next

پانچویں فصل

back

 

 

زندگی کے مختلف حالات میں

آپ کے خصوصی امتیازات

      کعبہ میں آپ(ع) کی ولادت

 شیخ مفید قدس سرہ کھتے ھیں کہ حضرت ابوالحسن علی ابن ابی طالب علیہ السلام مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے اندر ۱۳ رجب ۳۰ /عام الفیل بروز جمعہ کو پیدا ھوئے ۔ آپ (ع) کی ولادت سے پھلے نہ کوئی خانہ کعبہ میں پیدا ھوا اور نہ آپ (ع) کی ولادت کے بعد کوئی اس میں پیدا ھوگا ۔یہ اللہ تعالی کی طرف سے آپ(ع) کے لئے خصوصی عزت و اکرام اور جلالت و شرافت کا مقام ھے ۔[1]

 

رسول خدا(ص) کی آغوش میں آ پ کی تربیت :

ابن حدید کھتے ھیں قریش کو ایک مرتبہ قحط کا سامنا کرنا پڑا اس وقت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دونوں چچا جناب حمزہ ۻ اور جناب عباسۻ سے ارشاد فرمایا :

 ھمیں چاہئے کہ ھم اس مشکل میں جناب ابوطالب کا بوجھ تقسیم کریں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ھمراہ وہ دونوں بھی حضرت ابوطالب علیہ السلام کے ہاں تشریف لائے اور ان سے کھاکہ آپ اپنا ایک ایک بچہ ھمیں دے دیں ھم ان کی پرورش اپنے ذمہ لیتے ھیں۔

 حضرت ابوطالب نے فرمایا :

 عقیل کو میرے پاس رھنے دیں کیونکہ عقیل کے ساتھ مجھے بھت محبت ھے اور دوسرے بچے آپ حضرات لے لیں۔

جناب عباس نے طالب کو لیا جناب حمزہ نے جعفر کو لیا اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنی کفالت میں لے لیا اور پھر ان سے فرمایا ۔

 میں نے حضرت علی علیہ السلام کو اللہ کی مرضی سے اختیار کیا ھے وہ سب لوگ اس بات کی گواھی دیتے ھیں کہ حضرت علی علیہ السلام چھ سال کی عمر سے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زیر سایہ آگئے اور آپ ھی نے ان کی تربیت فرمائی ۔[2]

حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ھیں:

 میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سب سے بڑھ کر پیروی کرتا ھوں یہ سب میری والدہ محترمہ کی تربیت کا نتیجہ ھے وہ مجھے ھر روز بلا کر آپ کے اخلاق کی تعلیم دیتیں اور آپ کی پیروی کرنے کا حکم فرماتی تھیں اور میں کئی سال اس بحر علم کے قریب رھالہٰذا جس طرح میں نے انھیں قریب سے دیکھا ھے اس طرح کوئی بھی انھیں نھیں دیکھ سکتا ۔[3]

حضرت امیر علیہ السلام نے مزید فرمایا:

 تم لوگ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ میری انتہائی قربت، خصوصی قدر و منزلت اور ان کی گود میں تربیت کو اچھی طرح جانتے ھو جب میں پیدا ھوا ،تو مجھے اپنے سینے پر لیٹاتے، میری کفالت کرتے ،مجھے اپنے جسم کے ساتھ مس کرتے ،اپنی معرفت کی خوشبو سے معطر فرماتے وہ چیزوں کو اپنے منہ سے  چبا چبا کر مجھے کھلاتے اور انھوں نے ھمیشہ میرے قول وفعل کو درست و یکساں پایا۔[4]

۱۔ عبادت :

آپ عام مخلوقات میں منفرد ھیں ۔آپ (ع)کی وہ خصوصیات اور امتیازات جن کے آپ (ع)تنھامالک ھیں اور جن کی وجہ سے آپ (ع)پوری کائنات میں منفرد اور ممتاز ھیں۔ آپ(ع) ارشاد فرماتے ھیں۔

لقد عبدت اللہ قبل ان یعبدہ احد من ھذا الامہ سبع سنین۔

میں سات سال کے سن میں اس وقت اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا جب اس امت کا کوئی فرد بھی اللہ کی عبادت سے آشنا نھیں تھا۔

اور آپ مزید فرماتے ھیں کہ میں سات سال کی عمر میں آواز (رسالت ) سنتا اور نور (رسالت) کو دیکھتا تھا اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس وقت خاموش رھتے تھے اور انھیں اس وقت لوگوں کو ڈراتے اور تبلیغ کا حکم نھیں دیا گیا تھا ۔[5]

۲۔دعوت ذوالعشیرہ:

آپ (ع)کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت  یہ ھے ۔(جس میں کوئی بھی آپکا شرےک نھیں ھے)کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالعشیرہ ےعنی (اٴنذِرعشیرتک  الاٴقربین) کے دن فرمایا:

اٴنتَ اٴخي وو صیي و وزیري ووارثيو خلیفتي من بعدي۔

آپ(ع) میرے بعد میرے بھائی ،وصی وزیر  ،وارث خلیفہ اور جانشےن ھیں۔[6]

۳۔شب ھجرت :

جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی طرف ھجرت کی تو اس رات حضور نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کو اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا آپ(ع) اس رات بستر رسول پر آرام و سکون کی نےند سوئے اور اس خصوصیت  میں آپ (ع) تمام لوگوں میں ممتاز اور منفرد ھیں۔ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اس رات اپنی زندگی اور نفس کو اللہ کی اطاعت میں اللہ کے ہاتھ فروخت کردیا ۔آپ(ع) کے علاوہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی زندگی کو فروخت نھیں کیا۔ آپ (ع)نے یہ معاملہ اس لئے کیا تھا تاکہ حضور(ص) دشمنوں کے فریب سے نجات پا سکیں۔ اور یھی چیز حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نجات کا سبب بنی ۔ آپ(ع) نے جب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر وہ رات گزاری تو آپ(ع) کی شان میں یہ آیت نازل ھوئی ۔[7]

<وَمِنْ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی نَفْسَہُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَاللهُ رَئُوفٌ بِالْعِبَادِ>[8]

لوگوں میں سے کچھ ایسے لوگ ھیں جواللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان تک بےچ ڈالتے ھیں اور اللہ ایسے بندوں پر بڑا ھی شفقت والا ھے ۔

۴۔ مواخات (رشتہ اخوت):

تمام مسلمانوں میں حضرت علی علیہ السلام ھی کو یہ امتیاز حاصل ھے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کے درمیان مواخات(اخوت) قائم ھوئی۔

 حاکم مستدرک میں جناب ابن عمر کی سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ھیں کہ جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر حضرت طلحہ اور حضرت زبیر ، حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمان بن عوف ایک دوسرے کے بھائی بنے تھے حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے اپنے تمام اصحاب کے درمیان مواخات اور بھائی چارہ قائم فرمایا ۔لیکن میرا بھائی کون ھے؟حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ا ما ترضیٰ  یا علی ان اکون اخاک    

 کیا آپ (ع)اس پر راضی نھیں ھیں کہ میں آپ(ع) کا بھائی ھوں۔

 ابن عمر کھتے ھیں کہ حضرت علی علیہ السلام بڑے بہادر اور شجاع تھے حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں چاھتا ھوں کہ میں آپ(ع) کا بھائی بنوں تو اس وقت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

اٴنت اٴخي في الدنیا والاٴ خرة ۔[9]

آپ (ع)دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ھیں ۔

              

۵۔ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہاکے ساتھ آپ کی شادی

حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے امتیازات میں سے ایک یہ ھے آپ کا عقد جناب فاطمہ زھراسلام اللہ علیہاسے ھوا پوری کائنات میں یہ شرف فقط آپ ھی کو نصےب ھوا ھے۔ اس سے معلوم ھوتا ھے کہ حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک آپ کا ایک خاص مقام تھا تبھی تو انھوں نے آپ کی شادی جناب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاکے ساتھ کی۔

خوارزمی اپنی کتاب مناقب میں حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی روایت بیان کرتے ھیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

میرے پاس فرشتہ نازل ھوا اور اس نے کھاکہ اللہ آپ کو سلام کہہ رھاھے اور اللہ نے کھاھے حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاکی شادی حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ کردیں ۔اور حضور نے میرے ساتھ جناب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاکی شادی کر دی اور شجرہ طوبی کو حکم د یا کہ وہ موتی، یاقوت اور مرجان اٹھائے اور اھل آسمان میں اس خبر سے خوشی کی لھر دوڑ گئی۔

اور مزید فرمایا عنقریب ان سے دو بچے پیدا ھونگے جو جوانان جنت کے سردار ھونگے اور انھی کے ذرےعے اھل جنت مزےن ھونگے اے محمد مصطفی آپ کے لئے بشارت ھے کہ آپ اولین اور آخرین میں سب سے بھترین  انسان ھیں۔[10]

۶۔میدان جہاد میں آپ کے امتیازات   :

حضرت علی علیہ السلام میدان جہاد میں ایسی منفرد خصوصیات کے مالک ھیں جس کے ساتھ آپ کے علاوہ کوئی اور متصف نھیں ھو سکتایھی وجہ ھے کہ ابن ابی الحدید کھتے ھیں :

آپ مجاھدوں کے سردار ھیں اور جہاد میں آپ کی شخصےت منفرد ھے۔[11]

آپ ایسے شجاع ھیں جن کی شجاعت میں کسی قسم کا شک و شبہ نھیں کیا جاسکتا،کسی نے آپ کے سامنے مبارزہ طلبی نھیں کی مگر یہ کہ وہ قتل ھو گیا آپ کی کوئی ضربت ایسی نھیں جس کے بعد دوسری ضربت لگانے کی ضرورت پڑے بلکہ آپ کے ایک ھی وار سے دشمن کا کام تمام ھو جاتاتھا میدان میں جو عرب آپ (ع) کے مقابلے میں آتا وہ فخر کیا کرتا تھا کہ میں بہادر ھوںکیونکہ کہ میں (حضرت) علی (علیہ السلام) کے مقابلے میں گیا ھوں۔[12]

اور اگر آپ کے جہادکے متعلق لکھنا چاھیں توحضرت علی علیہ السلام کا تذکر ہ قیامت تک ختم نھیں ھو گا ۔

جنگ بدر :

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی جنگ ، جنگ بدر ھے۔ اس میں مشرکوں کے ساتھ شدےد ترےن جنگ ھوئی جس میں مشرکوں کے ستر افراد مارے گئے۔ ان میں سے آدھے تنھاحضرت علی علیہ السلام نے فی النار کئے باقی ملائکہ اور تمام مسلمانوں نے مل کر قتل کئے۔[13]

جنگ احد

اس بات کو آپ جانتے ھیںکہ جنگ احد میں مشرکوں کی شکست ان کی کامیابی سے بدل گئی کیونکہ مسلمانوں نے وہ جگہ چھوڑ دی جہاں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں پھرا دینے کو کھاتھا۔ شکست خوردہ دشمنوں نے موقع پاکر مسلمانوں کے پیچھے سے حملہ کر دیا اور کچھ لوگوں کو قتل کر دیا ۔ان میں سے ایک شخص نے آواز دی کہ( حضرت) محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کر دئے گئے ھے۔ (یہ سننا ھی تھا )حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ سب مسلمان بھاگ گئے ۔

فقط آپ(ع) ھی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دشمنوں کے حملے سے بچاتے اور ان کی صفوں پر پے در پے حملہ کرتے تھے۔ جناب ابن عباس کھتے ھیں کہ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی چار خصوصیات ایسی ھیں جو فقط آپ(ع) کی ذات کے ساتھ مخصوص ھیں ۔

آپ(ع) تمام عربوں اور عجموں میں پھلے شخص ھیں جنھوں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ھر مشکل میں ان کا ساتھ دیا اور خوف وھراس کے دن جب سب لوگ حضور کو چھوڑ کر بھاگ گئے تو آپ(ع) ھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صبر و استقامت کے ساتھ قائم رھے، دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ،  صرف آپ(ع) کی ذات نے ھی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دیا اور قبر میں اتارا ۔[14]

اور آپ(ع) کی شان میں فرشتے نے آسمان سے یہ آواز بلند کی :

لا سیفَ اِلا ذوالفقار ،ولافتیٰ اِلّا علي ۔

ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نھیں ھے اور حضرت علی (ع)کے علاوہ کوئی جوان نھیں ۔[15]

جنگ خندق

میدان جہاد میں آپ(ع) کے ایسے کارنامے ھیں جن کو دےکھ کر صاحبان عقل حیران و ششدر ھیں۔ ان کار ناموںمیں ایک جنگ خندق بھی ھے۔ اس جنگ میں حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ باقی تمام مسلمانوں نے (فارس یلیل ) عمر وبن عبد و د کے مقابلہ میں آنے سے انکار کر دیا تھا ۔یہ ہزار آدمیوں کے ساتھ تنھامقابلہ کرتا تھا۔ اس نے خندق کو عبور کر کے مسلمانوں کو مقابلے کی دعوت دی۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرو بن عبد ود کے مقابلہ میں حضرت علی علیہ السلام کو بھےجتے ھوئے فرمایا ۔آپ(ع) کا یہ عمل میری امت کے قیامت تک کے اعمال سے افضل ھے۔[16]

جنگ وادی رمل

جنگ وادی رمل جسے غزوہ السلسلہ بھی کھتے ھیں اس جنگ میں جن لوگوں کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھےجا تھا وہ  ناکام لو ٹے۔

 اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام، حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق روانہ ھوئے اور اس قوم کے پاس گئے اور انھیں اختیار دیا یا تم ۔ لا الہ الا اللہ ،محمد رسول اللہ پڑھو یا جنگ کے لئے تیار ھو جاؤ۔

 وہ سب کھنے لگے آپ (ع) بھی اسی طرح واپس لوٹ جائیں جس طرح آپ(ع) کے پھلے ساتھی لوٹ گئے ھیں ۔حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا خدا کی قسم جب تک تم اسلام قبول نھیں کرو گے یا میری تلوار سے ٹکڑے نھیں ھو جاؤ گے میں نھیں جاؤنگا۔

جانتے ھو میں علی (ع) ابن ابی طالب (ع) ھوں جب انھوں نے آپ (ع) کو پہچان لیا تو پوری قوم میں اضطراب پیدا ھو گیا اور وہ لوگ جنگ سے کترانے لگے ۔

حضرت علی علیہ السلام نے ان کے چھ سات آدمیوں کو قتل کیا اس کے بعد تمام مشرکین بھاگ گئے اور مسلمانوں کو اس غزوہ میں کامیابی نصےب ھوئی ۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

لو لا اني اشفق ان تقول فیک طوائف ما قالت النصاری في عیسی بن مریم لقلت فیک الیوم مقالا لا تمر بملا منھم الااخذوا التراب من تحت قدمیک ۔

اگر میں آپ (ع) کے متعلق وہ باتیں ظاھر کر دوں جو کچھ مختلف گروہ آپکے متعلق کھتے ھیں تو لوگ آپ(ع) کے متعلق وہ کچھ کھیں گے جو عےسائی بھی حضرت عیسی ابن مریم (ع)کے متعلق نھیں کھتے۔ آج میں آپ (ع)کے متعلق ایسی بات کھتا تو لوگ کبھی بھی اس کی تاب نہ لا سکتے مگر یہ کہ آپ (ع)کے قدموں کی مٹی اٹھا لیتے۔[17]

( یعنی اگر میں علی (علیہ السلام )کے فضائل بیان کر دیتا تو جس طرح لوگ حضرت عیسی(ع) ابن مریم (ع) کو خدا کا بیٹا کھتے ھیں تو آپ (ع)کے متعلق اسی طرح کا گمان کرتے اور آپ (ع)کے قدموں کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنالیتے )

جنگ بنی قرےضہ اور بنی مصطلق صلح حدےبیہ اورجنگ خیبر

اسی طرح حضرت علی علیہ السلام جنگ بنی قرےضہ اورجنگ بنی مصطلق اور صلح حد ےبیہ میں سب سے ممتاز حیثیت کے مالک رھے ھیں اور ان جنگوں میں بھی آپ(ع) کے عظیم کارنامے ھیں۔

آپ(ع) بڑے بڑے مصائب کو مسلمانوں کے سروں سے ٹالتے رھے  ھیں ۔ جہاں تک جنگ خےبر کا تعلق ھے تواس کے متعلق آپ کیا جانےں کہ جنگ خےبر کیا ھے؟

حضرت ابو بکر نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علم لیا جنگ کی اور ناکام لوٹ آئے ۔ پھر حضرت عمر نے علم اٹھایا جنگ کی اور ناکام بھا گ آئے اس وقت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

اٴماواللہ لا عطےنھّا غدا رجلٓا یحب اللہ و رسولہ و یحبہ اللہ و رسولہ ۔

خدا کی قسم کل میں یہ علم ایک ایسے شخص کو دونگا جو اللہ اور اس کے رسول (ص)سے محبت کرتا ھے اور اللہ اور اس کا رسول(ص) اس سے محبت کرتے ھیں ،آپ (ص)نے ان لوگوں سے وہ علم لے لیا اس وقت حضرت علی علیہ السلام کچھ مرےض تھے۔ جب صبح ھوئی تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت علی کو میرے پاس بلالا ؤ۔ حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے لیکن آپ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔  آنحضرت (ص)نے آ پ (ع) کی آنکھوں میں اپنا لعاب لگایاجس سے درد جاتا رھا۔ پھر آپ (ع) کو علم عطا فرمایا۔ آپ(ع) قلعہ خیبر کے پاس آئے وہاں ایک یھودی نے آپ (ع) کو دےکھا اور پوچھا آپ (ع)کون ھیں۔ آپ (ع) نے فرمایا میں علی  (ع)ابن ابی طالب (ع) ھوں۔ یھودی نے پکار کر کھایھودیو! اس پر غالب آجاؤ۔ اس قلعہ کا مالک مر حب رجز پڑھتے ھوئے باھر نکلا۔ تلوارےں آپس میں ٹکرائےں۔ آخر کار حضرت علی علیہ السلام نے اس کے سر پر بندھے ھوئے پتھر نماخول پر ایک وار کیا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور وہ زمین پر گر پڑا ۔[18]

۷۔نفس رسول:

حضرت امیر المومنین علیہ السلام ،نفس حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھونے کے لحاظ سے بھی باقی لوگوں سے ممتاز ھیں آیت مباھلہ اور دوسری آیات کا بھی یھی فےصلہ ھے کہ فقط نفس رسول آپ (ع) ھی ھیں جیسا کہ سورہ ھود میں ارشاد رب العز ت ھے ۔

< اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بینةٍ مِنْ رَبّہِ وَ ےَتْلُوْہُ شَاھِد مِنْہُ۔>[19]

کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ھو اور اس کے پیچھے ایک گواہ آتا ھو جو اس کا جز ھو۔

 اسی طرح عمران بن حصےےن کی حدیث سے بھی یھی واضح ھوتا ھے۔ عمران کھتا ھے ۔

جس دن لوگ جنگ احد میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تنہاء چھوڑ کر بھاگ گئے تھے تو صرف حضرت علی علیہ السلام اپنی تلوار تھامے آپ کے سامنے موجود تھے۔

حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور آپ سے فرمایا:

آپ (ع)بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نھیں بھا گ گئے؟

حضرت امیر (ع) نے عرض کی یا رسول اللہ کیا میں مسلمان ھونے کے بعد کافر ھو جاتا۔ حضرت رسول اکرم نے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا جو پہاڑ سے اتر رہاتھا حضرت علی علیہ السلام نے ان پر حملہ کیا اور وہ بھاگ گئے۔ پھر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک اور لشکر کی طرف اشارہ کیا۔

آپ (ع)نے ان پر بھی حملہ کیا اور وہ بھی بھاگ گئے ۔حضرت(ص) نے ایک اور گروہ کی طرف اشارہ فرمایا آپ (ع)نے اس گروہ پر بھی حملہ کیا اور انھیں بھی بھگا دیا۔ اس وقت لوگوں نے کہایا رسول اللہ(ص) ،حضرت علی علیہ السلام کا اپنی جان اور نفس کی پروا کیے بغیر آپ (ص)کے ساتھ اس حسن سلوک پر ملائکہ تعجب کرتے ھیں اور ھم بھی اس کے ساتھ متعجب ھیں ۔

حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں کسی قسم کے تعجب کی بات نھیں کیونکہ و ھو منی وانا منہ وہ مجھ سے ھیں اور میں اس سے ھوں۔اس وقت حضرت جبرئےل علیہ السلام نے کھاکہ میں آپ دونوں سے ھوں۔[20]

۸۔ حدیث سد ابواب :

لوگوں نے اس بات کا مشاھدہ کیا حضرت علی علیہ السلام کی شان میں حدیث سد ابواب بیان ھوئی۔ جابر انصاری کھتے ھیں کہ میں حضرت رسو ل خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ(ص)نے باب علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا:

 اس کے علاوہ سب دروازے بند کر دےے جائیں۔

صاحب کفا ےة الطالب کھتے ھیں یہ حدیث حسن اور بھت ھی عالی ھے ۔ اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لئے دروازے بند کرنے کا حکم دیا  تھاکیونکہ یہ دروازے لوگوں کے گھروں میں کھلتے تھے اور مسجد کی طرف سے ان کے گزرنے کا راستہ تھا۔

جب اللہ تبارک تعالی نے حےض اور جنابت کی حالت میں مسجدوں میںداخل ھو نے سے منع فرمادیا تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجنب اور حائض کے مسجد میں داخلے اور مسجد میں ٹھھرنے پر پابندی لگا دی۔ اور سب دروازے بند کروا دیے فقط حضرت علی علیہ السلام کی یہ خصوصیت  تھی کہ ان کے لئے ان مقامات پر آنا جانا مباح تھا اور قرآن مجےد میں اللہ تعالی نے آپ کی تطھیر کو اس طرح بیان فرمایا ھے۔

<إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا۔>

اے اھل بیت اللہ چاھتا ھے کہ آپ سے رجس کو دور رکھے اور آپ کو اس طرح پاک رکھے جس طرح پاک رکھنے کا حق ھے ۔[21]

اس سلسلے میں لوگ مختلف باتیں کرنے لگے تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ھوئے اور اللہ کی حمد وثنا کرنے کے بعد فرمایا اما بعد میں نے ھی باب علی (ع) کے علاوہ سب دروازے بند کرنے کا حکم دیا ھے اوراعتراض کرنے والوں سے کھا:

وا للّہ ما سددتہ ولافتحتہ و لکن  امرِ ت ُ بشیءٍ  فا تبعتہ۔

خدا کی قسم میں اپنی مرضی سے نہ کوئی دروازہ بند کرتا ھوں اور نہ اپنی مرضی سے کوئی دروازہ کھو لتا ھوں مگر جس طرح کھاجاتا ھے میں اس کی پیروی کرتا ھوں۔[22]

۹۔سورہ برائت کی تبلیغ :

بے شک ان احادےث اور روایات میں صا حبان عقل کے لئے عبرت ھے حضرت ابو بکر پھلے ایمان لانے والے میں اور اسلام لانے والے گروہ میں شمار ھوتے ھیں۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو اھل مکہ کی تبلیغ کے لئے سورہ برائت دے کر بھےجا کہ آئند ہ سال مشرک حج نھیں کر سکتے اور خا نہ کعبہ کا عریاں طواف نھیں کر سکتے جنت میں مسلمانوں کے علاوہ کوئی داخل نھیں ھو گا جو ان کے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان معاھدہ ھوا ھے اس کی ایک مدت معےن ھے اللہ تعالی اور اس کا رسول مشرکوں سے براٴت کرتا ھے۔

حضرت نے تبلیغ کی اس مھم پر حضرت ابو بکر کو روانہ کردیا۔پھر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا یا علی (ع) آپ فورا ًابو بکر تک پھنچےں اور اس کو میرے پاس واپس بھےج دیں اور اس پیغام کو اس سے لے کر آپ (ع) خود اھل مکہ کی طرف جائیں۔[23]

سبط ابن جوزی نے اس کے بعد اس روایت کو آخر تک اس طرح بیان کیا ھے کہ حضرت ابو بکر حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لو ٹ آئے اور کھاکہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ھوںکیا میرے بارے میں خداکا کوئی حکم نازل ھوا ھے آپ نے فرمایا نھیں فقط اتنی سی بات ھے کہ تبلیغ کے اس فرےضہ کو میری طرف سے کو ئی دوسرا انجام نھیں دے سکتا مگر وہ شخص جو مجھ سے ھو۔[24]

یہ وہ خاص مقام اور منزلت ھے جو حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو دوسروں سے ممتا ز کردیتی ھے اور اس مو ضو ع پر تدبر کرنے والے اس عمیق معنی کی گھرائی تک پھنچ سکتے ھیں۔

۱۰۔آپ کی شان میں کثیر آیات کا نزول :

حضرت امیر لمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا تمام اصحاب اور تمام لوگو ں سے ممتاز ھونے کی ایک وجہ یہ ھے کہ آپ کی فضیلت اور شان میں کثرت سے آیات نازل ھو ئی ھیں جن میں اللہ کے نزدیک آپ(ع) کا خا ص مقام اور منزلت  ظاھر ھوتی ھے ابن عساکر ابن عباس سے روایت بیان کرتے ھیں کہ اللہ کی کتاب میں جتنی آیات حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ھو ئی ھیں اتنی کسی اور کے لئے نازل نھیں ھوئیں۔ اور ابن عساکر ابن عباس سے یہ بھی بیان کرتے ھیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں تےن سو آیا ت نازل ھو ئیں۔[25]

طبرانی اورابن ابی حاتم جناب ابن عباس سے روایت بیان کرتے ھیں ۔ یاایھاالذین  امنو ا ۔اللہ تعالی نے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل کیا کیونکہ آپ(ع) مومنوں کے امیر اور سردار ھیں اور اللہ تعالی نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو اور مقام پر رکھا جب کہ حضرت علی علیہ السلام کا ذکر فقط خیر کے ساتھ کیا۔[26]

۱۱۔آپ کے لئے سورج کا پلٹنا  :

ھم حضرت علی علیہ السلام کے امتیازات کا کیا ذکر کریں اور آپ کی کس کس خصوصیت کو بیان کریں بے شک آپ کے فضائل روز روشن کی طرح عیاں ھیں ھمارا کام تو فقط صاحبان عقل و علم کو یاد دلانا ھے ۔

 ابن حجر صواعق محرقہ میں کھتے ھیں کہ آپ(ع) کے کرامات و معجزات روز روشن کی طرح واضح ھیں اور ان میں سے ایک یہ ھے کہ آپ (ع)کے لئے سورج پلٹا  جب انبیاء کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے حجرہ میں تشریف فرما تھے اور آپ کا سر اقدس حضرت علی علیہ السلام کی گود میں تھا اورآپ پر وحی نازل ھو رھی تھی حضرت علی علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ راز و نیاز میں مصروف تھے آپ نے نماز عصر نھیں پڑھی تھی کہ سورج غروب ھو گیا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے اور بارگاہ خداوندی میں عرض کی۔

 بارالہا!

 اگر یہ تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں مصروف تھے توان کے لئے سورج کو پلٹا دے چنانچہ سورج غروب ھونے کے بعد دوبارہ طلوع ھو گیا ھے، ابن حجر کھتے ھیں کہ طلحاوی اور قاضی اپنی کتاب شفا میں اس حدیث کی صحت کے قائل ھیں اور شیخ الاسلام ابو زرعہ (الرازی)نے ا س حدیث کو حسن کھاھے۔[27]

ھم یہ عرض کرتے ھیں کہ حضرت علی علیہ السلام کے تمام فضائل کے باوجود کیا اب بھی غیروں کو ان کے برابر لایا جاسکتا ھے ؟

 ابی لیلہ غفاری کھتے ھیں کہ میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ھوئے سنا:

ستکون من بعدی فتنہ فاذا کان ذلک فآلزموا علي بن اٴبيطالب اِنّہ اٴوّلُ مَن یراني واٴوّلُ مَن ےصافحُني یومَ القیامہ وھو معي في السماء ِالعلیا و ھو الفاروق بین الحق والباطل۔      

عنقریب میری وفات کے بعدایک فتنہ برپا ھوگا جب اس طرح ھو تو تم حضرت علی(ع) ابن ابی طالب(ع) کے دامن سے متمسک رھنا کیونکہ یہ سب سے پھلے مجھ سے ملاقات کریں گے اور قیامت کے دن سب سے پھلے مجھ سے مصافحہ کریں گے اور میرے ساتھ آسمان ا علیٰ پر ھونگے اور یھی حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والے ھیں ۔[28]

۱۲۔حق اور علی ساتھ ساتھ:

حق علی کے ساتھ اور علی حق کے ساتھ ھیں سیرت حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف متوجہ ھونے سے آپ کو بھت سے شواھد مل جائیں گے جو آپ کے سب سے افضل ھونے اور حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد مقام خلافت کے زیادہ حق دار ھونے پر دلالت کرتے ھیں اس سے آپ کو حق کا علم ھو جائے گا ترمذی اپنی صحیح میں حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت بیان کرتے ھیں کہ آپ نے فرمایا:

رحم اللّہ علیاً اللّھم ادرِ الحقَ معہ حیث دار ۔

اللہ تبارک و تعالی علی(ع) پر رحم کرے، پروردگاراحق کو ادھر موڑدے جس طرف یہ رخ کریں۔[29]

فخر الدین رازی اپنی تفسیر کبیر میں بسم اللہ کی تفسیر بیان کرتے ھوئے کھتے ھیں:

 جس نے اپنے دین میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی اقتداء کی یقینا وہ ھدایت یافتہ ھے۔ اس کی دلیل حضرت نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ھے:

اللھم اٴدر الحق مع علی حیث دار

 پروردگارا! جدھر جدھر علی جائیں حق کو ادھر موڑ دے ۔

قارئین کرام !یہاں مجھے کھنے دیجیے کہ اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایسا کوئی شخص نھیں تھا جس کے اس قدر فضائل و امتیازات ھوں انصاف پسند افراد کسی بھی خصوصیت میں دوسروں کا مقابلہ حضرت علی علیہ السلام سے نھیں کیاکرتے، چاھے وہ حق خلافت ھویا طہارت و عصمت علی علیہ السلام ۔

۱۳۔محبت علی:

زھری کھتے ھیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ کھتے ھوئے سنا ھے مجھے اس اللہ کی قسم ھے جس کے علاوہ کوئی معبود نھیں میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ھوئے سنا:

عنوان صحیفة الموٴمن حبُ علي بن اٴبي طالب ۔[30]

مومن کے صحیفے کا عنوان( حضرت) علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی محبت ھے ۔

جناب ابن عباس کھتے ھیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

حب عليبن اٴبي طالب یاٴکل السیئات کما تاٴکل النارُ الحطب۔[31]

حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی محبت گناھوں کو اس طرح کھا جاتی ھے جس طرح آگ خشک لکڑی کو راکھ بنا دیتی ھے ۔

حضرت ابن عباس کھتے ھیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو دےکھ کر ارشاد فرمایا :

لایحبک اِلا موٴمن ولا یبغضُک اِلّا منافق مَن اٴحبک فقد اٴحبني و مَن اٴبغضک فقد اٴبغضني وحبیبی حبیب اللہ و بغےضي بغیض اللہ، ویل لمن اٴبغضک بعدي۔

آپ(ع) سے فقط مومن ھی محبت کرسکتا ھے اور فقط منافق ھی آپ سے بغض رکھتا ھے۔

جس نے آپ (ع)سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے آپ کے ساتھ بغض رکھا۔ اس نے میرے ساتھ بغض رکھا میرا محب اللہ کا دوست ھے اور میرے ساتھ بغض رکھنے والا اللہ کے ساتھ بغض رکھنے والا ھے۔  اس شخص کے لئے ھلاکت وتباھی ھے جو میرے بعد آپ(ع) کے ساتھ بغض رکھے گا۔[32]

۱۴۔فضائل علی (ع):

یہ وہ خصوصیات و فضائل ھیں جن کی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام تمام لوگوں سے ممتاز دکھائی دیتے ھیں۔ اللہ تعالی نے واضح طور پر حضرت علی علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے کا ارادہ فرمایا ھے۔

 ابوسعید خدری کھتے ھیں کہ ھم حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے لیکن راستہ میںحضرت علی علیہ السلام کا جوتا ٹوٹ گیا۔

 آپ ھم سے پیچھے رہ گئے اور جوتا سلنے لگ گئے۔ (ھم نے )تھوڑا فاصلہ ھی طے کیا تھا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کون ھے جو قرآن کی تفسیر کرےاس کی تنزیل باریکیوں کے ساتھ بیان کر سکے ۔کچھ لوگ آپ (ص)کے قریب آئے ان میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی تھے۔

حضرت ابو بکر نے کھاوہ میں ھوں۔

حضرت نے فرمایا نھیں۔

حضرت عمر نے کھاوہ میں ھوں۔

حضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے فرمایا نھیں۔ لیکن وہ شخص جوجوتا سل رہاھے (یعنی حضرت علی علیہ السلام) وہ کھتے ھیں کہ ھم حضرت علی کے پاس  گئے اور آپ (ع) کو اس بات کی بشارت دی (لیکن )حضرت علی علیہ السلام نے اپنا سر تک نہ اٹھایا گویا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا وہ آپ(ع) نے سن لیا تھا۔[33]

صاحب کشف الغمہ کھتے ھیں کہ تاویل کا انکار تنزیل کے انکار کی طرح ھے کیونکہ تنزیل کا منکر اس کو قبول کرنے سے انکار کرتا ھے۔ اور تاویل کا منکر اس پر عمل کرنے سے انکار کرتا ھے اپنے انکار میں دونوں برابر ھیں اور ان کے لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آ پ کے جانشین کے سوا کوئی پناھگاہ نھیں ھے۔چنا نچہ اس سے معلوم ھوتا ھے کہ فقط ان خصوصیات کا مالک ھی خلافت وامامت کا حقدار ھو سکتا ھے ۔[34]

۱۵۔امیر المومنین:

انس بن مالک کھتے ھیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے انس وضو کرنے کے لئے میرے پاس پانی لاؤ۔ جب میں پانی لے آیا تو  حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وضو فرمایا اور نماز پڑھی اس کے بعد میری طرف متوجہ ھو کر فرمایا:

اے انس آج جو شخص سب سے پھلے میرے پاس آئے گا وھی اٴمیر المومنین، وسیدالمسلمین، وخاتم الوصیین، اِمام الغرالمحجلین و گا اچانک کسی نے دق الباب کیا میں نے دیکھا کہ حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے ھیں۔ حضرت نے پوچھا انس دروازے پر کون ھے ؟

میں نے عرض کی حضرت علی علیہ السلام ھیں ۔

فرمایا اس کے لئے دروازہ کھول دو چنانچہ حضرت علی علیہ السلام اندر تشریف لے آئے۔[35]

علماء کے درمیان برےدہ بن حصےب اسلمی کی یہ روایت مشھو ر و معروف ھے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتوں میں ساتویں سے متعلق مجھے حکم دیا۔ ان لوگوں میں حضرت ابو بکر حضرت عمر حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی تھے حضرت نے فرمایا:

سلموا علیٰ علي باِمرة الموٴمنین۔

 مومنوں کے امیر حضرت علی علیہ السلام کو سلام کرو۔

 ھم نے انھیں سلام کیا اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھمارے آنے کے بعد تشریف لائے ۔[36]

حضرت علی علیہ السلام کا غلام سالم کھتا ھے کہ میں حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ آپ کے کھیت میں کام کر رھاتھا وہاں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر آئے اور ان دونوں نے کھا:

 السلام علیک یا امیر المومنین و رحمة اللہ وبرکاتہ

اے امیر المومنین آپ(ع) پراللہ کی سلامتی، رحمت اور اس کی برکتےں نازل ھوں۔لیکن ایک وقت اےسا آیا کہ ان سے سوال کیا گیا کہ آپ (ع)تو امیر المومنین کہہ کر سلام کیا کرتے تھے اب کیا ھوا۔ وہ کھنے لگے اس وقت حکم دیا گیا تھا اس لئے امیر المومنین کہہ کر سلام کرتے تھے۔[37]

جابر بن یزید حضرت امام محمد باقر علیہ السلام بن امام علی زےن العابدین (ع) سے روایت بیان کرتے ھیں کہ حضرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ سے حضرت علی (ع)ابن ابی طالب (ع)سے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے کھاکہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ھوئے سناھے :

اِن علیا و شیعتہ۔ ھمْ الفائزون۔۔

 بے شک حضرت علی علیہ السلام اور ان کے شیعہ(قیامت کے دن)کامیاب ھونگے۔[38]

۱۶۔ غدیر خم :

پوری کائنات میں اللہ تبارک و تعالی نے یہ خصوصیت  صرف حضرت علی علیہ السلام کو عناےت فرمائی ھے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرحجة الوداع سے واپس لو ٹتے ھوئے غدیر خم کے میدان میں وحی نازل ھوئی کہ جس میں اللہ تعالی نے ارشاد فر ما یا:

< یَااٴَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ >

اے رسول(ص)جو کچھ آپ(ص) کے رب کی طرف سے نازل ھوا ھے اسے لوگوں تک پھنچا دو۔

یعنی امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خلافت اور امامت کے لئے آپ (ص)پر وحی بھیجی گئی ھے کہ اس کا اعلان کر دیں لہٰذا یہاں امامت پر نص بیان ھوئی ھے اور اللہ تعالی نے فرمایا: 

 <وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاس>[39]

اگر آپ(ص) نے یہ کام نہ کیا تو (گویا ) آپ(ص) نے تبلیغ رسالت نھیں کی اور اللہ لوگوں کے (شر)سے آپ(ص) کی حفاظت کرنے والا ھے۔

(جب یہ حکم ملا تو)حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوںکو خطبہ دینے کے لئے کھڑے ھوئے ۔آپ نے امیر المومنین کو بلایا اور اپنے پاس دائےں جانب کھڑا کردیا (اور خطبہ دینا شروع کیا )۔

سب سے پھلے آپ(ص) نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور پھر آپ(ص) نے فرمایا:

اٴني قد دعیت  ویوشک اٴُن اُجیب  و قد حان منی خفوق من بین اٴظہُرِکُم واِنی مخلِّفٌ فیکمُ ما اِن تمسکتم بہ لن تِضلوا اٴبداً کتابُ اللہ وعترتي اٴھل بیتي وانھمالن یفترقا حتّیٰ یردا عليَّ الحوض۔

 میں نے آپ کو اس لئے بلایا ھے کہ آپ میری بات کا صحیح صحیح جواب دیں۔ مجھے ایسے معلوم ھوتا ھے کہ میرا وقت قریب آچکا ھے اور میں شاید زیادہ دیر آپ لوگوں کے درمیان نہ رھوں ۔میں دو چیزیں تمہارے درمیان چھوڑ کر جا رھاھوں ان کا دامن اگر مضبوطی سے تھامے رھو گے تو کبھی بھی گمراہ نھیں ھو گے۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت و اھل بیت۔ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آنے تک ایک دوسرے سے جدا نھیں ھونگے۔ پھر آپ نے بلند آواز سے فرمایا :

الست اولی بکم منکم باٴ نفسکم ۔

کیا میں تمہارے نفسوں پر تم سے زیادہ تصرف کرنے کا حق دار نھیں ھوں۔ سب نے یک زبان ھوکر کھابے شک آپ (ص)ھم سب سے بھتر ھمارے نفسوں پر تصرف کا حق رکھتے ھیں اس کے بعدآپ(ص) نے امیر المومنین علیہ السلام کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر اس قدر بلند کیا کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور فرمایا :

فمن کنت ُمولاہ فھذا عليُّ مولاہ اللھمّ وال من والاہ و عاد من عاداہ وانصر من نصرہ و آخذُل مَن خذلہ۔

جس کا میںمولا ھوں اس کے یہ علی (ع)مولا ھیں ۔پروردگار ا اس سے محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے ۔اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھے اور اس کی مدد کر جو اس کی مدد کرے اور اس کو رسوا کر جو اس کو رسوا کرے ۔

پھر تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ گروہ در گروہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس جائیں اور انھیں اس بلند اور عظیم مقام کی مبارک باد دیں اورانھیں امیر المومنین کہہ کرسلام کریں۔

 جس طرح انھیں حکم دیا گیاسب لوگوں نے ویسے ھی کیا پھر آپ (ص)نے اپنی ازواج اور تمام مومنین کی خواتین سے کھاکہ وہ بھی علی کو امیر المو منین کہہ کر سلام کریں اورمبارک باد دیں ان سب نے اسی طرح کیا،لیکن حضرت عمر کا تو تبریک کھنے کا انداز ھی نرالا تھا۔ وہ خوشی میں ڈوبے ھوئے تھے اور کہہ رھے تھے۔

بخ بخ یا علی اٴصبحت مولا ي ومولیٰ  کلِّ موٴمنٍ و موٴمنة۔

اے علی( علیہ السلام) مبارک ھو مبارک ھو آپ(ع) میرے اور ھر مومن و مومنہ کے مولا و آقاھیں ۔

 قارئین کرام!اس مبا رک موقع پر جناب حسان نے بھترین اشعار کھے :

ینا دیھم یوم الغدیر  نبیھم

                      بخم واٴسمع بالرسول منادیا

وقال فمن مولاکم و ولیکُم

                    فقالوا ولم یبدوا ھناک  التعامیا

اِلٰھک مولانا و انت ولینا

                   و لن تجدن منّالک الیوم عاصیا

فقال لہ قم یاعلي فاِنني   

                   رضیتُک من بعدي اِماماً و ھادیا 

فمن کنت مولاہُ فھذا ولیّہ

                     فکونوا لہ اٴنصار صدقٍ موالیا

ھناک دعا اللھم وال ولّیہُ

                    وکن للذي عادیٰ علیاً معادیا۔[40]

غدیر کے دن ان کے نبی(ص) نے انھیں پکارا اور خم کے میدان میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس ندا کو سنا حضرت (ص)نے فرمایا:

 آپ کا مولا اور ولی کون ھے؟

 کھنے لگے آپ(ص) کے سوا کوئی بھی نھیں ھے۔ آپ (ص)کا پروردگار ھمارا مولا ھے اور آپ(ص)ھمارے ولی ھیں۔ آج کے دن آپ(ص) ھم میں سے کسی کو بھی نافرمان نھیں پائیں گے۔ پھر حضرت نے ارشاد فرمایا :یاعلی (ع) کھڑے ھو جائیے ۔میں چاھتا ھوں کہ آپ(ع) میرے بعد امام اور ہادی ھوں۔ پس جسکا میں مولا ھوں اس کے یہ ولی ھیں، لہٰذا ان کے سچے مددگار اور حامی بنو ۔

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر دعا مانگی کہ اے اللہ جو علی (ع)سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو علی( علیہ السلام) سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ ۔

۱۷۔بت شکن :

جیسا کہ حضرت ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام نے (اپنی قوم کے) بتوں کو توڑا تھا۔ لیکن بت شکنی کے اعتبار سے بھی حضرت علی کو جو امتیاز حاصل ھے وہ کسی دوسرے کو نصیب نھیں ھوا ھے۔ آپ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوش پر سوار ھو کر کعبہ میں رکھے ھوئے بتوں کو توڑا۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کھتے ھیں کہ مجھ سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے تانبے یالوھے سے بنے ھوئے بڑے بت یعنی صنم قریش کو اکھاڑ کر زمین پر پھینک دو ۔حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ھیں کہ میں ابتدا ھی سے اس کا علاج کرنے والا تھا اور اس موقع پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رھے تھے:

جَاءَ الحَقُّ وَزَھَقَ البَاطِلُ اٴنَّ البَاطِلَ کَانَ زَھُوْقاً ۔

حق آگیا ھے اور باطل چلا گیا ھے اور یقینا باطل کو تو جانا ھی ھے۔

میں نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق بڑے بت کو زمین پر پھینک دیا اور وہ ٹوٹ گیا۔[41]

۱۸۔ قربت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

حضرت علی علیہ السلام کے امتیازات میں سے ایک امتیاز یہ بھی ھے کہ آپ(ع) حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوسروں کی نسبت زیادہ قربت رکھتے ھیں ۔

جس وقت حضور(ص) کی طبیعت بھت زیادہ خراب ھوئی آپ(ع) نے فرمایا میرے بھائی اور دوست کو میرے پاس بلاؤ۔

 حضرت عائشہ نے سمجھا کہ آپ(ص) حضرت ابوبکر کو بلا رھے ھیں۔

انھوں نے حضرت ابوبکر کو بلابھےجا،حضرت ابوبکر اس کمرے میں تشریف لائے جہاں آپ(ص) آرام فرما رھے تھے، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آنکھیں کھولیں اور حضرت ابوبکر کو دےکھ کر اپنا چھرہ دوسری طرف کر لیا اس وقت حضرت ابوبکر وہاں سے اٹھ کھڑے ھوئے۔

کچھ دیر بعد جب آپ(ص) کی طبیعت سنبھلی تو آپ نے دوبارہ اپنے کلمات دھرائے تو حضرت حفصہ نے سمجھا کہ شاید آپ(ص) حضرت عمر کو بلا رھے ھیں۔

جب حضرت عمر حاضر ھوئے توحضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چھرہ دوسری طرف پھیر لیا،اس کے بعد حضرت نے ایک مرتبہ پھر فرمایا :

ادعوا لي اٴخي وصاحبي ۔ میرے بھائی اوردوست کو میرے پاس بلا لاوٴ۔

 حضرت ام سلمہ کھتی ھیں کہ میں نے اندازہ کر لیا کہ آپ حضرت علی علیہ السلام کو بلانا چاھتے ھیں میں نے آپ(ع) کو بلایا جب حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے تو حضرت(ص) نے آپ(ع) کی طرف اشارہ کیا کہ میرے قریب آجاؤ، آپ(ع) حضرت کے قریب ھوئے۔

اس کے بعد حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ (ع)سے کافی دیر تک آھستہ آھستہ گفتگو کرتے رھے۔ جب نفس پر وازکا وقت آیا تو آپ (ص)نے حضرت علی علیہ السلام کومخاطب کر کے فرمایا:ضع راٴسی یا علی فی حجرک فقد جاء اٴمرُاللہ عزوجل فاذا فاضت نفسي فتناولھا بےدک واٴمسح بھا وجھک ثم وجھنی اِلیٰ القبلہ وتول اٴمري   و صلي عليَّ اٴوّل الناس ولاتفا رقني حتیٰ توارینيفي رمسي۔

 یا علی (ع)میرے سر کو اپنی گود میں رکھو الله جل جلالہ کا حکم ھے کہ میری روح قبض ھونے لگے تو تمہارے چھرے کے سامنے ھو۔ تم میرا چھرہ قبلہ کی طرف کرنا میرے امر کی حفاظت کرنا لوگوں میں سب سے پھلے مجھ پر نماز پڑھنا میری وفات کے مراسم جب تک ختم نہ ھو جائیں مجھ سے دور نہ ھونا۔

چنا نچہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاآپ(ص) کے چھرہ اقدس کو دیکھ کر رونے لگیں اور روتے ھوئے فرمایا :

                   واٴبیض یستسقیٰ  الغمام بوجھہ              

ثُمال الیتامیٰ عصمةٌللاراملِ۔

سفید بادل یتیموں کے مدد گار اور بیواوں کے محافظ کے چھرے مر چھا گئے۔

 اس وقت آنحضرت (ص)نے اپنی آنکھیں کھولیں اور نحیف آواز میں فرمایا : اے میری بےٹی فاطمہ یہ جملہ نہ کھو کیونکہ یہ تہارے چچا ابو طالب فرمایا کرتے تھے البتہ یہ کلمات کھو:

<وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اٴَفَإِیْن مَاتَ اٴَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی اٴَعْقَابِکُمْ >[42]

محمد(ص)  تو فقط رسول ھیں اور ان سے پھلے بھی بھت سے پیغمبر گزر چکے ھیں۔ پھر اگر محمد (ص)اپنی موت سے اس دنیا سے کوچ کر جائیں یا قتل کر ڈالے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے۔[43]

۱۹۔دعوی سلونی:

آپ(ع) کے امتیازات میں سے ایک امتیاز یہ ھے کہ آپ نے کئی مرتبہ فرمایا :

 سلوني قبل اٴن تفقدوني سلوني فاِن عندي علم الاولےن والاّخرین۔      

 مجھ سے جو کچھ پوچھنا چاھتے ھو پوچھ لو مجھ سے سوال کرو قبل اس کے کہ تم مجھے کھو دو کیونکہ میرے پاس اولین و آخرین کا علم ھے ۔

آپ(ع) مزید ارشاد فرماتے ھیں: 

اما واللہ لو ثنیت لی الوسادة لحکمت بین اٴھل التوراة بتوراتھم و بین اٴھل الانجیل بانجیلھم واٴھل الزبور بزبورھم و اٴ ھل القرآن بقرآنھم  حتیٰ یزھر کل کتاب من ھذہ الکتب وےقول یا رب اِنَّ علیا قضیٰ بقضائِک واللہ اِني اٴعلم بالقرآن وتاٴویلہِ من کلِّ مدع علمہ ولولا آیة في کتاب اللہ لاٴخبرتکم بما یکون اِلیٰ یوم القیامہ۔[44]

خدا کی قسم اگر میرے لئے ایک مسند بچھائی جائے اس پر بیٹھ کر میں توریت والوں کو (ان کی) توریت سے انجیل والوں کو( ان کی )انجیل سے اھل زبور کو (ان کی) زبور سے اور

قرآن والوں کو( ان کے) قرآن سے فیصلے سناؤں۔ اس طرح کہ ان کتابوں میں سے ھر ایک کتاب بول اٹھے گی کہ پروردگارا علی (ع) کا فیصلہ تیرا فیصلہ ھے۔ خدا کی قسم میں قرآن اور اس کی تاویل کو ھر مدعی علم سے زیادہ جانتا ھوں ۔قرآن مجید کی آیت کے متعلق میں تمھیں یوم قیامت تک خبر دے سکتا ھوں۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے امتیازات کے حوالے سے آپ(ع) کے بھت سے ایسے کامل کلمات ھیں جو آپ (ع)کی عظمت ،طہارة ، شرافت و فضیلت پر دلالت کرتے ھیں۔آپ (ع)کی ذات کے علاوہ کوئی بھی اس کا حقدار نھیں ھے۔ آپ(ع) نے ارشاد فرمایا:

 

واللہ لو کُشف الغطاء ما ازدت  یقینا [45]

خدا کی قسم اگر پردے ہٹا دیئے جائیں تو بھی میرے یقین میں اضافہ نھیںھوگا۔اور اسی طرح حضرت کا یہ ارشاد کہ:

 والله لو اُعطیتُ الاقالیم السبعة بما تحت اٴفلا کِھا علیٰ اٴن اٴُعصي الله في نملہٍّ اٴسلبھا جلبَ شعیرہ لما فعلتُ۔

خدا کی قسم اگر مجھے سات اقلیم اس لئے دیئے جائیں کہ میں الله کی نافرمانی کرتے ھوئے چیونٹی کے منہ سے جو کا چھلکا چھین لوں تو میں ایسا نھیں کروں گا۔[46]


 

[1] ارشاد ج ۱ص۵۔

[2] شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱ ص۱۵۔

[3] شرح نھج البلاغہ ج۱۳ص۱۹۷۔

[4] شرح نھج البلاغہ ج۱۳ص۱۹۷۔

[5] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص ۱۵۔

[6] ارشاد ج۱ص۵۰ ۔       

[7] ارشاد ج ۱ ص ۵۲،۵۳، اسی طرح مختصر تاریخ دمشق ج ۱۷ ص۳۱۸ اور تاریخ یعقوبی ج ۲ ص۳۹۔

[8] سورہ بقرہ آیت ۲۰۷۔

[9] مستدرک الصحیحین  ج ۳ ص۱۴ ۔

 [10] المناقب الخوارزمی ص۳۴۲ ،ذخائر عقبی ،محب طبری ص۳۲۔       

[11] شرح نھج البلاغہ  ج۱ ص۲۴۔  

[12] شرح نھج البلاغہ ج ۱ ص۲۰۔  

[13] شرح نھج البلاغہ  ج ۱ ص۲۴۔

[14] مختصر تاریخ دمشق ج ۱۷ ص۳۲۰۔

[15] ارشاد ج ۱ ص۸۷۔

[16] مستدرک الصحیحین  ج ۳ ص۳۲۔

[17] ارشاد ج۱ ص۱۱۶،۱۱۷۔

[18] الکامل فی التاریخ ج ۱ ص۵۶۶ ،۵۶۷۔

[19] سورہ ھود آیت ۱۷۔

[20] ارشاد ج ۱ ص ۸۵۔

[21] کفاےة الطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب علیہ السلام ص۲۰۱ ،۲۰۲ ۔

[22] کفاےة الطالب ،الکنجی الشافعی:ص۱۰۳۲۰۴ ۔

[23] کشف الغمہ فی معر فة الا ئمہ ص۳۰۰ ۔

[24] تذکرة الخواص ص۴۳ ۔

[25] صوا عق محر قہ ابن حجر ص۱۲۷ ۔

[26] صواعق محرقہ ابن حجر ص ۱۲۷۔

[27] صواعق محرقہ ص۱۲۸۔

[28] کفایة الطالب  ص ۱۸۸۔

[29] صحیح  ترمذی ج۲ ص۲۹۸۔

[30] تاریخ بغداد خطیب بغدادی ج۴ ص ۴۱۰۔

[31] تاریخ بغداد ج۴ ص۱۹۴۔

[32] مجمع الزوائد ج۹ ص۱۳۳۔

[33] مستدرک الصحیحین ج ۳ص ۱۲۲۔

[34] کشف الغمہ فی معرفت الآئمہ ج۱ ص ۳۳۶تا ۳۳۷۔

[35] کشف الغمہ ج ۱ ص۳۴۲ ۔      

[36] ارشاد جلد ۱ص۴۸بحار جلد ۳۷ص۳۳۱۔

[37] کشف الغمہ ج ۱ ص۳۴۲ ۔

[38] تا ریخ دمشق ، تر جمہ الامام علی ابن ابی طالب  :جلد ۲ ص ۳۴۸ اور ۸۵۱وارشاد جلد ۱ص۴۱ ۔

[39] سورہ مائدہ آیت ۶۷۔

[40] الارشاد ج۱ ص ۱۷۵ تا ۱۷۷۔

[41] مناقب خوارزمی ص۱۲۳تا ۱۲۴۔مستدرک صحیحن ج ۳ ص۵۔

 [42] آل عمران آیت ۱۴۴ ۔

[43] ارشاد ج۱ ص ۱۸۵ تا ۱۸۷۔

[44] امالی الصدوق ص ۲۸۰ ارشاد ج ۱ ص ۳۵بحار ج ۴۰ ص ۱۴۴۔

[45] مناقب خوارزمی ص ۳۷۵۔

[46] عقائد امامیہ شیخ محمد رضا مظفر ص ۱۱۰۔

 

index