گویا اس کی عبادت کرتا ہے ؟تم لوگ شیعہ حضرات کو شرک کی نسبت دیتے ہو کیا انھیں سجدہ کرتے وقت نہیں دیکھتے کہ سجدہ میں وہ تین بار ”سبحان اللہ“ کہتے ہیں یا ایک بار ”سبحان ربی الاعلیٰ“ (پاک وپاکیزہ ہے وہ ذات)اور اس کی حمد وستائش پر غور نہیں کرتے ؟تم لوگوں کی زبان بھی عربی ہے تمہیں عربی الفاظ سے زیادہ وا قف ہونا چاہئے تمہیں یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جس پر سجدہ کیا جاتا ہے اور جس کے لئے سجدہ کیا جاتا ہے ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟
اگر ہم کسی چیز پر سجدہ کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ نہیں ہے کہ ہم اس کی عبادت کرنے لگے ہیں بلکہ سجدہ کی حالت میں ہم نہایت ہی خضوع اور خشوع کے ساتھ اپنے خدا وند متعال کے سامنے سر نیازخم کرتے ہیں، کیا تم نے یہ دیکھا ہے کہ بت پرست اپنے سر کے نیچے بتوں کو رکھ کر ان کا سجدہ کرتے ہوں؟ نہیں بلکہ وہ اپنے بتوں کو اپنے سامنے رکھتے ہیں پھر ان کے سامنے اپنی پیشانی زمین پر ٹیکتے ہیں، یہاں پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ وہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں نہ کہ ان چیزوں کی جس پر وہ اپنی پیشانیوں کورکھتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہوا کہ پتھر پر سجدہ یا فرش پر سجدہ کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے اور اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہے کہ ہم ان کا سجدہ کرتے ہیں بلکہ یہ تمام صرف خداوند عالم کے لئے ہوتے ہیں، ہاں فرق یہ ہے کہ ہمارے مذہب کے پیشوا اور رہبر امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ زمین کی اجزاء (پتھر یا ایسی سجدہ گاہ جو مٹی یا پتھر سے بنی ہو )پر سجدہ کرو لیکن اہل سنت کے مذہب کے رہبر اور پیشوا (مثلاً ابوحنیفہ، امام شافعی وغیر ہ)کہتے ہی کہ اگر فرش پر نماز پڑھ رہے ہو تو اسی پر سجدہ کرو۔
یہاں پر اہل سنت حضرات یہ سوال کرتے ہیں کہ تم لوگ فرش پر سجدہ کیوں نہیں کرتے بلکہ خاک یا خاک کی انواع میں سے کسی ایک پر سجدہ کرتے ہو ؟
اس کا جواب یہی ہے: ”رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم فرش پر سجدہ نہیں کرتے تھے بلکہ وہ ریت اور خاک پر سجدہ کیا کرتے تھے اور اس زمانہ کے تمام مسلمان بھی ریت اور مٹی پر سجدہ کرتے تھے آج ہم انھیں کی پیروی میں ریت اور مٹی پر سجدہ کرتے ہیں۔[51]
ہاں بعض روایات کے مطابق شدید گرمی کی وجہ سے لباس پر سجدہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے جیسا کہ انس بن مالک سے ایک روایت نقل ہوئی ہے۔
”کنا نصلي مع النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فیضع احدنا طرف الثوب من شدة الحر فی مکان السجود“۔[52]
”ہم لوگ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو بعض لوگ شدید گرمی کی وجہ سے سجدہ کے وقت مقام سجدہ پر اپنے لباس کا دامن رکھ دیا کرتے تھے“۔
اس روایت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ضرورت کے وقت فرش پر سجدہ کرنے میں کوئی قباحت نہیںہے لیکن آیا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے بھی وقت ضرورت گرمی کی شدت کی وجہ سے فرش پر سجدہ کیا تھایا نہیں۔؟اس طرح کی کوئی روایت اس موضوع پر آپ کے سلسلے میں نہیں پائی جاتی۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر زمین کے اجزاء پر سجدہ کرنا شرک ہے تو ہمیں یہ بھی کہنا چاہئے کہ خدا کے حکم سے فرشتوں کا سجدہ جوان لوگوں نے آدم کے سامنے کیا تھا وہ بھی شر ک ہی تھا یا کعبہ کی جانب منہ کر کے نماز پڑھنا بھی شرک ہے ،بلکہ ان دونوں موارد پر تو شرک میں خاصی شدت پائی جاتی ہے کیونکہ فرشتوں نے تو جناب آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کیا تھا نہ کہ حضرت آدم پر اور اس طرح تمام مسلمان بھی کعبہ پر سجدہ نہیں کرتے بلکہ کعبہ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔
اس کے باوجود کسی مسلمان نے یہ نہیں کہا کہ جناب آدم علیہ السلام کے سامنے یا کعبہ کی سمت سجدہ کرنا شرک ہے کیونکہ حقیقت سجدہ یعنی نہایت خضوع وخشوع کے ساتھ خداوند متعال کے حکم کے سامنے سر نیاز خم کرنا ہے اسی وجہ سے کعبہ کی سمت سجدہ کرنا خدا کے حکم سے خدا کا سجدہ کرنا ہے اور جناب آدم علیہ السلام کے سامنے بھی جناب آدم کا سجدہ اولا ً توحکم خدا تھا جس کی اطاعت کے لئے فرشتوں نے اپنی پیشانیاں خم کی تھیں دوسرے یہ کہ یہ سجدہ شکر الٰہی کے طور پر تھا اور اس بنیاد پر ہم سجدہ گاہ خاک شفایا لکڑی پر سجدہ تو کرتے ہیں لیکن یہ سجدہ خدا کے حکم کی بجاآوری کے لئے ہے اور ہمارا یہ سجدہ اس چیز پر ہے جو زمین کے اجزاء میں سے ہے جیسا کہ ہمارے مذہب کے راہنما وپیشوا نے فرمایا ہے کہ خدا کے سجدہ کے وقت اپنی پیشانی کو زمین کے اجزاء میںسے کسی چیز پررکھو۔
ایک شیعہ عالم دین مدینہ میںامر بالمعروف کے رئیس کے پاس اپنے کسی کام سے گیا تو وہاں کمیٹی کے رئیس اور شیعہ عالم دین میں بعض شیعہ امور کے سلسلہ میں اس طرح بحث ہوئی:
رئیس: ”تم لوگ قبر پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے قریب نماز زیارت کس لئے پڑھتے ہو جب کہ غیر خدا کے لئے نماز پڑھنا شرک ہے ؟“
شیعہ مفکر: ”ہم پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے لئے نماز نہیں پڑھتے بلکہ نماز خدا کے لئے پڑھتے ہیں اور اس کا ثواب رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی روح کے لئے ہدیہ کرتے ہیں“۔
رئیس: ”قبروں کے پاس نماز پڑھنا شرک ہے“۔
شیعہ مفکر: ”اگر قبروں کے پاس نماز پڑھنا شرک ہے تو کعبہ میں بھی نماز پڑھنا شرک ہے کیونکہ حجر اسماعیل علیہ السلام میں بھی جناب ہاجرہ ،اسماعیل اور بعض دوسرے پیغمبروں کی قبریں پائی جاتی ہیں، اور یہ بات اہل سنت اور اہل تشیع دونوں سے منقول ہے کہ بعض انبیاء کی قبریں وہاں پر موجود ہیں تمہارے کہنے کے مطابق حجر اسماعیل میں نماز پڑھنا شرک ہے جب کہ تمام مذاہب کے علماء (حنفی ،مالکی ،شافعی اور حنبلی وغیرہ)سب کے سب حجر اسماعیل میں نماز پڑھتے ہیں۔لہٰذا اس بنا پر قبروں کے قریب نماز پڑھنا شر ک نہیں ہے“۔[53]
اس کمیٹی کے ایک شخص نے کہا: ”پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قبروں کے پاس نماز پڑھنے سے نہی فرمایا ہے۔
شیعہ مفکر: ”یہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر سرار تہمت لگائی گئی ہے اگر قبروں کے پاس نماز پڑھنے سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نہی کیا ہے اور اسے حرام قرار دیا ہے تو لاکھوں اور کروڑوں زائرین کیوں ان کی مخالفت کرتے ہیں اور مسجد نبوی میں آپ کی قبر اور عمر و ابوبکر کی قبروں کے سامنے اس فعل کے مرتکب ہوتے ہیں؟“[54]
اس سلسلہ میں چند روایتیں بھی نقل ہوئی ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے چند صحابیوں نے قبروں کے قریب نماز پڑھی ہے۔منجملہ صحیح بخاری [55]میں نقل ہوا ہے کہ عید قربان کے دن آنحضرت نے بقیع میں نماز پڑھی اور اس کے بعد آپ نے فرمایا:
”آج کے دن کی خاص عباد ت یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں اور اس کے بعد واپس ہوں اور قربانی کریں اور جس نے اس طرح کیا اس نے گویا میری سنت پر عمل کیا“۔
اس روایت کے مطابق رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے قبروں کے قریب نماز پڑھی ہے لیکن تم لوگوں کو قبروںکے پاس نماز پڑھنے سے روکتے ہو کہ اسلام میں یہ چیز جائزنہیں ہے اگر اسلام سے تمہارا مطلب شریعت محمدی ہے تو صاحب شریعت حضرت محمد صلی الله علیه و آله وسلم نے خود بقیع میں نماز پڑھی ہے ہاں اس بات کی طرف توجہ رہے کہ آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم جب مدینہ میں وارد ہوئے تھے تو اس وقت بقیع قبرستان تھا اور اب بھی ہے۔
اس بنا پر پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے نزدیک اور ان کی پیروی کرنے والوں کے نزدیک قبروں کے پاس نماز پڑھنا جائز ہے۔لیکن تم لوگ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی رائے کے خلاف قبروں کے نزدیک نماز پڑھنے سے منع کرتے ہو۔
اس سلسلہ میں ایک غم انگیز واقعہ
ڈاکٹر سید محمد تیجانی سماوی اہل سنت کے ایک ایسے مفکر ہیں جنھوں نے شیعیت اختیار کرلی وہ لکھتے ہیں:
”میں بقیع زیارت کے لئے گیا ہوا تھا اوروہاںکھڑا ہو کر اہل بیت علیہم السلام پر درود پڑ ھ رہا تھا کہ دیکھا ایک بوڑھا ضعیف اور ناتوان شخص رورہا ہے میں نے ا س کے گریہ سے سمجھ لیا کہ وہ شیعہ ہے تھوڑی ہی دیر بعد یہ شخص قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنے میں مشغول ہوگیا کہ ناگہاں دیکھا ایک سعودی فوج کا آدمی اس کے پاس دوڑا ہوا آیا جس سے یہ پتہ چل رہا تھا کہ بہت ہی دیر سے وہ اس شیعہ کی ٹوہ میں لگا ہوا تھا آتے ہی اس نے اپنی اونچی ایڑی کے جوتے سے اسے اس طرح مارا کہ فوراًہی وہ منہ کے بل زمین پر گر پڑ ا اور کچھ دیر کے لئے وہ بے ہوش ہو گیا اور اسی بے ہوشی کی حالت میں فوج کا آدمی اسے کچھ دیر تک مارتا اور برا بھلا کہتا رہا۔
اس بوڑھے کو دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور خیال کیا کہ وہ مر چکا ہے ، میری غیرت جوش میں آئی اور میں نے اس فوجی سے کہا:
”خدا خوش نہیں ہوگا اسے نماز پڑھنے کی حالت میں کیوں مار رہے ہو؟“
اس نے جھلاّ کر مجھ سے کہا: ”خاموش ہو جا ورنہ تیرا بھی یہی حشر ہوگا جو اس کا ہوا ہے“۔
میں نے اسی جگہ بعض زائرین کو دیکھا وہ کہہ رہے تھے۔”وہ جوتے ہی کا مستحق ہے کیونکہ اس نے قبر کے پاس نماز پڑھی ہے“۔
میں نے غصہ میں کہا: ”قبر کے پاس نماز پڑھنا کس نے حرام قرار دیا ہے ؟اور طویل گفتگو کے بعد میں نے کہا:
”اگربالفرض قبر کے پاس نماز پڑھنا حرام ہے تو نرمی سے منع کرنا چاہئے نہ کہ غصہ سے“۔
میں ایک بادیہ نشین کا واقعہ تمہارے لئے نقل کرتا ہوں۔
پیغمبر اسلام کا زمانہ تھا ایک بے حیا اور بے شرم بادیہ نشین نے آکر پیغمبر اسلام کے سامنے مسجد میں پیشاب کر دیا یہ دیکھ کر ایک صحابی اپنی شمشیر لے کر اسے قتل کرنے کے لئے بڑھا لیکن پیغمبر اسلام نے اسے سختی سے روکا اور کہا: ”اسے اذیت نہ دو ایک بالٹی پانی لا کر اس کے پیشاب پر ڈال دو تاکہ مسجد پا ک ہو جا ئے تم لوگوں کے امور کو آسان کرنے لئے بھیجے گئے ہو نہ کہ اذیت دینے کے لئے(تم میں جاذبیت ہونی چاہئے نہ کہ نفرت)
اصحاب نے پیغمبر کے حکم پر عمل کیا اس کے بعد آنحضرت نے بادیہ نشین کو بلایا اور اپنے قریب بٹھا کر بڑے ہی نرم لہجے میں اس سے کہا: ”یہ خدا کا گھر ہے اسے نجس نہیں کرنا چاہئے“۔
چنانچہ یہ سب دیکھ کر وہ بادیہ نشین اسی وقت مسلمان ہو گیا۔
کیا واقعی حرمین کے خدام کا اسی طرح سلوک ہونا چاہئے جس طرح وہ ایک بوڑھے اور نابینا سے پیش آتے ہیں اور کیا اس طرح اپنے اخلاق کو پیغمبر کا اخلاق کہہ کر لوگوں کے لئے اپنے کو نمونہ قرار ددے سکتے ہیں ؟[56]
امر بالمعروف کمیٹی کے ساتھ شیعہ علماء کے چند مناظرے بیان کئے جا چکے اور اب ہم چند دوسرے حصے بیان کر رہے ہیں توجہ فرمائیں۔
رئیس: ”قبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پاس اذکار کے درمیان تم لوگ”السلام علیک ایھا المظلومة“کیوں کہتے ہو(اے مظلومہ تم پر سلام ہو)کس شخص نے فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا پر ظلم کیا ہے؟
شیعہ مفکر: ”فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں غم انگیز ستم کا واقعہ تمہاری کتابوں میں پایا جاتا ہے“۔
رئیس: ”کس کتاب میں؟“
شیعہ مفکر: ”کتاب ”الامامة والسیاسة“کے صفحہ نمبر ۱۳ پر جس کے مولف ابن قتیبہ دینوری ہیں۔
رئیس: ”ہمارے پاس اس طرح کی کوئی کتاب نہیں ہے“۔
شیعہ: ”میں اس کتاب کو دکان سے خرید کر تمہارے لئے لاوٴں گا“۔
رئیس نے میر ی اس پیش کش کو قبول کر لیا میں بازار جا کر کتاب ”الامامہ والسیاسة“خرید لا یا اور اس کے سامنے ج اول ، ص۱۹ کھول کر رکھ دیا اور کہا اسے پڑھو اس صفحہ پر اس طرح لکھا ہوا تھا۔
”اس وقت ابو بکر ان لوگوں کی جستجو میں تھا جنھوں نے اس کی بیعت کرنے سے انکار کیااورعلی علیہ السلام کے گھر میں پناہ لی تھی۔ابو بکر نے عمر کو ان لوگوں کے پاس بھیجا عمر علی علیہ السلام کے گھر کے پا س آکر بلند آواز سے علی علیہ السلام اور ان کے گھر میں جو بھی لوگ تھے انھیں بلایا اور کہا ابو بکر کی بیعت کے لئے گھر سے باہر نکل آوٴ مگر وہ لوگ گھر سے باہر نہیں آئے تو عمر نے آگ لکڑی منگوائی اور کہا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے تم لوگ جلد سے جلد باہر آوٴ ورنہ تم لوگوں کے ساتھ اس گھر کو آگ لگادوں گا۔
عمر کے بعض ساتھیوں نے کہا اس گھر میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں۔
عمر نے کہا: ”ہوا کریں“۔
مجبور ہو کر حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ تمام لوگ گھر سے باہر نکل آئے۔[57]
اسی صفحہ (۱۹) کے ذیل میں لکھا ہوا ہے کہ مرتے وقت ابو بکر نے بستر علالت پر کہا:
”کاش علی علیہ السلام کے گھر پر حملہ نہ ہوا ہوتااگر چہ انھوں نے ہم سے اعلان جنگ کیا تھا“۔
یہاں شیعہ نے وہابی رئیس سے کہا: ”ابو بکر کی بات پر خوب توجہ کرو مرتے وقت انھوں نے کس طرح افسوس اور پشیمانی کا اظہار کیا“۔
رئیس اس کتاب کے استدلال سے تلملا اٹھا اور کہنے لگا۔”اس کتاب کا مولف ابن قتیبہ شیعوں کی طرف مائل ہے“۔[58]
شیعہ مفکر: ”اگر ابن قتیبہ مذہب تشیع کی طرف مائل ہے تو صحیح مسلم اور صحیح بخاری کے مولفین کے بارے میں کیا کہتے ہو جب کہ دونوں نے روایت کی ہے:
”فہجرتہ فاطمة و لم تکلمہ فی ذلک حتی ماتت“[59]
”حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا مرتے وقت ابوبکر سے ناراض تھیں اور نفرت کرتی تھیں یہاں تک کہ دنیا کو خدا حافظ کیا“۔
اس سلسلہ میں صحیح مسلم ج۵ ص۱۵۳ طبع مصر۔صحیح بخاری ج۵ ص ۱۷۷ طبع الشعب (باب غزوة خبیر) ملاحظہ فرمائیں۔[60]
مصر کی ”الازہر “یونیور سٹی کے فارغ التحصیل اہل سنت کے یک عالم دین جن کا نام ”شیخ محمد مرعی انطاکی “تھا اور یہ شام کے رہنے والے تھے انھوں نے اپنی بہت ہی عظیم تحقیق کے بعد مذہب تشیع اختیار کر لیا، وہ اپنی کتاب ”لما ذا اخترت مذہب الشیعة“میں اپنے مذہب شیعہ اختیار کرنے کے سلسلہ میں تمام علل واسباب کے مدارک لکھتے ہیں۔
یہاں پر اہل سنت سے ان کا ایک مناظرہ نقل کر رہے ہیں جو خاک شفا پر سجدہ کرنے کے سلسلے میں ہوا تھا ملاحظہ فرمائیں:
محمد مرعی اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے چند اہل سنت ان کے گھر پر ان سے ملاقات کے لئے آئے جن میں ان کے کچھ جامعہ ازہر کے پرانے دوست بھی تھے۔گھر پر گفتگو کے دوران بات چیت یہاں تک پہنچ گئی۔
علماء اہل سنت: ”تمام شیعہ حضرات خاک شفا پر سجدہ کرتے ہیں اسی وجہ سے وہ مشرک ہیں“۔
محمد مرعی: ”خاک شفا پر سجدہ کرنا شرک نہیںہے کیوںکہ شیعہ خاک شفا پر خدا کے لئے سجدہ کرتے ہیں نہ کہ مٹی کا سجدہ کرتے ہیں البتہ تمہارے فکر میں اگر اس میں کوئی چیز ہے اور شیعہ اس کا سجدہ کرتے ہیں تو وہ شرک ہے لیکن شیعہ اپنے معبود خدا کے لئے سجدہ کرتے ہیں نتیجہ میں وہ خدا کے سجدہ کے وقت اپنی پیشانی کو خاک پر رکھتے ہیں۔اس سے واضح یہ کہ حقیقت سجدہ، خدا کے سامنے خضوع وخشوع کا آخری درجہ ہے نہ کہ خاک شفا کے سامنے خضوع وخشوع ہے۔
ان میں سے ایک حمید نامی شخص نے کہا تمہیں اس چیز کی میں داد دیتا ہوں کہ تم نے بہت ہی اچھا تجزیہ کیا لیکن ہمارے لئے ایک اعتراض باقی رہ جاتا ہے، اور وہ یہ کہ تم لوگ (شیعہ)کیوں اس چیز پر مصر ہو کہ خاک شفا پر ہی سجدہ کیا جائے اور جس طرح مٹی پر سجدہ کرتے ہو اسی طرح دوسری تمام چیزوں پر سجدہ کیوں نہیں کرتے ؟
محمد مرعی: ”ہم لوگ اس بنیاد پر خاک پر سجدہ کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے ایک حدیث جو تمام فرقوں میں پائی جاتی ہے فرمایاہے:
”جعلت لی الارض مسجدا وطہورا“
”زمین میرے لئے سجدہ گا ہ اور پاک وپاکیزہ قرار دی گئی ہے“۔
حمید:کس طرح تمام مسلمان اس نظریہ پر اتفاق نہیں رکھتے ہیں ؟“
محمد مرعی: ”جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اسی وقت آپ نے مسجد بنا نے کاحکم دیا کیا اس وقت اس مسجد میں فرش تھا؟“
حمید: ”نہیںفرش نہیں تھا“۔
محمد مرعی: ”بس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اس وقت کے تمام مسلمانوں نے کس چیز پر سجدہ کیا تھا؟“
حمید: ”مسلمانوں نے اس زمین پر سجدہ کیا تھا جس کا فرش خاک سے بنا ہوا تھا“۔
محمد مرعی: ”بعد رحلت پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم ابو بکر ،عمر اور عثمان کی خلافت کے زمانہ میں مسلمانوں نے کس چیز پر سجدہ کیا؟کیا اس وقت مسجد میں فرش تھا؟“
حمید: ”نہیں فرش نہیں تھا۔ان لوگوں نے بھی مسجد کی زمین پر سجدہ کیا تھا“۔
محمد مرعی: ”تمہارے اس اعتراض کی بنیاد پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمام نمازوں کے سجدے زمین پر کئے ہیں اس طرح تمام مسلمان نے آنحضرت کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی زمین پر ہی سجدہ کیا بس انھیں وجوہ کی بنا پر خاک پر سجدہ کرنا صحیح ہے“۔
حمید: ”ہمارا اعتراض یہ ہے کہ شیعہ صرف خاک پر سجدہ کرتے ہیں اور خاک زمین سے لی گئی ہے اسے سجدہ گاہ بنا دیا اور جس پر وہ اپنی پیشانیوں کو رکھتے ہیں اور سجدہ کے وقت اسی کو دوسری زمین پر رکھتے ہیں اور اس پر سجدہ کرتے ہیں“۔
محمد مرعی: ”اولاًیہ کہ شیعہ عقیدہ کے مطابق ہر طرح کی زمین پر سجدہ کرنا جائز ہے خواہ پتھر کا فرش ہو یا خاک کا فرش ہو۔ثانیا ً یہ کہ جہاں سجدہ کیا جائے وہ پاک ہو بس نجس زمین یا خاک پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے اسی وجہ سے وہ مٹی کا ایک ٹکڑا جو سجدہ گا ہ کی شکل کا بنا یا جاتا ہے وہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں تاکہ اس بات کا اطمینان رہے کہ یہ پاک ہے اور اس پر سجدہ ہو سکتا ہے۔
حمید: ”اگر شیعوں کی مراد صرف پاک اور خاص مٹی پر سجدہ کرنا ہے تو کیوں اپنے ساتھ سجدہ گاہ رکھتے ہیں کیوں نہیں تھوڑی سے خاک اپنے پاس رکھتے ؟
محمد مرعی: ”اپنے ساتھ خاک رکھنے سے کپڑے وغیرہ گندے ہو سکتے ہیں کیونکہ خاک کی طبیعت ہے کہ اسے جہاں بھی رکھا جائے گا وہ اسے آلودہ کر دے گی شیعہ حضرات اسی وجہ سے اس خاک کو پانی میں ملا کر ایک خوبصور ت شکل کی سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں تاکہ اسے اپنے ساتھ رکھنے میں زحمت نہ ہوا اور لباس گندہ نہ ہونے پائے۔
حمید: ”خا ک کے علاوہ بورئے اور قالین وغیر پر سجدہ کیوں نہیں کرتے ؟
محمد مرعی: ”جیسا کہ میں نے کہا کہ سجدہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے سامنے آخری درجہ کا خشوع و خضوع کیا جائے، میں کہتا ہوں کہ خاک پر سجدہ کرنا خواہ وہ سجدہ گاہ ہو یا نرم خاک ہو خدا کے سامنے زیادہ خشوع و خضوعپر دلالت کرتا ہے کیونکہ خاک سب سے زیادہ حقیر چیز ہے اور ہم اپنے جسم کا سب سے عظیم حصہ (یعنی پیشانی)کوسب سے حقیر اور پست چیز پر سجدہ کے وقت رکھتے ہیں تاکہ خدا کی عبادت نہایت خشوع و خضوعسے کریں۔اسی وجہ سے مستحب ہے کہ جائے سجدہ ،پیر اور اعضائے بدن سے نیچی ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ خضوع وخشوع پردلالت کرے اور اسی طرح یہ بھی مستحب ہے کہ ناک کی نوک خاک میں آلودہ ہوتاکہ زیادہ سے زیادہ خضوع وخشوع کا اظہار ہو۔خاک کے ایک ٹکڑے (سجدہ گاہ)پر سجدہ کرنا اسی وجہ سے تمام چیزوں سے بہتر ہے اگر کوئی انسان اپنی پیشانی کو ایک بہت ہی قیمتی سجدہ گاہ پر سونے چاندی کے ٹکڑے پرسجدہ کرے تو اس سے اس کے خضوع وخشوع میں کمی آجاتی ہے ، اور کبھی بھی ایسابھی ہوسکتا ہے کہ بندہ خدا کے سامنے اپنے کو چھوٹا اور پست شمار نہیں کرے گا۔
اسی وضاحت کے ساتھ کہ آیا کسی شخص کے خشک مٹی (سجدہ گاہ) پر سجدہ کرنے سے تاکہ اس کا خضوع وخشوع خدا کے نزدیک زیادہ ہو جائے وہ مشرک اور کافر ہوجائے گا؟لیکن قالین ،سنگ مرمر اور قالین و فرش وغیرہ پر سجدہ کرنا خضوع وخشوع میں زیادتی کرتا ہے اور تقرب خدا کا سبب بنتا ہے ؟ اس طرح کا تصور کرنے والا شخص غلط اور گھٹیا فکر کامالک ہے“۔
حمید: ”یہ کیاہے جو شیعوں کی سجدہ گاہ پر لکھا ہوا ہوتا ہے؟“
محمد مرعی: ”اولاً یہ تمام سجدہ گاہوں پر لکھا ہوا نہیں ہوتا بلکہ اکثر ایسی ہیں جن پر کچھ نہیں لکھا ہوتا ہے ثانیاً بعض پر لکھا بھی ہوتا ہے تو وہ ”سبحان ربی الاعلیٰ وبحمدہ‘ ‘ہے جو ذکر سجدہ کی طرف اشارہ کرتاہے اور بعض سجدہ گاہ پر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ یہ مٹی کربلا سے لی گئی ہے تمہیں خدا کی قسم ہے آیا یہ لکھے ہوئے کلمات موجب شرک ہیں؟اور آیا یہ لکھے ہوئے کلمات مٹی کو مٹی ہونے سے خارج کردیتے ہیں؟
حمید: ”نہیں یہ ہرگز موجب شرک نہیں ہے اور اس پر سجدہ کرنے میں عدم جواز پر کوئی دلیل بھی نہیںہے لیکن ایک دوسرا سوال یہ کہ خاک شفا کیا خصوصیت رکھتی ہے کہ اکثر شیعہ خاک شفا پر ہی سجدہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں؟“
محمد مرعی: ”اس کا راز یہ ہے کہ ہمارے ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے روایت ہے کہ خاک شفا ہر خاک سے افضل و برتر ہے۔امام جعفر صاد ق علیہ السلام نے فرمایا ہے:
”السجود علی تربة الحسین یخرق الحجب السبع“۔[61]
”خاک شفا پر سجدہ کرنے سے ساتھ حجاب ہٹ جاتے ہیں“۔
یعنی نماز قبولیت کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے اور آسمان کی طرف جاتی ہے نیز یہ بھی روایت ہے کہ آپ خدا کی بارگاہ میں تذلل اور انکساری کی وجہ سے صرف خاک شفا پر سجدہ کرتے تھے۔[62] اس بنا پر خاک شفا میں ایک ایسی فضیلت ہے جو دوسری خاک میں نہیں پائی جاتی ہے“۔
حمید: ”آیا خاک شفا پر سجدہ کرنے سے نماز قبول ہوتی ہے اور اس کے علاوہ اور کسی مٹی پر سجدہ کرنے سے نماز قبول نہیں ہوگی ؟
محمد مرعی: ”مذہب شیعہ کہتا ہے اگر آپ نماز کے شرائط صحت سے کوئی بھی شرط فاقد ہو جائے تو نمازباطل ہے اور قبول نہیں ہوگی لیکن اگرنماز کے تمام شرائط پائے جاتے ہیں اور اس کا سجدہ خاک شفا پر کیا گیا ہو تو نماز قبول بھی ہوگی اور ساتھ ساتھ وہ اہمیت کی بھی حامل ہوگی اور اس کا ثواب زیادہ ہو جائے گا۔
حمید: ”کیا زمین کربلا تمام زمینوں حتی مکہ اور مدینہ کی زمینوں سے بھی افضل وبرتر ہے تاکہ یہ کہا جائے کہ خاک شفا پر نماز پڑھنا تمام خاک سے افضل و برتر ہے؟“
محمد مرعی: ”اس میں کیا اعتراض ہے کہ خدا وند عالم نے خا ک کربلا ہی میںاس طرح کی خصوصیت قرار دی ہو“۔
حمید: ”زمین مکہ جو جناب آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک مقام کعبہ ہے اور مدینہ کی زمین جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جسم مبارک مدفون ہے کیا ان کا مقام ومنزلت کربلا کی زمین سے کمتر ہے؟ یہ بڑی عجیب بات ہے کیا حسین علیہ السلام اپنے جد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے افضل و برتر ہیں؟
محمد مرعی: ”نہیں ہر گز نہیں بلکہ امام حسین علیہ السلام کی عظمت ومنزلت ان کے جد رسول کی وجہ سے ہے لیکن خاک کربلا کو فضیلت حاصل ہونے کے سلسلے میں یہ راز ہے کہ امام حسین علیہ السلام اس سر زمین پر اپنے نانا کے دین کی راہ میں شہید ہوئے ہیں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب اور خاندان کے لوگوں نے شریعت محمد ی کی حفاظت اور اس کی نشر واشاعت کے سلسلہ میں اپنی جانیں قربان کی ہیں اس وجہ سے خداوند عالم نے انھیں تین خصوصیتیں عنایت فرمائی ہیں۔
۱۔آپ کے مرقد شریف میں گنبد کے نیچے قبولیت دعا کی ضمانت۔
۲۔تمام دیگر ائمہ علیہم السلام آپ کی نسل سے ہیں۔
۳۔آپ کی خاک (خاک کربلا)میں شفا ہے۔
آیا اس طرح خاک کربلا کو خصوصیتیں عطا کرنا کوئی اعتراض کا مقام ہے؟ کیا زمین کربلا کو زمین مدینہ سے افضل کہنے کا یہ مطلب ہوا کہ امام حسین علیہ السلام اپنے نانا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم سے افضل وبرتر ہیں؟اور تمہیں اس طرح اعتراض کرنے کا موقع مل جائے؟نہیں بلکہ مطلب اس کے بر عکس ہے یعنی امام حسین علیہ السلام کا احترام ان کے جد رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کا احترام ہے اور رسول اکرم کا احترام خدا کا احترام ہے“۔
جب یہ بات یہاں تک پہنچی تو انھیں میں سے ایک شخص جو قانع ہو چکا تھا وہ خوش ہو کر وہاں سے اٹھا اور میری تعریف و تمجید کرنے لگا اور اس نے شیعوں کی کتابوں کی درخواست کرتے ہوئے مجھ سے کہا:
”تمہاری باتیں نہایت سنجیدہ اور مستحکم ہیں ابھی تک میں خیال کررہا تھا کہ شیعہ امام حسین علیہ السلام کو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم سے افضل وبرتر سمجھتے ہیں۔آج مجھے حقیقت معلوم ہوئی، تمہارے اس حسین بیان پر تمہار ا بہت شکر گزار ہوں۔آج کے بعد سے میں بھی خاک شفا کی سجدہ گاہ اپنے ساتھ رکھو ںگا اور اس پر نماز پڑھوں گا۔[63]
ایک مرجع تقلید (مرحوم آیت اللہ العظمیٰ سید عبد اللہ شیرازی ) نے فرمایا: ”جب میں مکہ میں تھا تو ”باب السلام“کے نزدیک کتاب خریدنے ایک کتاب کی دوکان پر گیا تو وہاں بہت ہی پڑھے لکھے اہل سنت کے عالم سے میری ملاقات ہوگئی جب اس نے مجھے پہچان لیا کہ میں ایک شیعہ عالم ہوں تو اس نے میرا بہت ہی اچھی طرح احترام کیا اور مجھ سے چند سوالات کئے جن میں سے چند خاص خاص سوالات عرض کرتا ہوں۔اس نے مجھ سے یہ سوال کیا:
تم اس حدیث کے بارے میں کیا کہتے ہو کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے:
”لوکان نبی غیری لکان عمر“۔
”اگر میرے بعد کوئی پیغمبر ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے“۔
میں نے کہا: ”پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے ہر گز اس طرح کی کوئی حدیث نہیں بیان کی ہے یہ حدیث جھوٹی اور جعلی ہے“۔
اس نے کہا: ”کیا دلیل ہے ؟“
میں نے کہا: ”تم حدیث منزلت کے بارے میں کیا کہتے ہو؟آیا یہ حدیث ہمارے اور تمہارے درمیان مسلم ہے یا نہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام سے فرمایا:
”یا علی انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی“[64]
”اے علی علیہ السلام !تمہارے نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا“۔
اس نے کہا: ”ہماری نظر میں اس حدیث کے صحیح ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے“۔
میں نے کہا: ”اس حدیث کی دلالت التزامی سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر پیغمبر اکرم کے بعد کوئی پیغمبر ہوتا تو وہ قطعی اور یقینی طور پر علی علیہ السلام ہوتے اس حدیث کی بنا پر جس کا تم اعتراف کرتے ہو کہ یہ یقینی اور قطعی ہے دوسری حدیث خود بخود بے بنیاد اور محض جھوٹ ثابت ہو جاتی ہے“۔
وہ اس بات کے سامنے بے بس اور لاچار ہو گیا اور حیرت زدہ ہو کر خاموشی اختیار کر لی۔[65]
مرحوم آیت اللہ العظمیٰ سید عبد اللہ شیرازی فرماتے ہیں: ”اس نے اپنا دوسرا سوال اس طرح پیش کیا:“
کیا تم شیعہ حضرات متعہ کو جائز جانتے ہو؟
میں نے کہا: ”ہاں“۔
اس نے کہا: ”کس دلیل کی بنا پر؟“
میں نے کہا: ”عمر ابن خطاب کی بات کی بنا پرکہ عمر ابن خطاب نے کہا تھا:
”متعتان محللتان فی زمن الرسول وانا احرمھما“
”دو متعہ رسول خدا کے زمانہ میں حلال تھے اور میں ان دونوں کو حرام قرار دیتا ہوں“۔
اور بعض عبارتوں میں اس طرح آیا ہے۔
”متعتان کانتا علی عہد رسول اللہ وانا انھی عنھما واعاقب علیھما متعة الحج ومتعة النساء“۔[66]
”رسول اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانہ میں دو متعہ پائے جاتے تھے لیکن میں ان دونوں سے منع کرتا ہوں اور ان دونوں کے انجام دینے والوں کی سزادوں گا وہ دومتعہ ۔۔۔متعہ حج اور متعہ نساء ہے“۔
حضرت عمر کی اس بات (روایت وقرآن کے دلائل کو چھوڑ تے ہوئے )سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دونوں متعہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانے میں جائز تھے لیکن اسے عمر نے حرام قرار دیا ہے۔میں تم سے پوچھتا ہوں کہ عمر نے کس وجہ سے ان کو حرام قرار دیا آیا وہ رسول اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد پیغمبر تھے اور انھیں خدا وند متعال نے حکم دیا کہ تم ان دونوں کوحرام کر دو یا عمر پر خدا کی طرف سے وحی نازل ہوئی؟ کسی دلیل سے انھوں نے متعہ کو حرام قرار دیا جب کہ یہ بھی ہے:
”حلال محمد حلال الی یوم القیامة وحرامہ حرام الی یوم القیامة“۔
”حلال محمد قیامت تک کے لئے حلال اورحرام محمد قیامت تک کے لئے حرام ہے“۔
آیا اس طرح کی تبدیلی ایک قسم کی بدعت نہیں ہے جب کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا: ”ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی کی وجہ سے انسان جہنم میں جھونکا جائے گا “اس وجہ سے اب مسلمان کس دلیل سے عمر کی بدعت کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی بات کو چھوڑ دیتے ہیں؟“[67]
وہ اس طرح کی باتوں کے سامنے بے بس و لاچار ہو کر خاموش ہو گیا۔
مولف کا قول: ”اس سلسلہ میں بہت سی باتیں ہیں کہ لیکن اس بات کا اصلی مقام فقہی کتابیں ہیں۔
سورہٴ نساء کی ۲۴ ویں آیت متعہ کے جائز ہونے پر ایک دلیل ہے صرف یہاں پر متعہ کے بارے میں امام علی علیہ السلام سے ایک روایت نقل کرنا ہی کافی سمجھتے ہیں۔
”ان المتعة رحمةٌ رحم اللہ بھا عبادہ ولولانھی عمر مازنی الا شقی“۔[68]
”یقینا متعہ ایک ایسی رحمت ہے جس کے ذریعہ خدا وند عالم نے اپنے بندوں پر رحم کیا ہے اور اگر اسے عمر حرام نہ کرتے تو کسی بد بخت کے علاوہ زنا کا کوئی مرتکب نہ ہوتا۔
قرآن کے سورہ ”عبس“کی پہلی اور دوسری آیت میں آیا ہے:
”عَبَسَ وَتَوَلَّی۔ اٴَنْ جَائَہُ الْاٴَعْمَی“
”اس نے منھ بسور لیا اور پیٹھ پھیر لی کہ ان کے پاس ایک نابینا آگیا“۔
کتب اہل سنت میں ایک روایت اس آیت کے شان نزول کے بارے میں نقل ہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم قریش کے سرداروں سے باتیں کررہے تھے تاکہ انھیں اسلام کی طرف دعوت دے سکیں ان کے درمیان ایک نابینا مومن فقیر بھی تھا جس کانام ”عبد اللہ بن مکتوم“تھا اس نےپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قریب آکر چند بار کہا کہ یا رسول اللہ مجھے بھی قرآنی آیات کی تعلیم دیجئے۔پیغمبر اس پرناراض ہو گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا تو خداوند متعال نے سورہ عبس کے شروع کی آیت کے ذریعہ پیغمبر کی اس فعل پر سر زنش کی۔[69]
لیکن شیعہ روایت کے مطابق سورہ عبس کی شروع کی آیتیں عثمان کے لئے نازل ہوئی ہیں اور انھیں خدا کی طرف سے ڈانٹا گیا ہے کہ نابینا فقیر سے کیوں بے اعتنائی کی ہے۔[70]
مذکورہ بات کو مد نظر رکھتے ہوئے درج ذیل اس مناظرہ کو ملاحظہ فرمائیں جو ایک شیعہ مفکر اور عیسائی عالم کے درمیان ہوا ہے۔
عیسائی عالم: ”ہمارے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام تمہارے پیغمبر محمد صلی الله علیه و آله وسلم سے بہتر ہیں اس لئے کہ تمہارے پیغمبر تھوڑے سے بد اخلاق تھے کیونکہ انھوں نے ایک نابینا فقیر سے جھنجھلا کر اسے ڈانٹا اور اس کی طرف سے منہ موڑ لیا جیسا کہ سورہ عبس کی شروع کی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس قدر خوش اخلاق تھے کہ جب بھی کبھی کسی مبروص کو دیکھ لیتے تھے تو اس پرناراض نہیں ہوتے تھے بلکہ اسے شفا دے دیتے تھے“۔
عیسائی عالم: ”ہم شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ سورہ عثمان کی بد اخلاقی پر نازل ہوا ہے کیونکہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کا فروں کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملتے تھے ہدایت یافتہ مومنین کی تو الگ بات ہے جیسا کہ تم نے قرآن کا نام لیا اسی قرآن میں خدا وند متعال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں ارشادفرماتا ہے:
”انک لعلی خلق عظیم“[71]”بلا شک تم عظیم اخلاق کے درجہ پر فائز ہو“۔
دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے:
”وما ارسلناک الا رحمة للعالمین “ [72]
”اور ہم نے تمہیں صرف عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے“۔
عیسائی عالم: ”یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ یہ بات میں نے بغداد کے ایک مسلمان خطیب سے سنا ہے“۔
شیعہ مفکر: ”ہم شیعوں کے نزدیک یہی مشہور ہے جو میں نے کہا آیت سورہ عبس عثمان کے لئے نازل ہوئی ہیں لیکن بعض پست اور بنی امیہ کے زر خرید راویوں نے عثمان کی عزت محفو ظ رکھنے کے لئے ان آیتوں کی نسبت رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی طرف دیدی ہے۔بعبارت دیگر سورہٴ عبس کی آیت میں تصریح نہیں ہوئی ہے کہ جس نے اس نابینا سے منہ موڑا تھا وہ شخص کون تھا؟ایک قرینہ کے مطابق جیسے سورہ قلم کی چوتھی آیت اور سورہ انبیاء کی ۱۰۷ ویں آیت میں اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ سورہ عبس کا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”سورہ عبس بنی امیہ کے ایک شخص کے سلسلے میں نازل ہوا جو آنحضرت کے ساتھ ساتھ رہا اور اس نے جب ابن ام مکتوم نابینا کو دیکھا تو اس پر ناراض ہو ا اور اس سے دور بھاگنے لگا اور اس نے اپنا منہ موڑ لیا۔[73]
یہ سن کر عیسائی عالم بے بس ہو گیا اور اس کے بعد کچھ نہیں کہا۔
شیعوں کے بہت ہی برجستہ اور مشہور معروف عالم دین محمد بن محمد نعمان جو لوگوں کے درمیان شیخ مفید کے نام سے مشہور ہوئے۔
وہ ذی الحجہ میں ۳۳۶ یا ۳۳۸ ھ ق میں ”سوبقہ“نام کے ایک دیہات (جو بغداد سے دس فرسخ شمال میں واقع”عکبرا“کے علاقہ میں واقع ہے ) میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے باپ (جو معلم تھے) کے ساتھ بغداد آئے وہاں آکر تعلیمی سلسلہ کو آگے بڑھایا،یہاں تک کہ عظیم علماء میں شما ر کئے جانے لگے اور مسلمانوں کے تمام فرقوں میں مقبول ہوگئے۔
علامہ حلی، شیخ مفید کے بارے میں کہتے ہیں: ”وہ شیعوں کے ایک جلیل القدر عالم اور بڑے بڑے علماء کے استاد ہیں۔ان کے بعد آنے والے تمام لوگوں نے ان کے علم سے استفادہ کیا۔[74]
ابن کثیر شامی کتاب ”البدایة النہایة“میں کہتے ہیں: ”شیخ مفید شیعوں کے رہبر ،مصنف اور شیعیت کا دفاع کرنے والے تھے ان کے درس میں طرح طرح کے مذاہب کے علماء شرکت کرتے تھے“۔[75]
شیخ مفید نے مختلف فرقوں پر دوسو سے زیادہ کتابیں تالیف کی ہیں معروف نسب شناس نجاشی ان کی ۱۷۰ کتابوں سے زیادہ کانام لکھتے ہےں[76]،شیخ مفید کی وفات شب جمعہ میں ماہ مبارک رمضان سال ۴۱۳ ھ ق کو بغداد میں ہوئی اور آپ کی قبر کاظمین میں امام محمد تقی علیہ السلام کی قبر کے قریب مسلمانوں کے ایک قبر ستان میں واقع ہے۔
شیخ مفید فن مناظرہ میں بہت ہی مستحکم اور مضبوط تھے، ان کے مناظروں میں سے کچھ ٹھوس اور مستدل مناظرے جو کتابوں میں نقل ہوئے ہیں ان میں سے ایک مناظرہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اسی مناظرہ کی وجہ سے شیخ مفید کویہ لقب ملا ہے۔[77]
شیخ مفید کے زمانہ میں اہل سنت کا ایک بہت ہی عظیم عالم دین جسے لوگ قاضی ”عبد الجبار“ کے نام سے جانتے تھے جو بغداد میں در س دیا کرتے تھے، ایک روز قاضی عبد الجبار در س کے لئے بیٹھے تھے اور تمام شیعہ سنی شاگرد بھی اس کے اس درس میں موجود تھے اس دن شیخ مفید بھی درس میں حاضر ہوئے اور آکر چوکھٹ پر بیٹھ گئے۔
قاضی نے شیخ مفید کو اب تک نہیں دیکھا تھا لیکن انھوں نے ان کے اوصاف سن رکھے تھے۔کچھ وقت گزرنے کے بعد شیخ مفید نے قاضی کی طرف دیکھ کر کہا:
”آیا مجھے ان دانشوروں کے سامنے اجازت دیتے ہو کہ میں آپ سے ایک سوال کروں؟“
شیخ مفید: یہ حدیث جس کے بارے میں شیعہ حضرات روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر نے صحرائے عرب غدیر میں علی علیہ السلام کے لئے فرمایا:
”من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ“۔
جس کا میں مولا ہوں پس اس کے علی مولا ہیں“۔
کیا یہ صحیح ہے یاشیعوں نے گڑھ لی ہے ؟
قاضی: ”یہ روایت صحیح ہے“۔
شیخ مفید :اس روایت میں کلمہ مولا سے کیا مراد ہے ؟“
قاضی: ”مولا سے مطلب سر پرست اور اولویت ہے“۔
شیخ مفید: اگر اسی طرح ہے تو پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے فرمان کے مطابق علی علیہ السلام دوسرے لوگوں کے سرپرست اور سب پر اولویت رکھتے ہیں“۔
اب اس حدیث کے بعد شیعہ اور سنی کے درمیا ن اختلاف اور دشمنی کیوں ہے ؟“
قاضی: ”اے بھائی ! یہ حدیث” غدیر“ روایت ہے لیکن خلافت ابو بکر ”درایت“اور امر مسلم ہے اور عاقل شخص روایت کی خاطر درایت کو ترک نہیں کرتا“۔
شیخ مفید: تمام حدیث کے بارے میں کہتے ہو کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
”یا علی حربک حربی وسلمک سلمی“۔
”اے علی علیہ السلام ! تمہاری جنگ میری جنگ اور تمہاری صلح میری صلح ہے“۔
قاضی: ”یہ حدیث صحیح ہے“۔
شیخ مفید:اس حدیث کی بنیاد پر جن لوگوں نے جنگ جمل شروع کی جیسے ،طلحہ،زبیر ،عائشہ وغیرہ علی علیہ السلام سے جنگ کی اس حدیث کی رو سے (جب کہ تمہارا یہ بھی اعتراف ہے کہ حدیث صحیح ہے) تو ان لوگوں نے گویا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم سے جنگ کی اور یہ لوگ کافر ہوئے“۔
قاضی: ”اے بھائی!طلحہ وزبیر وغیرہ نے توبہ کر لی تھی“۔
شیخ مفید:جنگ جمل درایت اور قطعی ہے لیکن یہ جنگ کرنے والوں نے توبہ کی یہ روایت اور ایک سنا ہوا قول ہے اور تم نے خود ہی کہا ہے کہ درایت کو روایت پر قربان نہیں کرنا چاہئے او ر عاقل شخص درایت کو روایت کی وجہ سے ترک نہیں کرتا ہے“۔
قاضی: ”اس سوال کا جواب دینے سے بے بس ہو گیا اور ایک لمحہ بعد اس نے چونک کر اپنا سر اٹھا یا اور کہا ”تم کون ہو“
شیخ مفید : ”میں آپ کا خادم محمد بن محمد نعمان ہوں“۔
قاضی ، اس وقت اپنی جگہ سے اٹھے اور شیخ مفید کا ہاتھ پکڑ کر اس نے اپنی جگہ بٹھا کر ان سے کہا:
”انت المفید حقاً “تم حقیقت میں مفید ہو“۔
بزم کے تمام علماء قاضی کی اس بات سے رنجیدہ ہوئے اور کافی شور وغل مچایا ،قاضی نے ان لوگوں سے کہا: ”میں اس شیخ مفید کا جواب دینے میں بے بس ہو گیا تم میں سے جو بھی ان کا جواب دے سکے وہ اٹھے اور بیان کرے“۔
ایک آدمی بھی نہیں اٹھا اس طرح شیخ مفید کامیاب ہوگئے اور اسی بزم سے ان کا لقب مفید ہوگیا جو تمام لوگوں کی زبان پر آج تک جاری ہے۔[78]
ہم قرآن میں سورہ توبہ کی ۴۰ ویں آیت میں پڑھتے ہیں:
”إِلاَّ تَنصُرُوہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللهُ إِذْ اٴَخْرَجَہُ الَّذِینَ کَفَرُوا ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ لاَتَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَاٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَہُ عَلَیْہِ وَاٴَیَّدَہُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْہَا“
”اگر تم رسول کی مدد نہیں کروگے تو اللہ نے ان کی مدد کی جب کفار نے انھیں مکہ سےنکال دیا، حالانکہ وہ دو میں سے ایک تھے جب وہ دونوں غار میں تھے اوروہ اپنے ہم سفر سے کہہ رہے تھے غم زدہ نہ ہو، خدا ہمارے ساتھ ہے اس وقت خدا نے اپنے سکینہ (سکون)کو ان (رسول )پر نازل کیا اور ان کی ایسے لشکر سے تائید کی جسے تم نے نہیں دیکھا“۔
علمائے اہل سنت اس آیت کو فضائل ابو بکر کے لئے دلیل مانتے ہیں اور ابو بکر کو رسول اکرم کا یار وفادار جانتے ہیں اور ان کی خلافت کی تائید کے لئے اس آیت کا سہارا لیتے ہیں۔
نیز اہل سنت کے شعراء بھی اسی آیت کا سہارا لیتے ہوئے ابو بکر کی ستائش کرتے ہیں۔
مثلاًسعدی کہتا ہے:
ای یار غار سید و صدیق وراھبر
مجموعہ فضائل و گجنینہٴ صفا
مردان قدم بہ صحبت یاران نھادہ اند
لیکن نہ ھمچنان کہ تو در کام اژدھا[79]
(”اے یار غار !سردار و صدیق و رہبر! اے مجموعہ فضائل اور پاکیزگی و صفا کے مرکز! لوگ آپ کے نقش قدم پر چلتے ہیں لیکن نہ اس طرح کہ آپ نے ازدہا کے منھ اپنا ہاتھ رکھ دیا ہے“)
اب مذکورہ بالا مطلب کی طرف توجہ رکھتے ہوئے ذیل میں شیخ مفید علیہ الرحمة کا (جن کی زندگی کے حالات گزر چکے) ایک مناظرہ نقل ہوا ہے ۔ملاحظہ فرمائیں:
علامہ طبرسی کتاب ”احتجاج “میں اور کراجکی ”کنزالفوائد“میں شیخ ابو علی حسن بن محمد رقی سے نقل کرتے ہیں کہ شیخ مفید نے فرمایا: ”ایک شب میں نے خواب میں دیکھا کہ راستہ چل رہا ہوں چلتےچلتے میری نظر لوگوں پڑی تو دیکھا کہ لوگ ایک شخص کے گرد جمع ہیں اور وہ ان لوگوں کو قصہ سنا رہا ہے میں نے پوچھا وہ مرد کون ہے؟”لوگوں نے کہا عمر بن خطاب ہیں“۔
میں حضرت عمر کے قریب گیا تو دیکھا ایک شخص ان سے بات کر رہا ہے لیکن میں ان کی باتوں کو نہیں سمجھ پارہا ہوں ان لوگوں کی بات کاٹ کر میں نے کہا: ”مجھے بتاوٴ کہ آیہ ٴغار(ثانی اثنین إذھما فی الغار)سے ابو بکر کی برتری کی کیا دلیل ہے“۔
عمر نے کہا: ”اس آیت میں ایسے چھ نکات ہیں حضرت ابو بکر کی فضیلت کی حکایت کرتے ہیں“، ان چھ نکتوں کو شمار کر نا شروع کیا:
خدا وند متعال نے قرآن میں (سورہ توبہ، آیت۴۰ )پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خطاب کیا ہے اور ابو بکر کو ان کے بعد دوسرا شخص قرار دیا ہے۔(ثانی اثنین)
۲۔خدا وند متعال نے ان دونوں (پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم اور ابوبکر)کو ایک ساتھ اور ایک جگہ خطاب کیا ہے یہ خود ان دونوں کے تعلقات کی حکایت ہے۔ (اذھما فی الغار)
۳۔خدا وند متعال نے مذکورہ آیت میں ابو بکر کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا رفیق کہہ کر خطاب کیا ہے جو خود ابو بکر کے رتبہ اور منزلت کی حکایت کرتا ہے۔ (اذیقول لصاحبہ)
۴۔خدا وند متعال نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عشق ومحبت کی وجہ سے ابو بکر کو خبر دی کہ مذکورہ آیت کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابوبکر سے کہا:(ولا تحزن)غمگین نہ ہو۔
۵۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابو بکر سے کہا: ”خدا وند متعال ہم دونوں کا برابر کا ہمدرد ہے اور ہماری طرف سے دفاع کرنے والا ہے۔ (ان اللہ معنا)
۶۔خداوند متعال نے اس آیت میں ابو بکر کے لئے سکینہ (سکون قلب) نازل ہونے کی خبر دی ہے کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیشہ چین و سکون میں تھے وہ سکینہ کے نازل ہونے کے محتاج نہیں تھے: (فانزل اللہ سکینتہ علیہ)
یہ چھ نکتے ابو بکر کی فضیلت کو ثابت کررہے ہیں کہ کوئی شخص ان کے رد کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔
شیخ مفید کہتے ہیں: ”سچ مچ تم نے ابوبکر سے اپنی رفاقت اور دوستی کا حق ادا کیا لیکن اب میں خدا کی مدد سے ان چھ نکتوں کا جواب اس طرح دے رہا ہوں جیسے آندھی کی تیز ہوا راکھ کو اُڑا لے جاتی ہے۔
۱۔ابوبکر کو اس آیت میں دوسرا شخص قرا رد ینا ان کی فضیلت نہیں ہے کیونکہ مومن مومن کے ساتھ اور اسی طرح مومن کافر کے ساتھ ایک جگہ رہ سکتے ہیں اور جب انسان ان دونوں میں سے کسی ایک کا ذکر کرنا چاہتا ہے تو کہے گا ان دونوں میں دوسرا (ثانی اثنین)
۲۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ابوبکر کا ایک ساتھ ذکر کرنا بھی ابوبکر کی فضیلت پر دلالت نہیں کرتا ہے جیسا کہ پہلی دلیل میں کہا کہ ایک جگہ اکٹھا ہونا اچھائی پر دلیل نہیں ہے بہت سے مواقع پر مومن اور کافر ایک جگہ اکٹھا ہوتے ہیں جیسے مسجد پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم جو غار ثور سے نہایت ہی بافضل ہے وہاں پر بھی مومن اور منافق ایک ساتھ جمع ہوتے تھے۔اسی لئے ہم قرآن میں سورہ معارج کی ۳۶ ویں اور۳۷ آیت پڑھتے ہیں۔
” فَمَالِ الَّذِینَ کَفَرُوا قِبَلَکَ مُہْطِعِینَ ۔ عَنْ الْیَمِینِ وَعَنْ الشِّمَالِ عِزِینَ“
”پس ان کافروں کو کیا ہوا ہے جو تمہارے پاس جلدی جلدی داہنے بائیں سے گروہ در گروہ آتے ہیں اور اسی طرح کشتی نوح میں پیغمبر ،شیطان اور تمام جانورایک جگہ جمع ہو گئے تھے“۔
غرض ایک جگہ جمع ہونا دلیل فضیلت نہیں ہے۔
۳۔لیکن مصاحب ہونے کے بارے میں یہ بھی فضیلت کی دلیل نہیں ہے کیونکہ یہاں پر مصاحب ہمراہ کے معنی میں ہے بہت سے موقع پر کافر مومن کے ہمراہ ہوتا ہے جیسا کہ خداوند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:
” قَالَ لَہُ صَاحِبُہُ وَہُوَ یُحَاوِرُہُ اٴَکَفَرْتَ بِالَّذِی خَلَقَکَ مِنْ تُرَاب“[80]
”اس سے (کافر)اس کے (مومن)دوست نے بات کے درمیان کہا کیا تو اس کا انکار کررہا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا؟“
۴۔یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابو بکر سے فرمایا: ””لا تحزن “غمگین نہ ہو “یہ ابو بکر کی خطا پر دلیل ہے نہ کہ ان کی فضیلت پر کیونکہ یہ حزن یا اطاعت کی وجہ سے تھا یا گناہ تھا اگر اطاعت تھا تو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کبھی اس کے لئے منع نہ کرتے پس پتہ چلا گناہ تھا جس سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے منع کیا۔
۵۔یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:”ان اللہ معنا“(خدا ہمارے ساتھ ہے )اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دونوں کے لئے فرمایا ہے نہیں بلکہ اس سے مراد خود تنہا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود اپنے لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے جیسا کہ خدا وند متعال نے اپنے لئے لفظ جمع استعمال کیا ہے۔
”إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُون“[81]
”ہم ہی نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں“۔
۶۔یہ کہ تم نے کہا کہ سکینہ اور آرام ابو بکر پر نازل ہوا آیت کا ظاہری سیاق اس کا مخالف ہے کیونکہ سکینہ اس شخص پر نازل ہوا جس کی مدد کے لئے خداوند متعال نے نامرئی (نہ دکھائی دینے والا) لشکر روانہ کیا اور یہ خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات ہے۔
اور اگر تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ دونوں(سکینہ اور نامرئی لشکر)ابو بکر کے لئے تھا تو یہاں چاہئے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نبوت سے خارج کردو۔
بس اس سے معلوم ہوا کہ سکینہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوا تھا کیونکہ تنہا رسول ہی تھے جو غار میں اس چیز کے لئے مناسب تھے لیکن دوسری جگہوں پر پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے ساتھ ساتھ مومنین پر بھی سکینہ نازل کیا گیا ہے ان کا الگ الگ ذکر پایا جاتا ہے۔جیسا کہ سورہٴ فتح آیت ۲۶ پڑھتے ہیں:
”فَاٴَنْزَلَ اللهُ سَکِینَتَہُ عَلَی رَسُولِہِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ “
بہتر ہے کہ اس آیت سے اپنے دوست کی فضیلت ثابت نہ کرو تو بہتر ہے۔
شیخ مفید کہتے ہیں اس کے بعد عمر میرا جواب نہ دے سکا اور لوگ اس سے دور بھاگے اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔[82]
مامون (عباسی دور کا ساتواں خلیفہ )نے یحییٰ بن اکثم (قاضی وقت)کو حکم دیا کہ تمام مشہور ومعروف علماء کو فلاں روز فلاں وقت پر میری بزم میں حاضر کیا جائے۔
یحییٰ بن اکثم نے اس زمانہ کے تمام مشہور معروف علماء اور راویوں کو ایک جگہ جمع کیا ،مامون اس بزم میں حاضر ہوا اور احوال پرسی کے بعد اس نے کہا: ”میں نے تمہیں یہاں اس لئے بلایا ہے کہ ساتھ بیٹھ کر آزاد طریقہ سے اور بغیر کسی قید وبند کے امامت کے بارے میں باتیں کریں تاکہ تمام لوگوں پر حجت تمام ہو جائے“۔
اس بزم میں ہر عالم نے ابوبکر و عمر کی برتری اور فضیلت کو ثابت کیا تاکہ وہ خلیفہ رسول سمجھے جائیں لیکن مامون ہر ایک کو اچھی طرح جواب دیتا رہا اور ان کی دلیلوں کو رد کرتا رہا یہاں تک اسحاق نامی ایک عالم میدان مناظرہ میں آیا اور تھوڑی دیر بحث کے بعد اس نے کہا:
”خداوند متعال قرآن کریم میں سورہٴ توبہ آیت ۴۰ میں ابو بکر کے بارے میں فرماتا ہے:
” ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ لاَتَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَاٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَہُ عَلَیْہِ“
”اور وہ ایک شخص کے ساتھ نکلے اور دونوں غار میں تھے تو اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ رنج نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے پھر خدا نے اپنی طرف سے (اپنے پیغمبر) پر سکون (سکینہ) نازل کردیا“۔
خدا وند متعال نے اس آیت میں ابو بکر کو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کا مصاحب اور دوست کہہ کر تعارف کرا رہا ہے۔
مامون: ”عجیب بات ہے لغت اور قرآن سے تم کتنی کم آگاہی رکھتے ہو کیا کبھی کافر مومن کا مصاحب اور رفیق نہیں ہوتا؟ایسی صورت میں یہ مصاحب کافر کے لئے کس افتخار کا سبب بنے گی؟ جیسا کہ قرآن میں سورہ ٴ کہف آیت ۳۷ میں خدا وند متعال فرماتا ہے:
” قَالَ لَہُ صَاحِبُہُ وَہُوَ یُحَاوِرُہُ اٴَکَفَرْتَ بِالَّذِی خَلَقَکَ مِنْ تُرَاب“
”اس کے ایک ساتھی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تو اس کا انکار کردیا ہے جس نے تجھے خاک سے پیدا کیا ہے“۔
اس آیت کے مطابق مومن کافر کا ساتھی شما ر کیا گیا ہے۔
بہت سے فصحائے عرب کے اشعار بھی اس بات پر شاہد ہیں کہ کبھی کبھی انسانوں کے ساتھی حیوان بھی ہوتے ہیں، لہٰذا ساتھی ہونا کسی بھی طرح کی دلیل وافتخار نہیں ہے“۔
اسحاق: ”پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مذکورہ آیت کے مطابق ابو بکر کو اطمینان دلایا اور دل جوئی کی اور ان سے فرمایا:”لا تحزن“ (یعنی غمگین نہ ہو)
مامون: ”مجھے بتاوٴ کیا ابو بکر کا حزن وملال گناہ تھا یا اطاعت ؟اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اطاعت تھا تو اس صورت میں تم نے گویا فرض کر لیا کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم نے اطاعت سے منع کیا(جب کہ اس طرح کی نسبت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے متعلق بالکل غلط ہے)اور اگر کہتے ہو کہ وہ عمل گناہ تھا تو اب گناہ کے لئے تم کون سی فضیلت اور افتخار کو ثابت کرتے ہو؟“
اسحاق: ”خدا وند متعال نے مذکورہ آیت میں اپنا سکون اور آرام (سکینہ) ابو بکر پر نازل کیا یہ خود ان کے لئے فضیلت اور افتخار ہے اور یہ خدا کا آرام وسکون ابو بکر سے مخصوص ہے نہ کہ پیغمبر اکرم سے کیونکہ وہ راحت وسکون کے محتاج نہیں ہیں“۔
مامون: ”خداوند متعال قرآن کریم میں ( سورہٴ توبہ کی ۲۵۔۲۶ ویں آیت ) فرماتا ہے-:
”َیَوْمَ حُنَیْنٍ إِذْ اٴَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَضَاقَتْ عَلَیْکُمْ الْاٴَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُدْبِرِینَ # ثُمَّ اٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَہُ عَلَی رَسُولِہِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ“
”خدا نے تمہاری بہت سی جگہوں میں مد د کی اور حنین کے دن جب تمہیں تمہاری کثرت نے تعجب میں ڈال دیا تھا مگر اس کثرت نے تمہاری کوئی مدد نہ کی اور زمین تمہارے اوپر تنگ ہو گئی پھر تم میدان سے پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے پھر خداوند متعال نے اپنا سکینہ اپنے رسول اور مومنین پر نازل کیا“۔
اے اسحاق ! کیا تو جانتا ہے کہ جن مومنوں نے فرار نہیں اختیار کیا تھا اور جنگ حنین میں پیغمبر کے ساتھ ساتھ میدان جنگ میں رہے وہ کون لوگ تھے؟
اسحاق: ”نہیں میں نہیں جاتنا“۔
مامون:جنگ حنین ( جو سرزمین مکہ اور طائف کے درمیان ہجرت کے آٹھویں سال واقع ہوئی)تمام اسلامی لشکر شکست کھا کر میدان سے فرار ہو چکا تھا اور میدان جنگ میں صرف پیغمبر اور ان کے ساتھ بنی ہاشم کے سات افراد باقی رہ گئے تھے جن میں علی علیہ السلام تلوار سے جنگ کرتے تھے عباس (پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا) نے آنحضرت کو گھوڑے کی لگام اپنے ہاتھ میں تھام رکھی تھی اور پانچ دوسرے افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت میں لگے ہوئے تھے تاکہ کافروں سے انھیں کسی طرح کا کوئی نقصان نہ پہنچنے پائے [1] نتیجہ میں خداوند متعال نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فتح و کامرانی عطا کی (یہاں تک کہ خداوند متعال نے اپنے آرام وسکون (سکینہ) کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مومنین پر نازل کیا)
اس سے ثابت ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی الٰہی آرام وسکون کے محتاج تھے اور مومنین سے مراد اس آیت میں علی علیہ السلام اور چند لوگ بنی ہاشم کے ہیں جو میدان جنگ میں حاضر تھے اس بنا پر کون افضل ہے ؟آیا وہ لوگ جو میدان جنگ حنین میں پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے ساتھ رہ گئے تھے اور الٰہی آرام وسکون پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم اور ان لوگوں پر نازل ہوا وہ لوگ برتر ہیں یا وہ شخص جو پیغمبر اکرم کے ساتھ غار میں تھا اور اس کے لئے سکون وراحت نازل کرنا مناسب بھی نہیں تھا؟
اے اسحاق!کون شخص بہتر ہے آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کے ساتھ غار میں رہنے والا یا آنحضرت پر جان فدا کرکے ان کے بستر پر چین کی نیند سونے والا؟ کیونکہ جب آپ مکہ سے ہجرت کرکے جا رہے تھے تو خدا کے حکم کے مطابق حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: ”تم میرے بستر پر سو رہو۔
حضرت علی علیہ السلام نے پوچھا: ”اے رسول خدا !اگر میں آپ کے بستر پر سوجاوٴں تو آپ کی جان بچ جائے گی ؟“
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”جی ہاں“۔
حضرت علی علیہ السلام نے عرض کیا: ”سمعاً و طاعةً“
اس کے بعد آپ بستر رسول پر آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کی چادر تان کر سوگئے۔مشرکین تمام رات انتظار کرتے رہے اور وہ شک بھی نہ کر سکے کہ اس بستر پر رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے علاوہ کوئی اور سو رہا ہے۔
یہ منصوبہ تمام مشرکین کی اتفاق رائے سے وجود میں آیا تھا کہ ہر قبیلہ کا ایک شخص آپ کے پاس جا کر ایک ایک ضربت لگائے تاکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قتل ہو جائیں اور ان کا قاتل کوئی ایک شخص نہ ہو تاکہ بنی ہاشم پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کا انتقام نہ لے سکیں۔
حضرت علی علیہ السلام مشرکوں کی تمام باتیں سن رہے تھے لیکن انھوں نے ذرا بھی بیتابی کا اظہار نہیں کیا جب کہ ابو بکر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ غار میں رہتے ہوئے بھی بے تابی کا اظہار کر رہے تھے اور علی علیہ السلام نے تنہا ہوتے ہوئے بھی مکمل خلوص سے استقامت کی اور خداوند متعال نے علی علیہ السلام کے پاس فرشتے بھیجے تاکہ وہ مشرکوں سے ان کی حفاظت کریں۔
حضرت علی علیہ السلام نے اپنی زندگی میں اس طرح کی فداکاری اور ایثار کیا اور وہ اپنی طویل حیات میں بہت ہی عظیم فضائل ومناقب کے حامل تھے یہاں تک کہ خداوند متعال کے نزدیک بہت ہی محبوب اور مقبول حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔[2]
اہل سنت کا ایک بہت ہی مشہورو معروف اور نہایت پڑھا لکھا عظیم مورخ عبد المجید بن محمد بن حسین بن ابی الحدید مدائنی گزرے ہیں جسے عام لوگ ”ابن ابی الحدید “کے نام سے جانتے ہیں ان کی تالیفات و تصنیفات میں ایک بہت ہی اہم اور مشہور ۲۰جلدوں پر مشتمل ”شرح نہج البلاغہ “ہے۔
۶۵۵ ھ کومیں بغداد میں انھوں نے دنیا کو ہمیشہ کے لئے خدا حافظ کہا وہ اپنی شرح نہج البلاغہ کی چھٹی جلد میں پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کی رحلت کے بعد پرآشوب حالات کو لکھتے ہوئے اقرار کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے چند آدمیوں کے ساتھ آکر فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا گھر گھیر لیا جنا ب فاطمہ زہرا سلا م اللہ علیہا کی آواز بلند ہوئی کہتم لوگ میرے گھر سے بھاگ جاوٴ۔۔۔
اور صحیح بخاری و صحیح مسلم سے بھی نقل کرتے ہوئے واضح طور پر لکھتے ہیں:
”فھجرتہ فاطمہ ولم تکلمہ فی ذلک حتی ماتت فد فنھا علی لیلاولم یوٴذن بھا ابو بکر“۔[3]
” پھر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے ابو بکر سے دوری اختیار کر لی تھی اور مرتے وقت تک ان سے بات نہیں کی، یہاں تک کہ حضرت علی علیہ السلام نے آپ کو رات کی تاریکی میں دفن کیا اور ابوبکر کو اس بات کی خبر بھی نہ دی۔
ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے ابن ابی الحدید عمر و ابوبکر کی عزت کو محفوظ رکھنے کے لئے طرح طرح کی توجیہ کرتے ہوئے اس طرح لکھتے ہیں:
”فان ھذالوثبت انہ خطالم یکن کبیرة بل کان من باب الصغائر التی لا تقتضی التبری ولا توجب زوال التولی“۔
”اگر یہ ثابت ہو جائے کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ساتھ ابوبکر کی رفتار اس طرح تھی تو ان کی طرف سے یہ خطا اور گناہ تو تھا لیکن گناہ کبیرہ نہیں ہے بلکہ ایک گناہ صغیرہ ہے جو ان سے بیزاری اور ولایت کے زوال کا موجب نہیں بن سکتا ہے“۔
موٴلف: ”کیا سچ مچ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر حملہ کرنا اوراس کا حکم دنیا اور آپ کو اس حد تک ناراض کرنا کہ آخر عمر تک ابو بکر و عمر سے منہ پھیرے رہیں اور ان سے بات بھی نہیں کی، گناہ صغیرہ ہے ؟!
اگر ابن ابی الحدید کہتے کہ اصل حادثہ ہمارے نزدیک ثابت نہیں ہے تو اس پر مجھے تعجب نہ ہوتا لیکن وہ اس حادثہ کا اقرارکرتے ہوئے کس طرح ایسی باتیں کرتے ہیں؟کیا وہ گناہ کبیرہ اور صغیرہ کے فرق کو نہیں جانتے ؟ایسا بھی نہیں ہے کہ ابن ابی الحدید نے صرف خود نقل کیا ہے بلکہ دوسرے علمائے اہل سنت نے بھی اس کو نقل کیا ہے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں فرمایا ہے۔
”ان الله یغضب لغضب فاطمة ویرضیٰ لرضاھا“۔[4]
”بے شک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا (میرے جگر کا ٹکڑا ہے ) جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی“۔
پس اس حدیث کی بنیاد پر ان دونوں نے یقینی طور پر جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اذیت دی اور فاطمہ سلا م اللہ علیہا کو اذیت دینا خدا و رسول کو اذیت دینا ہے ان چیزوں کو جانتے ہوئے کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اذیت دینا گناہ صغیرہ ہے؟ہاں اگر یہ گناہ صغیرہ ہے تو پھرگناہ کبیرہ کیا ہے؟کیا خدا وند متعال قرآن مجید میں نہیں فرماتا:
”إِنَّ الَّذِینَ یُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَہُ لَعَنَہُمْ اللهُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَاٴَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُہِینًا“[5]
”بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان پر اللہ دنیا اور آخرت میں لعنت بھیجتا ہے اور اس نے ان کے لئے اہانت آمیز عذاب تیار کررکھا ہے“۔
کیا گناہ صغیرہ انجا م دینے والا شخص خدا اور رسول کی لعنت کا مستحق نہیں ہے؟
شریعت اسلام میں جو چیز آیات قرآن اورسنت پیغمبر سے صریحی اور واضح ہے اس چیز کی پیروی کرنا چاہئے اگر ہم اس کے مقابلہ میں کوئی توجیہ کریں تو ایسا اجتہاد نص کے مقابلہ میں ہوگا اور نص کے مقابلہ میں اجتہاد یقینا باطل ہے اور اس طرح کا اجتہاد ہی بدعت ہے جو کفر اور گمراہی پیدا کرتا ہے۔لیکن صحیح اجہتاد وہ ہے کہ کسی موضوع کے حکم کی صحیح دلیل سند یا دلالت کے لحاظ سے واضح نہ ہو،مجتہد قواعد اجتہاد کے ذریعہ اس موضوع کے حکم کے بارے میں استنبا ط کرتا ہے اس طرح کا اجتہاد اور اس طرح کے مجتہد جامع الشرائط مقلدین حضرات کے لئے حجت قرار دیئے گئے ہیں اسی بات کی طرف توجہ دیتے ہوئے ذیل کا مناظرہ کو ملاحظہ فرمائیں:
ملک شاہ سلجوقی نے ایک جلسہ بلا یا اس میں خود اس کا وزیر بھی موجود تھا۔اس جلسہ میں اہل سنت کے ”عباسی “نام کے ایک بہت ہی جلیل القدر اور شیعوں کے ایک بہت ہی مشہور اور عظیم عالم (علوی) کے درمیان اس طرح مناظرہ شروع ہوا:
علوی: تمہاری معتبر کتابوں میں آیا ہے کہ بعض احکام جو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانہ میں قطعی مناسب اور یقینی تھے عمر نے اس میں تصرف کیا ہے اور اسے بدل ڈال ہے“۔
عباسی: ”کن احکام کو انھوں نے بدل دیا؟“
علوی: ”مثال کے طور:
الف: نماز تراویح ماہ رمضان میں پڑھی جاتی ہے اور مستحب ہے، عمر نے کہا: ”اسے با جماعت پڑھو “[6]جب کہ مستحب نمازیں جماعت کے ساتھ نہیں پڑھنا چاہئے۔جیسا کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانے میں اسی طرح تھا کہ تمام مستحبی نمازیں فرادیٰ پڑھی جاتی تھیں لیکن بعض مستحبی نمازیں جیسے نماز استقاء پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں بھی جماعت سے پڑھی گئی۔
ب: یا حضرت عمر نے حکم دیا کہ اذان میں”حی علی خیر العمل“کی جگہ ”الصلوة خیر من النوم“کہا جائے۔[7]
ج: حج تمتع اور متعة النساء کو حرام قرار دیا۔[8]
د:مولفة القلوب کے حصہ کو ختم کر دیا جب کہ سورہٴ توبہ کی آیت نمبر ۶۰ میں ان کے حصے کی وضاحت ہوتی ہے اس کے علاوہ اور بہت سے احکام ہیں۔
ملک شاہ: کیا سچ مچ عمر نے ان احکام کو بدل ڈالا؟“
خواجہ نظام الملک: ”ہاں واقعی یہ چیزیں سنیوں کی معتبر کتابوں میں ذکر ہوئی ہیں“۔
ملک شاہ: ”بس ہم کس طرح ان لوگوں کی پیروی کریں جنھوں نے بدعت پھیلارکھی ہے ؟“
قوشچی: ”اگر عمر نے حج تمتع یا متعہ سے روکا ،یا اذان میں”حی علی خیر العمل“کی جگہ”الصلوة خیر من النوم“کا اضافہ کیا تو انھوں نے اجہتاد کیا ہے اور اجتہاد بدعت نہیں ہے۔[9]
علوی: ”کیا قرآن کے واضح اور صریحی آیت یا رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کی صریحی احادیث کے مقابلہ میں دوسری باتیں پیش کی جا سکتی ہیں؟ کیانص کے مقابلہ میں اجتہاد جائز ہے ؟اگر اس طرح ہو تو ہر مجتہد اس چیز کا حق رکھتا ہے اور ایسے ہی کچھ دنوں کے بعد اسلام کے بہت سے احکام بدل جائیں گے اور اسلام کی حقیقت اور جاویدانی ہوناہمارے درمیان سے جاتی رہے گی کیا قرآن یہ نہیں فرمارہا ہے:
”وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا“[10]
”جو کچھ رسول تم کو دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں اسے ترک کردو“۔
اسی طرح سورہٴ احزاب میں خدا کا ارشاد ہے:
”وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَمُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَی اللهُ وَرَسُولُہُ اٴَمْرًا اٴَنْ یَکُونَ لَہُمْ الْخِیَرَةُ مِنْ اٴَمْرِہِمْ “[11]
”کسی مومن یا مومنہ کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد (کس شئے پر) اختیار رکھے“۔
آیا پیغمبر (ص) نے یہ نہیں فرمایا:
”حلال محمد حلال الی یوم القیامة وحرام محمد حرام الی یوم القیامة“۔[12]
”حلال محمد قیامت تک کے لئے حلال ہے اور حرام محمد قیامت کے لئے حرام ہے“۔
نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے صریحی احکام کو بدلنا نہیں چاہئے کہ یہ کام تو پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم بھی نہیں کر سکتے تھے جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں قرآن میں پڑھتے ہیں۔[13]
” وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاٴَقَاوِیلِ۔ لَاٴَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِینِ ۔ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِینَ۔ فَمَا مِنْکُمْ مِنْ اٴَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزِینَ“[14]
”اور اگر وہ (پیغمبر) ہماری طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے تو ہم انھیں قوت سے پکڑ لیتے پھر ان کی رگ قلب کو قطع کر دیتے اور تم لوگوں میں سے کوئی بھی اسے روک نہیں سکتا تھا“۔
ڈاکٹر محمد تیجانی سیماوی ”تیونس“کے رہنے والے ہیں وہ اپنے شہریوں اور خاندان والوں کے دین کے مطابق اہل سنت میں مالکی مسلک کے پیروکارتھے، علمی منازل طے کرنے کے بعد پڑھےلکھے مفکروں میں ان کا شمار ہونے لگا ڈاکٹر محمد تیجانی نے اسلامی مذاہب میں مذہب حقہ کی تحقیق میں بڑے ہی ہوش وحواس کے ساتھ انتھک کوشش کی اس سلسلہ میں انھوں نے متعدد سفر بھی کئے جیسے نجف اشرف میں آیت اللہ خوئی اور شہید باقر الصدر اعلی اللہ مقامہم کے پاس پہنچے اور نہایت ہی عمیق تحقیق کے بعد مذہب تشیع کو قبول کیا اوراپنے شیعہ ہونے کا قانونی طور پر اعلان کر دیا اور اپنے اس تحقیق کو اپنی قیمتی کتاب ”ثم اھتدیت “میں بیان کیا ہے۔[15]
ڈاکٹر تیجانی پہلے مالکی مذہب کے پیروکار تھے انھوں نے تیونس سے نجف اشرف کا سفر کر کے اپنے دوست کے ذریعہ آیت العظمیٰ سید شہید صدر [16] کی خدمت میں پہنچے انھوں نے وہاں پہنچ کر تحقیق اور مناظرہ شروع کیا۔
ڈاکٹرتیجانی نے پہلے اس طرح سوال شروع کئے:
سعودی علماء کہتے ہیں:
”قبر پر ہاتھ رکھنا (چومنا)صالحین کو وسیلہ قرار دینا ان سے متبر ک ہونا شرک ہے، اس بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے ؟“۔
آیت اللہ صدر نے فرمایا: ”اگر کوئی انسان اس عقیدہ سے قبر چومے یا انھیں وسیلہ قرار دے کہ وہ (بغیر اذن خدا کے )مستقل طور پر ہمیں ضرر و نفع پہنچا سکتے ہیں تو یہ شرک ہے، لیکن مسلمان خدائے وحدہ لا شریک کی عبادت کرنے والا جانتا ہے کہ صرف اور صرف خدا ہی وہ ہے جو ضررونفع پہنچا سکتا ہے اور یہ اولیائے خدا اور اس کے درمیان واسطہ اور وسیلہ ہیں انھیں اس طرح واسطہ و وسیلہ قرار دینا ہرگز شرک نہیں ہے تمام سنی اور شیعہ مسلمان رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانہ سے لے کر آج تک اسی نظریہ پر متفق ہیں۔
یہ صرف وہابیت اور سعودی علماء ہیں جو اسی صدی میں پیدا ہوئے ہیں انھوں نے ہم مسلمانوںکے خلاف ایک ڈھونگ رچ رکھا ہے اور یہ لوگ مسلمانوں کے خون کو مباح بھی جانتے ہیں اور ان کے درمیان فتنہ انگیزی کرتے ہیں یہ لوگ قبر کو چومنا اور ائمہ اعلیہم لسلام کو وسیلہ قرار دینا شرک سمجھتے ہیں۔
اس کے بعد شہید نے فرمایا:سید شرف الدین (شیعوں کے ایک عظیم محقق )صاحب کتاب ”المراجعات “”عید غدیر“کے موقع پر خانہ خدا کی زیارت کے لئے مکہ تشریف لے گئے۔وہاں دستور کے مطابق عبد العزیز[17]کو مبارک باد پیش کرنے کے لئے عید قربان کے روز تمام سعودی علماء ۱۱۵۳ ء ھ میں اس نے خود ساختہ وہابی عقائد کا اعلان کر دیا کچھ لوگوں نے ا س کی پیروی کی اور ۱۱۶۰ ھ میں یہ نجد کے ایک دوسرے مشہور و معروف شہر ”درعیہ“چلا گیا جہاں اس نے شہر کے حاکم ”محمد بن سعود “سے راہ رسم پیدا کی اور پھر ان دونوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ مل جل کر اس نئے عقیدہ کی ترویج کریں گے (آئین وہابیت ،ص ۲۶،۲۷)لہٰذا جیسا کہ ہم آج دیکھ رہے ہیں یہ منحرف مذہب ۱۲ صدی ہجری میں پیدا ہوا اور آل سعود کے ہاتھوں پھلتا پھولتا رہا ۔
شیخ محمد بن عبد الوہاب ۱۲۰۶ ہجری میں مر گیا مگر اس کے بعد بھی اس کے ماننے والوں نے اس کے مذہب کو قائم رکھا البتہ اس E
کے ساتھ ساتھ ان کی بھی دعوت ہوئی تمام علماء کے ساتھ ساتھ وہ بھی محل میں داخل ہوئے ،لوگ مبارک باد دیتے رہے لیکن جب آپ کی باری آئی توآپ نے پہنچ کر عبد العزیز کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے ہدیہ کے طور پر ایک بہت ہی پرانا قرآن دیا، اس نے قرآن لے کر اس کا بوسہ دیا اور مارے احترام وتعظیم کے اسے اپنی پیشانی سے مس کیا، سید شرف الدین نے فرصت غنیمت جان کر اچانک اس سے کہا: ”اے بادشاہ! اس جلد کو بوسہ کیوں لے رہے ہو ؟یہ تو بکری کی کھال سے بنائی گئی ہے“۔اس نے کہا: ”میں کھال کا نہیں بلکہ جو قرآن اس کے اندر ہے اس کا بوسہ لے رہا ہوں۔
جناب شرف الدین نے فوراً فرمایا:
”بہت اچھا بادشاہ ہم شیعہ بھی جب رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے روضہ کے دروازہ اور کھڑکی کا بوسہ لیتے ہیں تو یہ جانتے ہیں کہ یہ صرف لوہا ہے یہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے ہماری غرض کھڑکی اور دروازہ سے نہیں بلکہ اسے ماوراء چیز یعنی ہماری غرض رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کا احترام اور تعظیم ہوتی ہے یہ تعظیم و تکریم بالکل اسی طرح ہے جس طرح تم بکری کی کھال چوم کر قرآن کی تعظیم و تکریم کر رہے ہو۔
یہ سن کر تمام حاضرین نے تکبیر کہی اور ان کی تصدیق کی اس کے بعد ملک عبد العزیز نے مجبور ہو کر حاجیوں کو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے روضہ کو بوسہ دینے کی اجازت دے دی۔لیکن اس کے بعد جو بادشاہ آیا اس نے اس گزشتہ قانون کی کوئی رعایت نہیں کی۔
یہ سب دیکھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیزیں شرک نہیں ہیں بلکہ وہابیوں نے لوگوں
Fکے تمام عقائد ۶۶۱ ھ کی منحرف شخصیت ”احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ “کے مرہون منت ہیں اگر یہ کہا جائے کہ تقریبا ً چھ سو سال کے عرصہ تک مردہ پڑے ابن تیمیہ کے منحرف عقائد اور مختلف بدعتوں کو عبد الوہاب نے نئے سرے سے اجاگر کیا اور لوگوں کے درمیان پھر سے زندہ کیا تو قطعا غلط نہ ہوگا۔کیونکہ تحقیق کرنے پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آج کی وہابیت ابن تیمیہ کے خود ساختہ عقائد و نظریات کی بنیادوں پر استوار ہے۔ (ابن تیمیہ صائب عبد الحمید )۱۲۲۶ ھ میں وہابی شاہ سعود نے بیس ہراز سپاہیوں کے ساتھ کربلاپر حملہ کیا اور پانچ ہزار یا اس سے زیادہ افراد کو تہہ تیغ کر ڈالا۔ (تاریخ کربلا ،ص۱۷۲)
کے درمیان اس لئے یہ پروپیگنڈہ پھیلایا ہے تاکہ وہ اس سیاست کی بنیاد پر مسلمانوں کا خون مباح قرار دیں اور مسلمانوں پر اپنی حکومت باقی رکھیں۔تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ وہابیوں نے امت محمد پر مصائب کے کتنے پہاڑ توڑے ہیں[18]۔
ڈاکٹر تیجانی: ”شیعہ حضرات اذان واقامت میں اس بات کی گواہی کیوں دیتے ہیں کہ علی علیہ السلام خدا کے ولی ہیں؟“
آیت اللہ باقر الصدر: ”کیونکہ حضرت علی علیہ السلام خدا کے بندوں میں ایک منتخب بندہ ہیں اور خدا وند متعال نے انھیں لوگوں پر فضیلت و برتری عطا کی ہے تاکہ انبیاء کے بعد رسالت کے بار سنگین کو وہ اپنے دوش مبارک پر اٹھا سکیں ، اور تمام ائمہ علیہم السلام پیغمبروں کے اوصیاء اور جانشین ہوتے ہیں اور جس طرح ہر پیغمبر کے پاس اس کا ایک جانشین ہوتا تھا اسی طرح پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه و آله وسلم کے جانشین مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں ہم لوگ انھیں تمام اصحاب پر مقدم قرار دیتے ہیں کیونکہ خداوند متعال اور اس کے رسول نے انھیں تمام لوگوں سے افضل و برتر جاناہے اور ان کی فضیلت و برتری کے لئے ہمارے پاس قرآن اور احادیث سے عقلی اور نقلی دونوں دلیلیں موجود ہیں اور ان دلیلوں میں کسی طرح کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہ دلیلیں صرف ہمارے لحاظ سے متواتر نہیں ہیں بلکہ اہل سنت حضرات کی کتابوں میں بھی تواتر کی حیثیت رکھتی ہیں۔[19]
اس سلسلے میں ہمارے علماء نے بہت ساری کتابیں لکھی ہیں کیونکہ بنی امیہ کی حکومت کے زمانہ میں مولائے کائنات کی خلافت کو نابود کرنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے پر سارے حکمراں تلے ہوئے تھے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ مسلمان منبر سے آپ پر لعن وطعن کرتے تھے اور معاویہ ان مسلمانوں کی اپنی طاقت کے بل بوتے پر اس کے لئے ترغیب کرتا تھا۔
اسی لئے شیعہ اور علی علیہ السلام کے تمام پیرو کار اذان و اقامت میں گواہی دیتے ہیں کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ولی ٴخدا ہیں اور یہ چیز مناسب نہیں ہے کہ کوئی مسلمان ولی خدا پر لعنت بھیجے۔در اصل شیعوں کی یہ روش اس زمانے کے حکام سے ایک طرح کا اعلان جنگ تھا تاکہ خدا اس کے رسول اور مومنوں کی عزت کو قائم و دائم رکھے اور یہ تاریخی حوصلہ مسلمانوں کی آنے والی نسلوں میں باقی رہے اور حضرت علی علیہ السلام کی حقانیت اور ان کے دشمنوں کی سازشوں سے پوری طرح آگاہ رہیں۔اسی وجہ سے ہمارے فقہاء نے اس روش کو باقی رکھا کہ ولایت علی علیہ السلام کی گواہی اذان واقامت کے دوران مستحب جانا نہ کہ اسے اذان و اقامت کا جزء قرار دیا ہے۔
اب اس وجہ سے اگر کوئی شخص ولایت علی علیہ السلام کی گواہی اذان اور اقامت کا جزء (واجب)سمجھ کر دے تو اس کی اذان واقامت باطل ہے۔[20]
۶۶۔آیت اللہ العظمیٰ آقائی خوئی طاب ثراہ سے گفتگو
ڈاکٹر تیجانی سماوی کہتے ہیں:
جب میں سنی تھا اور نیا نیا نجف اشرف میں وارد ہوا تو اپنے دوست کے ذریعہ آیت اللہ العظمیٰ آقائے خوئی کی خدمت میں جانے کا شرف حاصل ہوا میرے دوست نے آقائے خوئی کے کانوںمیں کچھ کہا اور مجھ سے اشارہ کیا کہ آپ کے قریب آکر بیٹھ جاوٴں،میں جا کربیٹھ گیا تو میرے دوست نے اس بات پر بہت اصرار کیا کہ میں تیونس کے شیعوں کے متعلق اپنا اور وہاں کے لوگوں کا نظریہ بیان کروں۔میں نے کہا:
”شیعہ ہمارے یہاں یہود ونصاریٰ سے بھی بدتر ہیں کیونکہ یہود ونصاریٰ خداوند متعال کی عبادت کرتے ہیں اور موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام سے عقیدت رکھتے ہیں لیکن جو میں شیعوں کے بارے میں جانتا ہوں وہ یہ کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کی پرستش کرتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں اور انھیں پاک وپاکیزہ اور مقدس قرار دیتے ہیں۔ان کے درمیان ایک اور گروہ بھی ہے جو خداوند متعال کی عبادت کرتا ہے لیکن علی علیہ السلام کو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی منزلت ومقام سے بہت ہی ارفع واعلیٰ سمجھتا ہے اور یہاں تک کہتا ہے کہ پہلے یہ طے تھا کہ جبرئیل علیہ السلام قرآن کریم کو حضرت علی علیہ السلام کے پاس لے آئیں لیکن انھوں نے خیانت کی اور پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے پاس لے کر چلے گئے “!!
آقائے خوئی نے تھوڑی دیر اپناسر جھکائے رکھا اس کے بعد فرمایا:
”میں گواہی دیتا ہوں کہ خداوند متعال کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی الله علیه و آله وسلم اس کے رسول ہیں: ”اللھم صل علی محمد آل محمد “ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی علیہ السلام خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ ہیں۔
اس کے بعد انھوں نے بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف نظر کی اور میری طر ف اشارہ کر کے کہا: ”اس بے چارے کو دیکھو کس طرح فریب اور چھوٹی تہمتوں کا شکار ہوا ہے یہ عجیب بات نہیں ہے بلکہ میں نے تو اس سے بھی بدتر باتیں دوسرے لوگوں سے سنی ہیں ”لا حول ولا قوة الا باللہ “اس کے بعد میری طرف رخ کر کے فرمایا:
”کیا تم نے قرآن پڑھا ہے ؟“
میں نے کہا: ”ابھی میری عمر کے دس سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ میں نے آدھا قرآن حفظ کر لیا تھا“۔
انھوں نے فرمایا: ”کیا تم یہ جانتے ہو کہ اسلام کے تمام گروہ آپس میں مذہبی اختلاف کو چھوڑ کر قرآن کی حقانیت کے بارے میں اتفاق رکھتے ہیں؟اور جو قرآن ہمارے پاس ہے وہی قر آن تمہارے پاس بھی ہے“۔
میں نے کہا: ”ہاں میں جانتا ہوں“۔
انھوں نے کہا-: ”کیا تم نے اس آیت کو پڑھا ہے“۔
”وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ“ [21]
”اور محمد (ص) تو صرف ایک رسول ہیں، جن سے پہلے بہت رسول گزر چکے ہیں“۔
اور خدا وند عالم فرماتا ہے:
” مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِینَ مَعَہُ اٴَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّار“[22]
” محمد(ص) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے لئے سخت ترین ہیں“۔
پھر یہ بھی ملتا ہے۔
” مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اٴَبَا اٴَحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلَکِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ“[23]
” محمد (ص) تمہارے مردوں میں سے کسی ایک کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور سلسلہ انبیاء کے خاتم ہیں“۔
کیا تم نے ان آیتوں کا مطالعہ کیا ہے ؟
میں نے کہا: ”ہاں میں ان آیتوں سے واقف ہوں“۔
انھوں نے فرمایا: ”ان آیتوں میں حضرت علی علیہ السلام کہاں ہیں ؟تم دیکھتے ہو کہ یہ باتیں رسول اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے لئے ہیں نہ کہ حضرت علی علیہ السلام کے لئے اور ہم اور تم دونوں گروہ کے لوگ قرآن کومانتے ہیں۔تم کس طرح ہم لوگوں پر تہمت لگاتے ہو کہ ہم پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم سے حضرت علی علیہ السلام کو افضل وبرتر سمجھتے ہیں؟“۔
یہ سن کر میں نے سکوت اختیار کیا اور کوئی جواب نہیں دیا
اس کے بعد انھوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ”جبرئیل کی خیانت کے بارے میں تم لوگ جو تہمت لگاتے ہوئے کہ ہم شیعہ کہتے ہیں کہ جبرئیل نے خیانت کی ہے یہ تہمت پہلے والی تہمت سے بھی زیادہ سخت ہے۔کیا ایسا نہیں ہے کہ جب جبرئیل علیہ السلام پیغمبر اسلام پر (آغاز بعثت میں) نازل ہوئے تو علی علیہ السلام دس سال سے بھی کم عمر تھے تو کس طرح جناب جبرئیل نے غلطی کی اور محمد (ص)،اور حضرت علی علیہ السلام کے درمیان فرق نہ کو سمجھ پائے ؟“
تھوڑی دیر خاموش رہ کر میں نے ان کی باتوں پر غور کیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ تمام باتیں سچ ہیں۔
انھوں نے فرمایا: ”ضمناً یہ بھی کہہ دوں کہ اسلام کے تمام گروہوں میں صرف شیعوں کا الگ گروہ ہے جو پیغمبر(ص) اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی عصمت کا معتقد ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہمارا ہی عقیدہ ہے کہ جبرئیل علیہ السلام ہر طرح کی غلطی اور شبہ سے محفوظ ہیں“۔
میں نے کہا: ”یہ سب جو مشہور ہے وہ کیا ہے ؟“
انھوں نے فرمایا: ”یہ سب تہمت اور غلط افواہیں ہیں جو مسلمانوں کے درمیان جدائی پیدا کرنے کے لئے گڑھ لی گئی ہیں ،تم تو الحمد للہ ایک عاقل انسان ہو اور ان مسائل کو اچھی طرح سے سمجھتے ہو، اب تمہیں چاہئے کہ شیعوں اور ان کے علمی اداروںکو قریب سے دیکھو اور غور و فکر کرو کہ کیا اس طرح کی چیزیں ان کے درمیان پائی جاتی ہیں“۔
میں جب تک نجف اشرف میں رہا شیعوں کے سلسلہ میں جتنی بھی نامناسب سن رکھی تھیں ان سب کے بارے میں تحقیق کرتا رہا۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اہل سنت حضرات نما ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو ایک ہی وقت میں انجام دینا باطل سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر نماز کو جداگانہ اس کے وقت میں پڑھنا چاہئے اور جس طرح نماز ظہر وعصر کے درمیان فاصلہ رکھا جاتا اسی طرح مغرب وعشاء کے درمیان بھی فاصلہ رکھنا چاہئے۔
ڈاکٹر تیجانی سماوی کہتے ہیں کہ جب میں سنی تھا تو اس بنیاد پر نماز ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو ایک وقت میں انجام دینا باطل سمجھتا تھا لیکن جب میں نجف اشرف میں وارد ہوا اوراپنے دوست کی رہنمائی میں حضرت آیت اللہ صدر کی خدمت میں پہنچا تو ظہر کا وقت ہو گیا جب آپ مسجد کی طرف روانہ ہوئے تو ساتھ ساتھ میں اور ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تمام افراد مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر نماز میں مشغول ہوگئے۔
میں نے دیکھا کہ آیت اللہ باقر الصدر نے نماز ظہر کے چند منٹ بعد نماز عصر بھی بھی پڑھ لی اور میں اس وقت ایسی میں حالت اور ایسی جگہ پر تھا کہ صف سے باہر نہیں نکل سکتا تھا ، یہ پہلا موقع تھا جب میں نے نماز ظہر وعصر ایک ہی قت میں پڑھی لہٰذا میں بڑے شش وپنج میں مبتلا تھا کہ آیا میری نماز عصر صحیح ہے یا نہیں؟
اس دن میں شہید صدر کا مہمان تھا مجھے جیسے ہی موقع ہاتھ آیا میں نے ان سے پوچھ لیا:
”کیا یہ صحیح ہے کہ مسلمان دو نمازوں کو بغیرضرورت کے وقت ایک ساتھ انجام دیں ؟“
شہید صدر: ”ہاں دو فریضوں کو یکے بعد دیگرے انجام دینا جائز ہے خواہ ضرورت کے وقت ہویانہ“۔
میں نے پوچھا: ”اس فتوے پر آپ کی دلیل کیا ہے ؟“
شہید صدر: ”چونکہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلمنے مدینہ میں بغیر کسی ضرورت کے خواہ وہ سفر ہویا خوف یا بارش ہو رہی ہو نماز ظہر وعصر اور اسی طرح مغرب وعشاء کو یکے بعد دیگرے انجام دی ہے اور آپ کا یہ عمل اس لئے تھا تاکہ ہم سے مشقت کم ہو جائے اور اسی طرح یہ عمل ہمارے عقیدہ کے مطابق ہمارے ائمہ علیہم السلام سے بھی ثابت ہے۔
اور ہم لوگوں کی طرح تم اہل سنت حضرات کے نزدیک بھی روایت سے یہ چیز ثابت ہے، مجھے تعجب ہواکہ کس طرح ہمارے نزدیک ثابت ہے کیونکہ آج تک نہ میں نے کہیں سنا تھا اور نہ کسی اہل سنت کو دیکھا تھا کہ کسی نے اس طرح انجام دیا ہو بلکہ وہ لوگ اس کے بر خلاف کہتے ہیں کہ اگر نماز اذان سے ایک منٹ بھی پہلے واقع ہو جائے تو نماز باطل ہے چہ جائیکہ کوئی شخص نماز عصر کو ایک گھنٹہ پہلے نماز ظہرکے فوراً بعد یا نماز عشاء کو نما مغرب کے بعد فوراً پڑھے ان چیزوں سے ابھی تک میں بالکل ناآشنا تھا اور میرے نزدیک یہ چیزیں باطل بھی تھیں۔
آیت اللہ صدر نے میرے چہرہ سے معلوم کرلیا کہ میں اس بات پر تعجب کر رہاہوں کہ ظہر کے بعد عصر اور مغرب کے بعد عشاء بغیر کسی فاصلہ کے کیسے پڑھنا صحیح ہے؟اسی وقت انھوں نے اپنے ایک طالب علم کی طرف اشارہ کیا اور اس نے اپنی جگہ سے اٹھ کر ایک کتاب کی دو جلدیں میرے پاس لاکر رکھ دیں میں نے دیکھا اس میں ایک صحیح مسلم ہے اور دوسری صحیح بخاری تھی۔
آیت اللہ صدر نے اس طالب علم سے کہا کہ مجھے وہ حدیث دکھادےں جس میں دونوں فریضوں کو ایک وقت میں پڑھنے کا ذکر کیا گیا ہے میں نے ان دونوں کتابوں میںپڑھا کہ رسول اکرم نے نمازظہر وعصر اور مغرب وعشاء خوف بارش اور بغیر کسی ضرورت کے ایک ساتھ پڑھاہے اور کتاب صحیح مسلم میں مجھے اس سلسلہ میں پورا ایک باب ملا۔یہ دیکھ کر میں کافی حیران و پریشان ہو ا اور سوچ رہا تھا کہ خدایا اس وقت میں کیا کروں اسی وقت میرے دل میں ایک شک پیدا ہوا کہ شاید یہ دوکتابیں (صحیح مسلم اور صحیح بخاری )جو میں نے یہاں دیکھی ہیں تحریف شدہ ہوں یا نقلی ہوں اور دل ہی دل میں کہنے لگا کہ جب میں اپنے وطن تیونس واپس جاوٴں گا تو ان دونوں کتابوں کا بغور مطالعہ کر کے اس موضوع پر تفصیلی طور پر تحقیق کروں گا۔
اسی وقت شہید صدر نے مجھ سے پوچھا: ”اب ان دلیلوں کے بعد تمہاری کیا رائے ہے؟“
میں نے کہا: ”آپ حق پر ہیں اور حق کہنے والے ہیں“۔
اس کے بعد میں نے آیت اللہ کا شکریہ اداکیا لیکن میرا دل مطمئن نہیں ہو اتھا یہاں تک کہ جب میں اپنے وطن واپس پہنچا تو صحیح مسلم اور صحیح بخاری کو لے کر پڑھا اور تفصیلی طور پر تحقیق کی تو اچھی طرح قانع ہو گیا کہ نماز ظہر وعصر اور اسی طرح مغرب وعشاء ملاکر پڑھنا بغیر کسی ضرورت کے اشکال نہیں ہے کیونکہ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلمنے اس کام کو انجام دیا ہے۔میں نے دیکھا کہ امام مسلم اپنی کتاب”سفر“کے علاوہ ”دونمازوں کے اجتماع“[24]کے باب میں ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم نے نمازظہر وعصر اور مغرب وعشاء ایک ساتھ پڑھی تھی۔اسی طرح انھوں نے یہ بھی نقل کیاہے کہ آنحضرت نے مدینہ میں نماز ظہر عصر اور مغرب وعشاء کو بغیر خوف یا بارش کے ایک ساتھ پڑھی ہے۔ابن عباس سے سوال کیا گیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کیوں ایسا کیا تو ابن عباس نے جواب میں کہا:
”کی لایحرج امتہ“[25]
تاکہ امت کو دشواری نہ ہو“۔
اور کتاب صحیح بخاری میں بھی(ج۱ ص ۱۴۰) باب ”وقت مغرب“میں میں نے دیکھا اور پڑھا کہ ابن عباس نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سات رکعت نماز(نماز مغرب وعشاء)ایک ساتھ پڑھی اور آٹھ رکعت( ظہر وعصر)نما ز ایک ساتھ پڑھی اور اسی طرح کتاب ”مسند احمد“[26]میں دیکھا کہ اس موضوع پر روایت ہے اسی طرح کتاب”الموطا“[27]میں میںنے دیکھا کہ ابن عباس روایت کرتے ہیں:
”صلی رسول اللہ الظہر والعصر جمیعا والمغرب والعشاء جمیعا فی غیر خوف ولاسفر “
”رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے بغیر کسی خوف وسفر کے نماز ظہر وعصر اور مغرب وعشاء ایک ساتھ پڑھی“۔
نتیجہ یہ ہے کہ جب یہ مسئلہ اس طرح واضح اور روشن ہے تو اہل سنت کیوں تعصب اور بغض کی وجہ سے اسی موضوع کو لے کرشیعہ پر بڑے بڑے اعتراض کرتے ہیں؟
اس چیز سے غافل کہ خود ان کی کتاب میں اس چیز کا جواز ثابت ہے۔[28]
ڈاکٹر تیجانی کہتے ہیں:
”میں نے دونمازوں کو ایک ساتھ جمع کر کے پڑھنے کا واقعہ اہل سنت کی کتاب صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے روایت کے مطابق تیونس میں اپنے بعض دوستوں اور بعض علماء کے درمیان بیان کردیا، چند لوگوں نے اس چیز کے صحیح ہونے کے سلسلہ میں معلومات حاصل کر لی اور اس بات کی خبر جب شہر ”قفصہ“(تیونس کا ایک شہر)کی ایک مسجد کے امام جماعت کے کانوں تک پہنچی تو وہ سخت ناراض ہو ا اور اس نے کہا جو اس طرح کی فکر رکھتے ہیں وہ نہایت بے دین ہیں اور قرآن کے مخالف ہیں کیونکہ قرآن فرما تا ہے:
”الصَّلاَةَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ کِتَابًا مَوْقُوتًا ً“[29]
”بلا شبہ مومنوں پر معین وقت پر نماز فرض کی گئی ہے“۔
ہدایت پانے والوں میں سے میرا یک دوست بھی تھا جس کا علمی معیاربہت ہی بلند و بالا تھا اور وہ بہت ہی ذہین وچالاک بھی تھا۔اس نے بہت ہی غصہ کی حالت میں میرے پاس آکر امام جماعت کے قول کو نقل کیا۔میں نے دو کتاب صحیح مسلم اور صحیح بخاری اسے لا کر دی اور اس سے کہا کہ نماز ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو ایک ساتھ پڑھنے والے باب کا مطالعہ کرو۔مطالعہ کے بعد اس کے نزدیک بھی یہ مسئلہ ثابت ہو گیا۔یہاں تک کہ میرا یہ دوست جو ہر روز اسی امام جماعت کی نما ز میں شرکت کرتا تھا ایک دن نماز جماعت کے بعد اس کے در س میںجاکر بیٹھ گیا اور امام جماعت سے پوچھا: ”نماز ظہر وعصر اور مغرب وعشاء ایک ساتھ پڑھنے کے بارے میں آپ کا خیال ہے ؟“
امام جماعت: ”یہ شیعوں کی ایک بدعت ہے“۔
میرے دوست نے کہا: ”ایسا نہیں ہے بلکہ یہ بات صحیح مسلم اور صحیح بخاری سے بھی ثابت ہے“۔
امام جماعت: ”نہیں ثابت نہیں ہے۔اس طرح کی چیز کا ہونا اس کتاب میں مشکل ہے“۔
میرے دوست نے وہ دونوں کتابیں اس کے حوالہ کر دیں اس نے وہی باب پڑھا۔جب اس کے درس میں شریک ہونے والے دوسرے نماز گزاروں نے اس سے دو نمازوں کوایک ساتھ پڑھنے کے متعلق پوچھا تو اس نے کتابیں بند کر کے مجھے دیتے ہوئے انھیں جواب دیا: ”دونمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا جواز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خصوصیت میں سے ہیں جب تم رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم ہو جانا اس وقت تمہارے لئے بھی یہ جائز ہو جائے گا“!!
میرے دوست نے کہا: ”اس کی بات سے میری سمجھ میں آگیا کہ یہ ایک متعصب جاہل ہے اور اس دن میں نے قسم کھالی کہ آج سے اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا“۔
یہاں ایک حکایت کا نقل کرنا مناسب سمجھتا ہوں ، وہ یہ کہ دو شکاری شکا ر کرنے صحرا کی طرف روانہ ہوئے صحرا میں پہنچ کر دور سے انھوں نے کالے رنگ کی ایک چیز دیکھی تو ان میں سے ایک نے کہا: ”یہ کوا ہے“۔دوسرے نے کہا:نہیں یہ بکری لگ رہی ہے“۔
دونوں میں بحث ہونے لگی اور دونوں اپنی اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔جب دونوں اس کالی چیز کے قریب پہنچے تو اچانک دیکھا کہ کوا تھا جو اڑگیا۔
پہلے نے کہا: ”میں نے کہا تھا نہ کہ کواہے کیا اب تم مطمئن ہوگئے ؟
لیکن دوسرا اپنی بات پر اڑا ہو ا تھا یہ دیکھ کر دوسرے نے کہا:
”کتنے تعجب کی بات ہے ، بکری بھی اڑتی ہے ؟!!
ڈاکٹر تیجانی کہتے ہیں:
”اس کے بعد میں نے اپنے دوست کو بلا کر اس سے کہا: ”اس امام جماعت کے پاس جاوٴ اور اسے صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں وہ روایت دکھاوٴ جہاں یہ نقل ہوا ہے کہ ابن عباس و انس ابن مالک اور دوسرے بہت سے اصحاب نے نماز ظہر ین و مغربین کو ایک ساتھ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی اقتدا میں پڑھی ہے اس طرح کی نماز وں کو ایک ساتھ پڑھنا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے خصائص میں سے ہر گز نہیں ہے کیا ہم رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کو اپنا نمونہ عمل نہیں سمجھتے؟ مگر میرے دوست نے معذرت کرتے ہوئے کہا: ”کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے پاس اگر رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم بھی آکر یہ حکم بتائیں تو بھی وہ قانع نہیں ہوگا۔[30]
ڈاکٹر محمدتیجانی کہتے ہیں:
جب میں مدینہ میں مسجد نبوی کی زیارت سے مشرف ہوا تو وہاں دیکھا کہ ایک خطیب کچھ نمازیوں کے درمیان بیٹھ کر درس دہے رہا ہے میں نے اس کے در س میں شرکت کی وہ چند آیتوں کی تفسیر کر رہا تھا لوگوں کی باتوں سے یہ معلوم ہو گیا کہ یہ مدینہ کا قاضی ہے جب اس کا درس ختم ہوگیا تو وہ اٹھ کر جانے لگا ابھی مسجد سے باہر نکلنا ہی چاہتا تھا کہ میں نے آگے جا کر اسے روکا اور اس سے کہا:
”مہربانی کر کے مجھے یہ بتائیں کہ اس آیت تطہیر میں اہل بیتعلیہ السلام سے مراد کون ہیں؟“
”إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا“[31]
”بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے“۔
قاضی نے بغیر کسی جھجھک کے جواب دیا:
”یہاں اہل بیت سے مراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیویاں ہیں کیونکہ اس سے پہلے والی تمام آیتوں میں ازواج نبی کو خطاب کیا گیا ہے جیسا کہ خدا وند عالم نے فرمایا:
”وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ وَلاَتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْاٴُولَی ۔۔۔“[32]
”۔۔۔ اور تم اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور پہلی جاہلیت جیسا بناؤ سنگار نہ کرو۔۔۔“
میں نے کہا: شیعہ کہتے ہیں کہ یہ آیت علی ، فاطمہ ، حسن وحسین علیہم السلام سے مخصوص ہے میں نے ان سے کہا کہ آیت کی ابتدا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی ازواج سے متعلق ہے یعنی آیت کے شروعات ہی اس جملے سے ہوتی ہے۔
”یا ایھا النبی “
تو ان لوگوں نے جواب میں کہا:
”جو بھی اس آیت کے شروع میں آیا ہے وہ خصوصی طور پر لفظ مونث اور صیغہ کے ساتھ ذکر ہوا ہے جیسے ”لستن، فلا تخضعن، و قرن فی بیوتکن، لا تبرجن، اقمن، آتین، اطعن“ وغیرہ لیکن آیت کے آخری حصے تک پہنچتے پہنچتے اس کا انداز بدل گیا ہے اور اس کی ضمیر میں جمع مذکر کے طور پر ذکر ہوئی ہیں جیسے ”عنکم“ ”لیطھرکم“ وغیرہ“۔
قاضی نے اپنی عینک اوپر اٹھا ئی اور مجھے کوئی استدلالی جواب دینے کے بجائے کہنے لگا:
”خبردار !شیعوں کی زہر آلود فکر جو آیت وقرآن کی تاویل نفسانی خواہشات کی بنا پر کرتے ہیں ان کے چکر میں نہ آنا“۔[33]
یہاں پر ہم اس بحث کی تکمیل کے لئے ”تفسیر المیزان“سے استفادکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان سب کے علاوہ بھی ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں کہ یہ آیت تطہیر جو سورہٴ احزاب کے آخر میں ذکر ہوئی ہے وہ اپنے سے پہلے والی آیات کے ساتھ نازل ہوئی ہے بلکہ روایتوں سے اچھی طرح یہ پتہ چلتا ہے کہ آیت کا یہ حصہ الگ سے نازل ہوا ہے لہٰذا جب رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد قرآن جمع کیا گیا تو اس آیت کوان آیات کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔[34]
اس کے علاوہ اہل سنت حضرات سے متعددروایات اس سلسلہ میں نقل ہوئی ہیں کہ مذکورہ آیت میں اہل بیت سے مراد علی وفاطمہ حسن وحسین علیہم السلام ہیں اور یہاں تک کہ ازواج پیغمبر اکرم جیسے ام سلمہ ،عائشہ وغیرہ سے بھی نقل ہوا ہے کہ آیت تطہیر میں اہل بیت سے مراد علی وفاطمہ حسن حسین علیہم السلام ہیں۔[35]
اہل سنت حضرات جب حضرت علی علیہ السلام کا نام لیتے ہیں تو علیہ السلام کی جگہ ”کرم اللہ وجھہ “ کہتے ہیں۔جب کہ دیگر تمام صحابہ کو”رضی اللہ عنہ“کہتے ہیں کیونکہ خود وہ اس بات کے معتقد ہیں کہ امام علی علیہ السلام نے کوئی گناہ نہیں کیا (جس کی وجہ سے وہ انھیں رضی اللہ عنہ کہیں بلکہ ان کے لئے کرم اللہ وجھہ کہنا چاہئے کہ خداوندمتعال ان کے مرتبہ کو بلند قرار دے)
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ علی علیہ السلام کے نام کے ساتھ وہ لوگ علیہ السلام کیوں نہیں کہتے ؟
اسی سوال کے جواب کے سلسلہ میں آنے والے مناظرہ کی طرف توجہ فرمائیں۔
ڈاکٹر تیجانی سماوی جو پہلے اہل سنت سے تعلق رکھتے تھے، قاہرہ سے عراق کے سفر میں کشتی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں ان کو ایک عالم دین ”استاد منعم“ سے دوستی ہوگئی، جو یونیورسٹی کے استاد اور عراقی شیعہ عالم دین تھے، چنانچہ ان دونوں کے درمیان گفتگو ہوئی ، اور اس کے بعد بھی عراق میں ان دونوں کے درمیان بہت سی گفتگو اور مناظرے ہوئے ہیں جن میں سے ایک مناظرہ آپ حضرات کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے ، جو بغداد میں استاد منعم کے مکان پر ہوا تھا، ملاحظہ فرمائیں:
ڈاکٹر تیجانی: ”تم شیعہ حضرات ، علی علیہ السلام کے مقام کو اس حد تک بڑھا دیتے ہو کہ انھیں پیغمبروں کی صفت میں لا کر کھڑا کر دیتے ہو کیونکہ تم لوگ ان کے نام کے بعد کرم اللہ وجھہ کہنے کے بجائے علیہ السلام یا علیہ الصلوة والسلام کہتے ہو جب کہ صلوات وسلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مخصوص ہے جیسا کہ ہم قرآن میں پڑھتے ہیں۔
” إِنَّ اللهَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیمًا “[36]
” بے شک اللہ اور اس کے ملائکہ رسول پر صلوات بھیجتے ہیں ، اے صاحبان ایمان ان پر صلوات بھیجتے رہو اور ان کے سامنے تسلیم رہو“۔
استاد منعم: ”ہاں تم نے سچ کہا: ”ہم جب بھی حضرت علی علیہ السلام یا ان کے علاوہ دیگر ائمہ کے نام لیتے ہیں تو علیہ السلام کہتے ہیں لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ ہم انھیں پیغمبر یا ان کے رتبہ کے برابر جانتے ہیں“۔
ڈاکٹر تیجانی: ”تو پھر کس دلیل سے ان پر سلام وصلوات بھیجتے ہو“۔
استاد منعم: ”اسی آیت کی دلیل سے کہا جاتا ہے ” إِنَّ اللهَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا ۔۔۔“کیا تم نے اس کی تفسیر پڑھی ہے ؟شیعہ اور سنی دونوں متفقہ طور پر یہ نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو چند صحابیوں نے آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم سے پوچھا:
”یا رسول اللہ ! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم جانتے ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں معلو م کہ آپ پر صلوات کس طرح بھیجی جائے گی؟“
رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو:
”اللھم صلی علی محمد وآل محمد کما صلیت علی ابراہیم وآل ابراہیم فی العالمین انک حمید مجید“۔[37]
”خدایا محمد وآل محمد پر اسی طرح درود ورحمت نازل فرما جس طرح تونے ابراہیم اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائی ہے بلاشبہ تو قابل حمد اور بزرگ ہے“۔
اور یہ بھی فرمایا:
”لا تصلوا علي الصلاةُ البتراء(مجھ پر دم بریدہ صلوات نہ بھیجو)“
اصحاب نے آپ سے اس کا مطلب دریافت کیا توآپ نے فرمایا:
صرف ”اللھم صل علی محمد “ کہنا ناقص صلوات ہے بلکہ تمہیں اس طرح کہنا چاہئے: ”اللھم صل علی محمد وآل محمد“یہ پوری صلوات ہے۔[38]
اس کے علاوہ متعدد روایتوں میں آیا ہے کہ پوری صلوات پڑھو اور آخر کے جملہ میں آل محمد حذف نہ کرو یہاں تک نماز کے تشہد میں تمام فقہاء نے اہل بیت علیہم السلام پر صلوات بھیجنے کو واجب قرار دیا ہے اور اہل سنت کے فقہاء میں امام شافعی نے واجبی نمازوں کے دوسرے تشہد میں اسے واجب جانا ہے۔[39]
اسی بنیاد پر شافعی اپنے مشہورو معروف شعر میں ا س طرح کہتے ہیں:
یا اہل بیت رسول اللہ حبکم
فرض من اللہ فی القرآن انزلہ
کفاکم من عظیم القدر انکم
من لم یصل علیکم لا صلوة لہ
”اے اہل بیت رسول ! تمہاری محبت اللہ کی طرف سے نازل کردہ قرآن میں فرض قرار دی گئی ہے تمہاری عظیم منزلت کے لئے بس یہی کافی ہے کہ جس نے تم پر صلوات نہ بھیجی اس کی نماز ہی نہ ہوگی“۔[40]
ٖٓڈاکٹر تیجانی یہ سب سن کر بہت متاثر ہوئے کیونکہ استاد منعم کی یہ باتیں ان کے دلنشین ہو رہی تھیں، انھوں نے کہا:
”میں قبول کرتاہوں کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم پر صلوات بھیجتے وقت ان کی آل کو بھی شامل کرنا چاہئے ، چنانچہ جب ہم جب ان پر صلوات بھیجتے ہیں تو ان کے آل کے علاوہ اصحاب وازواج کو بھی شامل کرلیتے ہیں مگر یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ جب علی علیہ السلام کا ذکر ہوتو ان کے نام کے ساتھ صلوات بھیجی جائے یا ”علیہ السلام“ کہا جائے“۔[41]
استاد منعم: ”کیا تمہارے نزدیک کتاب صحیح بخاری معتبر ہے ؟“
ڈاکٹر تیجانی: ”ہاں یہ کتاب تو اہل سنت کے اماموں میں سے ایک بلند پایہ کے امام ”امام بخاری“ کی تالیف کردہ ہے جو ہمارے نزدیک قرآن کے درجہ رکھتی ہے“۔
اس وقت استاد منعم نے اپنے کتاب خانہ سے صحیح بخاری کا ایک نسخہ لا کر مجھے پڑھنے کے لئے دیا میں نے جب ان کے نکالے ہوئے صفحہ کو پڑھا تو مجھے اس پر یہ عبارت نظر آئی:
”فلاں نے فلاں سے روایت کی اور اس نے علی علیہ السلام سے روایت کی ہے ”میں نےیہاں تک کہ اس بات کا اعتراف اہل سنت کے ان علماء نے بھی کہا ہے جبکہ وہ نئے اعتراض گڑھنے کے عادی ہیں ، مخصوصاً اس طرح کے اعتراضات میں مشہور سنی عالم دین ”ابن روزبہان“ جیسے لوگ بھی یہ قبول کرتے ہیں کہ یہاں پر”آل یاسین“سے مراد آل محمد ہیں۔
مزے کی بات تو یہ ہے کہ اسی سورہٴ صافات میں جناب نوح (آیت ۷۹)جناب ابراہیم (آیت ۱۰۹)جناب موسیٰ وہارون(۱۲۰)اور دوسرے مرسلین پر سلام بھیجا گیا ہے(آیت ۱۸۱) اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آل محمد انبیاء کے زمرہ میں آتے ہیں اور مذکورہ آیت آل محمد کی افضل ہونے کی واضح دلیل ہے (دلائل الصدق ،ج۲ ،ص۳۹۸۔)
جب بخاری میں یہ جملہ ”علیہ السلام“ دیکھا تو مجھے بڑا تعجب ہوا مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ صحیح بخاری کا نسخہ ہے میں نے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا اور اس کے بعد بڑے غور سے پڑھا تو بھی وہی عبارت نظر آئی اب میرا شک و شبہ جاتا رہا۔
استاد منعم نے صحیح بخاری کا دوسرا صفحہ کھول کر دکھایا جس پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی کہ ”علی ابن الحسین علیہ السلام “سے روایت ہے۔اس کے بعد مجھے کوئی راستہ نظر نہ آیا اور میں نے ان کی بات کو قبول کر لیا البتہ تعجب سے یہ میں نے ضرور کہا ”سبحان اللہ !لیکن تھوڑ ا شک اب بھی میرے ذہن میں موجود تھا لہٰذا میں نے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ نسخہ” مصر کی پریس ،حلبی اینڈسنس“ سے چھپاہے بہر حال قبول کر لینے کے علاوہ میرے پاس کوئی اور راستہ باقی نہیں بچا تھا۔[42]
ڈاکٹر تیجانی کہتے ہیں:
اپنے وطن تیونس میں،میں نے ایک سنی عالم دین سے ایک مناظرہ میں اس طرح کہا:
”تم حدیث غدیر کو قبول کرتے ہو“؟
تیونسی عالم: ”ہاں میں اس حدیث کو قبول کرتا ہوں یہ صحیح ہے“۔
میں نے خود قرآن کی تفسیرلکھی ہے جس میں سورہٴ مائدہ کی ۶۷ ویں آیت کی تفسیر کے ذیل میں حدیث غدیر کو پیش کیا ہے اس کے بعد اس نے اپنی تفسیر میرے سامنے لا کر رکھ دی اور جہاں اس نے حدیث غدیر کا تذکرہ کیا تھا وہ مجھے دکھایا۔
میں نے اس کتاب میں دیکھا حدیث غدیر کے باب میں اس طرح عبارت درج ہے:
”شیعہ حضرات اس بات کے معتقد ہیں حدیث غدیر صریحی طور پر علی کی خلافت بلا فصل پر دلالت کرتی ہے لیکن اہل سنت حضرات کے نزدیک یہ عقیدہ باطل ہے کیونکہ یہ حدیث ابو بکر وعمر وعثمان کی خلافت سے منافات رکھتی ہے اس وجہ سے ہمارے لئے یہ لازم ہو گیا کہ اس روایت کی صراحت سے چشم پوشی کرتے ہوئے اس کی تاویل کریں[43] یعنی ہم یہ کہیں کہ یہاں مولیٰ کے معنی دوست اور یاور ہیں جیسا کہ قرآن میں یہ لفط دوست اور یاور کے معنی میں آیا ہے اور خلفائے راشدین اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عظیم صحابیوں نے بھی لفظ مولا سے یہی مراد لیا ہے اس کے بعد ان کے تابعین اور علمائے مسلمین نے بھی اسی بات کی تائید کی ہے اور اسی صورت کو مقبول بتایا ہے۔اس طرح شیعوں کے اس عقیدہ کا کوئی اعتبار نہیں“۔
ڈاکٹر تیجانی: ”کیا خود واقعہ غدیر تاریخ میں پایا جاتا ہے یا نہیں؟“
تیونسی عالم: ”ہاں کیوں نہیں اگر واقعہ غدیر نہ ہوا ہوتا تو علماء ومحدثین اسے نقل ہی نہ کرتے“۔[44]
ڈاکٹر تیجانی: ”کیا یہ مناسب ہے کہ رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم حج سے واپسی کے وقت غدیر خم کے تپتے ہوئے صحراء میں ہزاروں مرد،عورتوں اور بچوں کے مجمع میں سب کو روک کر ایک طویل خطبہ دیں اور اس کے بعد یہ اعلان کریں کہ علی تمہارے دوست اور مدد گار ہیں کیا تم اس طرح کی تاویل کو پسند کرتے ہو؟“
تیونسی عالم: ”بعض صحابہ کرام نے جنگ کے دوران حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں نقصان اٹھا یا تھا اس میں بہت سے ایسے تھے جن کے دلوں میں ان کی طرف سے کینہ پرورش پا رہا تھا لہٰذا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے میدان غدیر میں یہ اعلان کیا کہ جو علی سے کینہ رکھتے ہیں وہ اپنے کینوں کو دور کریں اور انھیں اپنا دوست اور مددگار سمجھیں؟“[45]
ڈاکٹر تیجانی: ”علی علیہ السلام کی دوستی کا مسئلہ اس بات کا تقاضہ نہیں کرتا کہ پیغمبر اکرم ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کے درمیان تپتے ہوئے صحراء میں روکیں اور نماز جماعت ادا کریں اور ایک طولانی خطبہ دیں اور اس خطبہ کے دوران بعض ایسے مطالب بیان کریں جو علی علیہ السلام کی رہبری اور خلافت کے لئے مناسب ہوں نہ کہ دوستی اور یاوری کے لئے مثلاًاسی خطبے کا ایک ٹکڑا یہ ہے جس میں آنحضرت نے لوگوں کو متوجہ کرتے ہوئے ان سے سوال کیا”الست اولی بکم من انفسکم “کہ میں تمہاری جانوں پر تم سے زیادہ حق نہیں رکھتا ؟“
تمام لوگوں نے اقرار کیا ہاں کیوں نہیں یا رسول اللہ“۔
یہ تمام باتیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ یہاں پر مولا سے مراد رہبر وآقا کے ہیں اور اس سے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت ثابت ہوتی ہے“۔
اسی وجہ سے خود ابوبکر نے بھی لفظ مولی سے امام علی علیہ السلام کی رہبری اور خلافت جانا ہے اور اسی صحرا کی تپتی ہوئی دھوپ میں امام علی علیہ السلام کے پاس آکر انھیں اس طرح مبارک باد پیش کیا۔
”بخ بخ لک یابن ابی طالب اصبحت مولای ومولا کل موٴمن وموٴمنة“
”مبار ک مبارک ہو ؛اے ابو طالب کے بیٹے !اب تم میرے اور تمام مومن اور مومنہ کے مولا ہوگئے “
یہ مبارک باد دینا بہت ہی مشہور حدیث ہے جسے اہل سنت اور اہل تشیع سبھی نے نقل کیا ہے۔[46]
اب تم سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا اگر یہ اعلان صرف دوستی اور یاوری کے لئے ہوتا تو ابو بکر و عمر حضرت علی علیہ السلام کو اسی طرح مبارک باد پیش کرتے ؟اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم اپنے خطبے کے بعد اس طرح اعلان کرتے:
”سلّموا علیہ بامرة الموٴمنین“۔
”اے مسلمانو! علی کوامیر المومنین کہہ کر سلام کرو“۔
اس کے علاوہ یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سورہٴ مائدہ کی ۶۷ ویں آیت کے نزول کے بعد یہ عمل انجام دیا اور آیت میں ہم یہ پڑھتے ہیں:
” یَااٴَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ إِنَّ اللهَ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ“ [47]
”اے رسول وہ چیز پہنچا دو جو تمہارے رب کی طرف سے پہلے ہی تم پر نازل کی جا چکی ہے اور اگر تم نے اسے نہ پہنچایا تو گویا تم نے کار رسالت انجام ہی نہیں دیا“۔
کیا حضرت علی علیہ السلام کی دوستی کا مسئلہ اتنا زیادہ اہم ہو گیا تھا کہ اگر اسے لوگوں کےدرمیان بیان نہ کیا جائے تو آنحضرت کی رسالت کو خطرہ لاحق ہوجائے ؟“
تیونسی عالم: ”تو اس بارے میں تم کیا کہو گے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی رحلت کے بعد مسلمانوں نے علی علیہ السلام کی بیعت نہ کرتے ہوئے ابوبکر کی بیعت کر لی، کیا ان کا یہ عمل گناہ تھا ؟کیا انھوں نے رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی نا فرمانی کی؟“
ڈاکٹر تیجانی: ”جب خود اہل تسنن اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ بعض اصحاب نے رسول اکرم کے زمانہ میں خود آپ کی مخالفت کی تو اس بنا پر یہ کوئی ایسی تعجب کی بات نہیں کہ آپ کے بعد اصحاب نے ان کی مخالفت کی۔[48]
جیسے شیعہ اور سنی دونوں طریقوں سے یہ ثابت ہے کہ جب رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم نے ایک نواجوان صحابی (اسامہ بن زید)کو سپہ سالار بنایا تو اکثر مسلمانوں نے آنحضرت کی مخالفت کی جب کہ آنحضرت نے انھیں تھوڑی سی مدت کے لئے بہت تھوڑے سے لشکر کا سردار بنایا تھا تو یہی لوگ حضرت علی علیہ السلام کی رہبری کو کس طرح طرح قبول کر لیتے کیونکہ وہ بھی دوسروں کے مقابلہ میں کم عمر تھے (اس وقت آپ کی عمر ۳۳ سال تھی)اور خود یہ لوگ علی علیہ السلام کو ان کی پوری زندگی تک رہبر کیسے قبول کرلیتے اور تم نے خود ہی پہلے یہ اقرار کیا کہ بعض لوگ علی علیہ السلام سے بغض و عناد رکھتے تھے“۔
تیونسی عالم: ”اگر علی علیہ السلام جانتے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے مجھے اپنا خلیفہ بنایا ہے تو رسول اکرم کے بعد وہ خاموش نہ بیٹھے رہتے بلکہ اپنی بے انتہا شجاعت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی حق کا دفاع کرتے“۔
ڈاکٹر تیجانی: ”یہ تو دوسری بحث ہے جس میں ہم ابھی وارد نہیں ہونا چاہتے جب تم واضح حدیث کی تاویل کرتے ہو تو امام علیہ السلام کے خاموش رہنے پر بحث کرنے میں کس طرح قانع ہو سکتے ہو؟“
تیونسی عالم نے تھوڑا مسکرا تے ہوئے کہا: ”خدا کی قسم میں ان لوگوں میں سے ہوںجو علی علیہ السلام کو دوسروں سے افضل جانتے ہیں اور اگر یہ بات میرے بس میں ہوتی تو میں علی علیہ السلام پر کسی کو مقدم نہ کرتا کیونکہ وہ مدینة العلم اور اسد اللہ الغالب ہیں لیکن خدا نے اسی طرح چاہا کہ بعض کو مقدم اور بعض کو موخر رکھے اس کی مشیت کے بارے میں کیا کہیں“۔
میں نے بھی مسکراتے ہوئے اسے جواب دیا: ”قضاو قدر “کی بحث دوسری ہے جس کے متعلق ابھی ہم بحث نہیں کر رہے ہیں“۔
تیونسی عالم: ”میں اپنے عقیدہ پر باقی رہوں گا اور اسے بدل نہیں سکتا“۔
ڈاکٹر تیجانی کہتے ہیں : وہ اسی طرح ادھر ادھر بھاگتا رہا یہ خود اس کی بے بسی اور عاجزی کی دلیل تھی۔[49]
شاگرد: ”خالد بن نوفل نام کا ایک استاد ، اردن کی ”شریعت یونیورسٹی “میں درس دینے آتا تھا، میں اس کے شاگردوں سے تھا، میں شیعی مسلک کا تابع تھا“۔
چونکہ یہ استاد خود سنی تھا اس لئے اسے جب بھی موقع ملتا شیعوں پر کچھ نہ کچھ الزام تراشی کرتا رہتا تھا، ایک دن میں اس کے پاس بیٹھ گیا اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جانشینوں کے متعلق گفتگو کرنے لگا آپ بھی اس گفتگوکو سنیں اور فیصلہ کریں۔
استاد: ”ہم حدیثوں کی کتابوں میں قطعی طور پر یہ حدیث نہیں پاتے کہ آنحضرت کے بارہ ہی خلیفہ ہوں گے ، لہٰذا یہ حدیث تم شیعوں کی گڑھی ہوئی ہے“۔
شاگرد: ”اتفاق سے اہل سنت کی معتبر کتابوں میں متعدد مقامات پر متعدد سندوں سے یہ حدیث نقل ہوئی ہے مثلاًرسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا:
”الخلفاء بعدی اثنا عشر بعدد نقباء بنی اسرائیل وکلھم من قریش۔“[50]
”میرے بعد بنی اسرائیل کے نقباء کے برابر میرے بارہ خلیفہ ہوں گے اوروہ سب کے سب قریش سے ہوں گے“۔
استاد: ”اگر فرض کر لیا جائے کہ یہ حدیث صحیح بھی ہے تو تمہاری نظر میں ان بارہ سے کون لوگ مراد ہیں؟“
شاگرد: ”اس سلسلے میں سیکڑوں روایات موجود ہیں جن میں ان کے نام اس طرح بتائے گئے ہیں۔
۱۔امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام۔
۲۔حسن بن علی علیہ السلام۔
۳۔ حسین بن علی علیہ السلام۔
۴۔علی بن الحسین علیہ السلام۔
۵۔محمد بن علی الباقر علیہ السلام۔
۶۔جعفر بن محمد علیہ السلام۔
۷۔موسیٰ بن جعفر علیہ السلام۔
۸۔علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام۔
۹۔محمد بن علی الجواد علیہ السلام۔
۱۰۔علی محمد الہادی علیہ السلام
۱۱۔حسن بن علی العسکری علیہ السلام۔
۱۲۔حجة القائم (عجل اللہ فرجہ الشریف)۔
استاد: ”کیا حضرت مہدی علیہ السلام ابھی زندہ ہیں؟“
شاگرد: ”ہاں وہ زندہ ہیں اور کچھ وجوہات کی بنا پر ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں جب اس دنیا میں ان کے ظہور کی راہیں ہموار ہوجائیں گی تو وہ ظہور کریں گے اور پوری دنیا کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیں گے“۔
استاد: ”یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک انسان ایک ہزار سال سے زیادہ زندہ رہے جب کہ ایک انسان کی طبیعی عمر زیادہ سے زیادہ سو سال ہوتی ہے“۔
شاگرد: ”ہم مسلمان ہیں اور قدرت خداوند متعال پر یقین رکھتے ہیں اس میں کیا برائی ہے کہ خداوند متعال کی مشیت سے ایک انسان ایک ہزار سال سے زیادہ زندہ رہے ؟“
استاد: ”قدرت خدااپنی جگہ پر ہے لیکن اس طرح کی چیزیں سنت خدا سے خارج ہیں“۔
شاگرد: ”تم بھی قرآن کو قبول کرتے ہو اور ہم بھی اسے مانتے ہیں قرآن مجید کے سورہٴ عنکبوت آیت ۱۴/ میں خدا وند متعال ارشاد فرماتا ہے:
”وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَی قَوْمِہِ فَلَبِثَ فِیہِمْ اٴَلْفَ سَنَةٍ إِلاَّ خَمْسِینَ عَامًا“۔
”اور بلا شبہ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طر ف بھیجا جہاں وہ پچاس سال چھوڑ کے ایک ہزار سال رہے“۔
اس آیت کے مطابق جناب نوح علیہ السلام طوفان سے پہلے اپنی قوم کے درمیان ساڑھے نو سو سال زندہ رہے اسی طرح اگر خدا چاہے تو دوسرے کو بھی اتنی یا اس سے زیادہ عمر دیدے“۔
رسول خدا نے متعدد مقامات پر حضرت مام مہدی علیہ السلام کا تعارف دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دینے والے کی صورت میں کرایا ہے اس سلسلہ میں سیکڑوں کیا بلکہ ہزاروں حدیثیں ،سنی اور شیعہ دونوں طرف سے نقل ہوئی ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہے۔
مثال کے طور پرحضرت رسول اسلام نے فرمایا ہے:
”المھدی من اہل بیتی یملاالارض قسطا و عدلا کماملئت ظلما و جوراً“۔[51]
مہدی ہم اہل بیت میں سے ہوں گے جو دنیا کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی۔
جب بات یہاں تک پہنچی تو وہ استاد چپ ہو گیا کیونکہ اس شاگرد کی تمام باتیں منطقی اور اہل سنت کے معتبر حوالوں سے مدلل تھیں۔
شاگرد نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ”چلئے ہم اپنی بات کی طرف واپس پلٹتے ہیں آپ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا ہے: ”میرے خلیفہ بارہ ہوں گے اور وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے“۔
آپ نے مجھ سے پوچھا کہ وہ بارہ افراد کون لوگ ہیں میں نے ان کا نام حضرت علی علیہ السلام سے لے کر امام مہدی علیہم السلام تک سنا دیا اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وہ بارہ خلفاء یہ لوگ نہیں ہیں تو پھر ان کے علاوہ کون لوگ ہیں؟“
استاد: ”ان بارہ لوگوں میں چار خلفاء راشدین (ابو بکر،عمر،عثمان، اور حضرت علی علیہ السلام) کا نام لیا جاتا ہے اس کے بعد حسن علیہ السلام، معاویہ ،ابن زبیر و عمر بن عبد العزیز(کہ یہ سب ملا کر آٹھ ہوگئے)اور یہ بھی ممکن ہے کہ مہدی عباسی(بنی عباس کا تیسرا خلیفہ)کو بھی شمار کر لیا جائے اس کے علاوہ ابن طاہر عباسی بھی ان میں شامل ہو سکتا ہے خلاصہ کے طور پر ہماری نظر کے مطابق یہ بارہ آدمی معین نہیں ہیں ان کے متعلق ہمارے علماء کے مختلف اقوال ہیں“۔
شاگرد: ”رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث ثقلین کے متعلق تم لوگوں کا کیا خیال ہے جس میں آنحضرت نے فرمایا ہے:
”انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی اہل بیتی۔۔۔“۔[52]
یہ بات واضح رہے کہ عمر وابوبکر ،معاویہ ،عباسی اور عبد العزیز عترت رسول میں شمار نہیں کئے جا سکتے لہٰذا اس صورت میں ہمارے لئے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارہ خلیفہ کو پہچاننا ممکن نہیں ہوگا جب کہ حدیث ثقلین کے معیار کو سامنے رکھ کر ہم بڑی آسانی سے ان کا پتہ لگا سکتے ہیںذرا سی غور وفکر کے بعد یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ وہ خلفاء وہی ہیں جن کو شیعہ مانتے ہیں کیونکہ یہی عترت اور اہل بیت کے مصداق ہیں“۔
استاد: ”ٹھیک ہے اس کے جواب کے لئے مجھے کچھ موقع درکار ہے کیونکہ اس وقت ان باتوںکا کوئی قانع کنندہ جواب میرے ذہن میں نہیں آرہا ہے“۔
شاگرد: ”بہت خوب اس بات کی امید رکھتا ہوں کہ آپ تحقیق کریں گے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارہ جانشین قیامت تک کون ہیں؟“
کچھ ہی دنوں بعد پھرشاگرد کی استاد سے ملاقات ہوئی مگر ابھی تک وہ استاد اپنے عقیدہ کے اثبات کے لئے کوئی دلیل نہیں ڈھونڈ پایا تھا۔
اسی طرح ایک دوسرے مناظرہ میں جب ایک طالب علم نے اپنے ایک استاد سے سوال کیا کہ آیا آپ اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارہ خلیفہ ہوں گے اور وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے ؟
استاد: ”ہاں ہماری معتبر کتابوں میں اس طرح کی روایتیں موجود ہیں“۔
طالب علم: ”وہ بارہ کون سے لوگ ہیں؟“
استاد: ”وہ ابو بکر ،عمر،عثمان،علی علیہ السلام، معاویہ اور یزید بن معاویہ“۔
طالب علم: ”یزید کو کس طرح خلیفہ رسول سمجھا جا سکتا ہے جب کہ وہ علی الاعلان شراب پیتا تھا اور واقعہ کربلا اسی کی کارستانی ہے اور اسی نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے صحابیوں کو قتل کیا ہے ؟“
اس کے بعد طالب علم نے اس سے کہا: ”بقیہ کا نام بتاوٴ“۔
استاد نے جو اس کے اس سوال سے بے بس ہو چکا تھا موضوع بدل لیا اور کہنے لگا۔تم شیعہ حضرات اصحاب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو برا بھلا کہتے ہو“۔
طالب علم: ”ہم ان کے تمام اصحاب کو بر ابھلا نہیں کہتے، تم یہ کہتے ہو کہ وہ تمام عادل تھے مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے، خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے زمانہ میں ہی سارے منافقوں کے بارے میں آیتیں اتری ہیں اگر ہم یہ کہیں کہ آنحضرت کے زمانے میں سارے اصحاب عادل تھے تو ہمیں قرآن کی بہت سی آیتوں کو رد کرنا پڑے گا جو اس کا ایک عظیم حصہ ہیں“۔
استاد: ”تم گواہی دو کہ ابو بکر عمر اور عثمان سے خوش ہو“۔
طالب علم: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اصحاب میں سے جو بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے راضی تھا میں بھی اس سے راضی ہوں اور جس سے بھی آنحضرت اور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا راضی نہیں تھیں میں بھی اس سے راضی نہیں ہوں“۔
ایک شیعہ عالم کہتے ہیں: ”ہم تقریبا ً پچاس آدمیوں کے ایک گروہ کے ساتھ مدینہ منورہ مسجد النبی میں گئے اور وہاں جا کر آنحضرت کی زیارت پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔
حرم کا منتظم (شیخ عبد اللہ بن صالح )میرے قریب آیا اور اعتراض کے طور پر اس نے کہا: ”رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے مرقد کے قریب اپنی آواز بلند نہ کرو“۔
میں نے اس سے کہا: ”کیا وجہ ہے؟“
منتظم: ”خدا وند متعال قرآن (سورہ حجرات آیت ۲)میں فرماتا ہے:
” یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَرْفَعُوا اٴَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلاَتَجْہَرُوا لَہُ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اٴَنْ تَحْبَطَ اٴَعْمَالُکُمْ وَاٴَنْتُمْ لاَتَشْعُرُونَ“۔
”اے ایمان لانے والو! نبی کی آواز کے اوپر اپنی آواز بلند نہ کرو اور نہ ہی ان کے سامنے چیخوچلاوٴ جس طرح تم ایک دوسرے کے سامنے چیختے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال بیکار نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہونے پائے“۔
میں: ”امام جعفر صادق علیہ السلام “کے اسی جگہ پر چار ہزار شاگرد تھے اور تدریس کے وقت باآواز بلند درس دیتے تھے تاکہ ان کی آواز ان کے شاگردوں تک پہنچ جائے کیا انھوں نے حرام کام کیا؟ابو بکرو عمر اسی مسجد میں بلند آواز سے خطبہ دیا کرتے تھے اور تکبیر کہتے تھے کیاا ن سب لوگوں نے حرام کا م انجام دیا؟اور ابھی ابھی تمہارے خطیب نے بلند آواز سے خطبہ دیا تم لوگ مل کر با آواز بلند تکبیر کہہ رہے تھے کیا یہ لوگ قرآن کے خلاف کر رہے تھے؟ کیونکہ قرآن اس سے منع کرتا ہے ؟
منتظم: ”اچھا تو پھر آیت کاکیا مطلب ہوا؟“
میں: ”اس آیت سے مراد ہے بے فائدہ اور بے جا شور و غل نہ کرو جو آنحضرت کی حرمت و احترام کے خلاف ہو جیسا کہ اس آیت کے شان نزول کے بارے میں روایت ہے:
قبیلہٴ ”بنی تمیم“کے کچھ لوگ مسجد میں داخل ہوئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر کے پیچھے سے چیخ کر کہنے لگے یا محمد باہر نکلو اور ہم سے ملاقات کرو۔ [53]
دوسری بات یہ کہ ہم تو نہایت ہی تواضع و احترام سے زیارت پڑھنے میں مشغول ہیں اور مذکورہ آیت میں غور وفکر کرنے سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ اس آیت میں وہ لوگ شامل ہیں جو رسول اکرم کی اہانت کی غرض سے چیخ کر آواز لگاتے تھے کیونکہ اس آیت میں اعمال کے بیکار ہونے کی بات آئی ہے اور یقینا اس طرح کی سزا کافر یا گناہ کبیرہ انجام دینے والے اور توہین کرنے والے کے لئے ہوگی نہ کہ ہمارے لئے کیونکہ ہم تو نہایت ادب واحترام سے ان کی زیارت پڑھ رہے ہیں اگر چہ ذراسی آواز بلند ہوگئی تو کیا ہوا اس لئے روایت میں آیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ثابت بن قیس (رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خطیب )جن کی آواز بہت ہی موٹی تھی نے کہا کہ اس آیت سے مراد میں ہوں اور میرے نیک اعمال حبط ہو گئے۔جب اس بات کا علم آنحضرت کو ہوا تو آپ نے فرمایا: ”نہیںایسانہیں ہے ثابت بن قیس جنتی ہے“۔(کیونکہ وہ اپنے وظیفہ پر عمل کرتا ہے نہ کہ توہین کرتا ہے)۔[54]
دسویں صدی کے بہت ہی مشہور ومعروف عالم علامہ شیخ حسن بن عبد الصمد عاملی علیہ الرحمة (شیخ بہائی کے پدر بزرگوار)گزرے ہیں۔
موصوف محرم ۹۱۸ھ جبل عامل میں پیدا ہوئے ۸ /ربیع الاول ۹۸۴ھ میں ۶۶/ سال کی عمر میں رحلت فرماگئے وہ زبردست محقق ، تجربہ کار دانشور اور ایک عظیم شاعر تھے موصوف ۹۵۱ھ میں شہر ”حلب“ (سوریہ کا ایک شہر )میں سفر کیا وہاں ان کی ملا قات ایک صاحب علم و دانش اہل سنت عالم کے سے ہوئی اور شیعہ کے مذہب کے بارے میں چند جلسہ اور مناظرے ہوئے سر انجام وہ سنی عالم شیعہ ہو گیا،[55] یہاں پر ہم ان مناظروں کا خلاصہ چار مناظروں میں پیش کرتے ہیں:
حسین بن عبد الصمد کہتے ہیں: جب میں شہر حلب میں وارد ہوا تو وہاں پر ایک حنفی عالم جو بہت سے علوم وفنون میں ماہر تھا اور اس کا شمار محققین میں ہوتا تھا اور وہ دھوکا دھڑی سے پاک تھا۔اس نے مجھے اپنے گھر پر ہی ٹھہرا لیا۔
بات چیت ہوتے ہوتے تقلید کی بات چھڑ گئی اور پھر ہوتے ہوتے یہی موضوع ہمارے مناظرہ کا محور ہوگیا۔
حسین: ”تم لوگوں کے نزدیک کیا قرآن ،احادیث یا سنت میں سے کوئی ایسی دلیل موجود ہے جس کے ذریعہ ثابت ہو سکے کہ ابو حنیفہ کی تقلید اور پیروی ہم پر واجب ہے ؟“
حنفی: ”نہیں اس طرح کی کوئی آیت یا روایت وارد نہیں ہوئی ہے“۔
حسین: ”کیا مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہم ابو حنیفہ کی پیروی کریں ؟“
حنفی عالم: ”نہیں اس طرح کی کوئی آیت یا روایت وارد نہیں ہوئی ہے“۔
حسین: ”تو پھر کس دلیل کی بنا پر تمہارے لئے ابو حنیفہ کی تقلید جائز ہے ؟“
حنفی عالم: ”ابو حنیفہ مجتہد اور میں مقلد ہوں اور مقلد پر واجب ہے کہ وہ کسی ایک مجتہد کی تقلید کرے“۔
حسین: ”جعفر بن محمد علیہ السلام جو امام جعفر صادق علیہ السلام کے نام سے مشہور ہیں ان کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے ؟“
حنفی عالم: ”جعفر بن محمد علیہ السلام کا مقام اجتہاد میں بہت اونچا ہے اور وہ علم و تقویٰ میں سب سے زیادہ بلند تھے ان کی توصیف ممکن نہیں ہمارے بعض علماء نے ان کے جن چارسو شاگردوں کے نام گنا ئے ہیں وہ سب کے سب نہایت پڑھے لگے اور قابل اشخاص تھے انھیں لوگوں میں سے ابو حنیفہ بھی تھے“۔
حسین: ”تم اس بات کا اعتراف کر رہے ہو کہ امام جعفر صادق علیہ السلام مجتہد تھے ،پائے کے عالم دین اور صاحب تقویٰ تھے ہم شیعہ اسی لئے ان کی تقلید کرتے ہیں ان باتوں کے باوجود تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہم گمراہ ہیں اور تم ہدایت کی راہوں پر گامزن ہو؟
جب ہمارا عقیدہ یہ بھی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام معصوم تھے اور غلطی نہیں کر سکتے ، ان کا حکم خدا کا حکم ہوتا ہے اور اس بارے میں ہم بہت سے دلائل متفقہ بھی رکھتے ہیں وہ ابو حنیفہ کی طرح قیاس اور استحسان کی بنیاد پر فتویٰ نہیں دیتے تھے، ابو حنیفہ کے فتوے میں غلطی کا امکان موجود ہوتا ہے لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام کے فتوی میں ایسا کوئی امکان نہیں پایا جاتا تھا،بہر حال امام جعفر صادق علیہ السلام کی عصمت کے متعلق بحث چھوڑتے ہوئے اس وقت میں صرف آپ کی ایک بات پر کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے خود کہا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام مجتہد تھے لیکن ہمارے پاس ایسے دلائل موجو دہیں جن کے ذریعے ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ مجتہد صرف امام جعفر صادق علیہ السلام تھے“۔
حنفی عالم: ”اس انحصار کے لئے تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ مجتہد صرف امام جعفر صادق علیہ السلام تھے۔
حسین: ہماری چند دلیلیں ہیں:
۱۔ ہماری پہلی دلیل یہ ہے کہ اس بات کا تو آپ نے بھی اعتراف کیا ہے اور آپ کے علاوہ اسلام کے چاروں مشہور فرقے یہ بات قبول کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام علم و تقویٰ اور عدالت میں تمام لوگوں سے افضل و برتر تھے میں نے اس بات میں کسی کو اعتراض کرتے ہوئے نہیں سنا،تمام اسلامی ادیان کی احادیث وروایات کی کتابوں میں کوئی کہیں یہ نہیں دکھا سکتا کہ کسی نے امام علیہ السلام کے کسی عمل پر اعتراض کیا ہو جب کہ وہ لوگ شیعوں کے حد درجہ دشمن تھے اور حکومت وقت ہمیشہ ان کے ہاتھوں میں رہنے کے باوجود کسی دشمن نے بھی آپ کی طرف کوئی ایسی بات منسو ب نہیں کی[56]یہ ایک ایسا امتیاز ہے جو ان کے علاوہ کسی اور مسلک کے امام میں موجود نہیں ہے۔
لہٰذا بغیر کسی تردید کے تقلید اس کی واجب ہو گی جو علم و فضل و تقویٰ اور عدالت میں سے افضل و برتر ہو، اور محققین اس بات پر اجماع رکھتے ہیں کہ اچھے اور مدلل فتووں کی موجودگی میں کمزور اور غیر مستند فتاوی پر عمل کرنا جائز نہیںہے۔
اس بنا پر یہ کیونکر جائزہوسکتا ہے کہ اس شخص کی تقلید ترک کریں جس کی سبھی اسلامی علماء افضلیت کا اقرار کرتے ہیں، اور ایسے شخص کی تقلید کریں جس کے یہاں شک و تردید پایا جاتا ہو!،اور چونکہ مسئلہ تقلید میں شک و تردید کا نہ ہونا عدالت سے بھی زیادہ اہم ہے، چنانچہ یہ بحث اپنے مقام پر کی گئی ہے۔
علمائے حدیث میں سے تمہارے ایک امام ”امام غزالی“ ہیں جنھوں نے ابو حنیفہ پر تنقید کرتے ہوئے ”المنخول“ نامی کتاب لکھی ہے، اسی طرح شافعی کے بعض شاگردں نے بھی ”النکت الشریفہ فی الردّ علی ابی حنیفہ“ نامی کتاب لکھی ہے۔
اس بنا پر اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ تقلید اسی شخص کی جائز ہے جس کے علم و تقویٰ اور عدالت پر سبھی کا اتفاق ہو، اور تمام اہل تحقیق کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب راجح (افضل) فتویٰ موجود ہے تو پھر مرجوح (غیر افضل) فتویٰ پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔
۲۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ امام جعفرصاد ق علیہ السلام ہم شیعوں کے عقیدہ کے مطابق اہل بیت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک فرد سے ہیں جس کی آیہٴ تطہیر نے صراحت کی ہے اور اس بنا پر وہ ہر طرح کی نجاست اور پلیدی سے پاک ہیں جیسا کہ لغوی علامہ ابن فارس صاحب کتاب ”معجم مقاییس اللغة“نے خود اپنی کتاب ”مجمل اللغة“میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اہل بیت میں شامل ہیں جب کہ ابن فارس اہل تسنن کے مشہورو معروف عالم دین ہیں اور یہ وہی مقام طہارت ہے جس کے لئے امام جعفر صادق علیہ السلام کے متعلق شیعوں کا اعتقاد ہے لیکن ابو حنیفہ کے بارے میں اجماع ہے کہ وہ اہل بیت علیہم السلام میں سے نہیں ہے لہٰذا قرآن کے مطابق ہمیں ایسے افراد کی تقلید کرنا چاہئے جو تمام خطا اور نجاست سے پاک اور منزہ ہوں تاکہ مقلدین یقین کی منزل تک پہنچیں اور نجات یافتہ ہوں۔
حنفی عالم: ”ہم اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اہل بیت رسول میں ہیں بلکہ ہمارے لحاظ سے آیہ تطہیر صرف پانچ افراد(پنجتن) ہی کو شامل کرتی ہے“۔
حسین: ”بالفرض اگر ہم قبول بھی کرلیںکہ امام جعفر صادق علیہ السلام ان پانچ میں سے نہیں ہیں لیکن پھر بھی ان کا حکم اور ان کی پیروی تین دلیلوں سے انھیں پانچ افراد کی مانند ہوگی“۔
۱۔جو شخص بھی پنجتن کی عصمت کا معتقد ہے وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی عصمت کو بھی قبول کر تا ہے اور جو بھی پنجتن کی عصمت کا قائل نہیں ہے وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی عصمت کا بھی قائل نہیں ہے۔پنجتن کا معصوم ہونا قرآن کی آیہٴ تطہیر سے ثابت ہے بس اسی وجہ سے امام جعفر صادق علیہ السلام کی بھی عصمت ثابت ہوتی ہے کیونکہ علمائے اسلام اس بات پر اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ امام جعفرصاد ق علیہ السلام کی عصمت میں کوئی فرق نہیں ہے اور امام جعفرصادق علیہ السلام کی عصمت کا قائل نہ ہو کر پنجتن کی عصمت کا قائل ہونا یہ اجماع مسلمین کے خلاف ہے۔
۲۔راویوں اور مورخین کے نزدیک یہ بات مشہور ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اور ان کے آبائے اجداد نے تحصیل علم کے لئے کسی کے سامنے زانوئے ادب تہہ نہیں کیا اور یہ بھی کہیں پر نقل نہیں ہوا کہ ان لوگوں نے علماء اور مصنفین کے دروس میں شرکت کی ہو بلکہ تمام لوگوں نے یہ نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد (امام محمد باقر علیہ السلام)سے اور امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے والد اور انھوں نے اپنے والد امام حسین علیہ السلام سے علم حاصل کیا اور اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ امام حسین علیہ السلام اہل بیت نبی میں سے ہیں۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ائمہ معصومین علیہم السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی باتیں اور اقوال اجتہاد کا نتیجہ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی ان کے پاس سوال کرنے گیا تو وہ جواب لے کر واپس آتا تھا، اور جواب دینے میں کسی چیز کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، اس سلسلہ میں خود آپ نے تصریح کرتے ہوئے فرمایاہے: ہم لوگوں کی تمام باتوں کا منبع ہمارے بزرگ آباء واجداد ہیں اور ہمارے پاس جو بھی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا قول ہے اور یہ بات صحیح طریقہ سے ثابت ہے۔
پس نتیجہ یہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے اقوال وہی ہیں جو اقوال ان ذوات مقدسہ کے ہیں جن کے لئے آیہ تطہیر نے پاک وپاکیزہ ہونے کی ضمانت لی ہے۔
۳۔تمہاری صحیح روایتوں میں متعدد طریقوں سے حدیث ثقلین نقل ہوئی ہے جس میں آنحضرت نے فرمایا ہے:
”انی تارک فیکم ما ان تمسکتم بہما لن تضلوا بعدی الثقلین کتاب الله و عترتی ، اہل بتی ۔۔۔“[57]
”میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزوں کو چھوڑے جارہا ہوں اور جب تک تم ان دونوں سے وابستہ رہو گے کبھی میرے بعد گمراہ نہ ہوگے، ایک کتاب خدا اور دوسرے میری عترت میرے اہل بیت“
یہ حدیث واضح طور پر یہ بیان کر رہی ہے کہ قرآن و عترت سے تمسک موجب ہدایت ہوتا ہے اور تمام اسلامی فرقوں میں صرف مذہب شیعہ ہی ایسا فرقہ ہے جس نے ان دونوں سے تمسک اختیار کیا کیونکہ شیعوں کے علاوہ دوسرے لوگوں نے دوسرے لوگوں سے تمسک اختیار کیا۔
حدیث ثقلین میں یہ نہیں آیا ہے کہ ہم نے تمہارے درمیان قرآن اور ابو حنیفہ یا قرآن اور شافعی کو چھوڑا ہے ، پس ممکن ہے کہ عترت رسول کے علاوہ دوسرے لوگوں سے تمسک کیا جائے
اس سے پہلے والے مناظرہ میں جب امام جعفر صادق علیہ السلام کی برتری کی بات آئی تو حنفی عالم نے کہا:
یہ بات صحیح ہے اور اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ امام جعفر صاق علیہ السلام اور ان کے آباء واجداد سب کے سب بہت ہی پڑھے لکھے اور مجتہد تھے ان کا علم دوسرے لوگوں سے بہت بالاتر تھا اور ان کی تقلید ان کے مقلدوں کے لئے نجات کی ضمانت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود ان کا مذہب اتنا زیادہ نہیں پھیلا کہ عالم کے گوشے گوشے میں ہر شخص اس سے واقف ہو جائے جب کہ مذاہب اربعہ پوری دنیا میں مشہور ہیں اور سبھی ان سے واقف ہیں اور تمام مسلمان اسی پر عمل پیرا ہیں“۔
حسین: ”اگر تمہارا مطلب یہ ہے کہ مذہب شافعی اور مذہب حنفی وغیرہ نے ہمارے مذہب کو نقل نہیں کیا تو بات صحیح ہے ، لیکن اس سے ہمارے مذہب کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ ان کی طرح ہم نے بھی ان کے مذہب کی کوئی تبلیغ نہیں کی ، اسی طرح خود مذہب شافعی نے مذہب حنفی و مذہب مالکی کو نقل نہیں کیا اور اسی طرح مذہب مالکی نے حنفی و شافعی مذہب کو نقل نہیں کیا، اسی طرح اسلام کے تمام مذاہب کا حال ہے ، لہٰذا کسی مذہب کا دوسرے مذہب کا نقل نہ کرنا کسی مذہب کے لئے نقصان دہ ثابت نہیں ہوگی۔
لیکن اگر تمہاری مراد یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے کسی نے بھی مذہب تشیع نقل ہی نہیں کیا ، تو تمہارا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کیونکہ خود شیعہ اور بہت سے اہل سنت اور دوسرے اسلامی فرقوں نے جعفری مذہب کے آداب واخلاق کو نقل کیا ہے، اس کے علاوہ خود شیعوں نے بھی اپنے مذہب کی ترویج و نشر کے لئے بہت اہتمام کیا ہے، سلسلہ ٴ روات کے متعلق تو شیعوں نے حددرجہ تحقیق کی ہے، اور اس موضوع پر متعدد کتابیں لکھی ہیں۔
حالانکہ علمائے شیعہ ،سنی علماء کے مقابل کم ہیں لیکن اگر ان کا موازنہ اہل تسنن کے مختلف دیگر مسلکوں سے الگ الگ کیا جائے تو یہ ان کے مقابل کم ہرگز نہیں ہو سکتے خاص طور پر حنبلی اور مالکی علماء سے یہ بالکل کم نہیں ہیں بلکہ ان سے زیادہ خود شیعہ علماء ہیں اور خدا کا شکر ہے کہ علمائے شیعہ ہر دور میں اپنے زمانہ کے دوسرے مذہب کے علماء کے مقابل تقویٰ وعلم میں آگے ہی رہے ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ بارہ اماموں کے زمانہ میں کسی بھی عالم کی علمی اور عملی سطح ان لوگوں کے برابر نہیں تھی اور ا ن کے شاگردوں کی علمی سطح اور بحث و استدلال کی صلاحیت بلا شبہ دوسرے تمام مذاہب کے علماء سے کئی گنا زیادہ تھی جیسے ہشام بن حکم،ہشام بن سالم ،جمیل بن دراج،زرارہ بن اعین ،محمد بن مسلم اور ان کے جیسے بہت سے لوگ جن کی تعریف ان کے مخالفین یہ کہہ کر کرتے تھے کہ ”یہی پایہ کے اور حقیقی عالم ہیں“۔
امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ کے بعد شیعہ فرقہ میں ایک سے ایک جید علماء گزرے ہیں جیسے شیخ صدوق ،شیخ کلینی ،شیخ مفید،شیخ طوسی ،سید مرتضیٰ اور ان کے بھائی سید رضیٰ ،ابن طاووس، خواجہ نصیر الدین طوسی،میثم بحرانی،علامہ حلی،ان کے بیٹے فخر المحققین اور ان جیسے سیکڑوں علماء نے اپنی تالیفات اور علمی مناظروں سے مشرق ومغرب کو علم وحکمت سے بھر دیا ان کا انکار صرف تعصب اور جہالت کے نتیجہ میں ہی ہو سکتا ہے۔
لہٰذا ب تمہیں چاہئے کہ تم ہمارے اسی مذہب کی پیروی کرو جس کی ہم تقلید کرتے ہیں کیونکہ ہمارے امام تمام لوگوں سے افضل وبرتر ہیں اور جو بھی حقیقتاً سچے راستے کی تلاش میں ہوگا اسے آخر کا ر ہماری روش ہی اختیار کرنا پڑے گی تمہارے لئے لازم ہے کہ تم مذہب حق کے بارے میں تحقیق کرو کیونکہ تم غیر معصوم کے پیرو ہو جب کہ ہمارے لئے اس طرح کی کوئی حاجت نہیں ہے کیونکہ ہم ایسے کی تقلید کرتے ہیں جو معصوم ہے یوں بھی ہمارے یہاں امام کے لئے معصوم ہونا شرط ہے لہٰذا وہ فرقہ ناجیہ ہمیں ہیں اگر چہ ابھی تمہاری زبان ہمارے مذہب کی حقانیت کی گواہی نہیں دے رہی ہے مگر اس کے باوجود تمہارے پاس ایسے دلائل موجود ہیں جو تمہیں مذہب تشیع اختیار کرنے پر اکسا رہے ہیں کیونکہ تمہا ر اخود اعتراف ہے کہ ایسے مجتہد کی تقلید سبب نجات ہے وہ مجتہد صرف اور صرف ہمارے ہی مذہب میں پایا جاتا ہے۔
جب بات یہاں تک پہنچی تو حنفی عالم لا جواب ہوگیا اور خود اپنے اس سوال کو چھوڑ کر دوسرے مختلف سوالات کی پنا ہ ڈھونڈنے لگا۔
حنفی عالم: ”اب بھی میرے لئے ایک موضوع تشنہ رہ گیا ہے وہ یہ کہ اصحا ب پیغمبر کو بر ابھلا کہنا تمہاری نظر میں کیسا ہے؟ وہ اصحاب جنھوں نے آنحضرت کی جان ومال سے مدد کی اور تلواروں کو نیام سے نکال کر اپنے زور بازو سے مدد کی ، اور خدا کی توفیق سے نہ جانے کتنے شہروں کو قبضے میں کر کے اس پر پر چم توحید لہرا دیا مثال کے طور پر وہ فتوحات جوعمر بن خطاب کے زمانہ میں ہوئی ہیں وہ کسی بھی خلیفہ کے زمانہ میں نہیں ہوئیں کیونکہ ان کی قدرت وحشمت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا میں جب بھی تمہارے دلائل پرغور کرتا ہوں تو یہی سوچتاہوںکہ مذہب شیعہ میں سچائی اور حقانیت ہے لیکن جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ تمہارے مذہب میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مقرب اصحاب کو بر ابھلا کہنا صحیح ہے تو یہ مجھے بہت غلط عمل محسوس ہوتا ہے اور اسی سے میری سمجھ میں یہ بات آجاتی ہے کہ یہ مذہب باطل اور بے بنیاد ہے“۔
حسین: ”ہمارے مذہب میں ایسا نہیں ہے کہ اصحاب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو برابھلا کہنا واجب ہے بلکہ عوام انھیں برابھلا کہتے ہیں اور ہمارے علماء میں کسی نے بھی یہ فتویٰ نہیں دیا کہ انھیں برابھلا کہنا واجب ہے ان کی فقہی کتابیں دستیاب ہیں تمہیں ان میں کہیں نہیں مل سکتا ہے کہ ان اصحاب کو برا بھلا کہنا واجب ہے۔
اس کے بعد میں نے اس کے سامنے بہت ہی سخت قسم کھائی کہ ”اگر کوئی شخص مذہب تشیع پر ہزار سال زندہ رہے اور اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کو بھی دل وجان سے قبول کرے اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اظہار کرے لیکن اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو برابھلا کہے تو وہ گنہگار ہوگا اور اس کا ایمان ناقص مانا جائے گا“۔
حنفی عالم نے جب میری یہ بات سنی تو اس کا چہرہ کھل اٹھا اور وہ نہایت خوش وخرم ہو گیا کیونکہ میں نے اس کی بات کی تصدیق کر دی تھی۔
اس کے بعد میں نے اس سے کہا: ”جب تم پر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اہل بیت علیہم السلام ہر لحاظ سے دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں تو پھر تم کیوں انھیں کا مذہب نہیںاختیار کرتے ؟“
حنفی عالم: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اہل بیت علیہم السلام کا پیرو کار ہوں لیکن میں صحابہ کو برا بھلا نہیں کہہ سکتا“۔
حسین: ”تم کسی بھی صحابی کو برانہ کہو لیکن جب تمہیں اس بات کا یقین ہو گیا ہے کہ اہل بیت، اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ایک خاص مرتبہ کے حامل ہیں تو پھر ان کے دشمنوں کے ساتھ تمہارا سلوک کیا ہونا چاہئے ؟
(ہدایت یافتہ )حنفی عالم: ”میں اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں سے بیزار ہوں“۔
حسین: ”تمہاری شیعیت کے درست ہونے کے لئے میرے نزدیک اتناہی کافی ہے“۔
اسی دوران اس نے کہا : ”میں خدا اس کے رسول اور اس کے فرشتوں کو گواہ بنا کر کہہ رہا ہوں کہ میں ان کا چاہنے والا اور پیرو ہوں اور ان کے دشمنوں سے بیزار ہوں“۔
اس کے بعد اس نے مجھ سے چند شیعی عقائد اور فقہ کی کتابیں مانگی میں نے اسے ”مختصر النافع“ (شرح شرایع ٴالاسلام، ”محقق حلی (متوفی ۶۷۶ ھ)دیدی۔
شیخ حسین بن عبد الصمد کہتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد میں نے اس حنفی عالم دین کو دیکھا جواب شیعہ ہو چکا تھا مگر وہ حد درجہ پریشان تھا کیونکہ یہ بات اس کے دل میں رسوخ کر گئی تھی کہ اصحاب پیغمبر کی اتنی قدر و منزلت ہونے کے باوجود شیعہ انھیں برا بھلا کہتے ہیں، میں نے اس سے کہا: ”اگر تم اس بات کا وعدہ کرو کہ انصاف سے فیصلہ کرو گے اور میری بات کو راز میں رکھو گے تو میں اصحاب کو بر ابھلا کہنے کا راز بتادوں گا جب اس نے بہت ہی سختی سے قسم کھائی اور وعدہ کیا کہ خدا کی قسم انصاف سے فیصلہ کروں گا اور جب تک زندہ رہوں گا اس وقت تک تمہاری بات تقیہ کے طور پر راز میں رکھوں گا“۔
تب میں نے کہا: ”جن لوگوں نے عثمان کو قتل کیا ہے ان کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے ؟‘
اس نے کہا: ”ان صحابیوں نے یہ کام اپنے اجتہاد کی بنا پر انجام دیا ہے لہٰذا وہ گنہگار نہیں ہوں گے جیسا کہ ہمارے علماء نے اس بات کی وضاحت کی ہے“۔
حسین: ”عائشہ ،طلحہ ،زبیر اور ان کے پیرو کار وں کے بارے میں تمہار ا کیا نظریہ ہے جنھوں نے جنگ جمل برپا کی اور نتیجہ میں دونوں طرف سے سولہ ہزار افراد قتل ہو گئے“۔
اور اسی طرح معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں کیا نظریہ ہے جنھوں نے جنگ صفین بھڑکائی، اور حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کی جس کے نتیجہ میں دونوں طرف سے ساٹھ ہزار افراد قتل ہوئے۔
(ہدایت یافتہ )حنفی عالم: ”یہ تمام جنگیں بھی عثمان کے قتل کی طرح اجتہاد کی بنیاد پر تھیں“۔
حسین: ”کیا اجتہاد مسلمانوں کے ایک گروہ سے صرف مخصوص ہے اور دوسرا گروہ اجتہاد کا حق نہیں رکھتا ؟“
(ہدایت یافتہ )حنفی عالم: ”نہیں بلکہ مسلمانوں کا ہر گروہ اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہے“۔
حسین: ”جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بزرگ صحابہ اور مومنوں کے خلیفہ کے قتل اور آنحضرت کے چچا زاد بھائی ،جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے شوہر حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کرنے کے سلسلہ میں اجتہاد جائز ہے، یعنی جب اجتہاد کی رو سے اس شخصیت سے جنگ کرنا جائز ہے جو علم و تقویٰ، فضل و زہد میں سب سے زیادہ نمایاں اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سب سے زیادہ قریبی ہو جن کی شمشیر کے ذریعہ اسلام استوار ہو ا اور جن کی تعریف ہمیشہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیا کرتے ہوں، جنھیں آپ نے مسلمانوں کا رہبر قرار دیا ہو کیونکہ خدا وند متعال کا قول ہے:
”إِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اللهُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَہُمْ رَاکِعُونَ “[58]
”تمہارا ولی صرف اللہ اور اس کا رسول ہے اور مومنین (جو حالت رکوع میں زکوٰة دیتے ہیں) ہیں“۔
یہ بات علماء کے نزدیک مسلم الثبوت ہے کہ یہاں مومنین سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں،[59] اس کے علاوہ بھی بہت سی روایتوں میں اس طرح کی باتیں ملتی ہیں۔اب تم سے یہ سوال کرتا ہوں کہ ایسے باعظمت اشخاص کے خلاف اجتہاد ہو سکتا ہے ؟اور اگر ان کے خلاف اجتہاد ہو سکتا ہے تو پھر ایسا ہی اجتہاد کر کے کیا ۔۔۔کوئی مسلمان رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ”بعض صحابہ“کو برا بھلا نہیں کہہ سکتا؟ ہم صرف ان صحابہ کو برا بھلا کہتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ انھوں نے اہل بیت رسول کے ساتھ برا سلوک کیا ہے انھیں ستا یا ہے اور ان کے اوپر ظلم کیا ہے لیکن جو لوگ اہل بیت رسول اکرم کو دوست رکھتے تھے ہم بھی انھیں دوست رکھتے ہیں جیسے سلمان ،مقداد،عمار،ابوذروغیرہ اور ہم ان لوگوں کی دوستی کے ذریعہ خدا کا قرب چاہتے ہیں۔اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے متعلق ہمارا یہی عقیدہ ہے اور سب و شتم کرنا ایک طرح کی لعنت وملامت ہے جسے خدا چاہے تو قبول کرے اور چاہے تو نہ قبول کرے مگر یہ اصحاب کا خون بہانے کی طرح ہر گز نہیں ہو سکتا یہ معاویہ ہی تھا جس نے حضرت علی علیہ السلام کو برا بھلا کہنے کے لئے ستر ہزار منبر مخصوص کر رکھے تھے اور یہ روش ۸۰ سال تک جاری رہی لیکن اس کے باوجودبھی وہ حضرت علی علیہ السلام کی منزل میں کسی طرح کی کمی نہ کر سکا اسی طرح شیعہ بھی خاندان رسالت کے دشمنوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور اسے از روئے اجتہا د جائز سمجھتے ہیں با لفرض اگر ان لوگوں نے اپنے اس اجتہاد میں غلطی کی ہوگی تو ان پر گناہ نہیں ہوگا۔ توضیح کے طور پر یہ کہیں کہ اصحاب پیغمبر کئی طرح کے تھے بعض قابل تعریف اور بعض منافق صفت تھے اور بعض اصحاب کی تعریف قرآن میں آجانے سے دوسرے بعض صحابہ کا فسق وفجورختم نہیں ہوتا، اصحاب کو برا بھلا کہنے کے سلسلے میں ہمارا اجتہاد ان لوگوں کے نیک اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیرو اصحاب کے لئے ہمارا یہ اعتقاد ہر گز نہیں ہے۔
حنفی عالم نے بڑے تعجب سے کہا: ”کیا بغیر کسی دلیل کے اجتہاد جائز ہے ؟“
حسین: ”ہمارے مجتہدین کی دلیلیں بڑی واضح ہیں“۔
حنفی عالم: ”ان میں سے کوئی ایک بتاوٴ“۔
حسین بن عبد الصمد نے بہت سی دلیلیں بیان کیں جن میں جناب فاطمہ زہرا سلام علیہا پر ہوئے مظالم کا بھی ذکر کیا اور سورہٴ احزاب کی ۵۷ ویں آیت بھی پڑھی جس میں آیا ہے:
” إِنَّ الَّذِینَ یُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَہُ لَعَنَہُمْ اللهُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ“۔ [60]
”بلا شبہ جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان پر اللہ دنیا وآخرت میں لعنت کرتا ہے“۔[61]
مجھے یاد ہے کہ ایک شافعی عالم سے میری ملاقات ہوئی جو قرآن کی آیات و احادیث سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتا تھا اس نے شیعوں پر اس طرح اعتراض کرنا شروع کردیا۔
شیعہ لوگ اصحاب پیغمبر پر لعن وطعن کرتے ہیں یہ کام قرآن کے خلاف ہے کیونکہ قرآن کے مطابق خدا وند متعال ان سے خوش و راضی ہے جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کر چکے ہوں ان پر لعن و طعن کرنا صحیح نہیں ہے۔
اس سلسلہ میں سورہ فتح کی ۱۸ ویں آیت میں خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے:
”لَقَدْ رَضِیَ اللهُ عَنْ الْمُؤْمِنِینَ إِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا
فِی قُلُوبِہِمْ فَاٴَنْزَلَ السَّکِینَةَ عَلَیْہِمْ وَاٴَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیبًا“۔
”بالتحقیق خدا وند متعال ان مومنوں سے راضی ہوا جو اس درخت کے نیچے تمہاری بیعت کر رہے تھے خدا کو ان کے دل کی بات معلوم تھی لہٰذا اس نے ا ن پر سیکنہ نازل کیا اور انھیں فتح قریب سے نوازا“۔
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہجرت کے آٹھویں سال ماہ ذی الحجة میں چودہ ہزار مسلمانوں کے ساتھ مدینہ سے مکہ عمرہ کرنے کی خاطر روانہ ہوئے تھے ان لوگوں میں عثمان، ابو بکر ،عمر اور طلحہ وزبیر جیسے لوگ بھی شامل تھے لیکن جیسے ہی یہ لوگ ”عسفان نامی “ایک مقام پر پہنچے تو انھیں خبر ملی کہ مشرکوں نے مسلمانوں کو روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے لہٰذا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ حدیبیہ (جو مکہ سے بیس کلیو میٹر کے فاصلہ پر ہے اور وہاں آب و غذا اور درخت موجود ہیں)کے پاس کوئی حتمی بات طے نہ ہونے تک ٹھہرے رہیں۔
پھر آپ نے عثمان اور چند دوسرے لوگوں کو قریش کے پاس بات چیت کے لئے روانہ کر دیا اچھی خاصی دیر ہوجانے کے بعد بھی جب ان کے بارے میں کچھ اطلاع نہ ملی تو یہ خبر اڑ گئی کہ عثمان کوقتل کر دیا گیا ہے یہ سن کر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسی درخت کے نیچے بیٹھ کر مسلمانوں سے تجدید بیعت کرائی اور اسی بیعت کو ”بیعت رضوان “کے نام سے جانا جاتا ہے۔رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے مسلمانوں سے عہد لیا کہ آخری وقت تک مشرکوں سے لڑیں گے مگر کچھ ہونے سے پہلے یہ لوگ واپس آگئے مکر اس بیعت کی خبر سے مشرک بڑے مرعوب ہوگئے اور انھوں نے سہیل بن عمر کو آنحضرت کی خدمت میں بھیجا اور آخر کار اس بات پر صلح ہو گئی کہ مسلمان اگلے سال مکہ آئیں لیکن اِس سال واپس چلے جائیں۔[62]
مولف:
پہلی بات تو یہ کہ یہ آیت ان لوگوں کے لئے ہے جو اس وقت وہاں موجود تھے۔
دوسری بات یہ کہ یہ آیت بیعت میں شامل ہونے والے منافقوں جیسے عبد اللہ ابی اور اوس بن خولی وغیرہ کو شامل نہیں کرتی، کیونکہ آیت میں مومن کی شرط ہے اور یہ لوگ ہر گز مومن نہیں تھے۔
تیسری بات یہ کہ مذکورہ آیت کہتی ہے کہ خداوند عالم اس وقت ان لوگوں سے راضی ہوا جب انھوں نے بیعت کی نہ کہ ہمیشہ ان سے راضی رہے گا۔
اسی دلیل کے لئے ہم قرآن مجید کے اسی سورہ میں پڑھتے ہیں:
”فَمَنْ نَکَثَ فَإِنَّمَا یَنْکُثُ عَلَی نَفْسِہِ وَمَنْ اٴَوْفَی بِمَا عَاہَدَ عَلَیْہُ اللهَ فَسَیُؤْتِیہِ اٴَجْرًا عَظِیمًا“۔
”جو بھی اپنا عہد توڑتا ہے وہ خود اپنا نقصان کرتا ہے اور جو اللہ سے کئے گئے عہد کو پورا کرتا ہے تو اللہ اسے عظیم اجر دے گا“۔
اس آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نکث یعنی بیعت توڑنے کا امکان موجود تھا جیسا کہ بعد میں چند جگہوں پر یہ بات آشکار ہوئی۔اسی طرح یہ آیت ابدی رضایت پر دلالت نہیںکرتی بلکہ انھیں میں سے ممکن ہے کہ دو گروہ ہو جائیں جن میں ایک وفادار ثابت ہو اور دوسر عہد شکن۔اس کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ اس آیت سے خارج ہو گئے جنھوں نے وفا نہیں کی اور اسی کی وجہ سے ہماری لعن وطعن ان پر پڑتی ہے اور اس بات میں آیت کی رو سے کوئی اشکال بھی نہیں ہے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کمیٹی کے سر پرست نے ایک شیعہ عالم پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا: ”تم لوگ کیوں قبر کے پاس بیٹھتے ہو جب کہ اس طرح کا کام حرام ہے“۔
شیعہ عالم: ”اگر قبروں کے پاس بیٹھنا حرام ہے تو مسجد الحرام میں حجر اسماعیل کے قریب جہاں بہت سے پیغمبروں اور جناب ہاجرہ کی قبریں موجود ہیں بیٹھنا بھی حرام ہوگا لیکن ابھی تک کسی مفتی نے اس کا فتویٰ نہیں دیا۔
بہت سی ایسی روایتیں اور احادیث ملتی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قبروں کے پاس بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسے کتاب بخاری جو تم لوگوں کے نزدیک قرآن کی طرح معتبر ہے اس میں علی علیہ السلام سے روایت موجود ہے:
”میں بقیع میں بیٹھا ہوا تھا کہ پیغمبر میرے پاس آئے اور بیٹھ گئے اور میں بھی ان کے قریب جاکر بیٹھ گیا تو آنحضرت نے قبر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:
”ہر انسان کے لئے دو گھروں میں سے ایک گھر ہوتا ہے ایک گھر جنت ہے اور دوسرا دوزخ۔۔“[63]
اس آیت کی بنا پر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قبر کے پاس بیٹھے اور وہاں جو دوسرے لوگ موجود تھے ان کو آپ نے اس سے منع بھی نہیں کیا۔[64]
اہل سنت کے میں احمد اپنی کتاب مسند (ج۱ ، ص۱۹۳)میں اپنی سند کے ساتھ عبد الرحمن بن عوف سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”ابو بکر فی الجنة وعمر فی الجنة وعلی فی الجنة۔۔۔الخ“۔
”ابو بکر ،عمر ،علی ،عثمان ،طلحہ ،وزبیر،عبد الرحمن بن عوف،سعد بن ابی وقاص،سعید بن زید ابو عبیدہ جراح“۔[65]
اہل سنت حضرات اس گڑھی ہوئی حدیث کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور ان دس آدمیوں کے نام ”عشرہ مبشرہ“کے عنوان سے تختیوں پر کندہ کر کے مقدس، مقامات جیسے مسجد نبوی وغیرہ میں نصب کرتے ہیں۔یہ اتنی مشہور بات ہے جس کے متعلق تقریبا ًسبھی کو علم ہے اسی سلسلہ میں ذیل کے مناظرہ کو ملاحظہ فرمائیں:
ایک شیعہ عالم دین کہتے ہیں: ”ایک روز میں کسی کام سے مدینہ میں نہی عن المنکر کے ادارہ میں گیا تو وہاں موجود اس کے سر پرست سے میری بات چیت ہونے لگی جو آخر کا عشرہ مبشرہ تک جا پہنچی“۔
میں نے کہا: ”میں تم سے ایک سوال کر نا چاہتا ہوں“۔
سر پرست: ”پوچھو“۔
میں: ”یہ کس طرح جائز ہے کہ ایک جنتی دوسرے جنتی سے جنگ کرے طلحہ اور زبیر عائشہ کے پر چم تلے بصرہ آکر حضرت علی علیہ السلام سے جنگ لڑیں جب کہ یہ لوگ جنتی تھے اور یہ جنگ جمل بہت سے لوگوں کے قتل کا سبب بنی اور قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
”وَ مَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا“[66]
”جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے تو اس کی جزا جہنم ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا“۔
اس آیت کے پیش نظر جو لوگ بھی جنگ جمل میں لوگوں کے قتل کا سبب بنے ہیں انھیں جہنمی ہونا چاہئے اور اب یہ چاہے علی علیہ السلام ہوں یا طلحہ وزبیر ہوں لہٰذا اس جنگ کے نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ حدیث صحیح معلوم نہیں ہوتی۔
سر پرست: ”اس جنگ میں شرکت کرنے والے وہ افراد جن کا تم نے نام لیا ہے مجتہد تھے انھوں نے اپنے اجتہاد کی بنا پر یہ کام انجا م دیا ہے لہٰذا وہ گنہگار نہیں ہوں گے“۔
شیعہ عالم: ”نص کے مقابلہ میں اجتہاد جائز نہیں ہے کیا تمام کے تمام مسلمانوں نے یہ نقل نہیں کیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام سے فرمایا:
”یا علی حربک حربی وسلمک سلمی“۔[67]
”اے علی !تمہاری جنگ میری جنگ ہے اور تمہاری صلح میری صلح“۔
اور اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا ہے:
”من اطاع علیاً فقد اطاعنی ومن عصا علیا ً فقد عصانی ۔“[68]
”جس نے علی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے علی کی نافرمانی کی اس نے میری نا فرمانی کی“۔
اور اسی طرح آپ نے فرمایا:
”علی مع الحق والحق مع علی ،یدور الحق معہ حیثما دار“۔[69]
”علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے حق ان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے وہ جیسے بھی چلیں“۔
اس بنا پر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسمائے مذکورہ میں ایک طرف حق ہے اور وہ علی علیہ السلام کی ذات ہے اور حدیث ”عشرہ مبشرہ “محض جھوٹ ہے کیونکہ باطل کے طرفداروں کو جنت نصیب نہیں ہو سکتی۔
دوسری بات یہ کہ عبد الرحمن بن عوف خود اس حدیث کا راوی ہے جو خود ان دس جنتی افراد میںشامل ہے اور یہ وہی عبد الرحمن ہے جس نے عمر کی وفات کے بعد شوریٰ تشکیل ہونے کے دن علی علیہ السلام پر تلوار تان لی تھی اور ان سے کہا تھا: ”بیعت کرو ورنہ میں تمہیں قتل کردوں گا“، یہی وہ عبدالرحمن ہے جس نے عثمان کی مخالفت کی اور عثمان نے اسے منافق کہہ کر یاد کیا ، کیا یہ تمام چیزوں مذکورہ روایت سے مطابقت رکھتی ہیں؟ اور کیا عبد الرحمن ان دس افراد میں سے ہو سکتا ہے جنھیں جنت کی بشارت دی گئی ہو؟
کیا ابو بکر و عمر کو جنت کی بشارت دی گئی ہے جب کہ یہ دونوں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کا سبب بنے ؟اور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ان سے آخری عمر تک ناراض رہیں ہوں؟
کیا عمر نے حضرت علی کو ابو بکر کی بیعت کے لئے رسی باندھ کر کھینچتے ہوئے یہ نہیں کہا تھا کہ بیعت کرو نہیں تو قتل کر دئے جاوٴگے؟
کیا طلحہ و زبیر عثمان کے قتل پر مصر نہ تھے ؟کیا یہ دونوں اس امام کی اطاعت سے خارج نہیں ہو گئے جس کی اطاعت واجب قرار دی گئی تھی؟کیا ان دونوں نے جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام کے مقابل تلوار نہیں چلائی ؟
اس کے علاوہ ان دس لوگوں میں صرف سعد بن وقاص نے اس حدیث کی تصدیق کی ہے اور جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ عثمان کو کس نے قتل کیا تو وہ جواب میں کہتا ہے۔”عثمان اس تلوار سے قتل کئے گئے جسے عائشہ نے غلاف سے باہر نکالا طلحہ نے اسے تیز کیا اور علی نے زہر میں بجھا یا تھا“۔
کیا آپس کی ان تمام مخالفت اور منافقت کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سب لوگ جنتی ہیں؟ ہر گز نہیں ہر گز نہیں۔
اور خود یہ حدیث سند کے لحاظ سے بھی مخدوش اور مردود ہے کیونکہ اس کی سند عبد الرحمن بن عوف اور سعد بن وقاص میں سے کسی ایک پر تمام ہوئی ہے اور روایات میں عبد الرحمن کی سند کا سلسلہ بھی متصل نہیں ہے لہٰذا یہ اپنے اعتبار سے گر جاتی ہے اور سعید بن زید کے بارے میں یہ روایت معاویہ کے دور خلافت میں کوفہ میں نقل کی گئی ہے اور معاویہ کے دور سے پہلے کبھی کسی نے یہ حدیث نہیں سنی تھی جس کی بنا پر صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاویہ کا کارنامہ ہے۔[70]
قبرستان بقیع میں ایک بورڈ پر لکھا ہوا ہے ”لا یجوز رمی النقود علی القبور“قبروں پر پیسہ ڈالنا جائز نہیں ہے“۔
ایک روز امر بالمعروف کمیٹی کا سر پرست بقیع میں آیا تو اس نے دیکھا کہ کچھ قبروں پر پیسے پڑے ہوئے ہیں اس نے مجھے دیکھا تو مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا: ”یہ پیسے زائروں کو دے دو ان کا قبروں پر ڈالنا حرام ہے“۔
شیعہ عالم: ”کس دلیل سے قبروں پر پیسے ڈالنا حرام ہے کیا قرآن اور سنت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں اس بات کی نہی ہوئی ہے ؟جب کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے کہ تمہارے لئے ہر وہ چیز جائز ہے جس سے تمہیں منع نہ کیا گیا ہو“۔
سر پرست: ”قرآن میں آیا ہے ”اِنَّمَا الصَّدْقَةُ لِلْفُقْرَاءِ“ [71]صدقہ صرف فقراء کے لئے ہے“۔
شیعہ عالم: ”یہ پیسے بھی قبر کے فقیر مجاوراٹھاتے ہیں“۔
سرپرست: ”قبر کے مجاور فقیر نہیں ہیں“۔
شیعہ عالم: ”کوئی ضروری نہیں ہے کہ وہ فقیر ہی ہوں کیونکہ مدد اور بخشش کے لئے یہ قطعاً حرام نہیں ہے اگر کوئی شخص کسی مقصد کے تحت خدا کی راہ میں اپنا تمام مال کسی دولت مند کو بھی دیدے تو کیا کوئی حرج ہے جیسا کہ شادیوں میں دولہا اور دلہن کے سر سے پیسے نچھاور کرتے ہیں اور غیر فقیر بھی یہ پیسے اٹھا تے ہیں اور جس آیت کو تم نے پڑھاہے اس میں صدقہ کے لئے آٹھ مصرف ذکر ہوئے ہیں جس میں سے ایک اللہ کی راہ بھی ہے اور جب مسلمان اولیاء خدا کی قبروں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں ”ہماری جان ومال آپ پر فدا ہو“، اب اگر ایک شخص اپنی دوستی اور محبت کی وجہ سے اپنا تمام مال یا اس کا کچھ حصہ اسے بخش دے تو عرفا ًاس میں کیا برائی ہے خداوند متعال نے اپنی دلیل اورذاتی رائے سے کسی حلال کو حرام کرنے سے منع کیا ہے جیسا کہ ہم سورہٴ نحل کی ۱۱۶ ویں آیت میں پڑھتے ہیں:
”وَلاَتَقُولُوا لِمَا تَصِفُ اٴَلْسِنَتُکُمْ الْکَذِبَ ہَذَا حَلاَلٌ وَہَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَی اللهِ الْکَذِبَ“۔
”اور اپنی زبان سے نکلنے والے جھوٹ کی وجہ سے یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام تاکہ تم خدا پر جھوٹ باندھ سکو“۔
کیا خداوند متعال نے تمہیں اپنی طرف سے قانون گڑ ھنے کی اجازت دی ہے اور ہر چیز جو تمہارے ذوق کے مطابق نہ ہو تم اسے حرام اور شرک قرار دے دو، تم بدعت کے مقابلہ کی آڑ میں ہرحلال کو حرام قرار دے دیتے ہو کیا تمہیں یہ نہیں معلوم کہ حلال کو حرام کرنا خود ایک بدعت ہے اور جو لوگ اس طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں وہ خود جان لیں کہ انھوں نے صراط مستقیم کو چھوڑ دیا ہے جیسا کہ ہم اس آیت میں پڑھتے ہیں :
”ان الذین یفترون علی الله الکذب لا یفلحون“
”جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے“۔
سعودی منڈیوں میں بہت ہی سستی شئے ہے ، یہ سودا ہر جگہ دستیاب ہے، وہاں کی امر بالمعروف کمیٹی جھوٹی سی بات کو لے کر مومن کو مشرک بنا دیتی ہے! گویا ان کی تھیلوں میں شرک اور شرک کی تہمت لگانے کے علاوہ اور کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے یہ لوگ اس سلسلہ میں صرف زبانی باتوں ہی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ شیعوں کی مختلف مشہور کتابوں پر بھی حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے ہیں مثال کے طور پر شیعوں کے مشہور ومعروف محقق و عالم استاد شیخ رضا مظفر کی یہ عبارت:
”فکانت الدعوة للتشیع لا بی الحسن علیہ السلام من صاحب الرسالة تمشی منہ جنبا لجنب مع الدعوة للشھادتین“۔
”حضرت رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کی جانب سے حضرت علی علیہ السلام کی پیروی کی طرف دعوت توحید و رسالت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھی ہے“۔
ایک وہابی مولف نے اپنی کتاب ”الشیعہ والتشیع“ میں جو سعودی عرب میں چھپ چکی ہے لکھا ہے:
”ان النبی حسب دعویٰ المظفّری کان یجعل علیّاً شریکاً لہ فی نبوتہ و رسالتہ“۔[72]
”رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مظفر کے دعوے کے مطابق علی علیہ السلام کو اپنے نبوت و رسالت میں شریک قرار دیتے تھے“۔
اگر یہ ہوا وہوس میں اپنے دین کو بیچ کھانے والا وہابی ذرا بھی شیعوں کے عقائد سے واقفیت رکھتا تو شیخ رضا المظفر پر اس طرح کا احمقانہ اعتراض نہ کرتا۔
اگر اس طرح کی بات شرک ہوتیں تو قرآن میں یہ آیت کبھی ذکر نہ ہوتی:
”یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ“[73]
”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اس کے رسول کی اور تم میں سے جو اولی الامر ہو“۔
اس آیت میں اولی الامر ، اللہ اور رسول کے ساتھ ذکر ہوئے ہیں اور سب نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام اولی الامر کے واضح ترین مصادیق ہیں۔
کیا اس صورت حال میں یہ کہنا ممکن ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے اس آیت کو پڑھ کر توحید کی طرف دعوت دینے کے بجائے شرک کی دعوت دی ہے ؟
جہاں تک رسالت کی دعوت کے ساتھ امامت کی دعوت کا ہر جگہ ہونا ہے تو یہ ایک حتمی بات ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت کے بعد امامت علی اور آپ کی خلافت کی تبلیغ کرنا ہے اسی لئے آپ جس طرح اپنی رسالت اور توحید خداوندی کی تبلیغ کرتے تھے اسی طرح علی علیہ السلام کی ولایت و امامت کی طرف بھی لوگوں کو متوجہ کرتے اور انھیں اس طرف دعوت دیا کرتے تھے اس کا شرک سےکوئی ربط نہیں ہے۔
مزید وضاحت کے لئے ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ جب سورہٴ شعراء کی یہ آیت نازل ہوئی:
”وَاٴَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الْاٴَقْرَبِینَ“ [74]
”اور اپنے رشتہ داروں کو ڈراوٴ“۔
تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے رشتہ داروں کو دعوت دی اور اس میں آپ نے یہ اعلان کیا:
کون شخص ایسا ہے جو اس کام میں میری مدد کرے اور اس کے بدلے وہ میرا بھائی ،وصی اور میرے بعد میرا خلیفہ ہو جائے ؟“
اس وقت کوئی بھی علی علیہ السلام کے علاوہ نہیں اٹھا تھا اور جب کئی دفعہ دہرانے کے بعد بھی علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی نہ اٹھا تو آپ نے فرمایا:
”ان ھذا اخی ووصي وخلیفتي فیکم فاسمعوا لہ واطیعوہ“۔[75]
”بلاشبہ یہی میرا بھائی ،وصی اور میرے بعد تم لوگوں میںمیراجانشین ہے لہٰذا تم لوگ اس کی باتیں سنو اور اس کی اطاعت کرو“۔
شیعہ اسی بنا پر یہ کہتے ہیں کہ جب بھی پیغمبر اپنی رسالت اور خدا کی وحدانیت کی دعوت دیا کرتے تھے تو علی علیہ السلام کی امامت کو بھی بتا دیتے تھے کیا وفات کے بعد علی کی خلافت کی طرف دعوت دینا شرک ہے کیا نبوت کی دعوت کے ساتھ ساتھ امامت کی دعوت دینا شرک ہے؟[76] اور کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام کو اصل نبوت میں اپنا شریک بنا لیا ؟
ہائے رے بے انصافی۔
اسلامی انقلاب (ایران)کی کامیابی کے بعد پید اہوئے اہم مسائل کے بانی حضرت امام خمینی علیہ الرحمہ نے اپنے بیانیہ میں یہ اعلان کیا:
”حج کی دو قسمیں ہیں:حج ابراہیمی اور حج بو جہلی! حج صرف ایک عبادت ہی نہیں بلکہ ایک مکتب اور بہترین جامع یونیور سٹی ہے۔
لہٰذا ایرانیوں اور حضرت امام خمینی ۻ کے مقلدین کے نظر میں حج کی اہمیت مزید واضح ہو گئی اور ”مشرکین سے برائت“ کا مسئلہ پیش آیا ،جس کے بہت سے مثبت آثار پائے جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے حجاز کے درباری ملاوٴ ں اور بعض پرانے نام نہاد علماء نے اشکال و اعتراض کرنا شروع کر دیا ، چنانچہ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ حج میں کسی طرح کی سیاست اور شور شرابہ نہیں ہونا چاہئے ،اور گذشتہ کی طرح صرف خشک عبادت کے طور پر حج کے اعمال بجالانا چاہئے جب کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے:
” جَعَلَ اللهُ الْکَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیَامًا لِلنَّاسِ“۔[77]
”اللہ نے کعبہ کو جو بیت الحرام ہے اس کو لوگوں کے قیام اور صلاح کا ذریعہ قرار دیا ہے“۔
”مومنین کے قیام “کے وسیع معنی کے پیش نظر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ خانہٴ کعبہ کے زیر سایہ اپنی مشکلات اور پریشانیوں کو دور کریں ،اور اپنی زندگی کے معنوی ومادی مختلف پہلووٴں کو بہتر بنا نے کے لئے کوشش کرتے ہوئے سعادت کی منزلوں کو طے کریں۔
اس بنیاد پر دو عالموں (نام نہاد عالم اور دانشور عالم )کے درمیان ایک مناظرہ ہوا:
عالم نما: یہ کیا شور شرابہ اور بدعتیں ہیں جو حج میں داخل کر دی گئی ہیں ،حج کے دوران کسی بھی طرح کی سیاست اور جنگ وجدال نہیں ہونا چاہئے اور بالکل چین وسکون کے ساتھ حج کے اعمال انجام دینا چاہئے ،حج خود سازی اور رو ح کی پاکیزگی کے لئے ایک بہترین عبادت ہے ،اس میں کسی طرح کے نعرے زندہ باد یا مردہ باد نہیں ہونا چاہئے ،حج ابراہیمی اور حج بوجہلی ،واقعا ً ایک نئی چیز ہے اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں سنا!
عقلمندعالم: ہمارے عقیدہ کے مطابق جس طرح ہم علوی اسلام اور لعنتی معاویہ کا اسلام رکھتے ہیں، اسی طرح حج کی بھی دو قسمیں ہیں ابراہیمی ومحمدی حج ،اور بوجہلی ویزیدی حج۔
عالم نما: حج؛ نماز و روزہ کسی طرح ایک عبادت ہے لہٰذا اس میں سیاست اور غیر خدائی کاموں سے پر ہیز کرنا چاہئے۔
عقلمندعالم: سیاست صحیح معنی میں عین دین ہے، یہ دین سے ہرگز جدا نہیں ہے بعض عبادتیں باوجود اس کے کہ عبادت ہیں اور گناہوں کے دور ہونے اور صفائے نفس کے لئے پاکیزہ ترین اور خالص ترین سبب ہیں۔
لیکن یہی عبادتیں سیاسی مقاصد تک پہنچنے کا سب سے بہترین وسیلہ بھی ہیں کیونکہ روح عبادت خدا کی طرف توجہ دینا ہے اور سیاست کی روح مخلوق خداپر توجہ کرنے کا نام ہے ،اور یہ دونوں حج کے مسائل میں اس طرح ملے ہوئے ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑ دیا جائے تو پھر حج،حج نہیں رہے گا۔
واضح الفاظ میں یوں سمجھئے کہ حج کے لئے ایک جھلکا ہے اور ایک مغز ،جو لوگ صرف حج کے ظاہری عبادتی پہلو پر توجہ کرتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ انھوں نے حج کو حقیقت سے خالی کر لیا ہے اور مغز کو دور پھینک دیا ہے اور صرف ظاہری جھلکے کو لے لیا ہے ،مکہ معظمہ کا ایک نام ”ام القریٰ“یعنی دیہات اور شہروں کی ماں ہے۔ [78]جس طرح ماں اپنے بچوں کو کھانا دیتی ہے ،اور ان کوپرورش اور تربیت کرتی ہے اسی طرح مکہ معظمہ پر لازم ہے کہ وہ فکری ،سیاسی اور معنوی لحاظ سے دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو غذا فراہم کرے ،اور ان کی اسلامی رشد و نموکے لحاظ سے تربیت کرے۔
عالم نما: ہم مسلمان ہیں ،قرآن اور حدیث کو مانتے ہیں کیا قرآن کریم کا ارشا د نہیں ہے؟:
”ولا جدال فی الحج“[79]
”حج میں کوئی جنگ وجدال نہیں ہونا چاہئے “؟
لہٰذا حج کے اعمال میں ایک حاجی کو جنگ وجدال اور تو تومیں میں نہیں کرنا چاہئے ،جس حج میں مظاہرہ ،نعرہ بازی اور شور شرابہ ہو تو ایسا حج جدا ل ہے جس سے قرآن نے روکا ہے۔
عقلمندعالم: مذکورہ آیت میں جس جدل سے روکا گیا ہے اس سے مراد مومنین کے درمیان تو تو میں میں ہے ،کہ قسم بخدا ایسا نہیں ہے یا قسم بخدا ایسا ہے۔
ائمہ اہل بیت علیہم السلام منقول احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ”جدال کے معنی جھوٹی قسم کھانا ہے۔یا جو کام گناہ سے متعلق ہو، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلا م فرماتے ہیں:
”جس مجادلہ میں قسم کھائی جائے ،لیکن اس سے مراد کسی مومن کا احترام ہو ،تو ایسے جد ل سے آیت میں ممانعت نہیں کی گئی ہے:بلکہ آیت میں نہی شدہ جدال سے مراد وہ جدال ہے جس میں گناہ کا تصور پایاجائے اور انسان اپنے ایمانی برادر پر غلبہ کرنا چاہئے [80]لیکن اگر دین کے استحکام اور اس کے دفاع کے لئے ہو تو نہ صرف گناہ نہیں ہے بلکہ بہترین عبادت اور عظیم اطاعت ہے۔
علامہ فخرالدین رازی اپنی تفسیر میں مذکورہ آیت (سورہٴ بقرہ آیت ۱۹۷)کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں: ”تمام علمائے علم کلام اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ دینی امور میں جدال کرنا عظیم اطاعت ہے“۔اس کے بعد اس مطلب کو ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید کی آیات سے استدلال کرتے ہیں،منجملہ سورہٴ نحل کی ۱۲۵ویں آیت جس میں ارشاد خداوندی ہوتا ہے:
” اُدْعُ إِلَی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِی ہِیَ اٴَحْسَنُ“۔
”آپ اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ دعوت دیں اور ان سے اس طریقہ سے بحث کریں جو بہترین طریقہ ہے“۔
اسی طرح سورہٴ ہود کی آیت نمبر ۳۲ میں پڑھتے ہیں جہاں کفار کی باتوں کو بیان کرتے ہوئے خداوند عالم فرماتا ہے:
” یَانُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَاٴَکْثَرْتَ جِدَالَنَا“۔
”(اور ان لوگوں نے کہا:) اے نوح ! آپ نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت جھگڑا کیا“۔
اس آیہ شریفہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم سے جدال کرتے تھے، اور یہ بات واضح ہے کہ جناب نوح علیہ السلام کا جدال صرف دعوت الٰہی ،یکتا پرستی اور دینی استحکام کے لئے ہوتا تھا۔
لہٰذا جس جدال سے حج میں نہی کی گئی ہے ،اس سے باطل اور بے ہودہ کاموں میں جدال ہے، نہ کہ وہ جدال جو حق وحقیقت کو ثابت کرنے کے لئے ہو۔
عالم نما:قرآن مجید کی بہت سی آیات میں جدال کی مذمت کی گئی ہے اور اس کوغیر مومن کا کام قرار دیا گیا ،مثلاً سورہٴ غافر کی آیت نمبر ۴ میں ارشاد ہوتا ہے:
”مَا یُجَادِلُ فِی آیَاتِ اللهِ إِلاَّ الَّذِینَ کَفَرُوا“۔
”اللہ کی نشانیوں میں صرف وہ جھگڑا کرتے ہیں جو کافر ہوگئے ہیں۔۔۔“۔
سورہٴ حج آیت نمبر ۶۸ میں ارشاد ہوتا ہے:
” وَإِنْ جَادَلُوکَ فَقُلْ اللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ“
”اور اگر یہ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے“۔
اسی طرح سورہٴ انعام آیت ۱۲۱میں ارشاد ہوتا ہے:
”وَلاَتَاٴْکُلُوا مِمَّا لَمْ یُذْکَرْ اسْمُ اللهِ عَلَیْہِ وَإِنَّہُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّیَاطِینَ لَیُوحُونَ إِلَی اٴَوْلِیَائِہِمْ لِیُجَادِلُوکُمْ وَإِنْ اٴَطَعْتُمُوہُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُونَ“
”اور دیکھو جس پر نام خدا نہ لیا گیا ہو ا سے نہ کھانا کہ یہ فسق ہے اور بے شک شیاطین تو اپنے والوں کی طرف خفیہ اشارہ کرتے ہی رہتے ہیں تاکہ یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگوں نے ان کی اطاعت کرلی تو تمہارا شمار بھی مشرکین میں ہوجائے گا“۔
عقلمندعالم: قرآن مجید میں لفظ”جدال“کے مختلف استعمال سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جدال کے وسیع معنی ہیں،جس کی مجموعی طور پر دوقسم ہیں:
۱)پسندیدہ۔
۲)نا پسند۔
جس وقت بحث و گفتگو اور دوسروں کی بات پر اعتراض حق وحقیقت روشن ہونے اور صحیح راستہ کی ہدایت کے لئے ہو تو یہ ایک مناسب اور پسندیدہ عمل ہے اور بہت سے مقامات پر یہ جدال واجب ہے ،نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک حصہ ہے، لیکن اگر باطل کو ثابت کرنے اور ناحق بات کو ثابت کرنے کے لئے ہو تو واقعا ً ایسا جدال مذموم اور ناپسند ہے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ حج کے دوران ہر جدال کو ناپسند قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عالم نما:میری باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ عبادت کو سیاست سے نہیں ملانا چاہئے ،حج جیسی مقدس عبادت اور بلند مقام ،سیاست ،نعرہ بازی اور مظاہرہ کرنے کے لئے نہیں ہے ،یہ مقام مخصوص عبادت یعنی حج کے لئے ہے ،کسی دوسری جگہ پر سیاست کی باتیں کریں۔
عقلمندعالم: اسلامی عبادت میں عبادی پہلو کے علاوہ دیگر پہلو بھی پائے جاتے ہیں ، چنانچہ حج میں عبادی پہلو کے ساتھ ساتھ اجتماعی، سیاسی، اخلاقی، اقتصادی اور ثقافتی پہلو بھی پائے جاتے ہیں کامل اور حقیقی حج وہی ہے جس میں تمام پہلووٴں سے فیض حاصل کیاجائے،اوراگر حج میں سیاسی پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے تو ا یسا حج ناقص ہوگا۔
ہم یہاں پر اس مطلب کی مزید وضاحت کے لئے حضرت امام خمینی کے بہترین کلام کو نقل کرتے ہیں:
”حج اکبر فلسفوں میں سے ایک فلسفہ اس کا ایک سیاسی پہلو ہے جس کو ختم کرنے کے لئے ہر طرف سے ظالم کوشش کر رہے ہیں ،اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے پروپیگنڈہ کا اثر مسلمانوں پر بھی ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے مسلمانوں کا سفر حج صرف خشک عبادت بنتا جا رہا ہے جس میں مسلمانوں کی مصلحتوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ،جس وقت سے فریضہ حج قرار دیا گیا ہے اسی وقت سے اس کا سیاسی پہلو عبادی پہلو سے کم نہیں رہا ہے ،سیاسی پہلو اپنی سیاست کے علاوہ خود بھی عبادت ہے“۔[81]
موصوف ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”لبیک لبیک “کے ذریعہ تمام بتوں کی نفی کریں اور ”لا“کے نعروں کے ذریعہ تمام سرکش و طاغوت نمالوگوں کے خلاف آواز بلند کریں،خانہ کعبہ کے طواف میں(کہ جو عشق الٰہی کی نشانی ہے)دل کو دوسروں سے خالی کریں،اور دل میںغیر حق کے خوف کو نکال پھینکیںاور خدا کے عشق کے برابر چھوٹے بڑے بتوں اور سرکشوں نیز طاغوت سے وابستہ لوگوں سے برائت کریں،کیونکہ خداوند عالم اور اولیائے الٰہی ان سے بیزار ہیں“۔[82]
لہٰذا حج،عبادت اور سیاست دونوں کامجموعہ ہے ،اور چونکہ اسلامی سیاست بھی عین عبادت ہے ،لہٰذا ہم اسلامی سیاست کو حج سے کیسے دور کرسکتے ہیں،مثال کے طور پر اگر کسی سیب سے ا س کے پانی کو نکالیں تو کیا باقی بچے گا ؟ کیا کوڑے کو سیب کہا جا سکتا ہے؟
عالم نما: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام نیز ان کے ممتاز شاگرد ہمارے لئے نمونہ عمل اور حجت ہیں،یہ حضرات حج کے دوران صرف اعمال حج انجام دیتے تھے،ان کو سیاست سے کوئی مطلب نہ تھا۔
عقلمندعالم: یہ بات بغیر دلیل کے ہے ،اتفاقا ً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے شاگرد مناسب موقع پر خانہ کعبہ کے نزدیک سیاسی ،اجتماعی اور ثقافتی مسائل بیان کر تے تھے اور ان مختلف پہلووٴں پر اہمیت دیتے تھے ،ہم یہاں پر نمونہ کے طور پر چند چیزوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
۱۔پیغمبر اکرم اور آپ کے ساتھیوں کا طواف کرتے وقت تو حیدی مظاہرہ
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہجرت کے ساتویں سال (یعنی فتح مکہ سے ایک سال قبل)”صلح حدیبیہ “ کے تحت اس بات کا حق رکھتے تھے کہ عمرہ کرنے کے لئے مکہ معظمہ جائیں اور تین دن مکہ میں ہیں،چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دو ہزار مسلمانوں کے ساتھ مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوئے ،احرام باندھ کر بہت ہی شان و شوکت کے ساتھ میںمکہ داخل ہوئے اور خانہ کعبہ کا طواف کرنے لگے ،پیغمبر اکرم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھنے کئے لئے کفار قریش کے مرد وعورت چھوٹے بڑے سبھی آئے تھے، آنحضرت اور آپ کے اصحاب کی ہیبت ان کی آنکھوں کو خیرہ کئے ہوئے تھی ،اس سیاسی اہم اور حساس موقع پر آنحضرت نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:
”اپنے شانوں کو کھول دو اور شکوہ مند طور پر طواف کرو،تاکہ مشرکین تمہاری ضخیم کھال اور طاقتور بازوٴں کو دیکھ لیں“
آپ کے اصحاب نے آپ کے فرمان کی پیروی کی اور مشرکین خانہ کعبہ کے چاروں طرف صف لگائے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے اصحاب کے عظم الشان طواف کو دیکھ رہے تھے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ جس وقت ”لبیک اللھم لبیک“کے نعروں کی آواز بلند ہوتی تھی ”عبد اللہ بن رواحہ“(اسلامی لشکر کے سرداروں میں سے ایک شخص)جنھوں نے اپنی تلوار کو حمائل کیا ہوا تھا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بلند آوازمیں بجلی کی کڑک کی طرح اس طرح ”رجز“پڑھتے تھے اور یہ نعرہ لگاتے تھے:
خلو بنی الکفار عن سبیلہ
خلو فکل الخیر فی قبولہ
یا رب انی موٴمن لقیلہ
انی رایت الحق فی قبولہ
”اے کافر زادو!پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے راستہ سے ہٹ جاوٴ،راستہ چھوڑ دو اور جان لو کہ تمام خیرو سعادت رسول اللہ کی رسالت کو قبول کرنے میں ہیں“۔
پالنے والے! میں آنحضرت کے قول پر ایمان رکھتا ہوں ،اور حق کو آپ کے فرمان کو قبول کرنے پاتا ہوں“۔[83]
اس لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں:پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے ساتھیوں کے لئے طواف کعبہ، شان وشوکت اوراظہار قدرت کا مظہر بن گیا جس کا تماشہ مشرکین کر رہے تھے ،حالانکہ عبادت تھی لیکن مشرکین کو مغلوب کرنے کے لئے سیاست اور اسلامی شان وشوکت کا ایک نمونہ تھا۔
۵۸ ہجری (یعنی مرگ معاویہ سے دو سال پہلے )کا زمانہ تھا معاویہ طغیانی اور سرکشی پر کمر باندھے علویوں اور اما م علی علیہ السلام کی شیعوں کے قتل کا در پہ تھا اور ان کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کرتا تھا۔
حضرت امام حسین علیہ السلام بھی اس سال حج کے لئے تشریف لے گئے، مناسک حج کے دوران سر زمین منیٰ میں بنی ہاشم ،شیعوں اور انصار کے ممتاز افراد کو ایک اجتماع کی دعوت دی، جس میں ایک ہزار سے زیادہ افراد جمع ہوئے جن میں کچھ تابعین اور اصحاب رسول کے فرزند ان بھی تھے، حضرت امام حسین علیہ السلام اس اجتماع میں کھڑے ہوئے اور ایک پر جوش تقریر کی ،چنانچہ حمد وثناء الٰہی کے بعد فرمایا:
اما بعد !بے شک پس طاغوت (معاویہ) نے ہمارے اور ہمارے شیعوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کو آپ تمام حضرات اسے جانتے ہیں، آپ لوگوں نے دیکھا ہے اور اس کے گواہ ہیں، اس کی خبریں تم تک پہنچی ہیں میں تم سے کچھ چیز وں کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں اگر صحیح ہوں تو میری تصدیق کرنا اور اگر جھوٹ بولوں تو مجھے جھٹلادینا، میری باتوں کو سنو اور ذہن نشین کرلو اور اعمال حج کےبعد جب اپنے وطن جاؤ تو اپنے قابل اطمینان لوگوں تک یہ میرا پیغام پہنچا دینا، اور ان کو معاویہ کے ظلم و ستم کے مقابلہ کی دعوت دینا، مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اگر یہی حالات رہے تو ”حق“ نیست و نابود ہوجائے گا، لیکن خداوندعالم اپنے نور کو کامل کرے گا اگرچہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ لگے“۔
اس موقع پر امام حسین علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کی افضلیت اور ان کے فرزندوں کی امامت پر قرآن مجید کی آیات اور احادیث رسول بیان کی، جب آپ کی گفتگو کا ایک حصہ ختم ہو جاتا تھا تو حاضرین یہ کہتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کے کلام کی تصدیق کرتے تھے:
”اللہم نعم، قد سمعناہ و شہدناہ“ ۔
”ہم خداکو گواہ قرار دیتے ہیں کہ اس کلام کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے سنااور ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں“۔
آخر کلام میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے ان سے فرمایا:
” تمہیں خدا کی قسم! جس وقت اپنے وطن پہنچو تو اپنے قابل اطمینان افراد تک میرا یہ پیغام پہنچادینا اور ان کو میرے پیغام سے آگاہ کردینا“۔[84]
یہ واقعہ بھی حج کے درمیان سیاسی فائدہ کا ایک نمونہ ہے، جس میں امام علیہ السلام نے حج کے دوران مسلمانوں کے اجتماع سے ظالم و طاغوت معاویہ کے خلاف اقدام فرمایا۔
اس لحاظ سے اس واقعہ میں ہم ابراہیمی حج کو دیکھتے ہیں جو صرف خشک عبادت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اہم سیاسی مسائل بھی بیان ہوئے ہیں، سخت حالات میں حق کی رہبری کا مسئلہ ظالم اور طاغوت کی رہبری سے نفرت جیسے مسائل پر گفتگو ہوئی ہے جو مکمل طور پر سیاسی مسائل ہیں۔
ایک مشہور و معروف تاریخی واقعہ جس میں حج کے مراسم کے ساتھ سیاسی مسائل بھی پائے جاتے ہیں، امام سجاد علیہ السلام کا خانہ کعبہ میں مراسم حج کے دوران اموی طاغوت ہشام بن عبد الملک کے ساتھ مقابلہ ہے جس کا خلاصہ ہم یہاں پیش کرتے ہیں:
عبد الملک کی خلافت کا زمانہ (اموی سلسلہٴ خلافت کا پانچواں خلیفہ) تھا اس کا فرزند ہشام حج کے لئے شہر مکہ میں داخل ہوا، وہ طواف کے وقت حجر اسود کو چومنا چاہتا تھا لیکن کثیر ازدحام کی وجہ سے قریب نہ جاسکتا، چنانچہ حجر اسود کے قریب ہشام کے لئے ایک منبر رکھا گیا، وہ منبر پر گیا، ہشام کے پاس کچھ لوگ جمع ہوگئے اور وہ طواف کرنے والوں کو دیکھنے لگا، اچانک دیکھا کہ امام سجاد علیہ السلام بھی طواف میں مشغول ہیں، امام علیہ السلام جب حجر اسود کو چومنا چاہتے تھے تو لوگوں نے راستہ دیا اور آپ نے بہت ہی آرام سے نزدیک جاکر حجر اسود کو بوسہ لیا۔
اس موقع پر ایک شامی مرد نے ہشام سے کہا:
”یہ شخص کون ہے جس کا اتنا احترام ہورہا ہے؟“
ہشام نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا: ” میں نہیں جانتا“۔
اس حساس موقع پر خاندان رسالت کا انقلابی شاعر فرزدق جو ائمہ علیہم السلام کے شاگردوں میں تھا اس نے اس شامی مرد سے کہا:
”ولکنی اعرفہ“(لیکن میں ان کو پیچانتا ہوں“۔)
شامی نے کہا:تو پھر بتاوٴ کہ یہ شخص کون ہے؟
فرزدق نے اما م سجاد علیہ السلام کی شان میں وہ مشہور ومعروف اور عظیم الشان قصیدہ پڑھا، جس کہ ۴۱ شعر ہیں اور جس کا مطلع یوں آغاز ہوتا ہے:
ھذاالذی تعرف البطحاء و طاٴتہ
والبیت یعرفہ والحل و الحرم
”یہ وہ شخص ہے کہ مکہ معظمہ کے سنگریز ہ اس کے پیروں کے نشانوں کو پہنچانتے ہیں، خانہ کعبہ اور حجاز کے بیابان، داخل حرم اور بیرون حرم اس کو پہچانتے ہیں“۔
یہ سنتے ہی ہشام کو غصہ ہو آگیا اور فرزدق کو قیدکرنے کا حکم دیدیا ،جس وقت امام سجاد علیہ السلام کو فرزدق کے قیدی بنائے جانے کی خبر ملی تو ان کے لئے دعا کی اور ان کی دلجوئی کی ،ان کے لئے بارہ ہزار درہم بھیجے،لیکن فرزدق نے ان درہموں کو قبول نہ کیا جس کے بعد امام علیہ السلام نے ان کو پیغام بھجوایا:
”تمہیں اس حق کی قسم جو ہم تم پر رکھتے ہیں ،اس مبلغ (ہدیہ)کو ہماری طرف سے قبول کر لو ،خدا وند عالم تمہاری کی پاک نیت اور تمہارے مقام سے واقف ہے “اس موقع پر فرزدق نے اس مبلغ کو قبول کر لیا،اور قید میں ہشام کی مذمت میں اشعار کہے۔[85]
اس واقعہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ امام سجاد علیہ السلام خانہ کعبہ کے طواف کے وقت ہشام کی شان و شوکت پر کوئی توجہ نہیں کرتے اور فرزدق کے کلام کی تائید کرتی ہیں جو مکمل طور پر سیاسی پہلو رکھتی تھی اور ان کی احوال پرسی کی،ا ن کے لئے دعاکی اور ۱۲۰۰۰/ درہم ان کے لئے بھیجے ، نیز ان کی پاک وپاکیزہ نیت کی قدر دانی کی،اور بھر پور طریقہ سے ان کی تائید کی۔
کیا یہ واقعہ اور امام علیہ السلام کی تائید اس چیز کی عکاسی نہیں کرتی کہ حج کے عظیم الشان موقع پر سیاسی مسائل کا بیان کرنا ائمہ معصومین علیہم السلام کے نزدیک مقبول اور محبوب کام تھا؟!
جلیل القدر محدث ثقة الاسلام شیخ کلینی علیہ الرحمة موثق سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:ہمارے پدر بزرگوار(امام محمد باقر علیہ السلا م)نے وصیت فرمائی کہ میرے مال کا ایک حصہ وقف کرنا تاکہ سر زمین منیٰ میں د س سال تک مجھ پر گریہ کیا جائے اور میرے مظلومیت پر آنسو ں بہائے جائیں“۔[86]
یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے یہ وصیت کیوں نہ فرمائی کہ مدینہ میں ان کی قبر پر عزاداری کی جائے! اور یہ کیوں نہ وصیت فرمائی کہ حج کے موسم کے علاوہ مکہ یا منیٰ میں ان پر عزاداری کریں؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امام علیہ السلام چاہتے تھے کہ جب حج کے موسم کے دوران لوگ منیٰ میں جمع ہو جائیں اس وقت ان کے لئے عزاداری ہو ،مجلس برپا ہوتا کہ ظالموں کا پتہ چل جائے اور لوگوں پر بنی امیہ کا ظالمانہ کردار مسلمانوں کے بارے میں ان کی حق تلفی اور ظلم وستم واضح ہو جائے ،نیز اس طرح کے دوسرے مسائل بیان کئے جائیں،پس معلوم یہ ہوا کہ موسم حج میں ضروری سیاسی مسائل کا بیان کرنااس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ جس کے بارے میں امام محمد باقر علیہ السلام وصیت فرماتے ہیں، اور اپنے مال کا ایک حصہ وقف کرتے ہیں۔
احکام حج عبادت وسیاست دونوں کا مجموعہ ہے
جب ہم حج کے احکام کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کے علاوہ عین سیاست ہیں، مثال کے طور پر درج ذیل چند نمونے:
جب انسان، حج کے لئے احرام پہنتا ہے تو لباس کے دو حصوں سے اپنے بدن کو چھپاتا ہے، تمام لوگ چاہے غریب ہو یا امیر ،حاکم ہو یا ریاعا، سب ایک طرح کے بن جاتے ہیں ،لہٰذایہ بھی ذات پات اور طبقہ بندی کا مقابلہ ہے جو کہ سیاسی لحاظ سے ایک اہم مسئلہ ہے۔
۲۔احرام کے احکام میں سے ایک حکم یہ ہے کہ انسان کسی کو یہاں تک جانوروں اورگھاس کو بھی نقصان نہ پہنچائے،حشرات کو مارنا بھی حرام ہے ،حرم میں درخت اور گھاس کا اکھاڑنا بھی حرام ہے ،بدن سے بال اکھاڑنابھی حرام ہے ،اسلحہ ساتھ لینا بھی حرام ہے ،۔۔۔یہ تمام احکام ہمیں امنیت اور امن وامان کا درس دیتے ہیں جو حکومت کے سیاسی پہلو وٴںمیں ایک اہم مسئلہ ہے۔
۳۔طواف کعبہ کے وقت جب سات چکر پورے ہو جائیں تو مستحب ہے کہ حجر اسودپر ہاتھ پھیریں ،امام جعفر صادق علیہ السلام ایک حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں:
”وھو یمین اللہ فی ارضہ یبایع بھا خلقہ“[87]
”حجر اسود زمین پر دست خدا ہے خداوند عالم اس کے ذریعہ اپنی مخلوق سے بیعت کرتا ہے“۔
یعنی مسلمان اس پر اپنا ہاتھ رکھ کرخدا سے بیعت کرتے ہیں۔
اصولی طورپر ”بیعت “مکمل طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے ،خدا سے بیعت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم تیری راہ میں قدم بڑھاتے ہیں اور تیرے دشمنوں جیسے امریکہ اور اسرائیل نیز دیگر تمام مشرکین وکفار سے دشمنی کرتے ہیں۔
۴۔منیٰ کے میدان میں ”رمی جمرات“کرتے ہیں اور ان کی طرف جو شیطان کا محاذ ہے پتھر مارتے ہیں اس عمل کا سیاسی پہلو یہ ہے کہ امریکہ ،اسرائیل اور دیگر شیطانی طاقتوں کے مظہر کی طرف پتھر پھینکنا چاہئے ہمیں دشمن کی پہچان اس طرح ہو کہ پتھر اس نشانہ پر ماریں جو ”جمرہ“پر جا کر لگے ،اگر تھوڑا بھی ادھر ادھر لگے تو وہ صحیح نہیں ہے۔
۵۔منیٰ کی قربان گاہ میں،اونٹ ،گائے یا بکرا قربانی کریں جو ایثار اور فدا کاری کا درس اور شیطانیت کے مظہر سے مقابلہ کے لئے سیاست کا اہم رکن ہے۔
یہاں پریہ چیز ذکر کردینا ضروری ہے کہ جس وقت امام مہدی (عج)ظہور فرمائیں گے ،تو خانہ کعبہ کے پاس ظہور ہوگا ،وہیں پر آپ کے ۳۱۳/انصار آپ کی بیعت کریں گے۔[88]
اس بنا پر ہے کہ حضرت فا طمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
”جعل اللہ الحج تشییداً للدین“۔[89]
”خدا وند عالم نے حج کو دینی بنیاد کے استحکام کے لئے واجب قرار دیا ہے“۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”لا یزال الدین قائما ما قامت الکعبة “[90]
”جب تک خانہ کعبہ پا بر جا ہے اسلام بھی پا برجا ہے“۔
واقعاً یہ حقیقت ہے کہ جب حج میں صرف اس کے عبادی پہلو پر اکتفاء کی جائے اور حج کے اہم ترین پہلو یعنی سیاسی پہلو کو نظرانداز کر دیا جائے تو کیا پھر کیا دینی بنیادیں مستحکم اور مضبوط ہو سکتی ہیں؟!
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ جناب ”عبد المطلب“ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے دادا کی قبر اور ”ابو طالب“حضرت علی علیہ السلام کے پدر بزرگوار کی قبر ”قبرستان حجون“میں ایک جگہ ہیں،اورجب شیعہ حضرات مکہ معظمہ مشرف ہوتے ہیں تو حتی الامکان ان دونوں بزرگو کی قبور کی زیارت کے لئے جاتے ہیں، لیکن اہل سنت اس سلسلہ میں کوئی اہمیت نہیں دیتے ،بلکہ اس کو جائز نہیں مانتے۔
اس چیز کے پیش نظر درج ذیل مناظرہ پر توجہ فرمائیں:
ایک شیعہ عالم نقل کرتے ہیں: میرے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کمیٹی کے سرپرست کے درمیان حضرت عبد المطلب اور جناب ابوطالب کی قبروں کی زیارت کے حوالہ سے گفتگو ہوئی۔
اس نے کہا: آپ شیعہ لوگ عبد المطلب اور ابوطالب کی قبروں کی زیارت کے لئے کیوں جاتے ہیں؟
میں نے کہا:کیاکوئی مشکل ہے؟
سر پرست: عبد المطلب ”فَتْرت“(خدا کی طرف سے پیغمبر نہ ہونے کا زمانہ)میں زندگی کرتے تھے ،کیونکہ جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آٹھ سال کے تھے اور مبعوث بر سالت نہیں ہوئے تھے اس وقت عبد المطلب کا انتقال ہوا،لہٰذا دین توحیدی اس زمانہ میں نہیں تھا ،اس بنا پر آپ حضرات کسی بنیاد پر ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں؟!
اور ابو طالب (نعوذ باللہ)مشرک دنیا سے گئے ہیں،لہٰذا مشرک کی زیارت کے لئے جانا جائز نہیں ہے؟!
میں نے کہا:کوئی بھی مسلمان جناب عبد المطلب کو مشرک کہنے کے لئے تیار نہیں ہے،وہ اسی زمانہ میں خدا پرست اور یکتا پرست تھے،وہ دین ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کرتے تھے ،یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اوصیاء میں سے تھے وہ اہل سنت کی کتابوں میں وارد ہونے والی روایات کے مطابق ابرہہ کے حملہ کے وقت جو خانہ کعبہ کو ویران کرنے آیا تھا ،اور سورہٴ فیل کے مطابق وہ خود ہلاک ہو گیا ،جس وقت عبد المطلب اپنے اونٹ کے لئے ابرہہ کے پاس گئے تو ابرہہ نے کہا:میرے لحاظ سے آپ بہت پست آدمی ہیں اپنے اونٹ لینے کے لئے توآگئے لیکن اپنے دین اور دینی عبادتگاہ ”کعبہ“ کے بارے میں کچھ نہیں کہتے “!
جناب عبد المطلب نے جواب دیا:
”انا رب الابل ،وان للبیت ربا سیمنعہ“۔
”میں اونٹوں کا مالک ہو،اور اس گھر کا بھی ایک مالک (خدا)ہے جو عنقریب خود اس کا دفاع کرے گا“۔
اس کے بعد جناب عبد المطلب خانہ کعبہ کے پاس آئے اور خانہ کعبہ کے دروازہ کا حلقہ پکڑ کر دعا کی ،نیز چند اشعار پڑھے۔جن میں سے ایک شعر کا مضمون یہ ہے:
”پالنے والے !ہر شخص اپنے اہل خانہ کا دفاع کرتا ہے ،توبھی اپنے حرم امن میں رہنے والوں کا دفاع فرما“[91]
یہی موقع وہ تھا کہ عبد المطلب کی دعا قبول ہوئی ،خداوند عالم نے ابابیلوں کے گروہ کو بھیجاجنھوں نے ابرہہ کے لشکر کو نابود کردیا ،سورہٴ فیل اس سلسلہ میں نازل ہوا۔
اور شیعہ روایات میںبیان ہوا ہے کہ حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:خدا کی قسم،میرے پدر گزرگوار ابو طالب ،دادا عبد المطلب اور ہاشم بن عبد مناف نے ہر گز بتوںکی پرستش نہیں کی۔
یہ حضرات کعبہ کی طرف نماز پڑھتے تھے ،اور جناب ابراہیم علیہ السلام کے دین کے مطابق عمل کرتے تھے“۔[92]
اب رہی بات ایمان ابو طالب کی بات تو:
اولاً: ائمہ اہل بیت علیہم السلام اور شیعہ علماء کے اجماع کی بناپر وہ مسلمان اور مومن اس دنیا سے گئے ہیں۔
ابن ابی الحدید (جو اہل سنت کے مشہور ومعروف عالم دین ہیں)نقل کرتے ہیں ایک شخص نے حضرت امام سجاد علیہ السلام سے سوال کی: ”کیا جناب ابو طالب مومن تھے؟“امام علیہ السلام نے فرمایا: ”جی ہاں“
ایک دوسرے شخص نے امام سجاد علیہ السلام سے سوال کیا: ”یہاں کے کچھ لوگ جناب ابوطالب کو کافر کہتے ہیں“۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: واقعا ً تعجب ہے اس بات پر کہ یہ لوگ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم اور جناب ابو طالب کو ناجائز نسبت دیتے ہیں ،پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم نے مومن عورت کا کافر مرد سے نکاح کو ممنوع قرار دیا ہے ،جب کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ فاطمہ بنت اسد اسلام میں سبقت کرنے والوں میں تھیں،اور جناب ابو طالب کی آخری عمر تک فاطمہ بنت اسد ان کی زوجیت پر باقی رہیں“[93]
ثانیاً: اہل سنت کے علماء اور بہت سے راویوںنے نقل کیا ہے:پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عقیل بن ابو طالب سے فرمایا:
”انی احبک حبین ،حبا لقرابتک منی وحبا لما کنت اعلم من حب عمی ابی طالب ایاک“۔[94]
”میں تم سے دہری محبت کرتا ہوں ایک رشتہ داری کی بنا پر دوسرے اس وجہ سے کہ میرے چچا ابو طالب تمہیں دوست رکھتے تھے “۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گفتگو بہترین گواہ ہے کہ آنحضرت ایمان ابو طالب پر عقیدہ رکھتے تھے، ورنہ تو کافر کی دوستی کوئی اہمیت نہیں رکھتی جس کی وجہ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عقیل سے محبت کریں۔[95]
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ برادران اہل سنت اپنے آباء واجداد کی اندھی تقلید کرتے ہوئے ابو طالب کے ایمان نہ لانے کو نسل بہ نسل نقل کرتے چلے آئے ہیں،لیکن اس چیز سے غافل ہیں کہ ان کی معتبر اور مستند کتابوں میں دسیوں بلکہ سیکڑوں روایت موجود ہیں جو ایمان ابوطالب پر بہترین دلیل اور گواہ ہیں ،لیکن حقیقت میں حضرت ابو طالب کو مشرک کہنے کا راز متعصب اور ہٹ دھرم لوگوںکی ان کے فرزند امام علی علیہ السلام سے عداوت اور دشمنی ہے اور یہ تعصب بنی امیہ کے زمانہ سے آج تک جاری ہے خود حضرت علی علیہ السلام کی قسم کہ اگر ابو طالب آپ کے باپ نہ ہوتے تو حضرت ابو طالب کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مخلص مومن اور پاکیزہ ترین چچا اور قریش کی سب سے زیادہ مومن شخصیت کے عنوان سے پہچنواتے۔
حقیر کی ملاقات علامہ امینی مرحوم صاحب کتاب ”الغدیر “کے فرزند ارجمند سے ہوئی ،جناب ابو طالب کے بارے میں گفتگو ہونے لگی تو موصوف نے فرمایا:جس وقت ہم نجف اشرف میں تھے ،تو ہم نے سنا کہ ”احمد خیری“مصری دانشور حضرت ابو طالب کے بارے میں کوئی کتاب لکھ رہے ہیں ،ہم نے ان کو ایک خط لکھا کہ آپ اس کتاب کو اس وقت تک نہ چھپوائیں کہ جب تک الغدیر کی ساتویں جلد (جو ابھی تک نہیں چھپی اور چھاپ خانہ میں ہے)آپ تک نہ پہنچچائے جس وقت الغدیر کی ساتویں جلد چھپ گئی (جس کا آخری حصہ حضرت ابو طالب کے بارے میں ہے)فوراً ہی ان کے لئے کتاب بھیجی کچھ مدت کے بعد جناب ”احمدخیری“کا خط آیا جس میں شکریہ کے بعد تحریر تھا کہ الغدیر کی ساتویں جلد مجھے ملی،میں نے اس کتاب کو بغور مطالعہ کیا،اس کتاب نے ابو طالب کے بارے میں میرا عقیدہ بالکل بدل دیا ،اور میں نے ابوطالب کے بارے میں جو کچھ لکھا تھا بالکل بر عکس ہو گیا اور میرا نظریہ بالکل بد ل گیا ہے اور مجھے ایک نئی فکر مل گئی ہے۔
آخر میں موصوف نے لکھا تھا:حضرت ابو طالب کا دفاع اور ان کا جہاد و کوشش (اسلام کے ثبات اور اسلام کی نشر واشاعت میں)اس قدر زیادہ ہیں کہ تمام مسلمانوں کے ایمان میں ان کا حصہ ہے اور تمام مسلمان ان کے مقروض ہیں“
سر پرست: اگرا یمان ابو طالب اتنا واضح و روشن ہے تو پھرہمارے علماء ابو طالب کے بارے میں کیوںمختلف باتیں کہتے ہیں اور بعض نے تو ان کے کفر کی وضاحت کی ہے ،اس مشکل کا راز کیا ہے؟!
میں نے کہا: جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے ،حقیقت یہ ہے کہ معاویہ کی حکومت کے زمانہ میں حضرت علی علیہ السلام کے لئے نامناسب الفاظ یہاں تک کہ نماز کی قنوت میں بھی لعنت کی جاتی تھی، اور تقریبا ً۸۰ سال منبر کے اوپر سے (نعوذ باللہ) آپ پر لعنت کی جاتی تھی ،زر خرید قلموں نے جھوٹی اور بے بنیاد روایات گڑھ کر جناب ابوطالب کو کافر بتادیا، تاکہ حضرت علی علیہ السلام کو کافر زادہ کے عنوان سے لوگوں میں مشہور کیا جائے،اور قطعی طور پر آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہی جعلی روایات آپ لوگوں کی کتابوں میں داخل ہوگئیں جس نے ذہنوں میں یہ چیز ڈال دی ہے ،ورنہ ایمان ابو طالب مکمل طور پر واضح ہے۔
ایک دوسرا راز یہ ہے کہ جناب ابو طالب راہ اسلام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دفاع میں خاص طریقہ سے تقیہ کے عالم میں رفتار کرتے تھے، تاکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بہتر طور پر حمایت کر سکیں،اور اگر وہ علنی طور پر ایمان کااظہار فرماتے تو آغاز بعثت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حمایت بہتر اور شائستہ طور پر نہیں کر سکتے تھے۔
اس لحاظ سے بہت سی روایات کے مطابق حضرت ابو طالب کی مثال ”مومن آل فرعون“اور ”اصحاب کہف“کی طرح ہے جو دین کی ترقی و سر فرازی کے لئے اپنے ایمان کو مخفی رکھتے تھے ،تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام میں ایک طولانی روایت کی ضمن میں بیان ہوا ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: ”خداوندعالم نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر وحی کی کہ میں آپ کی دو گروہوں کے ذریعہ مدد کروںگا ،ایک گروہ مخفی طور اور دوسرا گروہ ظاہری طور پر مدد کرے گا، پہلے گروہ کے سب سے بہترین رئیس جناب ”ابواطالب “اور دوسرے گروہ کے سب سے بہتر سر پرست ان کے فرزند حضرت علی علیہ السلام ہیں“[96]
اہل علم پر یہ بات واضح ہے کہ یہ دونوں گروہ اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے ہمیشہ دشمنوں سے مقابلہ کرتے رہے ہیں، مخفیانہ مقابلہ ظاہری مقابلہ سے کم نہیں ہوتا ہے۔
ایک مدرسہ میں میرے اور اہل سنت کے عالم کے درمیان حضرت علی علیہ السلام کے پدر بزرگوار جناب ابوطالب کے ایمان کے سلسلہ میں ایک مناظرہ ہوا:
سنی عالم:ہماری معتبرکتابوں میں ابو طالب کے بارے میں روایات مختلف بیان ہوئی ہیں ،بعض میں ان کی مدح و ثنا کی گئی ہے اور بعض میں ان کی مذمت کی گئی ہے۔
موٴلف:(ائمہ معصومین علیہم السلام جو عترت پیامبر صلی الله علیه و آله وسلم ہیں کی پیروی کرتے ہوئے) شیعہ علماء کا اتفاق اس بات پر ہے کہ جناب ابو طالب ایک ممتاز شخصیت ،مومن اور راہ اسلام میں بہت زیادہ کوشش کرنے والے فرد ہیں۔
سنی عالم:اگر ایسا ہے تو پھر(جناب )ابو طالب کے ایمان نہ لانے پر بہت سی روایات موجود ہیں؟
موٴلف:جناب ابو طالب کا جرم یہ ہے کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کے پدر بزرگوار ہیں، حضرت علی علیہ السلام کے سرسخت دشمن جن میں سر فہرست معاویہ ہے (علیہا الہاویہ) سب نے بیت المال سے دین فروشوں کو ہزار وں دینار دئے تاکہ جعلی اور جھوٹی روایتیں گڑھیں اور ان روایت گڑھنے والے سیم و زر کے غلاموں کی بے شرمی نے اتنا کام کیا کہ ابو ہریرہ (جو جھوٹی روایت گڑھنے میں مشہور ہے)سے نقل کیا گیا کہ اس نے کہا:
”پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے رحلت کے وقت وصیت کی کہ علی کے ہاتھوں کو کاٹ دیا جائے“![97]
لہٰذامعاویہ اور دیگر بنی امیہ خلفاء کے زمانہ میں شکم پرست اور بے شرم وذلیل لوگوں نےجناب ابوطالب کے مشر ک ہونے پر جعلی احادیث گڑھی ظاہر سی بات تھی ،ان لوگوں نے جناب ابوطالبعلیہ السلام کے سلسلہ میں اس قدر غلط پروپیگنڈہ کیا جس کا ہزاروں حصہ بھی ابو سفیان کے بارے میں بھی نہیں کیا اس کا باطن پلید تھا اور پوری زندگی کے کارنامے سیاہ تھے۔
چنانچہ اس گندی سیاست کے تحت ہی جناب ابو طالب پر مشرک ہونے کی تہمت لگائی گئی ہے۔
سنی عالم:قرآن مجید کے سورہٴ انعام آیت ۲۶ میں ارشاد خداوندی ہے:
”وَہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَیَنْاٴَوْنَ عَنْہ“
”اور دوسروں کو اس سے روکتے ہیں ،اور خود بھی اس سے دوری کرتے ہیں“
اس آیت سے مر اد(بعض ہمارے مفسرین کے قول کے مطابق) یہ ہے کہ ”بعض لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا دفاع کرتے تھے ،لیکن پھر بھی خود پیغمبر سے دوری کرتے تھے “
یہ آیت ابو طالب جیسے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو دشمنوں کے مقابلہ میں پیغمبر ٴ کا دفاع کرتے تھے لیکن ایمان کے لحاظ سے ان سے دوری کرتے تھے !
موٴلف کا قول:اولاً: جیسا کہ ہم بیان کریںگے:آیت کے معنی اس طرح نہیں ہے جس طرح آپ نے کئے ہیں۔
ثانیا ً: بالفرض اگر ہم مان بھی لیں کہ یہی معنی صحیح ہیں تو بھی کس دلیل کے تحت یہ آیہٴ شریفہ جناب ابوطالب کے بارے میں صادق آتی ہے ؟!
سنی عالم: دلیل یہ ہے کہ ”سفیان ثوری حبیب ابن ابی ثابت“ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس نے کہا: ”یہ آیت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، چونکہ لوگوں کو پیغمبر اکرم کے آزار و اذیت پہنچانے سے روکتے تھے ،لیکن خود اسلام سے دور رہے “[98]
مولف: آپ کے جواب میں مجبوراً چند چیزوں کی طرف اشارہ کرتا ہوں:
۱۔آیت کے معنی اس طرح نہیں ہے جس طرح آپ نے کئے ہیں بلکہ آیت کے قبل وبعد کے پیش نظر کفار ومشرکین کے بارے میں ہے جس کے ظاہر ی معنی یہ ہیں: ”وہ لوگ (کفار)لوگوں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی سے روکتے تھے اور خود بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دور ی کرتے تھے“[99] لہٰذا آیت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دفاع کی کوئی بات نہیں ہے۔
۲۔لفظ ”ینئون “دوری کے معنی میں ہے ،جب کہ جناب ابو طالب ہمیشہ پیغمبر اکرم کے ساتھ رہے اور کبھی بھی آپ سے دور ی نہیں کی۔
۳۔سفیان ثوری کی روایت جس میں ابن عباس کی طرف نسبت دی گئی ہے کہ انھوں نے کہا:مذکورہ آیت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ روایت چند لحاظ سے قابل تردید ہے:
الف:سفیان ثوری ،یہاں تک کہ خود بزرگ علمائے اہل سنت کے اعتراف کی بنا پر جھوٹا اور غیر موٴثق ہے۔[100]
اور ابن مبارک سے منقول ہے کہ سفیان (ثوری) تدلیس کرتا تھا یعنی جھوٹ بولتا تھا اورحق کو ناحق اور ناحق کو حق کر کے پیش کرتا تھا۔[101]
اس مذکورہ روایت کا دوسرا راوی ”حبیب بن ابی ثابت “ہے اور یہ بھی ابو حیان کے قول کے مطابق تدلیس سے کام لیتا تھا۔[102]
ان تمام چیزوں کے علاوہ مذکورہ روایت ،مرسل ہے یعنی حبیب اور ابن عباس کے درمیانی راوی حذف ہیں۔
ب: ابن عباس ان مشہور ومعروف افراد میں سے ہیں جو ایمان ابو طالب کا عقیدہ رکھتے تھے، لہٰذا کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس طرح کی روایت نقل کریں؟!
اس کے علاوہ جیساکہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا کہ جناب ابن عباس نے مذکورہ آیت کے معنی اس طرح کئے ہیں: ”کفار لوگوں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی سے روکتے تھے ،اور خود بھی آنحضرت سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے“۔
ج: مذکورہ روایت کہتی ہے:یہ آیت صرف ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب کہ لفظ ”ینھون“اور ”ینئون“جمع کے صیغے ہیں۔
اس بنا پر بعض تفسیر کے مطابق مذکورہ آیت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچاوٴں کو شامل ہے کیونکہ آنحضرتکے دس چچا تھے، لیکن ان میں سے تین مومن چچا یعنی حمزہ، عباس اور ابو طالب کو شامل نہیں ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مشرکین سے دوری کرتے تھے جیسا کہ اپنے چچا ابو لہب سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے لیکن جناب ابوطالب کے ساتھ ان کی آخری عمر تک خصوصی رابطہ تھا، چنانچہ آنحضرت نے آپ کی وفات کے سال کو ”عام الحزن“(غم کا سال )نام رکھا اور ان کے جنازہ کی تشییع کے وقت فرماتے جاتے تھے:
”وابتاہ واحزناہ! علیک کنت عندک بمنزلة العین من الحدقة والروح من الجسد“[103]
”اے پدر بزرگوار!آپ کی موت میرے نزدیک کس قدر غمناک ہے ،میں آپ کے نزدیک آنکھ میں پتلی کی مانند اور بدن میں روح کی طرح تھا“[104]
کیا واقعاً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایسی ناجائز تہمت لگائی جا سکتی ہے کہ آپ کسی مشرک کی اس طرح تعریف کریںاور اس کی وفات پر اس قدر غم و اندوہ کا اظہار کریں جب کہ قرآن مجید میں متعدد آیات یہ اعلان کرتی ہیں کہ مشرکین سے بیزاری اختیار کرو؟!
اشارہ
ہم سورہٴ مائدہ کی ۵۵ ویں آیت میں پڑھتے ہیں۔
” إِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اللهُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَہُمْ رَاکِعُونَ“
”تمہارا ولی صرف خدا ،اس کا رسول اور وہ صاحب ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰةدیتے ہیں“۔
شیعہ اور سنی دونوںسے متواتر روایت نقل ہوئی ہے کہ یہ آیت امیر الموٴمنین علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور یہ آیت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد آپ کی رہبری اور ولایت کی دلیل ہے۔
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مولائے کائنات علی بن ابی طالب علیہ السلام مسجد میں نمازپڑھ رہے تھے ایک سائل نے آکر سوال کیا تو کسی نے اسے کچھ نہیں دیا۔ حضرت علی علیہ السلام اس وقت رکوع میں تھے اور اسی رکوع کی حالت میں آپ نے اپنے داہنے ہاتھ کی انگوٹھی کی طرف اشارہ کیا اور سائل نے آکر آپ کی انگلی سے وہ انگو ٹھی اتارلی۔ اس طرح آپ نے نماز میں صدقہ کے طور پر اپنی انگوٹھی فقیر کو دے دی، اس کے بعد آپ کی تعریف و تمجید میں یہ آیت نازل ہوئی۔[105]
اب آپ ایک یونیورسٹی کے طالب علم کاایک عالم دین سے مناظرہ ملاحظہ فرمائیں:
طالب علم: ”میں نے سنا ہے کہ جو انگوٹھی علی علیہ السلام نے فقیر کو دی تھی وہ بہت ہی قیمتی تھی اور بعض کتب جیسے تفسیر برہان(ج۱،ص۴۸۵)میں ملتا ہے کہ اس انگوٹھی کا نگینہ ۵ مثقال سرخ یاقوت تھا جس کی قیمت شام کے خزانہ کے برابر تھی، حضرت علی علیہ السلام یہ انگوٹھی کہاں سے لائے تھے ؟کیا علی علیہ السلام حُسن وتزئین پسند تھے ؟کیا اتنی قیمتی انگوٹھی پہننا فضول خرچی نہیں ہے؟تصویر کے دوسرے رخ سے امام علی علیہ السلام کی طرف یہ نسبت دینا بالکل غلط ہے کیونکہ وہ لباس ،کھانے اور دوسری دنیوی اشیاء میں حد درجہ زہد سے کام لیتے تھے جیسا کہ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں:
”فوالله ما کنزت من دنیا کم تبراً ولاادخرت من غنائمھا وفراً ولا اعددت لبالی ثوبی طمر ا ولا حزت من ارضھا شبرا ولا اخذت منہ الا کقوت اتان دبرةٍ“۔
”خدا کی قسم !میں تمہاری دنیا سے سونا چاندی جمع نہیں کرتا اور غنائم اور ثروتوں کا ذخیرہ نہیں کرتا اور اس پرانے لباس کی جگہ کوئی نیا لباس نہیں بنواتا اور اس کی زمین سے ایک بالشت بھی میں نے اپنے قبضہ میں نہیں کیا اور اس دنیا سے اپنی تھوڑی سی خوراک سے زیادہ نہیں لیا ہے۔[106]
عالم دین: ”یہ گراں قیمت انگوٹھی کے بارے میں فالتوبات ہے جو بالکل بے بیناد ہے اور متعدد روایتوں کے ذریعہ اس آیت کے شان نزول کے بارے میں ہرگز اس طرح کی انگوٹھی کا ذکر نہیں ہوا ہے اور صرف تفسیر برہان میں ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ اس انگوٹھی کی قیمت ملک شام کے خزانہ کے برابر تھی یہ روایت ”مرسلہ“ہے اور ممکن ہے کہ اس کے راویوں نے مولائے کائنات کی اہمیت کو کم کرنے کی خاطر اس روایت کو گڑھا ہو“۔
طالب علم: ”بہر حال انگوٹھی قیمتی تھی یہ بات تویقینی ہے ورنہ پھر فقیر کا پیٹ کیسے بھرتا؟“
عالم دین: ”شاعر کے قول کے مطابق اگر ہم فرض کر لیں کہ یہ انگوٹھی بہت قیمتی تھی جیسا کہ شاعر کہتا ہے:
بر وای گدای مسکین درخانہ علی زن
کہ نگین پادشاہی دھد از کرم ،گدا را
تاریخ میں ملتا ہے کہ یہ انگوٹھی ”مروان بن طوق “نامی ایک مشرک کی تھی امام علیہ السلام جنگ کے دوران جب اس پر کامیاب ہوگئے تو اسے قتل کر کے غنیمت کے طور پر اس کے ہاتھ سے یہ انگوٹھی اتارلی اور اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی خدمت میں لے کر آئے تو آپ نے فرمایا: ”اس انگوٹھی کو مال غنیمت سمجھ کر تم اپنے پاس رکھو“، ساتھ ساتھ یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ جانتے تھے کہ اگر علی علیہ السلام اس انگوٹھی کو لے بھی لیں گے تو کسی امین کی طرح اس کی حفاظت کریں گے اور مناسب مو قع پر اسے کسی محتاج و فقیر کو دے دیں گے۔
اس طرح یہ انگوٹھی آپ نے خریدی نہیں تھی اور ابھی یہ انگوٹھی حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں میں چند دن ہی رہی ہوگی کہ صرف ایک محتاج کی آواز سن کر آپ نے اسے دے دیا۔[107]طالب علم: ” لوگ نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نماز کے وقت خشوع و خضوع میں اس حدتک غرق ہوجاتے تھے کہ امام حسن علیہ السلام کے حکم کے مطابق جنگ صفین میں ان کے پیر میں لگے تیر کو نماز کی حالت میں نکال لیا گیا تھا لیکن انھیں احساس تک نہ ہوا اب اگر اس طرح ہے تو حالت رکوع میں انھوں نے اس فقیر کی آوازکیسے سن لی اور انگوٹھی اسے دےدی؟“
عالم دین: ” جو لوگ اس طرح کا اعتراض کرتے ہیں وہ یقینا غفلت میں ہیں کیونکہ محتاج وفقیر کی آواز سننا اپنی ذات کی طرف متوجہ کرنا نہیں ہے بلکہ یہ تو جہ خدا کی طرف عین توجہ ہے۔علی علیہ السلام نماز میں اپنے سے بیگانہ تھے نہ کہ خدا سے ، واضح طور پر نماز کی حالت میں زکوٰة دینا عبادت کے ضمن میں عبادت ہے اور جو روح عبادت کے لئے غیر مناسب ہے وہ مادی اور دنیاوی چیزیں ہیں لیکن جو توجہ خدا وند متعال کی راہ میں ہو وہ یقینا روح عبادت کے موافق ہے اور تقویت کرنے والی ہے۔
البتہ یہ جاننا چاہئے کہ خدا کی توجہ میں غرق ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا احساس بے اختیاری طور پر اس کے ہاتھ سے جاتا رہا ہے بلکہ اس سے مرادیہ ہے کہ جو چیز خداکی مرضی کے مطابق نہیں ہے اس سے اپنی توجہ ہٹالے۔
علمائے اہل سنت اور اہل تشیع کی ایک بہت ہی گرماگرم مجلس تھی جس میں تمام افراد اس بات پر متقق تھے کہ بغیر کسی تعصب کے اور حسن نیت کے ساتھ مذاہب اسلام کے مذہب حقہ کے متعلق مذاکرہ کریں ،چنانچہ اس مناظرہ کا آغازاس طرح ہوا:
سنی عالم: ”اگر علی علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بلا فصل خلیفہ ہیں تو یہ ضروری تھا کہ قرآن مجیدمیں اس چیز کا ذکر ہوتا تاکہ مسلمان اختلاف کا شکار نہ ہوتے“۔
شیعہ عالم: ”زید بن حارثہ کے علاوہ قرآن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے کسی صحابی کا نام نہیں آیا ہے اور زید بن حارثہ کا نام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے زیدکی سابق بیوی”زینب“کے ساتھ شادی کے سلسلہ میں آیا ہے“۔[108]
سنی عالم: ”جس طرح ایک جزئی اور فرعی حکم کی مناسبت کی وجہ سے زید کا نام قرآن میں آیا ہے اسی طرح یہ بھی ضروری تھا کہ علی علیہ السلام کا نام ان کی امامت کے سلسلہ میں آئے“۔
شیعہ عالم: ”اگر علی علیہ السلام کا ذکر قرآن میں ہوتا تو آپ کے دشمن کی کثرت سے وہ لوگ قرآن ہی کو تحریف کر دیتے لہٰذا مناسب یہی تھا کہ خدا آپ کی رہبری اور ولایت کا ذکر اوصاف سے کرے کیونکہ قرآن کی یہ روش رہی ہے کہ اس نے کلیات بیان کئے ہیں اور اس کا مصداق پیغمبر اکرم نے معین کیا“۔
سنی عالم: ”قرآن میں علی علیہ السلام کے اوصاف کہاںپر بیان ہوئے ہیں؟“
شیعہ عالم: ”سیکڑوں آیات میں علی علیہ السلام کا ذکر موجود ہے اور بہت سی آیتیں تو حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئیں ()جیسے آیت ولایت (سورہٴ مائدہ ۵۵)آیت اطاعت (سورہٴ نساء ۵۹)آیت مباہلہ(سورہٴ آل عمران ۶۶۱)آیہ تطہیر (سورہٴ احزاب ۲۳)غدیر خم میں آیہٴ بلّغ(سورہٴ مائدہ۷)آیت انذار(سورہٴ شعراء) آیت مودت (سورہٴ شوریٰ ۲۳)آیت اکمال (سورہٴ مائدہ ۳۰)وغیرہ۔[109]
مذکورہ آیتوں میں ہر ایک آیت کی شان نزول کے ساتھ ساتھ شیعہ اور سنی روایتوں میں یہ نقل
”وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا“[110]
”اور رسول جو تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے منع کردے اسے چھوڑ دو“
اور حدیث ثقلین کے مطابق جسے تمام مسلمان قبول کرتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا ہے: ”میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں ایک قرآن اور دوسری میری عترت۔۔۔“اور اسی طرح تمہاری متعدد روایتوں کے مطابق آنحضرت نے یہ فرمایا: ”میں دو چیزیں چھوڑے جارہاہوں ،قرآن اوراپنی سنت “اس وجہ سے ہمیں چاہئے کہ سنت یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی باتوں پر غور کریں اور ان پر عمل کریں اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ مذکورہ آیات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت کی بیناد پر علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیں اور اسی وجہ سے قرآن مجید نے امام علی علیہ السلام کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جانشین اور بلا فصل خلیفہ بتایا اگر چہ مصلحت کی بنا پر آپ کا قرآن میں نام نہیں آیا ہے۔قرآن میں صرف چار جگہوں پر سول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نام آیا ہے لیکن ان کے اوصاف سیکڑوں مرتبہ ذکر ہوئے ہیں۔([111])
مذکورہ نشست میں بقیہ مناظرہ اس طرح آگے بڑھا:
سنی عالم نے اپنی بات بدل کر کہا: ”اب اگر یہ بنا رکھی جائے کہ پانچ مذہب میں سے کسی ایک کی پیروی کریں تو کس مذہب کی پیروی کرناہمارے لئے بہتر ہے ؟“
شیعہ عالم: ” اگر انصاف سے دیکھیں تو مذہب جعفری کی پیروی کرنا چاہئے کیونکہ مذہب جعفری مکتب امام جعفر صادق علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لیا گیا ہے اور جو بھی اسلامی احکام امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف سے بیان ہوئے ہیں وہ یقینا قرآن اور سنت نبوی سے اخذ کئے گئے ہیں کیونکہ بہر حال ”گھر کی بات ، گھر والے زیادہ بہتر جانتے ہیں“۔(جس کی تفصیل مناظرہ ۷۴ میں گزر چکی ہے)
اس بحث کی تکمیل کے لئے”الازہریونیورسٹی“ کے مشہور و عظیم استاد مفتی ”شیخ محمود شلتوت“ کے فتوے کو نقل کرتے ہیں جو دارالتقریب بین المذاہب الاسلامیة“کے لئے انھوں نے دیا تھا اور ۱۳۷۹ ھ میں ”رسالة الاسلام “ داراالتقریب میں یہ فتویٰ چھپ چکا ہے۔
”جو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے وہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کا اتباع کیا جائے یاوہ جو بغیر ہدایت کئے ہدایت پاہی نہیں سکتا(تمہیں کیا ہوگیا ہے) تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟
اس بنا پر اصلح اور متقی کا انتخاب سو فیصد اسلامی اور عقلی طریقہ ہے، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے:
”من تقدم علی المسلمین وھو یری ان فیھم من ھو افضل منہ فقد خان اللہ ورسولہ والمومنین “
”جو مسلمانوں کے کام کے لئے آگے بڑھے جب کہ وہ دیکھ رہا ہو کہ ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو اس سے افضل ہے تو بلا شبہ اس نے اللہ ،اس کے رسول اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی“۔(الغدیر،ج۷)
شیخ شلتوت اپنے اس عظیم فتوے کے ایک حصہ میں لکھتے ہیں:
”انّ مذہب الجعفریہ المعروف بمذہب الشیعة الامامیة الاثنا عشریہ، مذہب یجوز التعبد بہ شرعاً، کسائر مذاہب اہل السنة، فینبغی للمسلمین ان یعرفوا ذلک، و اَن یتخلّصوا من العصبیة بغیر الحق لمذاہب معینة، فما کان دین الله و ما کانت شریعتہ بتابعة لمذہب، او مقصورة علی مذہب، فالکلّ مجتہدون مقبولون عند الله تعالیٰ یجوز لمن لیس اہلاً للنّظر و الاجتہاد تقلیدہم و العمل بما یقرّرونہ فی فقہہم، و لا فرق فی ذلک بین العبادات و المعاملات“[112]
”مذہب جعفری جو شیعہ اثنا عشری کے نام سے مشہور ہے اس کی پیروی اور اس پر اعتقاد رکھناسنی مذہب کے دوسرے تمام مسلکوں کی طرح جائز ہے لہٰذا مسلمانوں کے لئے لازم ہے کہ وہ اس کے متعلق آگاہی پیدا کریں اور بے جا تعصب اور عنادسے باز رہیں اس مذہب کے تمام علماء مجتہد ہیں اور اللہ کے نزدیک ان کے فتاوے مقبول ہیں۔
لہٰذا جو خود مجتہد نہ ہو اس کے لئے ان کے تقلید کرنا جائز ہے اور انھوں نے اپنی فقہ میں جو احکام درج کئے ہیں ان پر عمل کریں اس سلسلے میں عبادات اور معاملات میں کوئی فرق نہیں ہے“۔
اہل سنت کے اساتذہ اور عظیم مفکرین جیسے محمود فخام جامعة الازہر کے سابق استاد ،عبد الرحمن البخاری، قاہرہ کی مساجد کے متولی اور عبد الفتاح عبد المقصود مصر کے زبردست موٴلف و غیرہ نے شیخ محمود کے اس فتوے کی تائید کی ، چنانچہ شیخ فخام کہتے ہیں۔
”خدا وند متعال شیخ شلتوت پر رحمت نازل کرے کہ انھوں نے اس عظیم اور اہم بات پر توجہ دی اور نہایت بہادری سے ہمیشہ زندہ رہنے والا فتویٰ دیا کہ مذہب شیعہ اثنا عشری ایک فقہی اور اسلامی مذہب ہے اور یہ قرآن و سنت کے دلائل کی بنیاد پر استوار ہوا ہے لہٰذا اس پر عمل جائز ہے“۔
عبد الرحمن بخاری کہتے ہیں:
”میں آج بھی اپنا فتوی مذہب اربعہ میں منحصر نہ سمجھتے ہوئے شیخ محمود شلتوت کے فتوے کی بنیاد پر فتویٰ دیتا ہوں کہ شیخ شلتوت امام ومجہتد ہیں اور ان کی رائے عین حقیقت ہوا کرتی ہے“۔
عبد الفتاح عبد المقصود لکھتے ہیں:
”مذہب شیعہ اثنا عشری اس لائق ہے کہ سنی مذہب میں موجود تمام مسالک کے ساتھ اس کی بھی پیروی کی جائے، سنی مذہب میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ عمل صرف اس وقت صحیح ہوگا جب ایسے مسلک کی پیروی کی جائے جو سب سے افضل وبرتر ہو ،جب ہمیں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ شیعہ مذہب کے اصل منبع حضرت علی علیہ السلام ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد وہ سب سے زیادہ احکام دین جاننے والے تھے“۔[113]
اشارہ
جب میں مدینہ گیا تو وہاں اسلام کی عظیم شخصیتوں جیسے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ،امام سجاد علیہ السلام ، امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی قبروں کو زمین کے برابر اور خاک آلود دیکھ کر بہت رنجیدہ ہوا حالانکہ ان تمام قبروں پر پہلے قبے اور منیاریں تھی مگر وہابیوں نے شرک اور حرام کے بہانے سے ۱۳۴۴ ھ میں انھیں مسمار کر دیا۔
اسی سلسلہ میں ایک شیعہ اور وہابی عالم کے درمیان ایک مناظرہ ہوا جو مندرجہ ذیل تفصیل کے ساتھ پیش خدمت ہے:
شیعہ عالم: ”تم لوگ کیوں ان مزاروں کو ویران کر کے ان کی اہانت کرتے ہو؟“
وہابی: ”کیا تم حضرت علی علیہ السلام کو مانتے ہو؟“
شیعہ عالم: ”کیوں نہیں وہ تو رسول کے بلا فصل خلیفہ اور ہمارے پہلے امام ہیں“۔
وہابی: ”ہماری معتبر[114] کتابوں میں اس طرح نقل ہوا ہے“۔
”حدثنا یحیيٰ بن یحیيٰ ،وابو بکر ابی شیبہ وزہیر بن حرب قال یحیيٰاخبرنا ،وقال الآخرون ،حدثنا وکیع عن سفیان عن حبیب ابن ابی الھیاج الاسدی قال لی علی ابن ابی طالب ”الا ابعثک علی ما بعثنی علیہ رسول اللہ ان لا تدع تمثالا الاطمستہ ولا قبراً مشر فاً الا سویتہ۔“
”تین آدمی یحی بن یحی، ابو بکر اور زہیر بن حرب وغیرہ نقل کرتے ہیں کہ وکیع نے سفیان اور اس نے حبیب اور اس نے ابی وائل اور اس نے ابی الہیاج اسدی سے نقل کیا ہے کہ علی علیہ السلام نے ابی الہیاج سے فرمایا:
کیا میں تمہیں اس بات پر ترغیب دلاوٴں جس کے لئے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے ترغیب کی ہے کوئی تصویر بھی بغیر محو کئے نہ چھوڑو اور کوئی بھی بلند قبر بغیر زمین کے برابر کئے نہ چھوڑو“۔
شیعہ عالم: ” یہ حدیث سند اور دلالت دونوں اعتبار سے مخدوش ہے سند کی رو سے اس کہ لئے اس کے راویوں میں وکیع ،سفیان ،حبیب بن ابی ثابت ،ابی وائل جیسے لوگ ہیں کہ جن کی حدیث قابل اطمینان نہیں ہے جیسا کہ احمد بن حنبل نے ”وکیع“کے بارے میں نقل کیا ہے”اس نے پانچ سو حدیثوں میں غلطی کی ہے“۔[115]
اسی طرح” سفیان “کے بارے میں ابن مبارک سے نقل ہوا ہے کہ ”سفیان حدیث نقل کرتے وقت تدلیس کرتا تھا لیکن جب مجھے دیکھتا تو شرماجاتا تھا، تدلیس: یعنی حق وناحق کو مخلوط کردینا“۔[116]حبیب بن ثابت کے بارے میں ابن حیان نے نقل کیا ہے کہ وہ بھی حدیثوں میں تدلیس کرتا تھا۔[117]
ابو وائل کے بارے ملتا ہے کہ وہ ناصبی اور امام علیہ السلام کے دشمنوں میں سے تھا۔[118]
قابل توجہ بات یہ ہے کہ تمام صحاح ستہ میں ابو الہیاج سے صرف یہی ایک حدیث نقل ہوئی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ راویوں میں سے نہیں تھا اور قابل اعتماد بھی نہیں تھا جس کی وجہ سے مذکورہ حدیث سند کے لحاظ سے قابل اعتماد نہیں سمجھی جا سکتی۔
لیکن دلالت اور معنی کے لحاظ سے:
الف: ”مشرف“جو مذکورہ حدیث میں آیا ہے کہ اس کے معنی لغت میں ایک ایسا بلند مقام جو دوسرے مکانوں سے اونچا ہو اس کی وجہ سے تمام بلندی اس میں شامل نہیں ہوگی۔
ب: ”لفظ”سویة“کے معنی لغت میں برابر قرار دینے کے ہیں اور اسی طرح اس کے دوسرے معنی ٹیڑھی چیز کو سیدھا کرنا ہے۔
اب اس حدیث کے معنی یہ نہیں ہوں گے کہ ہر اونچی قبر کو ویران کر دو جب کہ قبروں کو زمین کے برابر کرنا اسلامی احکامات کے خلاف ہے کیونکہ تمام اسلام فقہاء نے قبر کو زمین سے ایک بالشت بلند کر نا مستحب قرار دیا ہے۔[119]
دوسرا احتمال یہ ہے کہ ”سویة “کا مطلب قبر کے بالائی حصہ کو ایک سطح میں برابر کر دیا جائے نہ یہ کہ اسے اونٹ کے کوہان یا مچھلی کی پشت کی طرح کر دیا جائے جیسا کہ اہل سنت کے علماء نے اس حدیث کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ان تین احتمالات ،قبر ڈھادینا قبر کو زمین کے برابر کر دینا اور اس کے بالائی حصہ کو مسطح کرنے میں پہلا اور دوسرا احتمال غلط ہے اور تیسرا صحیح ہے، اس بنا پر یہ حدیث دلالت کے اعتبار سے بھی اس بات کو ثابت نہیں کرتی کہ قبروں کا ویران کرنا جائز ہے۔[120]
یہاں ہم تھوڑا سا اضافہ کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر امام علی علیہ السلام مزار اور قبور کو ویران کرنا واجب اور ضروری جانتے تو ان کی خلافت کے زمانہ میں اولیاء خدا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قبریں موجود تھیں انھیں کیوں نہیں ویران کیا کیونکہ تاریخ میں اس طرح کی کوئی بات نہیں ملتی کہ آپ نے کسی قبر کو مسمار کیا ہو کہ یہ اونچی ہے۔
اور اگر عصر حاضر میں وہابی مزاروں کو ویران کرنا واجب جانتے ہیں تو ابھی تک پیغمبر اکرم ، ابوبکر وعمر کے مزاروں کو کیوں نہیں ویران کیا؟
وہابی: ”ان کے مزاروں کو اس لئے خراب اور ویران نہیں کیا کیونکہ ان کے اور نماز گزاروں کے درمیان دیوار حائل ہوتی ہے جس کی وجہ سے نماز گزار انھیں اپنا قبلہ قرار نہیں دے سکتے اور نہ ہی ان پر سجدہ کر سکتے ہیں“۔
شیعہ عالم: ”یہ کام تو صرف ایک دیوار کی وجہ سے قابل قبول تھا لیکن اس پر گنبد خضرا اور اس کے قریب گلدستہ کی کوئی ضرورت نہ تھی“۔
وہابی: ”میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں کیا تمہارے پاس قرآن سے کوئی دلیل ہے کہ تم اولیائے خدا کی قبروں کے لئے خوبصورت مقبرہ بنوائیں؟“
شیعہ عالم: ”اول تو یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر چیز یہاں تک کہ مستحبات کا بھی ذکر قرآن میں موجود ہو اور اگر ایسا ہوتا تو قرآن مجید اپنے موجودہ حجم سے کئی گنا زیادہ ہوتا۔
دوم یہ کہ قرآن میں اس بات کی طرف اشارہ ہوا ہے جیسے سورہٴ حج کی ۳۲ ویں آیت میں آیا ہے۔
”وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ“
”اور جو شعائر خدا کی تعظیم کرتا ہے تو یہ دلوں کے تقویٰ میں سے ہے“۔
لفظ”شعائر“شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں اس آیت میں خدا کے وجود اور اس کی علامت نہیں بلکہ اس کے دین کی علامتوں کا ذکر ہے۔[121]
سورہ ٴشوری کی ۲۳ ویں آیت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اقرباء کی مودت اجر رسالت کہی گئی ہے۔
کیا اگر ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اقرباء کے مقبروں کو ان کی محبت اور احترام میں خوبصورت بنائیں اور ان کو صاف ستھرا رکھیں تو یہ کوئی غلط کام ہوگا؟“
مثال کے طور پر اگر قرآن کو ایک دھول سے اٹی ہوئی جگہ پر زمین ہی پر رکھ دیا جائے تو کیا یہ قرآن کی بے ادبی نہیں ہو گی؟ اور یہ مان بھی لیں کہ یہ توہین نہ ہوگی تب بھی اگر اسے صاف ستھری جگہ پر نہایت ادب واحترام کے ساتھ رکھیں تو کیا یہ کام اچھا نہ ہوگا؟“
وہابی: ”یہ جو تم کہہ رہے ہو لوگوں کے پسند کی باتیں ہیں کیا تمہارے پاس قرآن کی کوئی دلیل بھی موجود بھی ہے ؟“
شیعہ عالم: ”قرآن میں اصحاب کہف کے ذکر میں آیا ہے۔
”جب ان لوگوں نے غار میں پناہ لی اور وہیں ایک نہ جاگنے والی گہری نیند میں سوگئے تو لوگوں نے انھیں ڈھونڈنکالا ان لوگوں کے دمیان اس جگہ کے بارے میں نزاع ہو گیا کچھ لوگوں نے کہا:
”ابنوا علیھم بنیانا“یہاں ایک عمارت بنادو“۔
لیکن دوسرے گروہ نے کہا: ”لنتخذن علیھم مسجدا“ہم یہاں مسجد بنائیں گے“۔
قرآن مجید نے دونوں نظریوں کوذکر کیا ہے لیکن اس نے اس پر کسی طرح کی کوئی تنقید نہیں کی اگر ان دونوں نظریوں میں سے کوئی رائے حرام اور ناجائز ہوتی تو قرآن ضرور اس بات کا ذکر کرتا لیکن بات تو یہ تھی کہ یہ دونوں گروہ اصحاب کہف کے احترام کے لئے اپنی صواب دید کے مطابق کام کرنا چاہتے تھے۔ا س طرح تین مذکورہ آیتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اولیاء کے قبروں کو شاندار بنا نا مستحب ہے۔[122]
آخری بات یہ کہ جو بعض تاریخی اور حدیث کتابوں میں دیکھا گیا ہے کہ قبروں پر مزار اور قبہ نہ بنا یا جائے تو وہ اس لئے ہے کہ کہیں خود قبور اولیاء ،عبادت گاہ اور سجدہ گاہ نہ بن جائے لیکن اگر مومن وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرنے والا کمال خلوص سے مزار اور مقبروں کو مقامات مقدسہ ہونے کی وجہ سے یہاں اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اس میں شرک کی کیا بات ہے بلکہ اس طرح تو اس کی توحید اور اخلاص میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔
اشارہ
امام علی علیہ السلام کے امتیازات اور افتخارات میں سے ایک عظیم افتخار یہ بھی ہے کہ آپ دنیا کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے اور یہ چیز شیعہ اور سنی دونوں طرح سے ثابت اوریقینی ہے۔
علامہ امینی ،صاحب الغدیر نے اپنی کتاب کی چھٹی جلد میں اس بات کو اہل سنت کی ۱۹/ معتبر کتابوں سے نقل کیا ہے۔
یہ بات خود امام علی علیہ السلام کی افضلیت کے لئے ایک اہم اور زندہ ثبوت ہے جو دوسروں میں نہیں پائی جاتی اور اس بات سے ان کی رہبری اور ولایت بھی منحرف لوگوں پر ثابت ہوتی ہے۔
حاکم نے اپنی کتاب مستدرک (ج۲،ص۴۸۳)میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ حدیث متواتر ہے۔
چنانچہ اسی کے متعلق ایک شیعہ اور سنی عالم کے مناظرہ پر توجہ فرمائیں:
سنی عالم: ”تاریخ میں آیا ہے کہ حکیم بن حزام بھی کعبہ میں پیدا ہوا ہے“۔
شیعہ عالم: ”اس طرح کی چیز تاریخ میں ثابت نہیں ہے جیسا کہ بڑے علماء ،جیسے ابن صباغ مالکی [123]،گنجی شافعی[124] شبلنجی [125]اور محمد بن ابی طلحہ شافعی[126] کہتے ہیں:
”لم یولد فی الکعبة احد قبلہ“۔
”حضرت علی علیہ السلام سے پہلے کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا تھا۔
(اس بات پر توجہ رہے کہ حکیم بن حزام حضرت علی سے عمر میں بڑا تھا )یہ گڑھی ہوئی روایت بھی حضرت علی علیہ السلام کے دشمنوں کی کارستانی ہے۔انھوں نے اس طرح اس عظیم افتخار کی اہمیت کو ختم کرنا چاہا ہے“۔
سنی عالم: ”کعبہ میں ولادت ہونا مولود کے لئے کون سا افتخار ہے ؟“
شیعہ عالم: ”ایک وقت یہ ہے کہ اگر کوئی عورت اتفاق سے ایسی جگہ پہنچ جائے اور وہاں ولادت ہو جائے تو اس یقینا اس میں کوئی افتخار نہیں ہے، لیکن اگر کوئی عورت اتنی زیادہ اہمیت کی حامل ہو کہ خدا اس کے لئے خاص انتظام کرے اور وہاں پہنچ کر بچہ کی ولادت ہوتو یہ بات یقینا دونوں کے لئے افتخار کا باعث ہوگی۔حضرت علی علیہ السلام کی کعبہ میں ولادت خدا وند متعال کی خاص عنایتوں میں ہے جیسا کہ دیوار کاشق ہونا اور جناب فاطمہ بنت اسد کا اندر جانا سب کرامت ولطف خداوند کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے ؟“[127]
سنی عالم: ” جب علی علیہ السلام پیدا ہوئے تو وہ بعثت سے ۱۰ سال پہلے کا واقعہ ہے اس وقت کعبہ میں بت بھرے ہوئے تھے جس کی وجہ سے اسے کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں تھی بلکہ وہ بت کدہ تھا اور حضرت علی علیہ السلام جب ایک بت کدہ میں پیدا ہوئے تو بھلا ان کے لئے کون سی فضیلت کی بات ہوگی“۔
شیعہ عالم: ” کعبہ وہ پہلی عبادت گاہ ہے جو دنیا میں بنائی گئی ،جسے حضرت آدم علیہ السلام نے بنایا تھا اور جہاں جنت سے حجر الاسود لا کر نصب کیا گیا تھا اس کے بعد طوفان نوح کے بعد جناب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں دوبارہ اس کی تعمیر کی کعبہ پوری تاریخ میں تمام انبیاء اور اولیاء خدا اور فرشتوں کا جائے طواف رہا ہے، اب اگر اس مقدس جگہ پر کچھ دنوں کے لئے بت پرست قابض ہوجائیں اور اسے بت کدہ بنا دیں تو اس کی عظمت ومنزلت میں کمی نہیں آئے گی مثال کے طور پر اگر کوئی شخص مسجد میں ایک بوتل شراب لے جائے تو کیا اس مسجد کی عظمت ختم ہو جائے گی ؟
اگو کوئی شخص حالت جنابت میں یاشراب لئے مسجد میں داخل ہوتا ہے تو وہ حرام کام کرتا ہے اور اس کی وجہ سے اس پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا لیکن جب فاطمہ بنت اسد خدا کے حکم اور مشیت سے کعبہ میں داخل ہوئیں تو یہ ان کی فضیلت و طہارت کی دلیل ہے اور وہ اس طرح سے خدا کی مہمان ہوئیں۔چنانچہ اس طرح سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات حضرت علی علیہ السلام کے افتخار کا سبب ہے۔
اسی وجہ سے اوائل اسلام میں شاعروں نے خاص طور سے اس کرامت اور عنایت کو اپنے شعروں میں بیان کیا ہے اور خود اس بات کو ایک عجیب وغریب واقعہ سے قرار دیا گیا ہے۔
عبدالباقی عمری اس کے متعلق حضرت علی علیہ السلام سے خطاب کر کے کہتا ہے:
انت العلی الذی فوق العلی رفعا
ببطن مکة وسط البیت اذ وضعا[128]
”تم وہی ہو جو بلندیوں سے بھی بلند ہو گئے ،جب کہ تم مکہ کے درمیان ،خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔
اسی طرح فارسی شاعر کہتا ہے:
درکعبہ تولد وز محراب شد شہید
نازم بہ حسن مطلع وحسن ختام او
”کعبہ میں ولادت اور محراب میں شہادت، ان کے آغاز و انجام ناز کرتا ہوں“۔
سنی عالم نے ہار مان کر مناظرہ کے اختتام کا اعلان کردیا۔
شیعہ استاد: ”ہم اس بات کے معتقد ہیں کہ امامت ،خلافت ،پیغمبر کی جانشینی دنیا وآخرت دونوں کی ایک عظیم زعامت و ریاست ہے کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جانشین شریعت کی حفاظت و احکام خدا کی نشر و اشاعت، حدودا لٰہی کا نفاذ اور دنیاسے تمام فتنہ کی نابودی میں رسول کا نمائندہ ہوتا ہے، ہرکس و ناکس اس عظیم منصب پر فائز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس منصب کا حقدار وہی ہے جو اسلام میں تقویٰ ،جہاد ،علم ،ہجرت،ذہانت ،سیاست ،عدالت،شجاعت اوراخلاق کے لحاظ سے تمام لوگوں سے افضل و برتر ہو اور ان تمام صفات کو دیکھنے کے بعد تاریخ اس بات کی شاہد ہے اور شیعہ و سنی روایتیں بھی اس کا اثبات کرتی ہیں کہ مولائے کائنات علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی ایسا شخص تاریخ اسلام میں موجود نہیں ہے جسے ان تمام صفات سے ایک ساتھ متصف دیکھا گیا ہو“۔
سنی استاد: ”پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”اصحابی کالنجوم بایھم اقدیتم اھتدیتم۔“[129]
”میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں ،ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کروگے ہدایت پا جاوٴگے“۔
اس حدیث کی بنا پر ہم بھی صحابی کی پیروی کرکے نجات حاصل کر سکتے ہیں“۔
شیعہ استاد: ” اس حدیث کی سند کو چھوڑتے ہوئے چند دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ جعلی اور گڑھی ہوئی ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس طرح کی کوئی حدیث بیان نہیں کی“۔
سنی استاد: ”کن دلائل سے ؟“
شیعہ استاد: اس حدیث کے جعلی ہونے کے بہت سے دلائل ہیں:
۱۔رات کے مسافر جب اپنا اصل راستہ بھول جاتے ہیں تو وہ لاکھوں اور کروڑوں ستاروں کو آسمان میں چمکتے ہوئے دیکھتے ہیں اب اگر یہ مسافر اس میں سے اپنی خواہش کے مطابق کسی بھی ایک ستارے کو معین کر لیں تو وہ ہر گز اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتے بلکہ کچھ مخصوص ستارے ہیں جنھیں سب جانتے ہیں کہ اگر مسافران ستاروں کا سہارا لے کر اپنی منزل کی طرف آگے بڑھیں گے تو ضرور اپنی منزل تک جا پہنچ جائے گا۔
۲۔ مذکورہ حدیث رسول خدا کی دوسری حدیثوں مثلاً حدیث ثقلین،حدیث خلفائے قریش، حدیث علیکم بالائمة من اھل بیتی اور حدیث اہل بیتی کالنجوم وغیرہ کے مخالف ہے۔
جیسے آنحضرت نے فرمایاہے:
”النجوم امان لاہل الارض من الغرق واھل بیتی امان من الاختلاف“۔[130]
”ستارے زمین والوں کو ڈوبنے سے بچاتے ہیں اور میرے اہل بیت اختلاف سے نجات دیتے ہیں“۔
اس بات کی طرف بھی توجہ رہے کہ حدیث”اصحابی کالنجوم“کو مسلمانوں کے ایک خاص گروہ نے نقل کیا ہے لیکن اس کی مخالف حدیثوں کو مسلمانوں کے تمام گروہوں نے نقل کیا ہے۔
۳۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد اصحاب میں جو کشمکش اور اختلافات وجود میں آئے وہ اس حدیث سے موافقت نہیں کرتے کیونکہ آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد بعض اصحاب مرتد ہوگئے اور بعض نے بعض پر اعتراض اور طعنہ زنی کی اور یہ اختلاف و اعتراض اس حد تک پہنچا کہ عثمان کو قتل کر ڈالا گیا۔
اس کے علاوہ یہ بھی اس حدیث کے ساتھ موافق نہیں جو بعض نے بعض کو لعن وطعن کیا مثلاًمعاویہ نے حضرت علی علیہ السلام پر لعن وطعن کرنے کا حکم دیا اور بعض اصحاب نے بعض صحابہ سے جنگ کی جیسے طلحہ وزبیر نے حضرت علی علیہ السلام سے جنگ جمل میں مقابلہ کیا اور معاویہ نے جنگ صفین میں ان کے سامنے صف آرائی کی۔بعض اصحاب گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے اور شراب خوری اور زنا کی وجہ سے ان پر حد جاری کی گئی۔(جیسا کہ ولید بن عقبہ ،اور مغیرہ بن شعبہ کے متعلق ملتا ہے۔)
کیا ”بسر بن ارطاة “جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے اصحاب میں تھا اور جس نے ہزاروں مسلمانوں کا خون بہایا اس قابل ہے کہ اس کی پیروی کرنے سے مسلمان ہدایت پاجائےں؟
کیا مروان بن حکم جس نے طلحہ کو قتل کیا اس کی پیروی سے ہدایت مل جائے گی؟
کیا مروان کے باپ حکم کی پیروی ہدایت دے دے گی جو اصحاب رسول میں تھا اور آنحضرت کا مذاق اڑایا کرتا تھا ان تمام باتوں پر توجہ رکھتے ہوئے اس جعلی حدیث کو صحیح ماننا واقعا ً مضحکہ خیز ہے!!“۔
سنی استاد: ”اصحابی کا مطلب یہ ہے کہ جو حقیقت میں آنحضرت کے اصحاب تھے نہ کہ وہ لوگ جو یوں ہی اصحاب بنے بیٹھے تھے۔
شیعہ استاد: ”اس طرح کے اصحاب تو صرف، سلمان ،ابوذر،مقداد،اور عمارجیسے ہی لوگ تھے مگر تم لوگ ان کے بجائے دوسرے لوگوں کو ان کی جگہ شمار کرتے ہوئے لہٰذا اب بھی اختلاف ختم نہیں ہوگا ، اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ ہم ان حدیثوں کے بارے میں بحث کریں جو کسی طرح سے بھی قابل اعتراض نہیں ہیں جیسے حدیث ثقلین ،حدیث سفینہ یا وہ روایتیں جن کے بارے میں ائمہ علیہم السلام نے تصریح کی ہے۔
روایت میں آیا ہے کہ جب جنا ب سلمان مدائن کی طرف روانہ ہوئے تو اشعث اور جریر نامی دو افراد نے ان سے ملاقات کی مگر انھیں یقین نہ آیا کہ یہی سلمان ہیں لیکن جناب سلمان نے خود ہی اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ میں وہی سلمان اور صحابی رسول ہوں، پھر فورا ً آپ نے فرمایا: ”لیکن یہ جان لو کہ آنحضرت کا حقیقی صحابی وہی ہے جو ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائے“۔[131]
واضح الفاظ میں یہ کہیں کہ صحابی وہی ہے جو اپنی پوری زندگی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکام کی پابندی کرے اور اس پر آخری عمر تک قائم رہے اس بنا پر جناب سلمان علیہ السلام سے نقل ہوئی حدیث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس طرح کے صحابیوں کی پیروی کرکے ہم جنت وہدایت پا سکتے ہیں لیکن میں یہ پوچھتا ہوں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد کتنے لوگ ایسے تھے جنھوں نے اپنی راہ نہیں بدلی اور آنحضرت کے بتائے ہوئے راستہ پر باقی رہے ؟
ہماری روایتوں کے مطابق تو صرف تین یا چار اصحاب ہی ایسے تھے جو اپنے دین پر باقی رہے جیسے سلمان ،مقداد، عمار یاسر ،لیکن ان کے علاوہ بقیہ سب مرتد ہوگئے تھے“۔
حقجو اور حمید نامی دو اسلامی دانشوروںنے اس طرح مناظرہ کیا:
حمید: ”ہم جب امام علی علیہ السلام کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی زندگی کا اکثر حصہ جنگ و جہادمیں پاتے ہیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں ان کی جنگ آنحضرت کے حکم سے ہوا کرتے تھی جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے لیکن علی علیہ السلام نے اپنی خلافت (جسے عمر نے غصب کر لیا تھا) کے زمانہ میں جو جنگیں لڑیں جیسے جنگ جمل ،جنگ صفین اور جنگ نہروان ان سب میں مناسب تو یہی تھا کہ وہ قوم کے بزرگوں کے ساتھ مل بیٹھ کر مصالحت کر لیتے اور اس قدر خوریزی سے پر ہیز کرتے“۔
حق جو: ”ہم امام علی علیہ السلام کو ایک حق پرست مخلص اور کامل انسان کے عنوان سے جانتے ہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں مشرکوں او ر اسلام کے مخالفوں سے جنگ کی اور اپنے دور خلافت میں بھی انھیں لوگوں سے جنگ کی جنھوں نے اسلام کے ظاہر کو لے لیا اور باطن کو چھوڑ دیا تھا یہ وہی منافق تھے جو اسلام کے نام پر اسلام کو بے عزت کر رہے تھے اور اسلام کو اس کی حقیقت سے دور کر کے اسے اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کر رہے تھے،اگر ہم غور کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام کو کافروں کے مقابلہ میں منافقوں سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
حمید: ”حضرت علی اگر چاہتے تو ناکثین (اصحاب جمل)قاسطین (جنگ صفین کی آگ بھڑکانے والے)اور مارقین(خوارج)کے سرداروں کو اقتدار اور بیت المال سے خاموش کر دیتے اور اس طرح وہ لوگوں کو اپنی طرف ملا لیتے“۔
حق جو: ” تمہاری بات کا انداز بتا رہا ہے کہ تم ایک عام حاکم اور خدائی رہنما جو اپنے ذاتی فائدہ پر خدا کے احکام کو ترجیح دیتا ہے دونوں کے درمیان فرق کو نہیں سمجھتے، یہ بہت بڑی غلطی ہے۔
بہتر یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں ہوئی جنگوں کا ہم اچھی طرح سے جائزہ لیں تاکہ یہ بات اچھی طرح سے واضح ہو جائے۔
جنگ جمل کے وجود میں آنے کے اسباب معاشرتی برتری اور نا انصافی تھے ان تمام باتوں کو جنگ جمل کی آگ بھڑکانے والے اسلام کے نام پر اسلامی حکومت میں یہی نا انصافیاںنافذ کرنا چاہتے تھے طلحہ وزبیر جیسے لوگ حضرت علی علیہ السلام سے اپنے لئے بڑے بڑے عہدہ کا مطالبہ کر رہے تھے یہ لوگ صاف صاف آپ سے عہدوں کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کرتے تھے فلاں عہدہ ہمیں دے دیں ،بیت المال کا اتنا حصہ ہمارا ہونا چاہئے۔
اس بیکار خواہش کی بنا پر یہ اسلامی احکام کے خلاف باتیں حضرت علی علیہ السلام کی حکومت میں رائج کرانا چاہتے تھے مگر حضرت علی علیہ السلام اس بات پر تیار نہیں ہوئے کہ خود غرض لوگوں کو ان کے ذاتی مفاد کی وجہ سے عوام کے سیاہ و سفید کا مالک بنادیںن اور انھیں ان پر مسلط کر دیں۔
امام علی علیہ السلام ایک خدا پرست انسان تھے نہ کہ ایک خود خواہ اور خود غرض حاکم جو اپنے ذاتی مفاد کے لئے خدائی احکامات کو پس پشت ڈال دیتے۔
جنگ صفین میں بھی معاویہ حضرت علی علیہ السلام سے قانونی طور پر حکومت شام کے تمام اختیارات لینا چاہتا تھا اور یہ بات بھی واضح ہے کہ معاویہ ان اختیارات کے ذریعہ اپنے خاندان اور اپنی تعریف کرنے والے شکم پر ستوں کو عوام کی جان ومال پر مسلط کرنا چاہتا تھا اور اس طرح اس کی حکومت یقینا اسلامی اقدار کے برخلاف اونچ نیچ اور طبقاتی تفریق کی بنیادوں پر استوار ہوتی۔
لیکن کیاحضرت علی علیہ السلام ایسا کرنے کا موقع دیتے ؟!!کیا اس جیسے بے دین شخص کو اسلامی حکومت کی باگ ڈور پکڑا دیتے؟نہیںیہ ہرگز نہیں ہو سکتا تھا۔
اسی دوران مغیرہ بن شعبہ جیسے لوگوں نے بھی ”النصیحة لامر اء المسلمین“، (مسلمانوں کے حاکموں کے لئے نصیحت )کی نقاب اوڑھ کر حضرت علی علیہ السلام سے اس قسم کے مطالبے کئے لیکن حضرت علی علیہ السلام نے اس کا سخت جواب دیتے ہوئے فرمایا:
”ولم یکن اللہ یرانی اتخذت المضلین عضدا“۔[132]
-”خدا مجھے اس حالت میں کبھی نہیں دیکھ سکتا کہ میں گمراہوں کو اپنا مددگار بناوٴں“۔
اس طرح کے مطالبے اور اس کے نتیجہ میں حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے بعض حضرت علی علیہ السلام کے مخلص اصحاب جیسے عمار یاسر ،ابو الہیثم تیہان وغیرہ نے آپ کو مشورہ بھی دیا کہ وقتی طور پر آپ ان لوگوں سے محبت اور رغبت کا اظہار کریں اور ان قوم کے لٹیروں کو امتیازی مقامات دے دیں تاکہ وہ آپ کی حکومت کے خلاف قیام نہ کریں اور بعض حکام اور گورنروں میں اہلیت نہ پاتے ہوئے بھی انھیں ان کے مقام پر باقی رکھیں کیونکہ یہ لوگ بہر حال قوم کے بڑے ہیں لہٰذا آپ ان کا خیال کریں“۔
امام علی علیہ السلام نے ان کے جواب میں کہا:
”اتامرونی ان اطلب النصر بالجور ،فیمن ولیت علیہ ،واللہ لا اطور بہ ما سمر سمیرو ما ام نجم فی السماء نجماً۔“[133]
”کیا تم مجھے اس بات کا حکم دیتے ہو کہ میں محکوم لوگوں پر ظلم وجور کے ذریعہ غلبہ حاصل کروں خدا کی قسم جب تک دنیا موجود ہے اور جب تک آسمان میں کوئی ستارہ دوسرے ستارے کے پیچھے پیچھے چلتا رہے گا میں اس طرح کا کام نہیں کر سکتا“۔
اس طرح حضرت علی علیہ السلام کا بے انصافی اور طبقاتی تفریق کرنے والوں سے سختی سے مقابلہ کرنے کی وجہ سے اس تحریک کے حامی آپ کے مخالف ہوگئے اور جنگ جمل اور صفین میں دو محاذوں پر وہ سامنے آگئے اس کے ساتھ ہی جنگ صفین میں ہی جنگ نہروان کی داغ بیل پڑ گئی تھی، اس جنگ میں روباہ صفت معاویہ کی طرف سے نیزوں پر قرآن بلند کرنا اس کے دھوکہ بازی کے ذریعہ صلح کی خواہش نے حضرت علی علیہ السلام کے فوجیوں کو سست کر دیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگ کہنے لگے کہ یہ دوحاکموں کی جنگ ہے اور جوکل تک حضرت علی علیہ السلام کے سا تھی تھے جذبات میں آکر آپ کو کافر کہنے لگے نتیجہ میں جنگ نہروان عمل میں آئی جس میں شرکت کرنے والے حضرت علی علیہ السلام کے وہ ساتھی تھے جنھوں نے صفین میں آپ کی طرف سے تلوار چلائی تھی۔اس جنگ میں حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں سے بھاگ نکلنے والوں نے مل کر آپ کے قتل کامنصوبہ بنایا اور اس طرح ”ابن ملجم اشقی الاولین والاخرین“کے ذریعہ آپ شہید کر دیئے گئے جیسا کہ آپ کے لئے لوگوں نے کہا۔”قتل علی لشدةعدلہ۔“علی اپنے عدل وانصاف میں شدت کی وجہ سے قتل کر دیئے گئے“۔
اسی وجہ سے جب آپ کے سر مبارک پر ضربت لگی تو آپ نے فرمایا:
”فزت ورب الکعبة“[134]
”کعبہ کے پروردگار کی قسم میں کامیاب ہوگیا“۔
علی علیہ السلام کی کامیابی اس وجہ سے نہیں تھی کہ آپ نے ذاتی اہداف کو اہمیت نہیں دی بلکہ اس وجہ سے تھی کہ آپ نے اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک عدالت قائم کرنے اور طبقاتی نظام کو ختم کرنے کی کوشش جاری رکھی۔حضرت علی علیہ السلام یہ چاہتے تھے کہ ذاتی اور شخصی مفاد کو اسلام کے سیاسی اور معاشرتی مفاد پر قربان کردیں تاکہ آئندہ آنے والے مسلمان ظالموں اور ستمگروں کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں مثال کے طور پر ظالم اسرائیل سے مذاکرے کے لئے تیار نہ ہوں اور سامراجی طاقتوں سے دوستی کے لئے کبھی ہاتھ نہ بڑھائیں اور محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے اسلام کو ایک اجنبی اسلام سمجھ کر معاویہ اور یزید کے اسلام کو نہ اپنالیں۔
شاگرد: ”بہت سی اسلامی روایات میں ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ فلاں امام نے فلاں شاعر یا محتاج کو پیسہ دیا یا اس طرح کی مختلف روایات ائمہ علیہم السلام کے عطیوں کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کیایہ روایتیں صحیح ہیں؟“
استاد: ”ممکن ہے بعض روایتوں کی سند صحیح نہ ہو لیکن اس طرح کی اتنی زیادہ روایتیں موجود ہیں کہ جن کا انکار نہیں کی جاسکتا اور قطعی طور پر ان سب میں کچھ روایتیں تو ہر لحاظ سے صحیح ہیں“۔
نمونہ کے طور پر مندرجہ ذیل چار روایتوں پر توجہ فرمائیں:
۱۔عبد الرحمن سلمی نے امام حسین علیہ السلام کے بیٹے کو سورہٴ حمد پڑھایا تو آپ نے اسے ہزار دینار دیا اور اس زمانہ کے ہزار حُلے (جو اس وقت کا بہترین لباس ہوا کرتا تھا) انعام کے طور پر دئے اور اس کامنہ موتیوں سے بھر دیا۔[135]
۲۔ایک بھٹکاہوا مسافر امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں آکر کہنے لگا میرے پاس زاد راہ ختم ہوگیا ہے آپ مجھے کچھ پیسے دے دیں تاکہ میں اپنے وطن واپس جا سکوں میں وطن پہنچ کر اتنی ہی مقدار میں آپ کی طرف سے صدقہ دے دوں گا۔
امام علی رضا علیہ السلام اٹھ کر اپنے گھر کے اندر گئے اور دو سودرہم کی تھیلی لا کر اسے دی اور فرمایا: ”یہ پیسہ میں نے تمہیں بخش دیا ہے لہٰذا یہ لازم نہیں ہے کہ تم میری طرف سے اتنی مقدار میں صدقہ دو“۔[136]
۳۔امام سجاد علیہ السلام نے ”فرزدق“کے لئے قید میں بارہ ہزار درہم یہ کہہ کر بھیجے کہ تمہیں ہمارے حق کی قسم ہے تم اسے قبول کر لو اور فرزدق نے قبول کر لیا“۔[137]
۴۔دعبل نے اہل بیت علیہم السلام کے مصائب پر ایک مرثیہ پڑھا تو امام رضا علیہ السلام نے انھیں ایک تھیلی بھیجی جس میں سو دینار تھے۔ دعبل نے ان تمام سکوں کو جن پر امام کا نام لکھا تھا عراقی شیعوں میں بانٹ دیا اور ایک ایک سکے کے بدلے سو دینا ر لے کر اپنی زندگی آسودہ کر لی۔[138]
اس سلسلہ میں اس طرح کی اور بہت سی روایتیں پائی جاتی ہیں۔
شاگرد: ”اگر یہ تمام روایتیں صحیح ہیں تو حضرت علی علیہ السلام بیت المال کوخرچ کرنے میں اتنی سختی کیوں کرتے تھے ؟اور لوگوں میں برابر سے تقسیم کرتے تھے جیسے ان کے بھائی عقیل نے جب اپنی ضرورت کے تحت اپنا حصہ بڑھانے کے لئے کہا تو حضرت علی علیہ السلام نے لوہے کی ایک سلاخ گرم کر کے عقیل کے ہاتھ پر رکھ دی جس کے بعد جناب عقیل نے ایک بلند چیخ ماری تو امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
”عورتیں تمہارے سوگ میں بیٹھیں تم ایک انسان کی جلائی ہوئی آگ سے چیختے ہو لیکن مجھے اس آگ کی طرف بھیج رہے ہو جسے خدا نے اپنے غیظ و غضب سے جلا رکھا ہے تم ایک چھوٹی سی اذیت سے ڈرتے ہو تو کیا میں ہمیشہ بھڑگنے والے آگ سے نہ ڈروں؟“[139]
استاد: ”یہی تمہاری غلطی ہے کہ تم یہ تصور کرتے ہو کہ تمام ائمہ علیہم السلام کی در آمد صرف بیت المال ہی تھی اسی وجہ سے ان کے عطیہ و بخشش اور علی علیہ السلام کی بیت المال میں سختی کو ایک طرح کاتضاد سمجھ رہے ہو، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ائمہ علیہم السلام کی در آمد کے مختلف ذرائع تھے اور حضرت علی علیہ السلام کام کیا کرتے تھے۔
جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے جب عمر ، ابوبکر اور عثمان کے دور خلافت میں شیعوں کو بڑی سخت زندگی گزارتے دیکھا تو پچیس سال کے دور میں آپ نے بہت سی زمینوں کو قابل کا شت بنایا اور پھر اسے اپنے شیعوں کے درمیان تقسیم کر دیا تا کہ وہ آرام سے رہ سکیں۔
آپ نے اس کے لئے ایک وقف تشکیل دے رکھاتھا جو ان زمینوں کی مجموعی در آمد کو فقراء میں تقسیم کرتے اور فقراء وپریشان حال شیعوں میں بانٹ دیا کرتے تھے۔
اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام ،امام محمد باقر علیہ السلام اور دیگر ائمہ علیہم السلام نے زراعت کی اور جانوروں کے ذریعہ تجارت کی ہے آپ ان کاموں کے لئے کچھ افراد کو معین کر دیا کرتے تھے کیونکہ انھیں اس با ت کا خیال تھا کہ مذہب حق کے پیروکار کہیں غربت کی وجہ سے دوسری طرف مائل نہ ہو جائیں اسی لئے ائمہ علیہم السلام اپنے اصحاب اور خاص خاص دوستوں اور خود اپنی زمینوں اور غلوں سے ہونے والی درآمد کو اپنے غریب شیعوں پر خرچ کر دیا کرتے تھے اور اسی مال سے ان کا خیال رکھتے تھے اور ان کی حفاظت کرتے تھے ان کے عطیات اور بخششیں اسی دولت سے ہوا کرتی تھی نہ کہ بیت المال سے۔
شاگرد: ”میں آپ کی اس منطقی گفتگو سے قانع ہوں لیکن میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ ائمہ علیہم السلام کی در آمد کے ذرائع کے دوچار نمونے بھی ذکر کردیں“۔
استاد: ”بہت ہی اچھا سوال ہے۔میں چند نمونے ذکرکرتا ہوں“۔
۱۔امام علی علیہ السلام نے اپنے دوباغ جس میں کنواں بھی تھا ”ابو نیزر“ نامی ایک مسلمان کو دے رکھا تھا جن میں سے ایک کانام ”ابو نیزر“ تھا اور دوسرے کا ”بغیبغہ“ان دونوں باغوں میں کاشتکاری بھی ہوتی تھی۔
”ابو نیزر“ کا بیان ہے کہ ”ایک روز میں باغ میں تھا اسی دوران علی علیہ السلام باغ میں داخل ہوئے اور مجھ سے فرمایا کیا تمہارے پاس کھانا ہے ؟“
میں نے کہا: ”اسی باغ کے ایک کدو کو میں نے پکایا ہے“، آپ نے جا کر وہ کھانالیا اور کھانا کھانے کے بعد بیلچہ اٹھا کر اس کھیت میں داخل ہوگئے۔تھوڑی دیر تک کھودنے کے بعد جب آپ پسینے میں شرابور ہو گئے تو گڑھے سے باہر آئے اور تھوڑا آرام کرنے کے بعد پھر آپ کام میں مشغول ہو گئے گڑھے کے اندر سے میں بیلچہ کی آواز کے ساتھ آپ کی زیر لب آواز بھی سن رہا تھا آپ نے گڑھے کو کھودا اور اس کی گھاس پھوس صاف کر دیا یہاں تک کہ اونٹ کی گردن کے اتنا اس میں پانی بڑھ گیا اس کے بعد آپ اس گڑھے سے باہر آئے اور فرمایا: ” خدا کی قسم !میں نے اس چشمے کو وقف کر دیا“، اس کے بعد آپ نے کاغذ وقلم مانگا، میں نے لا کر دیا تو آپ نے وہیں وقف نامہ تحریر کردیا۔
روایت میں ہے کہ ایک دفعہ امام حسین علیہ السلام مقروض ہو گئے تو معاویہ نے آپ کے پاس دولاکھ درہم بھیجے اور اس چشمہ کو خرید نے کی خواہش کا اظہار کیا تو امام حسین علیہ السلام نے اسے جواب دیا: ”میرے بابا نے اس کھیت اور چشمہ کو وقف کردیا ہے تاکہ قیامت میں جہنم کی آنچ سے محفوظ رہیں،میں اسے کسی قیمت پر نہیں بیچ سکتا“۔ [140]
۲۔امام محمد باقر علیہ السلام اپنے کھیت میں پھاوڑا چلانے میں مشغول تھے کہ اس موقع ”محمد بن منکدر “نام کا ایک زاہد نما شخص آپ کو دنیا کا لالچی سمجھ کر کہنے لگا، اگر تم اسی حالت میں مر جاوٴ تو بڑی سخت حالت ہوگی“۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: ” خدا کی قسم اگر اس حالت میں میری موت آجائے جب کہ میں اطاعت خدا میں مشغول ہوں تو بڑی اچھی بات ہوگی کیونکہ میں تمہاری دنیا کے کسی بھی شخص کا محتاج نہیں رہوں گا میں تو گناہ کے عالم میں موت آنے سے ڈرتاہوں“۔[141]
اسی طرح کی ایک روایت امام جعفرصادق علیہ السلام کے بارے میں بھی نقل ہوئی ہے۔[142]
۳۔ ابو حمزہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے کہا کہ میں ایک روز ایک کھیت میں گیا تو دیکھا کہ امام کاظم علیہ السلام پھاوڑا چلانے میں مشغول ہیں اور ان کا بدن پسینے میں ڈوبا ہوا ہے میں نے کہا: ” آپ کے غلام اور دوسرے لوگ کہاں ہیں کہ آپ پھاوڑا چلا رہے ہیں ؟ “
آپ نے فرمایا: ”جو لوگ مجھ سے اور میرے باپ سے افضل تھے انھوں نے اپنا کام اپنے ہاتھوں سے کیا ہے“۔
میں نے سوال کیا: ”وہ کون لوگ تھے ؟ “
آپ نے فرمایا:
”رسول الله وامیر الموٴمنین وآبائی کلھم کانوا قد عملوا بایدیھم وھو من عمل النبیین والمرسلین والاوصیاء و الصالحین“۔[143]
”رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت علی علیہ السلام اور میرے آباوٴ اجداد سب کے سب اپنے ہاتھوں سے اپنا کام کیا کرتے تھے یہ انبیاء اور صالح اوصیاء کاکام ہے“۔
شاگرد: ”میں آپ کے اس قانع کنندہ جواب کے لئے بہت شکر گزار ہوں اس طرح کی اور باتیں ہوں تو آپ بیان فرمائیں،تاکہ میں زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکوں“۔
استاد: ”ضروری بات یہ کہ ائمہ علیہم السلام کے زمانہ میں شیعہ جو حقیقی اسلام پر عمل پیرا تھے ان کی حالت نہایت ابتر تھی اور روز بروزان پر سختیاں بڑھتی رہتی تھیں کیونکہ ان کے حقوق اور وظیفے بند کر دیئے جاتے تھے جس کی وجہ سے وہ نہایت فقیرانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے تھے،اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ شیعوں کی حفاظت اسلام ارکان کی حفاظت تھی اور اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ کانٹنے کی مترادف تھا، اس لئے ان لوگوں کو خمس و زکوٰة اور بیت المال میں سے دینا بھی جائز تھا، (البتہ اس طرح کہ ان کے اندر تبعیض نہ ہوسکے) تاکہ ان کے ذریعہ ناپاک لوگوں کے شر سے حقیقی اسلام بچارہے کیونکہ بیت المال کے مصرفوں میں سے ایک مصر ف اسلام کی استواری اور اس کے استحکام کے لئے خرچ کرنا بھی ہے۔[144]
مسجد لوگوں سے چھلک رہی تھی اور ایک عالم دین نے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں تقریر کرتے کرتے مندرجہ ذیل روایت کو نقل کیا:
”ایک روز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پانی مانگا تو اس وقت آپ کے پاس صرف علی ،جناب فاطمہعلیہ السلام اور امام حسن وامام حسین علیہم السلام موجود تھے۔آپ کو پانی لاکر دیا گیا آپ نے پہلے اسے امام حسن علیہ السلام کی طرف بڑھا دیا اس کے بعد امام حسین علیہ السلام اور آخر میں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طرف بڑھا یا تو آپ نے فرمایا: ”ھنیئا ًمریئا لک، آپ کے لئے گوارا رہو“۔
لیکن جب علی علیہ السلام کی طرف پانی بڑھا یا اور آپ نے پانی پیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا:
”ھنیئا مریئا لک یا وليّ وحجتی علی خلقی“۔
” اے میرے ولی اور میری امت پر میری حجت آپ کے لئے گوارا رہو“۔
اور آپ سجدہ میں چلے گئے، جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے پوچھا: ”آپ کے سجدہ کا کیا راز تھا ؟ “، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”جب تم لوگوں نے پانی پیا اور میں نے کہا: ”ھنیئا مریئا “تو میرے کانوں میں آوازا ٓئی کہ میرے ساتھ ساتھ فرشتے بھی یہی کہہ رہے ہیں لیکن جب علی علیہ السلام نے پانی پیا اور ان کے لئے میں نے ”ھنیئا مریئا لک“کہا تو میرے کانوں میں خدا کی آواز پہنچی کہ وہ بھی یہی کہہ رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی نعمت پر سجدہ شکر بجالایا“۔[145]
سامع: ”کیا خدا بولتا ہے کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم نے اس کی آواز سنی ؟ “
مقرر: ”خدا وند متعال مکان یا فضا میں آواز پیدا کردیتا ہے جسے اس کا پیغمبر سنتا ہے بالفاظ دیگر: انبیاء اور خدا میں تین طرح سے ارتباط ہوتا ہے۔
۱)قلب پر القاء کرنا جو بہت سے انبیاء پر وحی نازل ہونے کے بارے میں پایاجاتا ہے۔
۲) جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ جو وحی خدا لانے والے ہیں جیسا کہ سورہٴ بقرہ آیت ۹۷ میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔
۳) حجاب کے پیچھے سے یاکسی چیز میں آواز ایجاد کرنا جیسا کہ خد اوند متعال نے جنا ب موسیٰ علیہ السلام سے بات کی۔
”وَکَلَّمَ اللهُ مُوسَی تَکْلِیمًا“ [146]
”اور (اللہ نے) موسیٰ سے با قاعدہ گفتگو کی ہے“۔
اسی طرح سورہٴ طہ کی ۱۱ویں اور ۱۲ ویں آیت کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آگ کے اندر سے خدا کی ا ٓواز سنی۔
”فَلَمَّا اٴَتَاہَا نُودِی یَامُوسَی إِنِّی اٴَنَا رَبُّکَ “
” جب وہ اس (آگ )کے پاس آئے تو ندادی گئی اے موسیٰ !بلا شبہ میں تمہارا پروردگار ہوں“۔
سورہٴ شوریٰ کی ۵۱ ویں آیت میں ان تین طریقوں کی وحی کی وضاحت کی گئی ہے اس طرح خداوند عالم فضایا کسی ایک چیز میں آواز پیدا کرتا ہے جسے اس کے انبیا سنتے ہیں۔
سامع: ”معاف کرنا میں خیال کررہا تھا کہ وحی کی صرف ایک قسم ہے جو صرف جناب جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ آتی ہے لیکن آپ کے بیان سے معلومات میں اضافہ ہو ا اور ساتھ ساتھ میں یہ بھی سمجھ گیا کہ خدا وند متعال کے نزدیک علی علیہ السلام کی منزلت کیا ہے جیسا کہ خداوند متعال نے اپنے پیغمبر کے ساتھ ہم زبان ہو کر فرمایا: ”ھنیئا مریئا“۔
لیکن میرادوسرا سوال یہ ہے کہ کیاقرآن کی آیتوں کے علاوہ بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر وحی کے طور پر کچھ چیزیں نازل ہوئی ہیں؟ “
مقرر: ”ہاں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قرآنی آیات کے علاوہ احکام وغیرہ کے بارے میں بہت سی باتیں بتاتے تھے جو تمام کی تمام وحی الٰہی ہوتی تھیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے معارف اور احکام الٰہی کو صرف وحی کے ذریعہ لوگوں کو بتایا جیسا کہ سورہ ٴ نجم کی دوسری اور تیسری آیت میں ہم پڑھتے ہیں:
”وَمَا یَنْطِقُ عَنْ الْہَوَی إِنْ ہُوَ إِلاَّ وَحْیٌ یُوحَی “
”اور وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتاوہ وہی کہتا ہے جو وحی ہوتی ہے“۔
ایک جگہ کچھ مومنین بیٹھے ہوئے جن میں ایک طالب علم اور ایک عالم دین کے درمیان اس طرح مناظرہ ہوا۔
طالب عالم: ”قرآن میں چند جگہوں[147] میں منجملہ سورہٴ اعراف کی ۱۴۳ویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے عرض کیا:
”رَبِّ اٴَرِنِی اٴَنظُرْ إِلَیْکَ“
”پالنے والے توخود کو دکھا دے تاکہ میں تجھے دیکھ سکوں“۔
لیکن خداوند متعال نے فرمایا:
”لن ترانی“
”تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے“۔
میرا سوال یہ ہے کہ خدا وند متعال نہ جسم رکھتا ہے نہ کوئی مکان رکھتا ہے اور نہ دیکھنے والی چیز ہےحضرت موسیٰ علیہ السلام نے اولو العزم پیغمبر ہوتے ہوئے بھی کیسے اس طرح کا سوال کیا جب کہ اگر کوئی عام آدمی بھی اس طرح کا سوال کرے تو لوگ اسے اچھا نہیں کہیں گے ؟ “
عالم دین: ”احتمال پایا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا یہ سوال دل کی آنکھوں سے دیکھنے کے لئے ہونہ کہ ان ظاہری آنکھوں سے ،جناب موسیٰ علیہ السلام اپنے دل کے ذریعہ روحی اور فکری شہود تک پہنچنا چاہتے تھے یعنی ”خدا یا مجھے ایسا بنا دے کہ میرے قلب میں تیرا یقین کوٹ کوٹ کر بھر جائے گویا میں تجھے دیکھ رہا ہوں“[148] اور بہت سی جگہوں پر لفظ ”رویت“اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاًہم کہتے ہیں ”میں اپنے اندر ایسی طاقت دیکھ رہا ہوں کہ میں یہ کام باآسانی انجام دے سکتا ہوں: جب کہ قدرت دیکھنے والی چیز نہیں ہے“۔
طالب علم: ”اس طرح کی تفسیر آیت کے ظاہری لفظ کے خلاف ہے کیونکہ ظاہر لفظ ”ارنی“ اپنے کو مجھے دکھا،آنکھ سے دیکھنے پر دلالت کرتاہے جیسے خدا کے جواب ”لن ترانی“سے سمجھا جا سکتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا سوال انھیں آنکھوں سے دیکھنے کے لئے تھا اور اگر رویت اور شہود سے مراد فکری، روحی اور باطنی رویت ہوتی تو خدا وند متعال ہر گز منفی جواب نہ دیتا اس طرح کا شہود خداوندمتعال اپنے خاص بندوں کو یقینی طور پر عطا کر تا ہے“۔
عالم دین: ”فرض کریں کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے خدا کو دیکھنے کی خواہش کی تھی جیسا کہ ظاہری الفاظ سے سمجھا جا سکتا ہے لیکن اگر ہم تاریخ میں اس واقعہ کی تحقیق کریں تو ہمیں ملتا ہے کہ یہ سوال ان کی قوم کی طرف سے تھا جسے جناب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی زبان سے ادا کیا تھا کیونکہ ان کی قوم والے اس بات پراصرار کر رہے تھے کہ وہ خدا کو دیکھیں گے اس لئے انھیں مجبور اً یہ جملہ ادا کرنا پڑا“۔
تو ضیح کے طور پر یہ عرض کیا جائے کہ فرعونیوں کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات کے بعد جناب موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے درمیان دوسری بہت سی باتیں وجود میں آئیں ان میں سے ایک یہ کہ بنی اسرائیل کے کچھ افراد جناب موسیٰ علیہ السلام سے ضد کررہے تھے کہ ہم خدا کو دیکھیں گے بغیر دیکھے خدا پر ایمان نہیں لاسکتے۔جناب موسیٰ علیہ السلام آخر میں مجبور ہو کر بنی اسرائیل کے ۷۰ افراد کو لے کر کوہ طور پر گئے اور وہاں پہنچ کر آپ نے کی خداکی بارگاہ میں ان کے سوال کو بیان کیا، خداوندعالم نے جناب موسی علیہ السلام کو وحی کی ”لن ترانی۔۔۔“ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے، (سورہ اعراف، آیت ۱۴۳) ، جواب نے اس بارے میں بنی اسرائیل کے لئے تمام چیزوں کو روشن کردیا۔
لہٰذا موسی علیہ السلام نے سوال رویت کواپنی قوم کی زبان سے کیا تھا کیونکہ
آپ نے اپنی قوم کی ضد پر خدا سے اس طرح کا سوال کرنے پر مجبور تھے، لیکن جب زلزلہ آیا تو جناب موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ تمام ۷۰ افراد ہلاک ہوگئے اور جناب موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے عرض کیا:
”اتھلکنا بما فعل السفھاء منّا“ [149]
”کیا تو ہمیں اس کام کے لئے ہلاک کر رہا ہے جو ہمارے بیوقوفوں نے انجام دیا ہے ؟ “
جس کے بعد خداوند متعال نے جناب موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: ”تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ پاوٴگے لیکن کوہ طور پر چکر لگاوٴ اگر یہ خود اپنی جگہ پر باقی رہ گیا تو مجھے دیکھ لو گے “، جب خدا وند متعال کی کوہ طورپر تجلی ہوئی توکوہ طورٹکڑے ٹکڑے ہو گیا جناب موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے اورجب ہوش آیاتو خدا وند متعال سے کہا:
” سُبْحَانَکَ تُبْتُ إِلَیْکَ وَاٴَنَا اٴَوَّلُ الْمُؤْمِنِینَ“[150]
”پاک پاکیزہ ہے تو، میں نے توبہ کی اور میں سب سے پہلا مومن ہوں“۔
پہاڑ پرالٰہی جلوہ (جیسے گرج، چمک اوربجلی) کے ظاہر ہونا اپنے آثار ظاہر کرنے کے مترادف ہے جس کی وجہ سے پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو خدا وند متعال نے اپنی قدرت نمائی سے ایسا بے ہوش کیا کہ تم لوگ سمجھ لو کہ جب خدا کی ایک قدرت کا اثر کا تحمل نہیں کر سکتے تو اس کے پورے وجود کو سمجھنے کی کوشش کیوں کرتے ہو؟ تم ہر گز اپنی ان مادی آنکھوں سے خداوند متعال کے مجرد وجود کو نہیں دیکھ سکتے ہو اس طرح جناب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں نے خداوند متعال کو قلب کی آنکھوں سے دیکھا اور ساتھ ساتھ انھیں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اسے ان ظاہری آنکھوں سے ہر گز نہیں دیکھا جا سکتا ہے“۔
طالب علم: ”آپ کے اس مفصل بیان کا بہت شکریہ میں اس موضوع پر مطمئن ہو گیا اور اس چیز کی امید رکھتا ہوں کہ اسی طرح آپ منطقی استدلال سے میرے باقی دوسرے شبہات کوبھی جنھیں میں انشاء اللہ کسی دوسرے وقت بیان کروں گا بیان فرمائیں گے“۔
عالم دین: ”قابل توجہ بات تو یہ کہ اہل سنت کے اکثر مفسرین آیت الکرسی کی تفسیر کرتے ہوئے جنا ب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے مشابہ دوسرایک واقعہ نقل کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے:
”جناب موسیٰ علیہ السلام نے عالم خواب (یا بیداری کی حالت میں) میں فرشتوں کو دیکھا تو ان سے سوال کیا کہ ”کیا ہمارا خداسوتاہے ؟خداوند متعال نے اپنی فرشتوں پر وحی کی کہ موسیٰ علیہ السلام کو سونے نہ دو فرشتوں نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو تین بار نیند سے بیدار کیا اور ان کے ساتھ وہ لگے رہے تاکہ وہ سونے نہ پائیں جناب موسیٰ علیہ السلام تھک کر چور ہو گئے اور نیند کا احساس کیا تو خداوند متعال کی وحی کے مطابق ان کے دونوں ہاتھوں میں پانی بھری دو شیشیاں تھما دی گئیں۔ جناب موسیٰ علیہ السلام اپنے دونوں ہاتھوں میں ان دونوں شیشیوں کو لئے ہوئے ان کی حفاظت کر رہے تھے یہ دیکھ فرشتے چلے گئے اور ابھی چند لمحے بھی نہ گزرنے پائے تھے کہ نیند کا اثر غالب آیااور اسی وقت ان کے ہاتھ سے شیشیاں چھوٹ کر گر گئیں اور وہ چور چور ہو گئیں۔خدا وند متعال نے جناب موسیٰ علیہ السلام پر وحی کی میں زمین وآسمان کو اپنی قدرت سے بچائے ہوئے ہوں ”فلو اخذنی نوم اونعاس لزالتا“ [151]اگر نیند یا ہلکی سی جھپکی بھی مجھ پر غالب آجائے تو زمین وآسمان فنا ہو جائیں۔
یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے کیسے فرشتوں سے اس طرح کا سوال کیا جب کہ وہ پیغمبر تھے اور جانتے تھے کہ خداوند متعال جسم کی تمام ضرورتوں جیسے نیند وغیرہ سے پاک وپاکیز ہے؟
فخر رازی اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں: ”اگر ہم فرض کریں کہ مذکورہ روایت صحیح ہے تو ہمیں مجبورا ً کہنا پڑے گا کہ موسیٰ علیہ السلام کا یہ سوال نہ تھا بلکہ ان کی جاہل اور ہٹ دھرم قوم کا سوال تھا“۔[152]
واضح طور پر یوں کہا جائے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے اصرار اور ضد سے پریشان ہوکر خدا وند متعال کی بارگاہ میں اس طرح کا سوال کرتے تھے تاکہ خدا وند متعال انھیں اپنی واضح نشانیوں کے ذریعہ ہدایت کردے اور جناب موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے شیشیوں کا ٹوٹنا اگر چہ ایک بہت ہی معمولی سا حادثہ ہے لیکن عام لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ بہت ہی اہم اور ضروری تھا۔
ممکن ہے یہ بھی کہا جائے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں اس طرح کے پس وپیش والے لوگ تھے جو اس طرح کی باتیں کیا کرتے تھے جناب موسیٰ علیہ السلام نے ایسے لوگوں کی ہدایت کے لئے خداوند عالم سے اس طرح سوال کیا تاکہ اس کے واضح جواب میں اپنی قوم کو گمراہی سے نجات دے سکیں۔
طالب علم: ”میں نے مکرر یہ بات سنی ہے کہ اسلام نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ عورتوں کی مہر کم سے کم رکھی جائے یہاں تک کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے:
”شوم المراٴة غلاء المھر“ ۔[153]
منحوس عورت وہ ہے جس کی مہر زیادہ ہو“۔
”افضل نساء امتی اصبحن وجھاواقلھن مھرا “(۲)[154]
”میری امت کی بہترین عورتیں وہ ہیں جو سب سے زیادہ خوبصورت اور ہنس مکھ ہوں اور جن کا مہر سب سے کم ہو“۔
لیکن قرآن کریم میں دوجگہ ایسی آیتیں پائی جاتی ہیں جہاں زیادہ سے زیادہ مہر قرار دینا بہتر کہا گیا ہے اور قرآن نے بھی اس بات پر رضایت کا اظہار کیا ہے“۔
عالم دین: ”قرآن میں کہاں اس طرح کی باتیں آئی ہیں ؟ “
طالب علم: ”پہلی جگہ سورہ ٴ نساء کی بیسویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں:
”وَإِنْ اٴَرَدْتُمْ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَکَانَ زَوْجٍ وَآتَیْتُمْ إِحْدَاہُنَّ قِنطَارًا فَلاَتَاٴْخُذُوا مِنْہُ شَیْئًا“۔
”اور اگر تم نے اپنی بیوی کے بجائے کسی اور عورت سے شادی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو جو تم نے اسے مال کثیر دیا تھا اس میں سے کچھ واپس نہ لو“۔
لفظ ”قنطار “کے معنی بہت سے مال ہو تے ہیں۔جو ہزاروں درہم ودینا رکے لئے کہاجا تا ہے۔قرآن کی اس آیت میں لفظ قنطار لایا گیا ہے جس پر قرآن نے کسی طرح کہ تنقید بھی نہیں کی ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ ان سے کچھ واپس نہ لو، اس طرح اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورت کی مہر زیادہ قرار دینا بری بات نہیں ہے ورنہ قرآن اس بری بات پر ضرور کچھ نہ کچھ کہتا۔
اسی بنا پر روایت میں آیا ہے کہ عمربن خطاب نے اپنی خلافت کے زمانہ میں جب دیکھا کہ لوگ عورتوں کی مہر زیادہ سے زیادہ رکھ رہے ہیں تو وہ منبر پر گئے اور لوگوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: ”تم لوگ کیوں زیادہ مہر رکھتے ہو“۔اور خبردار کیا کہ اب اگر میں نے سن لیا کہ کسی نے اپنی بیوی کی مہر چار سو درہم سے زیادہ رکھی ہے تو اس پر حد جاری کروں گا اور چار سو درہم سے زیادہ رقم کو بیت المال میں جمع کردوں گا“۔
ایک عورت نے منبر کے نیچے سے کہا:
”کیا تم مجھے چار سو درہم سے زیادہ مہر رکھنے سے منع کرتے ہو اور اگر کسی نے زیادہ رکھی تو اس سے لینے کو کہتے ہو ؟ “
عمر نے کہا: ”ہاں“۔
عورت نے کہا: ”کیا قرآن کی یہ آیت تم نے نہیں سنی ہے جس میں خدا وند متعال فرماتا ہے:
”وَآتَیْتُمْ إِحْدَاہُنَّ قِنطَارًا فَلاَتَاٴْخُذُوا مِنْہُ شَیْئًا“[155]
”اور اگر تم کسی زوجہ کو مال کثیر بھی (بعنوان مہر) دے چکے ہو تو خبردار اس میں سے کچھ واپس نہ لینا“۔
عمر نے اس عورت کی بات کی تصدیق کی اور استغفار کرتے ہوئے کہا:
”کل الناس افقہ من عمر حتی المخدرات فی الحجال“۔[156]
”تمام لوگ یہاں تک کہ پردہ میں رہنے والی عورتیں بھی عمر سے زیادہ فقیہ ہیں۔
عالم دین: ”مذکورہ آیت کی شان نزول یہ ہے کہ اسلام سے پہلے،زمانہٴ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ اگر کوئی شخص اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیکر دوسری شادی کرنا چاہتا تھا تو اس پر بری بری تہمتیں لگاتا تھا تاکہ وہ پریشان ہو کر اپنی وصول شدہ مہر کو واپس دے کر طلاق لے لے اور بعد میں اسی مہر کو وہ اپنی دوسری بیوی کے لئے معین کر دے۔
اسلام کی نظر میں مہر کا کم قرار دینا بہتر ہے لیکن اگر کسی سے یہ فعل سرزد ہوگیا اور اس نے عورت کی زیادہ مہر معین کر دی تو بعد میں بغیر عورت کی رضامندی کے اس کو کم نہیں کیا جا سکتا۔اسی بنا پر مذکورہ آیت مہر کو کم رکھنے کے حکم سے کسی طرح بھی منافات نہیں رکھتی اور حضرت عمر اور عورت کے بحث میں یہ کہنا چاہئے کہ عورت کا جواب بالکل صحیح تھا کیونکہ عمرنے کہا تھا کہ اگر کسی نے چار سو درہم سے زیادہ مہر معین کی تو اضافی رقم لے کر بیت المال میں جمع کر دی جائے گی، عورت نے مذکورہ آیت پڑھ کر عمر سے کہا مہر،معین کرنے کے بعد تم بقیہ رقم واپس لینے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔عمر نے بھی عورت کی اس بات کو قبول کرلیا۔
نتیجہ یہ کہ اسلام میں کم مہر رکھنا مستحب موکد ہے لیکن اگر اس سنت کو کسی نے ترک کیا اور زیادہ مہر رکھ دیا تو بغیر عورت کی رضایت کے اسے کم کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
طالب علم: ”آپ کے اس مفصل بیان کا شکریہ جو بہت ہی منطقی تھا اورمیں اس سے قانع ہو گیا۔۔۔ اب مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کی خدمت میں دوسرا سوال پیش کروں“۔
عالم دین: ”فرمائیں“۔
طالب علم: ”قرآن کریم میں جناب موسیٰ علیہ السلام اور جناب شعیب علیہ السلام کا واقعہ ملتا ہے جب جناب موسیٰ علیہ السلام فرعونیوں کے ڈر سے بھاگ کر مدائن شہر پہنچے اور آخر میں جناب شعیب علیہ السلام کے گھر میں داخل ہوئے تو جناب شعیب علیہ السلام نے جناب موسیٰ علیہ السلام سے کہا:
” قَالَ إِنِّی اٴُرِیدُ اٴَنْ اٴُنکِحَکَ إِحْدَی ابْنَتَیَّ ہَاتَیْنِ عَلَی اٴَنْ تَاٴْجُرَنِی ثَمَانِیَةَ حِجَجٍ فَإِنْ اٴَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِکَ وَمَا اٴُرِیدُ اٴَنْ اٴَشُقَّ عَلَیْکَ سَتَجِدُنِی إِنْ شَاءَ اللهُ مِنْ الصَّالِحِین“[157]
”میں اپنی ان دونوں بیٹیوں (صفورا ولعیا)میں سے کسی ایک کی شادی تمہارے ساتھ اس شرط پر کرنا چاہتاہوں کہ تم آٹھ سال تک میرے یہاں کام کرو اور اگر تم نے اسے دس کردیا تو یہ تمہاری مرضی ہے ،میں تمہیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پاوٴگے“۔
جناب موسیٰ علیہ السلام نے جناب شعیب کی اس خواہش کی قدر کی اور ان کی درخواست قبول کیا۔
یہ واضح سی بات ہے کہ آٹھ سال کا م کرنا بہت ہی زیادہ مہر ہے جسے خدا کے دو نبیوں نے قبول کیا ہے اور قرآن نے بھی بغیر کسی تنقید کے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔
قرآن مجیدکی تنقید نہ کرنا زیادہ مہر قرارد ینے کی اجازت دیتا ہے۔
عالم دین: ”جناب موسیٰ علیہ السلام اور جناب شعیب علیہ السلام کے واقعہ کے بارے میں یہ معلوم ناچاہئے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کی جناب شعیب علیہ السلام کی لڑکیوں کے ساتھ شادی معمولی شادی نہیں تھی بلکہ یہ ایک مقدمہ تھا تاکہ موسیٰ علیہ السلام شہر مدائن کے ”شیخ “جناب شعیب علیہ السلام کے مکتب میں کافی دن تک رہ کر علم وکمال حاصل کریں۔
اگر چہ درست ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان کے یہاں کئی سال کام کر کے مہر ادا کی لیکن شعیب علیہ السلام نے بھی موسیٰ علیہ السلام اور ان کی بیوی کا خرچ چلا یا اور اگر موسیٰ علیہ السلام اور ان کی بیوی کی زندگی کا خرچ موسیٰ علیہ السلام کی مزدوری سے کم کر دیا جائے تو بہت کم مال باقی بچتا ہے اور اس لحاظ سے مہر کی مقداربہت کم قرار پائے گی۔
لہٰذا اس طرح جناب شعیب کی بیٹی کا بھاری مہر در اصل جنا ب موسیٰ کی مادی ومعنوی زندگی کے تحفظ کے لئے ایک مقدمہ تھا جو جناب شعیب نے اپنی بیٹی کی مرضی سے انجام دیا تھا۔
واضح اور روشن عبارت میں یہ عرض کیا جائے کہ جناب شعیب علیہ السلام ظاہری طور پر بھاری اور زیادہ مہر قرار دے کر مقصد موسیٰ علیہ السلام کی تنہائی ختم کرنا چاہتے تھے نہ کہ ان کا مقصد انھیں اس مہر سے پریشان کرنا تھا بلکہ ان کا مقصد موسیٰ علیہ السلام کی زندگی سہل اور آسان بنانا تھا جیسا کہ انھوں نے فرمایا: ”ماارید ان اشق علیک “ ،”میں تمہیں زحمت میں نہیں ڈالنا چاہتا“۔
طالب علم: ”آپ کے دل کش اور استدلالی بیان کا بہت شکریہ، سچ مچ جناب شعیب علیہ السلام نے ذہانت اور ہوشمند انہ تدبیر سے جناب موسیٰ علیہ السلام کی بہت اچھی خدمت کی“۔
عظیم مرجع مرحوم آیت اللہ العظمیٰ سید عبد اللہ شیرازی فرماتے ہیں: ”اہل سنت کے تقریبا ً بیس افراد جو خراسان کے اطراف و نواح جیسے’ ’تربت جام“وغیرہ سے حج کے لئے مدینہ منورہ آئے ہوئے تھے وہاں پر میں بھی انھیں کے ساتھ باغ صفا میں رہتا تھا۔
ایک روز میرے قریب ہی رہنے والے کچھ اصفہانی حجاج کے ساتھ یہ طے پایا کہ مجلس عزا منعقد کی جائے کیونکہ عزاداری اور محرم کے دن بھی قریب ہیں خراسان کے اطراف تربت وغیرہ کے سنی کے حجاج جو باغ صفا کے ایک بڑے ہال میں رہتے تھے جگہ کے لحاظ سے وہ بہت ہی وسیع وعریض جگہ تھا لہٰذا ہم لوگوں نے ان سے باغ صفا میں کے اس ایوان عزاداری کی در خواست کی تو ان لوگوں نے ہماری درخواست کو قبول کرلیا اور کافی مدد بھی کی۔
اسی دوران مدینہ کے رہنے والے کچھ سنی اہل علم حضرات اُن ایرانی سنیوں سے ملاقات کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔میرے اور ان کے درمیان حضرت علی علیہ السلام کی عظمت ومنزلت کے بارے میں گفتگو ہورہی تھی اور وہ ہماری بات کی تصدیق کررہے تھے، اور اس گفتگو کے درمیان انھوں نے بہت سی حدیثیں حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نقل کیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ پیغمبر اکرم نے حضرت علی علیہ السلام کے لئے فرمایا:
”لحمک لحمی و دمک دمی“۔
”تمہارا گوشت میرا گوشت تمہارا خون میرا خون ہے“۔
اور اسی طرح کی دوسری بہت سی روایتیں بھی نقل ہوئی ہیں جو علی علیہ السلام کی دوستی، پیغمبر اکرم کی دوستی اور علی علیہ السلام کی دشمنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دشمنی پر دلالت کرتی ہیں۔
یہاں تک کہ ہماری گفتگو کا سلسلہ لعن معاویہ تک بات پہنچا تو ان لوگوں نے کہا: ”معاویہ پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے لیکن یزید پر لعنت کرنا چاہئے کیونکہ اس نے امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا ہے“۔
میں نے کہا: ”تمہارے مذہب کے مطابق پر لعنت کرنا جائز ہونا چاہئے کیونکہ اس پر لعنت کرنے کا جواز تمہاری ابھی حال میں کہی ہوئی باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
”اللھم عاد من عاداہ“۔
(خدایا تو اسے دشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے )
یہ بات مسلم ہے کہ معاویہ حضرت علی علیہ السلام کا سخت ترین دشمن تھا یہاں تک کہ مرتے وقت تک آپ سے دشمنی روارکھی اور توبہ و استغفار بھی نہیں کیا اور اس طرح اس نے آپ کی دشمنی کی وجہ سے آخری عمر تک آپ کو برا بھلا کہنا نہیں چھوڑا جب کہ اس چیز کو وہ آسانی سے چھوڑا سکتا تھا۔اس دلیل کے ذریعہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام کے دشمنوں کے لئے بددعا کی ہے اور معاویہ حضرت علی علیہ السلام کا جانی دشمن تھا لہٰذا اس پر لعنت کرنا جائز ہے۔[158]
یہاں پر توضیح کے طور پر اس بات پر توجہ رہے کہ اہل سنت کی معتبر کتابوں کے مطابق رسول اسلام نے خود ابو سفیان، معاویہ اور یزید پر لعنت کی ہے،[159] یہاں تک کہ فرمایا: ”جب بھی معاویہ کو منبر کے پر دیکھو،اسے قتل کردو۔ [160]
اورا گر یہ کہا جائے (جیسا کہ معاویہ کا دفاع کرنے والے کہتے ہیں)کہ معاویہ نے اجتہاد کی رو سے علی علیہ السلام سے دشمنی کی تو اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ نص کے مقابلہ میں ہر گز اجتہاد جائز نہیں ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کی باطنی خباثت سے اچھی طرح آگاہ تھے جس کی وجہ سے آپ نے اس کو اس طرح بددعا دی۔اہل سنت کی روایات کے مطابق رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے ایک دن اس پر اس طرح لعنت کی:
”خدایا معاویہ اور عمر وعاص کو جہنم میں ڈال دے“۔[161]
اہل سنت حضرات کے یہاں جو اصحاب محترم اور قابل قبول سمجھے جاتے ہیں انھوں نے بھی معاویہ کے بارے میں سخت باتیں کہیں ہیں، (اس کی مزید وضاحت کے لئے آپ کتاب الغدیر جلد ۱۰ صفحہ ۱۳۹سے ۱۷۷ کا مطالعہ کریں)
شیخ حر عاملی (متوفی ۱۱۰۴ ھ ) غزالی صاحب کتاب ”احیاء العلوم “کی بات کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں: غزالی نے صراحت کے ساتھ یہ کہا ہے کہ یزید اور حجاج پر لعن وطعن کرنا جائز نہیں ہے“!!
اس کے شیخ حر عاملی فرماتے ہیں: ”خاندان رسالت سے دشمنی و عداوت رکھنا کیا اس سے بھی زیادہ ممکن ہے جو غزالی ان سے رکھتا تھا؟ جب کہ شیعہ اور سنی دونوں روایتوں سے نقل ہو ا ہے کہ ایک روز ابو سفیان اونٹ پر سوار تھا معاویہ اس کی مہار پکڑے ہوئے اسے کھینچ رہا تھا اور یزید پیچھے سے ہانک رہا تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان تینوں کو دیکھ کر فرمایا:
”لعن اللہ الراکب والقائد والسائق“۔
”خدا! سوار ،مہارپکڑنے والے اور ہانکنے والے تینوں پر لعنت کرے“۔
اس کے بعد شیخ حر عاملی کہتے ہیں: ”کیا خدا وند متعال نے قرآن مجید (کے سورہٴ نساء میں آیت ۹۳) میں یہ نہیں فرمایا ہے:
”وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہُ وَاٴَعَدَّ لَہُ عَذَابًا عَظِیماً“
”اور جو بھی مومن کو عمداً قتل کرتا ہے اس کی جزا جہنم ہوتی ہے وہ وہاں ہمیشہ رہے گا، اللہ اس پر غضبناک ہوتا ہے اور اس پر لعنت بھیجتا ہے اور اس کے لئے درد ناک عذاب تیار رکھتا ہے“۔
کیا غزالی اس بات کا معتقد ہے کہ امام حسین علیہ السلام مومن نہیں تھے جس کی وجہ سے ان کے قاتل یزید پر لعنت جائزنہیں سمجھتا ہے ، کیا بے انصافی ہے!!؟[162]
ایک بہت ہی پڑھے لکھے واعظ نے منبر پر تقریر کے دوران امام حسین علیہ السلام پر رونے کے سلسلے میں بہت سی روایتیں نقل کیں جن میں ایک یہ کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”کل عین باکیة یوم القیامة الاعین بکت علی مصائب الحسین فانھا ضاحکة مستبشرة بنعیم الجنة“۔[163]
”روز قیامت ہر آنکھ گریہ کنا ں ہوگی لیکن امام حسین علیہ السلام کی مصیبت پر رونے والی آنکھیں خدا کی نعمت دیکھ کر ہشاش وبشاس ہوں گی“۔
منبر سے اترنے کے بعد ایک سامع اور واعظ کے درمیان حسب ذیل طریقہ سے مناظرہ ہوا:
سامع: ”یہ تمام اجر وثواب گریہ امام حسین علیہ السلام پر کیوں ہے ؟ جب کہ امام حسین علیہ السلام دنیا میں عظیم انقلاب لا کر کامیاب و سربلند ہوئے اور اپنے خون سے یزیدیوں کو رسوا کیا اور ان کے چہرے ہمیشہ کے لئے کالے کر دیئے اور آخرت میں اس کے بدلے آپ کو بہترین مقام دیا گیا ہے اور آج بھی آپ برزخ اور جنت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو رہے ہیں۔اور اسلامی نظریہ کے مطابق امام حسین علیہ السلام زندہ ہیں جیسا کہ قرآن مجید سورہٴ آل عمران میں ارشاد فرماتا ہے:
”وَلاَتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اٴَمْوَاتًا بَلْ اٴَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُون“[164]
”اور اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والوں کو مردہ نہ سمجھنا بلکہ وہ لوگ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار سے رزق پاتے ہیں“۔
واعظ: ”میں نے ایسی متعدد روایتیں دیکھی ہیں جن میں امام حسین علیہ السلام پر گریہ و زاری اور عزاداری کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور اس گریہ و زاری کو برابر زندہ رکھنے کے بارے میں کہا گیا ہے اور شیعہ وسنی دونوں روایتوں میں آیا ہے کہ روز قیامت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا خداوند متعال کی بارگاہ میں اس طرح عرض کریں گی:
”اللھم اقبل شفاعتی فیمن بکی علی ولدی الحسین“۔
”پالنے والے میرے بیٹے حسین پر گریہ کرنے والوں کے لئے میری شفاعت قبول کر“۔
اسی روایت کے ذیل میں آیا ہے:
”فیقبل اللہ شفاعتھا ویدخل الباکین علی الحسین علیہ السلام فی الجنة“۔[165]
”خدا وند عالم فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شفاعت قبول کرے گا اور امام حسین علیہ السلام پر گریہ کرنے والوں کو جنت میں داخل کرے گا“۔
متعدد روایتوں کے مطابق انبیاء علیہم السلام اورپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امام حسین علیہ السلام پر گریہ کیا ہے اور عزاداری برپا کی ہے۔
کیا اگر ہم اولیائے خدا اور بارگاہ خدا وندی کے مقرب بندوں کی پیروی میں امام حسین علیہ السلام پر گریہ کریں توکوئی اعتراض کا مقام ہے ؟نہیں قطعاً نہیں، بلکہ اس عظیم سنت کو زندہ کرنے اور ائمہ علیہم السلام کی اس چیزکی اقتداء میں بہت ہی اجر وثواب ہے یہاں پر ائمہ معصومین علیہم السلام نے گریہ امام حسین علیہ السلام کو کتنی اہمیت دی ہے اس کے بارے میں سے دو عجیب واقعے نقل کر رہے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
۱۔ایک روز امام سجاد علیہ السلام نے سنا: ایک شخص بازار میں یہ کہہ رہا ہے: میں ایک مسافر ہوں مجھ پر رحم کرو۔(انا الغریب فارحمونی)
امام سجاد علیہ السلام اس کے پاس گئے اور اس کی طرف متوجہ ہو کر آپ نے فرمایا:
”اگر تیری قسمت اسی (شہر مدینہ میں)مرنا ہوگی تو کیا یہاں تیری لاش کو بے گوروکفن چھوڑ دیا جائے گا ؟“
اس غریب مرد نے کہا: ”اللہ اکبر کس طرح میرے جنازہ کو دفن نہیں کریں گے جب کہ میں مسلمان ہوں اور اسلامی امت کی آنکھوں کے سامنے ہوں“۔
امام سجاد علیہ السلا م نے روتے ہوئے فرمایا:
”وا اسفاہ علیک یا ابتاہ۔تبقی ثلاثة ایام بلادفن وانت ابن بنت رسول الله“۔[166]
”کتنے افسوس کی بات ہے اے میرے بابا!رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواسے ہوتے ہوئے بھی آپ کی لاش تین روز تک بے گوروکفن زمین پر پڑی رہی“۔
۲۔تاریخ میں آیا ہے کہ منصور دوانقی (دوسرا عباسی خلیفہ)نے مدینہ میں اپنے والی کو حکم دیا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے گھر میں آگ لگا دو۔
والی مدینہ نے حکم پانے کے بعد آگ اور لکڑی جمع کروائی اور امام جعفرصادق علیہ السلام کے گھر میں آگ لگادی اور گھر کے دالان سے جب شعلے بھڑکنے لگے تو مخدرات عصمت گھر میں رونے یٹنے لگیں یہاں تک کہ ان کی آواز گھر سے باہر پہنچ گئی امام جعفر صادق علیہ السلام نے بڑی مشکل سے آگ بجھا ئی اس کے دوسرے دن کچھ شیعہ حضرات آپ کی احوال پرسی کے لئے گئے تو دیکھا کہ آپ محزون ہیں اور گریہ فرمارہے ہیں ان لوگوں نے کہا: ”کیا دشمنوں کے اس عمل اور ان کی گستاخی پر آپ گریہ کر رہے ہیں جب کہ آپ کے خاندان کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے؟ “
امام جعفر صادق علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ”میںکل کے واقعہ پر نہیں روہا ہوں بلکہ اس بات پر رورہا ہوں کہ جب گھر میں آگ کا شعلہ بھڑکنے لگا تو میں نے دیکھا کہ میرے ہوتے ہوئے عورتیں اور بچیاں ایک کمرے سے دوسرے کمرے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگ بھاگ کر پناہ لے رہی تھیں تاکہ انھیں آگ کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔
”فتذکرت عیال جدی الحسین یوم عاشوراء لما ھجم القوم علیھم ومنادیھم ینادی احرقوا بیوت الظالمین“۔[167]
تو اس وقت مجھے روز عاشورہ اپنے جد امام حسین علیہ السلام کے مصیبت زدہ اہل حرم کی یا د آگئے جب ایک منادی ندا دے رہا تھا کہ ظالموں کے گھروں کو جلا دو“۔
دو مذکورہ واقعے اور اس کے علاوہ بہت سے قرائن سے سمجھا جا سکتا ہے کہ تمام ائمہ علیہم السلام ہمیشہ چاہتے تھے کہ امام حسین علیہ السلام پر گریہ اور ان کی عزاداری برابر لوگوں کے دلوں میں تازہ دم رہے اسی بنیاد پر ہم ان کی پیروی میں امام حسین علیہ السلام کی مصیبت زندہ رکھنے کے لئے ان پر گریہ کرتے ہیں اور اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ اس عمل پرہمیں عظیم اجر وثواب عطا ہوگا۔
امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر گریہ کرنا اور غمگین ہونا اتنا عظیم اور مقدس عمل ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام زیارت امام حسین علیہ السلام کے ضمن میں فرماتے ہیں:
”السلام علی الجیوب المضرجات“۔[168]
”سلام ان گریبانوں پر جو امام حسین علیہ السلا کے غم میں چاک ہوئے ہوں“۔
سامع: ”آپ کی اس راہنمائی کا بہت بہت شکریہ ،بیشک ہمیں اپنی زندگی میں چاہئے کہ ہم ائمہ علیہم السلام کو اپنے لئے نمونہٴ عمل قرار دیں، لیکن یہاں میرا مطلب یہ ہے کہ تمام احکام حکمت ومصلحت سے خالی نہیں ہیں تمام احکام اپنے ساتھ ایک ہدف لئے ہوئے ہیں اور کتنا بہتر ہے اگر ہم ان تمام احکام کو با معرفت انجام دیں نہ کہ اندھی تقلید کرتے ہوئے۔
اسی بنا پرمیرا سوال یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام پر گریہ کا کیا مقصد اور کیا سبب ہے ؟ “
واعظ: ”امام حسین علیہ السلام پر گریہ اور اس کے مقصد کی وضاحت کے سلسلے میں چند باتیں کہی جاسکتی ہیں:
۱۔شعائر اللہ کی تعظیم: مرحوم مومن پر گریہ کرنا ایک طرح کا احترام ہے اور یہ گریہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ معاشرہ میں اس کے چلے جانے سے ایک خلا واقع ہو گیا ہے اور وہ اب موجود نہیں ہے تاکہ لوگ اس کے وجود سے فائدہ اٹھائیں۔یہ گریہ اس کے باطنی احساسات ہیں جو مومن کے دنیا سے چلے جانے پر وجود میں آتے ہیں کیونکہ جب وہ مومن اس دنیا میں تھا لو گ اس سے مختلف طرح سے مستفید ہوتے رہتے تھے، گریہ ایک فطری عمل ہے اور جو شخص جتنا عظیم ہوگا دنیا والے اس پر اسی حساب سے زیادہ گریہ کریں گے۔جو دنیا سے جاتا ہے اور اس کے اوپر کوئی گریہ نہیں کرتا تو گویا یہ اس کی ایک طرح کی بے احترامی ہے۔
ایک شخص نے امام علی علیہ السلام سے پوچھا: ”نیک اخلاق کیا ہے ؟ “آپ نے جواب دیا:
”ان تعاشروا الناس معاشرة ان عشتم حنواالیکم وان متم بکوا علیکم“۔ [169]
”لوگوں سے اس طرح سلوک کرو کہ جب تک زندہ رہو وہ تمہارے اشتیاق میں تمہاری طرف کھنچے چلے آئیں اور جب تم مر جاوٴ تو تم پر گریہ کریں“۔
ہر قوم وملت میں یہ رسم پائی جاتی ہے کہ جب بھی اس کے درمیان سے کوئی بزرگ شخصیت اٹھ جاتی ہے تو لوگ اس کے انتقال پر گریہ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی دین محمد ی پر شہادت بھی ایک عظیم اور ہمیشہ باقی رہنے والا واقعہ ہے جس پر گریہ کرنا ان کے ہدف و مقصد کوزندہ رکھنا دینی شعائر کی تعظیم سمجھا جاتا ہے۔
اور قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
”وَ مَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ“[170]
”اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی۔--“
۲۔عاطفی گریہ: امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی ایک روز (عاشورا) میں جگر سوز شہادت ہر انسان کے دل کو کباب کر دیتی ہے اور ہر انسان کا دل ظالم و ستمگر کے خلاف بر انگیختہ ہوجاتا ہے کربلا کا الم ناک واقعہ اس قدر دل ہلا دینے والا ہے کہ اسے زمانہ نہ کبھی بھلا سکتا ہے اور نہ ہی اسے پرانا بنا سکتا ہے۔
مثال کے طور پر: عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق جنا ب عیسیٰ علیہ السلام کے دشمنوں نےانھیں پھانسی دے کر قتل کر دیا اب تم معلوم کر سکتے ہو کہ عیسائی اس یاد کو دنیا کے چپہ چپہ میں لوگوں کے دلوں میں تازہ کرتے ہیں اور غم کا اظہار کرتے ہیں یہاں تک کہ صلیب اپنے لباس اور اپنے کلیسا وغیرہ پر نصب کرکے اسے اپنی علامت قرار دیتے ہیں۔
جب کہ قتل عیسیٰ (عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق)واقعہ کربلا اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے بہت ہی کم اہمیت کا حامل ہے۔
اسی وجہ سے امام حسین علیہ السلام پر گریہ اور ان کی عزاداری لوگوں کی محبت کو بر انگیختہ ہونے اور ان کے عظیم اہداف تک پہنچنے کا سبب بنتی ہے۔
ایک استاد کے بقول: ”عقل کی ترجمان ہمیشہ زبان رہی ہے لیکن عشق کا ترجمان آنکھ ہے جہاں احساس اور درد ہوں اورآنسو گریں وہاں عشق ضرور پایا جاتا ہے لیکن جہاں لفظوں کو ترتیب دے کر جملہ چھانٹے وہاں عقل پائی جاتی ہے“۔
اس بنا پر جس طرح مقرر کے زبردست دلائل اور پر زور خطابت اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ وہ اس خاص مذہب سے وابستہ ہے اسی طرح آنکھوں سے گرنے والا آنسو کا ایک قطرہ دشمنوں کے خلاف اعلان جنگ کی طرح ہوتا ہے۔[171]
مقاصد کی تکمیل اور دشمن کی مغلوبیت کے لئے احساساتی پہلوایک اہم کردار ادا کرتے ہیں لہٰذا ان کو یکسر نظر انداز نہیں کر دینا چاہئے کیونکہ یہ بھی کسی انقلاب کی آہٹیں ہوا کرتے ہیں۔
۳۔گریہ تائید ہے: امام حسین علیہ السلام پر گریہ کرنا ایک طرح سے ان کے قیام اور ان کے اہداف کی تائید ہے یہ گریہ عمیق ترین شعور و احساسات کو دشمنوں اور ستمگروں کے خلاف ابھارتا ہے جس کے معنی یہ ہیں: اے امام حسین علیہ السلام! آپ ہمارے قلب و جان اور احساسات کے گھروں میں پ موجود ہیں“:
زندہ در قبر دل ما بدن کشتہ تو است
جان مائی و تورا قبر حقیقت دل است
یہ زبان حال شیعہ ہے جو ہر زمان ومکان میں تین ستونوں پر استوار ہے۔
۱۔ہمارا قلب اس مبداء ایمان کی خاطر تلاش کرتا ہے جس کے لئے امام حسین علیہ السلام قتل کئے گئے۔
۲۔ہمارے کان ان کی سیرت و گفتار کو سنتے ہیں۔
۳۔ہماری آنکھیں آنسو بہا کر کربلا کے درد ناک واقعہ کو لوگوں کے دلوں پر نقش کرتی ہیں۔
اگر مذکورہ اسباب میں سے کسی ایک سبب کی وجہ سے گریہ ہواتو یہ سو فی صد ایک سالم فطرت تقاضہ کے تحت عمل میں آیا ہے اس طرح کے گریہ میں کوئی حرج کی بات کیا بلکہ یہ تو امام حسین علیہ السلام کے قیام و انقلاب کے لئے بہت سے فوائد کا حامل بھی ہے۔
۴۔ پیام آور اور رسواگر گریہ: ہر انسان جب امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی کیفیت شہادت سنتا ہے کہ وہ بھوکے پیاسے عورتوں اور بچوں کے سامنے جلتی ہوئی زمین پر شہید کر دئیے گئے تو بے اختیا ر اس کے قلب و دماغ میں انقلاب پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اپنے پورے وجود سے یزید کی پلیدی اور قساوت قلبی پر لعنت وملامت کرتا ہے۔
اسی طرح امام حسین علیہ السلام پر گریہ ہر زمان مکان میں ظلم اور ظالم کے خلاف ایک آواز اور ایک طرح کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے اور کبھی کبھی یہی گریہ دشمن کو کچلنے کا بہترین ذریعہ بن ہوجاتا ہے۔لہٰذ جہاں بھی گریہ بے رحم دشمنوں کی رسوائی کا سبب بنے اور الٰہی پیغام لوگوں تک پہنچ جائے تو اسے ایک قسم کا نہی عن المنکر دین کے راستے کو استوار کرنے اور ظلم و ستم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں عملی اقدام کہا جاسکتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ گریہ کی چند قسمیں ہیں جیسے خوف خدا سے گریہ ،شوق کا گریہ، محبت کا گرم وپیام آور گریہ وغیرہ اگر اس گریہ کا صحیح اور مناسب مقصد ہو تو یہ گریہ اپنی تمام قسموں میں سب سی زیادہ اچھا ہے۔
ہاں ایک گریہ مایوسی ،لاچاری،عاجزی اور شکست کی وجہ سے ہوتا ہے جسے گریہ ذلت کہتے ہیں اور اس طرح کا گریہ ان عظیم ہستیوں سے بہت دور ہے اور اولیائے خدا اور اس کے آزاد بندے اس طرح کا گریہ کبھی نہیں کرتے۔
اسی طرح گریہ اور عزاداری کی دو قسم ہے ”مثبت اور منفی“منفی گریہ قابل مذمت اور نقصان دہ ہے لیکن مثبت گریہ اپنے ساتھ بہت سے اصلاحی فوائد لئے ہوئے ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ گریہ کبھی کبھی نہی عن المنکر اور طاغوتیوں کے خلاف قیامت برپاکرنے اور جہاد کی صف میں کھڑے ہو کر جنگ کرنے کا سب سے اچھا اسلحہ ثابت ہوتا ہے۔
سامع: ”میرے سوال کے جواب میں آپ کے منطقی جامع اور مانع بیان کا بہت شکریہ“۔
واعظ: ”یہاں پر اس مناظرہ کی تکمیل میں کچھ اور باتیں بتاتا چلوں:
اسلام کے بعض دستور العملمیں سیاسی پہلو بھی لایا جاتا ہے ، چنانچہ عزاداری کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ گریہ کرنے یہاں تک کہ رونے والوں جیسی صورت بنانے (تباکی) میں ایک سیاسی پہلو پوشیدہ ہے، (جیسا کہ مناظرہ نمر ۸۱میں آپ نے امام محمد باقر علیہ السلام کی اپنے اوپر دس سال تک گریہ کرنے کی وصیت میں پڑھا۔)
ائمہ علیہم السلام واقعہ کربلا کے سبب عزاداری کے ضمن میں حق وباطل کے چہرہ کو بے نقاب کرنا چاہتے تھے اور لوگوں کو غفلت سے نکالنا چاہتے تھےے، لہٰذا انھوں نے ہر موقع اور مناسبت سے واقعہ عاشورہ کو زندہ رکھا، یہاں تک کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
”امام سجاد علیہ السلام کی انگوٹھی کے نگینہ پر یہ لکھا تھا“:
”خزیٰ و شقی قاتل الحسین بن علی علیہ السلام“۔[172]
”حسین بن علی علیہ السلام کا قاتل ذلیل اور رسوا ہوا“۔
حقیقتاً امام سجاد علیہ السلام نے اپنی انگوٹھی پر اس جملہ کو صرف اس لئے کندہ کروارکھا تھا کہ شہادت امام حسین علیہ السلام لوگوںکے دلوں میں تازہ دم ہوتی رہے اور لوگوں کی نظر جب بھی میری اس انگوٹھی پر پڑے توانھیں بنی امیہ کے مظالم یاد آجائیں اور سیاسی لحاظ سے بیدا ررہیں۔
ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور گریہ دو طرح کا ہے۔ مثبت ومنفی، اب اس میں منفی اور قابل مذمت وہ گریہ ہے جو رونے والوں کے عجز وناتوانی اور شکست کو ثابت کرے لیکن مثبت وہ گریہ ہے جو لوگوں کی عزت، شجاعت ،صلاحیت اور بیداری کا سبب بنے۔
ضروریات دین میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آخری پیغمبر ماننا ہے جس کے بعد خدا وند متعال کی طرف سے نہ کوئی پیغمبر آیا اور نہ کوئی شریعت ،اس بات کے اثبات میں قرآن میں بہت سی آیتیں پائی جاتی ہیں جیسے سورہٴ احزاب آیت ۴۰،سورہٴ فرقان آیت۱، سورہٴ فصلت آیت ۴۱۔۴۲۔سورہٴ انعام آیت ۱۹ ،سورہٴ سبا ، آیت ۲۸ وغیرہ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ علیہم السلام کی بہت سی روایتیں آپ کے خاتم الانبیاء ہونے پر صریحی ور سے دلالت کرتی ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے بعد آنے والے زمانوں میں فریبی اور چالباز لوگوں نے نیا نیا پیغمبر بنا کر آپ کی خاتمیت کو مخدوش بنانا چاہا۔تاکہ اس طرح سے خود ساختہ ادیان جیسے قادیانیت، بابی گری اور بہائیت معاشرہ میں اپنا اثر ورسوخ پید ا کرسکیں۔
اب درج ذیل مناظرہ جو ایک مسلمان اور بہائی کے درمیان ہوا ملاحظہ فرمائیں:
مسلمان: ”تم اپنی کتابوں اور تقریروں میں اسلام اور قرآن کو اس فرق کے ساتھ قبول کرتے ہو کہ اسلام نسخ ہو گیا ہے اور اس کی جگہ دوسری شریعت آگئی ہے اب میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ قرآن نے تو اپنی متعدد آیتوں میں اسلام کو ایک عالمی اور قیامت تک باقی رہنے والا مذہب کہا ہے اور ساتھ ساتھ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خاتمیت کا اعلان کرتے ہوئے آنے والے نئے دین کا باطل قرار دیا ہے۔
بہائی: ”مثلاًکون سی آیت یہ کہہ رہی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آخری پیغمبر ہیں ؟“
مسلمان: ”سورہٴ احزاب کی ۴۰ ویں آیت میں۔
”مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اٴَبَا اٴَحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلَکِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ وَکَانَ اللهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمًا “
”محمد ، تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ رسول خدا اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر شئے کا علم رکھنے والا ہے“۔
آیت میں جملہ ”خاتم النبیین “ واضح طور پر بتا رہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمآخری پیغمبر ہیں،کیونکہ لفظ خاتم کو جس طرح بھی پڑھا جائے اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے ،لہٰذا اس آیت سے صریحی طور پر سمجھ میں آتا ہے کہ آپ آخری پیغمبر ہیں اور آپ کے بعد کوئی بھی پیغمبر اور شریعت نہیں آئے گی“۔
بہائی: ”خاتم انگوٹھی کے معنی میں بھی آیا ہے جو زینت کے لئے استعمال ہوتی ہے اس طرح اس آیت سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انبیاء کی زینت ہیں“۔
مسلمان: ”لفظ خاتم کا رائج اور حقیقی معنی ختم کرنے والے کے ہیں اور کہیں پر یہ نہیں آیا کہ لفظ خاتم کسی انسان کے لئے آیا ہو جس سے زینت مراد لی گئی ہو اور اگر ہم لغات کی طرف رجوع کریں تو پتہ چلے گا کہ خاتم کے معنی ختم کرنے والے کے ہی ہیں اب اگر کوئی لفظ اپنے معنی کے علاوہ کسی اور معنی میں استعمال ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ساتھ کچھ سیاق وسباق رکھتا ہو،ہم اس لفظ کے ساتھ کوئی قرینہ یا کسی طرح کی کوئی دلیل نہیں پاتے ہیں جس کی وجہ سے اصلی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی مراد لئے جائیں۔
یہاں پر لفظ خاتم کے بارے میں چند لغات آپ ملاحظہ فرمائیں فیروز آبادی ”قاموس اللغة“ میں کہتے ہیں ”ختم“مہر کرنے کے معنی میں آتا ہے اور ”ختم الشئی“یعنی کسی چیز کا آخر۔
جوہری ”صحاح“میں کہتے ہیں کہ ختم یعنی پہنچنا اور ”خاتمة الشئی“ یعنی اس چیز کاآخر۔
ابو منظور ”لسان العرب“میں کہتے ہیں کہ” ختام القوم“ یعنی قوم کی آخری فرد اور ”خاتم النبیین“ یعنی انبیاء کی آخری فرد۔
راغب ”مفردات“میں کہتے ہیں کہ خاتم النبیین یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود آکر سلسلہ نبوت کو منقطع کر دیا اور نبوت کو تمام کر دیا۔[173]
نتیجہ یہ ہو اکہ لفظ خاتم سے زینت معنی مراد لینا ظاہر کے خلاف ہے جس کے لئے دلیل کی ضرورت ہے اور یہاں پر کوئی دلیل نہیں پائی جاتی ہے“۔
بہائی: ”لفظ خاتم کے معنی خط پر آخری مہرہے جس کے معنی تصدیق شدہ کے ہیں لہٰذا اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے سے پہلے کے انبیاء کی تصدیق کرنے والے تھے۔
مسلمان: ”غرض پہلے سوال کے جواب سے یہ واضح ہو گیا کہ خاتم کے اصلی اور رائج معنی تمام اور اختتام کے ہیں اور یہ کہیں پر نہیں سنا گیا ہے لفظ خاتم سے استعمال کے وقت تصدیق مراد لی گئی ہو،اتفاق سے اس سے یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ خاتم یعنی آخر میں مہر لگانا یعنی خاتمہ کا اعلان کرنا“۔
بہائی: ”آیت کہتی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاتم النبیین،یعنی پیغمبروں کے سلسلہ کوختم کرنے والے ہیں ،آیت یہ نہیں کہتی کہ مرسلین کے ختم کرنے والے ہیں لہٰذا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد رسول کے آنے کی نفی ہوتی ہے“۔
مسلمان: ”اگر چہ قرآن میں رسول اور نبی میں فرق پایا جاتا ہے مثلاًخداوند متعال نے قرآن میں جناب اسماعیل علیہ السلا م کو رسول اور نبی دونوں کہا ہے (سورہٴ مریم آیت ۵۴)اور اسی طرح جناب موسیٰ کو بھی رسول اور نبی بھی کہا ہے (سورہٴ مریم آیت ۵۱)لیکن یہ چیز کسی بھی طرح لفظ خاتم میں شبہ نہیں پیدا کرتی ہے کیونکہ نبی یعنی ایسا پیغمبر جس پر خدا وند متعال کی طرف سے وحی ہوتی ہے خواہ وہ لوگوں کی تبلیغ کرنے والا ہو یا نہ ہو، لیکن رسول وہ ہے جو صاحب شریعت اور صاحب کتاب ہو لہٰذاہر رسول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہے۔
نتیجہ یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خاتم انبیاء کہاجائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اس فرض کے ساتھ کہ ہر رسول پیغمبر ہے بس رسول بھی نہیں آئے گا مثال کے طور پر نبی اور رسول کی مثال انسان اور عالم دین (منطق کی زبان میں عموم خصوص مطلق )کی نسبت پائی جاتی ہے جب بھی ہم کہیں کہ آج ہمارے گھر کوئی انسان نہیں آیا یعنی عالم دین انسان بھی نہیں آیا، اور ہماری بحث میں اگر کہا جائے گیا کہ کوئی پیغمبر ،رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد نہیں آئے گا یعنی کوئی رسول بھی نہیں آئے گا“۔
بہائی: ”نبی اور رسول کے درمیان تباین (جدائی )پایا جاتا ہے جو نبی ہوگا وہ رسول نہیں ہوگا اور جو رسول ہوگا وہ نبی نہیں ہوگا لہٰذا ہمارا اعتراض بجا ہے“۔
مسلمان: ”لفظ رسول ونبی میں اس طرح کا فرق ،علماء اور مفکرین اور آیات وروایات کے خلاف ہے اور یہ ایک مغالطہ ہے کیونکہ تمہارا یہ مسئلہ خود آیت میں ذکر ہوا ہے“۔
”وَلَکِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ“[174]
”اور لیکن وہ رسول خدا اور خاتم النبیین ہیں“۔
اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ملتا ہے:”وکان رسولا ”نبیا““موسیٰ علیہ السلام رسول بھی تھے اور نبی بھی (سورہٴ نساء آیت ۱۷۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی (سورہٴ نساء آیت ۱۷۱میں)رسول کہہ کر پکارے گئے اور سورہٴ مریم آیت ۳۰،میں نبی کہہ کر پکارے گئے ہیں اگر لفظ نبی اور رسول آپس میں ایک دوسرے کے متضاد لفظ ہوتے تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام جیسے انبیاء ان دو متضاد صفتوں کے حامل نہ ہوتے، اس کے علاوہ اور بہت سی روایتیں اس سلسلے میں ہم تک پہنچی ہیں جس میں پیغمبر اکرم کو خاتم المرسلین کہا گیا ہے جن میںیہ وضاحت کی گئی ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور آپ ہی ختم الرسل ہیں“۔
بہائی: ”جملہ خاتم النبیین سے ممکن ہے خاص پیغمبر مراد لئے گئے ہوں اس طرح تمام کے تمام پیغمبر اس آیت میں شامل نہیں ہوں گے“۔
مسلمان: ”اس طرح کا اعتراض دوسرے اعتراضوں سے زیادہ مضحکہ خیز ہے کیونکہ جو شخص بھی عربی قواعدسے تھوڑی بہت واقفیت رکھتا ہوگا وہ اس طرح کے جملے میں ہر جگہ ”ال“سے مراد عموم لے گا اور یہاں اس الف اور لام سے مراد ”عہد“ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے لہٰذا اس سے عموم ہی مراد لیا جائے گا“۔
وہابی: ” شیعہ لوگ جو امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور ان پر گریہ کرتے ہیں وہ اس لئے کہ اپنے اباء واجداد کے گزشتہ ظلم کا جبران کریں کیونکہ انھیں کے باپ داداوٴں نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کو قتل کیا ، اور پھر ان لوگوں نے توبہ کی اور اس طرح انھوں نے توابین (زیادہ توبہ کرنے والوں) کے عنوان سے اپنے گزشتہ ظلم و ستم کا جبران کرنا چاہا “۔
شیعہ: ”تم شیعوں پر یہ تہمت کس ماخذاور حوالہ سے پر لگار ہے ہو؟ “
وہابی: ”جو لوگ کربلا میں امام حسین علیہ السلام سے جنگ کرنے آئے تھے وہ شام و حجاز اور بصرہ کے نہیں تھے بلکہ سب کے سب کوفہ کے رہنے والے تھے اور اس وقت کوفہ میں اکثر شیعہ ہی رہتے تھے، انھیں لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا“۔
شیعہ: ”اولاً اگر بفرض محال شیعوں ہی میں سے کچھ لوگ خوف و فریب سے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مقابلہ میں جنگ کے لئے آئے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذہب شیعہ اور اس کے تمام ماننے والوں نے امام حسین علیہ السلام سے منحرف ہو کر یزید کے راستہ کو اختیار کر لیا تھا ،عموما ً یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر مذہب وملت میں کچھ نہ کچھ لوگ اپنے مذہب سے منحرف ہوجاتے ہیں لیکن ان کا عمل مذہب کے بے بنیاد ہونے پر دلیل نہیں بن سکتا ہے ،ثانیا ً یہ کہ حقیقت میں یہ سب باتیں محض تہمتیں ہیں جو بالکل بے بنیاد اور جھوٹی ہیں“۔
وہابی: ”کیوںاور کس دلیل سے ؟ “
شیعہ: ”سپاہیوں کا وہ لشکر جو کوفہ سے کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام سے لڑنے آیا تھا ان میں اکثر خوارج ، بنی امیہ اور وہ منافق تھے جو حضرت علی علیہ السلام حضرت امام حسن علیہ السلام کے پاس سے بھگائے گئے تھے اور اس لشکر کے تمام سردار حکومت علی علیہ السلام کے مخالفین میں سے تھے جن کو حضرت علی علیہ السلام نے معزول کر دیا تھا اور وہ لوگ خاندان رسالت علیہم السلام کے معتوب شمار کئے جاتے تھے جن سے ابن زیاد نے نا جائز فائدہ اٹھا یا۔
اور زیادہ تر اس گروہ مرتزقہ(خریدے ہوئے غیر عرب افراد)سے تعلق رکھتے تھے ،جنھیں بنی امیہ نے اپنی داخلی شورش کے کارکنوں کی سرکوبی کے لئے محفوظ کر رکھا تھا اس بنیاد پر کربلا میں جنگ کرنے والے شیعہ ہر گز نہیں تھے۔[175]
وضاحت: اگرچہ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے زمانہ میں کوفہ میں شیعوں کی اکثریت تھی لیکن آپ کی شہادت کے بعد معاویہ کی حکومت کے زمانہ میں اس کے جلادوں کی اذیت اور سزاوٴں کے خوف کی وجہ سے وہ بھاگ گئے اور ادھر ادھر بکھر گئے تھے اور معاویہ کے خریدے ہوئے ظالموں نے اکثر کو قتل کر دیا تھا اور بہت سے بچے ہوئے لوگوں کو کوفہ سے نکال دیا تھا یہاں تک کہ زیاد ابن ابیہ (عراق میں معاویہ کا گورنر) کے زمانہ میں تمام شیعوں کو قتل کر دیا گیا یا زندان میں ڈال دیا گیا تھا اور یا تو وہ لوگ کوفہ سے جان بچا کر بھاگ گئے تھے، معاویہ کے زمانہ میں اگر کسی پر کفر والحاد اور شرک کا جرم عائد ہوتا تو اس کے لئے نہ کوئی سزا تھی اور نہ کوئی خوف تھا لیکن کسی کو شیعہ کہنا اس کے جان ومال اور اس کے گھر کو ویران کرنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا ،زیاد ابن ابیہ ”سمیہ روسپی“کا بیٹا تھا جب یہ کوفہ کے دار الامارة میں مقرر ہو گیا تو معاویہ نے اسے لکھا: ”اے زیاد ! جو لوگ علی( علیہ السلام) کے مذہب پر زندگی گزار رہے ہیں انھیں قتل کردو اور قتل کے بعد ان کے ناک کان کاٹ لو“۔زیادنے مسجد میں اہل کوفہ کو بلوا کر کہا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام پر لعنت کریں اگر کوئی ان پر لعنت نہیں کرے گا تو اس کی گردن اڑادی جائے گی۔[176]
منقول ہے کہ زیاد ابن ابیہ ”سعد بن سرح “نامی شخص کے قتل کے کے درپے تھا ،امام حسن علیہ السلام نے زیاد کو اپنے خط کے آخر میں لکھا کہ سعد بن سرح بے گناہ مسلمان ہے اس کا پیچھا چھوڑ دے۔
زیاد نے امام حسن علیہ السلام کے خط کے جو اب میں لکھا: ”کہیں نہ کہیں وہ میرے ہاتھ لگ ہی جائے گا اور اسے میں اس لئے قتل کردوں گا کہ وہ تمہارے (نعوذ باللہ )فاسق باپ سے محبت کرتا ہے“۔[177]
زیاد ابن ابیہ کی ایک ظلم یہ تھا کہ اس نے” سمرہ بن جندب “کو کوفہ اور بصرہ میں اپنا جانشین بنا دیا تھا اور زیاد ابن ابیہ کے مرنے کے بعد معاویہ نے سمرہ کو اس کے عہدہ پر باقی رکھا ،سمرہ کی خونخوار ی کی انتہا یہ تھی کہ اس نے ایک مرتبہ ۸۰ ہزار افراد کو نہایت دردناک طریقہ سے موت کے گھاٹ اتا ر دیا تھا۔[178]
عدوی کہتے ہیں: سمرہ نے ایک دن صبح کو ہمارے ۱۴۷/ افراد کو بے رحمی سے قتل کردیا جو سب کے سب حافظ قرآن تھے۔[179]
سر فہرست افراد جیسے حجر بن عدی اور ان کے ساتھی ،مالک اشتر، محمد بن ابی بکر ،عمر بن حمق وغیرہ معاویہ کے خرید ہوئے مزدوروں کے سبب شہید کردیئے گئے۔
معاویہ کی بھیانک اور خطرناک حکومت ایسی تھی کہ عمربن حمق کا کٹا ہو اسر زندان میں ان کی بیوی کے لئے بھیجا گیا،[180] اور کوفہ کی فضا اتنی خطرناک حد تک دل ھلا دینے والی تھی کہ لوگ اپنے نزدیک ترین افراد پر بھی اس وجہ سے اطمینان نہیں رکھتے تھے کہ کہیں یہ معاویہ کا جاسوس نہ ہو۔
علامہ امینی لکھتے ہیں: ”اس بات کی طرف توجہ رہے کہ زیاد بن ابیہ کوفہ کے تمام افراد کو پہچانتا تھا کیونکہ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے زمانہ میں وہ انھیں لوگوں کا جزء تھا اور وہ تمام شیعوں کو جانتا تھا جس کہ وجہ سے اگر کسی شیعہ نے پتھر کی آڑ میں یا کسی بل میں بھی پناہ لے رکھی تھی تو وہ اسے تلاش کروا کر قتل کردیتا اور ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیتا اور ان کی آنکھوں کو پھوڑ کر پھانسی پر چڑھا دیتا اور بعض کو شہر بدر کروا دیتاتھا نتیجہ میں شیعہ نام کا ایک شخص بھی کوفہ میں باقی نہیں رہ گیا تھا۔[181]
مختصر یہ کہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ امام حسین علیہ السلام کے زمانہ میں چار ہزار یا پانچ ہزار شیعہ کوفہ میں نہیں بچے تھے اور ابن زیاد جب تخت پر آیاتو ان افراد کو بھی پکڑوا لیا اور امام حسین علیہ السلام کے عراق میں داخل ہونے سے پہلے پہلے ان سب کو جیل میں ڈال دیا شیعوں کی تعداد اس زمانہ میں بس انھیں افراد پر مشتمل تھی جو یزید کے مرنے اور زیاد ابن ابیہ کے بصرہ جانے کے بعد زندان کے دروازوں کو توڑ کر باہر نکل آئے تھے اور امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینے کے لئے قیام کیا تھا لیکن اس وقت تک امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو چار سال گزر چکے تھے اور جناب مختار کا قیام اس وقت تک عمل میں نہیں آیا تھا۔
زندان سے نکلے ہوئے یہ تمام شیعہ ۹۳ سالہ ”سلیمان بن صرد خزاعی “کی قیادت میں سپاہ شام سے جنگ کے لئے روانہ ہوگئے نتیجہ میں سلیمان اور اس کے بہت سے ساتھی اس دلیرانہ جنگ میں شہید ہوگئے۔
علامہ مامقانی لکھتے ہیں:
”امام حسین علیہ السلام کے عراق میں وارد ہونے سے پہلے ابن زیادہ نے ۴۵۰۰ شیعوں کو جیل میں ڈال دیا تھا جن میں سلیمان بن صرد خزاعی تھے جنھوں نے چار سال تک جیل کے کوٹھڑیوں میں زندگی گزاری ،اس طرح جو مشہور ہے اور ابن اثر سے نقل ہوا ہے کہ شیعہ اپنی جان کے خوف سے امام حسین علیہ السلام کی حمایت میں نہیںکھڑے ہوئے لیکن وہ شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد کافی شرمندہ ہوئے اور سلیمان بن صرد کی قیادت میں توابین نامی ایک گروہ کو تشکیل کیا تاکہ گزشتہ گناہ کی تلافی کر سکیں، یہ سراسر جھوٹ بات ہے۔[182]
اس طرح پتہ چلتا ہے کہ قاتلین امام حسین علیہ السلام کو فہ کے شیعہ نہیں تھے بلکہ خوارج، مرتدین اور منافقین تھے جو حضرت علی علیہ السلام کے دور حکومت میں معزول کردئے گئے تھے اور یہ امام حسین علیہ السلام کی حکومت کے بھگوڑے اور غیر عرب کے خریدے ہوئے پٹھو تھے۔
اشارہ:
قرآن کی آیتوں میں سے سورہٴ بقرہ کی آیت۱۹۵ آیت ہلاکت کے نام سے مشہور ہے۔
”وَاٴَنفِقُوا فِی سَبِیلِ اللهِ وَلاَتُلْقُوا بِاٴَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَةِ وَاٴَحْسِنُوا إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ“
”اور راہ خدا میں خرچ کرو اور اپنے نفس کو ہلاکت میں نہ ڈالو، نیک برتاؤ کرو تاکہ خدا نیک عمل کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔
یہاں ہم مذکورہ آیت کو مد نظر رکھتے ہوئے استاد و شاگرد کے درمیان ہونے والے مناظرہ کو نقل کرتے ہیں:
شاگرد: ”اس آیت میں آیا ہے کہ ”اپنے ہاتھ سے اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو، لہٰذا آیت کے مطابق ایسا قیام جس میں جان کا خطرہ ہو یا ایسی نہی عن المنکر جو ضرر و نقصان کا سبب بنے اس کا اقدام نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ضررونقصان ایک قسم کی ہلاکت ہے اور انسان کو اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہئے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیام امام حسین علیہ السلام آپ کی جنگ اور آپ کے دوستوں کی شہادت اس آیت سے کس طرح سازگار ہے ؟
استاد: ”اس آیت کے ابتدائی حصہ پر توجہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کی راہ میں مال کا انفاق کرنا جہاد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی راہ میں انفاق کرنے یا حد سے زیادہ انفاق کرنے سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور انفاق کرنے میں افراط و تفریط سے کام نہ لو۔
اسی وجہ سے تفسیر درّمنثور میں اس آیت کے ذیل میں ”اسلم بن ابی عمران“سے نقل ہوا ہے کہ انھوں نے کہا: ”ہم قسطنطنیہ (ترکیہ میں آج کا استامبول) میں تھے تو دیکھا عقبہ بن سالم مصر والوں کے ساتھ اور فضال بن عبید بھی شام والوں کے ساتھ وہاں موجود تھے اور جب روم کا ایک بہت ہی عظیم لشکر مسلمانوں سے جنگ کے لئے میدان میں آگیا تو میں نے بھی ان کے مقابلہ کے لئے صفوں کو منظم کیا اس اثنا میں ایک مسلمان شخص نے روم کے قلب لشکر پر اس طر ح حملہ کیا کہ وہ لشکر میں داخل ہوگیا یہ دیکھ کر بعض مسلمانوں نے چیخ کر کہا: ”یہ شخص اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے“۔
اس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مشہور صحابی ابو ایوب انصاری نے کھڑے ہوکر کہا: ”تم لوگ اس آیت ”ولا تلقوابایدیکم ۔۔۔“کے معنی اپنی طرف سے غلط کر رہے ہویہ آیت ہم گروہ انصار کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب خداوند متعال نے اپنے دین کو کامران و کامیاب کیا اور اس کے چاہنے والے بہت زیادہ ہوگئے تو ہم بعض لوگوں نے چھپ چھپ کے آپس میں کہا کہ ہمارا مال ضائع ہو گیا خداوند متعال نے اسلام کو سر فراز کیا اور اس کے ماننے والے بھی زیادہ ہوگئے اگر ہم لوگ اپنے مال کو بچائے ہوئے رہتے تو ہمارا مال ضائع نہ ہوتا اس وقت ہمارے اس بیہودہ اور منفی عمل کی رد میں خدا وند متعال نے یہ آیت نازل کی ۔”اس طرح اس آیت میں ہلاکت سے مراد اپنے مال کی حفاظت اور جہاد کی راہ میں خرچ نہ کرنے کے ہیں۔[183]
شاگرد: ”اس بات میں کیا مضائقہ ہے کہ اصل آیت انفاق کے بارے میں ہو لیکن اس کا آخری ٹکڑا ایک قاعدہٴ کلیّہ کے طور پر آیاہو؟“
استاد: ”کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس صورت میں اس قاعدہ کی اس طرح وضاحت ہوگی“، وہ جگہیں جو ہلاکت میں شمار کی جاتی ہیں وہاں اپنے سے نہ جاوٴ یعنی ایسے مقامات پر جہاں بلا وجہ جان جانے کا خطرہ ہو اور جہاں جان دینے سے کوئی فائد ہ نہ ہو“۔
لیکن اس کے علاوہ دوسرے مقامات پر ”اہم اور اہم ترین“ کا قاعدہ نافذ ہوگا یعنی اگر جان کا خطرہ مول لے کر کوئی بہت بڑا دینی فائدہ حاصل ہو اور اسلام کو ضرورت ہو تو اس وقت اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالنا صرف یہی نہیں کہ کوئی حرج کی بات نہیں بلکہ بعض اوقات واجب وضروری ہوجاتا ہے، اسلام کے اکثر احکام جیسے جہاد ،نہی عن المنکر اور امر بالمعروف میں خطرہ پایا جاتا ہے لیکن چونکہ اس طرح کے خطرے سعادت و کامرانی تک پہنچنے کے ذرائع ہوا کرتے ہیں لہٰذا ان میں کوئی حرج نہیں۔
اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ یوں کہا جائے کہ ”ہلاکت“کے معنی وہ خطرات ہیں جو بد بختی اور ذلت کا سبب بنیں لیکن اگر جہاد جیسے خطرناک کام انجام دیئے جائیں تو یہ عین سعادت اور کامرانی ہے ،امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کے قیام اور انقلاب میں بھی یہی مقصد کار فرما تھا ان لوگوں نے ایسے خطرے اور ایسی موت کو خود سے اختیار کیا تھا جس کے واضح اور روشن نتائج اس زمانہ میں اور روز قیامت تک ہر زمانہ میں دکھائی دیتے رہیں گے، لہٰذا ایسا قدم سعادت کا وسیلہ ہوتا ہے نہ کہ بدبختی کا۔
مثال کے طور پر اگر کوئی ایسے خطر ے میں کو دپڑے جس میں کچھ لوگوں کی جان چلی جائے اور سیکڑوں دیناروں کا نقصان ہو لیکن اس کے بدلے لاکھوں انسانوں کی جان بچ جائے اور ہزاروں دینار کا فائدہ حاصل ہو تو کیا یہ کام اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہوگا؟
اگر کسان گیہوں کے دانوں کو زمین میں ڈالتا ہے تاکہ اس سے ہزاروں من گیہوں حاصل کرسکے تو کیا ا سے یہ کہنا درست ہے ”تم کیوں ان دانوں کو بیکار کر رہے ہو اور مٹی میں ملارہے ہو؟“
اسی بنیاد پر قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔
”لَوْلاَدَفْعُ اللهِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتْ الْاٴَرْضُ“
” اگر خدا کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں کے وسیلہ سے دفع نہ کرے تو زمین پر فتنہ و فساد پھیل جائے“۔[184]
اشارہ
اگرچہ ملک ایران میں اسلام حضرت عمر کے دور خلافت میں پہنچا مگر اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ یہاں شیعوں کی اکثریت ہے؟
تاریخی شواہد کی بنیاد پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی عوام پہلی صدی سے لے کر ساتویں ہجری صدی تک آہستہ آہستہ اسلام لے آئے ،ہر دفعہ ایک مخصوص کیفیت اور مخصوص واقعہ کی بنا پر ایسا ہوتا تھا جس کے اثرات کافی متاثر کن ہوا کرتے تھے ،اب آپ درج ذیل کے مناظرہ پر توجہ فرمائیں:
زر تشتی: ”میری نظر میں ایرانیوں نے چار وجوہات کی بنا پر شیعیت کو اختیار کیا“۔
۱۔ایرانیوں کے یہاں چونکہ موروثی سلطنت پائی جاتی تھی جس کی وجہ سے انھوں موروثی امامت کو پسند کیا۔
۲۔ایرانی قوم پہلے ہی سے اس بات کی معتقد تھی کہ سلطنت وحکومت الٰہی تحفہ ہوتا ہے ان کا یہ عقیدہ شیعوں کے عقیدہ سے میل کھاتا تھا۔
۳۔ایرانیوں کے آخری بادشاہ تیسرا ”یز د گرد “کی بیٹی ’شہر بانو“سے امام حسین علیہ السلام کی شادی بھی ایرانیوں کے شیعہ ہونے میں کافی اثرانداز رہی۔
۴۔عربوں کے مقابلہ میں ایرانیوں کا نفسیاتی رد عمل شیعیت تھا تاکہ وہ اس کے زیر پردہ اپن زرتشی اعمال کو انجام دے سکیں، لہٰذا تشیع ایرانیوں کا ایجاد کردہ مذہب ہے۔[185]
شیعہ: ”ایرانیوں کے شیعہ ہونے میں ان چاروں اسباب میں سے ایک بھی سبب درست نہیں ہے ،کیونکہ ایران میں تشیع کی بنیاد سب سے پہلے رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانہ میں پڑ چکی تھی رسول اسلام کی وفات کے بعد بنی ہاشم اور کچھ اصحاب جیسے سلمان فارسی ،ابوذر،مقداد وغیرہ کا ایران سے رابطہ تھا۔
ساسانیوں کے ظلم وستم کی تاریخ او ر اس زمانہ کے حالات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایرانی عوام اس موروثی سلطنت سے پریشان ہو چکے تھے اور وہ ایک جامع اور عادلانہ نظام کی تلاش میں تھے جو انھیں ان نا انصافیوں سے چھٹکارا دلا سکے۔
ممکن ہے کہ امام حسین علیہ السلام اور جناب شہر بانو کی شادی ایرانی تشیع پر تھوڑا بہت اثر انداز ہوئی ہو مگر اسے اساسی سبب قرار دینا غلط ہے۔
زرتشی: ”اگر ایران میںتشیع کے یہ چار اسباب نہ تھے تو وہ کون سے عوامل تھے جن کی بنا پر ایران میں تشیع کی جڑیں اتنی گہری اور مضبوط ہو گئیں؟“
شیعہ: ”اسکی بڑی لمبی داستان ہے خلاصہ کے طور پر درج ذیل گیارہ مرحلوں میں اس کی توضیح کی جاسکتی ہے:
۱۔پہلی ہجری صدی کے دوسرے حصہ میں ایرانی ،اسلام سے آشنا ہوئے کیونکہ وہ ساسانی حکمرانوں کے ظلم وجور سے تنگ آگئے تھے اور ایک مکمل اور عادلانہ نظام کے منتظر تھے۔
اس مرحلہ میں جناب سلما ن کا کردار نبیادی حیثیت کا حامل تھا جنھوں نے ساسانیوں کے سابق دارالحکومت مدائن کو اسلام کی نشر و اشاعت اور تشیع کا مرکز قرادے دیا تھا ،جناب سلمان نے اسلام کے تعارف کے لئے حضرت علی علیہ السلام کو اختیار کیا تاکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو گم نہ کردیں اور ایرانیوں نے اسلام کی صحیح شناخت کے لئے جناب سلمان کا انتخاب کیا تاکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماور حضرت علی علیہ السلام کو گم نہ کر دیں۔
۲۔حضرت علی علیہ السلام کی کوفہ میں عادلانہ حکومت جہاں ایرانیوں کا آناجانا ہوتا رہتا تھا آپ کے عدل پسند انہ طرز حکومت اور مساوات کے طریقوں نے ان ایرانیوں کو محبت آل رسول کی طرف جذب کر لیا اور وہ اس طرح سے حقیقی اسلام سے آشنا ہوگئے۔
۳۔ امام حسین علیہ السلام کا قیام اور ان کے پیغامات بھی ایسے اسباب تھے جن کی وجہ سے ایرانیوں نے بنی امیہ کو اپنے ساسانی حکمرانوں سے الگ نہ پایا اور انھوں نے یہ جان لیاکہ یہ بھی ویسی ہی ظالم وجابر حکومت ہے لہٰذاوہ خود بخود اہل بیت علیہم السلام کی طرف کھینچتے چلے گئے اس کے بعد غم انگیز واقعہ کربلا ایک ایسے نور کی جھلک تھی جو ان کے دلوں کو اہل بیت علیہم السلام کی محبت سے منور کر گئی۔
۴۔امام جعفرصادق علیہ السلام کی عظیم علمی اور ثقافتی تحریک کہ جس میں چار ہزار شاگرد شامل تھے اور سب کے سب شیعیت کے عظیم مبلغ تھے ،یہ ایک اور مرحلہ تھا جس کی بنا پر ایرانیوں کے دلوں میں شیعیت کی بنیادیں مزید مضبوط ہوتی چلی گئیں کیونکہ کوفہ،مدائن سے نزدیک تھا اور بصرہ ،ایران کی سرحد تھی لہٰذ ا حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے بہت سے شاگرد انھیں اطراف کے تھے جو کوفہ کی عظیم مسجد میں بیٹھ کر شیعی طرز تفکر کی تبلیغ کرتے تھے اور اس کی نشر واشاعت میں بڑی محنت کرتے تھے۔
۵۔قم وہ مرکز بن چکا تھا جہاں عراق کے جابر حکمرانوں سے بھاگ کر شیعہ پناہ لیتے تھے، ایران میں شیعیت کے پھیلاوٴ میں اس کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔
۶۔امام علی رضا علیہ السلام کا مدینہ سے خراسان کا سفر اور ان کی علمی و ثقافتی تحریک بھی انھیں اسباب میں سے تھی کیونکہ مامون شیعہ ہو چکا تھا اور اس نے امام علی رضا علیہ السلام کو سنیوں کو بڑے بڑے علماء سے بحث ومناظرہ کرنے کی پوری آزادی دے رکھی تھی۔
اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جب امام علی رضا علیہ السلام نے اسلامی بنیادوں کے بیان میں حدیث ”سلسلة الذہب “بیان کی تو بیس ہزار یا ایک روایت کے مطابق چوبیس ہزار راویوں نے یہ حدیث سنی اور اسے لکھا۔[186]
جب کہ اس زمانہ میں پڑھنے لکھنے والوں کی تعداد نہ پڑھنے لکھنے والوں کے مقابلہ میں بہت کم تھی جب وہاں موجود مجمع میں ۲۴ ہزار افراد لکھنے پر قدرت رکھتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عام مجمع اس سے کئی گنا زیادہ تھا۔
۷۔حجاز سے مختلف امام زادے اور امام علی رضا علیہ السلام کے خاص احباب کا سفر بھی انھیں اسباب میں سے ہے ،یہ لوگ امام علی رضا علیہ السلام کے عشق میں مدینہ وغیرہ سے ہجرت کر کے ایران آگئے تھے اور بعد میں ایران کے مختلف گوشوں میں پھیل گئے تھے، اور ان لوگوں کا دوسرے لوگوں سے حسن رابطہ تھا، ایران میں اس طرح بھی شیعیت بہت تیزی سے پھیلی۔
۸۔ایران میں شیعوں کے بزرگ علماء کا وجود جیسے شیخ کلینی ،شیخ طوسی،شیخ صدوق،شیخ مفیدوغیرہ یہ سب اسلام حقیقی یعنی شیعیت کی بنیادوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسے پھیلانے میں پورے خلوص اور جدوجہد سے عملی اقدامات کرتے تھے جس کی وجہ سے ایران میں مذہب جعفری کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئیں، اس کے علاوہ حوزہ علمیہ نجف کی تشکیل نے بھی شیعیت کو کافی فروغ دیا۔
۹۔آل بابویہ (دیالمہ)کی حکومت نے جو شیعہ تھا چوتھی اور پانچویںصدی کے دوران سیاسی اعتبار سے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اس کی حکومت نے ایران میں شیعیت کو استحکام بخشا اور اس مذہب کے لئے بڑے نفع بخش کا م انجام دیئے۔
۱۰۔آٹھویں صدی کے اوائل میں سلطان خداوند کا علامہ حلی کے ہاتھوں شیعہ ہو جانا بھی ایران میں قانونی طور پر شیعیت رائج ہو نے کا سبب بنا ،اسی زمانہ میں شیعیت نے اپنے استحکام کی طرف ایک نہایت مضبوط قدم بڑھایا۔
اسی زمانے میں علامہ حلی کا حوزہ علمیہ اور ان کی مختلف کتابیں بھی اس مذہب کی تبلیغ میں حصہ دار تھیں ان کے اس اہم کردار کو فراموش کرنا ممکن نہیں ہے۔
۱۱۔دسویں اور گیارویں صدی میں صفوی حکومت کا ظہور اور ان کے ساتھ شیعہ کے مختلف بزرگ علماء کا وجود جیسے علامہ مجلسی ،میرداماد،شیخ بہائی ،یہ بھی شیعیت کے لئے ایک سنہرا زمانہ گزرا ہے۔
یہ تمام عوامل اپنی جگہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں جن کی وجہ سے ایران میں شیعیت کی بنیاد پڑی اور دیکھتے دیکھتے پورے ایران کو اس نے اپنے اثر میں لے لیا۔[187]
زرتشتی: ”ایرانیوں کے تشیع میں صرف بیرونی عوامل کا ر فرما تھے یاا ندورونی یا دونوں؟“
شیعہ: ”ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ دونوں عوامل اس میں شریک ہیں کیونکہ ایک طرف سے تو ایرانی عوام ظلم وستم کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے بے چین تھی اور مختلف بادشاہوں کے ظلم وجور سے وہ پریشان ہو کر ایک عادلانہ نظام کے خواہاں تھے ،ایک ایسا نظام ،جس میں استحصال و غارت گری کا وجود نہ ہو۔
لہٰذاان وجوہات کی بنا پر ایرانی ،اندورونی طور سے اس طرح کے نظام کے خواہاں تھے دوسری طرف خارجی طور سے انھوں نے عدل وپاکی سے آراستہ اور نہایت عالم ومقدس رہبروں کے سائے میں مذہب شیعیت دیکھا لہٰذا وہ اس کی طرف کھنچتے چلے گئے۔
ایرانی قوم ایک مکمل آئین اور ایک مکمل عادلانہ نظام کو امام علی علیہ السلام اور ان کے اہل بیت کے سائے میں دیکھتے تھے اور ان کے مخالفین کے پاس آئین ونظام کے خلاف نیا آئین پاتے تھے۔
لہٰذا اس بنا پر اندورونی اور بیرونی عوامل نے ایک ساتھ مل کر ایرانیوں کے درمیان ایک عظیم الٰہی انقلاب برپا کردیا اور ان لوگوں نے اسلام کی بہترین راہ یعنی شیعیت کو اختیار کیاچنانچہ پیغمبر نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:
”اسعد العجم بالاسلام اہل فارس“۔[188]
”اسلام کے ذریعہ سب سے زیادہ کامیاب ہونے والے عجم اہل فارس ہیں“۔
اسی طرح آپ نے فرمایا ہے:
”اعظم الناس نصیبا فی الاسلام اہل فارس“۔[189]
”مسلمانوں کے درمیان سب سے زیادہ اسلام میں حصہ دار اہل فارس ہیں“۔
شاگرد: ”میں جب قرآن پڑھتا ہوں تو اس کی آیتوں کو دوسری بعض آیتوں کے ساتھ مقائسہ کرتا ہوں لیکن میںان کے درمیان تضاد پاتا ہوں اس کی کیا وجہ ہے ؟کیا ممکن ہے کہ کلام خدا میں اختلاف پایا جائے؟“
استاد: ”خدا کے کلام میں اختلاف ناممکن ہے اور قرآن کی تمام آیتوں کے درمیان کسی طرح کا تضاد نہیں پایا جاتا [190] لہٰذا ہم خود سورہٴ نساء کی ۸۲ ویں آیت میں پڑھتے ہیں۔
”وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِیہِ اخْتِلاَفًا کَثِیراً“[191]
”اگر قرآن غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو وہ لوگ اس میں بہت اختلاف پاتے“۔
یہ قرآن کی حقانیت کی ایک دلیل ہے کہ اس کی تمام آیتوں میں کسی طرح کا کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا اور یہی اختلاف کا نہ پایا جانا اس کے معجزہ ہونے کی سند ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کسی بشر کی فکری صلاحیتوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے۔
شاگرد: ”تو پھر میں کیوں بعض آیتوںکو پڑھتے وقت اس طرح کا احساس کرتا ہوں جب کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس میں اختلاف ممکن نہیں ہے؟ “
استاد: ”تم ان آیتوں کے ایک دونمونے بتاوٴجن میں تمہارے خیال میں تضاد اور اختلاف پایاجاتا ہے تاکہ ان پر غور وفکر کیا جا سکے اور بات واضح ہوجائے“۔
شاگرد: ”مثال کے طور پر میں دو نمونے ذکر کرتا ہوں۔
۱۔قرآن نے بعض مقامات پر انسان کی قدر منزلت کو اتنا بڑھا یا ہے کہ اس نے کہا ہے:
”فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِنْ رُوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِین“[192]
”پس جب میں اسے برابر کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم لوگ سجدہ ریزہوجانا“۔
لیکن بعض آیتوں میں قرآن نے اس طرح انسانوں کے مقام کو پست بتایا ہے کہ جانوروں کو بھی ان سے بلند مقام دیا ہے جیسا کہ ہم سورہٴ انعام میں پڑھتے ہیں:
”وَلَقَدْ ذَرَاٴْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیرًا مِنْ الْجِنِّ وَالْإِنسِ لَہُمْ قُلُوبٌ لاَیَفْقَہُونَ بِہَا وَلَہُمْ اٴَعْیُنٌ لاَیُبْصِرُونَ بِہَا وَلَہُمْ آذَانٌ لاَیَسْمَعُونَ بِہَا اٴُوْلَئِکَ کَالْاٴَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اٴَضَلُّ اٴُوْلَئِکَ ہُمْ الْغَافِلُونَ“[193]
”اور بتحقیق ہم نے بہت سے جن وانس کے گروہوں کو جہنم کے لئے پیدا کیا ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو دل رکھتے ہیں مگر اس سے کچھ سمجھتے نہیں،یہ لوگ چوپائے بلکہ اس سے بھی بد تر ہیں اور وہی لوگ غافل ہیں“۔
استاد: ”ان دونوں آیتوں کے درمیان کسی طرح کا کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ ان دونوں آیتوں نے انسانوں کو دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے،اچھے، بُرے ،جو لوگ اچھے ہیں وہ اتنے زیادہ مقرب بارگاہ ہیں کہ اللہ ان کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیتا ہے مگر ان کے علاوہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو جانوروں سے بھی بد تر ہیں اور عقل جیسی گراں بہا نعمت کی موجودگی میں چوپایوں جیسی حرکت کرتے ہیں“۔
لہٰذا اس بنا پر جو پہلی آیت میں انسانوں کی اتنی قدرومنزلت بیان کی گئی ہے وہ مثبت استعداد رکھنے والوں کی بات ہے،جو اپنی عقل کو صحیح طور سے کار فرما کرکے سعادت وبلند سے بلند ترین مقامات پر پہنچ جاتے ہیں ،اور دوسری آیت ان لوگوں سے متعلق ہے جو اپنے اندر موجود شہوتوں سے متاثر ہوجاتے ہیں جو اپنے اندر اتنی ساری صلاحیتوں اور خصوصیتوں کے باوجود خود کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں اور چوپایوں کے طور طریقے اپنا لیتے ہیں“۔
شاگرد: ”میں آپ کے قانع کنندہ بیان کا بہت شکر گزار ہوں اگر آپ اجازت دیں تو دوسرا نمونہ بھی عرض کروں؟“
استاد: ‘”کہو کوئی بات نہیں“۔
شاگرد: ”سورہٴ نساء کی تیسری آیت میں ہم پڑھتے ہیں“۔
” فَانکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَی وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ اٴَلاَّ تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً “
”پس پاک عورتوں سے نکاح کرو،دوکے ساتھ تین کے ساتھ یا چار کے ساتھ لیکن اگر تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ تم عدالت نہیں کر پاوٴگے تو ایک سے نکاح کرو“۔
اس آیت کے مطابق اسلام میں عدالت کی مراعات کرنے کی صورت میں ایک ساتھ چار عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے لیکن ہم اسی سورہٴ کی ۱۱۹ویں آیت میں پڑھتے ہیں۔
”وَلَنْ تَسْتَطِیعُوا اٴَنْ تَعْدِلُوا بَیْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُم“[194]
”اور تم کبھی بھی عورتوں کے درمیان عدالت نہیں کر سکتے بھلے ہی تم کوشش ہی کیوں نہ کرو“۔
لہٰذا پہلی آیت کے مطابق کئی بیویاں رکھنا جائز ہے البتہ بشرط عدالت ،مگر دوسری آیت کے مطابق چونکہ متعدد بیویوں کے درمیان عدالت ممکن ہی نہیں ہے لہٰذا ان دونوں آیتوں کے درمیان ایک طرح کا اختلاف پایا جاتا ہے؟“
استاد: ”اتفاق سے یہی بات امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانہ میں منکرین خدا ،جیسے ابن ابی العوجاء جیسے لوگوں کی جانب سے اٹھائی گئی تھی،ہشام بن حکم نے امام سے اس اعتراض کا جواب حاصل کیا اور ان اعتراض کرنے والوں کو اس کا جواب دیا[195]وہ جواب یہ ہے۔
پہلی آیت میں عدالت سے مراد رفتار وکردار میں انصاف کرنا ہے یعنی تمام بیویوں کے حقوق برابر ہیں اورانسان سب سے ظاہرا ً ایک جیسا برتاوٴ کرے لیکن دوسری آیت میں عدالت سے مراد قلبی لگاوٴ اور محبت میں عدالت قائم کرنا ہے (جو نا ممکن سی بات ہے) لہٰذا ان دونوں آیتوں میں تضاد نہیں ہے اگر کوئی ظاہری طور سے اپنی باتوں اور اپنے کردار سے چار بیویوں کے درمیان عدالت قائم کر سکتا ہو لیکن محبت اور دلی لگاوٴ میں عدالت کی رعایت نہ کرسکےتو اس کے لئے چار بیویوں کا رکھنا جائز ہوگا“۔
شاگرد: ”ہم ان دونوں آیتوں میں کیوں عدالت کے دومعنی مراد لیں جب کہ عدالت کے ایک ہی معنی ہوتے ہیں؟“
استاد: ”عربی قانون کے لحاظ سے اگر کسی معنی کے لئے قرینہ موجود ہو تو اس کے ظاہری معنی مراد نہ لیتے ہوئے دوسرے مجازی اور باطنی معنی مراد لے سکتے ہیں، اور ان دونوں آیتوں میں واضح شواہد موجود ہیں کہ پہلی آیت میں عدالت سے مراد ظاہر رفتار وکرادر اور دوسری میں باطنی ،جیسا کہ ظاہر آیت سے یہی بات واضح ہوتی ہے لیکن دوسری آیت میں جملے اس طرح ہیں۔
” فَلاَتَمِیلُوا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوہَا کَالْمُعَلَّقَةِ “[196]
”اپنے تمام میلان کو ایک ہی بیوی کی طرف متوجہ نہ کردو کہ اس کے نتیجے میں دوسری بیویوں کو یوں ہی بلا وجہ چھوڑ دوگے۔
اس جملہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس آیت میں جو یہ کہا گیا ہے کہ تم عورتوں کے درمیان عدالت نہیں قائم کرسکتے اس سے مراد وہ عدالت ہے جو قلبی لگاوٴ اور رجحانات میں ہوتی ہے اور ظاہرسی بات ہے کہ اس طرح کی عدالت ناممکن ہے یعنی کوئی شخص اگر چار بیویوں کا شوہر ہوگا تو یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ چاروں کوایک مقدارمیںچاہے اور ان سب سے برابر کی محبت کرے البتہ یہ ممکن ہے کہ وہ چاروں سے ایک جیسا سلوک کرے۔
لہٰذ اان دونوں آیتوں میں کوئی تضاد نہیں پایاجاتا۔
شاگرد: ”میں آپ کے اس قانع کنندہ اور مدلل بیان سے مطمئن ہو گیا،آپ کا شکریہ“۔
کیونکہ ظاہر سی بات ہے اسلامی احکام صرف وہاں تک قابل نفاذ ہوتے ہیں جہاں تک انسان کا اختیار ہو اور عمل یا عدم عمل پر اسے قابو ہو جہاں تک محبت اور دلی تعلق کا سوال ہے تو یہ ایک اضطراری عمل ہے اور اس کا تعلق احساساتی پہلووٴں سے ہوتا ہے اور انسان اپنے احساس اور قلبی محسوسات پر قادر نہیں ہوتا،لہٰذا اسلام میں چار بیویوں کے درمیان ظاہری طور پر عدالت کا لحاظ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ اس طرح فساد اور لڑائی کا امکان پایا جاتا ہے ۔
مختلف روایتوں کے فرق کے ساتھ یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ امام کے وہ اصحاب جو ظہور کے وقت خانہ کعبہ میں آپ کے ہاتھوں پر بیعت کریں گے جب دنیا میں آجائیں گے تو امام ظہور کریں گے اورانھیں کے انتظار میں ہیں،وہ اپنے زمانے کے پہلے انسان ہوں گے جو اپنے امام کے ہاتھوں پر بیعت کریں گے ان کی بیعت امام کے ظہو ر کے ساتھ ہی ہوگی وہ امام کے علمدار ہوں گے اور پوری زمین پر حضرت حجت کی طرف سے منصوب شدہ حاکم ہوں گے۔
اب آپ اسی کے سلسلہ میں در ج ذیل مناظرہ پر توجہ فرمائیں:
جستجو گر: ”براہ کرم مجھے امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ۳۱۳ /اصحاب کے متعلق وارد ہونے والی حدیث بتائیں؟“
محقق: ”یہ حدیث مختلف الفاظ میں نقل ہوئی ہے یہ کوئی ایک حدیث نہیں ہے بلکہ دسیوں حدیث ہیں جو سب کی سب امام کے تین سو تیرہ اصحاب کے بارے میں منقول ہوئی ہیں ،ان کے نقل کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ تواتر معنوی کی حد تک پہنچ چکی ہیں یعنی امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کے وقت ۳۱۳ افراد کا ان سے ملحق ہونا اس قدر مشہور ہے کہ جس کی شہرت سے اس کا علم پیدا ہوجاتا ہے اور یہ بات ممکن ہوجاتی ہے کہ اتنے سارے لوگوں نے جھوٹ بول کر اسے نقل کیا ہو اور اس حدیث کے لئے اتنی بڑی سازش رچی ہو۔
جستجو گر: ”کوئی بات نہیں جیسا کہ مولانا کی مثنوی میں ہے“۔
آب دریا ر ا گر نتوان کشید
پس بہ قدر تشنگی باید چشید
(اگر دریا کے پانی کو نہیں بھر سکتے تو پیاس بجھانے کی مقدار کو پینا ہی چاہئے)۔
لہٰذا ان احادیث کے ایک دو نمونے ہی پیش کردیں۔
محقق: ”سورہٴ ہود کی آیت ۸۰ کی تفسیر میں بیان ہوا کہ جناب لوط علیہ السلام نے اپنی سر کش قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
”لَوْ اٴَنَّ لِی بِکُمْ قُوَّةً اٴَوْ آوِی إِلَی رُکْنٍ شَدِیدٍ“
”اے کاش تمہارے مقابل میرے پاس قدرت ہوتی یا میرے پاس کوئی مضبوط پشت پناہ ہوتا“۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”یہاں ”قوة“سے مراد وہی قائم عجل اللہ فرجہ الشریف ہیں اور ”رکن شدید“سے مراد ان کے ۳۱۳/ اصحاب ہیں“۔[197]
دوسری روایت میں بیان ہوا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے:
”لکانّی انظر الیھم مصعدین مِن نجف الکوفة ثلاث مائة وبضعة عشر رجلا کاٴن قلوبھم زُبر الحدید“۔[198]
”جیسے میں ان تین سو اور کچھ آدمیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں جو نجف و کوفہ سے اوپر جارہے ہیں گویا ان کے دل فولاد کے ہیں“۔
جستجو گر: ”کیا پوری دنیا میں ابھی امام کے ۳۱۳ /اصحاب پیدا نہیں ہوئے جو امام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ظہور کریں اور لوگوں کو دنیا کے ظلم و جور سے نجات حاصل ہو جائے ؟ “
محقق: ”یہ ۳۱۳ /افراد روایت کے مطابق بہت سی خصوصیتوں کے حامل ہوں گے جس کی طرف توجہ دینے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دنیا میں ابھی اتنی قوت نہیں ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو پیدا کر سکے“۔
جستجو گر: ”مثلاًکون سی خصوصیتیں؟“
محقق: ”جیسے ہم امام سجاد علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں پڑھتے ہیں کہ جب امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف مکہ میں موجود جم غفیر کے سامنے اپنا تعارف کرئیں گے اور لوگوں کو اپنی طرف بلائیں گے تو کچھ لوگ آپ کو قتل کرنے کے لئے آگے بڑھیں گے۔
”فیقوم ثلاثمائة ونیف فیمنعونہ منہ“۔[199]
”تین سو کچھ افراد کھڑے ہو کر انھیں روک لیں گے“۔
”یجمعھم الله بمکة قزعاً کقزع الخریف“۔ [200]
”خدا انھیں برسات کے بادلوں کی طرف مکےہ میں اکٹھا کرے گا“۔
”وکانی انظر الی القائم علی منبر الکوفة وحولہ ثلاثمائة وثلاث رجلا عدة اہل البدر وھم اصحاب الالویة وھم حکام اللہ فی ارضہ علی خلقہ“۔[201]
”گویا قائم(عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)کو کوفہ کے منبر پر دیکھ رہاہوں اور ان کے اطراف بدر میں شریک ہونے والوں کی تعداد کے برابر مرد کھڑے ہیں یہ ان کے پرچم دار اصحاب اور اللہ کی طرف سے زمین پر حکومت کرنے والے لوگ ہوں گے“۔
اس حدیث کی بنا پر ان افراد کا علم و تقویٰ میں ایسا ہونا ضروری ہے کہ اگر پوری دنیا کو ۳۱۳ حصوں میں بانٹ دیا جائے تو وہ سب ایک ایک حصے پر حکومت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں بعض بزرگوں کے قول کے مطابق تین سو تیرہ افراد امام خمینی کی طرح جنھوں نے ایران کی رہبری سنبھالی لہٰذا ایسے تین سو تیرہ افراد ہونے چاہئے کہ جن کے اندر ایک ملک کو چلانے کی صلاحیت موجود ہو۔
جستجو گر: ”اب میں سمجھ گیا کہ دنیا میں ان خصوصیات کے ساتھ ابھی تین سو تیرہ افراد موجود نہیں ہیں اس کے لئے ایک وسیع منصوبہ کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے افراد تیار کئے جاسکیں اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کی راہیں ہموار ہو سکیں جس طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے مقصد کی تکمیل اور اسلام کی ترقی کے لئے باتقویٰ اور مضبوط وسیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے باایمان اصحاب کی ضرورت محسوس کرتے تھے اسی طرح امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف بھی اپنے ظہور کے لئے ایسے ہی افراد کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
کیا آپ ان تین سو تیرہ افراد کی کچھ خصوصیات بتا سکتے ہیں؟ “
محقق: ”سورہ ٴ بقرہ کی ۱۴۸ ویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں:
”اٴَیْنَ مَا تَکُونُوا یَاٴْتِ بِکُمْ اللهُ جَمِیعًا“
”تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں یکجا کر دے گا“۔
امام جعفرصادق علیہ السلام نے مذکورہ آیت کو پڑھنے کے بعد فرمایا:
”اس سے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے اصحاب مراد ہیں جن کی تعداد ۳۱۳/ہوگی خدا کی قسم !امت معدودوہی لوگ ہیں خدا کی قسم!سب ایک ساعت میں اکٹھے ہو جائیں گے جیسے موسم خزاں کے بادل تیز ہوا کے وجہ سے جمع ہوجائیں،چنانچہ وہ سب ایک دوسرے کے پاس جمع ہو جائیں گے“۔[202]
اسی طرح ان کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ دور دراز شہروں اور ملکوں سے مکہ آئیں گے“۔[203]
اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، ذی طوی (مکہ سے ایک فرسخ کے فاصلہ پر )ان ۳۱۳/افراد کے انتظار میں توقف کریں گے یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کی خدمت میں پہنچ جائیں گے اور امام علیہ السلام ان کے ساتھ کعبہ تک آئیں گے [204]وہ لوگ پہلے انسان ہوں گے جو امام علیہ السلام کی بیعت کریں گے۔[205]
وہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ساتھ ساتھ غیبی امداد سے مالا مال ہوںگے اور دست خدا اور اور امام علیہ السلام کا سایہ ان کے سروں پر سایہ فگن ہوگا۔
جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایاہے:
”گویا میں تمہارے صاحب(امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف)کو دیکھ رہا ہوں جو تین سو اور کچھ افراد کے ساتھ کوفہ کے پیچھے سے نجف آرہے ہیں داہنے طرف جبرئیل اور بائیں طرف میکائیل ہیں اور اسرافیل ان کے سامنے ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پرچم کو اٹھا ئے ہیں اور اس پرچم کو مخالفوں کے جس گروہ کی طرف جھکادیتے ہیں اللہ انھیں ہلا ک کردیا ہے۔[206]
جستجو گر: ”امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے اصحاب کے بارے میں کیوں ”رجال“ یعنی مردوں کا لفظ استعمال ہوا ہے کیا ان کے اصحاب میں عورتیں نہیں رہیں گی؟کیا عورتیں اس تحریک میں بالکل حصہ نہیں لیں گی؟ “
محقق: ”اکثر مردوں کی بات اس لئے آتی ہے کیونکہ ظہور کے ابتدائی ایام میں صرف جنگ وجہاد کی باتیں ہوں گی لہٰذا مردوں ہی کی بات ہوتی ہے، اور چونکہ جنگ میں جائیں گے لیکن عورتیں محاذ کے علاوہ محنت کریں گی اور مجاہد وں کی خدمت کر کے وہ بھی جہاد کریں گی۔
اور جہاں تک ان ۳۱۳ /اصحاب کا سوال ہے تو بعض روایتوں کے مطابق ان میں عورتیں بھی ہوں گی جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایاہے:
”۔۔۔ویجی واللہ ثلاث مائة وبضعة رجلا فیھم خمسون امراة بمکة علی غیر میعاد قزعا کقزاالخریف“۔[207]
”خدا کی قسم ! تین سو اور کچھ آفراد آئیں گے جن میں سے پچاس عورتیں ہوگی جو سب مکہ کے پاس فصل خزاںکے بادلوں کی طرح بغیر کسی طے شدہ منصوبہ کے تحت جمع ہو جائیں گے۔
مفضل سے نقل ہوا ہے کہ امام جعفر صاق علیہ السلام نے فرمایاہے: ”اما م مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ساتھ تیرہ عورتیں ہوں گے“۔
میں نے کہا: ”یہ عورتیں امام علیہ السلام کے پاس کیوں ہوں گی“۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”یہ زخمیوں کا علاج کریں گی اور جنگی مریضوں کی تیمارداری کریں گی جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں مختلف جنگوںمیں عورتیں اس طرح کا م انجام دیا کرتی تھیں“۔[208]
جستجو گر: ”امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے عالمی قیام کی نسبت سے یہ تعداد بہت کم ہے؟“
محقق: ”یہ اصحاب ابتداہی میں امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے ملحق ہو جائیں گے لیکن اس کے بعد دھیرے دھیرے آپ کے اصحاب کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا“۔
واضح عبارت میں یوں کہا جائے کہ یہ امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے وہ خاص اصحاب ہوں گے جو آپ کی عالمی حکومت کے مرکزی ارکان ہوں گے مثلاً ایک روایت میں آیا ہے۔
”۳۶۰ /الٰہی وکامل اشخاص حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کریں گے وہ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے وزراء اور آپ کے عالمی حکومت کے خاص ارکان ہوں گے“۔
اس کے بعد آپ نے یہ بھی فرمایا:
”روم کو فتح کرنے میں امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ستر ہزار اصحاب تکبیر کہتے ہوئے شرکت کریں گے پہلی ہی تکبیر کی گرج کے ساتھ وہ ایک تہائی روم کو فتح کرلیں گے اور دوسری تکبیر کی گرج کے ساتھ دوسرا ایک تہائی حصہ فتح ہو جائے گا تیسری تکبیر کے ساتھ ہی پورا روم فتح ہو جائے“۔[209]
یا دوسری روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہو اہے کہ آپ نے فرمایا: ”ستر ہزار سچے اور مخلص اصحاب کوفہ سے امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی مدد کے لئے اٹھیں گے“۔[210]
اس مناظرہ کی مکمل کرنے کی غرض سے اور کتاب کے حسن ختام کے طور پر حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے متعلق چند روایتیں پیش خد مت ہیں:
۱۔امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”ان القائم صلوات الله علیہ ینادی باسمہ لیلة ثلاث و عشرین، ویقوم یوم عاشوراء یوم قتل فیہ الحسین“۔[211]
”بلا شبہ قائم صلوات اللہ علیہ کو ان کے نام سے (رمضان کی)۲۳/ویں شب کو ندادی جائے گی اور یوم عاشورہ امام حسین علیہ السلام کے شہادت کے روز آپ کا قیام ہوگا“۔
۲۔امام سجاد علیہ السلام نے فرمایاہے:
”اذا قام قائمنا اذھب اللہ عزوجل عن شیعتنا العاھة،وجعل قلوبھم کزبر الحدید وجعل قوة الرجل منھم قوة اربعین رجلا ویکونون حکام الارض وسنامھا“۔[212]
”جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو خدا وند عالم تمام آفتیں اور وحشتیں ہمارے شیعوں سے دور کر دے گا اور ان کے دلوں کو فولاد کی طرف مضبوط کر دے گااس وقت ایک آدمی کی طاقت چالیس آدمیوں کے برابر ہو جائے گی وہ لوگ تمام دنیا کے حاکم اور سردارہوں گے“۔
۳۔امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایاہے:
”فاذا وقع امرنا وخرج مھدینا ،کان احدھم اجری من اللیث، وامضی من السنان ،ویطاٴ عدونا بقدمیہ و یقتلہ بکفہ“۔[213]
”جب ہمار اقائم ظہور کرے گا تو ہمارا ہر شیعہ شیر سے زیادہ جراٴت مند ہو جائے گا کہ نیزہ سے زیادہ تیز ہوجائے گا وہ اپنے پیروں سے ہمارے دشمن کو پامال کردے گا اوراپنی ہتھیلیوں سے انھیں مار ڈالے گا“۔
۴۔امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”لیعدن اٴحدکم لخروج القائم و لو سھما“۔[214]
”تم لوگوں کو اپنے آپ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے لئے تیاری کرنا چاہئے بھلے ہی ایک ایک تیر کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو“۔
آپ نے اسی سلسلے میں یہ حدیث بھی فرمائی:
”یذل لہ کل صعب“۔[215]
”تمام مشکلات اس کے لئے آسان ہو جائیں گی“۔
الحمد لله رب العالمین
[1] وہ پانچ افراد یہ ہیں:،ابو سفیان بن حارث (رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے چچا زاد بھائی) نوفل بن حارث ،ربیعہ بن حارث ،فضل بن عباس ،عبد اللہ بن زیبر ، بعض نے عتبہ و معتب (ابولہب کے بیٹے) کانام بھی ذکر کیا ہے ، (اعلام الوریٰ ،ص۱۱۹،کامل ابن اثیر، ج۲، ص۲۳۹۔ )
[2] بحار الانوار سے اقتباس ،ج۴۹ ، ص۱۹۴۔ ۲۰۰۔
[3] شرح نہج البلاغہ ،ج۶،ص۴۶ و۴۷۔
[4] صحیح بخاری، مطبوعہ دار الجیل ، بیروت ،ج۷ ص۴۷ ،اور ج۹،ص۱۸۵ ،و دوسرے مدارک، کتاب ”فضائل الخمسہ‘ ‘ ج ۳ ، ص ۱۹۰سے ۔
[5] سورہٴ احزاب آیت۵۷۔
[6] صحیح بخاری ، ج ۲ ، ص ۲۵۱،کامل ابن اثیر ، ج ۲، ص ۳۱۔
[7] شرح زرقانی بر موطا مالک ج ۱ ص ۲۵۔
[8] تفسیر فخر رازی سورہٴ نساء آیت ۲۴ کے ذیل میں۔
[9] شرح تجرید ، قوشچی، ص۳۷۴،قوشچی اہل سنت کے ایک نہایت مشہور عالم دین ہیں جنھیں (امام المتقین )کہا جاتا تھا ۔
[10] سورہٴ حشر، آیت ۷۔
[11] سورہ احزاب، آیت ۳۶۔
[12] مقدمہ سنن دارمی، ص۳۹ ، اصول کافی ،ج۱ ،ص۶۹۔
[13] کتاب ”جستجوئے حق در بغداد “سے اقتباس (مقاتل بن عطیہ بکری) ص۱۲۷ سے ۱۲۹ تک۔
[14] سورہٴ حاقہ آ یت ۴۴۔۴۶۔
[15] اس کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے فارسی میں ”آنگاہ۔۔۔ہدایت شدم)کے نام سے اس کا ترجمہ لوگوں نے بہت پسند کیا اور دیکھتے دیکھتے اس کا آٹھواں ایڈیشن بھی چھپ گیا ،
[16] حضرت آیت اللہ شہید سید محمد صدر رحمة اللہ علیہ ۱۳۵۳ ھ ق میں کاظمین میں متولد ہوئے اور جوانی ہی میں مجتہد مسلم ہو گئے آپ نے مختلف موضوعات مثلاً فقہ، اصول،منطق،فلسفہ،اور اقتصاد پر تقریبا ً ۲۴ کتابیں لکھی ہیں۔۲۰ سال اپنے قلم اور بازوٴں سے عراق کی بعثی حکومت سے مسلسل جہاد کرنے کے بعد آخر کار ۴۷ سال کی عمر میں اپنی مجتہدہ بہن ”بنت الہدیٰ“ کے ساتھ یزید صفت عراق کی بعثی پارٹی کے ہاتھوں شہید ہوگئے ۔
[17] مسلک وہابیت ”شیخ محمد بن عبد الوہاب “کی طرف منسوب کیا جاتا ہے وہ ۱۱۱۵ ء ھ میں نجد کے شہر ”عنیہ “میں پیدا ہوااس کا باپ اس شہر میں قاضی تھا۔
[18] ”آنگاہ ہدایت شدم“(پھر میں ہدایت پاگیا )سے اقتباس ،ص۹۲تا ۹۳۔
[19] اتنی زیادہ نقل ہوئی ہے کہ جس سے انسان کو یہ یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی حدیث ہے ۔
[20] ”آنگاہ ہدایت شدم“(پھر میں ہدایت پاگیا )سے اقتباس ،ص۸۸ تا ۸۹۔
[21] سورہٴ آل عمران آیت ۱۴۴۔
[22] سورہٴ فتح آیت ۲۹۔
[23] سورہٴ احزاب آیت ۴۰۔
[24] صحیح مسلم ،ج۲ ،ص ۱۵۱(باب الجمع بین الصلاتین فی الحضر)
[25] صحیح مسلم ،ج۲ ،ص ۱۵۱(باب الجمع بین الصلاتین فی الحضر)
[26] مسند امام احمد حنبل ،ج۱، ص۲۲۱۔
[27] موطا االامام مالک (شرح الحوالک )ج،۱،ص۱۶۱۔
[28] لاکون مع الصادقین ،ڈاکٹر تیجانی سماوی، مطبوعہ بیروت ،ص۲۱۰ سے ۲۱۴ تک سے خلاصہ کے ساتھ اقتباس ۔
[29] سورہٴ نساء آیت ۱۰۳۔
[30] لاکون مع الصادقین سے اقتباس ،ص۲۱۴و ۲۱۵۔
[31] سورہ احزاب، آیت ۳۳۔
[32] سورہ احزاب، آیت ۳۳۔
[33] ”آنگاہ ہدایت شدم“(پھر میں ہدایت پاگیا )سے اقتباس ،ص۱۱۴تا ۱۱۵۔
[34] المیزان ،ج۱۶،ص۱۱۴۔
[35] شواہد التنزیل ،ج۲ ،ص۱۱،اور ۲۵ کے بعد (اس بحث کا ماخذ”احقا ق الحق “کی ج۲ میں بھی آیا ہے ۔
[36] سورہٴ احزاب آیت ۵۶۔
[37] صحیح بخاری ،ج۶،ص۱۵۱۔صحیح مسلم ،ج۱ ص۳۰۵۔
[38] الصواعق المحرقہ، ص۱۴۴۔
[39] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،ج۶ ،ص۱۴۴۔
[40] المواہب زرقانی ،ج۷ ص۷۔تذکرہ علامہ ،ج۱،ص۱۲۶۔
[41] مولف کا قول:قرآن میں سورہٴ ”صافات “کی ۱۳۰ ویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں ”سلام علی آل یاسین“(آل یاسین پر سلام ہو )ابن عباس سے منقول ہے کہ یہاں ”آل یاسین“ سے مراد آل محمد ہیں لہٰذا س بنا پر قرآنی اعتبار سے بھی آل محمد میں سے کسی کے نام کے ساتھ ”علیہ السلام“کہنا درست ہے ۔
[42] آنگاہ ہدایت شدم، (پھر میں ہدایت پاگیا )سے اقتباس ،ص۶۵ تا ۶۷۔
[43] یہ اس بات پر ایک ضمنی اقرار ہے کہ حدیث غدیر حضرت علیعلیہ السلام کی خلافت پر واضح بیان ہے لیکن ہم مجبور ہیں کہ اس کی وضاحت سے دست بردار ہوجائیں اور اس کی تاویل کریں (غور کریں !)۔
[44] اس حدیث کے مختلف مآخذ اور مدارک کے لئے ”الغدیر “کی پہلی جلد سے رجوع کریں۔
[45] اس ٹیونسی دانشور سے کہنا چاہئے اگر علی کو دوست رکھتے ہو تو ان کی دوستی کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کی باتوں کو قبول کیا جائے اور ان کی باتوں کو قبول کرکے ان کو خوش کیاجائے حالانکہ آپ نے رسول اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد خلافت کا دعویٰ کیا لیکن ان کی بات کو نہیں ماناگیا اور ان کو زبردستی بیعت کے لئے لے جایا گیااور آپ کے اصحاب کوآزار واذیت دی گئی اور جناب سلمان کو مارا پیٹا گیا ۔
[46] مسند احمد بن حنبل ،ج۴ ،ص۲۸۱، علامہ امینی نے الغدیر کی جلد اول میں اسے اہل سنت کے ساٹھ علماء سے نقل کیا ہے ۔
[47] سورہٴ مائدہ ، آیت ۶۷۔
[48] صحیح بخاری وصحیح مسلم ،صلح حدیبہ کے متعلق بعض صحابہ کی مخالفت ،اور عمر کا قول بھی نقل کیا ۔
[49] جناب تیجانی سماوی کے کتاب”لا کون مع الصادقین “سے اقتباس ص۵۸ سے ۶۱۔ مولف کی جانب سے خلاصہ اور اضافہ کے ساتھ۔
[50] صحیح مسلم، کتاب الامارة، جلد۴، ص ۴۸۲، (مطبوعہ دار الشعب)، مسند احمد ، ج ۵، ص۸۶، ۹۰، ۹۲، مستدرک صحیحین، ج ۴، ص۵۰۱، مجمع ہیثمی، ج ۵، ص ۱۹۰۔
[51] مسند احمد احنبل ،ج۳،ص۲۷۔
[52] مسند حنبل ،ج۴،ص۳۶۷۔صحیح مسلم ،ج۲،ص۲۳۸۔صحیح ترمذی، ج۷، ص۱۱۲۔ کنز العمال،ج۷،ص۱۱۲اس کے علاوہ دوسری بہت سی کتابوں میں یہ حدیث موجود ہے۔
[53] تفسیر قرطبی ،ج۹،ص۶۱۲۱۔صحیح بخاری ،ج۶،ص۱۷۲۔
[54] مجمع البیان ،ص۹،ص۱۳۰۔تفسیر فی ظلال ومراغی ،اسی آیت کے ذیل میں۔
[55] یہ مناظرے چند سال قبل عربی زبان میں ”مناظرة الشیخ حسین بن عبد الصمد“ نامی کتاب میں ”موسسہ قائم آل محمد (ص)“ سے چھپ چکی ہے۔
[56] امام جعفر صادق علیہ السلام (متوفی ۱۴۸ھ)فقہ تشیع کے مروج، ابو حنیفہ (متوفیٰ ۱۵۰ھ)اور مالک بن انس (متوفیٰ ۱۷۹ھ)کے استادہیں اس طرح سے آپ سنی مذہب کے دو معروف مسلک ،حنفی ومالکی کے اماموں کے استاد رہے اسی لئے ابو حنیفہ کا یہ کہنا تھا ”لولا السنتان لھلک النعمان“اگر وہ دو سال (جو میں نے امام جعفر صادق علیہ السلا م کی خدمت میں گزارے ہیں)نہ ہوتے تو نعمان (ابو حنیفہ )ہلاک ہو جاتا۔اسی طرح مالک بن انس کا کہنا ہے ”مارایت افقہ من جعفر بن محمد “میں نے جعفر بن محمد(امام صادق علیہ السلام ) سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا ، (فی سبیل الوحدة الاسلامیة ص۶۳و۶۴)۔
[57] یہ حدیث مشہور و معروف ہے اور شیعہ و سنی کتابوں میں موجود ہے۔
اور اس طرح کا تمسک اختیار کرنے والا بھی نجات پائے ؟ہماری یہ بات یہ تقاضا کرتی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی تقلید کی جائے اور اس بات میں تو کوئی شک و شبہ نہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی پیروی ابو حنیفہ کی شک آمیز تقلید پر ہزار فوقیت رکھتی ہے۔
[58] سورہ مائدہ ، آیت ۵۵۔
[59] تمام مفسروں کے اتفاق رائے سے یہ آیت امام علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے جب آپ نے رکوع کے عالم میں انگوٹھی فقیر کو دی تھی اہل سنت کی جن کتابوں میں یہ بات ذکر ہوئی ہے ان کی تعداد تیس سے زائد ہے جیسے ذخائر العقبی،ٰ ص۸۸،فتح القدیر، ج۲،ص۵۰، اسباب النزول واحدی،ص۱۴۸، کنز العمال ،ج۶ ص۳۹۱ وغیرہ مزیدمعلومات کے لئے کتاب” احقاق الحق“ج۲، ص ۳۹۹ سے ۴۱۰ کا مطالعہ کریں۔
[60] سورہٴ احزاب آیت ۵۷۔
[61] المناظرہ، تالیف شیخ حسین بن عبد الصمد ،طبع موسسہ قائم آل محمد (خلاصہ اور وضاحت کے ساتھ)
[62] تاریخ طبری ،۲،ص ۲۸۱ کا خلاصہ۔
[63] صحیح بخاری ،ج۲،ص۱۳۰ (مطبع الشعب ، ۱۳۷۸ھ۔
[64] مناظرات فی الحرمین الشریفین ، مناظرہ نمبر ۱۳۔
[65] صحیح ترمذی ،ج۱۳،ص۱۸۲ ، سنن ابی داوٴد ،ص۲،ص۲۶۴ ، وغیرہ میں یہی حدیث تھوڑے سے فرق کے ساتھ “سعید بن زید ”سے بھی نقل ہوئی ہے (الغدیر ،ج۱۰،ص۱۱۸)
[66] سورہ ٴنساء، آیت ۹۳۔
[67] مناقب ابن مغازلی ،ص۵۰۔مناقب خوارزمی ،ص۷۶۶و۲۴۔
[68] کنز العمال ،ج۶،ص۱۵۷ ۔الامامة ولسیاسة ،ص۷۳۔مجمع الزوائد ،ہیثمی ،ج۷،ص۲۳۵ وغیرہ ۔
[69] کنز العمال ،ج۶،ص۱۵۷ ۔الامامة والسیاسة ،ص۷۳۔مجمع الزوائد ،ہیثمی ،ج۷،ص۲۳۵ وغیرہ ۔
[70] شرح در الغدیر ،ج۱۰، ص۱۲۲ تا ۱۲۸ ۔
[71] سورہٴ بقرہ ، آیت ۶۰۔
[72] الشیعہ و التشیع، ص ۲۰۔
[73] سورہٴ نساء آیت ۵۹۔
[74] سورہٴ شعراء آیت ۲۱۴۔
[75] یہ حدیث ”یوم الانذار “کے نام سے معروف ہے ،اس کے بہت سارے مدارک ہیں منجملہ: تاریخ طبری،ج۲،ص۶۳، تاریخ ابن اثیر ،ج۲، ۔تاریخ ابو الفداء ،ج۱، وغیرہ، مزید وضاحت کے لئے کتاب احقاق الحق ،ج۴،ص ۶۲ کے بعد رجوع کریں۔
[76] کتاب ”آہین وہابیت“ سے اقتباس، ۱۲ تا ۱۴۔
[77] سورہٴ مائدہ ، آیت ۹۷۔
[78] ”لِتُنذِرَ اٴُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَہَا “(سورہٴ انعام آیت ۹۲ سورہٴ شوریٰ آیت۷۔)
[79] سورہٴ بقرہ آیت ۱۹۷۔
[80] مجمع البیان ،ج۲ ،ص۲۹۴۔
[81] صحیفہٴ نور ،ج۱۸ ،ص۶۶،۶۷۔
[82] صحیفہٴ نور ،ج۲، ص۱۸۔
[83] کحل البصر سے اقتباس ،ص۱۱۹ ،مجمع البیان ،ج۹،ص۱۲۷۔
[84] احتجاج طبرسی، ج۲، ص ۱۸، ۱۹۔
[85] بحار الانوار ،ج۴۶،ص۱۲۷۔
[86] منتہی الامال ،۲ ص۷۹۔
[87] وسائل الشیعہ ،ج۹ ،ص۴۰۶۔
[88] سنن ابن ماجہ ،ج۲،ص۱۸ ،۱۹ ۔بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۱۶۔
[89] اعیان الشیعہ،چاپ جدید ،ج۱ ،ص۱۴۔
[90] وسائل الشیعہ ،ج۸،ص۱۴۔
[91] شرح سیرہ ابن ہشام ،ج۱، ص۳۸ تا ۶۲، بلوغ الارب ،آلوسی ،ج۱ ،ص۲۵۰ تا۲۶۳۔
[92] کمال الدین ،ص۱۰۴۔تفسیر برہان ج۲،ص۷۹۵۔
[93] شرح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید ،ج۳ ،ص۳۱۲۔
[94] استیعاب ،ج۲، ص۵۰۹،ذخائر العقبیٰ،ص۲۲۲۔
[95] اس سلسلہ میں مزید آگاہی کے لئے کتاب الغدیر ،ج۷ ص۳۳۰ تا ۴۰۹ ملاحظہ کریں۔
[96] الحجة علی الذاھب ،ص۳۶۱۔
[97] شرح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید ،ج۱، ص ۳۵۸، ۳۶۰۔
[98] تفسیر ابن کثیر ،ج ۲، ص ۱۲۸۔
[99] جیسا کہ ابن عباس نے مذکورہ آیت کے یہی معنی کئے ہیں ۔(الغدیر ،ج۸)
[100] میزان الاعتدال ،ص۳۹۸۔
[101] تہذیب التہذیب ،ج۴،ص۱۱۵۔
[102] تہذیب التہذیب ،ج۳،ص۱۷۹۔
[103] تاریخ طبری ،نقل از کتاب ابو طالب مومن قریش۔
[104] یہاں پر گفتگو بہت ہے ،کتاب الغدیر ،ج۷،اور ابو طالب مومن قریش ، ص۳۰۳ تا ۳۱۱ پر رجوع فرمائیں۔
[105] کتاب غایة المرام میں اس سلسلہ میں اہل سنت کے ۱۲۴ اور اہل تشیع سے ۱۹ روایتیں نقل ہوئی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی (منہاج البراعة، ج ۲، ص ۳۵۰)
[106] نہج البلاغہ، نامہ ۴۵، اس خط کے مطابق آپ کے لئے اس طرح کی انگوٹھی پہننے کی بات ایک تہمت ہے ۔
[107] وقایع الایام، خیابانی (صیام) ص ۶۲۷۔
[108] ”فَلَمَّا قَضَی زَیْدٌ مِنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنَاکَہَا“سورہٴ احزاب، آیت ۳۷۔
[109] ان آیات سے مزید آگاہی کے لئے کتاب دلائل الصدق ج ۲، ص ۷۳ تا ۳۲۱ کی طرف رجوع کریں کہ جہاں اس سلسلہ میں ۸۲ آیت ذکر ہوئی ہیں۔
ہوا ہے کہ یہ آیتیں سب کی سب امام علی علیہ السلام کی خلافت بلا فصل اور ان کی ولایت و رہبری کے لئے نازل ہوئی ہیں اور خداوند عالم کا رشاد ہے۔
[110] سورہٴ حشر، آیت ۷۔
[111] اصولا اگر عقلی اور احساساتی پہلووٴں کو مد نظر رکھ کر یہ دیکھا جائے کہ قرآن مجید میں جو کچھ بھی اچھائیوں کا ذکر ہوا جیسے تقویٰ، علم، جہاد، ہجرت اور سخاوت ان کا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے بعد حقیقی مصداق کون ہے جو سب پر برتری رکھتا ہے تو حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں نظرآئے گا کیونکہ جب تک بزرگی کے اسباب فراہم نہ ہوں اس وقت تک بڑی جگہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا لہٰذا قرآن کی آیت ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے بعد ہدایت کے لئے حضرت علی کا دروازہ دکھاتی ہے مگر کیا ایسا نہیں ہے کہ قرآن فرماتا ہے:
”اٴَ فَمَنْ یَہْدِی إِلَی الْحَقِّ اٴَحَقُّ اٴَنْ یُتَّبَعَ اٴَمَّنْ لاَیَہِدِّی إِلاَّ اٴَنْ یُہْدَی فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ“ (سورہ یونس، آیت ۳۵)
[112] مجلہ رسالہ الاسلام ،ارکان رسمی ”دارالتقریب بین المذاہب الا سلامیة بالقاہرة ،سال ۱۱، نمبر ۳،سال ۱۳۷۹ ھ۔
[113] فی سبیل الوحدة الاسلامیة، سید مرتضی الرضوی، ص۵۲،۵۴،و۵۵۔
[114] صحیح مسلم ،ج۳،ص۶۱۔سنن ترمذی ،ج۲، ص۲۵۶، سنن نسائی ، ج۴ ،ص۸۸۔
[115] تہذیب التہذیب ،ج۱۱،ص۱۲۵، ج۴، ص۱۱۵، ج۳، ص۱۷۹۔
[116] تہذیب التہذیب ،ج۱۱،ص۱۲۵، ج۴، ص۱۱۵، ج۳، ص۱۷۹۔
[117] تہذیب التہذیب ،ج۱۱،ص۱۲۵، ج۴، ص۱۱۵، ج۳، ص۱۷۹۔
[118] شرح حدیدی ،ج۹،ص۹۹۔
[119] الفقہ علی مذاہب الاربعة ،ج ۱، ص۴۲۰۔
[120] ”آئین وہابیت“سے اقتباس ص۵۶ سے ۶۴ تک۔
[121] مجمع البیان ،ج۴ ،ص۸۳(معالم دین اللہ )
[122] آئین وہابیت سے اقتباس ص۴۳ سے ۴۶ تک۔
[123] الفصول المہمہ ،ص۱۴۔
[124] کفایة الطالب ،ص۳۶۱۔
[125] نور الابصار، ۷۶۔
[126] مطالب السوٴل ،ص۱۱۔
[127] دلائل الصدق ،ج۲،ص۵۰۸و۵۰۹۔
[128] دلائل الصدق ،ج۲،ص۵۰۹و۵۱۰۔
[129] صحیح مسلم ،کتاب فضائل الصحابہ ، مسند احمد،ج۴، ص۳۹۸۔
[130] مستدرک حاکم ، ج ۳، ص۱۴۹۔
[131] فتاوی صحابی کبیر ،ص۶۷۷۔
[132] وقعة الصفین ،طبع مصر، ص۵۸۔
[133] نہج البلاغہ صبحی صالح، خطبہ ۱۲۶۔
[134] نہج البلاغہ صبحی صالح، خطبہ ۱۲۶۔
[135] مناقب آل ابی طالب، ج۴، ص۶۶۔
[136] فروع کافی، ج۴، ص۲۳و۲۴ سے اقتباس۔
[137] انو ار البہیہ، ص۱۲۵۔
[138] عیون اخبار الرضا،ج ۲، ص۲۶۳و۲۶۶۔
[139] نہج البلاغہ، خطبہ۲۲۴۔
[140] معجم البلدان ، ج ۴، ص ۱۷۶۔
[141] ارشاد شیخ مفید ، ص۲۸۴۔مستدرک الوسائل ، ج ۲، ص ۵۱۴۔
[142] فروع کافی ،ج ۵، ص ۷۴۔ اسی سے مشابہ دوسری مثالیں اسی کتاب میں موجود ہیں۔
[143] v
[144] خمس کی بحث طولانی ہے لیکن یہاں خلاصہ کے طور پر ہم عرض کرتے ہیں ۔
خمس کا اصل مسئلہ سورہ انفال آیت ۴۳ میں ذکر ہوا ہے اور اس کے فرعی مسائل کے متعلق تقریبا ۸۰/روایتیں (وسائل الشیعہ،جلد۶ وغیرہ )میں ذکر ہوئی ہیں خمس ایک حکومتی خزانہ ہے (زکات کے بر خلاف جو عمومی دولت ہے ) نصف خمس حاکم (اگر اسلامی حکومت ہو ورنہ مراجع تقلید اسی حکم میں ہیں )کے اختیار میں ہوتا ہے اور دوسرا حصہ مستحق سادات کا ہوتا ہے۔ائمہ معصومین علیہم السلام ولی بھی تھے اور سادات بھی لہٰذ خمس انھیں کے ہاتھوں میں رہتا تھا لہٰذ ا انھیں یہ حق حاصل تھا کہ وہ اس کو شیعوں کی زندگی گزارنے بھر ان کو دے دیں کیونکہ ان شیعوں کی حفاظت ایک طرح سے اسلام کی حفاظت تھی کیونکہ ائمہ علیہم السلام کے زمانہ میں شیعوں کی حفاظت سے زیادہ بڑھ کر اسلام کو محفوظ رکھنے کا کوئی اور ذریعہ نہ تھا ۔
[145] مشارق الانوار سے اقتباس ، بحار الانوار، ج ۷۶ ،ص ۵۷ کی نقل کے مطابق۔
[146] سورہٴ نساء آیت ۱۶۴۔
[147] سورہ ٴ بقرہ آیت ۵۵۔۵۶سورہٴ نساء آیت ۱۵۳ سورہٴ اعراف آیت ۱۵۵کی طرف رجوع فرمائیں۔
[148] جیسا کہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے قیامت کے سلسلہ میں اسی طرح کا سوال کیا تھا سورہٴ بقرہ آیت ۲۶۰۔
[149] سورہٴ اعراف آیت ۱۵۵۔
[150] سورہٴ اعراف آیت ۱۴۳۔
[151] تفسیر روح البیان ،ج ۱،ص۴۰۰ ،تفسیر قرطبی ،ج ۲،ص۱۰۱۸۔تفسیر فخر رازی ،ج۷،ص۹۔
[152] تفسیر فخر رازی ،ج۷، ص۹۔
[153] وسائل الشیعہ ،ج۱۵ ،ص۱۰۔
[154] وسائل الشیعہ ،ج۱۵ ،ص۱۰۔
[155] سورہٴ نساء آیت ۲۰۔
[156] تفسیر در منثور ،ج۲،ص۱۳۳۔تفسیر ابن کثیر ،ج۱ص۴۶۸۔تفسیر قرطبی ،کشاف ،غرائب القرآن ،اسی آیت کے ذیل میں ۔
[157] سورہ قصص، آیت ۲۷۔
[158] الاحتجاجات العشرہ سے اقتباس ،احتجاج ۵۔
[159] تاریخ طبری ،ج۱۱،ص۱۳۵۷۔تذکرة الخواص ،ص۲۰۹۔کتاب صفین ،ص۲۲۰۔
[160] تاریخ بغداد ج۱۲، ص۱۸۱، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴، ص۳۳۔
[161] کتاب صفین ابن مزاحم ،ص۲۱۹۔مسند بن حنبل ج۴،ص۲۴۸میں ان کے نام کے جگہ ”فلاں فلاں “آیا ہے ۔
[162] الاثنی عشریہ فی الرد علی الصوفیہ،تالف شیخ حرعاملی ،ص۱۶۴۔
[163] بحار ،ج۴۴،ص۲۹۳۔
[164] سورہٴ آل عمران آیت ۱۶۹۔
[165] الاحتجاجات العشرة،ص۲۰۔
[166] ماساة الحسین ،تالیف:الخطیب شیخ عبد الوہاب الکاشی ،ص۱۵۲۔
[167] ماساة الحسین ،تالیف:الخطیب شیخ عبد الوہاب الکاشی ،ص۱۳۵،۱۳۶۔
[168] الوقایع والحوادث،ج۳،ص۳۰۷۔
[169] ماساة الحسین علیہ السلام ،ص۱۳۷۔
[170] سورہٴ حج آیت ۳۲۔
[171] انگیزہ پیدائش مذہب ،ص۱۵۰۔
[172] منتہی الآمال ،ج۲،ص۳۔
[173] مذکورہ لغت ناموں لفظ ”ختم“
[174] سورہٴ احزاب آیت ۴۰۔
[175] اسی وجہ سے امام حسین علیہ السلام نے ان لشکریوں کو عاشورا کے دن ”شیعیان آل ابی سفیان“کہہ کر بلایا تھا جب دشمن خیموں پر حملہ کر نے لگے تو آپ نے فرمایا: ”ویلکم یا شیعة آل ابی سفیان“تمہارا برا ہواے ابو سفیان کے اولاد کے پیروکارو! اگر تم دین نہیں رکھتے اور تمہیں آخرت کا کوئی خوف نہیں تو کم از کم اس دنیا میں ہی آازاد زندگی گزارو،”اللہوف“سید ابن طاووٴس ص۱۲،
لہٰذا اس بنا پر یہی نہیں کہ وہ حقیقتاً شیعیان علی نہیں تھے بلکہ وہ ظاہراً بھی شیعان علی نہیں تھے ۔
[176] مروج الذہب ج۲، ص۶۹، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳، ص۱۹۹، الغدیر ج۱۱، ص۲۳و۳۹۔
[177] تاریخ طبری،ج۶،ص۱۳۲۔کامل بن اثیر ،ج۳،ص۱۸۳۔
[178] تاریخ طبری،ج۶،ص۱۳۲۔کامل بن اثیر ،ج۳،ص۱۸۳۔
[179] تاریخ طبری،ج۶،ص۱۳۲۔کامل بن اثیر ،ج۳،ص۱۸۳۔۔
[180] الغدیر ج۱۱، ص۴۴۔
[181] الغدیر ج۱۱، ص۲۸۔
[182] تنقیح المقال ،ج۲،ص۶۳۔اور اگر فرض کریں اس کے درمیان کچھ لوگ برائے شیعہ تھے بھی تب بھی انھیں شیعہ کہنا کسی طرح درست نہ ہوگا البتہ ممکن ہے کہ کچھ افراد ایسے رہے ہوں جن کو سیاسی اور حکومتی حالات کا بالکل اندازہ نہ رہا ہو اور اعتقاد میں بھی وہ ضعیف رہے ہوں لہٰذا یزید کی دھمکیوں سے ڈر گئے ہوں اور پیسے کی لالچ میں آگئے ہوں مگر اس طرح کے چند افراد کی موجودگی سے یہ کہنا کہ امام حسین کو شیعوں نے قتل کیا ہے ہر گز درست نہ ہوگا جو واقعاً شیعہ تھے وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے کیونکہ سارے حالات ان کے سامنے تھے سیاسی حکومتی تغیرات سے وہ پوری طرح آگاہ تھے ،اس وقت کوفہ میں موجود سارے شیعہ اسی نوعیت کے تھے ،اس طرح کی تمام باتیں بکے ہوئے راویوں اور درباری ملاوٴں کے دین ہیں۔جس کی اصلاح ہونا چاہئے۔
[183] تفسیر المیزان،ج۲،ص۷۴۔
[184] سورہٴ بقرہ آیت ۲۵۱۔
[185] اس طرح کی باتیں دو گروہ کرتے ہیں ،متعصب سنی جو شیعوں کو ایرانی سیاسی گروہ بتانا چاہتا ہے اور ،ایرانی نیشنلزم ، جنھوں نے اس مذہب کی آڑ میں اپنے قدیم عقائد کو محفوظ کرلیا تھا۔
[186] اعیان الشیعہ ج۲، ص۱۸ ، نیا ایڈیشن۔
[187] اس چیز کی تفصیل کتاب ”ایرانیان مسلمان در صدر اسلام و سیر تشیع در ایران“ تالیف مولف میں پڑھیں۔
[188] کنز العمال،حدیث ۳۴۱۲۵۔
[189] کنز العمال،حدیث ۳۴۱۲۶۔
[190] اس بات کی وضاحت کے لئے مناظرہ نمبر ۳۰/ کا مطالعہ کریں۔
[191] سورہ نساء، آیت۲ ۸۔
[192] سورہٴ ص،۷۲و سورہٴ حجر۲۹۔
[193] سورہٴ اعراف آیت ۱۷۹۔
[194] سورہٴ نساء آیت ۱۲۹۔
[195] تفسیر برہان ،ج۱،ص۲۲۰۔
[196] سورہٴ نساء آیت ۱۲۹۔
[197] تفسیر برہان ،ج۲،ص۲۲۸۔اثبات الہداة،ج۷ ص۱۰۰۔
[198] بحار،ج۵۲،ص۳۴۳۔
[199] بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۰۶۔
[200] اعیان الشیعہ ، نیا ایڈیشن،ج۲،ص۸۴۔
[201] بحار ،ج۵۲،ص۳۲۶۔
[202] نور الثقلین ،ج۱،ص۱۳۹۔
[203] اثبات الہداة،ج۷،ص۱۷۶۔
[204] اثبات الہداة،ج۷، ص۹۲۔
[205] بحار،ج۵۲،ص۳۱۶۔
[206] اثبات الہداة،ج۷،ص۱۱۳۔اعیان الشیعہ ،طبع جدید،ج۲،ص۸۲۔
[207] بحار ،ج۵۲،ص۲۳۳۔اعیان الشیعہ ، نیا ایڈیشن،ج۲،ص۸۴۔
[208] اثبات الہداة،ج۷،ص۱۵۰و۱۷۱۔
[209] المجالس السنیہ، سید محسن جبل عاملی،ج۵،ص۷۱۱و۷۲۳و۷۲۴۔
[210] بحار ،ج۵۲،۳۹۰۔
[211] ارشاد مفید ،ص۳۴۱، بحارالانوار، ج۵۲، ص۲۹۰۔
[212] بحار،ج۵۲،ص۳۱۷۔
[213] اثبات الہداة،ج۷،ص۱۱۳۔
[214] غیبة النعمانیة،ص۱۷۲۔
[215] بحار ج۵۲،ص۲۸۳۔
[1] سفینة البحار ،ج۱ ص۱۹۳۔
[2] الصراط الستقیم، بحار کی نقل کے مطابق ،ج۸، پرانا ایڈیشن ،ص۱۸۳۔
[3] مجالس الموٴمنین ،ج۲ ،ص۴۱۹،بہجة الآمال،ج۲، ص۴۳۶۔
[4] بہجة الآمال،ج۲،ص۴۳۷۔
[5] فصول المختار، سید مرتضیٰ ج۱،ص۹۔قاموس الرجال ،ج۹ص۳۴۲ سے اقتباس، تھوڑی وضاحت کے ساتھ، ۔
[6] اگرچہ فضال شیعہ تھے اور ان کا کوئی بھائی نہیں تھا ، لیکن وہ اس طریقہ سے مناظرہ کرنا چاہتے تھے۔
[7] سورہٴ نساء، آیت ۹۷۔
[8] سورہٴ احزاب، آیت ۵۳۔
[9] سورہٴ احزاب۔آیت ۴۹۔
[10] جن کے نام یہ ہیں عائشہ ،حفصہ،ام سلمہ،ام حبیبہ ،زینب،میمونہ،صفیہ،جویریہ اور سودہ۔
[11] خزائن نراقی،ص۱۰۹۔
[12] سورہٴ طہ ، آیت ۱۲۱۔
[19] سورہ انبیاء، آیت ۷۹۔
[20] سورہٴ ص آیت ۳۵ ۔
[21] سورہٴ قصص ،آیت ۸۳۔
[22] سورہٴ مائدہ آیت ۱۱۷۔۱۱۶۔
[23] فضائل ابن شاذان ص۱۲۲۔بحارج۴،ص۱۳۴ سے ۱۳۶ تک۔
[24] وہ درحقیقت ایک ہوشمند دانشور تھا لیکن تقیہ کے طور پر دیوانوں کی طرح زندگی بسر کررہا تھا۔
[27] بحار،ج۴۹ ،ص۱۹۳۔
[28] کشف الیقین علامہ حلی ،ص۱۶۶۔بحار ،ج۳۹ ،ص۲۸۷۔
[29] شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید ،ج۴ ص۱۶۳ اور ۶۸۔
[30] ”خان الامین “والی تہمت بعض سنی فرقوں میں بہت زیادہ مشہور ہے جب بھی شیعوں پر اعتراض کرنا چاہتے ہیں تو یہ جملہ ان کی زبانوں پر ہوتاہے۔لہٰذا ڈاکٹر تیجانی سماوی نے اپنی کتاب ”پھر میں ہدایت پاگیا “میں دو جگہ اس تہمت کا ذکر کیا ہے ۔
[31] اس طرح کا اعتراض حضرت امام صادق علیہ السلام کی زندگی میں منکر خدا ابی العوجاء نے بھی کیا تھا کہ کیوں حجر اسود کو بوسہ لیتے ہو، یہ پتھر ہے اور فہم و شعور نہیں رکھتا، جس کے جواب میں ابی العوجاء مسلمان ہوگیا تھا۔
[32] سورہ نساء آیت ۶۴۔
[33] وفاء الوفاء، ج۲، ص۱۳۷۶، الدرر السنیہ، ذینی دحلان، ص۱۰۔
[34] الدر المنثور ،ج۱ص ۵۹۔مستدرک حاکم ،ج۲ ،ص ۶۱۵۔مجمع البیان ج۱،ص۸۹۔
[35] الاعلام ، قطب الدین حنفی، ص۲۴۔
[36] الاعلام قطب الدین حنفی ،ص۲۴۔
[37] انوا ر البہیہ ،امام جعفر صادق علیہ السلام کی سوانحیات کے بیان میں۔
[38] کشکول شیخ بہائی ،ج۱ ص۹۱۔
[41] الفصول امختار سید مرتضیٰ ،ج۱ ص۵۔بحار ج۱۰، ص۳۷۰۔
[42] مذکورہ حوالہ ،ج۱، ص۴۴۔
[43] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،احقاق الحق کی نقل کے مطابق ،ج۴،ص۲۹۲ سے لے کر ۲۹۵ تک ۔
[44] صحیح بخار ی، طبع دارالجبل بیروت ج۷ ص۴۷۔
[45] مذکورہ حوالہ، ج۹ ص۱۸۵ ، اور دوسرے مصادر، کتاب”فضائل الخمسہ من الصحاح الستہ“، ج۳ ، ص۱۹۰ میں دیکھئے ۔
[46] روضات الجنات (شیخ بہاء الدین عاملی کی سوانح حیات کے بیان میں)
[47] سورہٴ بقرہ آیت۱۵۵ سے ۱۵۷۔
[48] بہجة الامال ، ج۳ ص ۲۳۴ ، شرح من لایحضرہ الفقیہ سے نقل ،مزید وضاحت کے لئے مناظرہ ۷۰ سے رجوع کریں۔
[49] سورہٴ آل عمران آیت ۱۶۹۔
[50] الاحتجاجات العشرة، مع العلماء ،فی المکة والمدینة از مرجع فقید آیت اللہ العظمیٰ سید عبد اللہ شیرازی ص۱۳و ۱۵۔
[51] مزید معلومات کے لئے کتاب”التاج الجامع “ج۲ ص۱۹۲ اور احادیث صحاح ستہ ، ج ۱ ، باب سجود کی طرف رجوع کریں۔
[52] مزید معلومات کے لئے کتاب”التاج الجامع “ج۲ ص۱۹۲ اور احادیث صحاح ستہ ، ج ۱ ، باب سجود کی طرف رجوع کریں۔
[53] مناظرات فی الحرمین الشریفین۔سید علی بطحائی ،مناظرہ پنجم۔
[54] مناظرات فی الحرمین الشریفین۔سید علی بطحائی ،مناظرہ پنجم۔
[55] صحیح بخاری ج، ۸،ص ۲۶۔( مطبوعہ مطابع الشعب)
[56] ڈاکٹر تیجانی کی کتاب”ثم اہتدیت “سے اقتباس ص ۱۱۱ تا۱۱۳ ۔
[57] و انّ ابابکر تفقّد قوماً تخلّفوا عن بیعتہ عند علي کرم الله وجہہ فبعث الیہم عمر، فجاء فناداہم و ہم فی دار عليّ، فاَبَوا ان یخرجوا، فدعا بالحَطَب، و قال: و الذي نفس عمر بیدہ لتخرجنَّ اولا حرقنّہا علی مَن فیہا، فقیل لہ یا اباحفص ان فیہا فاطمة؟
فقال: و اِن، فخرجوا فبایعوا الا علیّاً “( الامامة والسیاسة مطبوعہ موسسہٴ حلبی ص ۱۹۔ )
[58] مناظرات فی الحرمین الشرفین مناظرہ ۹۔
[59] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۶ ص۴۶)
[60] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۶ ص۴۶)
[61] بحار ،ج۸۵ ، ص۱۵۳۔
[62] وہی مصدر ،ص۱۵۸ ، ارشاد القلوب ،ص۱۴۱۔
[63] محمد مرعی انطاکی کی کتاب”لماذا اخترت مذہب التشیع“ص۳۴۱ سے ۳۴۸ تک سے اقتباس ۔
[64] صحیح مسلم ،ج۳ ، ص۲۳۶ ،صحیح بخاری ،ج۲ ، ص۱۸۵ ، مسند حنبل ج۱ ، ص ۹۸ ،۱۱۸ ، وغیرہ۔
[65] الاحتجاجات العشرة ،ص۱۶۔
[66] تفسیر فخر رازی ،سورہٴ نساء کی ۲۴ ویں آیت کے ذیل میں ۔
[67] الاحتجاجات العشرة،ص۷۔
[68] تفسیر ثعلبی و تفسیر طبری ،سورہٴ نساء کی ۲۴ ویں آیت کے ذیل میں ۔
[69] اسباب النزول ، سیوطی ،سورہ عبس کے ذیل میں۔
[70] تفسیر برہان و تفسیر نور الثقلین ،اسی آیت کے ذیل میں۔
[71] سورہٴ القلم آیت۴۔
[72] سورہٴ الانبیا ء آیت۱۰۷۔
[73] یہ حدیث مجمع البیان ج۱۰ ص ۴۳۷ میں بھی آئی ہے جو لوگ اسے رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے متعلق خیال کرتے ہیں انھوں نے اس اعتراض کا کہ یہ بات رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی بد اخلاقی کی دلیل ہے اس طرح جواب دیا ہے:ابن ام مکتوم نے آداب مجلس کا خیال نہیں کیا لہٰذا اس کی سز ایہی تھی کہ اسے اسی لحظہ سزادی جائے اور اس سے بے توجہی برتی جائے اور خدانے جو اس عمل کے متعلق سرزنش کی ہے وہ اس لئے کہ بھلے ہی اس وقت رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کا منہ موڑنا درست تھا مگر پھر بھی اس بات کا امکان موجود تھا کہ دشمن یہ خیال کریں کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے اس سے فقیر ہونے کی وجہ سے منہ موڑ اور پیسے والوں کی طرف متوجہ رہے لہٰذا خدا وند عالم نے اس آیت کے ذریعہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کو یہ سمجھایا ہے کہ بھلے ہی کوئی کام درست ہو لیکن اگر اس کی وجہ سے دشمن سوء ظن میں مبتلا ہو جائیں تو اس عمل کو انجام نہ دیا اور اگر انجام دے بھی دیا تو ترک اولی ہوگا۔
[74] رجال نجاشی ،ص۳۱۱۔
[75] البدایة والنہایة،ج۱۲،ص۱۵۔
[76] مقدمہ اوائل المقالات ،طبع تبریز سال ۱۳۷۱ ھ ۔ق۔
[77] شیخ مفید کا مناظرہ کے متعلق ایسا عقیدہ تھا کہ وہ کہا کرتے تھے ۔بےشک شیعہ اثنا عشری فقیہ اور عالم دین ہمیشہ اہل مناظرہ تھے اور اس کی اہمیت کا عقیدہ رکھتے تھے آنے والے علماء بھی مناظرے میں گذشتہ علماء کی پیروی کریں گے اور مناظرے کرتے رہیں گے اور مناظروں کو مخالفین کے قانع کنندہ جواب کے لئے بہترین طریقہ مانیں گے(الفصول المختار ج۲، ص۱۱۹)