next

 وصیت کے بارے میں گفتگو

back

میرے والد بزرگوار نے وصیت کے جلسہ کو مندر جہ ذیل حدیث کی رو شنی میں شروع کیا:

 جس میں حضرت  امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

الوصیةحق و قد اوصی رسول اللہ فینبغی للمسلم ان یو صی

وصیت حق ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم وصیت کی ہے پس مسلمان کے لئے سزاوار ہے کہ وہ وصیت کرے۔

سوال:  لیکن ابا جان بہت سے لوگ وصیت نہیں کرتے اور خیال کرتے ہیں کہ وصیت سے مراد یہ ہے کہ موت کا زمانہ قریب آچکا ہے پس وہ لوگ وصیت سے موت کا تصور کرتے ہیں؟

جواب:   وصیت مستحب ہے حالانکہ اس کے بر خلاف تصور کیا جاتا ہے اور طول عمر کا باعث بنتی ہے پھر وصیت نہ کرنا مکروہ ہے اور اس کا نہ کرنا اچھا نہیں ہے اور تمام چیزوں کے با وجود موت  برحق ہے کیا ایسا  نہیں ہے؟ بیٹا !ہاں موت برحق ہے خدا وند عالم نے اپنی کتاب کریم میں ارشاد فر ما یا ہے ۔

کل نفس ذائقةالموت

ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔

اس آیہ کو میں نے بہت سے لوگوں سے سنا ہے اور راستے میں واقع قبروں پر پڑھتا ہوں ۔موت برحق ہے اس سے ڈرنا اور خوف نہیں کھانا چاہیے ، والد صاحب اگر ایسا ہے تو پھر کیوں حقیقت سے فرار کیا جاتا ہے جو حتمی ہے ؟ کیا ہمارے لئے مناسب اورشائستہ نہیں ہے کہ ہم چاہیں حقیقت کو قبول کر نے والے ہوں یا اس پر کم عمل کرنے والے ہوں ہمیں ہر اس چیز کے لئے تیا ر رہنا چاہئے جو آنے والی ہے اور جس سے بچنے کا کوئی چا را کار نہیں اور نہ اس سے فرار ممکن ہے چاہے ہماری عمر طولانی ہو یا کم پس یوں وہ نصیحت و اعتبار کا محور بن جائے گی ۔

سوال:   لیکن میں نہیں جانتا کہ انسان کو کس طرح وصیت کرنا چاہیے ؟

جواب:   تم پر مستحب ہی کہ جب تم وصیت کرو تو اس کی ابتدا ء اس وصیت سے کرو جس کو رسول اللہ   نے امام حضرت علی علیہ السلام اور مسلمین کو تعلیم کیا۔

سوال:    اور وہ کیا ہے ؟

جواب:   میرے والد صاحب اٹھے اور اپنی لائبریری کی طرف گئے اور جب واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی کہ جس کا نام  الوسائل تھا انھوں نے اس میں سے اصل وصیت کو پڑھا جس کو رسول خدا نے حضرت امام علی علیہ السلام اور مسلمانوں کو تعلیم فرمایاتھا جو وہ پڑھ رہے تھے میں اس کو لکھ رہا تھا کہ جو انھوں نے پڑھا اور میں آپ کے لئے نقل کر رہا ہوں۔

الّلھم فاطر السمٰوٰت والارض عالم الغیب والشھادہ الر حمٰن الرحیم الّلھم  انیّ اعھد الیک فی دارالدنیا انی ّ اشھد ان ّلاالہ الاّانت وحدک لا شریک لک وان ّالجنة حق و انّ النار حق و انّ البعث حق و الحساب حق والقدر والمیزان حق و ان الدین کما وصفت والاسلام کما شرعت وان القول کما حدثت وان  القرآن کما وصفت وانک انت اللہ الحق  المبین جزی  اللہ محمد اخیر الجزاء وحیا محمدا وآل محمد بالسلام ۔

 اللھم یا عدتی عند کربتی وصاحبی عند شدتی ویا ولی نعمتی الھی والہ آبائی لا تکلنی الی ٰ نفسی اقرب من الشر وابعد من الخیر فانس فی القبر وحشتی واجعل لی عھد ا یوم القاک منشورا

پھر انسان اپنی ضرورت کے مطابق وصیت کرے جو چاہے لکھے ۔

سوال:  کس کے متعلق وصیت کی جاتی ہے ؟

جواب:   اپنی اولاد کے متعلق وصیت کرے ، جو ابھی کم سن ہے ان کی حفاظت کے بارے میں وصیت کرے صلہ رحمی کے متعلق وصیت کرے ، اپنی امانت اور قرض کی ادائیگی کے سلسلہ میں وصیت کرے نماز ، روزہ ، حج میں سے جو چیزیں قضاء ہوگئی ہوں ان کے سلسلہ میں وصیت کرے ۔

اگر اپنے اموال میں سے پہلے جوخمس اور زکوٰۃ نکالنا اس پر واجب تھا اور اس کو اس نے ادانہیں کیا تو ان کو اداکرنے کی وصیت کرے ۔

فقراء کو کھانا کھلانے کی وصیت کرے ، تا کہ اس کا ثواب اس کو پہنچے اپنے بعد اپنے لئے خاص اعمال بجا لانے کی وصیت کرے ۔ اپنی طرف سے صدقہ دینے کی وصیت کرے ، وصیت کرے ، وصیت کرے، وصیت کرے ،جوچاہے۔۔۔۔۔

 میرے والد صاحب نے اس کے فورا بعد کہا کہ جو وصیت کرے اس کے لئے چند ایک شرائط ہیں بالغ ہو، عا قل ہو اور اختیار وتمیز رکھتا ہو ۔ پس سفیہ اور مجبور انسان کا اپنے مال میں وصیت کرنا صحیح نہیں ہے اسی طرح بچہ اپنے مال میں وصیت نہیں کرسکتا مگر یہ کہ وہ بچہ دس سال کا ہو گیا ہو ، اور اس کی وصیت اپنے عزیز وں اور رشتہ داروں کے بارے میں خیرونیکی پر مشتمل ہو، اور جس شخص نے جان بو جھ کر اپنی موت سے پہلے زہر کھا لیاہو یا گہرا زخم لگا لیا ہو یا اسی طرح کا کوئی اور کام کیا ہو کہ جس بنا پر اس کی موت واقع ہو جائے تو اس صورت میں اس کا اپنے اموال میں وصیت کرنا صحیح نہیں ہے البتہ مال کے علاوہ دوسری چیز یں مثلااپنی تجہیز و تکفین کے متعلق وصیت کرنا صحیح ہے جو اس کی کم عمر او لاد کے شایان شان ہو۔

میرے والد نے مزید فرمایا:

جس شخص کو صاحب وصیت نے اپنی وصیت کے اجراء کے لئے معین کیا ہے اسی کووصی کہتے ہیں۔ اور وصی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ وصیت کے امور کو  کسی دوسرے شخص کے حوالہ کر کے خود اس سے الگ ہو جائے اور اس کو وصیت کے اجراء پر مقرر کرلے ۔ ہاں وہ شخص کسی ایسے شخص کو کہ جس پر اس کو پو را بھروسہ ہو اسے وصیت کے امور کی انجام دہی کے لیے وکیل مقرر کرسکتا ہے جب کہ وصیت کر نے والے کی غرض یہ نہ ہو کہ خود وصی وصیت کے امر کو انجام دے ۔

   سوال:   کیا وصیت میں یہ شرط ہے کے وہ لکھی جائے ؟

   جواب:    ہر گز نہیں بلکہ انسان زبا نی بھی وصیت کرسکتا ہے ، یا ایسا اشارہ کرسکتا ہے کہ جو اسکی مراد کو سمجھادے اسی طرح ایسی تحریر ہو یا اس پر اس کے دستخط ہوں کہ جس سے اس کی موت کے بعد اس پر عمل کرنا ظاہر ہو تو کافی ہے ۔ یعنی وہ تحریر وصیت کے عنوا ن سے ہو ۔

 سوال:  کیا انسان اپنی وصیت کو صرف مرض کی ہی حالت میں لکھ سکتا ہے ؟

 جواب:    ہرگز ایسا نہیں ہے ۔ دونو ں حالتوں میں لکھ سکتا ہے بیماری کی حالت میں بھی اور صحت وسلامتی اور عافیت کی حالت میں بھی ۔

 سوال:   کیا انسان جس چیز کے بارے میں چاہے وصیت کرسکتاہے ؟

 جواب:    ہاں لیکن شرط یہ ہے کہ یہ وصیت گناہ اور معصیت کے متعلق نہ ہو ، جیسے کسی ظالم کی مدد کرنا وغیرہ ۔

سوال:   اور کیا اموال یا دوسری با قی ماندہ چیزوں کےمتعلق جس طر ح وہ چاہے وصیت کرسکتاہے ؟

 جواب:   انسان کو حق ہے کہ وہ اپنے باقی ماندہ اموال اور اشیاء میں صرف ایک تہائی مال کے متعلق وصیت کر سکتا ہے یعنی اپنے مال کے صرف  ایک تہا ئی حصہ میں وصیت جائز ہے۔

سوال:   اور  جب وصیت ایک تہائی مال سے زیادہ ہو تب کیا کرے ؟

جواب:   ایک تہا ئی مال سے زیا دہ پر وصیت باطل ہے مگر یہ کہ ورثہ اگر اجازت دےدیں تو پھر اس وصیت پر عمل کیا جائے گا۔

سوال:   اور جب وصیت پر عمل کرنا چاہیں تب کیا کریں ؟

جواب :  جس چیز کو وصیت کرنے والے نے چھوڑا ہے پہلے اس میں سے اسکے مالی حقوق کو الگ کیا جائے گا کہ جو اس کے ذمہ ہیں مثلا اس کے مال سے اس کے قرض اور ضروری سامان کی قیمت کہ جس کو اس نے ادا نہیں کیا اور خمس یا زکوۃ یا رد مظالم وغیرہ جو اس کے ذمہ ہے اور واجب حج اصل مال سے اداکیا جائے گا چا ہے اس نے ان کے متعلق وصیت کی ہو یا نہ ۔ یہ اس وقت ہے جب کہ اس نے ان چیزوں کے ادا کرنے میں تہائی مال سے نکا لنے میں وصیت نہ کی ہو ، اور اگر وصیت کی ہو تو پھر تہائی مال سے ان کو ادا کیا جا ئے گا، پھر اس کے باقی تر کہ کے تین حصہ کئے جائیں گے اس میں سے ایک تہائی مال جس کے متعلق اس نے وصیت کی ہے ، اور دو تہائی مال اس کے ور ثہ کا ہو گا

سوال:   جب وصیت کرنے والا کسی معین شخص کے لیے معین مبلغ یا گھر کی ملکیت یا گھر کا سامان دینے یا زمین کے ایک حصہ کو دینے کی وصیت کرتا ہے ، وہ اپنے دفن کی کسی خاص جگہ یا اپنی تجہیز و تکفین کی کسی خاص روشنی کےمطابق وصیت کرتا ہے یا اس کے علاوہ کسی اور مخصوص چیز کی ، اس صورت میں کیا حکم ہے ؟

جواب:   اسے ان تمام چیزوں کی وصیت کرنے کا حق ہے ، جب کہ اس کے اموال کی نسبت ان کی وصیت تہا ئی مال سے تجاوزنہ کرے۔

سوال:  کبھی وصی کے پاس وصیت کر نے وا لے کی چیز گم ہو جا تی ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب:   اگر اس میں افراط وتفریط نہ کی ہو، اور وصی نے اس کی حفاظت میں غفلت بھی نہ کی ہو ، تو جو چیز وصی کے ہاتھ سے تلف ہو گئی ہے وصی اس کا ذمہ دارنہیں ہے۔ میرے والد نے مزید فر مایا ، کہ جب تک انسان پر موت کے آ  ثار طاری نہ ہوں اس وقت تک وصیت کر نا مستحب ہے۔ اور جب موت کے آ  ثار اس پر طاری ہو جائیں تو پھر چند چیزیں اس پر واجب ہیں ؛۔

(۱)   اس کا وہ قرض کہ جس کے ادا کا وقت آ    گیا ہے ، اور وہ اس کے ادا کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہے تو اس کو ادا کردے ۔ لیکن جن قرضوں کے ادا کرنے کا وقت نہیں آیا ،یا آ    گیا ہے۔ لیکن قرضدار وں نے اس سے مطالبہ نہیں کیا، یا ان کے مطالبہ کرنے پر وہ قدرت نہیں رکھتا تو پھر اس پر واجب ہے کہ ان کے متعلق وصیت کرے۔

(۲)   تمام امانتو ں کو ان کے مالکو ں کو واپس کردے یا امانت رکھنے والوں کو خبر دے دے کہ ان کی امانتیں اس کے پاس ہیں یا ان کے واپس کر نے کی وصیت کر دے۔

(۳)   ا گر خمس وزکواۃ یا رد مظالم اس کے ذمہ ہیں تو اگر ان کے ادا کرنے پر قادر ہے تو ادا کرے۔

(۴)   اگر نماز اور روزے میں سے کوئی چیز اس کے ذمہ ہے تو ان کے ادا کر نے کے بارے میں وصیت کر ے کہ اس کی طرف سے اس کے مال  میں سے کسی کو اجارہ دیکر نماز اور روزہ ادا کر وائیں بلکہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو اور احتمال یہ ہو کہ کوئی شخص ثوابا-اس کی طرف سے اس کی قضا کر دے گا تو اس صورت میں بھی وصیت کرے۔

(۵)  اگر کسی کے پاس اس کا مال ہے تو اس کے ورثا کو خبر دے یا کسی ایسی جگہ مال ہے کہ جس کے متعلق کسی کو اس کے علاوہ خبر نہیں تو اس کے بارے میں بتا دے تاکہ اس کی وفات کے بعد ورثہ کا حق ضائع نہ ہو ۔

سوال:   آپ نے اس گفتگو کے شروع میں بتایا کہ وصیت مستحب ہے پس اگر کوئی انسان وصیت نہ کرے تو کیا حکم ہے ؟

جواب:    تو (اس مرنے والے) کا حق اس تہائی مال میں سے ختم ہو جائے گا کہ جو اس نے چھوڑا ہے اس کا تر کہ خاص ضابطہ کے مطا بق ورثہ پر تقسیم کر دیا جائے گا ۔

سوال:   اور وہ کس طرح تقسیم ہوگا ؟

جواب:    یہ آنے والی گفتگو میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔

index