next

مکالمہ

back

 میں نے اپنی عمر کے پندرہ سال مکمل کرلئے  ہیں آج میں صبح سویرے نیند سے بیدار ہوا، تو میں نے محسوس تک نہ کیا کہ آج میرا دن دہشت، ناگہانی انتظار، فخر، جدوجہد، خوش وخرم، عشق ومحبت اور لذت جیسے احساسات وجذبات کو آشکار کرنے والا ہوجائے گا، اور آج کا دن مجھے پہلے مرحلہ سے نکال کر دوسرے مرحلہ میں داخل کردے گا۔

آج میں اپنی عادت کے مطابق ہر روز کی طرح صبح بیدار ہوا، اور جب بیداری اور ناشتہ کے درمیان معمول کی ضروریات سے فارغ ہوا، تو میں نے والد کے چہرے پر ایسے تاثرات کو دیکھا کہ جس سے مانوس نہ تھا میں اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ میری انہوں نے کون سی ایسی اہم بات دیکھی ہے کہ جس نے ان کو متاثر کیا ہے۔

کبھی آنکھیں عادت سے زیادہ کھل جاتی ہیں جیسا کہ فرصت کے وقت دونوں آنکھیں بند رہتی ہیں اور دونوں ملے ہوئے ہونٹ ایسے ہوتے ہیں جیسے کسی چیز سے بھرے ہوئے ہوں اور کسی بات کو کہنے کے لیے آمادہ ہوتے  ہوئے لوگوں کو جوش وخروش میں لانے کے لیے کھلتے ہیں پھر بند ہوجاتے ہیں اور انگلیاں جو منظم طور پر حرکت میں آتی ہیں اور جلدی جلدی چلتی ہیں اور دسترخوان پر کھانے کے لیے انگلیوں کے پوریں کس طرح متحرک رہتے ہیں یہ چیزیں اس بات سے آگاہ کرتی ہیں کہ دل کسی بات سے مملو ہے اور قریب ہے کہ اپنی پر ظرفی کی بناپر پھٹ پڑے اور اپنی بات سے آگاہ کرے۔

میں صبح ناشتہ پر دسترخوان کے دوسری طرف اپنے والد کے سامنے بیٹھا تھا والد صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے،ان کے چہرے پر نشاط اور خوشی کی لہر ہویدا تھی اور خوشی سے ان کا چہرہ دمک رہا تھا۔

سکوت توڑتے ہوئے بولے:بیٹا آج آپ اپنی عمر کے پہلے مرحلہ کو رخصت کرکے ایک نئے مرحلہ کا سامنا کررہے ہیں آج آپ شارع مقدس کی نظر میں ایک کامل شائستہ مرد ہوگئے ہیں کیونکہ آج آپ مکلف ہوگئے ہیں پروردگار عالم نے آپ پر ایک عظیم احسان کیا ہے کہ وہ فرائض کے ذریعہ آپ سے مخاطب ہے، اور آپ پر اس کی مہربانی ہے کہ اس نے امر کیا اور آپ کو منع کیا ہے۔

اے میرے نور چشم: آپ شارع مقدس کی نظر میں بچپن کے زمانہ میں مکلف نہ تھے اور سن بلوع کے بعد (جو احکامات وارد ہوتے ہیں ) وہ آپ تک نہ پہنچے تھے لیکن آج ہر چیز بدل گئی ہے آج آپ مردوں کی طرح ایک مرد ہیں خطاب کی بناپر آپ کی مرد انگی اور آپ کی کامل شائستگی کا اعتراف کیا گیا ہے لہٰذا اب آپ اس پختہ مرحلہ کو پہنچ چکے ہیں اور آپ نے اپنے آپ کو اس کے سپرد کردیا ہے تو اللہ نے آپ پراحسان کیا اور آپ سے اس نے اپنے اوامرو نواہی کے بارے میں خطاب کیا ہے۔

بیٹا!

میرے مہربان باپ!معاف کیجئے گا، میں آپ کے مقصد کو نہیں سمجھ سکا آپ وضاحت کریں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان کرتے ہوئے مجھے اپنا حکم دیا، کیا امر(حکم) بھی احسان ہوتا ہے، یہ کس طرح ہوسکتا ہے؟

باپ!

اے میرے بیٹے!دیکھئے میں آپ کو مثال سے واضح کرتا ہوں کہ آپ جان لیں کہ اس کا امر کا آپ کے اوپر کیوں احسان ہے مثلاًآپ ابھی) مدرسہ میں ایک طالب علم ہیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے ہیں کہ ان میں کچھ ذہین، کچھ ہوشیار، محنتی، فرض شناس اور متفکر ہیں آپ سب ایک ایسے نئے امر کے لیے آمادہ کھڑے ہیں جو آپ تک اچانک پہونچنے والاہے آپ کھڑے ہیں اور آپ کے پاس سے مدرسہ کا پرنسل گزررہا ہے جب آپ کی اور ان کی آنکھیں چار ہوں تو ان کی نگا ہیں آپ پر ٹھہر جائیں اور وہ آپ سے شروع ہی میں اپنی رضایت کا اعلان کردیں پھر آپ سے ملائمت ونرمی کے ساتھ پیش آئیں اور  مسکرا کروہ آپ کے ایک ایسے وسیع مرحلہ کی خوشخبری دیں کہ جس میں آپ سن بلوغ کو پہونچے ہوں اور اس بات کے معترف ہوں کہ اس نئے مرحلہ کی آپ کامل اہلیت رکھتے ہیں لہٰذاآپ کو آپ کے دوستوں سے چن کر اپنے اس امرسے مخصوص کیا کہ جس کی لیاقت کا آپ کے لئے  اعتراف کیا تھا۔

کیا آپ اس روز اس امر کی بناپر کسی خاص قسم کی عزت کا خیال نہیں کرتے؟ اور جس کا آپ کو امر کیا گیا ہے ؟ اس کی پسندید گی کا اظہار نہیں کرتے؟

کیا اس کا اعتبار مشکوک ہے، جب کہ نفس پر بھروسہ ہے کیونکہ اس امر کا خطاب آپ سے ہے نہ کہ آپ کے دوستوں سے وہ حکم کررہا ہے کہ اس امر کاا جراء جلد ہو جانا چاہیے کہ جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔

یہ تما م باتیں اس وقت ہیں جب کہ حاکم مدرسہ کا پرنسپل ہو، پس آپ کا شعور اس وقت کیسا ہوگا جب کہ سردارایک رئیس کل ہو؟ بلکہ اس وقت کیا حال ہوگا جس وقت حاکم اور تفتیش کرنے والا ایک بڑا سردار ہو؟ آپ کا شعور اس وقت کیسا ہوگا جب کہ آمرہو ۔۔ ؟

میرے والد حاکم مخاطب کو درجہ بدرجہ گناتے جاتے تھے، اور ہر درجہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مجھ پر اس مطلب کو روشن کرتے جاتے تھے، کہ اس سے پہلے وہ مطالب ومفاہیم مجھ پر مخفی ومستور تھے تو ایسا لگا کہ جیسے میں گہری نیند سے جاگاہوں، اور جب میرے والد نے امر خدا اور اس کے خطاب کو اور اس کے فریضہ کو مجھ سے بیان فرمایا تو میں نے ایک آہ کھینچی اور کہا ا للہ مجھ سے مخاطب ہے مجھ حکم دیتا ہے مجھے ۔۔۔مجھے

ہاں فرزند اللہ آپ سے مخاطب ہے آپ پندرہ سال کے ہوگئے ہیں لہٰذا آپ پر فرض عائدہ کیا جارہاہے اس وقت آپ پندرہ سال کے ہوگئے ہیں لہٰذا آپ کو حکم دیا جارہاہے،اورآپ کو روکا جارہا ہے۔

کیا میں ان تمام کرامات کا مستحق ہوں؟کیا ان تمام چیزوں کا خالق مجھ کو شرف بخش رہا ہے؟ پس جبارارض وسماوات نے مجھے مکلف بنایا ہے، مجھ پر مہربانی کرکے مجھے حکم دے رہا ہے ، اور مجھے روک رہا ہے۔۔کتنا شیریں میرا یہ دن ہے اور کتنا اچھا یہ راستہ ہے اور کتنی بہترین زندگی ہے ۔

اے فرزند: آپ کو چاہیے کہ آپ اپنے خالق کے اس امر کی اطاعت کریں کہ جو آپ کو دیا گیا ہے اور آپ کو اس سے مشرف کیا گیا ہے۔

بلکہ میں انتہائی کوشش کروں گا کہ اپنے حبیب کے احکام اور اس کے تمام فرائض کو ان کے حکم کے مطابق ایک چاہنے والے عاشق کی طرح انجام دوں۔لیکن ۔۔

لیکن کیا ؟

لیکن وہ فرائض کیا ہیں کہ جن کو مجھ پر فرض کیا گیا ہے اور وہ کون سے احکام ہیں کہ جو مجھ سے متعلق ہیں؟

وہ احکام شرعیہ پانچ ہیں

(۱) واجبات

(۲) محرمات

(۳)مستحبات

(۴)  مکروہات

(۵)مباحات

واجبات کیا ہیں؟ محرمات کیا ہیں ؟ مستحبات کیا ہیں؟مکروہات کیا ہیں؟ اور مباحات کیا ہیں؟

۱۔واجبات

ہر وہ چیزجس کا انجام دینا آپ پر لازم ہے وہ واجبات میں سے ہے مشلاًنماز ،روزہ ،حج،زکوۃ،خمس اور امر بالمعروف وغیرہ ۔

۲۔محرمات

جس چیزکا ترک کرنا آپ پر ضروی ہے، وہ محرمات میں سے ہے مثلاًشراب کا پینا، زنا، چوری، اسراف، جھوٹ وغیرہ۔

۳۔مستحبات

جس چیز کا انجام دینا بہتر ہو، واجب نہ ہو اور اس پر ثواب ہو اگر وہ فعل قصد قربت کی نیت پر انجام دیا ہو تو وہ مستحبات میں سے ہے، جیسے فقیر کو صدقہ دینا، صفائی، حسن خلق، مومن کی حاجت کو پورا کرنا، نماز جماعت، خوشبو لگانا وغیرہ۔

۴۔مکروہات

ہر وہ چیز جس کا ترک کرنا اور اس سے دوری اختیار کرنا بہتر ہو اور وہ حرام نہ ہوجائے اگر اس کو قصد قربت کی بناپر ترک کیا جائے تو اسی پر ثواب ہے اور وہ مکروہات میں سے ہے جیسے مرد عورت کی شادی میں تاخیر کرنا، مہر کا زیادہ ہونا، اگر مومن ضرورت کے وقت قرض مانگے اور یہ دینے کی طاقت رکھتا ہو تو اس کے سوال کا رد کرنا وغیرہ۔

۵۔مباحات

لیکن اگر کسی چیزمیں کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہو تو وہ مباحات میں سے ہے جیسے کھانا پینا،سونا،بیٹھنا، سفر،تفریح وغیرہ۔

میں کس طرح واجبات کو محرمات سے اور محرمات کو مکروہات سے جدا کروں؟ کیسے معلوم کروں کہ یہ واجب ہے، اس کو انجام دینا میرے لیے لازمی ہے ا ور یہ حرام ہے، اس سے میں بچوں اور اس کو انجام نہ دوں اور اس سے دوری اختیار کروں؟ کس طرح پہچانوں کہ۔۔؟

میرے والد میری بات کو کاٹ کر مسکرائے پھر میرے والد نے مجھ پر شفقت ورحم کی نکاہ ڈالی، وہ کچھ کہنا چاہتے تھے مگر کہتے کہتے رک گئے کیونکہ  خاموش رہنے میں بہتری تھی، پھر رک کر ایک گہری فکر میں ڈوب گئے۔

ان کی گہری اور لمبی خاموشی کے متعلق میں اندازہ نہیں لگا  سکتا تھا کہ میرے والد کے ذہن میں کیا چیز گردش کررہی ہے؟صرف میں اس چیز کا منتظر تھا کہ ان کی بخشش کا ابرکب برسے؟ خاموشی وتاخیران کی پیشانی پر چھائی ہوئی تھی پھروہ دوحصوں میں تقسیم ہوگئی پھر اس نے پورے چہرے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہونٹوں کی طرف پہنچ گئی جو کہ ایک نحیف آواز کے ساتھ کھلے تھے کہ جس میں رحم وشفقت بہت زیادہ تھا۔

آپ واجبات محرمات سے اور مستحبات کو مکروہات سے اس وقت تمیز کرسکتے ہیں جب کہ آپ علم فقہ اسلامی کی کتابوں کو پڑھیں اس وقت آپ کو معلوم ہوگا کہ ان میں سے بعض ارکان ہیں اور بعض اجزاء وشرائط ہیں کہ جن کا ادا کرنا واجب ہے اور بعض ایسے اعمال ہیں کہ جن کا تنہا بجالانا ممکن نہیں بعض کو بعض  کے لیے انجام دیا جاتاہے۔

آپ فقہی کتب کی طرف رجوع کریں آپ اپنے آپ کو ان میں کھویا ہوا پائیں گے پھر آپ پرآ شکار ہوگا کہ فقہ اسلامی ایک وسیع علم ہے اس علم میں سینکڑوں کتابیں لکھیں جاچکی ہیں اور علماء اعلام نے مسائل واحکام الٰہی پر سیر حاصل بحث کی ہے، اوردقیق تحقیق کی ہے کہ جس کی نظیر دوسرے علوم انسانی میں کم ملتی ہے۔

کیا میرے اوپر ان تمام کتابوں کا دیکھنا واجب ہے؟

نہیں بلکہ آپ کے لیے کافی ہے کہ ان کتابوں میں مختصر اور جو آپ کے لیے آسان ہو اختیار کریں۔

آپ ان کتابوں کو دوحصوں میں منقسم پائیں گے۔

ایک حصہ عبادات  سے مخصوص ہے اور دوسرا معاملات سے مخصوص ہے۔

 

 

index