next

پہلا حصہ: پیغمبر اکرم(ص)، ائمہ معصومین علیہم السلام  اور ان کے شاگردوں کے مناظرے

back

 

 

۱۔ پانچ گروہوں کا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مناظرہ[1]

۲۵ / افراد پر مشتمل اسلام مخالفوں کے پانچ گروہ نے آپس میں یہ طے کیا کہ پیغمبر کے پاس جاکر مناظرہ کریں۔

ان گروہوں کے نام اس طرح تھے:  یہودی، عیسائی، مادّی، مانُوی اور بت پرست۔

یہ لوگ مدینہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چاروں طرف بیٹھ گئے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بہت ہی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو بحث کا آغاز کرنے کی اجازت دی۔

یہودی گروہ نے کہا:

”ہم اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”عزیر“ نبی[2] خدا کے بیٹے ہیں، ہم آپ سے بحث و گفتگو کرنا چاہتے ہیںاور اگر اس مناظرہ میں ہم حق پر ہوں تو آپ بھی ہمارے ہم عقیدہ ہوجائیں کیونکہ ہم آپ سے مقدم ہیں، اور اگر آپ نے ہماری موافقت نہ کی تو پھر ہم آپ کی مخالفت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے“۔

عیسائی گروہ نے کہا:

”ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں، اور خدا ان کے ساتھ متحد ہوگیا ہے، ہم آپ کے پاس بحث و گفتگو کرنے کے لئے آئے ہیں، اگر آپ ہماری پیروی کریں اور ہمارے ہم عقیدہ ہوجائیں (تو بہتر ہے) کیونکہ ہم اس عقیدہ میں آپ سے مقدم ہیں، اور اگر آپ نے ہمارے اس عقیدہ میں مخالفت کی تو ہم (بھی) آپ کی مخالفت کریں گے“۔

مادّہ پرست (منکر خدا) گروہ نے کہا:

”ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”موجوات عالَم“ کا کوئی آغاز اور انجام نہیں ہے، اور یہ ”عالَم“ قدیم اور ہمیشہ سے ہے، ہم یہاں آپ سے بحث و گفتگو کے لئے آئے ہیں، اگر آپ ہماری موافقت کریں گے تو واضح ہے کہ برتری ہماری ہوگی، ورنہ ہم آپ کی مخالفت کریں گے“۔

دو گانہ پرست آگے بڑھے اور کہا:

ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس دنیا کے دو مربی، دو تدبیر کرنے والے اور دو مبداٴ ہیں، جن میں سے ایک نور اور روشنی کا خلق کرنے والا ہے اور دوسرا ظلمت اور تاریکی کا خالق ہے، ہم یہاں پر آپ سے مناظرہ کرنے کے لئے آئے ہیں، اگر آپ اس بحث میں ہمارے ہم عقیدہ ہوگئے تو بہتر ہے اور اس میں ہماری سبقت اور برتری ہے، اور اگر آپ نے ہماری مخالفت کی تو ہم بھی آپ کی مخالفت کریں گے“۔

بت پرستوں نے کہا:

ہم اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ ہمارے بت ہمارے خدا ہیں، ہم آپ سے اس سلسلہ میں بحث و گفتگو کرنے آئے ہیں، اگر آپ اس عقیدہ میں ہمارے موافق ہوگئے تو معلوم ہے کہ سبقت اور تقدم ہمارا ہے، ورنہ تو ہم آپ سے دشمنی کریں گے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جواب میں ارشاد فرمایا:

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پہلے کلی طور پر جواب میں بیان فرمایا:

(تم نے اپنا عقیدہ بیان کردیا، اب میری باری ہے کہ میں اپنا عقیدہ بیان کروں) ”میرا عقیدہ ہے کہ خداوندعالم وحدہ لاشریک ہے، میں اس کے علاوہ ہر دوسرے معبود کا منکر ہوں، اور میں ایسا پیغمبر ہوں جس کو خداوندعالم نے تمام دنیا کے لئے مبعوث کیا ہے، میں خداوندعالم کی رحمت کی بشارت اور اس کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں، نیز میں دنیا بھر کے تمام لوگوں پر حجت ہوں، اور خداوندعالم مجھے دشمنوں اور مخالفوں کے خطرہ سے محفوظ رکھے گا“۔

اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان گروہوں کو باری باری مخاطب کیا تاکہ ہر ایک سے الگ الگ مناظرہ کریں، چونکہ یہودیوں کے گروہ نے چیلنج کیا تھا اس وجہ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہودیوں کے گروہ کو مخاطب کیا:

ا۔  یہودیوں سے مناظرہ

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ میں تمہاری باتوں کو بغیر کسی دلیل کے مان لوں؟

یہودی گروہ:   نہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  اس بات پر تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ ”عزیر“ خدا کے بیٹے ہیں؟

یہودی گروہ:  کتاب ”توریت “مکمل طور پر نیست و نابود ہوچکی تھی اور کوئی اس کو زندہ نہیں کرسکتا تھا، جناب عزیر نے اس کو زندہ کیا، اس وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :   اگر تمہارے پاس جناب عزیر کے خدا کے بیٹے ہونے پر یہی دلیل ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو توریت لانے والے اور جن کے پاس بہت سے معجزات تھے جن کا تم لوگ خود اعتراف کرتے ہو، وہ تو اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ خدا کے بیٹے یا اس سے بھی بالاتر ہوں ! پس تم لوگ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے یہ عقیدہ کیوں نہیں رکھتے جن کا درجہ جناب عزیر سے بھی بلند و بالا ہے؟

اس کے علاوہ اگر خدا کا بیٹا ہونے سے تمہارا مقصود یہ ہے کہ عزیر بھی دوسرے باپ اور اولاد کی طرح شادی اور ہمبستری کے ذریعہ خدا سے پیدا ہوئے ہیں تو اس صورت میں تم نے خدا کو ایک مادّی، جسمانی اور محدود موجودقرار دیدیا ہے، جس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا کے لئے کوئی خلق کرنے والا ہو، اور اس کو دوسرے خالق کا محتاج تصور کریں۔

یہودی گروہ: جناب عزیر کا خدا کا بیٹا ہونے سے ہماری مراد یہ نہیں ہے کہ ان کی اس طرح ولادت ہوئی، کیونکہ یہ معنی مراد لینا جیسا کہ آپ نے فرمایا کفر و جہل کے مترادف ہے، بلکہ ہماری مراد ان کی شرافت اور ان کا احترام ہے،جیسا کہ ہمارے بعض علماء اپنے کسی ایک ممتاز شاگرد کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں اور اس کے لئے کہتے ہیں: ”اے میرے بیٹے!“ یا ”وہ میرا بیٹا ہے“، یہ بات تو معلوم ہے کہ ولادت کے لحاظ سے بیٹا نہیں ہے کیونکہ شاگرد ،استاد کی اولاد نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے کوئی رشتہ داری ہوتی ہے، اسی طرح خداوندعالم نے جناب عزیر کی شرافت اور احترام کی وجہ سے ان کو اپنا بیٹا کہا ہے، اور ہم بھی اسی لحاظ سے ان کو ”خدا کا بیٹا“ کہتے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :   تمہارا جواب وہی ہے جو میں دے چکا ہوں، اگر یہ منطق اور دلیل اس بات کا سبب ہے کہ جناب عزیر خدا کے بیٹے بن جائیں تو پھر جو شخص مثل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جناب عزیر سے بھی بلند و بالا ہوں اس بات کا زیادہ مستحق ہیں۔

خداوندعالم کبھی بعض لوگوں کو دلائل اور اپنے اقرار کی وجہ سے عذاب کرے گا، تمہاری دلیل اور تمہارا اقرار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تم لوگ جناب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس سے بڑھ کر کہو جو جناب عزیر کے بارے میں کہتے ہو، تم لوگوں نے مثال دی اور کہا: کوئی بزرگ اور استاد اپنے شاگرد سے کوئی رشتہ داری نہیں رکھتا بلکہ اس سے محبت اور احترام کی وجہ سے کہتا ہے:

”اے میرے بیٹے!“ یا ”وہ میرا بیٹا ہے“، اس بناء پر تم لوگ یہ بھی جائز سمجھو کہ وہ اپنے دوسرے محبوب شاگرد سے کہے: ”یہ میرا بھائی ہے“، اور کسی دوسرے سے کہے: ”یہ میرا استاد ہے“، یا ”یہ میرا باپ اور میرا آقا ہے“۔

یہ تمام الفاظ شرافت اور احترام کی وجہ سے ہیں، جس کا بھی زیادہ احترام ہواس کو بہتر اور با عظمت الفاظ سے پکارا جائے، اس صورت میں تم اس بات کو بھی جائز مانو کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بھائی ہیں، یا خدا کے استاد یا باپ ہیں، کیونکہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کا مرتبہ جناب عزیر سے بلند و بالا ہے۔

اب میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ اس بات کو جائز مانتے ہو کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بھائی، یا خدا کے باپ یا خدا کے چچا، یا خدا کے استاد ، آقا اور ان کے سردار ہوں، اور خداوندعالم احترام کی وجہ سے جناب موسیٰ (علیہ السلام) سے کہے: اے میرے باپ!، اے میرے استاد، اے میرے چچا اور اے میرے سردار۔۔۔؟

یہ سن کریہودی گروہ لا جواب ہوگیا اور اس سے کوئی جواب نہ بن پایا، اور وہ حیران و پریشان رہ گئے تھے،چنانچہ انھوں نے کہا:  ”آپ ہمیں غور و فکر اور تحقیق کرنے کی اجازت دیں!“

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :   بے شک تم لوگ اگر پاک و صاف دل اور انصاف کے ساتھ اس سلسلہ میں غور و فکر کرو تو خداوندعالم تم لوگوں کو حقیقت کی طرف راہنمائی فرمادے گا۔

۲۔ عیسائیوں سے مناظرہ

عیسائیوں کی باری آئی تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا:

تم لوگ کہتے ہو کہ خداوندقدیم اپنے بیٹے حضرت عیسیٰ مسیح کے ساتھ متحد ہے، اس عقیدہ سے تمہاری مراد کیا ہے؟

کیا تم لوگوں کی مراد یہ ہے کہ خدانے اپنے قدیم ہونے سے تنزل کرلیا ہے، اور ایک حادث (جدید خلقت) موجود میں تبدیل ہوگیا ہے، اور ایک حادث موجود (جناب عیسیٰ) کے ساتھ متحد ہوگیا ہے یا اس کے برعکس، یعنی حضرت عیسیٰ جو ایک حادث اور محدود موجود ہیں انھوں نے ترقی کی اوروہ خداوندقدیم کے ساتھ متحد ہوگئے ہیں، یا اتحاد سے تمہارا مقصد صرف حضرت عیسیٰ کا احترام اور شرافت ہے؟!

اگر تم لوگ پہلی بات کو قبول کرتے ہو یعنی قدیم وجود حادث وجود میں تبدیل ہوگیا تو یہ چیز عقلی لحاظ سے محال ہے کہ ایک ازلی و لامحدود چیز، حادث اور محدود ہوجائے۔

اور اگر دوسری بات کو قبول کرتے ہو تو وہ بھی محال ہے، کیونکہ عقلی لحاظ سے یہ چیز بھی محال ہے کہ ایک محدود اور حادث چیز لامحدود اور ازلی ہوجائے۔

اور اگر تیسری بات کے قائل ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جناب عیسیٰ (علیہ السلام) دوسرے بندوں کی طرح حادث ہیں لیکن وہ خدا کے ممتاز اور لائق احترام بندہ ہیں، تو اس صورت میں بھی خداوندکا (جو قدیم ہے) جناب عیسیٰ (علیہ السلام) سے متحد اور برابر ہونا قابل قبول نہیں ہے۔

عیسائی گروہ:   چونکہ خداوندعالم نے حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کو خاص امتیازات سے نوازا ہے، عجیب و غریب معجزات اور دوسری چیزیں انھیں دی ہیں، اسی وجہ سے ان کو اپنا بیٹا قرار دیا ہے، اور یہ خدا کا بیٹا ہونا شرافت اور احترام کی وجہ سے ہے!

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :   ”بعینہ یہی مطلب یہودیوں سے گفتگو کے درمیان بیان ہوا ہے اور تم لوگوں نے سنا کہ اگر یہ طے ہو کہ خداوندعالم نے ان کو امتیاز اور (معجزات) کی بنا پر اپنا بیٹا قرار دیا ہو تو پھر جو شخص جناب عیسیٰ (علیہ السلام) سے بلند تر یا ان کے برابر ہو تو پھر اس کو اپنا باپ، یا استاد یا اپنا چچا قرار دے۔۔۔“۔

عیسائی گروہ یہ اعتراض سن کر لاجواب ہوگیا، نزدیک تھا کہ ان سے بحث و گفتگو ختم ہوجائے، لیکن ان میں سے ایک شخص نے کہا:

کیا آپ جناب ابراہیم( علیہ السلام) کو ”خلیل خدا“ (یعنی دوست خدا) نہیں مانتے؟“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  جی ہاں، مانتے ہیں۔

عیسائی: اسی بنیاد پر ہم جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کو ”خدا کا بیٹا“ مانتے ہیں، پھر کیوں آپ ہم کو اس عقیدہ سے روکتے ہیں؟

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  یہ دونوں لقب آپس میں بہت فرق رکھتے ہیں،لفظ ”خلیل“ دراصل لغت میں ”خَلّہ“ (بروزن ذرّة) سے ہے جس کے معنی فقر و نیاز اور ضرورت کے ہیں، کیونکہ جناب ابراہیم( علیہ السلام) بی نہایت خدا کی طرف متوجہ تھے، اور عفت نفس کے ساتھ، غیر سے بے نیاز ہوکر صرف خداوندعالم کی بارگاہ کا فقیر اور نیاز مند سمجھتے تھے، اسی وجہ سے خداوندعالم نے جناب ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا ”خلیل“ قرار دیا، تم لوگ جناب ابراہیم( علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کا واقعہ یاد کرو:

جس وقت (نمرود کے حکم سے) ان کو منجنیق میں رکھا تاکہ ان کو آسمان سے باتیں کرتی ہوئی آگ کے اندر ڈالا جائے، اس وقت جناب جبرئیل خدا کی طرف سے آئے اور فضا میں ان سے ملاقات کی اور ان سے عرض کی کہ میں خدا کی طرف سے آپ کی مدد کرنے کے لئے آیا ہوں، جناب ابراہیم( علیہ السلام) نے ان سے کہا: مجھے غیر خدا کی کوئی ضرورت نہیں ہے، مجھے اس کی مدد کافی ہے، وہ بہترین محافظ اور مددگار ہے، اسی وجہ سے خداوندعالم نے جناب ابراہیم( علیہ السلام) کو اپنا ”خلیل“ قرار دیا، خلیل یعنی خداوندعالم کا محتاج اور ضرورت مند، اور خلق خدا سے بے نیاز۔

اور اگر لفظ خلیل کو ”خِلّہ“ (بروزن پِلّہ) سے مانیں جس کے معنی ”معانی کی تحقیق اور خلقت وحقائق کے اسرار و رموز پر توجہ کرنا ہے“، اس صورت میں بھی جناب ابراہیم( علیہ السلام) خلیل ہیں یعنی وہ خلقت اور حقائق کے اسرار اور لطائف سے آگاہ تھے، اور یہ معنی خالق و مخلوق میں شباہت کی باعث نہیں ہوتی، اس بنا پر اگر جناب ابراہیم( علیہ السلام) صرف خدا کے محتاج نہ ہوتے، اور اسرار و رموز سے آگاہ نہ ہوتے تو خلیل بھی نہ ہوتے، لیکن باپ بیٹے کے درمیان پیدائشی حوالہ سے ذاتی رابطہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر باپ اپنے بیٹے سے قطع تعلق کرلے تو بھی وہ اس کا بیٹا ہے اور باپ بیٹے کا رشتہ باقی رہتا ہے۔

اس کے علاوہ اگر تمہاری دلیل یہی ہے کہ چونکہ جناب ابراہیم( علیہ السلام) خلیل خدا ہیں لہٰذا وہ خدا کے بیٹے ہیں، تو اس بنیاد پر تمہیں یہ بھی کہنا چاہئے کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) بھی خدا کے بیٹے ہیں، بلکہ جس طرح میں نے یہودی گروہ سے کہا، اگر یہ طے ہو کہ لوگوں کے مقام و عظمت کی وجہ سے یہ نسبتیں صحیح ہوں تو کہنا چاہئے کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) خدا کے باپ، استاد، چچا یا آقا ہیں۔۔۔ جبکہ تم لوگ کبھی بھی ایسا نہیں کہتے۔

عیسائیوں میں سے ایک شخص نے کہا: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب انجیل کے حوالہ سے بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا: ”میں اپنے اور تمہارے باپ کی طرف جارہا ہوں“، لہٰذا اس جملہ کی بنا پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے خود کو خدا کا بیٹا قرار دیا ہے!

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  اگر تم لوگ کتاب انجیل کو قبول کرتے ہو تو پھر اس جملہ کی بنا پر تم لوگ بھی خدا کے بیٹے ہو، کیونکہ جناب عیسیٰ کہتے ہیں: ”میں اپنے اور تمہارے باپ کی طرف جارہا ہوں“، اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ میں بھی خدا کا بیٹا ہوںاور تم بھی۔

دوسری طرف یہ عبارت تمہاری گزشتہ کہی ہوئی بات (یعنی چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خاص امتیازات، شرافت اور احترام رکھتے تھے اسی وجہ سے خداوندعالم نے ان کو اپنا بیٹا قرار دیا ہے) کو باطل اور مردود قرار دیتی ہے، کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس جملہ میں صرف خود ہی کو خدا کا بیٹا قرار نہیں دیتے بلکہ سبھی کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔

اس بنا پر بیٹا ہونے کا معیار حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاص امتیازات (اور معجزات میں سے) نہیں ہے، کیونکہ دوسرے لوگوں میں اگرچہ یہ امتیازات نہیں ہیں لیکن خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے نکلے ہوئے جملہ کی بنا پر خدا کے بیٹے ہیں، لہٰذا ہر مومن اور خدا پرست انسان کے لئے کہا جاسکتا ہے: وہ خدا کا بیٹا ہے، تم لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قول کو نقل کرتے ہو لیکن اس کے برخلاف گفتگو کرتے ہو۔

کیوں تم لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو میں بیان ہونے والے ”باپ بیٹے“ کے لفظ کو اس کے غیر معنی میں استعمال کرتے ہو، شاید جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مراد اس جملہ ”میں اپنے اور تمہارے باپ کی طرف جارہا ہوں“،  سے مراد اس کے حقیقی معنی ہوں یعنی میں حضرت آدم و نوح (علیہما السلام) کی طرف جارہا ہوں جو ہمارے سب کے باپ ہیں، اور خداوندعالم مجھے ان کے پاس لے جارہا ہے، جناب آدم و نوح ہمارے سب کے باپ ہیں، اس بنا پر تم کیوں اس جملہ کے ظاہری اور حقیقی معنی سے دوری کرتے ہو اور اس سے دوسرے معنی مرادلیتے ہو؟!

عیسائی گروہ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مستدل گفتگو سے اس قدر مرعوب ہواکہ کہنے لگے: ہم نے آج تک کسی کو ایسا نہیں دیکھا کہ اس ماہرانہ انداز میں اس طرح بحث و گفتگو کرے جیسا کہ آپ نے کی ہے، ہمیں اس بارے میں غور و فکر کی فرصت دیں۔

۳۔ منکرین خدا سے مناظرہ

مادّیوں اور منکرین خدا کی باری آئی تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی طرف رخ کرتے ہوئے فرمایا: تم لوگ اس بات کا عقیدہ رکھتے ہو کہ اس موجودات عالم کا کوئی آغاز نہیں ہے بلکہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

منکرین خدا:  جی ہاں، یہی ہمارا عقیدہ ہے، کیونکہ ہم نے اس دنیا کے آغاز اور حدوث کو نہیں دیکھا، اور اسی طرح اس کے لئے فنا اور انتہا کا مشاہدہ نہیں کیا، لہٰذا ہمارا یہ فیصلہ ہے کہ یہ دنیا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  میں بھی آپ لوگوں سے سوال کرتا ہوں کہ کیا تم نے موجودات کے قدیم، ہمیشگی اور ابدی ہونے کو دیکھا ہے؟

اگر تم کہتے ہو کہ ہم نے دیکھا ہے تو تمہیں اسی عقل و فکر اور بدنی طاقت کے ساتھ ہمیشہ سے ابد تک رہنا چاہئے تاکہ تمام موجوات کی ازلیت اور ابدیت کو دیکھ سکو، جبکہ ایسا دعویٰ عقل اور عینی واقعیت کے برخلاف ہے ، اور دنیا کے سبھی عقلمند حضرات اس بات میں تمہیں جھٹلائیں گے۔

منکرین خدا:  ہم نے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا کہ ہم نے موجودات کے قدیم ہونے کو دیکھا ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  تم کو ایک طرفہ فیصلہ نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ تم لوگوں نے خود اقرار کیا ہے کہ نہ ہم نے موجودات کو دیکھا ہے اور نہ ان کے قدیم ہونے کو، اور نہ ہی ان کی نابودی کو دیکھا ہے اور نہ ان کی بقاء کو، پس تم کس طرح ایک طرفہ فیصلہ کرسکتے ہو،اور تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ چونکہ ہم نے موجودات کے حدوث اور فنا کو نہیں دیکھا لہٰذا موجودات قدیمی اور ابدی ہیں؟

(اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے ایک سوال کیا جس میں ان کے عقیدہ کو مردود کرتے ہوئے ثابت کیا کہ تمام موجودات حادث ہیں) چنانچہ آنحضرت   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

کیا تم نے دن اور رات کو دیکھا ہے جو ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں اور ہمیشہ آمد و رفت کرتے ہیں۔

منکرین خدا:  جی ہاں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  کیا تم لوگ دن و رات کو اس طرح دیکھتے ہو کہ ہمیشہ سے تھے اور ہمیشہ رہےں گے۔

منکرین خدا: جی ہاں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :   کیا تمہاری نظر میں یہ ممکن ہے کہ یہ دن رات ایک جگہ جمع ہوجائیں اور ان کی ترتیب ختم ہوجائے؟

منکرین خدا:   نہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  پس اس صورت میں ایک دوسرے سے جدا ہیں، جب ایک کی مدت پوری ہوجاتی ہے تب دوسرے کی باری آتی ہے۔

منکرین خدا:  جی ہاں، اسی طرح ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  تم لوگوں نے اپنے اس اقرار میں شب و روز میں مقدم ہونے والے کے حدوث کا اقرار کرلیا ہے بغیر اس کے کہ تم لوگوں نے اس کا مشاہدہ کیا ہو، لہٰذا تمہیں خدا کا بھی منکر نہیں ہونا چاہئے[3]

اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا:

”کیا تمہاری نظر میں دن رات کا کوئی آغاز ہے یاان کا کوئی آغاز نہیں ہے اور ازلی ہے؟ اگر تم یہ کہتے ہو کہ آغاز ہے تو ہمارا مقصد ”حدوث“ ثابت ہوجائے گا اور اگر تم لوگ یہ کہتے ہو کہ اس کا کوئی آغاز نہیں ہے تو تمہاری اس بات کا لازمہ یہ ہے کہ جس کا انجام ہو اس کا کوئی آغاز نہ ہو۔

(جب دن رات انجام کے لحاظ سے محدود ہیں تو یہاں پر عقل کہتی ہے کہ آغاز کے لحاظ سے بھی محدود ہے، شب و روز کے محدود ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ایک دوسرے سے جدا ہیں اور یکے بعد دیگرے گزرتے رہتے ہیں اور پھر ایک کے بعد دوسرے کی باری آتی ہے)

اس کے بعد فرمایا:

 تم لوگ کہتے ہو کہ یہ عالم قدیم ہے، کیا تم نے اپنے اس عقیدہ کو خوب سمجھ بھی لیا ہے یا نہیں؟

منکرین خدا:  جی ہاں، ہم جانتے ہیں کہ کیا کہہ رہے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  کیا تم لوگ دیکھتے ہو کہ اس دنیا کی تمام موجودات ایک دوسرے سے تعلق اور پیوند رکھتے ہیں اور اپنی بقا ء میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں، جیسا کہ ہم ایک عمارت میں دیکھتے ہیں کہ اس کے اجزاء (اینٹ، پتھر، سیمنٹ وغیرہ) ایک دوسرے سے پیوند رکھتے ہیں اور اپنی بقاء میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔

جب اس دنیا کے تمام اجزاء اسی طرح ہیں تو پھر کس طرح ان کو قدیم اور ثابت [4]تصور کرسکتے ہو، اگر حقیقت میں یہ تمام اجزاء ایک دوسرے کے ساتھ پیوند رکھتے ہوں اور ضرورت رکھتے ہوں، قدیم ہیں اگر حادث ہوتے تو کیسے ہوتے؟

منکرین خدا لاجواب ہوگئے، اور حدوث کے معنی کو بیان نہیں کرسکے، کیونکہ جو کچھ بھی حدوث کے معنی میں کہہ سکتے تھے، اورجن چیزوں کو قدیم مانتے تھے ان پر یہ معنی صادق آتے تھے، لہٰذا بہت زیادہ حیران اور پریشان ہوگئے ، اور انھوں نے کہا: ہمیں غور و فکر کرنے کا موقع دیں۔[5]

۴۔دوگانہ پرستوں سے مناظرہ

ان کے بعد دوگانہ پرستوں کی باری آئی جن کا عقیدہ یہ تھا کہ دنیا کے دو مبداء اور دو مدبر بنام ”نور“ اور ”ظلمت“ ہیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا: تم کس بنیاد پر یہ عقیدہ رکھتے ہو؟

دوگانہ پرستوں نے جواب دیا:  ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دنیا دو چیزوں سے تشکیل پائی ہے،اس دنیا میں یا خیر و نیکی ہے، یا شرّ اور برائی، جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد ہیں، اسی وجہ سے ہمارا عقیدہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا خالق بھی الگ الگ ہے، کیونکہ ایک خالق دو متضاد چیزیں خلق نہیں کرتا، مثال کے طور پر: برف سے گرمی پیدا ہونا محال ہے، جیسا کہ آگ سے سردی پیدا ہونا بھی محال ہے، لہٰذا یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اس دنیا میں دو قدیم خالق ہیں ایک نور کا خالق (جو نیکیوں کا خالق ہے) اور دوسرا ظلمت کا خالق (جو برائیوں کا خالق ہے)۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  کیا تم لوگ اس بات کی تصدیق کرتے ہو کہ اس دنیا میں مختلف رنگ موجود ہیں جیسے کالا، سفید، سرخ، زرد، سبز اور مائل بہ سیاہی جبکہ یہ رنگ ایک دوسرے کی ضد ہیں کیونکہ ان میں دو رنگ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے، جیسا کہ گرمی اور سردی ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔

دوگانہ پرستوں نے جواب دیا: جی ہاں ہم تصدیق کرتے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  تو پھر تم لوگ ہر رنگ کے عدد کے مطابق اتنے ہی خدا کے معتقد  کیوںنہیں ہو؟ کیا تمہارے عقیدہ کے مطابق ہر ضد کا ایک مستقل خالق نہیں ہے؟ اس پر تم ہر ضد کی تعداد کے مطابق خالق کا کیوں عقیدہ نہیں رکھتے۔؟!

دوگانہ پرست اس دندان شکن سوال کے جواب دینے سے حیران و پریشان ہوگئے، اور غور و فکر میں غرق ہوگئے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی باتوں کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا: تمہارے عقیدہ کے مطابق نور اور ظلمت دونوں کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس دنیا کو چلا رہے ہیں، جبکہ نور کی فطرت میں ترقی ہے اور ظلمت کی فطرت میں تنزلی ہوتی ہے، کیا دو شخص جن میں سے ایک مشرق کی طرف جارہا ہو اور دوسرا مغرب کی طرف جارہا ہو ، کیا یہ دونوں اسی طرح چلتے چلتے ایک جگہ جمع ہوسکتے ہیں؟!

دوگانہ پرستوں نے جواب دیا:  نہیں ، ایسا ممکن نہیں ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اس بنا پر کس طرح نور اور ظلمت جو ایک دوسرے کے مخالف اور متضاد ہیں آپس میں متحد ہوکر اس دنیا کی تدبیر کا کام انجام دے رہے ہیں؟ آیا اس طرح کی چیز ممکن ہے کہ یہ دنیا جو دو متضاد اور مخالف اسباب کی وجہ سے پیدا ہو؟ مسلّم طور پر ایسا ممکن نہیں ہے، پس معلوم یہ ہوا کہ یہ دونوں چیزیں مخلوق اور حادث ہیں اور خداوندقادر و قدیم کی تدبیر کے ماتحت ہیں۔

دوگانہ پرست مجبوراً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے لاجواب ہوگئے، اور انھوں نے اپنا سر جھکالیا، اور کہنے لگے: ہمیں غور و فکر کرنے کی فرصت عنایت فرمائیں!

۵۔ بت پرستوں سے مناظرہ

اب پانچویں گروہ یعنی بت پرستوں کی باری آئی ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی طرف رخ کرکے فرمایا: ”تم لوگ کیوں خدا کی عبادت سے روگرداں ہو اور ان بتوں کی پوجا کرتے ہو؟“

بت پرست: ہم ان بتوں کے ذریعہ خدا کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرتے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  کیا یہ بت کچھ سنتے بھی ہیں؟ اور کیا یہ بت خدا کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں، اور کیا اس کی عبادت اور پرستش کرتے ہیں؟ جس سے تم ان کے احترام کرنے کی بدولت خدا کا تقرب حاصل کرتے ہو؟

بت پرست: نہیں یہ تو نہیں سنتے اور نہ خداوندعالم کی عبادت اور پرستش کرتے ہیں!

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  کیا تم لوگوں نے ان کو اپنے ہاتھوں سے نہیں تراشا ہے اور ان کو نہیں بنایا ہے؟

بت پرست: کیوں نہیں، ہم نے ان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  اس بنا پر تم لوگ ان کے صانع اور بنانے والے ہو، مناسب تو یہ ہے کہ یہ تمہاری عبادت کریں نہ کہ تم لوگ ان کی عبادت اور پرستش کرو، اس کے علاوہ جو خدا تمہاری مصلحت اور تمہارے انجام نیز تمہارے فرائض اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اس کو چاہئے کہ بتوں کی پرستش کا حکم تمہیں دے، جبکہ خداوندعالم نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا ہے۔

جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گفتگو یہاں تک پہنچی تو بت پرستوں کے درمیان اختلاف ہوگیا۔

ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: خدا نے ان بتوں کی شکل و صورت والے مردوں میں حلول کیا ہے اور ہم ان بتوں کی پرستش اور ان پر توجہ اس وجہ سے کرتے ہیں تاکہ ان شکلوں کا احترام کرسکیں۔

ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: ہم نے ان بتوں کو پرہیزگار اور خدا کے مطیع بندوں کی شبیہ بنایا ہے، ہم خدا کی تعظیم اور اس کے احترام کی وجہ سے ان کی عبادت کرتے ہیں!

تیسرے گروپ نے کہا: جس وقت خداوندعالم نے جناب آدم کو خلق کیا، اور اپنے فرشتوں کو جناب آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا، لہٰذاہم (تمام انسان) اس بات کے سزاوار ہیں کہ جناب آدم کو سجدہ کریں اور چونکہ ہم اس زمانہ میں نہیں تھے، اس وجہ سے ان کو سجدہ کرنے سے محروم رہیں، آج ہم نے جناب آدم کی شبیہ بنائی ، اور خدا کا تقرب حاصل کرنے کے لئے اس کے سامنے سجدہ کرتے ہیں تاکہ گزشتہ محرومیت کی تلافی کرسکیں، اور جس طرح آپ نے اپنے ہاتھوں سے (مسجدوں میں) محرابیں بنائی اور کعبہ کی طرف منھ کرکے سجدہ کرتے ہیں، کعبہ کے مقابل خدا کی تعظیم اور اس کے احترام کی وجہ سے سجدہ اور عبادت کرتے ہیں اسی طرح ہم بھی ان بتوں کے سامنے در حقیقت خدا کا احترام کرتے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تینوں گروہوں کی طرف رخ کرتے ہوئے فرمایا: تم سبھی لوگ حقیقت سے دور غلط اور منحرف راستہ پر ہو، اور پھر ایک ایک کا الگ الگ جواب دینے لگے:

پہلے گروہ کی طرف رخ کرکے فرمایا:

تم جو کہتے ہو کہ خدا نے ان بتوں کی شکلوں کے لوگوں میں حلول کررکھا ہے اس وجہ سے ہم نے ان بتوں کو انھیں مردوں کی شکل میں بنایا ہے اور ان کی پوجا کرتے ہیں، تم لوگوں نے اپنے اس بیان سے خدا کو مخلوقات کی طرح قرار دیا ہے اور اس کو محدود اور حادث مان لیا، کیا خداوندعالم کسی چیز میں حلول کرسکتاہے اور وہ چیز (جو کہ محدود ہے) خدا کو اپنے اندر سما لیتی ہے؟ لہٰذا کیا فرق ہے خدا اور دوسری چیزوں میں جو جسموں میں حلول کرتی ہیں جیسے رنگ، ذائقہ، بو، نرمی، سختی، سنگینی اور سبکی، اس بنیاد پر تم لوگ کس طرح کہتے ہو کہ جس جسم میں حلول ہوا ہو وہ تو حادث اور محدود ہے لیکن جو خدا اس میں واقع ہوا ہو وہ قدیم اور نامحدود ہے، جبکہ اس کے برعکس ہونا چاہئے یعنی احاطہ کرنے والا قدیم ہونا چاہئے اور احاطہ ہونے والا حادث ہونا چاہئے۔

اس کے علاوہ کس طرح ممکن ہے جو خداوندعالم ہمیشہ سے اور تمام موجودات سے پہلے مستقل اور غنی ہو، نیز محل سے پہلے موجود ہو ، اس کو محل کی کیا ضرورت ہے کہ خود کو اس محل میں قرار دے!۔

اور تمہارے اس عقیدہ کے پیش نظر کہ خدا نے موجودات میں حلول کر رکھا ہے ، تم نے خدا کو موجودات کی صفات کے مثل حادث اور محدود فرض کرلیا ہے، جس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا کا وجود قابل تغییر و زوال ہے، کیونکہ ہر حادث اور محدود چیز قابل تغییر اور زوال ہوتی ہے۔

اور اگر تم لوگ یہ کہو کہ کسی موجود میں حلول کرنا تغییر اور زوال کا سبب نہیں ہے، تو پھر بہت سے امور جیسے حرکت، سکون، مختلف رنگ، سیاہ و سفیداور سرخ وغیرہ کو بھی ناقابل تغییر اورناقابل زوال کے سمجھو، اس صورت میں تمہارے لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ خدا کے وجود پر ہر طرح کے عوارض اور حالات پیدا ہوتے ہیں، جس کے نتیجہ میں خدا کو دوسرے صفات کی طرح محدود اور حادث سے توصیف کرو اور خدا کو مخلوقات کی شبیہ مانو۔

جب شکلوں میں خدا کے حلول کا عقیدہ بے بنیاد اور کھوکھلا ہوگیا، تو چونکہ بت پرستی کی بنیاد بھی اسی عقیدہ پر ہے تو پھر وہ بھی بے بنیاد اور باطل ہوجائے گی۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ان دلائل اور انداز بیان کے سامنے بت پرستوں کا پہلا گروہ لاجواب ہوگیا، اور سرجھکاکر غور و فکر کرنے لگا اور کہا: ہمیں مزید غور و فکر کی فرصت دیں۔

اس کے بعدپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دوسرے گروہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: مجھے بتاؤ کہ جب تم نیک اور پرہیزگار بندوں کی شکل و صورت کو پوجتے ہو اور ان شکلوں کے سامنے نماز پڑھتے ہو اور سجدہ کرتے ہو، اور ان شکلوں کے سامنے سجدہ کے عنوان سے اپنے سربلند چہروں کو زمین پر رکھتے ہو، اور مکمل خضوع کے ساتھ پیش آتے ہو، تو پھر خدا کے لئے کیا خضوع باقی رہا، (واضح الفاظ میں سب سے زیادہ خضوع سجدہ ہے، اور تم ان شکلوں کے سامنے سجدہ کرتے ہو تو پھر تمہارے پاس اور کیا خضوع باقی ہے جس کو خدا کے سامنے پیش کرو؟) اگر تم لوگ کہتے ہو کہ خدا کے لئے بھی سجدہ کرتے ہیں تو پھر ان شکلوں اور خدا کے لئے برابر کا خضوع ہوجائے گا، تو کیا حقیقت میں ان بتوں کا احترام خدا کے احترام کے برابر ہے؟

مثال کے طور پر:

اگر تم لوگ کسی حاکم اور اس کے نوکر کا برابر احترام کرو، تو کیا کسی عظیم انسان کو چھوٹے انسان کے ساتھ قرار دینا عظیم انسان کی بے احترامی نہیں ہے؟

بت پرستوں کا دوسرا گروہ:  کیوں نہیں، بالکل اسی طرح ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اس بنا پر تم لوگ ان بتوں (کہ تمہارے عقیدہ کی بنا پر خدا کے نیک اور پرہیزگار بندوں کی صورت پر ہیں) کی پوجا سے در حقیقت خدا کی عظمت اور اس کے مقام و مرتبہ کی توہین کرتے ہو۔

بت پرست ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے منطقی دلائل کے سامنے لاجواب ہوگئے، اور کہا ہمیں اس سلسلہ میں غور و فکر کی فرصت عنایت کریں۔

اس کے بعد بت پرستوں کے تیسرے گروہ کی باری آئی، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی طرف رخ کرکے فرمایا:

تم نے مثال کے ذریعہ خود کو مسلمانوں کے شبیہ قرار دیا ہے، اس بنیاد پر بتوں کے سامنے سجدہ کرناحضرت آدم (علیہ السلام) یا خانہ کعبہ کے سامنے سجدہ کی طرح ہے، لیکن یہ دو چیزیں مکمل طور پر فرق رکھتی ہیں اور قابل موازنہ نہیں ہیں۔

مزید وضاحت:

ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایک خدا ہے، ہم پر فرض ہے کہ اس کی اس طرح اطاعت کریں جس طرح وہ چاہتا ہے،اس نے جس طرح حکم دیا ہے اسی طرح عمل کریں، اور اس کی حدود سے آگے نہ بڑھیں، ہمیں اس بات کا حق نہیں ہے کہ اس کے حکم اور اس کی مرضی کے بغیر اس کے حکم کے آگے بڑھ کر اپنی طرف سے (قیاس اور تشبیہ کے ذریعہ) اپنے لئے فرائض اور تکالیف معین کریں، کیونکہ ہم تمام پہلوٴوں سے آگاہ نہیں ہیں، شاید خدا اس چیز کو چاہتا ہے اور اس چیز نہیں چاہتا، اس نے ہمیں آگے بڑھنے سے منع کیا ہے۔

اور چونکہ اس نے ہمیں حکم دیا ہے کہ خانہ کعبہ کے سامنے عبادت کریں، ہم بھی اس کی اطاعت کرتے ہیں، اور اس کے حکم سے تجاوز نہیں کرتے، اسی طرح اس نے ہمیں حکم دیا ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں خانہ کعبہ کی سمت عبادت کریں،چنانچہ ہم اسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں، اور جناب آدم (علیہ السلام) کے بارے میں اس نے اپنے ملائکہ کو حکم دیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کریں نہ کہ آدم کی شکل و صورت پر بنے کسی دوسرے کے سامنے، لہٰذا تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ ان کی شکل و صورت کو اپنے سے مقائسہ کرو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ جو کام تم انجام دیتے ہو شاید وہ اس سے راضی نہ ہو، کیونکہ ممکن ہے اس نے تمہیں اس کام کا حکم نہ دیا ہو۔

مثال کے طور پر: اگر کوئی شخص تمہیں کسی خاص دن میں کسی خاص اور معین مکان میں جانے کی اجازت دیدے، تو کیا تمہارے لئے کسی دوسرے دن بھی اس مکان میں جانے کی اجازت ہے، یا اس معین دن میں کسی دوسرے مکان میں چلے جاؤ؟ یا کوئی شخص تمہیں لباس، غلاموں، یا حیوانوں میں سے کوئی لباس، غلام یا حیوان تمہیں بخش دے۔

تو کیا تمہیں اس بات کا حق ہے کہ دوسرے لباس، یا دوسرے غلام یا دوسرے حیوان میں جوکہ اس کے مثل ہیں تصرف کر وجن میںاس کی اجازت نہیں ہے۔؟

بت پرستوں کا تیسرا گروہ:  نہیں، ایسا ہمارے لئے جائز نہیں ہے، کیونکہ صرف ہمیں مخصوص کام میں اجازت دی گئی ہے کسی دوسرے میں نہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  مجھے بتاؤ کہ کیا خداوندعالم سزاوار تر ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے، اور اس کی اجازت کے بغیر اس کی ملکیت میں تصرف کریں یا دوسرے لوگ؟

بت پرستوں کا تیسرا گروہ:  یقینی طور پر خدا اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے، اور اس کی اجازت کے بغیر اس کی ملکیت میں تصرف نہ کیا جائے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  پس تم نے خدا کے حکم کے بغیر ہی ان بتوں کی پوجا کیوں شروع کردی، اور اس کی مرضی کے بغیر ہی ان بتوں کے سامنے سجدہ کرنے لگے؟

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بہترین دلائل کے سامنے بت پرستوں کا تیسرا گروہ لاجواب ہوگیا اور وہ خاموش ہوگئے، اور انھوں نے بھی عرض کی: ہمیں اس سلسلہ میں غور و فکر کی اجازت دیں۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ان پانچ گروہوں سے مناظرہ کو نقل کرنے کے بعد فرمایا: قسم ہے اس خدا کی کہ جس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مبعوث برسالت کیا، کہ ابھی تین دن نہیں گزرے تھے کہ یہ پانچوں گروہ کے تمام ۲۵/ افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوکر مسلمان ہوگئے اور انھوں نے واضح طور پر اعلان کیا:

”مَارَاٴَیْنَا مِثْلَ حُجَّتِکَ یَا مُحَمَّد! نَشْہَدُ اٴَنَّکَ رَسُوْلُ اللهِ“[6]

”اے محمد!ہم نے آپ جیسی مستدل گفتگو نہیں دیکھی ہے، ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے برحق پیغمبر ہیں“۔

۲۔ قریش کے سرداروں سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مناظرہ

عجیب و غریب واقعات میں ایک واقعہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور قریش کے سرداروں کے درمیان ہونے والا درج ذیل مناظرہ[7] ہے:

ایک روز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چند اصحاب کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اور قرآنی آیات اور اسلامی احکام کی تعلیم میں مشغول تھے، اس موقع پر قریش کے چند مشرک اور بت پرست سردار جیسے: ولید بن مغیرہ، ابو البختری ، ابو جہل ، عاص بن وائل، عبد اللہ بن حذیفہ، عبد اللہ مخزومی، ابوسفیان، عتبہ اور شیبہ وغیرہ، تمام لوگ جمع ہوکرکہنے لگے کہ روز بروز محمد (ص) کا کام ترقی پر ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ان کے پاس جاکر پہلے ان کی سرزنش اور ملامت کریں اور پھر ان سے بحث و جدل کریں اور ان کی باتوں کو ردّ کرتے ہوئے ان کے کھوکھلے پن اور بے بنیاد ہونے کو ان کے اصحاب اور دوستوں کے سامنے واضح کریں، اگر انھوں نے ہماری باتیں سمجھ لیں اور اس انحراف اور کج روی سے باز آگئے تو ہم اپنے ہدف میں کامیاب ہوگئے، ورنہ تلوار کے ذریعہ ان کا کام تمام کردیں گے۔

ابوجہل نے کہا: ہم میں سے کون ایسا شخص ہے جو ہماری طرف سے ان کے ساتھ جدل اور بحث و مناظرہ کرے؟

عبد اللہ مخزومی نے کہا: میں ان سے بحث کرنے کے لئے تیار ہوں، اگر مجھے کافی سمجھتے ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ابو جہل نے بھی اس کو پسند کیا، اور سب لوگ وہاں سے اٹھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس گئے۔

عبد اللہ مخزومی نے گفتگو کا آغار کیا اور اپنی گفتگو میں اعتراض بیان کرنے شروع کئے، ہر دفعہ میں آنحضرت   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے جاتے تھے: ”کیا ابھی تمہاری گفتگو باقی ہے؟“، اور وہ کہتا تھا: ہاں، اور اپنی باتیں بیان کرتا جاتا تھا، یہاں تک کہ اس نے کہا: ہاں بس اتنا کافی ہے، اگر آپ کے پاس کوئی جواب ہے تو ہم سننے کے لئے تیار ہیں۔

اس کی گفتگو میں دس عدد اعتراض درج ذیل ترتیب سے تھے:

۱۔ تم دوسرے لوگوں کی طرح کھانا کھاتے ہو، پیغمبر کو دوسرے لوگوں کی طرح کوئی چیز نہیں کھانا چاہئے۔

۲۔  تمہارے پاس کیوںمال و دولت نہیں ہے، حالانکہ تمہیں خدا کے نمائندے اور ایک طاقتور بادشاہ کی طرح صاحب جاہ و ثروت ہونا چاہئے۔

۳۔ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ ہونا چاہئے جو تمہاری تصدیق کرے، اور وہ فرشتہ ہمیں بھی دکھائی دے بلکہ مناسب ہے کہ پیغمبر کو بھی ملائکہ کی جنس سے ہو۔

۴۔ تم پر جادو کا اثر ہے، اور تم جادو ہوئے افراد کی طرح ہو۔

۵۔ قرآن کریم کسی مشہور و معروف شخص جیسے ”ولید بن مغیرہ مکّی“ یا ”عروہٴ طائفی“پرکیوں نازل نہیں ہوا۔

۶۔ ہم اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک آپ سخت اور پتھریلی زمین سے پانی کا چشمہ جاری نہ کردیں! اور خرما اور انگور کا باغ تیار نہ کردیں تاکہ ہم لوگ اس چشمہ سے پانی پئےں اور اس باغ کے پھل کھائیں۔

۷۔ یا آسمان کو سیاہ بادلوں کی طرح ہمارے سروں پر نیچے لے آئیں۔

۸۔ یا خدا اور فرشتوں کو ہمیں اپنی آنکھوں سے دکھائیں۔

۹۔ یا سونے سے بھرا ہوا گھر آپ کے پاس ہو!

۱۰۔ یا آپ آسمان پر جائیں اور خدا کی طرف سے کوئی خط لے کرآئیں تاکہ ہم اس کو پڑھیں (یعنی خدا مشرکین کے لئے خط لکھے کہ محمد(ص) میرے پیغمبر ہیں لہٰذاان کی اطاعت کرو)

ان دس چیزوں کو انجام دینے کے بعد بھی ہم وعدہ نہیں کرتے کہ ہمارے دل کو اطمینان حاصل ہوجائے کہ آپ پیغمبر ہیں، کیونکہ ممکن ہے کہ یہ تمام کام آپ جادو اور چشم بندی کے ذریعہ انجام دیں۔

مشرکین کے اعتراضات اور خواہشوں کے مقابل پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جواب

آنحضرت   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عبد اللہ مخزومی کی طرف رخ کرکے فرمایا:

۱۔ کھانا کھانے کے سلسلہ میں تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ صلاح اور اختیار خدا کے ہاتھوں میں ہے، وہ جس طرح چاہے حکومت کرے، اس پرکسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے، وہ بعض کو فقیر، بعض کو غنی، بعض کوعزیز اور محترم، بعض کو ذلیل و خوار، بعض و صحیح و سالم اور بعض کو بیمار کرتا ہے،(البتہ یہ تمام چیزیں انسان کی صلاحیت کی بنا پر ہیں) اس صورت میں ان میں سے کوئی شخص خدا پر اعتراض کا حق نہیں رکھتا۔

اور اگر کوئی شخص خدا پر اعتراض کرے تو وہ کافر ہے، کیونکہ خداوندعالم ہی تمام عالم کا صاحب اختیار ہے، وہی تمام چیزوں کی صلاح اور بھلائی کو بہتر جانتا ہے، جو انسان کے لئے خیر ہوتا ہے اس کو عطا کرتا ہے، اور سبھی کو اس کے حکم کے سامنے تسلیم رہنا چاہئے ، جس شخص نے خدا کے حکم کی اطاعت کی وہ مومن ہے اور جس نے اس کے حکم کی مخالفت کی وہ گناہگار ہے اور اس کے لئے سخت سزائیں معین ہیں۔

اس کے بعد آنحضرت   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قرآن مجید کی درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:

”قُلْ اِنَّمَا اٴَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یُوحَی اِلَیَّ اِنَّمَا اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَاحِدٌ“[8]

”(اے رسول) آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارا ہی جیسا ایک بشر ہوں مگر میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا خدا ایک اکیلا ہے“۔

جیسا کہ ہر انسان کو ایک خاص چیز سے مخصوص کیا ہے، جس طرح تمہیں فقیر، غنی، صحت مند، خوبصورت اور شریف وغیرہ کے بارے میں اعتراض کا حق نہیں ہے اور اس کا فرمانبردار رہنا ضروری ہے، اسی طرح نبوت اور رسالت کے سلسلہ میں بھی خدا کے فرمان کے سامنے سر تسلیم جھکانا چاہئے۔

۲۔ لیکن تم لوگوں کی یہ بات کہ ”کیوں تمہارے پاس مال و دولت نہیں ہے جبکہ تم خدا کے نمائندہ ہو، اور خدا کے نمائندہ کو بادشاہ روم و ایران کی طرح صاحب زر و سیم ہونا چاہئے اور سلطان روم اور سلطان ایران کی طرح صاحب جاہ و مقام اور مال و دولت ہوناچاہئے، بلکہ خدا کو اس سلسلہ میں سلاطین سے بھی زیادہ توجہ دینا چاہئے“، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارا یہ اعتراض خدا پر ہے، اور یہ اعتراض بے جا اور غلط ہے، کیونکہ خداوندعالم عالِم اور خبیر ہے، وہ اپنی تدبیر اور اپنے کاموں کی اچھائی کو جانتا ہے، اس میں دوسروں کی دخالت کی ضرورت نہیں ہے، خدا کا لوگوں کے ساتھ موازنہ نہیں کرنا چاہئے۔

اس کے علاوہ انبیاء کی بعثت کا مقصد لوگوں کو خدا پرستی کی دعوت دینا ہے، پیغمبر کو چاہئے کہ شب و روز لوگوں کی ہدایت کے لئے کوشاں رہے، اگر کوئی پیغمبر لوگوں کی طرح صاحب جاہ و مقام ہو (دوسرے مستکبروں اور صاحبان جاہ کی طرح) تو پھر عام انسان اور غریب عوام ان کے پاس نہیں آسکتے، کیونکہ مالدار افراد ہمیشہ اونچے محلوں میں رہتے ہیں اور اونچے اونچے محل غریب عوام کے درمیان فاصلہ کردیتے ہیں، اور سادہ انسان ان سے ملاقات بھی نہیں کرسکتے۔

اس صورت میں بعثت انبیاء کا ہدف پورا نہیں ہوسکتا، اور انبیاء کی تعلیم و تربیت رک جائے گی، اور نبوت کا معنی مقام ظاہری جاہ و مقام سے آلودہ ہوکر بے اثر ہوجائے گا، جی ہاں جس وقت بادشاہ اور رئیس عوام الناس سے دور ہوجائیں تو پھر ملکی نظام درہم و برہم ہوجائے گا، نیز معاشرہ میں جاہل اور ناچار لوگوں کے لئے پریشانیاں کھڑی ہوجائیں گی۔

دوسری بات یہ ہے کہ خداوندعالم نے مجھے جاہ و مقام اور مال و دولت نہیں دی ہے تاکہ میں تمہارے سامنے اپنی قدرت و طاقت کا مظاہرہ کرو، جبکہ خداوندعالم نے اپنے رسول کی نصرت و مدد کی ہے، اور اس کو دشمنوں اور مخالفوں پر فتح دی ہے، یہ بات خود نبی کی نبوت کے صادق ہونے پر دلیل ہے، اور قدرت خدا اور تمہارے عاجزی کی حکایت کر رہی ہے، (کہ اس نے اپنے پیغمبر کو بغیر مال و دولت اور فوج و سلطنت کے تم پر غلبہ عطا کیا)اور خداوندعالم بہت جلد ہی مجھے تم پر غلبہ عنایت کرے گا، تم لوگ میری ترقی کو نہیں روک سکتے، اور نہ ہی مجھے قتل کرسکتے ہو، میں بہت جلد ہی تم پر غلبہ کرلوں گا،تمہارے شہر میرے اختیار میںہوں گے اور سبھی مخالف اور د شمن مومنین کے سامنے تسلیم اور شرمسار ہوں گے۔ (انشاء اللہ)

۳۔ اب رہی تمہاری یہ بات کہ ”میرے ساتھ کوئی فرشتہ ہو اور تم اس فرشتہ کو دیکھ کر میری تصدیق کرو بلکہ پیغمبر فرشتہ کے جنس سے ہو“تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ فرشتہ کا جسم ہوا کی مانند لطیف ہوتا ہے جو دید کے قابل نہیں ہوتا، اور اگر فرض کریں کہ تمہاری آنکھوں کی روشنی بڑھادی جائے تاکہ تم لوگ فرشتہ کو دیکھ سکو تو بھی تم لوگ کہو گے کہ یہ تو انسان ہی ہے نہ کہ فرشتہ، (یعنی وہ بھی انسان کی شکل میں ہوگا) تاکہ تم سے رابطہ برقرار رکھ سکے، تم سے گفتگو کرسکے، تاکہ اس کی باتوں اور اس کے ہدف کو سمجھ سکو، ورنہ تو تم کس طرح سمجھ سکتے ہو کہ وہ فرشتہ ہے نہ کہ انسان، اور جو کچھ بھی کہہ رہا ہے وہ حق ہے۔

اس کے علاوہ خداوندعالم اپنے پیغمبر کو معجزہ دے کر بھیجتا ہے اور کوئی اس معجزہ کی مثل نہیں لاسکتا، اور یہی پیغمبر کے صادق ہونے کی نشانی ہے، لیکن اگر فرشتہ بھی معجزہ دکھائے تو پھر اس کو تم کیسے سمجھ سکتے ہو کہ اس فرشتہ نے جو اعجاز دکھایا ہے دوسرے فرشتے انجام دینے پر قادر نہیں ہیں؟! اس بنا پر فرشتہ کا نبوت کا دعویٰ کرنا خود اس کے معجزات کے ساتھ اس کے دعویٰ کی سچائی پر دلیل نہیں بن سکتا، کیونکہ فرشتوں کا معجزہ پرندوں کی پرواز کی مانند طرح پرواز کرنا ہے کہ جسے انسان انجام نہیں دے سکتا، لیکن یہی کام فرشتوں کے درمیان معجزہ نہیں ہے، اور اگر انسان بھی پرندوں کی طرح پرواز کرے تو یہ اس کے لئے معجزہ ہے۔

اور یہ بات بھی مدّ نظر رہے کہ خداوندعالم نے انسان کو نبی بنا نے میں تم لوگوں کی سہولت کو پیش نظر رکھا ہے کیونکہ انسان سے بغیر کسی زحمت کے رابطہ برقرار کرسکتے ہو تاکہ وہ تم پر اپنے دلائل اور برہان واضح کرسکے، جبکہ تم لوگ اس طرح کے اعتراضات سے اپنی مشکل میں اضافہ کررہے ہو ،لوگ اس صورت میں حجت اور برہان تک نہیں پہنچ سکتے۔

۴۔ اب رہا تمہارا یہ کہنا کہ ”مجھ پر سحر و جادو کا اثر ہوگیا ہے“، تو یہ بات کیسے صحیح ہوسکتی ہے جبکہ میں صحت عقل اور تشخیص کے لحاظ سے تم لوگوں پر برتری رکھتا ہوں، میں نے تمہارے درمیان اپنی عمر گزاری ہے شروع سے اب تک چالیس سال تمہارے درمیان زندگی بسر کی ہے، تم نے اس مدت میں چھوٹی سے چھوٹی غلطی، لغزش، جھوٹ، خیانت اور گفتگو و نظریہ میں ضعف نہیں دیکھا، کیا جو شخص تمہارے درمیان چالیس سال تک اپنے طاقت و قوت یا خدا کی طاقت و قوت سے صدق و صداقت اور صحیح راستہ پر قدم بڑھائے ہوں کیا اس کے لئے ایسی تہمت لگانا صحیح ہے؟! اسی وجہ سے خداوندعالم تمہارے جواب میں ارشاد فرماتا ہے:

” انظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوا لَکَ الْاٴَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلاَیَسْتَطِیعُونَ سَبِیلًا“ [9]

”ذرا دیکھو کہ انھوں نے تمہارے لئے کیسی مثالیںبیان کی ہیں اور اس طرح ایسے گمراہ ہوگئے ہیں کہ کوئی راستہ نہیں مل رہا ہے“۔

۵۔ اور تمہارا یہ کہنا کہ ” قرآن کریم کسی مشہور و معروف شخص جیسے ”ولید بن مغیرہ مکّی“ یا ”عروہٴ طائفی“ پر کیوںنازل نہیں ہوا“، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خداوندعالم کے نزدیک جاہ و مقام کی کوئی قیمت اور اعتبار نہیںہے ، اور اگر دنیاوی لذتیں اور نعمتیں ایک مکھی کے پر کے برابر ارزش رکھتی ہوتیں تو پھر خداوندعالم ذرہ برابر بھی کافروں اور مخالفوں کو عطا نہ کرتا۔

اس کے علاوہ یہ تمام تقسیمات خداوندعالم کے قبضہ قدرت میں ہے ، اس سلسلہ میں کسی کو کوئی اختیار، اعتراض اور شکوہ اورشکایت کا حق نہیں ہے، خداوندعالم اپنی نعمتوں کو اپنے لحاظ سے اور اپنی مرضی سے تقسیم کرتا ہے جس کو وہ چاہے بغیر کسی خوف کے عطا کرتا ہے ، یہ تم لوگ ہو جو اپنے کاموں میں مختلف چیزوں کو مدّ نظر رکھتے ہو اور تمہارے کام ہواو ہوس اور لوگوں کے خوف سے ہوتے ہیں، نیز تمہارے کام حقیقت و عدالت کے بر خلاف ہوتے ہیں تم لوگ بلا وجہ دوسروں کا احترام کرتے ہو اور غلط راستہ پر چلتے ہو، لیکن خداوندعالم کے تمام کام حقیقت اور عدالت کے تحت ہوتے ہیں دنیاوی جاہ و مقام اس کے ارادہ میں ذرہ برابر بھی تاثیر نہیں رکھتے۔ یہ تم لوگ ہو کہ ظاہری لحاظ سے مشہور و معروف اور صاحبان حیثیت افراد کو پیغمبری کے لئے دوسروں سے زیادہ مستحق سمجھتے ہو، لیکن خداوندعالم نبوت و رسالت کو اخلاقی کمالات اور معنوی و روحی عظمت، حقیقت ، فرمانبرداری اور خدمت گزاری کی بنیاد پر قرار دیتا ہے۔

ان کے علاوہ جیسا کہ میں نے کہا کہ خداوندعالم اپنے کاموں میں خود مختار ہے، ایسا نہیں ہے کہ اگر اس نے کسی کو دنیاوی نعمت یا ظاہری منزلت عطا کی ہے تو مقام نبوت بھی اسی کو عطا کرے، جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس کو خداوندعالم نے مال و دولت عطا کی ہے لیکن اس کو جمال اور خوبصورتی نہیں دی ہے اور اس کے برعکس اگر کسی کو جمال اور خوبصورتی دی ہے اس کو مال و دولت نہیں دی ہے۔۔۔ کیا ان میں سے کوئی خداوندعالم پر اعتراض کرنے کا حق رکھتا ہے؟![10]

۶۔اور تمہارا یہ کہنا: ” ہم اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک سخت اور پتھریلی زمین سے پانی کا چشمہ جاری نہ کردیں! اور کھجوروں اور انگوروں کا باغ تیار نہ کردیں تاکہ اس چشمہ سے پانی پئےں اور اس باغ کے پھل کھائیں“، تو تمہارا یہ تقاضا جہل و نادانی کی بنا پر ہے، کیونکہ سر زمین مکہ میں پانی کا چشمہ جاری کرنے اور باغ اگانے کا تعلق پیغمبری سے نہیں ہے، جیسا کہ تم لوگ شہر طایف میں زمین اور باغ کے مالک ہو لیکن نبوت کا دعویٰ نہیں کرتے ہو اور ایسے بہت سے لوگوں کو تم جانتے بھی ہو جنھوں نے زحمت اٹھاکر باغات لگائے اور چشمے بھی جاری کئے لیکن انھوں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور اس طرح کے تمام کام معمولی کا موں میں شمار ہوتے ہیں اور اگر میں ایسا کروں بھی تب بھی یہ کام میری نبوت کے لئے دلیل نہیں بن سکتے۔

تمہارا یہ تقاضا اس طرح کا ہے کہ تم کہتے ہو ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ تم لوگوں کی طرح کھانا کھاتے ہو اور لوگوں کے ساتھ راستہ چلتے ہو اور اگر میں اپنی نبوت کے اثبات کے لئے اس طرح کے معمولی کام انجام دوں اور اس پر تکیہ کر لوں تو گویا میں نے لوگوں کو دھوکا دیا اور ان کی جہل ونادانی سے غلط فائدہ اٹھایا اور مقام نبوت کو ہیچ اور معمولی کام سمجھا جب کہ مقام نبوت فریب ، حیلہ اور دھوکہ دھڑی سے بالکل پاک و پاکیزہ ہے۔

۷۔اور تمہارا یہ کہناکہ ”آسمان کو بادل کی صورت میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے سروں پر لے آوٴں“تو تمہیں یہ جان لینا چاہئے کہ آسمان کا نیچے گرنا تمہارے لئے ہلاکت کا سبب بنے گا جب کہ بعثت اور پیغمبری کا ہدف لوگوں کی راہنمائی ،سعادت، خوشبختی اور خدا کی نشانیوں کی عظمت لوگوں واضح کرنا ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حجت اور برہان کو خدا کے معین کرتاہے کیونکہ ممکن ہے کہ لوگ اپنی سطحی اور ظاہری فکر کی بنا پر ایسے تقاضے کریں جو نظام و مصلحت کے خلاف ہوں اس لئے کہ ہر شخص اپنی ہوا ھوس اور خواہش کی بنیاد پر تقاضے کرتا ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ اگر ہر انسان کے تقاضے ایک دوسرے کے برخلاف ہوتے ہیں۔

کیا تم نے کسی ڈاکٹر کو دیکھا ہے کہ وہ مریض کا علاج کرتے وقت مریض کی خواہش کے مطابق نسخہ لکھے؟ یا کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ وہ کسی بات کا دعویٰ کرے لیکن دلیل اس کے منکر کی خواہش کے مطابق لائے ؟یہ بات مسلم ہے کہ اگر علاج میں ڈاکٹر مریض کا پیرو ہو تو مریض کی بیماری کبھی ختم ہی نہیں ہو سکتی اور اسی طرح اگر مدعی اس بات پر مجبور ہو کہ اپنے مخالفوں کی خواہش کے مطابق اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے دلیل لائے تو اس صورت میں کسی ایک کی بھی بات ثابت نہیں ہو گی،اور مظلوم وناچار اور سچے افراد کی بات کبھی ظالم اور جھوٹے انسان کے سامنے ثابت نہیں ہو سکے گی۔

۸۔اور تمہارا یہ کہنا کہ ”خدا اور فرشتوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے حاضر کرو تاکہ ہم انھیں دیکھ سکیں “تو تمہاری یہ بات بے بنیاد اور غیر منطقی ہے یہ چیز بالکل محال ہے کیونکہ خدا وندمتعال اس صفت سے پاک ہے جس کے ذریعہ اسے دیکھا جا سکتا ہے بلکہ وہ مخلوقات کی تمام صفات سے پاک وپاکیزہ ہے۔

تم خدا وند متعال کو ان بتوں سے تشبیہ دیتے ہو جن کی تم پرستش کرتے ہو اور ان سے اسی طرح کا تقاضا کرتے ہو ان بتوں میں بے حد نقص و ضعف پائے جاتے ہیں اور یہ(بت) تمہارے ان تقاضوں کے لئے مناسب ہیں نہ کہ خداوند پاک۔

اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے لئے ایک ایسی مثال پیش کی جو بہت ہی واضح اور اچھی طرح مفہوم کو سمجھانے والی تھی کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ خدا کو دکھانا محال نہیں ہے تو بھی ان کی یہ بات معقول نہیں ہے ،وہ مثال یہ ہے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عبد اللہ مخزومی سے کہا: ”کیا مکہ میں تمہارے پاس زمین وجائداد اور باغ وغیرہ ہے؟اور اس کی دیکھ بھال کے لئے اپنی طرف سے کوئی نمائندہ بنایا ہے یا نہیں؟“

عبد اللہ: ”ہاں میرے پاس باغ وزمین اور نمائندہ ہے“۔

رسول اکرم  صلی الله علیه و آله وسلم : ”کیا تم خود باغ وزمین کی دیکھ بھال کرتے ہو یا نمائندے کے ذریعہ کراتے ہو“۔

عبد اللہ: نمائندہ کے ذریعہ“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”اگر ایک نمائندہ کو زمین اجارہ دو یا بیچ دو تو کیا دوسروں کایہ اعتراض کرنا اور یہ کہنا بجاہے کہ ہم خود مالک سے رابطہ کریں گے اور ہم تمہاری نمائندگی اس وقت قبول کریں گے جب تمہارا مالک خو د نہ آجائے اور تمہاری باتوں کی تصدیق نہ کرے ؟ “

عبد اللہ: ”دوسرے لوگ اس طرح کا اعتراض نہیں کر سکتے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ’ہاں یہ ضروری ہے کہ تمہارے نمائندہ کے پاس کوئی ایسی دلیل ہونا چاہئے کہ جس سے پتہ چلے کہ وہ واقعی تمہارا نمائندہ ہے، اب تم یہ بتاوٴ کہ اس کے پاس کیا ہونا چاہئے جس سے اس کی نمائندگی ثابت ہو کیونکہ یہ بھی مسلم ہے کہ بغیر کسی دلیل کے اس کی نمائندگی کی لوگ تصدیق نہیں کریں گے“۔

عبد اللہ: ”بےشک اس کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل ضرورہونا چاہئے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”اگر لوگ اس کی سچی دلیل کو قبول نہ کریں تو کیا وہ اس بات پر حق رکھتا ہے کہ اپنے مالک کو لوگوں کے سامنے حاضر کرے اور اس پر یہ فریضہ عائد کرے کہ تم ان کے سامنے حاضر ہو ؟سچ بتاوٴ کیا کوئی عقلمند نمائندہ اس طرح اپنے مالک کے لئے کر سکتا ہے؟“

عبد اللہ: ”نہیں اسے چاہئے کہ وہ اپنے فرائض پر عمل کرے اور اسے یہ حق نہیں کہ وہ مولا پر کوئی حکم لگائے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”جب تم ان تمام باتوں کا اعتراف کر رہے ہو تو کس طرح خدا کے نمائندے اور رسول کے لئے انھیں باتوں پر اصرار پر کرتے ہو کہ رسول کو چاہئے کہ اپنے مولا کو ہم لوگوں کے سامنے پیش کرے ،میں بھی خدا وند متعال کے نمائندہ اور رسول سے زیادہ کچھ نہیں ہوں، میں کس طرح اپنے مولا (خدا)پر کوئی حکم لگا سکتا ہوں اور اس کے لئے کوئی فریضہ معین کر سکتا ہوں کیونکہ خداوند متعال پر کسی طرح کا کوئی حکم لگانا رسالت کی ذمہ داری کے خلاف ہے“۔

اور اس طرح تمہارے تمام سوالوں کے جوابات جیسے فرشتوں کو حاضر کرنا وغیرہ واضح ہو جاتے ہیں۔

۹۔اور تم نے جو یہ کہا کہ میرے پاس سونے سے بھرا ہوا گھر ہونا چاہئے تو یہ بھی بالکل بے بنیاد بات ہے کیونکہ دولت و ثروت ،سونا اور چاندی سے مقام رسالت کو کوئی تعلق نہیں ہے مثال کے طور پر بادشاہ مصر کے پاس سونے سے بھرا ہوا گھر ہے تو کیا وہ اسی دلیل سے نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے؟“

َََعبد اللہ: ”نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتا ہے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : میرے پاس بھی سونا چاندی ہونا میری پیغمبری کے سچائی پر کوئی دلیل نہیں بن سکتا ہے میں خدا کی حجتوں اور نشانیوں کو چھوڑ کر ایسی بے بنیاد دلیل کے ذریعہ کم علم اور نادان لوگوں پر اپنی رسالت ثابت نہیں کر سکتا“۔

۱۰۔اور تمہارا کہنا کہ ”میں آسمان پر جاوٴں اور خدا کی طرف سے تمہارے لئے ایک خط لاوٴں“ تو اس طرح کی باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ تم لوگوں میں کوئی بھی ایسانہیں جو حق قبول کرے کیونکہ تم لوگ صرف آسمان پر جانے سے اکتفا نہیں کر رہے ہو بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہو کہ ہمارے لئے آسمان سے خط بھی لایاجائے۔

یہ بات مسلم ہے کہ اگر میں خط بھی لادوں تو بھی تم اسے قبول نہیں کروگے اور یہ بھی سچ ہے کہ اگر میں ان تمام کاموں کو انجام دے بھی دوں تب بھی یہ ممکن ہے کہ تم لوگ ایمان نہ لاوٴ،لیکن یہ جان لو کہ اس بغض وعناد کا نتیجہ صرف عذاب ہے اور تم لوگ اپنے ان کا موں کی وجہ سے اس بات کے مستحق ہو کہ خداوند متعال تمہیں عذاب میں مبتلا کرے۔

تمہارے تمام سوالوں کے جواب خدا وند متعال کے صرف اس جملہ میں خلاصہ کے طور پر بیان ہوجاتے ہیں”میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں اور خدا کی طرف سے اس بات کے لئے معین کیا گیا ہوں کہ تم تک اس کے احکام پہنچاوٴں ،[11] اور میرے پاس یہی قرآن معجزہ اور میری نبوت کی دلیل ہے اور میں تمہارے بے جا تقاضوں کی وجہ سے خدا پر نہ کوئی حکم لگا سکتا ہوں اور نہ کسی بھی طرح کی اس پر تکلیف عائد کر سکتاہوں“۔

ابو جہل کا سوال

ابو جہل نے کہا: ”کیا تم یہ نہیں کہتے کہ جب قوم موسیٰ نے اس بات کی خواہش کی کہ موسیٰ انھیں اپنا خدا دکھائیںتو خداوند عالم ان پر غضبناک ہو ااور بجلی کے ذریعہ انھیں خاکستر کردیا۔؟“

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  ”کیوں نہیں، ایسا ہی ہے“۔

ابو جہل: ”ہم قوم موسیٰ سے بلند اور بڑی خواہش رکھتے ہیں ہم ہر گز اس وقت تک نہیںا یمان نہیں لائیں گے جب تک تم اپنے خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے حاضر نہیں کروگے ،اب تم ہماری اس خواہش کی بنا پر اپنے خدا سے کہو کہ وہ ہمیں جلادے یا نابود کردے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”کیا تم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی داستان میں یہ نہیں سنا ہے کہ وہ مقام وعظمت میں بہت ہی بلند تھے اور خداوند متعال نے انھیں خاص بصیرت عطا کی تھی کہ وہ زمین پر لوگوں کے ظاہری اور باطنی اعمال کا مشاہدہ کرتے تھے ،اسی دوران جناب ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک مرد اور عورت زنا کر رہے ہیں، آپ نے ان کے لئے بددعا کی وہ ہلاک ہو گئے، پھر دیکھا کہ دوسرے مر د و عورت زنا کر رہے ہیں ان کے لئے بھی بددعا کی وہ بھی ہلاک ہو پھر تیسرے مرد و عورت کو یکھا کہ یہ بھی زنا میں مشغول ہیں ان کے لئے بھی بددعا کی وہ بھی ہلاک ہوگئے ،اس کے بعد

خداوند عالم نے ان پر وحی کی کہ اے ابراہیم ! بددعا نہ کرودنیا ہمارے اختیار میں ہے تمہارے اختیار میں نہیں۔

گنہگار بندوں کی تین حالتوں سے زیادہ چوتھی حالت نہیں ہوتی ہے،یا توبہ کرتے ہیں اور میں انھیں بخش دیتا ہوں یا ان کی آئندہ آنے والی نسلوں میں کوئی بندہ مومن ہوتا ہے جس کی وجہ سے میں انھیں مہلت دے دیتا ہوںاور پھر میرا عذاب انھیں گھیرلیتا ہے اور ان دوصورتوں کے علاوہ جتنے بڑے عذاب کا تم تصور کر سکتے ہو اسے میں نے ان کے لئے مہیا کر رکھا ہے“۔

اے ابو جہل !اسی وجہ سے خداوند عالم نے تجھے مہلت دی ہے کہ تیری نسل میں ایک مومن پیدا ہوگا جس کانام عکرمہ ہوگا۔[12]

قارئین کرام! جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مناظرہ کرنے والے اسلام کے سخت ترین دشمن تھے، لیکن اس کے باوجود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکمل صبر و حوصلہ سے ان کی تمام باتیں سنیں اور نہایت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ ان کا جواب دیا اور ایک تفصیلی اور استدلالی بحث کے ساتھ اپنی حجت تمام کر کے اسلام کی منطقی اور اخلاقی روش کا ثبوت دیا۔

 

۳۔رسول اکرم   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا یہودی دانشوروں سے مناظرہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہجرت سے پہلے یہودیوں کی مذہبی محفلوں میں آپ کی علامتوں کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا یہاں تک کہ یہودی علماء توریت کی آیتوں کی بنیاد پر آنحضرت کے بارے میں پیشین گوئیاں کرتے تھے اور بڑے ہی اعتماد کے ساتھ اس طرح کے پیغمبر کے آنے کے بارے میں باتیں کیا کرتے تھے۔

اور یہ تمام علامتیں اور نشانیاں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی اور آپ کے کاموں سے مطابقت کر گئیں یہودیوں کے بزرگ مذہبی افراد اس فکر میں رہتے تھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدد کر کے انھیں اپنی طرف کھینچ لیں اور نتیجہ میں ان کے اطراف کی مذہبی قدرت کو حاصل کر لیں لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کی توبڑی تیزی سے اسلام پھیلا اور یہودیوں کی طاقت سے زیادہ پیغمبر کو قدرت وطاقت حاصل ہوئی اور اسلام کے منتقل ہونے کی وجہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کسی بھی صورت میں اس بات پر راضی نہیں تھے کہ یہودیوں کے پرچم تلے اپنی زندگی گزاریں یہی بات یہودیوں کی محفلوں میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت کا سبب بنی۔

یہودیوں نے طرح طرح سے اسلام کو نقصان پہنچانا چاہا جیسا کہ سورہٴ بقرہ اور سورہ ٴ نساء کی آیتوں میں ان کاا سلام سے بغض و عناد بیان ہوا ہے مثلاًان کے کاموں میں سے ایک کام یہ تھا کہ وہ ”اوس“ و”خزرج“کے درمیان ۱۲۰ سالہ پرانے اختلاف(۱)[13] کوپھر سے ابھاریں اور مسلمانوں کی متحد صفوں کو انتشار کا شکار بنائیں لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلمانوں کی ہوشیاری نے ان کے اس عزم وارادہ کوخاک میں ملادیا اور اسی طرح ان کی بہت سی دوسری سازشوں کو بھی پورا نہیں ہونے دیا۔

ایک راستہ جس کے ذریعہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اسلام کو مغلوب کرنا چاہتے تھے وہ مناظرہ یا آزادانہ بحث[14] بھی تھا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی اس پیش کش کو ہنسی خوشی قبول کر لیا وہ آئے اور پیغمبر سے مجادلہ اور پیچیدہ سوال کر کے انھیں لا جواب بنا دینا چاہتے تھے لیکن اس آزاد بحث سے خود انھیں ہی نقصان اٹھا نا پڑا، اور لوگوں کو پیغمبر  صلی الله علیه و آله وسلم کے علمی مقام اور غیبی اطلاعات کی آگاہی حاصل

ہوئی جس کی وجہ سے بعض یہودی اور بت پرست اسلام کے گرویدہ ہوگئے۔

لیکن وہ لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بحث سے قانع ہونے کے باوجود بڑی دلیری کے ساتھ کہنے لگے کہ ہم تمہاری باتوں کو نہیں سمجھ رہے ہیں:  ” قُلُوبُنَا غُلْفٌ“[15]  ہمارے دلوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔

یہودیوں کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مناظرے اور مجادلے بہت ہیں جن کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بڑی ہی ہمت کے ساتھ انجام دیا اور ان کی قضاوت و فیصلے نے پوری دنیا کو دعوت فکر دی۔

بطور نمونہ ان میں سے صرف دو یہ مناظرے ملاحظہ فرمائیں:

پہلا نمونہ

جب عبد اللہ بن سلام ایمان لے آیا:

یہودیوں کے بزرگ علماء میں سے ایک مشہور و معروف عالم دین جس کا نام ”عبد اللہ بن سلام“ اور یہودی قبیلہٴ بنی قینقاع سے تعلق رکھتا تھا، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہجرت کے پہلے سال ایک روز عبد اللہ بن سلام[16] آپ کی نشست میں حاضر ہوا اور دیکھا کہ آپ اپنے موعظہ میں اس طرح کی چیزیں بیان کر رہے ہیں۔

”اے لوگو! آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرو اوران تک کھانا پہنچاوٴ،اپنے رشتہ داروں سے مل جل کر رہو،آدھی رات کو جب ساری دنیا سو جایا کرے تو اٹھ کر نماز شب پڑھو اور خداوند متعال سے راز ونیاز کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ خدا وند متعال کی بہشت میں داخل ہو سکو“۔

عبد اللہ نے دیکھا کہ آپ کی باتیں اچھی ہیں جس کہ وجہ سے وہ اس نشست کا گرویدہ ہو گیااور اس نے اس میں شرکت کا ارادہ کر لیا [17]ایک روز عبد اللہ نے مذہب یہود کے چالیس بزرگ علماء کے ساتھ مل کر یہ طے کیا کہ ہم پیغمبر کے پاس جا کر ان کی نبوت کے بارے میں بحث کریں اور انھیں زیر کریں۔

اس ارادے سے جب وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو آپ نے عبد اللہ بن سلام کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”میں بحث کے لئے تیار ہوں“۔

یہودیوں نے موافقت کی اور بحث ومناظرہ شروع ہوا ،تمام یہودی پیغمبر پر پیچیدہ سوالوں کی بوچھار کررہے تھے ،آپ ایک ایک کرکے ان جواب کا دیتے،یہاں تک کہ ایک روز عبد اللہ بن سلام پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں تنہا حاضر ہوا اور کہنے لگا“۔میرے پاس تین سوال ہیں جن کا جواب پیغمبر کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں جانتا ،کیا اجازت ہے کہ میں انھیں بیان کروں؟ “

 عبد اللہ نے سوال کیا: ”مجھے بتایئے کہ قیامت کی پہلی علامت کیا ہے؟جنت کی خاص غذا کیا ہے؟اس کی کیا وجہ ہے کہ بیٹا کبھی باپ کے اور کبھی ماں کے مشابہ ہوتا ہے؟“

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”ابھی جبرئیل تمہارے جوابات خدا کی طرف سے لارہے ہیں اور میں تمہیں بتاوٴں گا“۔

جیسے ہی جبرئیل کا نام درمیان میں آیا عبد اللہ نے کہا: ”جبرئیل تو یہودیوں کا دشمن ہے کیونکہ اس نے متعدد مقامات پر ہم سے دشمنی کی ہے بخت نصر جبرئیل کی فوج کی وجہ سے ہم پر غالب ہوا اور شہر بیت المقدس میں آگ لگا دی ۔۔۔۔وغیرہ“۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کے جواب میں سورہٴ بقرہ کی ۹۷ ویں آیت کی تلاوت فرمائی جس کا مطلب یہ ہے:

”جبرئیل جنھیں تم اپنا دشمن سمجھتے ہو وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتے اور انھوں نے قرآن کو خدا کے اذن سے قلب پیغمبر پر نازل کیا ہے وہ قرآن جو ان کتابوں سے مطابقت رکھتا ہے جن میں رسول خدا کی نشانیوں کا تذکرہ ہے ،وہ ان کی تصدیق کرنے والا ہے ،فرشتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں اگر کوئی ان میں سے کسی ایک سے دشمنی رکھتا ہے تو گویا وہ تمام فرشتوں ،پیغمبروں اور خدا کا دشمن ہے کیونکہ فرشتے اور پیغمبر سب کے سب خدا کے فرمانبردارہوتے ہیں۔[18]

اس کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عبد اللہ کے جواب میں فرمایا:

”قیامت کی پہلی علامت دھوئیں سے بھری ہوئی آگ ہے جو لوگوں کو مشرق ومغرب کی طرف لے جائے گی اور جنت کی خاص غذامچھلی کا جگر اور اس کا اضافی ٹکڑا ہے جو نہایت ہی اچھی اور لذیذ ترین غذا ہے،اور تیسرے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا: ”انعقاد نطفہ کے وقت عورت یا مرد کے نطفہ میں جس کا نطفہ غلبہ پاجاتا ہے بچہ اسی کی شبیہ ہوتا ہے ، اگر عورت کا نطفہ مرد کے نطفہ پر غالب آگیا تو بچہ ماں کی طرح ہوگا اور اگر مرد کا نطفہ عورت کے نطفہ پر غالب آگیا تو بچہ باپ کی طرح ہوگا“۔

عبد اللہ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ان جوابوں کی تطبیق جب توریت اور انبیاء سابق کی خبروں سے کی تو یہ تمام جوابات صحیح ثابت ہوئے ،جس کے نتیجہ میں اس نے فوراً اسلام قبول کر لیا اور اپنی زبان پر کلمہ شہادتین جاری کیا۔

اس وقت عبد اللہ بن سلام نے پیغمبر  صلی الله علیه و آله وسلم سے عرض کیا: ”میں یہودیوں میں سب سے زیادہ پڑھا لکھا ہوں اور بہت ہی پڑھے لکھے شخص کا بیٹا ہوں اگر انھیں میرے اسلام قبول کرنے کی خبر ہوگئی تو وہ مجھ کو جھٹلائیں گے، لہٰذا ابھی آپ میرے ایمان کو پنہاں رکھئے تاکہ آپ یہ معلوم کر سکیں کہ یہودی میرے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں“۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس فرصت کو غنیمت جان کر کہ عبد اللہ کا اسلام لانا مجادلہ اور آزاد بحث کے لئے خود ایک طرح کی دلیل بن سکتا ہے، چنانچہ عبد اللہ بن سلام کو وہیں قریب میں پردے کی آڑ میں بٹھا دیا یہودیوں سے گفتگو کے دوران پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”میں پیغمبر ہوں خدا کو حاضر ناظر جانو اور ہواوہوس کو ترک کرکے اسلام قبول کر لو“۔

جواب میں کہا گیا: ”دین اسلام کے صحیح ہونے کے بارے میں ہم بالکل بے اطلاع ہیں“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :  ”تمہارے درمیان عبد اللہ بن سلام کیسا شخص ہے ؟“

گروہ یہود: ”وہ ہمارا رہبر اور ہمارے رہبر کا بیٹا ہے وہ ہمارے درمیان ایک بہت ہی پڑھا لکھا شخص ہے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”وہ اگر مسلمان ہو جائے تو کیا تم لوگ اس بات پر تیار ہو کہ اس کا اتباع کرو؟“

گروہ یہود: ”وہ ہر گز مسلمان نہیں ہوگا“۔

رسول خدا  صلی الله علیه و آله وسلم نے عبد اللہ کو آواز دی، عبد اللہ بن سلام پردے سے باہر لوگوں کے سامنے حاضر ہو کر کہنے لگا: ”اشھد ان لا الہ الااللہ وان محمد رسول الله“۔

اے گروہ یہود! خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاوٴجب تم جانتے ہو کہ وہ پیغمبر خدا ہے تو تم کیوں ایمان نہیں لاتے ؟“

یہودیوں نے ابھی کچھ ہی دیر پہلے اس کی تعریف کی تھی مگر اب وہ اسے بد ترین شخص اور ذلیل آدمی کا بیٹا بتانے لگے۔

آپ کا یہ طرز استدلال نہایت عمدہ تھا جس کی وجہ سے وہ اپنا منہ چھپانے لگے لیکن در حقیقت وہ شکست کھا چکے تھے ،عبد اللہ کے لئے اگر چہ اسلام اس زمانہ میں بہت دشوار ثابت ہوا لیکن وہ حقیقتاً اسلام لایا تھا،اسی لئے آنحضرت نے اس کا نام عبد اللہ رکھا تھا[19] اس کا ایمان قبول کرنا بعد میں اور دوسرے ایمان لانے والوں کے لئے ہی موٴثر ثابت ہوا، ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک یہودی دانشور جس کانام ”مخَیرِق“ تھا وہ بھی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ایمان لے آیا۔[20]

 

دوسرا نمونہ

۴۔ قبلہ کے سلسلہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کایہودیوں سے مناظرہ

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکہ میں بیت المقدس (یہودیوں کے قبلہ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے اور ہجرت کے بعد مدینہ میں بھی آپ ۱۶ مہینے تک بیت المقدس ہی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے۔

اسلام دشمن ،یہودیوں نے اسلام کو بُرا بھلا کہنے اور اسے بے اہمیت کر نے کے لئے ایک اچھا بہانہ تلاش کر لیا اور کہنے لگے:  ”محمد   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماس بات کو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مستقل شریعت لائے ہیں جبکہ ان کا وہی قبلہ ہے جو یہودیوں کا قبلہ ہے“۔

اس طرح کے اعتراضات سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رنجیدہ خاطر ہوئے آنحضرت راتوں کو گھر  سے باہر آتے اور آسمان کی طرف نگاہ کرکے وحی کے منتظر رہتے تھے یہاں تک کہ سورہٴ بقرہ کی ۱۴۴ ویں آیت نازل ہوئی جس میں قبلہ کی جہت بیت المقدس سے بدل کر خانہ کعبہ کی طرف کردی گئی۔

ہجرت کے ۱۶ ماہ بعد نیمہٴ رجب میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے چند صحابیوں کے ساتھ مسجد بنی سلمہ (جو مسجد احزاب سے ایک کلو میٹر شمال کی طرف واقع ہے)میں ظہر کی نماز ادا کر رہے تھے ،دو رکعت نماز تمام ہونے کے بعد جبرئیل سورہٴ بقرہ کی ۱۴۴ ویں آیت لے کر نازل ہوئے:

” قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَةً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَا کُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوہَکُمْ شَطْرَہ“[21]

”اے رسول ہم آپ کی توجہ کو آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں تو ہم عنقریب آپ کو اس قبلہ کی طرف موڑ دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں لہٰذا آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی جہت کی طرف موڑ دیجئے اور جہاں بھی رہئے اس طرف رخ کیجئے“۔

 تو آپ حالت نماز ہی میں کعبہ کی طرف پلٹے اور دو رکعت نماز کعبہ کی طرف رخ کر کے پڑھی، اسی طرح آپ کی اقتداء کرنے والوں نے بھی کیا ،اور اسی نماز کی وجہ سے مسجد بنی سلمہ کو مسجد ”ذو قبلتین“ کہا جانے لگا“۔

اس واقعہ کے بعد یہودی ہر جگہ قبلہ بدلنے کے سلسلہ میں اعتراض اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور یہودیوں کے درمیان طے پایا کہ وہ ایک جلسے میں اس موضوع پر آزاد انہ طور پر بحث کریں ،اس جلسہ میں چند یہودیوں نے شرکت کی اور جلسہ کی شروعات یہودیوں نے کی اور سوال کی صورت میں انھوں نے اس طرح کہا:”آپ کو مدینہ آئے اور بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے ہوئے ایک سال سے زیادہ ہو گیا لیکن اب آپ بیت المقدس سے رخ موڑ کر کعبہ کی طرف نماز پڑ ھ رہے ہیں آپ ہمیں اس کا جواب دیں کہ آپ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے جو نمازیں پڑھی ہیں وہ درست تھیں یا باطل؟ اگر وہ درست تھیں تو لا محالہ آپ کا دوسرا عمل باطل ہے اور اگر باطل تھیں تو ہم کس طرح آپ کے دوسرے اعمال (جو بدلنے کی صورت میں ہیں)پر مطمئن ہوں کہ اس طرح آپ کا یہ قبلہ بھی باطل نہ ہو؟“

پیغمبر اسلام  صلی الله علیه و آله وسلم : ”دونوں قبلے اپنے موقع کے لحاظ سے درست اور حق ہیں ان چند مہینوں میں بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا حق تھا اور اب ہم خدا کی طرف سے اس بات پر مامور کئے گئے ہیں کہ خانہ کعبہ کو اپنا قبلہ قرار دیں“، اور خدا کے لئے مشرق ومغرب ہیں تم جس طرف بھی رخ کرو وہاں خدا ہے اور بیشک خدا بے نیاز اور دانا ہے“۔[22]

گروہ یہود: ”اے محمد ! کیا خدا کے لئے بداء واقع ہوا؟(یعنی ایک کام گذشتہ زمانہ میں اس پر مخفی تھا اور اب ظاہر ہوگیا اور اس نے اپنے پہلے حکم سے پشیمان ہو کر ددوسرا حکم دیا ہے)اور اس بنا پر اس نے تمہارے لئے نیا قبلہ معین کیا؟اگر اس طرح کی بات کرتے ہو تو گویا تم نے خدا وند متعال کو عام انسانوں کی طرح نادان تصور کر لیا“۔

پیغمبر اسلام  صلی الله علیه و آله وسلم :خدا کے یہاں بداء اس معنی میں نہیں پایا جاتا ہے ،خدا ہر چیز سے آگاہ اور قادر مطلق ہے اس سے کوئی بھی چھوٹی سے چھوٹی غلطی سرزد نہیں ہو سکتی جسکی وجہ سے وہ پشیمان ہو اور تجدید نظر کرے نیز اس کے راستہ میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی جس کی وجہ سے وہ اوقات میں تبدیلی کرے،میں تم سے سوال کرتا ہوں کہ ”کیا مریض صحت یاب نہیں ہوتا یا تندرست آدمی غمگین اور مریض نہیں ہوتا؟ یا زندہ مرتا نہیں اور موسم گرما موسم سرما میں تبدیل نہیں ہوتا؟ کیا خداوندمتعال اس

                               

طرح کے تمام امور میں تبدیلی لاتا رہتا ہے تو اس کے یہاں بداء واقع ہوتا ہے؟ “

پیغمبر  صلی الله علیه و آله وسلم : قبلہ کی تبدیل بھی انھیں چیزوں میں سے ہے خدا وند متعال ہمیشہ اور ہر زمانہ میں اپنے بندوں کی فلاح وبہبود کے لئے خاص حکم رکھتا ہے جو شخص بھی اطاعت کرے گا جزاکا مستحق ہوگا ورنہ اسے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا،اس کی تدبیر اور مصلحت میں کسی کو مخالفت کرنے کا حق نہیں۔[23]

اور تم سے میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا تم سنیچر کے دن اپنے تمام کا موں کی چھٹی نہیں کرتے ہو اور پھر اتوار سے اپنے کاموں میںمشغول ہوجاتے ہواس میں سے تمہارا کون ساعمل صحیح ہے کیا پہلا درست ہے اور دوسرا باطل ہے یا دوسرا صحیح ہے اور پہلا باطل یا دونوں صحیح یا دونوں باطل ؟

گروہ یہود: ”دونوں صحیح ہیں“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”میں بھی اسی طرح کہتا ہوں کہ دونوں حق ہیں چند ماہ اور چند سال پہلے بیت المقدس کی طرف قبلہ قرار دینا صحیح تھا لیکن آج کعبہ کو قبلہ سمجھنا صحیح ہے۔

تم لوگ بیماروں کی طرح ہو اور تمہارا طبیب حاذق خدا ہے اور بیماروں کی صحت اور عافیت اس میں ہے کہ وہ طبیب حاذق کی پیروی کرےں اور اس کے حکم کو اپنے ہواو ھوس پر مقدم کریں“۔

اس مناظرہ کے ناقل امام حسن عسکری علیہ السلام سے ایک شخص نے سوال کیا کہ روز اول سے ہی کعبہ مسلمانوں کا قبلہ کیوں نہیں ہوا؟“

امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا: ”خداوند متعال نے قرآن میں سورہٴ بقرہ کی ۱۴۳ ویں آیت میں اس کا جواب دیا ہے اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی:

”اور تحویل قبلہ کی طرح ہم نے تم کو درمیانی امت قرار دیا ہے تاکہ تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو اور پیغمبر تمہارے اعمال کے گواہ رہیں اور ہم نے پہلے قبلہ کو صرف اس لئے قبلہ بنا یا تھا کہ دیکھیں کہ کون رسول کا اتباع کرتا ہے اور کون پچھلے پاوٴں پلٹ جاتا ہے اگر چہ قبلہ ان لوگوں کے علاوہ سب پر گراں ہے جن کی اللہ نے ہدایت کردی ہے اور خدا تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرنا چاہتا ،وہ بندوں کے حال پر مہربان اور رحم کرنے والا ہے“۔

اس آیت میں مومنین کے لئے یہ حکم آیا ہے کہ ہم مشرکین سے مومنین کو جدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ پہچانے جائیں اور ان کی صفیں جدا اور الگ ہوں، خداوندمتعال نے بیت المقدس کو مسلمانوں کا قبلہ اس لئے قرار دیا تھا کیونکہ اس زمانہ میں خانہ کعبہ مشرکین کے بتوں کا مرکز تھا اور مشرکین جاکران کے سامنے سجدہ کرتے تھے لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب مدینہ ہجرت فرمائی اور وہاں ایک مستقل حکومت کی تشکیل دی تو مسلمانوں کی صفیں خود بخود مشرکوں سے الگ تھلگ ہوگئیں۔[24] اور اب اس چیز کی ضرورت نہیں رہی کہ مسلمان بیت المقدس کی طرف سر جھکائیں، لہٰذا مسلمانوں نے کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا شروع کردیا، یہ بات بھی واضح ہے کہ بیت المقدس کی طرف خداوندعالم نے سجدہ کرنے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ نئے نئے مشرک جو مسلمان ہوئے تھے ان کے لئے اپنی عادتیں چھوڑنا ایک بہت ہی مشکل کام تھا کیونکہ ابھی ان میں پرانے رسوم باقی تھے اور جب تک انسان میں یہ قوت وصلاحیت نہ پیدا ہو کہ وہ اپنی عادت اور خرافات کو باآسانی ترک کرسکے وہ حق کی طرف مائل نہیں ہو سکتا لہٰذا جب انھیں پوری طرح آزمالیا گیا تو انھیں بیت المقدس کی طرف سے ہٹا کر کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ،اور در حقیقت شروع شروع میں بیت المقدس کو قبلہ قرار دینا اسلام کی ایک فکری اور معنوی تحریک تھی جس کے ذریعہ اسلام نے مشرکین کی پرانی عادتوں کو ختم کر دیا ،لیکن مدینہ میں اس طرح کی مصلحتیں نہیں پائی جاتی تھیں یا کعبہ کی طرف رخ کرنے میں زیادہ مصلحتیں تھیں۔[25]

 

۵۔قرآن مجید پر اعتراض اور اس کا جواب

ایک روز کچھ لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ”ہم قرآن کے سلسلہ میں چند اعتراضات لے کر حاضر ہوئے ہیں“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”اپنے اعتراضات بیان کرو“۔

ایک نے کہا: ”آیا آپ خدا کے رسول ہیں؟“

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:  ”ہاں“۔

گروہ:  ”سورہ انبیاء کی ۹۸ ویں آیت میں خدا فرماتا ہے:

”إِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ حَصَبُ جَہَنَّمَ“

”یاد رکھو کہ تم لوگ خود اور جن چیزوں کی تم پرستش کررہے ہو سب کو جہنم کا ایندھن بنایا جائے گا۔۔۔“۔

” ہمارا اعتراض یہ ہے کہ اس مفہوم کی بنا پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اہل دوزخ ہوئے کیونکہ کچھ لوگ ان کی بھی عبادت کرتے ہیں“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سنجیدگی اور متانت سے ان کی باتیں سنیں اور فرمایا:

”قرآن عرب کی رائج زبان کے مطابق نازل ہوا ہے عربی زبان میں لفط ”من“ اکثر ذوالعقول (وہ افراد جو عقل رکھتے ہیں) کے لئے اور لفظ”ما“غیر ذوالعقول (حیوانات، جمادات اور اشجار) کے لئے استعمال ہوتا ہے تم جس آیت کے سلسلہ میں اعتراض کر رہے ہو اس میں لفظ ”ما“استعمال ہوا ہے جس سے مراد عقلا ء نہیں بلکہ وہ معبود ہیں جو عقل نہیں رکھتے جیسے بت جنھیں مٹی،لکڑی اور پتھر سے بنایا جاتا ہے ،اس طرح آیت کے معنی یہ ہوں گے:

”غیر خدا کی عبادت کرنے والے لوگ جنھیں تم نے اپنے ہاتھوں سے مختلف قسم کے معبود بنا رکھا ہے وہ سب کے سب جہنمی ہوں گے“۔

وہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جواب سے مطمئن ہوگئے اور آپ کی تصدیق کر کے رخصت گئے۔[26]

 

 

                               

 

 

۶۔ چوبیس منافقوں کی سازش اور آنحضرت  کا ان سے مناظرہ

منافقوں کی ہر زمانہ میں یہ خصوصیت رہی ہے کہ وہ اپنی تمام تر کوششیں حکومت واقتدار کے

حصول میں صرف کرتے ہیں اور وہ ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کی ہمدردی کی آڑ میں عوام کے درمیان مقبولیت پیدا کر کے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لیں۔

اسی وجہ سے وہ ہمیشہ رہبری اور حکومت کے مسئلے میں بہت ہی چوکنا رہتے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے زمانہ میں مناسب موقع دیکھ کر مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی رہبری کا اعلان کر دیا ،لیکن منافقوں کی کوشش یہ تھی کہ رہبری اور حکومت کے سلسلہ میں علی اور پیغمبر  پر چند ایسے حملے کئے جائیں جس سے یہ عہدہ ان کے خاندان سے نکل کر کہیں اور چلا جائے۔

جنگ تبوک میں منافقوں کی ایک سازش یہ تھی کہ وہ اپنا خفیہ منصوبہ کے ذریعہ علی علیہ السلام اور پیغمبر کو قتل کر دیں۔

ملاحظہ فرمائیں:

منافقوں کے ایک گروہ نے اپنی ایک خفیہ میٹنگ بلائی جس میں یہ طے پایا کہ اس وقت مسلمان جنگ میں سر گرم ہیں لہٰذا کچھ لوگ علی علیہ السلام کے قتل کے لئے مدینہ میں رک جائیں اور کچھ لوگ جنگ تبوک میں شرکت کریں اور مناسب موقع پر دیکھ کر وہاں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قتل کردیں۔

پیغمبر  کی قیادت میں ۱۰ ہزار سواروں اور ۲۰ہزار پیادہ افرا د پر مشتمل لشکر اسلام تھا جنگ تبوک کے لئے روانہ ہو گیا،کچھ لوگ اپنی سازش کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لئے مدینہ ہی رک گئے اور بقیہ منافقین مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے روانہ ہوگئے یہ خبر پیغمبر  تک پہنچ چکی تھی کہ رومی فوج پیادہ اور سوارملاکر چالیس ہزار افراد پر مشتمل ہے شام کی سرحد پر پہنچ چکی ہے اور اس فکر میں ہے کہ مسلمانوں پر اچانک حملہ کر دیا جائے اگر چہ یہ جنگ مختلف جہات سے جیسے گرمی کی شدت، طویل مسافت دشمنوں کی کثرت ،پانی اور غذاکی قلت کی وجہ سے بہت ہی دشوار تھی اسی وجہ سے اس کو جیش العسرة کہا گیا ہے، لیکن مسلمان استقامت اور وہ ایمان توکل اور بلند ہمتی کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سپہ سالار ی میں آگے بڑھے اور مدینہ وتبوک کے درمیانی طویل راستہ طے کیا اور نویں ہجری کے ماہ شعبان کے اوائل میں سر زمین تبوک پہنچ گئے یہ دیکھ کر روم کی فوج خوف کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئی اور جنگ نہ ہو سکی ایسے موقع پر حکومت واقتدارکے لالچی منافقین علی علیہ السلام اورپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قتل کرنے کی فکر میں لگے ہوئے تھے ،پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد علی علیہ السلام کو اس جنگ میں اپنے ساتھ لے جانا مناسب نہ سمجھا اور انھیں مدینہ میں چھوڑ گئے تھے ،تاکہ وہ پیغمبر کی غیر موجودگی میں مدینہ کی حفاظت کریں۔

حضرت علی علیہ السلام کی موجودگی کی وجہ سے جب منافقوں کی سازش تیس ہزار مسلمانوں کی غیر حاضری کے باجود کامیاب نہ ہوسکی تو انھوں نے افواہوں کی مدد سے فتنہ کھڑ ا کرنا چاہا وہ کہنے لگے کہ علی علیہ السلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے درمیان اختلاف ہوگیا اور پیغمبر  ان کی ہم نشینی سے بیزار ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے انھیں اپنے ساتھ جنگ میں نہیں لے گئے وغیرہ۔۔۔

منافق اپنی اس بزدلانہ تہمت کے ذریعہ علی علیہ السلام کی قیادت و رہبری کی مجروح کرنا چاہتے تھے علی علیہ السلام اس غلط پروپیگنڈہ سے سخت ناراض ہوئے اور مدینہ چھوڑ کر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں پہنچے اور آپ کو مدینہ کے حالات سے مطلع کیا ، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”اما ترضی ان تکون منی بمنزلة ہارون من موسیٰ الا انہ لانبی بعدی “۔

”کیا آپ اس بات پر راضی نہیں کہ تمہاری منزلت میرے نزدیک وہی ہے جونسبت ہارون کو موسیٰ سے تھی صرف اتنا ہے کہ میرے بعدنبی نہیں ہے“۔

یہ سن کر علی علیہ السلام کے دل کو ٹھنڈک پہنچی اور وہ لوٹ آئے منافقین جو یہ چاہتے تھے کہ علی علیہ السلام کی قیادت اور رہبری کو مجروح کردیں نہ یہ کہ ان کی تمام تر کوششیں نقش بر آب ہوگئیں بلکہ ساتھ ساتھ علی علیہ السلام کی جانشینی اور نیابت ،مذکورہ حدیث کے ذریعہ واضح طور پر ثابت ہوگئی۔

منافقوں نے اپنی ایک خفیہ میٹنگ میں علی علیہ السلام کے قتل کا منصوبہ بنا یا اور راستے میں ایک گڑھا کھوددیا اور اسے گھاس پھوس سے ڈھک دیا تاکہ علی علیہ السلام واپسی کے موقع پر اس گڑھے میں اپنے جان کھوبیٹھیں۔

خداوند متعال نے علی علیہ السلام کو اس گڑھے کے خطرے سے محفوظ رکھا اور وہ صحیح وسالم مدینہ واپس آگئے نتیجہ میں اس دن منافق اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔

اور وہاں منافقوں کا ۱۴ آدمیوں پر مشتمل دوسرا گروہ [27]جو اسلامی لشکر کے ساتھ تھا ان کے درمیان خفیہ طور پر یہ طے ہواکہ تبوک سے لوٹتے وقت مدینہ اور شام کے درمیان پہاڑ کی چوٹی پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اونٹ کو چھپ کر پتھروں کے ذریعہ بھڑکا دیا جائے تاکہ اونٹ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو درّہ کے اندر گرادے اور آپ کو اس بات کی اطلاع بھی نہ ہونے پائے کہ اونٹ کو بھڑکانے والا کون تھا۔

جب رسول   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑ کی اس چوٹی کے قریب پہنچے جہاں درہ تھا، تو جبرئیل نے آکر آپ کو منافقوں کی سازش سے مطلع کر دیا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسلمانوں کو منافقوں کی ،بالخصوص حضرت علی علیہ السلام کے سلسلہ میں کی گئی سازش سے مطلع کیا اور حضرت علی علیہ السلام کی شان میں چند باتیں کہیں۔

چودہ افراد پر مشتمل منافقوں کا گروہ جو یہ سمجھ رہا تھا کہ کسی کو کچھ خبر نہیں ہے، لہٰذا یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے دوستی اور محبت کا دم بھرنے لگے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر علی علیہ السلام کی رہبری اور قیادت کے سلسلہ میں سوالات کرنے لگے وہ اپنے سوال کرنے سے یہ ظاہر کرنا چاہے تھے کہ ہم تفاہم اور معلومات کے لئے بحث کر رہے ہیں اور اطمینان بخش جواب ملنے کی صورت میں قانع ومطمئن ہوجائیں گے۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اتمام حجت کے لئے ان کی گزارش کو قبول کیا اور ان کے سوالا ت کے جواب دیئے۔

منافقوں کے سوالات

منافقوں نے اپنی بحث کا آغاز اس طرح کیا:

ہمیں بتایئے کہ علی علیہ السلام بہتر ہیں یافرشتے؟

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”فرشتوں کا مقام اس وجہ سے افضل ہے کہ وہ محمد، علی علیہ السلام اور خدا کے انبیاء علیہم السلام سے محبت کرتے ہیں اور ان کی رہبری وقیادت کو قبول کرتے ہیں اور جو بھی انسان ان حضرات کی رہبری کو قبول کرے اور ان سے محبت کرے اس کا مقام فرشتوں سے افضل و برتر ہوگا ،کیا تم یہ نہیں جانتے کہ فرشتے اپنے آپ کو ہر جہت سے آدم علیہ السلام سے افضل سمجھتے تھے، لیکن جب خداوندعالم نے انھیں حضرت آدم کا علمی مرتبہ ظاہر کیا تو وہ اپنے کو پست سمجھ کر ان کے سامنے سجدہ کے لئے جھک گئے، اور سجدہ والے دن ہی کچھ عظیم اور نیک شخصیتیں (جیسے پیغمبر  ،علی علیہ السلام اور ان کے بعد آنے والے تمام ائمہ علیہم السلام )آد م کے صلب میں موجود تھیں یعنی تمام مقدس شخصیتیں آدم کے پیچھے صف بنا ئے کھڑی رہیں ،فرشتوں نے آدم کے ساتھ ساتھ ان کی تمام ذریت کا سجدہ کیا۔

بے شک سجدہ بظاہر آدم کے لئے ہو الیکن حقیقت میں وہ سجدہ خدا وند عالم کا سجدہ تھا ،جناب آدم علیہ السلام صرف قبلہ (خانہ کعبہ) کی حیثیت رکھتے تھے ،لیکن ابلیس نے گھمنڈ اورتکبر میں چور ہونے کی وجہ سے جناب آدم علیہ السلام کا سجدہ نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ بارگاہ خدا وندی سے نکال دیا گیا“، اس بات کا امکان پایا جاتاتھا کہ منافق جناب آدم علیہ السلام جیسے نبی پر گناہ اور ترک اولیٰ کا الزام لگا کر ان کی شخصیت کو مجروح کرتے لیکن پیغمبر اسلام  صلی الله علیه و آله وسلم نے پہلے ان کے اس اعتراض کا دروازہ بند کردیا۔

اور آپ نے ان سے فرمایا: ”اگر آدم علیہ السلام نے بہشت کے اس درخت سے چند دانے کھائے جس کے لئے خداوندعالم نے نہی کی تھی تو بیشک انھوں نے ترک اولیٰ کیا لیکن ان کا ترک اولیٰ تکبر اور غرور کی وجہ سے نہیں تھا اسی لئے انھوں نے توبہ کی اور خداوند عالم نے ان کی توبہ کو قبول بھی کر لیا“۔[28]

منافقوں کی سازش ناکام ہو گئی

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مذکورہ نصیحتوں سے منافقوں کے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ پوری طرح اپنے دل میں یہ ٹھانے ہوئے تھے کہ جیسے ہی پیغمبر  کا اونٹ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تواس کو بھڑکا دیا جائے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک خاص اور ماہر صحابی (حذیفہ)کو بلا کرفرمایا: ”تم پہاڑ کے نیچے کنارے کی طرف بیٹھ جا وٴاور تمام آنے جانے والوں پر سخت نظر رکھو تاکہ مجھ سے پہلے کوئی بھی پہاڑ پر نہ جاسکے“۔

اس کے بعد پیغمبر  نے عمومی اعلان کر دیا کہ تمام لوگ میرے پیچھے پیچھے آئیں اور کوئی بھی مجھ سے آگے جانے کی کوشش نہ کرے۔

حذیفہ ۻ نے رسول اللہ   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے حکم کے مطابق پہاڑ کے نیچے پہنچ کر اپنے کو ایک پتھر کی آڑ میںچھپالیا اور چوکنا ہو کر چاروں طرف دیکھتے رہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے آگے کوئی پہاڑ کی جانب نہ جاسکے لیکن حذیفہ نے دیکھا کہ منافقوں کا وہی گروہ جو چودہ افراد پر مشتمل تھا بڑے ہی ماہرانہ انداز میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پہلے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھنے لگا اور وہاں پہنچ کر اپنے بنائے ہوئے منصوبہ کے تحت پتھر کی آڑ میں چھپ گیا۔

حذیفہ نے جب انکی یہ تمام حرکتیں دیکھیں اور باتیں بھی سنیں تو فوراً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس بات سے آگاہ کیا،رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم منافقوں کی سازش سے آگاہ ہونے کے باوجود شتر پر سوار ہوئے اور چل پڑے، حذیفہ ،سلمان و عمارپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حفاظت کے لئے ساتھ ساتھ چلے۔

آپ جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو منافقوں نے اوپر سے پتھر لڑھکانا شروع کیا تاکہ پیغمبر  کا اونٹ بھڑک اٹھے اور وہ درے میں جاگریں۔

لیکن تمام پتھر درے کی طرف لڑھک گئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بغیر نقصان کے نیچے اتر آئے پیغمبر اسلام نے عمار سے فرمایا: ”پہاڑ کے اوپر جاوٴ اور اپنے ڈنڈے سے مار کر ان کی سواریوں کو دور بھگا دو“۔

عمار،پیغمبر  کے حکم کی تعمیل کے لئے منافقوں کی تلاش میں نکلے اور پہاڑ پر پہنچ کر انھیں تتر بتر کر دیا اور ان کی سواریوں کو اپنے ڈنڈے سے مارا جس کے نتیجے میں چند منافق اپنی سواری کے ساتھ ساتھ خود بھی نیچے گرے اور ان کے ہاتھ پیر ٹوٹ گئے۔[29]

تاریخ اسلام کے یہ دقیق اور ظریف سبق آموز واقعات اور نصیحتیں ہیں جن کے ذریعہ ہم منافقوں کے حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں ہمیں چاہئے کہ ان کی رنگ برنگی اور نئی نئی سازشوں کے نقاب،ان کے چہرے سے نوچ کر ان کی تمام تر سازشوں کو نقش بر آب کردیں،خاص بات یہ تھی کہ منافقوں نے اپنی سازش کو رات کی تاریکی میں انجام دیا اور یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہمیشہ اس بات کی کوشش میں تھے کہ ان کا ہر کام پس پردہ رہے ،لیکن ہوشیار اور بیدار مسلمانوں نے ان کے پردے چاک کر کے ان کی سازش اور خفیہ ارادوں کو ناکام بنا دیا۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام اور حذیفہ کی تعریف چند جملوں میں اس طرح کی:

”علی علیہ السلام  اور حذیفہ منافقوں کی سازشوں سے تمام لوگوں سے زیادہ واقف ہیں“۔

نتیجہ یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے ساتھ رہنے والے منافقوں کی سازش آشکار ہونے سے پہلے ان سے مناظرہ کیا اور اس بات کو ملحوظ نظر رکھا کہ شاید وہ انھیں سمجھا بجھا کر راہ راست پر لے آئیں لیکن جب ان کی بزدلی اور سازش کا بھانڈا پھوٹ گیا تو پیغمبر اسلام  نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

 

۷۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کاعلماء نجران سے مناظرہ

”نجران“مکہ اور یمن کے درمیان ایک شہر تھا جس میں ۷۳ بستیاں تھےں ،صدر اسلام میں وہاں عیسائی مذہب رائج تھا اور اس وقت وہاں بہت ہی پڑھے لکھے اور عظیم علماء رہتے تھے،خلاصہ کے طور پر یہ کہہ دینا بہتر ہوگا کہ اس وقت نجران ،آج کا ”ویٹکان“تھا۔

اس وقت شہر نجران کا بادشاہ ”عاقب“ نام کا ایک شخص تھا، جس کے ہاتھ میں مذہب کی باگ ڈور تھی اس کا نام ”ابو حارثہ“تھا،اور جو شخص ہر دل عزیز، محترم اور لوگوں کے نزدیک قابل اعتماد سمجھا جاتا تھا اس کا نام ”ایہم“تھا۔

جب پورے عالم میںاسلام کی آواز گونجی تو عیسائی علماء جنھوں نے پیغمبر  کے بارے میں جو بشارتیں توریت اور انجیل میں پڑھ رکھی تھیں اس کے سلسلہ میں ہمیشہ ہی بہت حساس رہتے تھے جب انھوں نے اسلام کی آواز سنی تو تحقیق کرنا شروع کر دیا۔

نجران کے عیسائی عوام نے اپنے نمائندوں کے ساتھ ایک خصوصی گروہ بنا کر تین مرتبہ پیغمبر اسلام  کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ اچھی طرح اور قریب سے ان کی نبوت کی تحقیقکرسکیں۔

ایک دفعہ یہ گروہ ہجرت سے پہلے مکہ روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مناظرہ کیا اور دو دفعہ ہجرت کے بعد مدینہ میں آکر اس گروہ نے آپ سے مناظرہ کیا۔

ہم ان کے تینوں مناظروں کا خلاصہ پیش کررہے ہیں۔

۱۔علمائے نجران سے پہلا مناظرہ

 نجران کے عیسائی علماء کا ایک گروہ مکہ کی طرف اس قصد سے روانہ ہو اکہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قریب سے دیکھے اور ان کی نبوت کے بارے میں تحقیق کرے ،یہ لوگ کعبہ کے نزدیک پہنچ کر پیغمبر  کی خدمت میں شرفیاب ہوئے اور وہیں مناظرہ اور گفتگو شروع کر دی۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بڑی خوش اخلاقی سے ان کے سوالات سنے اور جواب دیئے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قرآن کریم کی چند آیتیں تلاوت فرمائیں جنھیں سن کر ان لوگوں کے دل بھر آئے، اور فرط مسرت سے ان کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے اور اپنی تحقیقات میں انھیں ایسی چیزیں معلوم ہوئیں جو توریت اور انجیل سے بالکل مطابق تھیں جب انھوں نے یہ تمام چیزیں پیغمبر  کی ذات میں دیکھیں تو مسلمان ہوگئے۔[30]

مشرکین بالخصوص ابو جہل اس مناظرہ سے بہت زیادہ ناراض ہوا اور جب نمائندہ نجران مناظرہ ختم کر کے واپس جانے لگے تو ابوجہل چند لوگوں کے ساتھ آیا اور راستے میں انھیں گالیاں دینے لگا اور کہنے لگا کہ ہم نے تم لوگوں جیسا پاگل اور دیوانہ آج تک نہیں دیکھا تم لوگوں نے اپنی قوم وملت کے ساتھ خیانت کی اور اپنے مذہب کو چھوڑ کر اسلام کے گرویدہ ہو گئے ان لوگوں نے بڑے ہی نرم لہجہ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد ہم سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ہم نے جو بھی کیا ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دو۔[31]

۲۔عیسائیوں کے اکابر علماء سے مناظرہ

دوسرا مناظرہ نجران کے عظیم سیاسی مذہبی راہنماوٴں سے مدینہ میں ہجرت کے نویں سال واقع ہوا جس کی نوبت مباہلہ تک پہنچ گئی اور وہ اس طرح ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو خطوط سر براہان مملکت کو روانہ کئے تھے ان کے ضمن میں ایک خط آپ نے نجران کے پوپ ابو حارثہ کو بھی لکھا تھا جس میں آپ نے اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی۔

چار افراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس خط کو لے کر نجران کے لئے روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خط کو پوپ کی خدمت میں پیش کیا ،پوپ خط پڑھ کر بہت ناراض ہوا اور غصہ میں آکر اسے پھاڑ دالا اور آپ کے ان نامہ بروں کا کوئی احترام نہیں کیااور یہ ارادہ کیا کہ اس خط کے سلسلہ میں نجران کے پڑھے لکھے لوگ غور وفکر کریں ،نجران کے پڑھے لکھے اور مقدس لوگ جیسے شرحبیل، عبدا للہ بن جبّار بن فیض غور وفکر اور مشورہ کے لئے بلائے گئے۔

ان تینوں افراد نے کہا: ”چونکہ یہ بات نبوت سے متعلق ہے اس لئے ہم اس سلسلہ میں کسی بھی طرح کا کوئی نظریہ نہیں دے سکتے ہیں“۔پوپ نے اس مسئلہ کو نجران کے عوام کے سامنے پیش کیا،ان کی رائے لینے پر بھی یہی نتیجہ نکلا کہ ہماری قوم کی طرف سے کچھ ہو شمند اور علم وعقل کے لحاظ سے زبردست افراد مدینہ میں محمد بن عبد اللہ کے پا س جائیں اور ان سے اس سلسلہ میں بحث ومناظرہ کریں تاکہ حقیقت واضح ہو جائے۔

اس سلسلہ میں بحث وگفتگو بہت زیادہ ہوئی [32]لیکن آخر میں یہ طے پایا کہ نجران کے ساٹھ افراد جن میں سے چودہ عظیم علماء منجملہ عاقب ابو حارثہ اور ایہم بھی تھے مناظرے کے لئے مدینہ جائیں۔

ساٹھ آدمیوںپر مشتمل یہ قافلہ پیغمبر  سے مناظرہ کے لئے مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔

بیشک کسی بھی مذہب کے بارے میں بحث ومناظرہ جو بغیر دھوکا دھڑی اور فریب کے ہو اور اس میں منطقی بحث ہو تو بہت اچھی چیز ہے لیکن اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ بحث ومناظرہ کو سازش اور فریب کا رنگ دے کر عوام کو دھوکا دے تو یقینا ایسے بحث و مناظرہ کو شدت سے روکنا چاہئے۔

نجران کے نمائندوں نے جان بوجھ کر بہت ہی زرق و برق لبا س زیب تن کیا اور بہت سے زیور پہنے تاکہ مدینہ پہنچ کر اہل مدینہ کو اپنی طرف جذب کرلیں اور کمزور عقیدہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیں۔[33]

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بڑی ہو شیاری سے ان کے اس فعل کی طرف توجہ کی اور ان کے اس فریب کو ناکارہ بنا نے کے لئے ایک طریقہ اپنایا کہ جب علمائے نجران پیغمبر  کی خدمت میں اس زرق وبرق لباس میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کی طرف بالکل توجہ نہیں دی اور نہ ہی ان سے کوئی بات کی ،پیغمبر  کی اتباع میں وہاں بیٹھے ہوئے مسلمانوں نے بھی ان سے کسی طرح کی کوئی بات نہیں کی۔

علمائے نجران تین دن تک مدینہ میں سرگرداں رہے اور عبد الرحمن اور عثمان سے پہلے کی جان پہچان کی بنا پر بے توجہی کا سبب معلوم کیا تو یہ لوگ انھیں حضرت علی علیہ السلام کے پاس لے گئے اور تمام حالات سے انھیں آگاہ کیا حضرت علی علیہ السلام نے علمائے نجران سے فرمایا: ”تم اپنے زرق و برق لباس اتار کر پیغمبر  کی خدمت میں عام لوگوں کی طرح جاوٴ انشاء اللہ ضرور تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گے۔

علمائے نجران نے مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے اس حکم کا اتباع کیا اور کامیاب ہو ئے۔

مناظرہ میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ بحث وگفتگو میں ہر طرح کی آزادی ہو اور مناظرہ کی فضا بھی ہموار ہو،پیغمبر   مسجد میں پنجگانہ نماز کو باجماعت ادا کرتے تھے اور تمام مسلمان آپ کے گرد جمع ہوجاتے تھے ،عیسائی گروہ مسلمانوں کے اس طرح کے اجتماع سے بہت ہی حیران تھا لیکن تمام عیسائی اپنے عقیدے کے مطابق ایک گوشے میں مشرق(بیت المقدس )کی طرف رخ کر کے نماز ادا کیا کرنے لگے،بعض مسلمانوں نے چاہا کہ ان کی اس آزادی میں مانع ہوں لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو روک دیا۔

ہمیں اس مختصر سی بات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی علماء مدینہ میں بالکل آزاد تھے اور ان پر کسی بھی طرح کی قید وبندش نہیں تھی اورنہ ہی وہ کسی کے تحت تھے۔

نتیجہ میں تین روز گزر جانے پر نماز جماعت کے بعد مسجد ہی میں ایک جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔

علمائے نجران کے ۶۰/افراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے بیٹھ گئے اور بحث ومناظرہ کو سننے کے لئے تھوڑے فاصلہ پر مسلمان بھی بیٹھ گئے، قابل توجہ بات یہ تھی کہ چند یہودیوں نے بھی مسیحیوں اور مسلمانوں سے بحث کرنے کے لئے اس جلسہ میں شرکت کی تھی۔

پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے محبت اور خلوص سے ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے اپنی بات شروع کی اور آئے ہوئے علمائے نجران کو توحید واسلام کی دعوت دی اور فرمایا: ”آوٴہم سب مل کر وحدہ ٘ لا شریک کی عبادت کریں تاکہ ہم سب کے سب ایک زمرہ میں آجائیں اور خدا کے پرچم تلے اپنی زندگی گزاریں اس کے بعد آپ نے قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرمائیں۔

پوپ: ”اگر اسلام کا مطلب خدا پر ایمان رکھنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا ہے تو ہم تم سے پہلے ہی مسلمان ہیں“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”حقیقی اسلام کی چند علامتیں ہیں اور تین چیزیں ہمارے درمیان ایسی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ تم لوگ اہل اسلام نہیں ہو،پہلی یہ کہ تم صلیب کی پوجا کرتے ہو،دوسری یہ کہ تم سور کے گوشت کو حلال جانتے ہو ،تیسری یہ کہ تم اس بات کے معتقد ہو کہ خدا صاحب اولاد ہے۔

علمائے نجران: ”ہمارے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح خدا ہیں کیونکہ انھوں نے مردوں کو زندہ کیا ہے اور لا علاج بیماروں کو شفا بخشی ہے حضرت مسیح نے مٹی سے پرندہ بنایا اس میںروح پھونکی اور وہ اڑ گیا وغیرہ وغیرہ اس طرح کے ان کے تمام کام ان کی خدائی پر دلالت کرتے ہیں“۔

پیغمبر اسلام  صلی الله علیه و آله وسلم : ”نہیں ایسانہیں ہے کوئی بھی ایسا کام خدائی پر دلالت نہیں کرتا ہے بلکہ وہ خدا کے ایک بندہ ہی ہیں، جنھیں خداوندمتعال نے جناب مریم علیہ السلام  کے رحم میں رکھا اور اس طرح کے تمام معجزات ا نہیں عنایت فرمائے۔وہ کھانا کھاتے تھے پانی پیتے تھے ان کے گوشت ،ہڈی اور کھال تھی اور اس طرح جو بھی ہوگا وہ خدا نہیں ہو سکتا ہے“۔

ایک نمائندہ: ”حضرت مسیح خدا کے بیٹے ہیں کیونکہ ان کی ماں جناب مریم علیہ السلام  نے بغیر کسی سے شادی کئے انھیں جنم دیا، یہی ہماری دلیل ہے کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں اور خدا ان کا باپ ہے“۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وحی الٰہی سورہٴ آل عمران آیت ۶۱ کا سہارا لیتے ہوئے فرمایا: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم جیسی ہے جس طرح خداوند متعال نے جناب آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے خاک سے پیدا کیا اسی طرح جناب عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور اگر باپ کا نہ ہونا خدا کے بیٹے ہونے پر دلیل بن سکتا ہے تو جناب آدم کے لئے یہ زیادہ مناسب ہے کہ کیونکہ ان کے باپ اور ماں دونوں نہیں تھے“۔

علمائے نجران نے جب یہ دیکھا کہ جو بھی بات کہی جاتی ہے اس کا دندان شکن جواب ملتا ہے تو وہ حضرات جو ریاست دنیا کے چکر میں اسلام لانا نہیں چاہتے تھے انھوں نے مناظرہ کو ختم کر دیا اور کہنے گلے اس طرح کے جوابات ہمیں مطمئن نہیں کر رہے ہیں لہٰذا ہم آپ سے مباہلہ کرنے پر تیار ہیں یعنی دونوں طرف کے لوگ ایک جگہ جمع ہو کر خداوند عالم سے دعا اور راز ونیاز کریں اور جھوٹوں پر لعنت کریں تاکہ خدا جھوٹوں کو ہلاک کردے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سورہ آل عمران کی ۶۱ آیت کے نازل ہونے پر انکی اس بات کو قبول کر لیا۔

تمام مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع ہو گئی اور جہاں دیکھئے وہیں لوگ بیٹھ کر چہ می گوئیاں کرنے لگے کہ دیکھئے مباہلہ میں کیا ہوتا ہے؟ لوگ بڑی بے صبری سے مباہلہ کا انتظار کررہے تھے کہ بڑے انتظار کے بعد ۲۴ ذی الحجة کا دن آہی گیا، علمائے نجران اپنے خاص جلسہ میں نفسیاتی طور پر یہ طے کر چکے تھے کہ اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ کثیر تعداد میں لوگ آئیں تو بغیر کسی خوف اور جھجھک کے ان کے ساتھ مباہلہ کے لئے تیار ہو جانا ، کیونکہ اس صورت میں کوئی حقیقت نہیں ہے اس لئے کہ وہ لوگوں کو جمع کرکے دنیاوی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، لیکن اگر یہ دیکھو کہ پیغمبر اپنے چند خاص افراد کے ساتھ مباہلہ کے لئے آئے ہوئے ہیں تو ہر گز مباہلہ نہ کرنا کیونکہ نتیجہ بہت ہی خطرناک نکلے گا۔

علمائے نجران مباہلہ کی مخصوص جگہ پر پہنچے اور انجیل و توریت پڑھ کر خدا کی بارگاہ میں راز ونیاز کرکے مباہلہ کے لئے تیار ہو گئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا انتظار کرنے لگے۔

اچانک لوگوں نے دیکھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چار افراد یعنی اپنی بیٹی جناب فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا اور اپنے داماد علی علیہ السلام اور اپنے دونوں بیٹوں امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے ساتھ تشریف لارہے ہیں، شرحبیل (عیسائیوں کا ایک عظیم اور بڑا عالم )نے اپنے دوستوں سے کہا کہ خدا کی قسم !میں وہ صورتیں دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ خدا سے چاہیں کہ پہاڑ اپنی جگہ ہٹ جائے تو یقینا وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے گا ان سے ڈرو اور مباہلہ نہ کرو،اگر آج محمد   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے مباہلہ کروگے تو نجران کا ایک بھی عیسائی اس روئے زمین پر باقی نہیں رہے گا خدا کے لئے میری بات ضرور مان لو چاہے  بعد میںکچھ ماننا یا نہ ماننا۔

شرحبیل کے اصرار نے نجران کے علماء کے دلوں میں عجیب اضطرابی کیفیت پیدا کر دی اور انھوں نے اپنے ایک آدمی کو پیغمبر  کی خدمت میں بھیج کر ترک مباہلہ کی در خواست کی اور صلح کی التماس کی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے کرم اور رحمت خداوند سے ان کی اس گزارش کو قبول کیا اور صلح نامہ لکھا گیا جو چار نکات پر مشتمل تھا:

۱۔اہل نجران کی یہ ذمہ داری ہے(تمام اسلامی ممالک کی امنیت کے سلسلہ میں)کہ وہ ہر سال دو ہزار جوڑے کپڑے دو قسط میں مسلمانوں کو دیں۔

۲۔ حضرت محمد   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے نمائندہ نجران میں ایک ماہ یا ایک ماہ سے زیادہ مہمان کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں۔

۳۔جب بھی کبھی یمن میں اسلام کے خلاف کوئی سازش بلند ہو تو اہل نجران کے لئے واجب ہے کہ وہ ۳۰ ڈھال ۳۰ گھوڑے اور ۱۳۰ اونٹ عاریہ کے طور پر حکومت اسلامی کی حفاظت کے لئے دیں۔

۴۔اس صلح نامہ کے بعد اہل نجران کے لئے سود کھانا حرام ہے۔

علماء نجران کی اس کمیٹی نے صلح نامہ کے تمام شرائط کو قبول کر لیا اور وہ لوگ شکست خوردہ حالت میں مدینہ سے نجران کی طرف روانہ ہوئے[34] ،ضمناً یہ بھی بتاتے چلیں کہ اہل بیت عصمت وطہارت علیہم السلام کی عظمت ومنزلت کے لئے آیہ مباہلہ زندہ ثبوت ہے۔

۳۔ علمائے نجران کے تیسرے گروہ سے مناظرہ

نجران کے عیسائیوں کا تیسرا گروہ جو قبیلہ بنی الحارث سے تعلق رکھتا تھا اس نے نجران میں تحقیق کر کے اسلام قبول کر لیا تھا بعض ان کی نمائندگی کرنے کے لئے خالدبن ولید کے ساتھ مدینہ آئے اور پیغمبر  کی خدمت میں مشرف ہو کر اظہار اسلام کیا اور کہا کہ ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ خداوند متعال نے آپ کے ذریعہ ہم لوگوں کو ہدایت کی۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے پوچھا: ”تم لوگ کیسے اپنے دشمنوں پر غالب ہوئے؟“

انھوں نے کہا: ”اول یہ کہ ہم لوگوں میں کسی طرح کاکوئی تفرقہ واختلاف نہیں تھا دوسرے یہ کہ ہم نے کسی پر ظلم کی ابتداء نہیں کی“۔

پیغمبر اسلام  صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا: ”صدقتم “تم نے سچ کہا“۔ [35]

نتیجہ یہ ہے:

جیسا کہ پہلے بھی ہم نے ذکر کیا ہے کہ نجران کے پہلے اور تیسرے گروہوں نے اسلام کے بارے میں اچھی طرح تحقیق کی اور اس کے بعداسلام کو قبول کر لیا لیکن دوسرا گروہ وہ تھا جس کی مباہلہ کی نوبت پہنچ گئی اور آخر کار انھوں نے مباہلہ ترک کرنے کی خواہش کی انھوں نے بھی اسلام کے قوانین کے سلسلہ میں تحقیق کی اور اس کی حقانیت کو سمجھ گئے لیکن انھوںنے اپنے پہلے گروہ کی روش اختیار نہ کی اور مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر ظاہر ًاسلام قبول نہیں کیا۔

۱۔پوپ نے پیغمبر اسلام  صلی الله علیه و آله وسلم کا خط پھاڑ ڈالا یہ اس کی ریاست طلبی اور تعصب کی دلیل تھی جو حق قبول کرنے میں مانع ہوا۔

۲۔وہ مباہلہ کے لئے تیار نہیں ہوئے کیونکہ اگر وہ اسلام اور محمد  کی حقانیت کے سلسلے میں تحقیق نہ کی ہوتی تو مباہلہ کے ترک کرنے کی درخواست ہرگز نہ کرتے۔یہ خود اس بات کی علامت ہے کہ وہ اسلام اور محمد  کے مکتب کے بارے میں اچھی خاصی تحقیق رکھتے تھے اور اس کی حقانیت کو سمجھ چکے تھے۔

۳۔تاریخ میں یہ ملتا ہے کہ نجران کے نمائندے جب مدینہ سے واپس جارہے تھے تو ایک نمائندہ نے راستہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو برا بھلا کہا تو ابو حارثہ (پوپ)نے اسے ڈانٹا اور کہا کہ پیغمبر کو کہیں بُرا بھلا کہتے ہیں؟یہی بات اس کا باعث ہوئی کہ اس شخص نے مدینہ واپس آکر اسلام قبول کر لیا۔

تاریخ کا یہ رخ بھی اس بات کی غمازی کررہا ہے کہ علمائے نجران پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صداقت کو سمجھ گئے تھے۔

۴۔نجران کے علماء جب واپس پہنچے تو لوگوں کو اپنی روداد سنائی،ان کی روداد سن کر نجران کا ایک راہب اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے عبادت خانہ سے چیخ کر کہا: ”اے لوگو!جلدی آوٴ اور مجھے نیچے لے چلو ورنہ میں ابھی اپنے آپ کو نیچے گرا کر اپنی زندگی تمام کر لوں گا“۔

لوگ اسے سہار ا دے کر عبادت خانہ سے نیچے لے آئے وہ دوڑا ہوا مدینہ کی طرف آیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں رہ کر اس نے کچھ مدت تک علمی استفادہ کیا اور قرآنی آیتیں سنیں ،کچھ دنوں بعد وہ نجران واپس گیا،واپس جاتے وقت وہ پیغمبر اسلام  صلی الله علیه و آله وسلم سے یہ وعدہ کر کے گیا تھا کہ جب مدینہ دوبارہ آئے گا تو اسلام قبول کر لے گا لیکن وہ کامیاب نہیں ہوا۔[36]

غرض تمام چیزیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ان کے نزدیک حقیقت اسلام ثابت ہو چکی تھی اور وہ اچھی خاصی تحقیق بھی کر چکے تھے لیکن چند چیزیں جیسے ریاست طلبی، دنیا داری اور اہل نجران سے خوف وغیرہ ان کے اسلام قبول کرنے میں رکاوٹ بن رہیں تھیں۔

 

۸۔ معاویہ سے حضرت علی علیہ السلام کا تحریری مناظرہ

معاویہ بن ابو سفیان نے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے زمانہ میں جنگ صفین کی آگ بھڑکانے کے بعد ایک خط لکھا جس میں اس نے چار چیزوںکو عنوان قرار دیا:

۱)سر زمین شام میرے قبضہ میں دے دی جائے تاکہ اس کی رہبری خود میرے ذمہ ہو۔

۲)جنگ صفین جاری رکھنا عرب کی خونریزی اور نابودی کا سبب بن سکتا ہے لہٰذا اسے ختم کر دیا جائے۔

۳)ہم دونوں جنگ میں برابر ہیں ،دونوں طرف مسلمانوں ہیں اور دونوں طرف اسلامی شخصیات موجود ہیں۔

۴)ہم دونوں عبد مناف (پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پردادا) کے بیٹے ہیں اور دونوں ایک دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے لہٰذا ابھی وقت باقی ہے کہ ہم لوگ اپنی گزشتہ باتوں پر پشیمان ہوں اور آئندہ کی اصلاح کریں۔[37]

امام علی علیہ السلام نے اس کی ہربات کا بہترین جواب دیا اور لکھا:

۱)تونے جو کہا ہے کہ سر زمین شام تیرے قبضے میں دے دی جائے ،تو تجھے یہ جاننا چاہئے کہ کل جس چیز کے لئے میں نے تجھے منع کیا تھا آج تجھے ہر گز اسے نہیں دے سکتا (حکومت الٰہی کے لئے آج اور کل میں کوئی فرق نہیں ہے کہ آج وہ فاسد وں کے ہاتھوں میں پہنچ جائے۔)

۲)اور تونے جو یہ لکھا ہے کہ جنگ عرب کی نابودی کا سبب بنے گی تو تجھے یہ جاننا چاہئے کہ جو بھی اس جنگ میں حق کی طرف سے قتل ہوا ہے اس کی جگہ بہشت ہے اور اگر باطل کا طرفدار تھا تو جہنم کی آگ میںجھلسے گا۔

۳)اور تیرایہ دعویٰ کہ جنگ میں ہم دونوں برابر ہیں تو ایسا نہیں ہے کیونکہ تو شک میں ہے ہمارے یقین کے درجہ تک نہیںپہنچااور اہل شام اہل عراق سے زیادہ آخرت کی خاطر کوشاں نہیں رہتے ہیں۔

۴)جو تونے یہ کہا کہ ہم سب عبد مناف کے بیٹے ہیں بیشک ایسا ہی ہے لیکن امیہ ،جو تیرا دادا ہے اور اس کے بھائی ہاشم جو میرے دادا ہیںبرابر نہیں ہو سکتے، تیرا دادا حرب میرے جد عبد المطلب کی طرح نہیں ہے اور تیرا باپ ابو سفیان میرے باپ ابو طالب کی طرح نہیں ہے،مہاجرین کبھی اسراء (وہ کفار جنھیں فتح مکہ کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آزاد کیا تھا)کی مانند نہیں ہو سکتے ،اپنے باپ کا صحیح النسب فرزند اور کسی کی نسل سے منسوب حرام زادہ کی طرح نہیں ہو سکتا اور نہ حق پرست اور باطل پرست ،مومن اور فاسق کو ایک زمرہ میں رکھا جا سکتا ہے کتنے بد تر ہیں وہ لوگ جو جہنم کی آگ میں جلنے والے اپنے آباء اجداد کی اطاعت کرتے ہیں!

تجھے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ مقام نبوت کی برتری اور افتخار ہمارے اختیار میں ہے جس کے ذریعہ ہم نے عزیزوں کو ذلیل اور ذلیلوں کو عزیز بنادیا اور جس وقت لوگ جوق در جوق اسلام کے گرویدہ ہو رہے تھے اور اسلام قبول کر نے میں ایک دوسرے سے پر سبقت لے جارہے تھے اس وقت بھی تم نے سب کے بعد دنیا کی لالچ میں یا خوف کی وجہ سے اسلام قبول کیا (بس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے تم کسی بھی طرح کی فضیلت اسلام لانے کے سلسلہ میں نہیں رکھتے ہو)(لہٰذا تجھے ہوشیار رہنا چاہئے کہ کہیں تیرے اندر شیطان نفوذ نہ کر جائے۔[38]

 

۹۔ علی علیہ السلام کااپنے حق کے دفاع میں ایک مناظرہ

خلافت عثمان کے زمانہ میںمہاجرین اور انصار کا ایک گروہ مسجد نبوی میں جمع ہوا جن کی تعداد دو سو سے زیادہ تھی اور وہیں ٹولیوں میں تقسیم ہو کر ان لوگوں نے آپس میں گفتگو اور مناظرہ کیا۔

بعض لوگ علم و تقویٰ کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے کہتے تھے کہ قریش تمام دوسرے لوگوں پر فضیلت رکھتے ہیں کیونکہ ان کی فضیلت کے سلسلہ میں رسول اعظم   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا تھا:

”الائمة من قریش ،ائمہ قریش سے ہیں“۔

یا دوسری جگہ فرمایا:

”الناس تبع لقریش وقریش ائمة العرب“

”لوگ قریش کے پیروہیں اور قریش عرب کے امام ہیں“۔

اس طرح ہر گروہ اپنی اپنی صاحب افتخار شخصیتوں کو شمار کرنے لگا ،مہاجرین میں علی علیہ السلام سعد وقاص عبد الرحمن عوف ،طلحہ وزبیر، مقداد ، ہاشم بن عتبہ، عبد اللہ بن عمر،حسن وحسین علیہم السلام اور عمر بن ابوبکر عبد اللہ بن جعفر جیسے لوگ تھے۔

اور انصار میں ابی بن کعب ،زید بن ثابت ،ابو ایوب انصاری ،قیس بن سعد،جابر بن عبد اللہ انصاری انس بن مالک جیسے لوگ تھے یہ گفتگو اور مناظرہ صبح سے لے کر دو پہر تک اسی حالت میں ہوتا رہا، عثمان اپنے گھر میں تھے جب کہ علی علیہ السلام اور ان کے متعلقین سب کے سب خاموش بیٹھے تھے۔

اسی دوران کچھ لوگ امام علی علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا: ”آپ کیوں نہیں کچھ بول رہے ہیں؟“

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ”تم دونوں گروہوں نے اپنی اپنی عظمت بیان کی (اور رہبری کے لئے اپنی شائستگی کے متعلق باتیں کی)لیکن میں دونوں گروہ سے یہ پوچھتاہوں کہ تم لوگوں کو خدا وند متعال نے یہ فضیلت اور برتری کس کی وجہ سے عطا کی ہے؟“مہاجرین اور انصار نے کہا: ”یہ تمام امتیازات و فضیلتیں محمد   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماور ان کے خاندان کی وجہ سے ہمیں حاصل ہوئی ہیں“، امام علی علیہ السلام نے فرمایا: ”سچ کہا،آیا تم یہ نہیں جانتے کہ اس دنیا اور آخر ت کی تمام سعادتیں تمہیں ہمارے خاندان نبوت کی بدولت ملی ہیں اور میرے چچازاد بھائی محمد   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا: ”میں اور میرا خاندان جناب آدم علیہ السلام کی خلقت سے چودہ ہزار سال پہلے نور کی شکل میں خداوند عالم کی بار گاہ میں موجود تھا پھر خداوندمتعال اس نور کو ایک نسل کے بعد دوسری آنے والی نسل کے صلب اور پاک رحم میں منتقل ہوتا رہا جس میں ذرہ برابر بھی نجاست نہیں پائی جاتی ہے۔

اس کے بعد مولائے کائنات علی علیہ السلام نے اپنے فضائل کا ایک ٹکڑا بیان کیا اور لوگوں سے قسم دے کر پوچھا کہ کیا ایسا نہیں ہے؟تمام لوگوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ رسول اسلام   نے آپ کے بارے میں یہ چیزیں بیان فرمائیں ہیں۔

منجملہ یہ بھی فرمایا: ”تم لوگوں کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ جس شخص نے بھی پیغمبر  کی زبان سے میری خلافت کے بارے میں سنا ہے وہ اٹھ کر گواہی دے“۔

اسی وقت سلمان ،ابوذر،مقداد، عمار ،زید بن ارقم، براء بن عازب جیسے لوگوں نے اٹھ کر کہا:

”ہم لوگ گواہی دیتے ہیں ہمیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس روزکی بات آج بھی یاد ہے کہ جب رسول اعظم   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمتشریف رکھتے تھے اور آپ منبر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے کہ آنحضرت نے فرمایا: ”خدا وند متعال نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ علی میرے ،وصی ،جانشین اور میرے بعد میرے تمام کاموں کے ذمہ دار ہیں اور خداوند متعال نے ان کی اطاعت تمام مومنوں پر واجب قرار دی ہے ،اے لوگو! یہ میرا بھائی علی میرے بعد تمہارا امام مولا اور راہنما ہے:

”وھو فیکم بمنزلتي فیکم فقلدوہ دینکم واطیعوہ فی جمیع امورکم“۔[39]

”تمہارے درمیان جو مقام ومنزلت میرا ہے وہی علی کا بھی ہے تم دین خدا میں ان کی پیروی کرو اور اپنے تمام امور میں انھیں کی اطاعت کرو“۔

اس طرح مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے لوگوں کے درمیان اپنی امامت کو ثابت کیا اور اتمام حجت کر دیا۔

 

 

۱۰۔ معاویہ کی سیاسی سازش کا جواب

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عظیم صحابی عمار یاسر جو آنحضرت  کی رحلت کے بعدبھی مذہب اسلام کی پیروی میںعلی علیہ السلام کے ہر قدم پر ساتھ ساتھ تھے یہاں تک کہ جنگ صفین میں آپ درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عمار یاسر سے فرمایا تھا: ”تقتلک الفئة الباغیة“تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا“۔

یہ بات تمام مسلمانوں کے درمیان مشہور ہو گئی کہ عمار کے سلسلے میں پیغمبر  نے اس طرح فرمایا ہے۔ابھی چند سال گزرے تھے کہ امام علی علیہ السلام  کی خلافت کے زمانہ میں آپ کے اور معاویہ کے سپاہیوں کے درمیان جنگ کا بازار گرم ہوا جسے تاریخ میںجنگ صفین کے نام سے یاد کیاجاتا ہے۔ اس جنگ میں عمار یاسر اما م علی علیہ السلام کے لشکر کے سپاہی تھے اس جنگ میں آپ نہایت بہادری سے لڑتے ہوئے آخر کار معاویہ کے سپاہیوں کے ہاتھ شہید ہو گئے۔

وہ لوگ جو جنگ صفین میں شک و شبہ میں تھے کہ آیا معاویہ حق پر ہے یا علی علیہ السلام ؟ان کے نزدیک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس قول سے اس کے لشکر کے حوصلے پست پڑ رہے ہیں کیونکہ پیغمبر اسلام  نے یہ فرمایا تھا کہ عمار ایک ظالم وباغی گروہ کے ذریعہ قتل کئے جائیں گے اور عمار کو قتل کرنے والا گروہ معاویہ کا تھا لہٰذا معاویہ باطل پر ہے۔

معاویہ نے جب یہ دیکھا کہ پیغمبر  کے اس قول سے اس کے لشکر کے حوصلے پست پڑ رہے ہیں تو اس نے ایک ڈھونگ رچا اورکہنے لگا کہ عمار یاسر کو میں نے قتل نہیں،بلکہ علی نے قتل کیا ہے کیونکہ اگر وہ ہمارے مقابلہ میں انھیں نہ بھیجتے تو وہ ہر گز قتل نہ کئے جاتے۔معاویہ کی اسی توجیہ نے بعض لوگوں کو بیوقوف بنا دیا۔

امام علی علیہ السلام نے اس ڈھونگ کا بہت کھل کر جواب دیتے ہوئے فرمایا: ”اگر معاویہ کی یہ بات صحیح ہے تو یہ بھی کہنا صحیح ہوگا کہ جنگ احد میں جناب حمزہ علیہ السلام کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قتل کیا ہے نہ کہ مشرکوں نے، کیونکہ جناب حمزہ علیہ السلام کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھیجا تھا“۔

علی علیہ السلام کے اس جواب کو عبد اللہ بن عمر عاص نے معاویہ تک پہنچادیا جواب سن کر معاویہ اس قدر بوکھلا گیا کہ اس نے اپنے نہایت مکار و سازشی مشاور خاص کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔”اے احمق کے بیٹے جلدی یہاں سے بھاگ جا“۔

غرض کہ یہ بذات خود ایک ایسا مناظرہ تھا جس نے دشمن کی سازشوں کو خاک میں ملا کر ان کے سارے منصوبوں کی مٹی پلید کردی۔[40]

 

۱۱۔ امام سجاد علیہ السلام کا ایک بوڑھے شخص سے مناظرہ اور اس کی نجات

امام سجاد علیہ السلام جب اپنے قافلے والوں کے ساتھ اسیر ہو کر وارد دمشق ہوئے تو شام کا رہنے والا ایک بوڑھا شخص امام سجاد علیہ السلام اور ان کے قافلے والوں کے پاس آکر کہنے لگا۔

”خدا کا شکر ہے کہ اس نے تمہیں قتل کیا،تمہارے شہروں کو تمہارے مردوں کی وجہ سے آسودہ کیا اور امیر الموٴمنین یزید کو تم پر مسلط کیا“۔

امام سجاد علیہ السلام نے اس بوڑھے سے ،جو مسلمانوں سے بالکل بے بہرہ تھا اس طرح مناظرہ کیا۔

امام علیہ السلام: ”کیا تم نے قرآن پڑھا ہے ؟“

بوڑھا: ”ہاں“

امام علیہ السلام: ”کیا تم نے اس آیت کا معنی خوب اچھی طرح سمجھا ہے جس میں خداوندمتعال فرماتاہے:

”قُلْ لاَاٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی“[41]

”اے پیغمبر ان سے کہو کہ میں تم سے اجر رسالت کچھ نہیں چاہتا مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت کرو“۔

بوڑھامرد: ”ہاں میں نے اس آیت کو پڑھا ہے“۔

امام علیہ السلام: ”اس آیت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قرابتداروں سے مراد ہم لوگ ہیں، اے شخص! کیا تونے سورہ انفال کی ۴۱ ویں آیت پڑھی ہے:

” وَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْءٍ فَاٴَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبَی۔۔۔“

”اور جان لو کہ جو کچھ بھی تم نے مال غنیمت حاصل کیا ہے بلاشبہ اس کا خمس اللہ،اس کے رسول اور ذی القربی کے لئے ہے  ۔۔۔“۔

بوڑھا مرد: ”ہاں میں نے پڑھا ہے“۔

امام علیہ السلام: ”اس آیت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قرابت دار اس آیت میں ہم لوگ ہیں اے شخص ! کیا تونے اس آیت کو پڑھا ہے“۔

”إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا“[42]

”بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے“۔

بوڑھا مرد: ”ہاں پڑھا ہے“۔

امام علیہ السلام:  ”ہم ہیں وہ لوگ کہ جن کے لئے خداوند عالم نے آیہٴ تطہیر نازل کی ہے“۔

یہ سن کر بوڑھا خاموش ہو گیا اور اس کے نزدیک حقیقت واضح ہو گئی جس کی وجہ سے اپنے کہے ہوئے جملہ پر اس کے چہرہ سے پشیمانی ظاہر ہو رہی تھے۔

چند لمحوں بعد اس نے امام علیہ السلام سے کہا: ”خدا کی قسم کھاوٴ کہ تم وہی جو تم نے کہا ہے“۔

امام علیہ السلام: ”خدا کی قسم اور اپنے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حق کا واسطہ دے کر کہا کہ میں انھیں کے خاندان سے ہوں“۔

یہ جملہ سنتے ہی بوڑھے مرد کی حالت غیر ہو گئی اور روتے ہوئے اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا: ”بار الہٰا ہم آل محمد   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے تمام دشمنوں (جن وانس)سے برائت کا اظہار کرتے ہیں“، اسی وقت اس نے امام کی بارگاہ میں توبہ کی۔

اس واقعہ کی خبر یزید کے کانوں تک پہنچی۔یزید نے فوراً اس کے لئے پھانسی کا حکم صادر کیا اور اس ہدایت یافتہ  بوڑھے کو شہید کر دیا۔[43]

                                  

 

 

 

۱۲۔ ایک منکر خدا کاامام صاد ق علیہ السلام سے مناظرہ کے بعد مسلمان ہونا

سر زمین مصر میں عبد الملک نام کا ایک شخص رہتا تھا جس کے بیٹے کا نام عبد اللہ تھا ، اس بنا پر لوگ اسے ابو عبد اللہ کہتے تھے۔عبد الملک منکر خدا تھا اور اس کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ دنیا خود بخود وجود میں آگئی ہے اس نے یہ سن رکھا تھا کہ شیعوں کے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام مدینہ میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے اس نے مدینہ کا قصد کیا تاکہ ان سے خداوند متعال کے بارے میں مناظرہ کرے۔

جب یہ شخص مدینہ پہنچ کر امام کا پتہ معلوم کرنے لگا تو اسے لوگوں نے بتایا کہ وہ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ تشریف لے گئے ہیں۔

وہ مکہ کے طرف روانہ ہوا ،مکہ معظمہ پہنچ کر اس نے دیکھا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام طواف میں مشغول ہیں عبد الملک طواف کرنے والوں کی صف میں داخل ہوا اور عناد کی وجہ سے اس نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو دھکا دیا لیکن امام علیہ السلام نے بڑی محبت سے فرمایا: ”تمہارا نام کیا ہے ؟“

اس نے کہا: ”عبد الملک“۔

امام علیہ السلام:  ”تمہاری کنیت کیا ہے ؟“

عبد الملک: ”ابو عبد اللہ“۔

امام علیہ السلام: ”وہ مالک کہ جس کے تم بندہ ہو(جیسا کہ تمہارے نام سے ظاہر ہوتا ہے)وہ زمین کا حاکم ہے یا آسمان کا؟جب (تمہاری کنیت کے مطابق)تمہارا بیٹا بندہ خدا ہے ؟ذرا بتاوٴ وہ زمین کے خدا کا بندہ ہے یا آسمان کے ؟تم جو بھی جواب دوگے شکست کھاوٴگے“۔

عبد الملک لا جواب ہو گیا۔ہشام برمکی امام کے شاگرد وہاں موجود تھے انھوں نے عبد الملک سے کہا: ”کیوں نہیں امام کا جواب دیتے ؟“

عبد الملک کو ہشام کی بات بہت بری لگی اور اس کا چہرہ بگڑ گیا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے بڑی نرمی سے عبد الملک سے کہا: ”طواف ختم ہونے تک صبر کرو اور طواف کے بعد تم میرے پاس آوٴ تاکہ دونوں مل کر کچھ گفتگو کریں“۔

جب امام جعفر صادق علیہ السلام طواف سے فارغ ہوئے تو وہ ان کے پاس آکر برابر میں بیٹھ گیا۔اس وقت امام کے چند شاگرد بھی وہاں تشریف رکھتے تھے۔

اس وقت امام علیہ السلام اور اس کے درمیان اس طرح مناظرہ شروع ہوا۔

امام علیہ السلام:  ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ زمین تہ وبالا ہو تی ہے ، اورظاہر و باطن رکھتی ہے؟“

منکر خدا: ”ہاں“۔

امام علیہ السلام: ”آیا زمین کے نیچے گئے ہو؟“

منکر خدا: ” نہیں“۔

امام علیہ السلام: ”بس تمہیں کیا معلوم کہ زمین کے نیچے کیا ہے ؟“

منکر خدا: ”زمین کے نیچے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا لیکن یہ گمان کرتا ہوں کہ زمین کے نیچے کسی چیز کا وجود نہیں ہے“۔

امام علیہ السلام: ” گمان اور شک ایک طرح کی لاچاری ہے جہاں تم یقین پیدا نہیں کر سکتے۔کیا تم آسمان کے اوپر گئے ہو ؟“

منکر خدا: ” نہیں“۔

امام علیہ السلام: ” کیا تمہیں کچھ معلوم ہے کہ آسمان میں کیا ہے اور وہاں کون کون سی چیزیں پائی جاتی ہیں ؟“

منکر خدا: ”نہیں“۔

امام علیہ السلام: ”عجیب !نہ تم نے مشرق دیکھا نہ مغرب دیکھا ہے نہ زمین کے نیچے گئے ہو اور نہ آسمان کے اوپر گئے تاکہ یہ معلوم کر سکو کہ وہاں کیا کیا ہے اور اس جہل ونادانی کے بعد بھی تم ان تمام چیزوں کے منکر ہو( تم اوپر اور نیچے کی موجودہ اشیاء اور اس کے نظم و ترتیب جو خداوند متعال کے وجود کی حکایت کرتی ہیں اس سے بالکل نا آشنا ہو پھر کیوں منکرخد اہو؟)کیا کوئی عاقل شخص جس موضوع میں جاہل ہوتاہے اس کا انکار کرتا ہے ؟!“

منکر خدا: ”آج تک مجھ سے کسی نے اس طرح کی باتنہیں کی“۔

امام علیہ السلام: ”غرض تم اس حقیقت پر شک کرتے ہو کہ آسمان کے اوپر اور زمین کے نیچے کچھ چیز موجود ہے ہی نہیں ؟“

منکر خدا: ”ہاں شاید اسی طرح ہو“۔(اس طرح منکر خدا آہستہ آہستہ مرحلہ انکار سے شک وتردید کے مرحلہ تک پہنچا)

امام علیہ السلام: ”جو شخص جاہل ہے وہ عالم کے لئے دلیل نہیں ہو سکتا ،اے مصری برادر ! میری بات سنو اور سمجھو ہم خدا کے وجود کے بارے میں ہر گز شک نہیں کرتے کیا تم سورج ،چاند اور دن ورات کو نہیں دیکھتے کہ وہ صفحہ افق پر آشکار ہوتے ہیں اور وہ مجبورا ً اپنے معین راستہ پر گردش کرکے واپس پلٹتے ہیں اور وہ اپنی معین مسیر میں مجبور وناچار ہیں؟

اب میں تم سے پوچھتا ہوںاگر چاند سورج کے پاس گردش کرنے کی ذاتی قوت ہے تو وہ کیوں پلٹتے ہیں اور اگر اپنے آپ کو مجبورنہیں سمجھتے ہیں تو کیوں رات دن نہیں ہو جاتی اور دن رات نہیںہو جاتا ہے ؟اے مصری برادر !خدا کی قسم یہ چاند وسورج اپنی گردش پر مجبور ہیں اور جس نے ان کو ان کی گردش پر مجبور کیا ہے وہ ان سے زیادہ حکومت کا اہل اور بہترین حاکم ہے۔

منکر خدا: ”سچ کہا“۔

امام علیہ السلام اے مصری برادر! تم یہ بتاوٴ کہ تمہارے عقیدہ کے مطابق اگر زمانہ کے ہاتھوں میں موجودات کی زمام ہے اور وہی لوگوں کو لے جاتا ہے تو انھیں دوبارہ کیوں لوٹا تا اور اگر لوٹا دیتا ہے تو پھر انھیں کیوں نہیں لے جاتا؟

اے مصری برادر ! دنیا کی ہر چیز مجبور ہے کیوں آسمان اوپر اور زمین نیچے واقع ہے ؟آسمان زمین پرکیوں نہیں گر پڑتا یا زمین اپنی سطح سے بلند ہو کر آسمان سے کیوںچپک نہیں جاتی ؟اور زمین کی تمام موجودہ اشیاء آسمان سے کیوں نہیں چپک جاتی ہیں“۔

(امام علیہ السلام کا مضبوط استدلال یہاں تک پہنچا تو عبد الملک کا شک ختم کرکے ایمان کی منزل میں آپہنچا )وہ امام علیہ السلام کی خدمت میں ایمان لے آیا اور اس نے وحدہ لاشریک کی گواہی دی اور اس نے اسلام کی حقانیت کی گواہی دیتے ہوئے بڑے ہی پر جوش انداز میں کہا: ”وہ خدا ہے جو زمین وا ٓسمان کا حاکم ہے اور جس نے انھیں روک رکھا ہے“۔

حمران: ”امام علیہ السلام کا ایک شاگرد بھی وہاں موجود تھا، اس نے امام علیہ السلام کی طرف دیکھ کر کہا: ”میری جان آ پ پر فدا ہو اگر منکرین خدا آپ کی وجہ سے ایمان لائے اور مسلمان ہو جائیں تو آپ کے جد کی وجہ سے کافروں نے بھی اسلام وایمان قبول کیا ہے“۔

عبد الملک نے جو ابھی ابھی مسلمان ہواتھا امام سے عرض کیا: ”آپ مجھے شاگرد کے طور پر قبول کر لیجئے“۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے خاص شاگرد ہشام بن حکم سے فرمایا: ”عبد الملک کو اپنے ساتھ لے جاوٴ اور اسے احکام اسلام کی تعلیم دو“۔ہشام بن حکم جو شام اور مصر کے عوام کے لئے بہترین معلم تھے، عبد الملک کو اپنے ساتھ لے گئے اور عقائد اور احکام اسلام کی تعلیم دی تاکہ وہ سچے اور مضبوط عقیدہ والے ہوجائیں، اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس مومن کے ایمان اور ہشام بن حکم کی تعلیمی روش کو بہت پسند کیا۔[44]

 

۱۳۔ابن ابی العوجا ء کی بے انتہا لاچاری

”عبد الکریم “جو” ابن ابی العوجاء“کے نام سے مشہور تھا ایک دن امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں مناظرہ کے لئے حاضر ہوا اس نے دیکھا کہ چندگروہ امام کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی امام علیہ السلام کے قریب آکر خاموشی سے بیٹھ گیا۔

امام علیہ السلام: ”تو دوبارہ اس غرض سے آیا ہے کہ میرے اور تیرے درمیان جو باتیں ہوئی تھیں ان کے بارے میں تحقیق کرے“۔

 ابن ابی العوجاء: ”ہاں، یابن رسول اللہ میں اسی لئے آیا ہوں“۔

امام علیہ السلام: ” تجھ پر تعجب ہوتا ہے کہ تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں پیغمبر کا بیٹاہوں اور خدا کا انکار کرتا ہے “!!

 ابن ابی العوجاء: ”اس طرح بات کرنے پر ہماری عادتمجبور کرتی ہے“۔

امام علیہ السلام: ” تو خاموش کیوںہے؟“۔

 ابن ابی العوجاء: ”آپ کی عظمت وجلالت کی وجہ سے میری زبان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ آپ کے سامنے کچھ بولوں۔میں بہت سے دانشوروں اور مقرروں کے پاس جاکر باتیں کرتا ہوں لیکن آپ کی جلالت وعظمت جس طرح مجھے مرعوب کر دیتی ہے ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا“۔

امام علیہ السلام: ” جب تو خاموش ہے تو میں ہی بات شروع کرتا ہوں“۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: ” ابن ابی العوجاء تو مجھے بتا کہ تومصنوع (بنایا گیا ) ہے یا نہیں“۔

 ابن ابی العوجاء: ”نہیں ،میں نہیں بنا یا گیا ہوں“۔

امام علیہ السلام: ’ اچھا تو یہ بتا اگر تومصنوع (بنایا ہو ا) ہوتا تو کیسا ہوتا“۔

 ابن ابی العوجاء: بہت دیر تک اپنے گریبان میں جھانکتا رہا اس کے بعد اس نے اپنے پاس رکھی ہوئی لکڑی کو اٹھا کر ہاتھ میں دبایا اور مصنوعی شئے کے ساخت کی نوعیت اس طرح بیان کرنے لگا: ” لمبی، چوڑی، گہری (عمیق)،چھوٹی ، متحرک ،غیر متحرک وغیرہ ، یہ تمام چیزیں مخلوق اور منصوع ہونے کی خصوصیات ہیں۔

امام علیہ السلام: ”ہاں اگر اس کے علاوہ مصنوع چیز کی دوسری اور صفتیں نہیں جانتا تو تو خود بھی مصنوع ہے اور تجھے چاہئے کہ اپنے آپ کو مصنوع سمجھے کیونکہ یہ تمام صفات تو اپنے وجود میں پاتا ہے“۔

 ابن ابی العوجاء: ”آپ نے جیسا سوال کیا ہے ابھی تک کسی نے مجھ سے ایسا سوال نہیں کیا اور نہ آئندہ کرے گا“۔

امام علیہ السلام: ”بالفرض کہ ابھی تک تجھ سے اس طرح کا کسی نے سوال نہیں کیا لیکن یہ کیسے معلوم ہو کہ آئندہ بھی ایسا سوال نہیں کیا جائے گا ؟!“

اس طرح تو اپنی بات سے اپنی ہی بات کی رد کر رہا ہے، کیونکہ تیرے عقیدہ کے مطابق ماضی ، حال اور آئندہ سب یکساں ہیں ، اب کس طرح تو کچھ چیزوں کو پہلے اور کچھ کو بعد میں تصور کرتا ہے، اور اپنی باتوں میں ماضی اور مستقبل کا ذکر کرتا ہے، اے عبد الکریم! اس سے زیادہ توضیح دوں اگر تیرے پاس سونے کے سکوں سے بھری ہوئی ایک تجوری ہو اور تجھ سے کوئی کہے کہ اس تجوری میں سونے کے سکے موجو ہیں اور تو اس کے جواب میں کہے کہ نہیں ، اس میں کچھ نہیں ہے اور وہ تجھ سے کہے کہ سونے کے اوصاف بیان کر، اور اگر تو سونے کے سکے اوصاف نہیں جانتا تو کیا یہ کہہ سکتے ہو کہ تجوری میں سونے کے سکے نہیں ہیں؟“

 ابن ابی العوجاء: ”نہیں اگر میں نہیں جانتا تو ہر گز ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔

امام علیہ السلام: ” اس دنیا کی لمبائی اور چوڑائی اس تجوری سے کہیں زیادہ ہے اب تجھ سے میں یہ پوچھتا ہوں کہ اس پھیلی ہوئی دنیا میں جو مصنوع ہے تو مصنوعی اور غیر مصنوعی  چیزوں کی خصوصیت نہیں جانتا“۔

جب بات یہاں تک پہنچی تو  ابن ابی العوجاء مجبور ہو کر خاموش ہو گیا یہ دیکھ کر اس کے بعض ہم مسلک لوگ مسلمان ہو گئے اور بعض کفر پر باقی رہے۔[45]

 

۱۴۔مناظرہ کا تیسرا دن

تیسرے دن بھی  ابن ابی العوجاء امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں مناظرہ کی غرض سے یہ سوچ کر آیا کہ آج وہ پہل کرے گا۔ لہٰذا وہ آتے ہی کہنے لگا کہ آج میں مناظرہ کی ابتداء چند سوال سے کرتا ہوں:

امام علیہ السلام: ”جو چاہو پوچھو“۔

 ابن ابی العوجاء: ”کس دلیل کی وجہ سے یہ دنیا حادث ہے (یعنی پہلے نہیں تھی اور بعد میں وجود میں آئی ؟)

امام علیہ السلام: ”تم جب بھی کسی چھوٹی چیز کا تصور کرتے ہو اگر چھوٹی چیز کو اسی جیسی کسی دوسری چیز سے ملا دو تو وہ مذکورہ شئے بڑی ہو جائے گی اسی کو انتقال کہتے ہیں یعنی پہلی حالت بدل کر دوسری حالت اختیار کرنا، اور حادث کے معنی بھی یہی ہیں، اب اگر وہ چیز قدیم تھی (اول سے تھی) تو دوسری حالت اختیار نہیں کرسکتی کیونکہ جو بھی چیز نابود اور متغیر ہوتی ہے وہ نابودی اور تبدیلی کو قبول کرتی ہے اور اس بنا پر کسی ہستی کا نابود ہونا اس کے حادث ہونے کی دلیل ہواکرتی ہے۔ اور اگر بالفرض وہ قدیم تھی بھی تو اب بڑی ہوجانے کی وجہ سے و ہ تغیر پذیر ہو گئی اور اس طرح وہ حادث ہو گئی ( یہی اشیاء کے قدیم نہ ہونے کی دلیل ہے ) اور یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ ایک چیز حادث بھی ہو اور قدیم بھی، ازلی بھی ہو اور عدمی بھی“۔

 ابن ابی العوجاء: ”جی ہاں! اگر یہ فرض کر لیں کہ چھوٹی چیز بڑی ہو جاتی ہے تو آپ کی بات درست ہے اور اس طرح انھیں حادث ماننا پڑے گا لیکن اگر کوئی چیز اپنے اصلی حالت پر یعنی چھوٹی ہی باقی رہے تو ان کے حادث ہونے پر آپ کی دوسری کیادلیل ہے ؟“

امام علیہ السلام:  ” ہماری بحث کا محور یہی موجودہ کائنات ہے (جو تغیر و تبدیل کی حالت میں ہے ) اب اگر اس دنیا کو چھوڑ کر دوسری دنیا کو تصور کریں اور اسے موضوع بحث بنائیں تو بھی ایک دنیا کا نابودہونا اور اس کی جگہ ایک دوسری دنیا کا وجود ثابت ہوگا اور یہی حادث ہونے کے معنی ہیں، اور تمہارے کہنے کے مطابق اگر ہر چھوٹی چیز اپنی حالت پرباقی رہتی تو کس طرح حادث ہو گی اس کا بھی جواب دیتا ہوں۔

اگر یہ فرض کر لیں کہ ہر چھوٹی چیز اپنی حالت پر باقی رہے تب بھی یہ فرض کرنا تو بہر حال صحیح ہوگا کہ اگر دو ہم مثل چھوٹی چیزوں کو آپس میں ملادیا جائے تو وہ چھوٹی چیز بڑی چیز ہو جائے گی، اس طرح کے فرض کا صحیح ہونا ہی ان کے حادث ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اس طرح کے فرض کی صحت سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ وہ مفروض شئے تغیر و تبدیل کرتی ہے اور یہی تبدیلی اس کے حادث ہونے پر دلالت کرتی ہے اے عبد الکریم اس کے بعد تمہارے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچتا۔[46]

 

۱۵۔ ابن ابی العوجاء کی ناگہانی موت

 ابن ابی العوجاء اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے درمیان مکہ معظمہ میں مناظرہ کو ایک سال گزر گیا۔اور دوسرے سال پھر  ابن ابی العوجاء کعبہ کے کنارے امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام علیہ السلام کے ایک شیعہ نے آپ سے دریافت کہ کیا  ابن ابی العوجاء مسلمان ہوگیا؟

امام علیہ السلام: ” اسلام کے سلسلے میں اس کا دل ٹیڑھا ہے وہ ہر گز مسلمان نہیں ہوگا“۔

جب  ابن ابی العوجاء کی نظر امام علیہ السلام پر پڑی تو اس نے کہا: ”اے میرے آقا ومولا !“۔

امام علیہ السلام نے کہا: ”کیوں یہاں آئے ہو؟ “

 ابن ابی العوجاء: ”میں یہاں اس لئے آیا ہوں تاکہ اپنے وطن والوں کا بال مونڈنا پتھر پھینکنا یا اس طرح کی دوسری دیوانگی جو وہ حج میں انجام دیتے ہیں دیکھ سکوں“۔

امام علیہ السلام: ”تو ابھی تک اپنی گمراہی اور سرکشی پر باقی ہے“۔

 ابن ابی العوجاء چاہتاہی تھاکہ کچھ بولے، امام نے اسے یہ کہہ کر روک دیا کہ حج کے زمانہ میں بحث و مجادلہ صحیح نہیں ہے۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے اپنی عبا کو جھٹکا دیا اور فرمایا: ” اگر وہ چیز حق ہے جس کا ہم عقیدہ رکھتے ہیں (اور ایسا ہی ہے تو ہم کامیاب ہیں)،نہ کہ تم اور اگر تو حق پر ہے،( جب کہ ایسا نہیں ہے ) تو تم اور ہم دونوں کامیاب ہیں بہر حال ہم دونوں صورتوں میں کامیاب ہیںلیکن تم دوصورتوں میں سے ایک صورت میں ہلاک ہونے والے ہو“۔

اسی وقت  ابن ابی العوجاء کی حالت بدلنے لگی اور اس نے اپنے اطرافیوں سے کہا کہ میرے دل میں درد ہو رہا ہے مجھے واپس لے چلو۔ جب اسے اس کے اطرافی واپس لے گئے تو وہ دنیا سے جاچکا تھا، (خدا اسے معاف نہ کرے۔)[47]

 

۱۶۔عبد اللہ دیصانی کا مسلمان ہونا

ہشام بن حکم امام جعفر صادق علیہ السلام کے بہترین شاگرد تھے۔ایک دن ایک منکر خدا نے ان سے ملاقات کی اور پوچھا: ”کیا تمہارا خدا ہے“۔

ہشام: ”ہاں“۔

عبد اللہ: ”آیا تمہارا خدا قادر ہے ؟ “

ہشام: ”ہاں میرا خدا قادر ہے اور تمام چیزوں پر قابض بھی ہے“۔

عبد اللہ: ”کیا تمہارا خدا ساری دنیا کو ایک انڈے میں سمو سکتا ہے جب کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ ہی انڈا بڑا ہوا۔؟ “

ہشام: ”اس سوال کے جواب کے لئے مجھے مہلت دو“۔

عبد اللہ: ”میں تمہیں ایک سال کی مہلت دیتا ہوں“۔

ہشام یہ سوال سن کر امام علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا: ”اے فرزند رسول  !،عبد اللہ دیصانی نے مجھ سے ایک ایسا سوال کیا جس کے جواب کے لئے صرف خداوند متعال اور آپ کا سہارا لیا جا سکتا ہے“۔

امام علیہ السلام: ”اس نے کیا سوال کیا ہے ؟ “

ہشام: ”اس نے کہا کہ کیا تمہارا خدا اس بات پر قادر ہے کہ اس وسیع دنیا کو ایک انڈے کے اندر سمودے جب کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ انڈا بڑا ہو ؟ “

امام علیہ السلام: ”اے ہشام! تمہارے پاس کتنے حواس ہیں ؟ “

ہشام: ”میرے پانچ حواس ہیں“۔(سامعہ ،باصرہ، ذائقہ ،لامسہ اور شامہ )

امام علیہ السلام: ”ان میں سب سے چھوٹی حس کون سی ہے ؟ “

ہشام: ”باصرہ“۔

امام علیہ السلام: ”آنکھوں کا وہ ڈھیلا جس سے دیکھتے ہو، کتنا بڑا ہے ؟ “

ہشام: ”ایک چنے کے دانے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹا ہے“۔

امام علیہ السلام: ”اے ہشام ! ذرا اوپر اور سامنے دیکھ کر مجھے بتاوٴ کہ کیا دکھتے ہو ؟“

ہشام نے دیکھا اور کہا: ”زمین، آسمان ،گھر، محل ،بیابان ،پہاڑ اور نہروں کو دیکھ رہا ہوں“۔

امام علیہ السلام: ”جو خدا اس بات پر قادر ہے کہ اس پوری دنیا کو تمہاری چھو ٹی سے آنکھ میں سمو دے وہی اس بات پر بھی قادر ہے کہ اس دنیا کو ایک انڈے کے اندر سمودے اور نہ دنیا چھوٹی ہو نہ انڈہ بڑا ہو۔

ہشام نے جھک کر امام جعفر صادق علیہ السلام کے ہاتھ اور پیروں کا بوسہ دیتے ہوئے کہا: ”اے فرزند رسول ! بس یہی جواب میرے لئے کافی ہے“۔[48]

ہشام اپنے گھر آئے اور دوسرے ہی دن عبد اللہ ان سے جاکر کہنے لگا:“۔میں سلام عرض کرنے آیا ہوں نہ کہ اپنے سوال کے جواب کے لئے“۔

ہشام نے کہا: ”تم اگر اپنے کل کے سوال کا جواب چاہتے ہو تو اس کا جواب یہ ہے، اس کے بعد آپ نے امام علیہ السلام کا جواب اسے سنا دیا۔

عبد اللہ دیصانی نے فیصلہ کیا کہ خود ہی امام کی خدمت میں پہنچ کر اپنے سوالات پیش کرے۔

وہ امام کے گھر کی طرف چل پڑا، دروازے پر پہنچ کر اس نے اجازت طلب کی اور اجازت ملنے کے بعد گھر کے اندر داخل ہوگیا۔اندر جانے کے بعد وہ امام کے قریب آکر بیٹھ گیا اورا پنی بات شروع کرتے ہوئے کہنے لگا:

”اے جعفر بن محمد مجھے میرے معبود کی طرف جانے کا راستہ بتا دو“۔

امام علیہ السلام نے پوچھا:

”تمہارا نام کیا ہے ؟ “

عبد اللہ باہر نکل گیا اور اس نے نام نہیں بتایا۔اس کے دوستوں نے اس سے کہا:

تم نے اپنا نام کیوں نہیں بتایا؟“

اس نے جواب دیا:

”میں اگر اپنا نام عبد اللہ (خدا بندہ )بتاتا تو وہ مجھ سے پوچھتے کہ تم جس کے بندہ ہو ، وہ کون ہے ؟

عبد اللہ کے دوستوں نے کہا:

”امام علیہ السلام کے پاس واپس جاوٴاور ان سے یہ کہو آپ مجھے میرے معبود کا پتہ بتائیں اور میرا نام نہ پوچھیں“۔

عبد اللہ واپس گیا اور جا کر امام علیہ السلام سے عرض کیا:

”آپ مجھے خدا کی طرف ہدایت کریں مگر میرا نام نہ پوچھیں“۔

امام علیہ السلام نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سے فرمایا:

”وہاں بیٹھ جاوٴ“۔

عبد اللہ بیٹھ گیا۔اسی وقت ایک بچہ ہاتھ میں ایک انڈا لئے کھیلتا ہوا وہاں پہنچ گیا ،امام علیہ السلام نے بچہ سے فرمایا:

لاوٴ انڈہ مجھے دے دو“۔

امام علیہ السلام نے انڈہ کو ہاتھ میں لے کر عبد اللہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”اے دیصانی !اس انڈہ کی طرف دیکھ جو ایک چھلکے سے ڈھکا ہوا ہے اور چند جھلیوں میں مقید ہے۔

۱۔موٹی جھلی۔

۲۔موٹی جھلی کے نیچے نازک اور پتلی جھلی پائی جاتی ہے۔

۳۔اور نازک اور پتلی جھلی کے نیچے پگھلی ہوئی چاند ی(انڈہ کی سفیدی ) ہے۔

۴۔اس کے بعد پگھلا ہوا سونا (انڈے کی زردی)ہے مگر نہ یہ اس پگھلی ہوئی چاندی سے ملتا ہے اور نہ وہ پگھلی ہوئی چاندی اس سونے میں ملی ہوتی ہے بلکہ یہ اپنی اسی حالت پر باقی ہے نہ کوئی اس انڈے سے باہر آیا ہے جو یہ کہے کہ میں نے اسے بنایا ہے اور نہ ہی باہر سے کوئی اندر ہی گیا ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ میں نے اسے تباہ کیا ہے ،نہ یہ معلوم کہ یہ نر کے لئے ہے یامادہ کے لئے اچانک کچھ مدت کے بعد یہ شگافتہ ہوتا ہے اور اس میں سے ایک پرندہ مور کی طرح رنگ برنگ پروں کے ساتھ باہر آجاتا ہے کیا تیری نظر میں اس طرح کی ظریف وباریک تخلیقات کے لئے کوئی مدبر و خالق موجود نہیں ہے ؟ “

عبد اللہ دیصانی نے یہ سوال سن کر تھوڑی دیر تک سر جھکائے رکھا(اس کے قلب میں ایمان روشن ہو چکا تھا )اور پھر اس نے بلند آواز میں کہا: ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی دوسرا معبود نہیں ہے وہ وحدہ لاشریک ہے اور محمد   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماس کے رسول ہیں اور آپ خدا کی طرف سے لوگوں کے امام معین کئے گئے ہیں، میں اپنے باطل عقیدہ سے توبہ کرتا ہوں اور پشیمان ہوں۔[49]

 

۱۷۔ایک ثنوی کو امام علیہ السلام کا جواب

ایک ثنوی (دو خدا کا عقیدہ رکھنے والا) امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں آکر اپنے عقیدہ کے اثبات میں گفتگو کرنے لگا، اس کا عقیدہ یہ تھا کہ اس جہان ہستی کے دو خدا ہیں، ایک نیکیوں کا خدا ہے اور دوسرابرائیوں کا۔

اگر تو یہ کہتا ہے کہ خدا دو ہیں تو وہ ان تین تصورات سے خارج نہیں ہو سکتے:

۱۔یا دونوں طاقتور اور قدیم ہیں۔

۲۔یا دونوں ضعیف و ناتواں ہیں۔

۳۔یا ایک قوی و مضبوط اور دوسرا ضعیف و ناتواں ہے۔

پہلی صورت کے مطابق ،کیوں پہلا خدا دوسرے کی خدائی کو ختم نہیں کر دیتا تاکہ وہ اکیلا ہی پوری دنیا پر حکومت کرے ؟(یہ نظام کائنات جو ایک ہے اس بات کی حکایت کرتا ہے کہ اس کا حاکم بھی ایک ہے ،جو قوی و مطلق ہے)

تیسری صورت بھی اس بات کی دلیل بن رہی ہے کہ خدا وحدہ لاشریک ہے اور ہماری بات ثابت ہوتی ہے کیونکہ ہم اسی کو خدا کہتے ہیں جو قوی ومضبوط ہے اور دوسرا اس لئے خدا نہیں کیونکہ وہ ضعیف و ناتواں ہے ،اور یہ اس کے خدا نہ ہونے کی دلیل ہے۔

دوسری صورت میں (اگر دونوں ضعیف وناتواں ہوں)یا دونوں کسی ایک جہت سے متفق ہوں اور دوسری جہت سے مختلف [50] تو اس صورت میں لازم آتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان ایک (مابہ الامتیاز ہو) ( یعنی ان دونوں خداوٴں میں ایک خدا کے پاس کوئی ایک شئے ہے جو دوسرے کے پاس نہ ہو) اور اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ ( مابہ الامتیاز )ا مر وجودی قدیم ہو (یعنی وہ شئے اس میں ہمیشہ پائی جاتی ہو ) اور شروع سے ہی وہ ان دوخداوٴں کے ساتھ موجود رہے تاکہ ان کی ”دوئیت“ صحیح ہو۔

 اس صورت میں ”تین خدا وجود میں آجائیں گے اور اسی طرح چار خدا پانچ خدا اور اس سے بھی زیادہ ،بلکہ بے انتہا خداوٴں کا معتقد ہونا پڑے گا۔

ہشام کہتے ہیں: اس ثنوی نے دوگانہ پر ستی سے ہٹ کر اصل وجود خدا کی بحث شروع کردی اس کے سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ اس نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے پوچھا: ”خدا کے وجود پر آپ کی کیا دلیل ہے ؟“

امام جعفرصادق علیہ السلام: ”دنیا کی یہ تمام چیزیں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ ان کا کوئی بنانے والا ہے جیسے تم جب کسی اونچی اور مضبوط عمارت کو دیکھتے ہو تو تمہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اس کا کوئی بنانے والا ہے بھلے ہی تم نے اس کے معمار کو نہ دیکھا ہو“۔

ثنویہ: ”خدا کیا ہے ؟ “

امام علیہ السلام: ”خدا ،تمام چیزوں سے ہٹ کر ایک چیز ہے اور دوسرے الفاظ میں اس طرح کہ وہ تمام چیزوں کے معنی ومفہوم کو ثابت کرتا ہے اوروہ تمام کی حقیقت ہے لیکن جسم اور شکل نہیں رکھتا اور وہ کسی حس سے نہیں سمجھا جا سکتا ،وہ خیالوں میں نہیں ہے اور زمانہ کے گزرنے سے اس پر کوئی اثر نہیں ہوتااور نہ ہی وہ اسے بدل سکتا ہے۔[51]

 

۱۸۔ منصور کے حضور میں امام جعفر صادق علیہ السلام اور ابو حنیفہ کا مناظرہ

ابن شہر آشوب ،مسند ابو حنیفہ سے روایت کرتے ہیں کہ حسن بن زیاد نے کہا: ابو حنیفہ (حنفی مذہب کے رہبر ) سے سوال کیا گیا کہ تم نے ابھی تک جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ عظیم فقیہ کون ہے ؟

ابو حنیفہ نے جواب میں کہا: ”لوگوں میں سے سب سے زیادہ عظیم فقیہ جعفر بن محمد (امام جعفر صادق علیہ السلام )ہیں، منصور دوانقی (عباسی حکومت کا دوسر ا خلیفہ ) جب امام کو اپنے پاس لے گیا تھا تو اس نے میرے پاس اس طرح پیغام بھیجا:

اے ابو حنیفہ !جعفر بن محمد (امام جعفر صاد ق علیہ السلام ) کو لوگ بہت زیادہ چاہنے لگے ہیں تم کچھ سخت و پیچیدہ سوالات آمادہ کرو، اور ان سے مناظرہ کرو“۔ (تاکہ وہ ان کے جواب نہ دے پائیں اور اس طرح ان کی مبقولیت میں کمی ہو جائے ) میں نے چالیس سوالات تیار کئے جس کے بعد منصور نے شہر ”حیرہ“(بصرہ اور مکہ کے درمیان )میں مجھے حاضر ہونے کے لئے کہا ،میں ان کے پاس گیا تو دیکھا امام جعفر صادق علیہ السلام اس کے داہنے جانب بیٹھےے ہوئے ہیں ،جیسے ہی میری نظر امام جعفر صادق علیہ السلام پر پڑی میں ان کی عظمت وجلالت سے اتنا مرعوب ہوا کہ اتنا آج تک منصور سے نہیں ہوا تھا۔میں نے منصور کو سلام کیا ، اس نے مجھے بیٹھنے کا اشا رہ کیا، میں بیٹھ گیا پھر منصور نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف رخ کر کے کہا: ”اے ابا عبد اللہ !یہ ابو حنیفہ ہے“۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”ہاں میں اسے پہچانتا ہوں“۔

اس کے بعد منصور نے میری طرف رخ کر کے کہا: ”اے ابو حنیفہ تو اپنے سوالات پیش کر“۔

میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اپنا ایک ایک سوال پوچھ ڈالا انھوں نے ان سب کا جواب دیا اور آپ جواب کے دوران فرماتے تھے“۔اس مسئلہ میں تم اس طرح کہتے ہو ،اہل مدینہ اس طرح کہتے ہیں ،ان کے بعض جوابات میرے نظریئے کے مطابق تھے اور بعض اہل مدینہ کے اور بعض دونوں کے مخالف تھے۔

یہا ں تک کہ میں نے اپنے چالیس سوالات کر ڈالے اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے ہر سوال کا جواب بطور احسن واکمل دیا، اس کے بعد ابو حنیفہ کہتا ہے:

”الیس اعلم الناس ،اعلمھم باختلاف الناس ۔“

”کیا سب سے زیادہ آگاہ اور دانشور شخص وہ نہیں ہے جو لوگوں کے مختلف نظریوں کو سب سے زیادہ جانتا ہو“۔[52]

 

۱۹۔ایسا مناظرہ جس نے ایک ”خدا نما “کو بے بس کردیا

امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانہ میں”جعد بن درہم “نامی ایک شخص تھا جس نے اسلام کے خلاف بہت سی بدعتیں ایجاد کی تھیں اور اس نے چند لوگوں کو اپنا شاگرد بنا لیا تھا۔آخر کار اسے عید قربان کے دن سزائے موت دے دی گئی۔

اس نے ایک دن تھوڑی خا ک اور پانی لے کر ایک شیشی میں ڈالا چند دنوں بعد اس میں کیڑے مکوڑے پیدا ہو گئے۔وہ شیشی لے کر لوگوں کے درمیان آکر یہ دعویٰ کرنے لگا۔ان کیڑے مکوڑوں کو میں نے پیدا کیا ہے ،چونکہ ان کی پیدائش کا سبب میں بنا ہوں لہٰذا میں ہی ان کا خالق و خدا ہوں“۔

چند مسلمانوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے پوچھو کہ شیشی میں کیڑوں کی تعداد کتنی ہے ؟ اس میں نر و مادہ کتنے ہیں ،ان کا وزن کتنا ہے ؟اس سے کہو کہ ان کی شکل بدل دے ، کیونکہ جو ان کا خالق ہوگا وہ اس بات پر بھی قدرت رکھتا ہوگا کہ ان کی شکل بدل دے“۔

ان چند مسلمانوں نے اس سے انھیں سوالات کے ذریعہ مناظرہ کیا اور وہ ان کے جوابات سے قاصر رہا اس طرح اس کا سارا منصوبہ خاک میں مل گیا اور اس کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا۔[53]

 

۲۰۔تم یہ جواب حجاز سے لے آئے ہو

امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانہ میں بہت ہی مشہور و معروف ،ابو شاکر دیصانی نام کا ایک شخص تھا جو توحید کا انکار کرتا تھا اور اس بات کا معتقد تھا کہ ایک نور کا خدا ہے اور دوسرا ظلمت کا۔وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتا تھا کہ اپنی کلامی بحث چھیڑ کر اپنے عقیدے کو ثابت کرے اور اسلام کو نیچا دکھائے، اس نے عقیدہ دیصانیہ کی بنیا د ڈالی تھی اوراس کے کچھ شاگرد بھی تھے۔یہاںتک کہ ہشام بن حکم بھی کچھ دنوں تک اس کے شاگرد رہے تھے، ہم یہاں پر اس کے اعتراض کا ایک نمونہ نقل کرتے ہیں تو جہ فرمائیں:

ابو شاکر نے خود اپنی فکر کے مطابق قرآن کریم میں ایک قابل اعتراض بات ڈھونڈ نکالی۔ایک روز اس نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے خاص شاگرد ہشام بن حکم سے کہا: ”مجھے قرآن میں ایک ایسی آیت ملی ہے جو ہمارے عقیدے (ثنویہ) کی تصدیق کرتی ہے“۔

ہشام: ”کس آیت کے بارے میں کہہ رہے ہو؟ “

ابو شاکر: ”سورہٴ زخرف کی ۸۴ ویں آیت پڑھتا ہوں:

”وَہُوَ الَّذِی فِی السَّمَاءِ إِلَٰہٌ وَفِی الْاٴَرْضِ إِلَہٌ“

”اور جو آسمان میں خدا ہے اور زمین میں خدا ہے“۔

 اس بنا پر ایک معبود آسما ن کا ہے اور دوسرا زمین کا ہے۔

ہشام کہتے ہیں: ”میں سمجھ نہیں سکا کہ اس کا جواب کس طرح دوں، لہٰذا اسی سال میں جب خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوا تو میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں جا کر یہ مسئلہ پیش کردیا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”یہ ایک بے دین خبیث کی بات ہے جب تم واپس جاوٴ تو اس سے پوچھو کہ کوفے میں تیرا کیا نام ہے ؟وہ کہے گا فلاں، ”تم پھر کہو “: تیرا بصرہ میں کیانام ہے؟ ”وہ کہے گا کہ فلاں، تب تم اس سے کہو ”ہمارا پروردگار بھی اسی طرح ہے ، آسمان میں اس کا نام ”الہ“ ہے اور زمین میں بھی اس کا نام ”الہ “ہے بیشک دریاوٴں صحراوٴں اور ہر جگہ کا وہی معبود الہ ہے“۔

ہشام کہتے ہیں: ”جب میں واپس لوٹا تو ابو شاکر کے پاس جاکر میں نے اسے یہ جواب سنا دیا۔

اس نے کہا: ”یہ تمہاری بات نہیں ہے، تم اسے حجاز سے لے آئے ہو“۔[54]

 

۲۱۔امام علیہ السلام کے شاگردوں کا ایک مردشامی سے مناظرہ

امام جعفرصادق علیہ السلام کے زمانہ میں شام کا ایک دانشور [55](مکہ ) میںآپ کی خدمت میں پہنچا اور اپنا تعارف اس نے اس طرح کرایا: ”میں علم کلام،علم فقہ اور احکام الٰہی کو اچھی طرح سے جانتا ہوں اور میں یہاں آپ کے شاگردوں سے بحث ومناظرہ کے لئے حاضر ہوا ہوں“۔

امام علیہ السلام: ”تیری باتیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث پر مبنی ہوں گی یا تیری خود کی ہوں گی؟“

شامی دانشور: ”پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیثیں بھی ہوں گی اور میری کچھ ذاتی باتیں بھی ہوں گی“۔

امام علیہ السلام: ”تو پھر تو پیغمبر کا شریک کار ہے ؟ “

شامی دانشور: ”نہیں میں ان کا شریک نہیں ہوں“۔

امام علیہ السلام: ”کیا تجھ پر وحی نازل ہوئی ہے ؟ “

شامی دانشور: ”نہیں“۔

امام علیہ السلام: ”کیا تو جس طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت واجب جانتا ہے اسی طرح اپنی بھی اطاعت واجب جانتا ہے ؟ “

شامی دانشور: ”نہیں میں اپنی اطاعت واجب نہیں جانتا“۔

اب امام جعفر صادق علیہ السلام انے ایک شاگرد (یونس بن یعقوب )کی طرف رخ کرکے فرمایا:

”اے یونس ! اس شخص نے بحث ومناظرہ شروع کرنے سے پہلے ہی شکست کھالی (کیونکہ اس نے بغیر کسی دلیل کے اپنی بات کو حجت سمجھا ،حجت جانا ) اے یونس ! اگر تم علم کلام [56]اچھی طرح جانتے تو اس شامی مرد سے مناظرہ کرتے“۔

یونس: ”افسوس کہ میں علم کلام سے آگاہی نہیں رکھتا میں آپ پر فدا ہوں آپ نے علم کلام سے منع فرمایا اور کہا ہے: ”قابل افسوس ہیں وہ لوگ جو علم کلام سے سروکار رکھتے ہیں اور کہتے ہیں “یہ صحیح ہے ،یہ غلط ہے۔یہ بات نتیجہ تک پہنچتی ہے ،یہ بات سمجھ میں آتی ہے اور یہ چیز سمجھ میں نہیں آتی“۔

امام علیہ السلام: ”میں نے جو منع کیا تھا وہ اس صورت میں تھا کہ اسے اختیار کرنے والے ہماری باتوں کو چھوڑدیں اور جو خود جانتے ہیں اسی پر تکیہ کریں۔ اے یونس ! باہر جاوٴ اور دیکھو اگر علم کلام جاننے والا میرا کو ئی شاگرد ہو تو اسے یہاں لے آوٴ“۔

یونس: ”میں باہر گیا اور تین افراد (حمران بن اعین ،مومن الطاق احول اور ہشام بن حکم )جو علم کلام میں کافی مہارت رکھتے تھے انھیں لے کر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ ساتھ میں نے قیس بن ماصر کو بھی لے لیا جو میری نظر میں علم کلام میں ان تمام لوگوں سے زیادہ ماہر تھے اور انھوں نے امام سجاد علیہ السلام سے یہ علم حاصل کیا تھا۔جب سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ گئے تو امام جعفر صادق علیہ السلام خیمے سے باہر آئے یہ وہی خیمہ تھا جو کہ مکہ میں حرم کے بغل میں آپ کے لئے لگایاگیا تھا اور آپ حج شروع ہونے سے کچھ دن قبل ہی سے وہاں رہنے لگے تھے تبھی امام کی نظر ایک ایسے اونٹ پر پڑی جو دوڑتے ہوئے آرہا تھا امام نے فرمایا: ”خدا کی قسم اس اونٹ پر ہشام سوار ہو کر آرہے ہیں“۔

لوگوں نے سوچا کہ امام کی مراد عقیل کے بیٹے ہیں کیونکہ امام انھیں بہت چاہتے تھے اچانک لوگوں نے دیکھا کہ اونٹ نزدیک ہوا اور اس پر” ہشام بن حکم“سوار تھے (امام کے ایک بہترین شاگرد) وہ اس وقت نوجوان تھے اور ابھی جلدی ہی ان کی ڈارھی نکلی تھی موجودہ لوگوں میں ان کی عمر سب سے کم تھی تقریبا ً سبھی ان سے بڑے تھے۔امام نے ہشام کو جیسے ہی دیکھا بڑے پر جوش انداز میں ان کا استقبال کرتے ہوئے جگہ دی اور ان کی شان میں یہ حدیث فرمائی:

”ناصرنا بقلبہ ولسانہ ویدہ“۔

ہشام قلب و زبان اور اپنے تمام اعضاء سے ہمارا ناصر ومددگار ہے“۔

اسی وقت امام جعفرصادق علیہ السلام نے اپنے تمام موجود شاگردوں میں سے ایک ایک سے فرمایا: ”اس شامی دانشور سے تم لوگ بحث ومناظرہ کرو“۔ آپ نے خصوصی طور پر حمران سے فرمایا: ”شامی مرد سے مناظرہ کرو“۔انھوں نے اس سے مناظرہ کیا ابھی چند لمحے نہیں گزرے تھے کہ شامی، حمران کے سامنے بے بس ہو گیا اس کے بعد امام علیہ السلا م نے مومن الطاق [57] سے فرمایا: ”طاق مرد شامی سے مناظرہ کرو“۔انھوں نے مرد شامی سے مناظرہ شروع کیا ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ طاق مرد شامی پر کامیاب و کامران ہوگئے۔

 اس کے بعد امام علیہ السلام نے ہشام بن سالم سے فرمایا: ”تم بھی شامی مرد سے باتیں کرو“، وہ بھی گئے اور اس سے باتیں کی لیکن ہشان بن سالم مرد شامی پر غالب نہیں آئے بلکہ دونوں برابر رہے“۔

اب امام علیہ السلام نے قیس بن ماصر سے فرمایا: ”تم جا کر اس سے مناظرہ کرو“۔قیس نے شامی سے مناظرہ شروع کیا امام علیہ السلام اس مناظرہ کو سن رہے تھے اور مسکرارہے تھے کیونکہ شامی مرد قیس کے مقابل بے بس ہو گیا تھا اور اس کی بے بسی کے آثار اس کے چہرے پر نمایاں تھے جسے اچھی طرح دیکھا جا سکتا تھا۔[58]

                                  

۲۲۔شامی دانشورسے ہشام کا زبردست مناظرہ

امام جعفر صادق علیہ السلام نے مکہ میں شامی دانشور اور اپنے شاگردوں کے درمیان ہوئے مناظرہ میں (جس کی تفصیل اس سے پہلے مناظرہ میں گزرچکی ہے) ایک جوان نے (ہشام بن حکم) کی طرف رخ کر کے فرمایا: ”اس سے مناظرہ کرو“۔شامی دانشور مناظرہ کے لئے تیار ہو گیا اس طرح ہشام بن حکم اورشامی دانشور کا مناظرہ شروع ہوا۔

شامی دانشور (ہشام کی طرف رخ کر کے )اے جوان! اس مرد (امام جعفر صادق علیہ السلام) کی امامت کے سلسلہ میں مجھ سے سوال کر(میں تجھ سے اس شخص کے بارے میں باتیں کرنا چاہتا ہوں )“

ہشام امام کی شان میں گستاخی اور بے ادبی سے)اس قدر غصہ ہوئے کہ ان کابدن کانپنے لگا اور اسی حالت میں انھوں نے شامی دانشور سے کہا: ”کیا تیرا پروردگار اپنے بندوں کے بارے میں خیر و سعادت زیادہ چاہتا ہے یا خود بندہ اپنے بارے میں بہتر سمجھتے ہیں ؟ “

شامی دانشور: ”نہیں بلکہ پروردگار اپنے بندوں کے بارے میں ان سے زیادہ خیر وسعادت چاہتا ہے“۔

ہشام: ”خدا وند متعال نے انسانوں کی خیر وسعادت کے لئے کیا کیا  ہے ؟ “

شامی دانشور: ”خدا وند متعال نے اپنی حجت کو ان پر معین کیا ہے تاکہ وہ منتشر نہ ہونے پائیں وہ اپنے بندوں میں اپنی حجت کے ذریعہ الفت ومحبت پیدا کرتا ہے تاکہ ان کی بے سرو سامانی اس دوستی اور الفت کی وجہ سے ختم ہو جائے اور اس طرح خداوند متعال اپنے بندوں کو قانون الٰہی سے آگاہ کرتا ہے“۔

ہشام: ”وہ حجت کون ہے ؟ “

شامی دانشور: ”وہ رسول خدا ہیں“۔

ہشام: ”رسول خدا کے بعد کون ہے ؟ “

شامی دانشور: ”پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد قرآن وسنت حجت خدا ہیں“۔

ہشام: ”کیا قرآن وسنت آج ہمارے اختلاف کو ختم کرنے میں سود مند ثابت ہو سکتے ہیں؟ “

شامی دانشور: ”ہاں“۔

 ہشام: ”پھر ہمارے تمہارے درمیان کیوں اختلاف ہے جس کی وجہ سے تم شام سے یہاں مکہ آئے ہو ؟ “

شامی دانشوراس سوال کے جواب میں خاموش ہو گیا امام جعفرصادق علیہ السلام نے اس سے فرمایا: ”کیوں نہیں کچھ بولتے ؟ “

شامی دانشور: ”اگر ہشام کے سوال کا جواب میں اس طرح دوں کہ قرآن وسنت ہمارے اختلاف کو ختم کرتے ہیں تو یہ بے ہودہ بات ہوگی کیونکہ الفاظ قرآن سے طرح طرح کے معنی مراد لئے جاتے ہیں۔اور اگر کہوں کہ ہمارا اختلاف قرآن و سنت کے سمجھنے میں ہے تو اس طرح میرے عقیدہ کو ضرر پہنچتا ہے اور اگر ہم دونوں کے دونوں دعویٰ کریں کہ ہم حق پر ہیں تو اس صورت میں بھی قرآن و سنت ہم دونوں کے اختلاف میں کسی طرح سود مند ثابت نہیں ہو سکتے ہیں لیکن یہی (مذکورہ دلیل) میرے عقیدہ کے لئے نفع بخش ہو سکتی ہے مگر ہشام کے عقیدہ کے لئے نہیں“۔

امام علیہ السلام:  ”اس مسئلہ کو ہشام (جو علم وکمال سے سر شار ہے )سے پوچھو وہ تمہیں قانع کنندہ جواب دیں گے“۔

شامی دانشور: ”آیا خدا وند متعال نے کسی کو عالم بشریت کے لئے بھیجا ہے تاکہ لوگ آپس میں متحد و ہم آہنگ رہیں ؟اور وہ ان کے اختلاف کو ختم کرے اور انھیں حق وباطل کے بارے میں توضیح دے ؟

 ہشام: ” رسول خدا  صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانے میں یا آج ؟ “

شامی دانشور: ”رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں تو وہ خو دتھے لیکن آج وہ شخص کون ہے ؟ “

ہشام نے ،امام علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”یہ شخص جو مسند پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ہر جگہ سے لوگ ان کے پاس آتے ہیں اور یہی حجت خدا اور ہمارے تمہارے اختلاف کو ختم کرنے والے ہیں کیونکہ یہ وارث علم نبوت ہیں جو ان کے باپ دادا سے انھیں ملا ہے اور یہی ہیں جو زمین وآسمان کی باتوں کو ہمیں بتاتے ہیں“۔

شامی دانشور: ”میں کس طرح سمجھوں کہ یہ شخص (امام جعفر صادق علیہ السلام )وہی حجت حق ہے“۔

ہشام: ”جو بھی چاہو پوچھ لوتاکہ ان کے حجت خدا ہونے پر تمہیں دلیل مل جائے“۔

شامی دانشور: ”اے ہشام ! تم نے یہ کہہ کر میرے لئے کسی طرح کا کوئی عذر نہیں چھوڑا ہے، اب مجھ پر واجب ہے کہ میں سوال کروں اور حقیقت تک پہنچوں“۔

امام جعفر صادق علیہ السلام: ”کیا تم یہی جاننا چاہتے ہو کہ شام سے یہاں تک کہ سفر کے دوران تمہیں کیا کیا چیزیں پیش آئیں ؟ اور امام علیہ السلام نے اس کے سفر کی کیفیت کے بارے میں سب کچھ بیان کر دیا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کے بیانات سے شامی دانشور حیرت زدہ ہو گیا تھا اور اب اس نے حقیقت کو پالیا تھا جس کی وجہ سے اسی وقت اس کے قلب میں ایمان کا چراغ روشن ہوگیا اور بڑی خوشی کے ساتھ اس نے کہا: ”آپ نے سچ کہا، خدا کی قسم میں اب (حقیقی) اسلام لایا ہوں“۔

امام علیہ السلام: ”بلکہ ابھی ابھی تو خدا پر ایمان لے آیااور اسلام ،ایمان سے پہلے ہے۔اسلام کے ذریعہ لوگ ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں اور آپس میں شادیاں کرتے ہیں لیکن ایمان کے ذریعہ لوگ خدا کے یہاں اجر وثواب کے مستحق ہوتے ہیں کیونکہ اجر وثواب ایمان پر ہی ہے تو بھی مسلمان تھا لیکن ہماری امامت کو قبول نہیں کرتا تھا اور اب ہماری امامت کو قبول کرنے کی وجہ سے اپنے تمام نیک اعمال کے ثواب کے لائق ہو گیا ہے۔

شامی دانشور: ”آپ نے صحیح فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد   اس کے رسول ہیں اور آپ ان کے جانشین ہیں“۔

اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے شاگردوں سے ان کے مناظرہ کی کیفیت اس طرح بیان کی:

آپ نے حمران سے فرمایا: ”تم اپنی بات کو احادیث سے ہم آہنگ کرتے ہو اور اس طرح حق تک پہنچ جاتے ہو“۔اور ہشام بن سالم سے فرمایا: ”تم احادیث کو حاصل کرنے میں کافی جستجو اور سعی کرتے ہو لیکن اس کے حاصل کر نے اور اسے سمجھنے کی صحیح صلاحیت نہیں رکھتے“۔اسی طرح آپ نے مومن الطاق سے فرمایا: ”تم قیاس اور تشبیہ کے ذریعہ بحث شروع کرتے ہو اور موضوع بحث سے ہٹ جاتے ہو تم باطل کو باطل ہی کے ذریعہ ردّ کرتے ہو اور تمہارا باطلی استدلال بہت ہی زربردست ہوتا ہے۔اور آپ نے قیس بن ماصر سے فرمایا: ”تم اس طرح بات کرتے ہو کہ اپنی بات کو حدیث کے قریب کرنا چاہتے ہو لیکن دور ہو جاتے ہو، حق کو باطل کے ساتھ اس طرح مخلوط کردیتے ہو کہ تھوڑا سا حق بہت سی باطل چیزوں سے انسان کو بے نیاز کر دیتا ہے، تم اور مومن طاق بحث کے دوران ایک طرف سے دوسری طرف بھا گتے ہو اور تم دونوں اس میں اچھی خاصی مہارت رکھتے ہو“۔

یونس کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ امام علیہ السلام نے جو قیس اور مومن کے سلسلہ میں کہا ہے وہی ہشام کے بارے میں بھی کہیں گے لیکن آپ نے ہشام کی بڑی تعریف کی اور ان کی شان میں فرمایا:

”یا ہشام لا تکاد تقع تلوی رجلیک إذا ھممت بالارض طرت“۔

”اے ہشام ! تمہارے دونوں پیر کبھی زمین پر ٹکنے نہیں پاتے جیسے ہی تم شکست کے قریب پہنچتے ہو فورا ً اڑجاتے ہو“۔

(یعنی جیسے ہی تم اپنے اندر لا چاری اور شکست کے آثار محسوس کرتے ہو بڑی مہارت سے خود کو بچالیتے ہو۔)

اس کے بعد آپ نے ہشام سے فرمایا: ”تم جیسے لوگوں کو مقرروں سے مناظرہ کرنا چاہئے اور یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ بحث کے دوران لغزش نہ ہونے پائے کیونکہ خداوند متعال اس طرح کے مناظرہ اور بحث میں ہماری مدد کو پہنچتا ہے تاکہ ہم اس کے مسائل کو واضح کر سکیں۔[59]

اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام نے ہشام بن حکم کے بارے میں فرمایا:

”ہشام ہمارے حق کا دفاع کرنے والے، ہمارے نظریات کو لوگوں تک پہنچانے والے، ہماری حقانیت کو ثابت کرنے والے اور بیہودہ باتیںاور لغو کلام کرنے والے دشمنوں کا دندان شکن جواب دینے والے ہیں ،جس نے ہشام بن حکم کی پیروی کی اور ان کے افکار میں غور خوض کیا اس نے گویا ہماری پیروی کی اور جس نے ان کی مخالفت کی اس نے ہماری مخالفت کی“۔[60]

 

 

۲۳۔امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حضور ایک جاثلیق کا مسلمان ہونا

امام جعفر صادق علیہ السلام کے خاص شاگرد ہشام بن حکم وغیرہ سے شیخ صدوق علیہ الرحمةنے روایت کی ہے کہ ایک بہت ہی پڑھا لکھا عیسائی تھا جس کا نام ”بریھہ“تھا لیکن اسے لوگ ”جاثلیق“[61] کہا کرتے تھے۔وہ ستر سال سے مذہب عیسائیت پر باقی تھا اور وہ برابر اسلام اور حق کی تلاش میں جستجو اور کوشش کرتا رہتا تھا۔اس کے ساتھ ایک عورت رہتی تھی جو سالہا سال سے اس کی خدمت کرتی چلی آرہی تھی۔

بریھہ نے مذہب عیسائیت کے ہیچ اور گھٹیا استدلال کو اس عورت سے اس لئے چھپا رکھا تھا کہ وہ اس کے اس راز سے آگاہ نہ ہو سکے۔بریھہ برابر اسلام کے بارے میں سوالات کیا کرتا تھا اور اسلام کے راہبر علمائے صالح کی تلاش میں رہتا تھا اور اسلامی مفکروں کے حصول میں اس نے کافی جستجو اور تحقیق کی تھی ہر فرقہ اور ہر گروہ میں جا کر ان کے عقائد کے سلسلہ میں تحقیق کرتا رہتا لیکن حق اس کے ہاتھ نہ آتا تھا۔

جاثلیق ان لوگوں سے کہتاہے: اگر تمہارے راہنما حق پر ہوتے تو تم میں بھی تھوڑا بہت حق ضرور پایا جاتا۔

یہاں تک کہ اس نے اپنی جستجواور تحقیق کے درمیان شیعوں کے بارے میں اور ہشام بن حکم کا نام سنا۔

یونس بن عبد الرحمن (امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک شاگرد )کہتے ہیں کہ ہشام نے کہا: ”ایک روز میں اپنی دکان (جو باب الکرخ میں واقع تھی) پر بیٹھا ہوا تھا اور کچھ لوگ مجھ سے قرآن پڑھ رہے تھے کہ نا آگاہ دیکھا کہ عیسائیوں کا ایک گروہ بریھہ کے ساتھ چلا آرہا ہے جس میں بعض پادری تھے اور بعض دوسرے مختلف مذہبی منصب دار تھے وہ تقریبا ً سو افراد تھے، کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور سروں پر عیسائیت کی مخصوص لمبی ٹوپیاں لگائے تھے۔بریھہ جاثلیق اکبر بھی ان لوگوں کے درمیان موجود تھا وہ سب میری دوکان کے پاس اکٹھا ہو گئے اور بریھہ کے لئے ایک مخصوص کرسی لگائی گئی وہ اس پر بیٹھ گیا۔اس کے دوسرے ساتھی اپنے اپنے عصاوٴ ں پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے۔

بریھہ نے کہا: ”مسلمانوں میں کوئی ایسا علم کلام کامشہور عالم نہیں ہے جس سے میں نے عیسائیت مذہب کی حقانیت کے بارے میں بحث نہ کی ہو مگر میں نے ان میں ایسی چیز نہیں پایا جس سے میں شکست کھا جاوٴں، اب میں تیرے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ اسلام کی حقانیت کے بارے میں تجھ سے مناظرہ کروں“۔

یونس نے ہشام اور جاثلیق کے درمیان ہونے والے پورے مناظرہ کی تفصیل بیان کرنے کے بعد کہا: ”تمام نصرانی ادھر ادھر بکھر گئے۔وہ آپس میں کہہ رہے تھے ”اے کاش !ہم ہشام کے سامنے نہ آئے ہوتے “بریھہ بھی واقعہ کے بعد بہت غم زدہ ہوا وہ اپنے گھر واپس آیا اور جو عورت اسکی خدمت کرتی تھی اس نے اس سے کہا: ”کیا وجہ ہے کہ میں تجھے غمگین و پریشان دیکھ رہی ہوں ؟ “

بریھہ نے ہشام کے ساتھ ہوئے مناظرہ کی تفصیل اسے بتادی اور کہا کہ میرے غم زدہ ہونے کی وجہ یہی ہے۔

اس عورت نے بریھہ سے کہا: ”وائے ہو تم پر!!تم حق پر رہنا چاہتے ہو یا باطل پر ؟ “

بریھہ نے جواب دیا: ”میں حق پر رہنا چاہتا ہوں“۔

اس عورت نے کہا: ”تمہیں جہاں بھی حق نظر آئے وہیں چلے جاوٴ اور ہٹ دھرمی سے دور رہو کیونکہ یہ ایک طرح کا شک ہے اور شک بہت ہی بری چیز ہے اور شک کرنے والے جہنمی ہوتے ہیں“۔

بریھہ نے اس عورت کی بات کو قبول کر لیا اور یہ ارادہ کرلیا کہ صبح ہوتے ہی ہشام کے پاس جائے گا۔ صبح ہوتے ہی وہ ہشام کے پاس پہنچ گیا اس نے دیکھا کہ ہشام کا کوئی ساتھی موجود نہیں ہے اس نے کہا: ”اے ہشام ! کیا تمہاری نظر میں کوئی ایسا شخص ہے جس کی رائے کو تم بہتر جانتے ہو اور جس کی تم پیروی کرسکو؟“

ہشام نے کہا: ”ہاں اے بریھہ!“۔

بریھہ نے اس شخص کے اوصاف کے متعلق پوچھا اور ہشام نے امام جعفرصادق علیہ السلام کے اوصاف بتا دیئے، بریھہ امام جعفر صادق علیہ السلا م سے ملاقات کا مشتاق ہو گیا لہٰذا ہشام کے ساتھ اس نے عراق سے مدینہ کا سفر اختیار کیا ،وہ خادمہ بھی ان کے ساتھ تھی ان کا ارادہ تو یہ تھا کہ امام جعفرصادق علیہ السلام سے ملاقات کریںمگر آپ کے گھر کے دالان ہی میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے ملا قات ہو گئی۔

”ثاقب المناقب “کی روایت کے مطابق ہشام نے ان کو سلام کیا بریھہ نے بھی ان کی تقلید میں آپ کو سلام کیا اس کے بعد امام جعفرصاد ق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کی علت بتائی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اس وقت بہت کم عمر تھے(شیخ صدوق کی روایت کے مطابق ہشام نے بریھہ کی پورا واقعہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو سنادیا )

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے جاثلیق کی گفتگو

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”اے بریھہ ! تو اپنی کتاب انجیل کے بارے میں کس حد تک معلومات رکھتا ہے ؟ “

بریھہ: ”میں اپنی کتاب سے پوری طرح آگاہ ہوں“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”اس کے باطنی معنی پر کتنا اعتماد رکھتا ہے ؟ “

بریھہ: ”اتناہی جتنا مجھے اس پر عبور ہے“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے انجیل کی آیتوں کو پڑھنا شروع کر دیا۔

بریھہ امام سے اتنا مرعوب ہوگیا کہ وہ کہنے لگا: ”جناب مسیح آپ کی طرح انجیل کی تلاوت کیا کرتے تھے اس طرح کی تلاوت جناب عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ کوئی نہیں کرتا“۔اس کے بعد بریھہ نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی طرف رخ کر کے عرض کیا: ”میں پچاس سال سے آپ یا آپ جیسے کسی شخص کی تلاش میں تھا“۔ اس کے بعد بریھہ وہیں مسلمان ہوگیا اور اس کے بعد بھی وہ راہ اسلام پر بڑے استحکام کے ساتھ ڈٹا رہا اس کے بعد ہشام بریھہ کو اس عورت کے ساتھ لے کر امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے اور ہشام نے پوری بات آپ کو بتائی اور اس خادمہ اور بریھہ کے مسلمان ہونے کا واقعہ بھی آپ کو سنا دیا۔

امام جعفرصادق علیہ السلام نے قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت فرمائی:

”ذُرِّیَّةً بَعْضُہَا مِنْ بَعْضٍ وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ “[62]

 ”وہ لوگ ایسے فرزندان تھے جو ایک دوسرے سے لئے گئے تھے اور خدا سمیع وعلیم ہے“۔

بریہہ کی امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ گفتگو

بریھہ: ”میں آپ پر فدا ہوں، توریت وانجیل اور دوسرے پیغمبر وں کی کتابیں آپ کے پاس کیسے اور کہاں سے آئیں ؟ “

امام جعفر صادق علیہ السلام: ”یہ کتابیں ان کی طرف سے ہمیں وراثت میں ملی ہیں جو ہم ان لوگوں کی طرح ہی ان کتابوں کی تلاوت کرتے ہیں خداوند عالم اس دنیا میں کسی ایسے کو اپنی حجت قرار نہیں دیتا کہ جب اس سے پوچھا جائے تو وہ یہ کہے: ”میں نہیں جانتا“۔

اس کے بعد بریھہ امام جعفرصاد ق علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کے ساتھ ہی رہنے لگا اور آخر کار امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانہ میں وفات پا گیا امام جعفر صادق علیہ السلا م نے اسے خود اپنے ہاتھوں سے غسل وکفن دیا اور خود ہی اسے قبر میں لٹا کر فرمایا:

”ھذا حواری من  حواری المسیح علیہ السلام یعرف حق اللہ علیہ “

”یہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے ایک تھا جو اپنے اوپر اللہ کے حق کو پہنچانتا تھا“۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کے اکثر اصحاب یہ آرزو کرتے تھے کہ اس کی طرح بلند مقام کے حامل ہو جائیں۔[63]

 

۲۴۔امام مو سیٰ کاظم علیہ السلام کے سامنے ابو یوسف کی لاچاری

مہدی عباسی بنی عباس کا تیسرا خلیفہ ایک دن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، ابو یوسف بھی (جو اہل بیت علیہم السلام کا پکا مخالف تھا ) اس بزم میں حاضر تھا اس نے مہدی عباسی کی طرف رخ کر کے کہا کہ مجھے موسیٰ بن جعفر سے چند سوال کرنے کی اجازت دیجئے تاکہ میرے سوال کے جواب نہ دینے کی وجہ سے وہ مجبور و لاچار ہو جائیں۔

مہدی عباسی نے کہا: ”میں اجازت دیتا ہوں“۔

ابو یوسف نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے کہا: ”اجازت ہے کہ میں ایک سوال کروں ؟ “

 امام علیہ السلام نے فرمایا: ”سوال کر“۔

ابو یوسف نے کہا: ”جس نے حج کاا حرام باندھ رکھا ہو آیا اس کا سائے میں چلنا جائز ہے ؟ “

امام علیہ السلام نے کہا: ”جائز نہیں ہے“۔

ابو یوسف نے کہا: ”اگر کسی محرم نے زمین میں خیمہ نصب کر رکھا ہو تو کیا اس میں اس کاجانا جائز ہے؟“

امام علیہ السلام نے فرمایا: ”ہاں جائز ہے“۔

ابو یوسف نے کہا: ”ان دونوں سایوں میں کیا فرق ہے کہ پہلے والے میں جائز نہیں اور دوسرے والے میں جائز ہے ؟ “

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے اس سے فرمایا: ”عورت پر اپنی ماہواری کے زمانہ میں چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا کرنا واجب ہے ؟ “

ابو یوسف نے کہا: ”نہیں“۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: ”کیا عورت پر عادت کے زمانہ میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا ہے ؟ “۔

ابو یوسف نے کہا: ”ہاں“۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اب تو یہ بتا کہ ان دونوں کے درمیان کیا فرق ہے کہ پہلے میں عورت پر قضاواجب نہیںہے اور دوسرے میں قضا واجب ہے؟“

ابو یوسف نے کہا: ”احکام میں اسی طرح آیا ہے ؟ “

امام علیہ السلام نے فرمایا: ”حج کے زمانہ میں احرام باندھ لینے والے کے لئے بھی اسی طرح کا حکم آیا ہے جیسا کہ میں نے بتایا شرعی مسائل میں قیاس درست نہیں ہے“۔

ابو یوسف اس جواب سے پانی پانی ہو گیا،مہدی عباسی نے اس سے کہا: ”انھیں شکست دینا چاہتا تھا مگر کامیاب نہ ہو پایا“۔

ابو یوسف نے کہا: ”رمانی بحجر دامغ “موسیٰ بن جعفر نے  مجھے ہلاکت خیز پتھر سے قتل کر دیا جس کی وجہ سے میں بے بس ولاچار ہو گیا۔[64]

 

۲۵۔امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا ہارون کے ساتھ مناظرہ

ہارون رشید خلفائے بنی عباس میںسے پانچواںخلیفہ تھا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران اس نے امام علیہ السلا م کو مخاطب کر تے ہوئے کہا: ” آپ نے خاص و عام میں یہ مشہور کر رکھا ہے کہ آپ پیغمبر کی اولادہیں جب کہ آنحضرت کے کوئی بیٹا ہی نہیں تھا جس کے ذریعہ ان کی نسل آگے بڑھتی، اس کے ساتھ ہی آپ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نسل ہمیشہ بیٹے کی طرف سے آگے بڑھتی ہے اور آپ لوگ ان کی بیٹی کی اولاد میں سے ہیں“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”اگر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ابھی ابھی حاضر ہو جائیں اور تیری لڑکی سے شادی کرنا چاہیں تو کیا تو انھیں مثبت جواب دے گا ؟ “

ہارون: ”میں صرف مثبت جواب ہی نہیں دوں گا“۔بلکہ ان سے رشتہ جوڑکر میں عرب و عجم کے درمیان فخر کروں گا۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میری بیٹی کو پیغام نہیں دیں گے اور میں اپنی لڑکی کو ان کی زوجہ نہیں بنا سکتا“۔

ہارون: ”کیوں“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”اس لئے کہ میری ولادت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سبب سے ہے (کیونکہ میں ان کا نواسہ ہوں )لیکن تیری پیدائش میں وہ سبب نہیں بنے ہیں“۔

ہارون: ”واہ ! بہت اچھا جواب ہے، اب میرا یہ سوال ہے کہ آپ لوگ کیوں خود کو پیغمبر اکرم   کی ذریت سے کہتے ہو جب کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کوئی نسل ہی نہیں تھی کیونکہ نسل لڑکے سے چلتی ہے نہ کہ لڑکی سے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کوئی لڑکا نہیں تھا اور آپ ان کی لڑکی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے ہیں اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی نسل پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نہیں ہوگی ؟!

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”کیا میں جوا ب دوں ؟“

ہارون: ”ہاں“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”خدا وند متعال قرآن مجید میں سورہٴ انعام کی ۸۴ ویں آیت میں ارشادفرماتا ہے:

”وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ وَاٴَیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَہَارُونَ وَکَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ . وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیسَی وَإِلْیَاسَ کُلٌّ مِنْ الصَّالِحِینَ ۔۔۔“[65]

”اور اس کی ذریت سے دادوٴ،سلیمان،ایوب،یوسف،موسیٰ اورہارون ہیں اور ہم اسی طرح نیکوکاروں کو جزادیا کرتے ہیں اور اسی طرح زکریا ویحیٰ و عیسیٰ والیاس یہ سب صالحین میں سے تھے“۔

اب میں تم سے یہ پوچھتا ہوں کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کا کون باپ تھا ؟

ہارون: ”جناب عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہیں تھا“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”جس طرح خداوند متعال نے مذکورہ آیت میں جناب عیسیٰ علیہ السلام کو ماں کی طرف سے پیغمبروں کی ذریت میں قرار دیا ہے اسی طرح ہم بھی اپنی ماں جناب فاطمہ زہرا سلام للہ علیہا کی طرف سے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذریت میں شامل ہیں“۔

اس کے بعد آپ علیہ السلام  نے فرمایا: ”آیا میں اپنی دلیل اور آگے بڑھاوٴں؟“

ہارون نے کہا: ”ہاں بڑھایئے“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”خداوند متعال (مباہلہ کے متعلق )فرماتا ہے:

” فَمَنْ حَاجَّکَ فِیہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اٴَبْنَائَنَا وَاٴَبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَا وَنِسَائَکُمْ وَاٴَنْفُسَنَا وَاٴَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِینَ “[66]

”اب تمہارے پاس علم آجانے کے بعد بھی اگر کوئی (نصاریٰ)کٹ حجتی کرے تو ا ن سے کہہ دوکہ آئیں ہم اپنے بیٹوں کو لے آئیں تم اپنے بیٹوں کو ،ہم اپنی عورتوں کو لے آئیں اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے نفسوں کو لے آئیں اور تم اپنے نفسوں کو، پھرمباہلہ کرکے جھوٹوں پر لعنت کریں“۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: ”آج تک کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ آنحضرت نے مباہلہ کے وقت حضرت علی ،اور فاطمہ زہرا،امام حسن اور امام حسین (سلام اللہ علیہم)کے علاوہ انصار یامہاجرین میں سے بھی کسی کو ساتھ لیا ہو، اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ”انفسنا“ سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں اور ”ابنائنا“سے مراد امام حسن اور امام حسین علیہما السلام ہیں۔خداوند متعال نے حسنین علیہما السلام کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بیٹے کہہ کر یاد کیا ہے۔

ہارون نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی واضح دلیل قبول کر لی اور کہا: بہت خوب اے موسیٰ۔[67]

 

۲۶۔امام علی رضا علیہ السلام کا ابو قرة سے مناظرہ

ابو قرة(اسقف اعظم کے دوستوں میں تھا)امام علی رضا علیہ السلام کے زمانہ کے خبر پردازوں میں تھا۔

امام علی رضا علیہ السلام کے ایک شاگرد صفوان بن یحییٰ کہتے ہیں کہ ابو قرة نے مجھ سے خواہش کی کہ میں اسے امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں لے جاوٴں۔

میں نے امام علی رضا علیہ السلام سے اجازت لی ،آپ نے اجازت دے دی۔ابو قرة نے امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ کر احکام دین ،حلال وحرام کے سلسلے میں چند سوالات کئے۔یہ سوال طول پکڑتے پکڑتے مسئلہ توحید تک پہنچ گیا جس کے بارے میں ابو قرة نے اس طرح سوال کیا:

مجھ سے کچھ لوگوں نے روایت کی ہے کہ خداوند عالم نے اپنا دیدار اور اپنی بات چیت کو دو پیغمبروں کے درمیان تقسیم کر رکھا ہے (یعنی خد ا وند عالم نے دو پیغمبروں کا انتخاب کیا ہے تاکہ ایک سےگفتگو کرے اور دوسرے کو اپنا کو دیدار کرائے )۔لہٰذا اس نے ہم کلام ہونے کا مرتبہ جناب موسیٰ علیہ السلام کو دیا اور اپنے دیدار کا رتبہ اور منزلت حضرت محمد   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو عطا فرمایا: ”اس بنا پر خدا ایک ایسا وجود رکھتا ہے جسے دیکھا جا سکتا ہے“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”اگر اس طرح ہوتو جس پیغمبر نے جن وانس کو یہ بتا یا ہے کہ آنکھیں خدا کو دیکھ نہیں سکتی ہیں اور اپنی مخلوقات کے سلسلے میں جو اسے آگاہی ہے اس کا احاطہ کرنا اور اس کی ذات کو سمجھنا کسی کے بس میں نہیں ہے وہ اپنا شبیہ اور مثل نہیں رکھتا ہے وہ کون پیغمبر تھا؟ کیا محمد   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی ذات گرامی نے اس طرح نہیں فرمایاہے؟

ابو قرة: ”ہاں انھوں نے ایسا ہی فرمایا“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”اب یہ کس طرح ممکن ہے کہ جولوگوں کے لئے خدا کی طرف سے آیا ہواور لوگوں کو دعوت حق دے اور لوگوں سے کہے کہ یہ آنکھیں اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ خداکو دیکھ سکیں ،اس کا کوئی شبیہ نہیں اور اس کے بعد خود ہی پیغمبر یہ کہے کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے خدا کو دیکھا ہے اور اس کے احاطہ علمی کو درک کیا ہے کیاوہ انسان کی طرح دیکھا جا سکتا ہے کیا تجھے شرم محسوس نہیں ہوتی ؟ “

بے دین اور ٹیڑھے دل والے افراد بھی اس طرح کی کوئی نسبت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نہیں دے سکے کہ پہلے انھوں نے اس طرح فرمایا اور اس کے اس بر عکس کہنے لگے۔

ابو قرة: ”خدا وند متعال خود قرآن مجید کے سورہٴ نجم (آیت ۱۳ )میں فرماتا ہے:

”وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَةً اٴُخْرَی“

”اور سول خدا نے خدا کو دوبارہ دیکھا“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”اسی جگہ سورہٴ نجم کی ۱۱ویں آیت بھی ہے جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو دیکھا ہے اسے بیان کیا ہے۔

” مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٴَی“

”ان کے دل نے جو کچھ دیکھا اسے کبھی نہیں جھٹلایا“۔

اور اسی سورہ میں آیت نمبر ۱۸ میں خدا وند متعال نے اس چیز کا بھی پتہ بتا دیا جسے پیغمبر اکرم   نے دیکھا ہے:

”لَقَدْ رَاٴَی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرَی “[68]

”اس نے اپنے پروردگار کی بڑی نشانیاں دیکھی ہیں“۔

پس وہ نشانیاں جنھیں رسول نے دیکھی وہ ذات خدا کے علاوہ کوئی اور چیز ہے۔

اس طرح خدا وند عالم (سورہٴ طہ کی ۱۱۰ ویں آیت میں )ارشاد فرماتا ہے:

”وَلاَیُحِیطُونَ بِہِ عِلْمًا“

”وہ خدا وند عالم سے آگاہی نہیں رکھتے“۔

اس بنا پر اگر آنکھیں خدا کو دیکھ سکتی ہیں اور سمجھ سکتی ہیں تو اس کے آگاہی اور علم کا احاطہ بھی کر سکتی ہیں (جب کہ مذکورہ آیت میں یہ کہا جارہا ہے کہ اس کے علم وآگاہی کا احاطہ نا ممکن ہے  )

ابو قرة: ”توتم ان روایتوں کی تکذیب کر رہے ہو جن میں یہ کہا گیا ہے کہ پیغمبر  صلی الله علیه و آله وسلم نے خدا کو دیکھا ہے ؟ “

امام علی رضا علیہ السلام: ”اگر روایتیں قرآن کے مخالف ہوں گی تو میں ان کی تکذیب کروں گا اور تمام مسلمان جس رائے پر متفق ہیں وہ یہ ہے کہ نہ اس کے علم وآگاہی کا کوئی احاطہ کر سکتا ہے اور نہ ہی آنکھیں اسے دیکھ سکتی ہے وہ کسی بھی چیز سے شباہت نہیں رکھتا“۔[69]

نیز صفوان کہتے ہیں: امام علی رضا علیہ السلام سے ملنے کی اجازت کے لئے ابو قرة نے مجھے واسطہ قرار دیا اور اجازت ملنے کے بعدوہ وہاں پہنچ کر اول چند سوال حرام اور حلال کے سلسلے میں دریافت کئے یہاں تک کہ ابو قرة نے پوچھا: آیا آپ اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ خدا محمول ہے؟“

امام علی رضا علیہ السلام: ”محمول اس کو کہتے ہیں کہ جس پر کوئی فعل حمل ہو ا ہواور اس حمل کی نسبت کسی دوسرے کی طرف دی گئی ہو اور محمول ایک ایسا لفظ ہے جس کے معنی نقص اور دوسرے کے سہارے کے ہوتے ہیں جسے نسبت کہا جاتا ہے مثلاًتم کہتے ہو زیر ،زبر،اوپر نیچے جس میں زبر اور اوپر کا لفظ قابل تعریف اور اچھا سمجھا جاتا ہے اور زیر اور نچے کا لفظ ناقص سمجھا جاتا ہے اور یہ مناسب نہیں ہے کہ خداوند متعال قابل تغیر ہو۔خدا خود حامل یعنی تمام چیزوں کی نگہداشت کرنے والاہے اور لفظ محمول بغیر کسی کے سہارے کے کوئی معنی ومفہوم نہیں رکھتا (اس بنا پر اس کے لئے لفظ محمول مناسب نہیں ہے) اور جو شخص خدا پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی عظمت کاقائل ہے، اس لئے تم نے کبھی یہ نہ سنا ہوگا کہ اللہ سے دعاکرتے وقت اسے ”اے محمول“کہہ کر پکارا جائے! “

ابو قرة: ”خدا وند متعال قرآن کریم (سورہٴ حاقہ ، آیت ۱۷)میں ارشاد فرماتا ہے:

” وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَہُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمَانِیَةٌ“

”اور اس دن آٹھ لوگ تمہارے پروردگار کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے“۔

اور اسی طرح (سورہٴ غافر کی ساتویں آیت میں)فرماتا ہے:

”الَّذِینَ یَحْمِلُونَ الْعَرْشَ“

”جوعرش اٹھاتے ہیں“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”عرش ،خدا کانام نہیں ہے بلکہ عرش علم اور قدرت کا نام ہے اور ایک ایسا عرش ہے کہ جس کے درمیان تمام چیزیں پائی جاتی ہیں اس کے بعد خدا وند متعال نے حمل اور عرش کی نسبت اپنے فرشتوں کی طرف دی ہے۔

ابو قرة: ”ایک روایت میں آیا ہے کہ جب بھی خداوند متعال غضبناک ہوتا ہے تو فرشتے اس کے غصہ کے وزن کو اپنے کاندھوں پر محسوس کرتے ہیں اور سجدہ میں گرجاتے ہیں جب خداکا غصہ ختم ہوجاتا ہے تو ان کے کاندھے ہلکے ہو جاتے ہیں اور اپنی عام حالت میں واپس آجاتے ہیں۔کیا آپ اس روایت کی بھی تکذیب کریں گے؟ “

امام علی رضا علیہ السلام نے اس روایت کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ”اے ابو قرة! تو یہ بتا کہ جب خدا وند عالم نے شیطان پر لعنت کی اور اپنے دربار سے نکالا تب سے لے کر آج تک کیا خدا شیطان سے خوش ہوا ہے ؟(ہرگز اس سے خوش نہیں ہوا)بلکہ ہمیشہ شیطان اور اس کے چاہنے والے اور اس کی پیروی کرنے والوں پر غضبناک ہی رہا ہے (اس طرح تیرے قول کے مطابق اس وقت سے لے کر آج تک تمام فرشتوں کو سجدہ کی حالت میں رہنا چاہئے جب کہ ایسا نہیں ہے اس سے ثابت ہوگیا کہ عرش خدا کانام نہیں ہے )

پس تو اس وقت کس طرح یہ جرائت کرتا ہے کہ اپنے پروردگار کو تغیر و تبدل جیسے صفتوں سے یاد کرے اور اسے مخلوق کی طرح مختلف حالات سے متصف کرے۔وہ ان تمام چیزوں سے پاک و پاکیزہ ہے اس کی ذات غیر قابل تغیرو تبدل ہے ،دنیا کی تمام چیزیں اس کے قبضے میں ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔[70]

 

۲۷۔ ایک منکر خدا سے امام علی رضا علیہ السلام کا مناظرہ

امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک منکرخداآیا،آپ نے اس سے فرمایا:

”اگر تو حق پر ہے (جب کہ ایسا نہیں ہے)تو اس صوت میں ہم اور تم دونوں برابر ہیں اور نماز، روزہ،حج،زکات اور ہمارا ایمان ہمیں کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر ہم حق پر ہیں(جب کہ ایسا ہی ہے ) تو اس صورت میں ہم کامیاب ہیں اور تو گھاٹے میں ہے اور اس طرح تو ہلاکت میں ہوگا“۔

منکر خدا: ”مجھے یہ سمجھائیں کہ خدا کیا ہے ؟کہاں ہے ؟ “

امام علی رضا علیہ السلام: ” وائے ہو تجھ پرکہ تو جس راستے پر چل رہا ہے وہ غلط ہے ،خدا کو کیفیتوں (وہ کیسا ہے اور کیسا نہیں ہے) سے متصف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اسی نے اشیاء میں کیف و کیفیت کو پیدا کیا ہے اور نہ ہی اسے مکان سے نسبت دی جا سکتی ہے کیونکہ اسی نے حقیقت مکان کو وجود بخشا ہے۔اسی بنا پر خدا وند متعال کو کیفیت اور مکان سے نہیں پہچاناجاسکتا اور نہ ہی وہ حواس سے محسوس کیاجا سکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی چیز کی شبیہ ہو سکتا ہے۔

منکر خدا: ”اگر خدا وند متعال کسی بھی حسی قوت سے در ک نہیں کیا جا سکتا ہے تو وہ کوئی وجود نہیں ہے“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”وائے ہو تجھ پر تیری حسی قوتیں اسے درک کرنے سے عاجز ہوں تو اس کا انکار کر دے گا لیکن میں جب کہ میری بھی حسی قوتیں اسے درک کرنے سے عاجز ہیں ،اس پر ایمان رکھتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ وہ ہمارا پروردگار ہے اور وہ کسی کی شبیہ نہیں ہے“۔

منکر خدا: ”مجھے یہ بتائیں کہ خدا کب سے ہے ؟ “

امام علی رضا علیہ السلام: ”تو یہ بتا کہ خدا کب نہیں تھا تاکہ میں تجھے یہ بتاوٴں کے کہ خدا کب سے ہے ؟ “

منکر خدا: ”خدا کے وجود پرکیا دلیل ہے ؟ “

امام علی رضا علیہ السلام: ”میں جب اپنے پیکر کی طرف نگاہ اٹھاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ اس کے طول وعرض میں کسی طرح کی کوئی کمی و بیشی نہیں کر سکتا اس سے اس کا نقصان دور نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کے فوائد اس تک پہنچا سکتا ہوں، اسی بات سے مجھے یقین ہو گیا کہ اس پیکر کا کوئی بنانے والا ہے اور اسی وجہ سے میں نے وجود صانع کا اقرار کیا۔اس کے علاوہ بادل بنانا، ہواوٴں کا چلانا ،آفتاب اور ماہتاب کو حرکت دینا، اس بات کی نشانی ہے کہ ان کا کوئی نہ کوئی بنانے والا ضرور ہے۔[71]

 

۲۸۔مشیت اور ارادہ کے معنی کے سلسلہ میں ایک مناظرہ

یونس بن عبدالرحمن ،امام علی رضا علیہ السلام کے شاگرد تھے، ان کے زمانہ میں ”قضا وقدر‘کی بڑی گرما گرم بحثیں ہو اکرتی تھیں لہٰذ یونس نے سوچا اس کے متعلق خود امام علی رضا علیہ السلام کی زبانی کچھ سننا چاہئے، یہ اسی مقصد کی تکمیل کے لئے امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور قضاو قدر کی بحث کے متعلق گفتگو کرنے لگے امام علی رضاعلیہ السلام نے فرمایا:

اے یونس ! قدر یہ کا عقیدہ قبول نہ کرو کیونکہ ان کا عقیدہ نہ تو دوزخیوں سے ملتا ہے اور نہ ہی شیطان سے اورنہ ۔۔۔۔[72]

 

یونس: ”خدا کی قسم مجھے اس سلسلے میں قدریہ کا عقیدہ قبول نہیں ہے، بلکہ میرا عقیدہ یہ ہے کہ خدا کے حکم اور ارداہ کے بغیر کوئی چیز وجود میں آتی ہی نہیں“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”اے یونس ! ایسانہیں ہے، بلکہ خدا کی مشیت یہ ہے کہ انسان بھی اپنے امور میں مختار رہے، کیا تم مشیت خدا کا مطلب جانتے ہو؟ “

یونس: ”نہیں“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”مشیت خدا،لوح محفوظ ہے۔کیا تم ارادہ کے مطلب جانتے ہو؟ “

یونس: ”نہیں“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”ارادہ یعنی وہ جو چاہے وہ ہو جائے۔کیا تم قدر کے معنی جانتے ہو؟ “

یونس: ”نہیں“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”قدر یعنی اندازہ،تخمینہ اور احاطہ ہے جیسے مدت حیات اورموت کا علم، اس کے بعد آپ نے فرمایا: ”قضا کا مطلب ہے مضبوط بنانا اور عینی وواقعی قراردینا“۔

یونس ،امام علی رضا علیہ السلام کی اس توضیح سے مطمئن اور خوش حال ہو کر چلنے کو تیار ہوگئے، انھوں نے امام کے سر اقدس کو بوسہ لیتے ہوئے آپ سے چلنے کی اجازت چاہی اور کہا: ”آپ نے میری وہ مشکل حل کر دی جن کے متعلق میں غفلت میں تھا۔ [73]

 

۲۹۔ امام علی نقی (ع) کی فضیلت میں مامون کا بنی عباس سے مناظرہ

شیخ مفید علیہ الرحمة کتاب ”ارشاد“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ عباسی دور کا ساتواں خلیفہ مامون رشید ،امام علی نقی علیہ السلام پر فریفتہ ہو گیا تھا کیونکہ اس نے امام کے علم و فضل اور کمال کا مشاہدہ ان کےبچپن میں ہی کر لیا تھا۔اس نے دیکھا کہ جو علم وکمال امام کی ذات میں پائے جاتے ہیں وہ اس دور کے بڑے بڑے علماء اور دانشوروں میں دکھائی نہیں پڑتے۔

انھیں کمالات کی بنا پر مامون نے اپنی لڑکی (ام فضل)کی شادی آپ سے کر دی اور مامون نے امام کو بڑی شان وشوکت سے مدینہ کی طرف روانہ کیا۔حسن بن محمد سلیمانی ،ریان بن شبیب سے روایت کرتے ہیں کہ جب مامون نے چاہا کہ اپنی بیٹی ام فضل کی شادی امام علی نقی علیہ السلام سے کرے اور یہ بات بنی عباس کے کانوں تک پہنچی تو انھیں یہ بات بہت گراں محسوس ہوئی اور وہ مامون کے اس ارادہ سے بہت ناراض ہوئے انھیں اس بات کا خوف لاحق ہوگیا کہ ولیعہدی کا منصب کہیں بنی ہاشم کے ہاتھوں میں نہ چلا جائے۔

اسی وجہ سے بنی عباس کے تمام افراد نے ایک جگہ جمع ہوکر مامون سے کہا: ”اے امیر الموٴمنین!  ہم لوگ تجھے خدا کی قسم دیتے ہیں کہ تونے جو ام الفضل کی شادی امام علی نقی علیہ السلام سے کرنے کا ارادہ کیا ہے اسے ترک کردے ورنہ اس چیز کا امکان پایا جاتا ہے کہ خداوند متعال نے جو ہمیں منصب و تخت و تاج عنایت فرمایا ہے،وہ ہمارے ہاتھ سے چلا جائے اور جو مقام ومنزلت اور عزت و حشمت کا لباس ہمارے تن پر ہے وہ اتر جائے کیونکہ خاندان بنی ہاشم سے ہمارے آباء اجداد کی دشمنی سے تو اچھی طرح واقف ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ تجھے یہ بھی معلوم ہے کہ گزشتہ تمام خلفاء نے انھیں شہر بدر کیا اور انھیں ہمیشہ جھوٹا سمجھتے رہے اس کے علاوہ تونے جو حرکت امام علی رضا علیہ السلام کے ساتھ کی تھی اس سے ہمیں بہت تشویش ہوئی تھی لیکن خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس سے بچالیاتجھے خدا کی قسم ہے کہ تو اپنے اس عمل میں ذرا غور وفکر کر جس نے ہمارے دلوں میں تکلیف پیدا کر دی ہے، تو اس ارادہ سے باز آجا اور ام فضل کا رشتہ خاندان بنی عباس کے کسی مناسب فرد سے کردے۔

مامون نے بنی عباس کے اعتراض کے جواب میں کیا: ”تمہارے اور ابو طالب کے بیٹوں کے درمیان کینہ پروری اور دشمنی کی وجہ خود تم لوگ ہو !!اگر انھیں انصاف سے ان کا حق دے دو تو اس منصب خلافت کے وہی حقدار ہوتے ہیں لیکن جیسا تم نے بیان کیا کہ ہمارے گزشتہ خلفاء نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیامیں ایسے کاموں سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں خدا کی قسم جو بھی میں نے امام علی رضا علیہ السلام کی ولیعہدی کے لئے کیا تھا اس پر میں ذرا بھی پشیمان نہیں ہوں۔میں نے تو یہی چاہاتھا کہ وہ خلافت کے امور کو سنبھال لیں مگر خود انھوں نے ہی اسے قبول نہیں کیا اس کے بعد خدا نے کیا کیا یہ تم لوگوں نے خود یکھا۔لیکن جس کی وجہ سے میں نے امام جواد کو اپنا داماد بنانا چاہا ہے وہ ان کا بچپن کا علم وفضل ہے وہ تمام لوگوں سے افضل وبرتر ہیں اور ان کی عقل کی بلندی اس عمر میں بھی تعجب خیز ہے، میں تو یہ سوچتا ہوں کہ میری نظروں نے جو دیکھا ہے اس کا تم لوگوں نے بھی مشاہدہ کیا ہے اور بہت جلد ہی تمہیں بھی معلوم ہو جائے گا کہ میں نے جس راستہ کا انتخاب کیا ہے وہی درست ہے“۔

ان لوگوں نے مامون کے جواب میں کہا: ”بیشک اس کم عمر نوجوان کی رفتار و کردار نے تجھے تعجب میں ڈال دیا ہے اور اس طرح اس نے تجھے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے لیکن جو بھی ہو وہ ابھی بچہ ہے اس کا علم و ادراک ابھی کم ہے اسے کچھ دن چھوڑ دے تاکہ وہ با عقل اور علم دین میں فقیہہو جائے اس کے بعد جو تیرا دل چاہے کرنا“۔

مامون نے کہا: ”تم لوگوں پر وائے ہو ،میں اس جوان کو تم سے زیادہ جانتاہوں اور اسے بہت اچھی طرح سے پہچانتا ہوں،یہ جوان اس خاندان سے تعلق رکھتا ہے جوخدا کی طرف سے علم لے کر آتا ہے اور اس کا علم لامحدود ہے کیونکہ اس کے علم کا تعلق امام سے ہوتا ہے اس کے تمام آباوٴاجداد علم دین میں تمام لوگوں سے بے نیاز تھے اور دوسرے لوگ ان کے کمال کے سامنے بے حیثیت تھے اور ان کی ڈیوڑھی پر علم وکمال کے حصول کے لئے ہاتھ پھیلائے کھڑے رہتے تھے اگر تم میری باتوں کی تصدیق کرنا چاہتے ہو تو ان کا امتحان لے لو تاکہ تمہارے نزدیک بھی ان کا فضل وکمال واضح ہو جائے“۔

ان لوگوں نے کہا: ”یہ اچھا مشورہ ہے اور اس بات پر ہم خوش بھی ہیں کہ اس بچہ کی آزمائش ہوجائے اب تو ہمیں اس بات کی اجازت دے کہ ہم کسی ایسے شخص کو لے آئیں جو اس نوجوان سے مسائل شرعیہ کے بارے میں بحث ومناظرہ کر سکے وہ چند سوالات کرے گا اگر انھوں نے اس کے سوالات کے صحیح جواب دیئے تو ہم تجھے اس کا م سے ہر گز نہیں روکیں گے اور اس طرح تجھ پر اپنے پرائے کا فرق بھی واضح ہو جائے گا اور اگر یہ نوجوان جواب دینے سے قاصر رہا تو تجھے پتہ چل جائے گا کہ ہمارا یہ مشورہ مستقبل کے لئے کتنا مفید ہے“۔

مامون نے کہا: ”جہاں بھی تم چاہوان کا امتحان لے سکتے ہو میری طرف سے یہ اجازت ہے“۔

وہ لوگ مامون کے پاس سے چلے گئے اور بعد میں سب نے مل کر یہ پیش کش کر دی کہ مشہور زمانہ عالم اور قاضی یحییٰ بن اکثم کو امام کے مقابل لایاجائے۔

امام محمد تقی علیہ السلام میدان علم و دانش کے مجاہد

وہ سارے اعترض کرنے والے یحییٰ بن اکثم کے پاس گئے اور اسے ڈھیروں دولت کا لالچ دے کر امام علیہ السلام سے مناظرہ کرنے پر آمادہ کر لیا۔

ادھر کچھ لوگ مامون کے پاس تاریخ معین کرنے پہنچ گئے ،مامون نے تاریخ معین کر دی،معین دن اس دور کے بڑے بڑے علماء یحییٰ بن اکثم کے ساتھ موجود تھے ،مامون کے حکم کے مطابق امام محمد تقی علیہ السلام کے لئے مسند بچھائی گئی اور تھوڑی دیر بعد امام علیہ السلام تشریف لے آئے (اس وقت آپ کی عمر محض نو سال تھی)مامون کی مسند بھی آپ کے بالکل قریب بچھی ہوئی تھی وہ اس پر آکر بیٹھ گیا اور دوسروں کو جہاں جگہ ملی بیٹھ گئے۔یحییٰ بن اکثم نے مامون کی طرف رخ کر کے کہا: ”اے امیر الموٴمنین ! کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں ابو جعفر سے سوال کروں؟“

مامون: ”خود ان سے اجازت لو“۔

یحییٰ بن اکثم نے آپ کی طرف مڑکر کہا: ”میں آپ پر قربان ہو جاوٴں کیا مجھے سوال کرنے کی اجازت ہے ؟ “

امام محمد تقی علیہ السلام: ”پوچھو“۔

یحییٰ: ”اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے حالت احرام میں شکار کیا ہو“۔

امام محمد تقی علیہ السلام: ”آیا حرم میں قتل کیا ہے یاحرم سے باہر ؟وہ مسئلہ اور حکم سے آگاہ تھا ہی نہیں؟جان بوجھ کر شکار کیا یابھول کر ؟پہلی دفعہ تھا یا اس سے پہلے بھی چند دفعہ ایسا کر چکا تھا؟وہ شکار پرندہ تھا یا اس کے علاوہ کچھ اور ؟وہ شکار چھوٹا تھا یا بڑا اور ساتھ ساتھ اس کام میں وہ بے باک تھا یا پشیمان ؟دن میں تھا یا رات میں؟احرام عمرہ میں تھایا احرام حج میں؟(ان بائیس (۲۲) قسموں میں سے کون سی قسم تھی کیونکہ ان سب کا حکم الگ الگ ہے )

یحییٰ ان سوالات کے سامنے حیرت زدہ ہو گیا اور اس کی بے بسی اور لاچاری کی کیفیت چہرہ سے ظاہرہونے لگی،اس کی زبان لکنت کرنے لگی۔اس کی یہ حالت دیکھ کر تمام لوگوں نے امام محمد تقی علیہ السلام کے سامنے اسے بے بس اور لاچار سمجھ لیا۔

مامون نے کہا: ”خدا وند عالم کی اس نعمت پر شکر ادا کرتا ہوں کہ جو میں نے سوچ رکھا تھا وہی ہوا، اس کے بعد اس نے تمام خاندان کے افراد کی طرف رخ کر کے کہا: ”تم لوگوں نے دیکھا“۔اس کے بعد امام محمد تقی علیہ السلام کا نکاح مامون کی بیٹی سے ہو گیا۔[74]

 

۳۰۔ عراقی فلسفی کی حالت متغیر کردینے والا ایک مناظرہ

اسحاقِ کندی جو کافر تھا، عراق کا بہت بڑا عالم اور فلسفی مانا جاتا تھا ،اس نے قرآن کا مطالعہ کیا تو دیکھا کہ بعض آیتیں بعض کے خلاف ہیں تو اس نے ایک ایسی کتاب لکھنے کا ارادہ کیا جس میں تناقض قرآن کوجمع کردیا گیا ہو،اس نے یہ کام شروع کردیا۔

اس کا ایک شاگرد امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو امام نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہارے درمیان کوئی عاقل و باشعور شخص نہیں ہے جو اسحق کو اس کے اس کام سے باز رکھے؟“

شاگرد نے کہا: ”میں اس کا شاگرد ہوں، اسے اس کام سے کیسے باز رکھ سکتا ہوں“۔

امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: ”میں تمہیں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جسے تم اسحاق کندی سے کہنا ،تم اس کے پاس جاوٴ اور چند دن تک اس کے اس کام میں اس کی مدد کرتے رہو جب وہ تمہیں اپنا قریبی دوست سمجھ لے اور تم سے مانوس ہو جائے تو اس سے کہو کہ میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں وہ کہے گا ”پوچھو“۔تو تم اس سے کہنا: ”اگر قرآن کا بھیجنے والا تمہارے پاس آئے اور آکر کہے کہ جس آیت کے معنی تم نے مراد لئے ہیں ، آیا اس کے معنی اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتے ؟“، اسحاق کندی کہے گا“، ہاں ،یہ امکان پایا جاتا ہے“۔تب تم اس سے کہنا کہ تمہیں کیا معلوم؟! ہوسکتا ہے کہ اس آیت سے جو معنی تم نے سمجھے ہیں خدا نے اس کے علاوہ کوئی دوسرے معنی مراد لئے ہوں“۔

شاگرد اسحاق کندی کے پاس پہنچا اور کچھ دن تک اس کی کتاب کی تالیف میں اس کی مدد کرتا رہا یہاں تک کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے حکم کے مطابق اس نے اسحاق کندی سے کہا: ”آیا اس بات کا امکان ہے کہ خداوند متعال نے اس معنی کے علاوہ کوئی دوسرا مطلب مراد لیا ہو جو تم نے سمجھا ہے؟“۔

استاد نے کہا: ”ہاں ممکن ہے کہ خداوند متعال نے ظاہری معنی سے ہٹ کر کوئی اور معنی مراد لئے ہوں“۔

اس کے بعد اس نے شاگرد سے کہا: ”یہ بات تجھے کس نے بتائی ؟ “

شاگرد نے کہا: ”یوں ہی میرے دل میں یہ سوال پیدا ہو گیا تھا“۔

اس نے کہا: ”یہ بہت ہی معیاری اور پائے کا کلام ہے،ابھی تووہاں تک نہیں پہنچ سکا ہے سچ بتا یہ کس کاکلام ہے ؟ “

شاگرد نے کہا: حضرت امام صادق علیہ السلام کا۔

اسحاق کندی نے کہا: ”ہاں تونے صحیح کہا، اس طرح کی باتیں اس خاندان اہل بیت علیہ السلام  کے علاوہ کہیں اور کوئی فرد نہیں کہہ سکتا“۔

اس کے بعد اسحاق کندی نے آگ منگواکر وہ ساری چیزیں جلاڈالیں جو اس نے تناقض قرآن کے متعلق لکھی تھیں۔[75]


 

[1]  یہ واقعہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا لیکن اس کے اصلی راوی حضرت علی علیہ السلام ہیں، اور یہ واقعہ کتاب ”احتجاج طبرسی“، جلد اول صفحہ ۱۶ تا ۲۴ سے نقل ہوا ہے۔

 [2] جناب عزیر علیہ السلام، جناب موسیٰ علیہ السلام کے بعد انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے ، جو بیت المقدس پر بخت النصر نامی حملہ میں اسیر کر لئے گئے اور شہر بابل (بغداد کے حدود میں) بھیج دئے گئے، جناب عزیر علیہ السلام تقریباًسو سال ”ہخامنشی بادشاہوں“ کے زمانہ میں بابل میں بنی اسرائیل کے لئے تبلیغ دین میں مشغول رہے ۔

یہاں تک کہ ۴۵۸ سال قبل از میلاد (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے ساتھ یروشلم میں گئے جہاں پر بنی اسرائیلیوں میں توریت اور اس کے احکام کو بالکل بھلادیا تھا لیکن جناب عزیر علیہ السلام نے ان کو دوبارہ زندہ کیا اور ان کی اصلاح کی، سر انجام ۴۳۰ سال قبل از میلاد میں ان کا انتقال ہوا، ان کے انتقال کے بعد بنی اسرائیل نے نہ جانے کیا کیا کہا یہاں تک کہ انھیں ”خدا کا بیٹا“ بھی کہہ ڈالا!!۔  

لیکن آج یہ عقیدہ بالکل ختم ہوگیا ہے اور اس کا ماننے والا کوئی نہیں ہے۔

[3] واضح عبارت میں یوں کہیں: دن رات کی جدائی کے پیش نظر پہلے مقدم ہونے والی چیز حادث ہے۔

[4]  یعنی ان کا ایک دوسرے کا محتاج ہونا ان کے حادث ہونے پر دلیل ہے۔

[5] پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مادّیوں سے مناظرہ کرتے ہوئے آرام آرام ،قدم بقدم کے طریقہ سے فائدہ اٹھایا اور درج ذیل چار چیزوں کی بنیاد پر ان کو مغلوب کیا:

۱۔ پہلے اس بنیاد پر کہ ”نہ ملنا ،نہ ہونے پر دلیل نہیں ہے“، حدوث کا مشاہدہ نہ کرنا اس کے ازلیت پر دلیل نہیں ہے، جیسا کہ فناء کا مشاہدہ نہ کرنا اس کے ابدی ہونے پر دلیل نہیں ہے۔؟

۲۔ ممکن ہے کہ ہم حدوث فعلی کے ذریعہ حدوث غائب پر استدلال کریں جو حدوث فعلی کی قسم سے ہے ، جیسے شب و روز کا حدوث فعلی گزشتہ اور آئندہ میں بھی اس کے حدوث کی حکایت کرتا ہے۔

۳۔ حدوث کا حکم محدود ہوتاہے اگرچہ کے اس کے افراد بہت زیادہ ہوں۔

۴۔ اس دنیا کے تمام موجودات کے اجزاء ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں جو ان کے حادث ہونے پر دلیل ہے، کیونکہ قدیم چیز کا کسی چیز کا محتاج ہونامحال ہے۔

[6] احتجاج طبرسی، ج۱، ص۱۶ تا ۲۴۔

 [7] قرآن مجید میں سورہ فرقان، آیت ۷، سورہ اسراء، آیت ۹۰ تا ۹۵ میں اور سورہ زخرف، آیت ۳۱ میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہوا ہے۔

8] سورہٴ کہف، آیت ۱۱۰۔

 [9] سورہ اسراء، آیت ۴۸۔

 [10] یہاں پر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اضافہ فرمایا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی اس گفتگو میں سورہ زخرف آیت ۳۲ کی طرف اشارہ فرمایا۔

 [11] سورہٴ کہف، آیت ۱۱۰، سورہٴ فصلت، آیت ۶۔

 [12] احتجاج طبرسی ج۱، ص۲۶ سے ۳۶ تک کا خلاصہ ،عکرمہ ابن ابو جہل شروع میں پیغمبر اسلام کا بہت سخت دشمن تھا،فتح مکہ کے وقت وہ بھاگ گیا تھالیکن آخر کارمدینہ میں وہ آپ کے ہاتھوں ایمان لایا اور اس نے اتنا بڑا مقام حاصل کر لیا تھا کہ آپ نے اسے قبیلہ ہوازن کے صدقات وزکات حاصل کرنے کے لئے اپنا نمائندہ مقرر کر دیا تھا،وہ ابوبکر کی خلافت کے زمانے میں جنگ ”اجنادین“ یا ”یرموک“میں شہید ہوا، (سفینة البحار ج۲ ص۲۱۶)

 [13] مدینے کے دوبڑے قبیلے جو اسلام کے بعد متحد ہوئے اور جنھیں انصار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔

 [14] آزاد بحث اگر چہ ایک اسلامی موضوع ہے جس کے ذریعہ حق آشکار ہوتا ہے لیکن یہودیوں نے چاہا کہ اس بحث کی آڑ میں اسلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شخصیت کو مجروح کریں لیکن وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔

 [15] سوره بقره آیت 88.

[16] عبد اللہ کانام ”حُصین “تھا، یہودی ا س کا بڑا احترام کرتے تھے، اسلام لانے کے بعد آنحضرت  صلی الله علیه و آله وسلم نے اس کا نام عبد اللہ رکھا دیا تھا۔

[17] اس سے پتہ چلتا ہے کہ عبد اللہ ضدی ،سرکش،خود خواہ اور نفسانی خواہشات کا اسیر نہیں تھا بلکہ حق پسند وحق طلب تھا اسی وجہ سے وہ یقینی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا،حق طلبی کی پہلی شرط یہ ہے کہ انسان آزاد فکر اور ہر طرح کے تعصب سے دور ہو۔

[18] بعض مفسروں نے ان آیتوں کی شان نزول کے بارے میں کہا ہے کہ یہ عبد اللہ بن صوریا کے بارے میں نازل ہوئی ہےں لیکن اس سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی کہ عبد اللہ بن سلام نے اس طرح کی بحث نہ کی ہوگی ۔

 [19] جیسا کہ ہم نے عرض کیا اس کا نام حُصین تھا ۔

 [20] نا سخ التواریخ ج۱،ص ۳۹،سیرة ابن ہشام ج۱، ص۵۱۶اور احتجاج طبرسی ج۱۔

 [21] سورہٴ بقرہ، آیت ۱۳۹ ۔

[22] ” وَلِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاٴَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللهِ إِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِیمٌ“ (سورہ بقرہ، آیت ۱۱۵)

 [23] قبلہ کی تبدیلی میں چند مصلحتیں تھیں منجملہ:

۱۔عرب کے قبیلےکعبہ کو پسند کرتے تھے لہٰذا وہ اس کی وجہ سے اسلام کی طرف راغب ہوئے۔

 ۲۔کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کے حکم سے بنایاتھا حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریبا ًتمام مذاہب میں محترم تھے لہٰذا تمام مذاہب اسلام کی طرف مائل ہوئے ۔

۳۔یہودیوں کا اعتراض کہ مسلمانوں کا الگ قبلہ نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے قبلہ ہی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں اس تبدیلی سے بر طرف ہوگیا۔

۴۔مکہ مسلمانوں کے لئے نزدیک تھا اس کو قبلہ بنانا اس بات کا سبب بنا کہ مسلمان کعبہ اور مکہ کو بت پرستوں سے پاک کریں اور اپنے قبلہ کو اسلام کے پرچم تلے لے آئیں۔

۵۔اس تبدیلی سے پیغمبر کا احترام بھی مقصود تھا کیونکہ مکہ آپ کی جائے پیدائش تھا۔

۶۔ایک مقصد مومن اور غیر مومن کی شناخت تھا جیسا کہ آپ اس مناظرہ کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں گے ۔

 [24]  یہ حکم یہودیوں کو اپنی طرف مائل کر سکتا تھا جیسا کہ منصف مزاج یہودی مائل ہوئے ۔

[25] بحار الا انوار ، نیا ایڈیشن،ج۹،۳۰۳ ،تفسیر نمونہ ،ج۱،ص۲۵۶، ناسخ التواریخ ہجرت ، ج۱، ص۹۲،احتجاج طبرسی ج۱ ، ص۴۴ وغیرہ سے اقتباس ۔یہاں پر یہ بات بھی یادرہے کہ سمت قبلہ کی تبدیلی ایک طرح کی آزمائش تھی تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ تمام مسلمان اسلامی قوانین کے پوری طرح پابند ہیں یا نہیں؟ اوریہ بات بھی واضح ہے کہ خصوصاً ایسے مقامات پر منافقین غیر محسوس طریقہ اور نادانستگی کے عالم میں اپنے آپ کو پہچنوا دیتے ہیں ،ایسے ہی مواقع پر مومنین اور کمزور ایمان والے اشخاص کے درمیان ممتاز ہو جاتے ہیں اور ان کی شناخت نہایت آسان ہو جاتی ہے۔

[26] بحار الانوار ، نیا ایڈیشن،ج۹،ص۲۸۲۔ 

[27] بعض مورخین نے ان منافقوں کی تعداد ۱۲ بتائی ہے جن میں سے ۸ قریش کے اور ۴ مدینہ کے تھے۔

[28] پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس مناظرہ میں بھی اس وجہ سے کہ قدرت طلب منافقین رہبری کے مسئلہ پر اعتراض کر رہے تھے اور ان کا سارا ہم و غم رہبری اور امامت کو نقصان پہنچا نا تھا لہٰذا آنحضرت نے تفصیل کے ساتھ گفتگو کی یہاں تک کہ فرشتوں کے سجدہ کو جو رہبری اور شائستہ انسانوں کو خداکی جانشینی کے بارے میں تھا آنحضرت نے ان لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیا تاکہ ولایت واسلامی رہبری کے مسئلے کو اپنی ہوا ہوس کا بازار قرار نہیں نہ دے سکیں۔

 [29] احتجاج طبرسی ج۱ص۹۵ سیرہ ابن ہشام ج۳ ص۵۲۷ سے اقتباس۔

 [30] سورہٴ مائدہ کی ۸۳ ویں آیت ۔

 [31] سیرہ حلبی ج۱،ص۳۸۳۔

 [32] یہ مفصل گفتگو بحار الانوار ج۲۱ص۲۷۶پر ذکر ہوئی ہے۔

[33] حالانکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی اس حرکت کا توڑ کر لیا تھا لیکن پھر بھی بعض ضعیف الاعتقاد لوگ متاثر ہو ئے بغیر نہ رہ سکے ،یہ لوگ حسرت سے کہتے تھے کہ اے کاش! ہم لوگ بھی ان عیسائیوں کی طرح مالدار ہوتے،یہاں تک کہ اس بارے میں سورہ آل عمران کی ۱۵ ویں آیت نازل ہوئی جس میں ارشاد ہوتا ہے: ”(اے پیغمبر !)کہہ دو کہ کیا میں تم کو ایسی چیز کا پتہ بتاوٴں جو اس مادی سرمایہ سے بہتر ہوان لوگوں کے لئے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک دوسرے جہان میں ایسے باغ ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں رواں ہیں وہ اس میں ہمیشہ اپنی پاکیزہ بیویوں کے ساتھ رہیں گے۔

[34] [34] بحار الانوار ج۲۱،ص۳۱۹۔سیرہ ابن ہشام ج۲،ص۱۷۵، فتوح البدان ص ۱۷۶ اور اقبال ابن طاووٴس ص۴۹۶۔

 [35] البدایہ ،ج۵،ص۹۸۔

[36] البدایہ ،ج۵،ص۵۵۔

 [37] کتاب الصفین، مولفہ ابن مزاحم، ص۴۶۸ تا ۴۷۱سے اقتباس۔

 [38] نہج البلاغہ ، مکتوب نمبر ۱۷ سے اقتباس۔

 [39] الغدیر ،ج۱،ص۱۶۳ سے ۱۶۶ تک کا خلاصہ ،فرائد السمطین ،باب ۷۸،سمط اول۔

[40] اعیان الشیعہ، ج ۴۲، ص ۲۱۵۔

 [41] سورہٴ شوریٰ آیت ۲۳۔

 [42] سورہ احزاب، آیت ۳۳۔

 [43] لہوف، سید بن طاووس، ص ۱۷۷ و ۱۷۸۔

 [44] اصول کافی، ج۱، ص۷۲۔۷۳۔

 [45] اصول کافی ، ج ۱ ، ص۷۶ و ۷۷ ۔

 [46] اصول کافی ، ج ۱ ص ۷۷ ۔

 [47] اصول کافی ج ۱ ص ۷۸۔ 

[48] اس بات پر توجہ رہنا چاہئے کہ خدا کی قدرت محال چیزوں سے تعلق نہیں رکھتی۔اس جواب میں امام کا مقصد در اصل عوام کو قانع کرنا تھا جیسے اگر کسی سے پوچھا جائے کہ کیا انسان اڑسکتا ہے ؟اور وہ اس کے جواب میں کہے: ”ہاں اڑ سکتا ہے وہ ایک ہوائی جہاز بنائے اور اس میں بیٹھ کر فضا میں پرواز کر سکتا ہے“۔امام ،آنکھ کے ڈھیلے کی مثال سے یہ بتانا چاہتے تھے کہ اگر تم قدرت خدا سمجھنا چاہتے ہو تو اس طرح سمجھو نہ کہ غیر معقول مثال کے ذریعہ کہ کیا خدا انڈہ میں پوری دنیا سمو سکتا ہے جب کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ انڈہ بڑاہو یا یہ بھی کوئی محال کام نہیں ہے اور خدا اس بات پر قادر ہے اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت محال ہے اور خدا محالات عقلیہ پر قدرت نہیں رکھتا یہ توایسا ہی ہوگا کہ ہم سوال کریں کہ کیا خدا اس بات پر قادر ہے کہ وہ دو اور دو چار کے بجائے پانچ کر دے۔اس طرح کا سوال سراسر غلط ہے، اس مسئلہ کی مکمل تحقیق اور یہ کہ خدا کی قدرت محال چیزوں سے متعلق ہوتی ہے یا نہیں اس سلسلہ میں مختلف کلامی اور فلسفی بحثوں پر مشتمل کتابوں کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے ۔

[49] اصول کافی ، ص ۷۹ و۸۰۔

[50]  کیونکہ ان دونوں میں ہر جہت سے اختلاف کا فرض غلط ہے کیونکہ دو چیزیں بھلے (ایک ہی جہت سے )مانند و مثل ضرور رکھتی ہیں جیسے جہت وجود وہستی میں ہر موجود شئے ایک دوسرے کی مثل ومانند ہے ۔

[51] اصول کافی ،حدیث ۵، ص۸۰و ۸۱ ج۱ ، تلخیص و توضیح اور موٴلف کی طرف سے نقل معنی کے ساتھ ۔

[52] انوار البہیہ، ص ۱۵۲۔

 [53] سفینة البحار ،ج ۱،ص ۱۵۷۔

 [54] اصول کافی، ج۱، ص۱۲۸۔

[55] شامی دانشور ایک سنّی عالم دین تھا ۔

[56] علم کلام ایک ایسا علم ہے جو اصول عقائد میں عقلی ونقلی دلیلوں کے ذریعہ بحث کرتا ہے ۔

[57] اس سے مراد ابو جعفر محمد بن علی بن نعمان کوفی ہیں جن کا لقب ”احول “تھا کوفہ کے محلہ طاق المحامل میں ان کی دکان تھی اسی لئے ان کو ”مومن طاق “کہتے تھے مگر ان کے مخالفین ان کو ”شیطان الطاق “کہا کرتے تھے (سفینة البحار ج۲، ص ۱۰۰)

[58] اصو ل کافی ج۱، ص۱۷۱۔

 [59] اصول کافی ، ص ۱۷۲و ۱۷۳ ۔

[60] الشافی سید مرتضی ،ص ۱۲۔تنقیح المقال ،ج ۳ ص۲۹۵۔

[61] جاثلیق ،عیسائیت کی ایک بڑی شخصیت ہوتی ہے اس کے بعد ”مطران“کا درجہ ہوتا ہے اور اس کے بعد ”اسقف “اور اسقف کے بعد” قیس“کا درجہ ہوتا ہے۔

 [62] سورہ آل عمران ، آیت ۳۴۔

[63] انوار البھیہ ،ص۱۸۹ تا ۱۹۲۔ 

[64] عیون اخبار الرضا ج۱، ص۷۸ سے اقتباس ۔

[65] سورہ انعام، آیت ۸۴ و ۸۵۔

[66] سورہآل عمران ، آیت ۶۱۔

[67] احتجاج طبرسی ج۱،ص۱۶۳ سے ۱۶۵ سے اقتباس ،اسی بنا پر بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تمام اولادجو قیامت تک ان کی نسل سے وجود میں آئے گی سید ہوگی اور رسول اسلام کی ذریت میں شمار ہوگی، لہٰذا اگر کسی کا باپ سید نہ ہو لیکن اس کی ماں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی نسل سے ہو تو وہ سید ہوگا۔(غور کریں)، موٴلف۔

[68] سورہ نجم، آیت ۱۸۔

 [69] اصول کافی ، باب ابطال الروٴیة، حدیث۱، ص۹۵و ۹۶، ج ۱۔

 [70] اصول کافی ، جلد ۱، باب ابطال الرویة ،ص۱۳۰و ۱۳۱۔

 [71] اصول کافی ،ج۱،ص۷۸۔

 [72] قدریہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا یہ کہنا ہے کہ خدانے تمام امور بندوں پر چھوڑ دیئے ہیں۔

[73] اصول کافی ج۱،ص۱۵۷و۱۵۸۔

[74] ترجمہ ارشاد شیخ مفید ،ج۲،ص۲۶۹ سے لے کر ۲۷۳ تک۔

[75] انو ار البھیہ، ص۳۴۹۔ ۳۵۰۔ 

index