next

مقدمہ

back

 

محترم قارئین ، آپ کے ہاتھوں میں موجود کتابچہ اس سلسلہ معارف کی چوتھی کڑی ہے جن کو اب تک ہم نے خدا وند متعال کی توفیق و مدد سے آپ حضرات کی خدمت میں پیش کیا ہے اَور یہ کتابچہ ایک ایسے آزاد مکتب ومنبر کی حیثیت رکھتاہے جو اَپنے نہایت ہی سلیس اورآسان اسلوب بیان سے ایسے افراد سے مخاطب ہے ،جو روشن فکر اور عقل سلیم کے مالک ہیں کیو نکہ اسکے مخاطب امت محمدی (ص) کے ایسے افراد ہیںجو اَپنی وحدت ویگانگت ، روشن فکری،اَور دوراندیشی کی بنا پر خالصانہ فکر کے مالک ہیں اَور ان خصوصیات کی وجہ سے خداوند عالم نے انہیں تمام امتوں کے درمیان حاکم، قاضی اَورزمین و آسمان کے درمیان رسالت وسطیٰ پر فائز قرار دیتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا:

 < وکذالک جعلناکم امةوسطاََ لتکونوا شھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیداََ > [1]

ِِاس طرح تم کو عادل امت بنایا تاکہ دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں تم گواہ بنو اور رسول(ص)تمھارے مقابلہ میں گواہ بنیں

یہ موجودہ کتابچہ اُن شبہات اَور اعتراضات کا جواب ہے جوایسے افراد کی طرف سے پیش کئے گئے ہیںجو دین و عقل جیسی خدا کی نعمت سے خا لی اورحتی کہ نر و مادہ کے درمیان تفریق سے بھی عاجز ہیں۔گویا خدا وند عالم نے انہیں اہلبیت(ع) کے مذھب پراعتراضات وشبہات کرنے کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔ان کے اس افتراء و کذب کا کام اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ اَب اِن شبہات کو علی الاعلان پرٹیلی ویژن،انٹرنیٹ، اور حج عمرہ کے ایام میں بھی پیش کیا جانے لگا ہے۔

اس وجہ سے ہم نے ان حضرات کے شبہات سننے اور ان کا تسلی بخش جواب دینے کے بعد، اس کو اس کتابچہ کی صورت میں نشر کرنے کا اہتمام کیا تاکہ ہم فکری جمود کے شکار اس گروہ کے اعتراضات کا جواب دیںاور بحث و مناظرہ کا ایسا طریقہ اختیار کریں کا جس کا    قرآن نے حکم دیا ہے، اُن کے اذھان و ا فکارسے ان شبہات کو زائل کریں شاید یہ لوگ راہ ہدایت کی طرف لوٹ آئیں،

< اٴدع الی سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة وجادلھم بالتی ھی احسن>[2]

(اے رسول)تم (لوگوںکو)اپنے پرورگار کے راستہ کی طرف حکمت اَور اَ چھی نصیحت کے ذریعہ سے دعوت دو اوربحث و مباحثہ کرو بھی تو اس طرےقہ سے جو (لوگوںکے نزدیک)سب سے اچھا ہو، 

ا ب یہ تین اعتراضات اور انکے جوابات آپ کی پیش خدمت ہیں۔              


 

[1] سورہ بقرہ،آیت ۱۴۲

[2] سورہ نحل ،آیت ۱۲۵

 

index